11 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 11
طبرستان کی فتح، ایک قرآن پاک پر متفق کرنے کی رائے، خلافت صدیقی میں قرآن پاک کا ایک مصحف میں جمع کرنا، پورے عالم اسلام میں ایک قرآن رائج کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ”مُہر“ کنویں میں گرگئی،
طبرستان کی فتح
اِس سے پہلے ہم خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے خراسان اور طبرستان صلح کے ذریعے فتح کر لیاتھا ۔لیکن بعد میں انہوں نے بغاوت کردی اور مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ۹۲ ہجری میں ”طوس “ کے مرزبان ( حاکم ) نے سعید بن عاص (کوفہ میں تھے ) اور عبد اﷲ بن عامر کو ( یہ بصرہ میں تھے ) خط لکھا کہ تم میں سے جو قدرت و غلبہ رکھتا ہو وہ خراسان پر آکر قبضہ کر لے ۔ اِس چیلنج کو دونوں نے قبول کیا اور سعید بن عاص کوفہ سے لشکر لیکر روانہ ہوئے ۔اُن کے لشکر میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ¿ کرام جیسے حضرت امام حسن بن علی ،حضرت امام حسین بن علی ، حضرت عبد اﷲ بن عباس ، حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق ، حضرت عبد اﷲ بن عَمرو بن عاص ، حضرت عبد اﷲ بن زبیر اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہم تھے ۔ ادھر بصرہ سے عبد اﷲ بن عامر لشکر لیکر روانہ ہوئے اور ”نیشا پور “ پہنچ گئے ۔اِسی لئے سعید بن عاص اپنے لشکر کو لیکر طبرستان کے شہر ”قوس “ پہنچے ۔”قوس “ پراور نہاوند پر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے قبضہ کر لیا تھا اور انہوں نے صلح کر لی تھی لیکن پھر بغاوت کر دی تو سعید بن عاص لشکر لیکر پہنچے اور جرجان کامحاصرہ کر لیا ۔جرجان کے حاکم نے دولاکھ سالانہ جزیہ پر صلح کر لی تو سعید بن عاص اپنے لشکر کو لیکر ”طمیسہ“ کی طرف بڑھے ۔ ” طمیسہ “ دریا کے کنارے جرجان کی سرحد پر طبرستان کا ایک آباد شہر تھا ۔اہل طمیسہ نے مقابلہ کیا اور سخت جنگ ہوئی ۔ سعید بن عاص نے طمیسہ کے حاکم پر تلوار کا ایک ایسا وار کیا کہ وہ کاٹتی ہوئی بغل کے نیچے سے نکل گئی ۔اپنے حاکم کو مرتے دیکھ کر طمیسہ والے بھاگ کر شہر میں گھس گئے اور شہر پناہ کا دروازہ بند کر لیا اور قلعہ بند ہو گئے ۔ سعید بن عاص نے محاصرہ کر لیا اور منجنیقیں نصب کر کے شہر پناہ پر سنگ باری کرنے کا حکم دیا ۔آخر کار محاصرے کی طوالت سے گھبرا کر شہر والوں نے شہر پناہ کا دروازہ کھول دیا ۔ سعید بن عاص نے شہر پر قبضہ کر لیا ۔طمیسہ سے فارغ ہو کر سعید بن عاص نے ”نامنہ “ فتح کیا یہ شہر صحراءمیں تھا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : طمیسہ کی جنگ کے دوران ”صلوٰة الخوف “ کی ضرورت محسوس ہوئی تو سعید بن عاص نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” صلوٰ ة الخوف “ کیسے پڑھی ؟ تو انہوں نے جس طرح بتایا اُسی طرح نماز پڑھی ۔
ایک قرآن پاک پر متفق کرنے کی رائے
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے 30 ہجری میں تمام اُمت مسلمہ کو ایک قرآن پر متفق کیا اور پورے عالم ِ اسلام میں صرف ایک قرآن رائج کیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِسی سال 30 ہجری میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ جنگ ”رے “ کے بعد ”باب “ کی جنگ میں عبد الرحمن بن ربیعہ کی کمک کو گئے ۔سعید بن عاص آذربائیجان میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے انتظار میں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عبد الرحمن کی وفات کے بعد حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ واپس آئے جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں ۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے واپس آکر سعید بن عاص سے فرمایا کہ میں نے ایک عجیب ماجرا دیکھا ہے کہ ایک شہر والے دوسرے شہر والوں سے قرآن پاک کی قرا¿ت میں اختلاف کرتے ہیں ۔اہل حمص کہتے ہیں کہ ہم قرآن پاک کو دوسرے شہر والوں کے مقابلے میں زیادہ صحیح تجوید سے پڑھتے ہیں کیونکہ ہم نے قرآن پاک کی تعلیم حضرت مقداد رضی اﷲ عنہ سے حاصل کی ہے ۔اہل دمشق کا بھی اِسی قسم کا دعویٰ ہے ۔اہل بصرہ کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن پاک کی تعلیم حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے پائی ہے اِس لئے ہماری قرا¿ت زیادہ صحیح ہے ۔میرے نزدیک تو صحیح یہ ہے کہ قرآن پاک کو ایک قرا¿ت اور صورت پر جمع کر دیا جائے ورنہ اگر یہی حالت رہی تو سخت اختلاف واقع ہو سکتا ہے ۔صحابہ¿ کرام اور تابعین کی اچھی خاصی تعداد وہاں موجود تھی اور انہوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کی رائے سے اتفاق کیا۔
خلافت صدیقی میں قرآن پاک کا ایک مصحف میں جمع کرنا
خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے مشورے سے اور خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم سے حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ عنہ نے قرآن پاک کو ایک مصحف پر لکھ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو دے دیا تھا اور انہوں نے اپنی بیٹی اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو دے دیا تھا ۔جب بھی کبھی ضرورت ہوتی تھی تو بیٹی سے وہ قرآن پاک لیتے تھے اور کام ہوجانے کے بعد واپس کر دیتے تھے ۔خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے وہ قرآن پاک حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بیٹی اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کو دے دیا تھا تاکہ ضرورت کے مطابق وہ اپنے والدِ محترم کو دے سکیں ۔تب سے وہ قرآن پاک اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس ہی رہا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ اِس مجلس سے نکل کر سیدھے مدینہ¿ منورہ روانہ ہوئے اورامیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر پورا واقعہ عرض کیا ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی نے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کیا ۔تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کی رائے کو پسند کیا ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا سے وہ قرآن پاک منگوایا جو خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جمع و مرتب کروایا تھا ۔خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں جب یمامہ کی جنگ ہو رہی تھی تو اِس جنگ میں ایک دن میں کئی حافظ قرآن صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہو گئے تھے ۔اُس وقت تک قرآن پاک صرف صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے سینوں میں ہی محفوظ تھا ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رائے دی تھی کہ قرآن پاک کا کتابی شکل میں جمع کرا لینا ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ حافظ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے شہید ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی غائب ہو جائے ۔خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جس کام کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے اُسے میں کیسے کروں ؟ “ لیکن جب اِس رائے کی اہمیت پر غور و فکر کیا اور اُمت کے مستقبل کے بارے میں سوچا تو حضرت فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی رائے سے متفق ہو گئے اور حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو اِس کام پر مامور کیا ۔حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ نے کاغذ کے پرزوں ،درخت کے تنوں ،چھالوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن پاک کو جمع کر کے بصورت موجودہ کتابی صورت میں مرتب کیا اور حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا
پورے عالم اسلام میں ایک قرآن رائج کرنا
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو جب حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے قرآن پاک کی قرأت کے اختلاف کے بارے میں بتایا تو اُنہیں معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُمت کو ایک قرآن پاک پر جمع کرنے کا ارادہ بنا لیا ۔یہ خلیفۂ سُوم امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ہم تمام اُمت مسلمہ پر احسان ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا قدم اُٹھایا اور پوری اُمت میں صرف ایک قرآن پاک رائج کیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون آگے لکھتے ہیں : اُس زمانہ ( حضرت ابوبکر صدیق رضی عنہ کے دورِ خلافت ) سے یہ مصحف ( جو حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ نے تیار کیا تھا ) حضرت صدیق ِ اکبر رضی اﷲ عنہ کے پاس رہا ۔پھر حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے پاس رہا اور جب آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے تو یہ مصحف اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس رہا ۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کی رائے پر جب تمام صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے اتفاق کر لیا تو خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِس مصحف کو اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲعنہا کے پاس سے منگوایا اور اِس کی نقل کرنے پر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ ،حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سعید بن عاص اور حضرت عبد الرحمن بن حارث بن ہشام کو مامور کیا اور حکم دیا : ” اگر تم کو کسی لفظ پر اختلاف ہو تو قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا کیونکہ قرآن پاک اُنہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے ۔“ اِن حضرات نے اِس مصحف کی متعدد نقول تیار کیں اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِن نقول کو عالم اسلام کے لگ بھگ ہر صوبے میں روانہ کیا اور حکم دیا کہ اِن نسخوں کی نقول تیار کر کے مسلمانوں تک پہنچائے جائیں اور باقی جتنے بھی نسخے ہیں اُن سب کو ضائع کر دیا جائے ۔پورے عالم اسلام کے گورنروں نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے بھیجے ہوئے نسخوں کی نقول تیار کر کے مسلمانوں کو دیں اور باقی تمام نسخوں کو ضائع کر دیا اور اِس طرح صرف یہی ایک قرآن رہ گیا جو آج بھی ہمارے پاس اُسی شکل میں موجود ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ”مُہر“ کنویں میں گرگئی
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو ”مُہر “ بنائی تھی وہ ایک کنویں میں گر گئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ۰۳ ہجری میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ” مُہر “ جو ایک انگوٹھی کی شکل میں تھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ سے نکل کر ”بیئر اریس “ ( ایک کنواں) میں گر گئی ۔یہ کنواں مدینہ¿ منورہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھا اور اِس کنویں میں سب سے کم پانی تھا مگر پھر بھی اس کی گہرائی کا پتہ نہیں چل سکا ۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب بادشاہوں کو خط لکھ کر اسلام کی دعوت دینے کا ارادہ کیا تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! بادشاہ صرف مُہر لگے خطوط کو قبول کرتے ہیں ۔“ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لوہے کی انگوٹھی ” مُہر “ کے طور پر بنوائی تو اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا اور انہوں نے لوہے کی انگوٹھی پہننے سے منع کر دیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی تب اﷲ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِس پر تین سطر کندہ کروائی ۔سب سے اوپر ” اﷲ “ لکھوایا ،اُس کے نیچے ” رسول “ لکھوایا اور اُس کے نیچے ” محمد “ لکھوایا ۔اِس ”مہر “ کی تحریر ” محمد رسول اﷲ “ تھی ۔اِس سے ” مُہر “ لگا کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ بادشاہوں کو خطوط بھیجا کرتے تھے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ¿ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اِس ”مُہر “ کا استعمال کرتے رہے ۔پھر خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ استعمال کرتے رہے ۔پھر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ چھ(6) سال تک استعمال کرتے رہے ۔پھر انہوں نے اہل مدینہ کے لئے ایک پانی کا کنواں کھدوایا ۔وہاں آپ رضی اﷲ عنہ کنویں کی منڈیر پر بیٹھے اِس انگوٹھی کو حرکت دے رہے تھے اور اپنی انگلی میں گھما رہے تھے کہ انگوٹھی اُن کی انگلی سے نکل کر کنویں میں گر گئی ۔لوگوں نے کنویں میں اس کو تلاش کیا اور اس کا سارا پانی نکلوا دیا مگر انگوٹھی کا سُراغ نہیں ملا ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو ”مُہر “ کے گُم ہوجانے کا بہت رنج و غم ہوا ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ اِس انگوٹھی کے ملنے سے مایوس ہو گئے تو اُسی جیسی انگوٹھی بنوائی اور اُس پر بھی ویسے ہی ” محمد رسول اﷲ “ کندہ کروایا اور پہن لیا ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا گیا تو وہ انگوٹھی بھی اُتار لی گئی اور یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ کون اِس انگوٹھی کو لیکر گیا ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں