11 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 11
رستم کا مشورہ، رستم کے لشکر کی تعداد، ایک مسلمان کا ”یقین ِ مُحکم، حضرت طلیحہ اسدی کی بہادری، رستم کا ٹال مٹول، حضرت زہرہ بن حویہ اور رستم کی بات چیت، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ اور فارسی سپہ سالار رستم، حضرت ربعی بن عمر اور رستم، فارسی لشکر کا نہر پار کرنا،
رستم کا مشورہ
مسلمانوں کا وفد کسریٰ کے پاس سے واپس آگیا،تو اُس نے رستم اور تمام وزراءاور سپہ سالاروں کو جمع کیا،اور مشورہ کیا۔کسریٰ کا حکم تھا کہ ایک بہت بڑا لشکر لیکر رستم جائے،اور مسلمانوں کو شکست دینے کے بعد سلطنت فارس کی حدود سے باہر دھکیل دے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔یزد جرد کسریٰ نے رستم اور دوسرے اراکین سلطنت کو طلب کر کے مشورہ کیا۔رستم نے کہا؛”مناسب یہ ہے کہ ایک عظیم لشکر بھیجنے کے بجائے ایک کے بعد ایک چھوٹے لشکر عربوں (مسلمانوں)سے جنگ کرنے کے لئے مختلف سپہ سالاروں کی قیادت میں روانہ کئے جائیں۔دفعتہ عجلت کر کے لشکر عظیم بھیج دینا،اور شکست کھانا خلاف مصلحت ہے۔اِس کے بجائے ایک چھوٹے لشکر کے شکست کھانے کے بعد دوسرے بڑے لشکر کا مقابلہ زیادہ آسان ہو گا۔“کسریٰ نے کہا؛”نہیں!میدان جنگ میں تمہارا ایک بڑا لشکر لیکر جانا ضروری ہے،تم جہاں دیدہ اور آزمودہ کار ہو۔اور عربوں کے ساتھ تم نے بہت سی لڑائیاں لڑی ہیں۔چھوٹے چھوٹے لشکر بھیج کر لڑانا،اور اُن کی شکست کے بعد دوسرے لشکروں کو بھیجنا ،دولت کا نقصان اور سلطنت فارس کی اہانت ہے۔جب تک کہ قادسیہ کا میدان سواروں سے نہ بھر دیا جائے ،اور اُن پر دفعتہ دندان شکن حملہ نہ کیا جائے۔تب تک ملک عرب کی لالچی بدو قومیں اپنے افعال اور کاروائیوں سے باز نہیں آئیں گی۔“رستم بادل نخواستہ روانگی پر آمادہ ہو گیا،اور لشکر کی فراہمی کے بعد ساباط میں اپنے لشکر کی صف بندی کرنے لگا۔
رستم کے لشکر کی تعداد
سلطنت فارس کے مرکز کسریٰ کے دربار سے رستم واپس آیا۔اور جالینوس کو چالیس ہزار(40,000) کا لشکر دیکر ”مقدمة الجیش“کے طور پر روانہ کیا۔اور ساباط میں ساٹھ ہزار (60,000) کے لشکر کے ساتھ پہنچا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رستم طوعاً و کرہاً مدائن سے جنگی ہتھیار جمع کر کے اور ساٹھ ہزار فوج ساتھ لیکر ساباط کی طرف روانہ ہوا۔اِس فوج کے ”مقدمة الجیش“(لشکر کا اگلا حصہ)پر جالینوس تھا ،جس کے پاس چالیس ہزار کا لشکر تھا۔”ساقہ“(لشکر کا پچھلا حصہ)میں بیس ہزار کی فوج تھی۔”میمنہ“(لشکر کا دائیاں حصہ)کا کمانڈرہرمزان تھا،جس کے پاس تیس ہزار کا لشکر تھا۔”میسرہ“(لشکر کا بائیاں حصہ)کا کمانڈر مہران بن بہرام تھا،جس کے پاس تیس ہزار کا لشکر تھا۔اُن سب کے ساتھ تین سو (300) ہاتھی تھے۔اِن میں سے ایک سو(100)”قلب“(لشکر کا درمیانی حصہ)میں تھے۔میمنہ میں پچھتر(75)اور میسرہ میں پچھتر(75)تھے۔اور مقدمة الجیش میں بیس(20)اور ساقہ میں تیس(30)ہاتھی تھے۔ساباط سے روانہ ہو کر رستم نے کوثا میں پڑاؤ ڈالا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔چالیس ہزار کا ہر اول لشکر تھا،جس پر جالینوس سپہ سالار تھا۔میمنہ اور میسرہ میں ساٹھ ہزار کا لشکر تھا۔اور ساقہ کے بیس ہزار کے لشکر پر بندران سپہ سالار تھا۔ایک روایت کے مطابق رستم کے پاس ایک لاکھ بیس ہزار (1,20,000)کا لشکر تھا۔جس کے پیچھے اسی ہزار(80,000) کا ایک اور لشکر تھا۔اُسکے ساتھ تینتیس ہاتھی تھے،جن میں سابور نام کا سفید ہاتھی بھی تھا۔جو سب سے بڑا اور سب سے آگے تھا،اور ہتھنی اُس سے مانوس تھی۔
ایک مسلمان کا ”یقین ِ مُحکم
رستم مسلسل مسلمانوں کی کھوج خبر میں تھا،اور اِس کے لئے وہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اُس کے لشکر کے لوگوں نے ایک مسلمان کو پکڑ لیا،اور اُس کے سامنے پیش کر دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اتفاق سے ایک مسلمان کو رستم کے پاس پکڑ کراُس کے سپاہی لے آئے۔رستم نے اُس سے پوچھا؛”تم لوگ یہاں کس ضرورت سے آئے ہو؟اور کیا ڈھونڈ رہے ہو؟“مسلمان نے جواب دیا؛”ہم اﷲ تعالیٰ کے وعدوں کو تمہارے ملک اور تمہارے نوجوانوں میں ڈھونڈتے ہیں،تاکہ تم لوگ ایمان لے آو¿۔“رستم نے کہا؛”اگر تم اِس جستجو میں قتل ہو گئے تو؟“مسلمان نے جواب دیا؛”ہم میں سے جو شخص اِس جستجو میں قتل ہو جائے گا،وہ جنت میں جائے گا،اور جو بچ جائے گا،اُس سے اﷲ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔“رستم نے کہا؛”پھر تم کو اِس سے کیا حاصل ہو گا؟“مسلمان نے جواب دیا؛”ہم نہ سہی ،ہمارے اور بھائی سہی،لیکن یہ طے ہے اور ہم کو اِس کا پورا یقین ِمُحکم ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔“رستم نے کہا؛”تم اِس قلیل (کم)تعداد کے ساتھ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہو؟“مسلمان نے جواب دیا؛”ہم کیا کریں گے،جو کچھ کرے گا ،وہ اﷲ تعالیٰ کرے گا۔تمہاری بد اعمالیاں تم کو نیست و نابود کر دیں گی۔اور تم ہمارے زیر نگین آجاو¿ گے۔“رستم نے کہا؛”تُو ہمارے غضب سے نہیں ڈر رہا ہے(سپاہیوں کی طرف اشارہ کر کے)ہمارے پاس اِس وقت اِس قدر جنگ آور بہادر موجود ہیں۔“مسلمان نے کہا؛”تُو اِن پر ناز کر رہا ہے،یہ سب قضا و قدر ہیں،جو تجھے گھیر کر لائے ہیں ،اور تجھے زندہ نہیں رہنے دیں گے۔“یہ سن کر رستم کو غصہ آگیا ،اور اُس مسلمان کو شہید کر دیا۔
حضرت طلیحہ اسدی کی بہادری
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ بدستور قادسیہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کو رستم کے لشکر کے بارے میں تمام رپورٹیں برابر موصول ہو رہی تھیں۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت معدی بن کرب اور حضرت طلیحہ اسدی کو سلطنت فارس کے لشکر کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا۔تقریباًتین میل اپنے لشکر سے باہر نکلنے کے بعد انہیں فارسی لشکر کا ہر اول(مقدمة الجیش)دکھائی دیا۔یہ چالیس ہزار کا لشکر تھا،اور جالینوس سپہ سالار تھا۔حضرت عمرو بن معدی کرب تو اِس مقام سے واپس آگئے۔لیکن حضرت طلیحہ لباس تبدیل کر کے لشکر فارس میں داخل ہو گئے۔جب رات کا زیادہ حصہ گذر گیا اور فارسی فوجیوں پر غفلت طاری ہو گئی ۔تب حضرت طلیحہ آہستہ آہستہ گھوڑوں کی طرف گئے ،اور نگہبانوں کا غافل پا کر خیمے کی رسیاں کاٹ دیں۔اور ایک گھوڑے پر سوار ہوکر دوسرے تمام گھوڑوں کو ہانکتے ہوئے لشکر فارس سے نکل گئے۔خیموں کے گرنے اور گھوڑوں کے دوڑنے سے جو شورو غل اُٹھا تو لوگ جاگ اُٹھے۔چند لوگوں نے گھوڑوں پر سوار ہو کر اُن کا تعاقب کیا۔جب قریب پہنچے تو حضرت طلیحہ نے پلٹ کر ایک پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ اسی مقام پر ٹھنڈا ہو گیا۔جب دوسرا آگے بڑھا تو انہوں نے اُسے بھی ایک ہی وار میں ختم کر دیا۔تیسرے نے آگے بڑھ کے روکنا چاہا ،اور حضرت طلیحہ پر نیزہ چلایا۔لیکن آپ اُس وار سے بچ گئے،اور حملہ کرنے والا اپنے ہی جھونک سے آگے آگیا اور جھک گیا تو آپ نے فوراً تلوار کا وار اِس صفائی سے کیا کہ اُس کا سر تن سے الگ ہو کر دور جا پڑا۔اسی دوران چوتھے سوارنے قریب آکر آپ کو پکڑ کر گھوڑے سے کھینچ کر اُتارنا چاہا تو آپ نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اتنی تیز گھوڑے کو ایڑ لگائی کہ وہ اپنے گھوڑے پر گر گیا ،اور حضرت طلیحہ اُسے اِسی حال میں لٹکائے ہوئے اسلامی لشکر میں داخل ہو گئے۔فارسی لشکر کے باقی سوار واپس چلے گئے۔حضرت طلیحہ گھوڑوں اور قیدی کو لیکر سیدھے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔اور تمام واقعہ بیان کر دیا۔ترجمان کو بلا کر قیدی سے فارسی لشکر کے متعلق باتیں دریافت کیں۔اِس کے بعد اُسے حضرت طلیحہ کے حوالے کر دیا۔آپ کا سلوک دیکھ کر قیدی نے اسلام قبول کرلیا۔اور جنگ میں بڑے بڑے نمایاں کام انجام دیئے،اور فارسیوں کے حالات اور لڑائی کے طریقے بتائے۔اِس سے مسلمانوں کو بہت فائدہ ملا،وہ شخص حضرت طلیحہ کی بہادری سے اتنا متاثر ہو گیا تھا کہ پھر اُس نے اُن کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔
رستم کا ٹال مٹول
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ انتہائی صبر سے فارسیوں کے لشکر کا انتظار کر رہے تھے۔اور رستم مسلمانوں کے سامنے لشکر لیکر جانے سے ٹال مٹول کر رہا تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔رستم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا۔حتیٰ کہ مدائن سے نکلنے کے اور قادسیہ میں مسلمانوں کے سامنے پڑاو¿ ڈالنے میں اُس نے چار مہینے لگا دیئے۔اُس نے یہ سب اِس لئے کیا کہ وہ چاہتا تھا کہ مسلمان اُکتا کر واپس چلے جائیں۔اور اگر کسریٰ اُس پر بار بار دباو¿ نہیں ڈالتا ،اور جلدی جنگ کرنے کے لئے نہیں کہتا ۔تو وہ کبھی مسلمانوں سے جنگ نہیں کرتا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ رستم نے حیرہ سے کوچ کر کے قادسیہ میں پڑاو¿ ڈال دیا،جہاں فارسیوں اور مسلمانوں میں ایک قیامت خیز جنگ ہونے والی تھی۔اُس کو مدائن سے روانہ ہوئے چھ مہینے گذر گئے تھے۔اُس کے دل میں مسلمانوں کا خوف جاگزیں ہو گیا تھا،اسی لئے وہ لڑائی سے پہلو تہی کرتا تھا۔لیکن کسریٰ کے حکم سے مجبور تھا،اور وہ بار بار اُس کو تاکید اًمسلمانوں سے متصادم ہونے کو لکھتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔رستم نے کوچ کر کے نجف میں قیام کیا،اِس عرصے میں اُس نے چار مہینے گزار دیئے۔کیونکہ اُس نے مدائن سے نکلنے کے بعد ساباط میں پڑاو¿ ڈالاتھا۔وہاں سے وہ مختلف مقامات پر ٹھہرتا رہا،نہ تو آگے بڑھتا تھا،اور نہ ہی وہ جنگ کرتا تھا۔اُس کا یہ خیال تھا کہ مسلمان اِس جگہ سے اُکتا جائیں گے،اور جب انہیں تکلیف پہنچے گی تو وہ لوٹ جائیں گے۔وہ عربوں سے جنگ نہیں کرنا چاہتا تھا،اُسے اندیشہ تھا کہ اُس کا بھی وہی حشر نہ ہو جائے ،جو اُس سے پہلے لوگوں کا ہوا تھا۔وہ جنگ کو طویل کرنا چاہتا تھا،مگر کسریٰ اُسے جلد جنگ شروع کرنے کا حکم دے رہا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ لوگ جنگ کو طوالت دیں گے۔اِسی لئے انہوں نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کو لکھا کہ وہیں مقیم رہو،اور طویل عرصے تک مقابلہ کرنے کی پیش بندی کرو،تاکہ وہ پریشان ہو جائیں۔اسی لئے مسلمان قادسیہ میں ہی قیام پذیر رہے۔اور وہ صبر کرنے اور طویل مقابلے کے لئے تیار ہو گئے۔اﷲ بھی یہی چاہتا تھا،کہ اپنے نور کی تکمیل کرے۔
حضرت زہرہ بن حویہ اور رستم کی بات چیت
بڑے ٹال مٹول کے بعد آخر کار رستم قادسیہ پہنچ گیا،اور نہر عتیق کے اُس پار اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈال دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رستم نے قادسیہ پہنچ کر مسلمانوں کے لشکر کے مقابلہ کے لئے عتیق میں اپنا خیمہ نصب کرایا۔دوسرے دن صبح ہی صبح عتیق سے گھوڑے پر سوار ہو کر نہر کی طرف جا کر پُل سے ایک بلند مقام سے مسلمانوں کے لشکر کو دیکھتا رہا۔پھر اُس نے مسلمانوں کے مقدمة الجیش کے سپہ سالار حضرت زہرہ بن حویہ سے کہلا بھیجا کہ میں تم سے کچھ باتیںکرنا چاہتا ہوں۔حضرت زہرہ اپنے خیمے سے نکل کر اُس کے سامنے آئے۔رستم نے کہا؛”تم ہمارے پڑوسی ہو ،اِس لئے ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے،اور تمہاری حفاظت کرتے تھے۔“حضرت زہرہ نے فرمایا؛”اِس سے تمہارا کیا مطلب ہے؟“رستم نے کہا؛”تم کو یاد ہو گا کہ ہمارے یہاں سے تم لوگوں کے وظائف مقرر تھے۔تم ہمارے یہاں آتے تھے،تو ہم تم کو انعام و اکرام دیتے تھے۔اب بھی اگر تم کو اِس کی ضرورت ہو تو ہم تم کو خاطر خواہ انعام دیں گے۔حضرت زہرہ نے فرمایا؛”ہماری یہ غرض ہر گز نہیں ہے،ہم تو اپنی آخرت بنانے آئے ہیںاور تم جیسا کہتے ہو ،حقیقتاًہم ویسے ہی تھے۔لیکن ا ﷲ تعالیٰ نے ہم میں اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھیجا،جنہوں نے ہمیں دین حق کی طرف بلایا۔جسے ہم نے قبول کر لیا،انہوں نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص اِس دین کو قبول نہیں کرے گا،اُس پر اﷲ تعالیٰ ہم کو مسلط کر دے گا۔اور ہمارے ذریعے وہ اُس کی سر کشی اور بے دینی کا بدلہ لے گا۔اِس لئے ا ﷲ تعالیٰ ہم کو غلبہ اور فتح عطا فرمائے گا۔“رستم نے کہا؛”تم لوگ اب بھی اقلیت میں ہو،ہماری اِس عظیم الشان فوج کا مقابلہ کیا کر سکو گے؟“حضرت زہرہ نے فرمایا؛”یہ خیال غلط ہے،ہم اپنے دین کی برکت سے تم پر یقینا غالب ہو جائےں گے،اور جب تک ہم میں سے ایک شخص بھی زندہ رہے گا،تمہارے مقابلے سے منہ نہیں موڑے گا۔“اُس نے کہا ؛”وہ کون سا دین ہے ،جس کو تم حق کہتے ہو؟“انہوں نے فرمایا؛”اِس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ،اﷲ کے بندے اور رسول ہیں،اور دل سے اِس پر یقین رکھنا۔یہی دین ہے۔“رستم نے کہا؛”یہ تو عقائد ہیں،اور عملاً کیا کرنا پڑتا ہے؟“حضرت زہرہ نے فرمایا؛”شرک اور بت پرستی کو دنیا سے دور کرنا،لوگوں کو دوسروں کی عبادت سے بچا کر اﷲ کی عبادت کی طرف بلانا،مخلوق کی حیثیت سے ہم تم برابر ہیں،اور ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔شرط یہ ہے کہ تم بھی اسلام قبول کر لو،ورنہ بھائی ہونے کے بجائے ہم تمہارے جانی دشمن ہیں۔“رستم نے کہا؛”اگر ہم تمہاری دعوت کو قبول کر لیں ،اور تمہارے دین میں داخل ہو جائیں،تو کیا تم بغیر جنگ و جدال کے واپس لوٹ جاو¿ گے؟“حضرت زہرہ نے خوشی سے فرمایا؛”اﷲ کی قسم ! ہم بغیر جھگڑے کے واپس چلے جائیں گے۔“
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ اور فارسی سپہ سالار رستم
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ”مقدمة الجیش“کا پڑاؤ ندی کے اِس پار تھا۔اور رستم نے اپنے لشکر کے ساتھ ندی کے اُس پار پڑاو¿ ڈال دیا۔فارسی لشکر کے سپاہی مسلمانوں کی سادگی اور غریبی کو دیکھ کر ہنستے تھے ،اوراُن کا مذاق اُڑاتے تھے۔حضرت ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ جب ہم قادسیہ پہنچے تو فارسیوں نے ہم سے کہا؛”تم لوگ نہایت ہی کمزور ہو ،تمہارے پاس ہتھیار اور جنگی لباس بھی ٹھیک سے نہیں ہیں۔تم ہمارے مقابلے پر کیوں آئے ہو؟جاو¿ واپس چلے جاو¿ ۔“ہم لوگوں نے کہا ؛”ہم واپس نہیں جائیں گے،اورنہ ہم واپس ہونے کے لئے آئے ہیں۔“وہ لوگ ہمارے تیروں کو دیکھ دیکھ کر ہنستے تھے۔اور کہتے تھے ۔”تکلے ہیں تکلے۔ “جب ہم نے واپس جانے سے انکار کر دیا تو انہوں نے کہا؛”تم ہمارے پاس اپنے میں سے کسی عقلمند آدمی کو بھیجو،تاکہ وہ تمہاری آمد کے مقصد کو ہم پر واضح کرے۔“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس کام کے لئے میں جاتا ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے ندی پار کی ،اور فارسیوں کے لشکر میںجاکر رستم کے خیمے میں پہنچے ،اور سیدھا رستم کی مسند پر اُس کے برابر جا کر بیٹھ گئے۔فارسی سرداروں کو یہ جسارت ناگوار گزری ،اور وہ چلائے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس سے میرا مرتبہ بڑھ نہیں گیا ہے،اور تمہارے سپہ سالار کے مرتبے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔“رستم نے کہا؛”تم ٹھیک کہتے ہو،تم یہ بتلاو¿ کہ تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم لوگ گمراہی میں مبتلا تھے،اﷲ تعالیٰ نے ہم پر رحم فرمایا،اور ہم میں ایک نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔اﷲ نے ہم کو اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے ہدایت عطا فرمائی،اور اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہمیں رزق عطا فرمایا۔جو رزق اُس نے ہمیں عطا فرمایاہے ،یہ سمجھا جاتا ہے کہ اُس کا دانہ اِس سرزمین پر پیدا ہوتا ہے۔جب ہم نے اور ہمارے اہل و عیال نے اِس ملک کا غلہ کھایا تو انہوں نے کہا کہ ہم اِس کے بغیر نہیں رہ سکتے ،تم ہم کو اِس ملک میں ٹھہرا دو۔تاکہ ہم یہاں کا غلہ کھائیں۔“رستم نے کہا؛ہم تم کو قتل کر دیں گے۔“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اگر تم ہم کو قتل کرو گے ،تو ہم جنت میں داخل ہوں گے،اور اگر ہم نے تم کو قتل کیا تو تم لوگ جہنم میں جاو¿ گے۔ایک صورت ہے کہ تم جزیہ قبول کر لو۔“یہ سن کر وہ لوگ برہم ہو گئے،اور چلا کر بولے۔ہم میں اور تم میں صلح ناممکن ہے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم پار ہو کر ہماری طرف آو¿ گے یا ہم پار ہو کر تمہاری طرف آئیں؟“رستم نے کہا؛”ہم ہی پار ہو کر تمہاری طرف آئیں گے۔“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ٹھیک ہے۔“اور وہاں سے چلے آئے۔یہ علامہ محمد بن جریر طبری کی روایت ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب دونوں لشکر وں نے ایکدوسرے کے سامنے پڑاو ڈال دیا تو رستم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس کسی عالم اور دانش مندآدمی کو بھیج دیں،ہم اُس سے کچھ باتیں پوچھنا چاہتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو اُس کے پاس بھیج دیا۔جب وہ اُس کے پاس پہنچے تو رستم نے کہا؛”تم ہمارے پڑوسی ہو،اور ہم تم لوگوں سے حسن سلوک کرتے ہیں،اور تمہاری تکلیف دور کرتے ہیں۔تم اپنے ملک واپس چلے جاو¿،ہم تم لوگوں کو اپنے ملک میں تجارت کے لئے داخل ہونے سے نہیں روکیں گے۔“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم دنیا کے طالب نہیں ہیں،ہم صرف آخرت کے طلب گار ہیں،اور اﷲ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھیجا ہے۔اور اُن صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے؛” میں مسلمانوں کو اُن لوگوں پر مسلط کر دوں گا،جو میرے دین اسلام کو اختیار نہیں کریں گے۔اور میں مسلمانوں کے ذریعے اُنہیں سزا دوں گا۔اور جب تک وہ اِس دین کے اقراری رہیں گے ،میں اُنہیں غلبہ عطا کروں گا۔اوریہ دین حق (اسلام) ہے،اور جو اِس سے بے رغبتی کرتا ہے،ذلیل ہو جاتا ہے۔اور اسے اپنانے والا عزت پا جاتا ہے۔“رستم نے پوچھا ؛”وہ دین حق کیا ہے؟“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس کا وہ ستون جس سے ہر چیز کی درستگی ہو جاتی ہے،وہ یہ گواہی دینا ہے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ،اﷲ کے بندے اور رسول ہیں۔اور جو کچھ وہ اﷲ کے پاس سے لائے ہیں،اُس کا اقرار کرنا ۔“رستم نے کہا؛”یہ تو اچھی بات ہے،اور کون سی چیز ہے؟“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”بندوں کو بندوں کی غلامی سے چھڑا کر اﷲ کی غلامی کی طرف لے جانا۔“رستم نے کہا؛”یہ بھی اچھی بات ہے،اور کون سی چیز ہے؟“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں،اور وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔“اُس نے کہا؛”یہ بھی اچھی بات ہے۔“اِس کے بعد رستم نے کہا؛”اگر ہم تمہارے دین میں داخل ہو جائیں ،تو تم ہمارے شہروں کو چھوڑ کر چلے جاو¿ گے۔؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم! پھر ہم تجارت اور ضرورت کے سوا تمہارے شہروں کے نزدیک بھی نہیں آئیں گے۔“رستم نے کہا اچھی بات ہے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کے چلے جانے کے بعد رستم نے فارسی سرداروں اور سپہ سالاروں سے اسلام کے بارے میں گفتگو کی تو وہ برا مان گئے،اور اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔
حضرت ربعی بن عمر اور رستم
فارسی عمائدین نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا،اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اِس کے بعد رستم نے اُن سے کہا کہ اگر مسلمانوں سے صلح ہو جائے تو یہ ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اس کے بعد رستم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے کہلا بھیجا کہ ”تم ہمارے پاس کسی سفیر کو بھیج دو ،جس سے ہم مصالحت کی گفتگو کریں۔“حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے رستم کے پاس حضرت ربعی بن عامر کوروانہ کیا۔فارسیوں نے انہیں ایک قنطرہ میں ٹھہرا کر رستم کو خبر دی۔اُس نے اپنے لئے پر تکلف سونے کا تخت اور اُس کے چاروں طرف دور دور تک دیبا و حریر کا فرش بچھوایا،اور اُس پر رومی قالینوں کو بچھوا کر تکیوں کو رکھوایا۔جن کے غلاف زربفت کے اور جھالر موتیوں کے تھے۔وجیہہ اور خوب رو امراءکو اپنے گردو پیش حسب مراتب بٹھا کر حضرت ربعی بن عمر کو داخل ہونے کی اجازت دی۔حضرت ربعی بن عامرپرانی پھٹی ہوئی نیام میں بند تلوار گلے میں لٹکائے ہوئے گھوڑے پر سوار اور ایک ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے فرش کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندتے ہوئے قالین تک پہنچے۔گھوڑے سے اُتر کر ایک قالین میں نیزے سے سوراخ کر کے لگام کو اُس میں پھنسا دیا،اور نیزے کی نوک سے بچھے ہوئے فرش اور قالین کو پھاڑتے ہوئے چلے۔اہل فارس اُن کی اِس حرکات کو خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔جب رستم کے قریب پہنچے تو لوگوں نے حضرت ربعی بن عامر سے ہتھیار رکھ دینے کو کہا۔انہوں نے فرمایا؛”اگر میں بلا طلب تمہارے پاس آتا تو میں یہ ہتھیار تمہیں دے دیتا ،لیکن تم نے مجھے بلوایا ہے،اگر مسلح آنے دو گے تو آو¿ں گا،ورنہ واپس چلا جاو¿ں گا۔“رستم نے آپ کو مسلح آنے کی اجازت دے دی۔حضرت ربعی بن عامر اپنے نیزے کی نوک سے قالین کو خراب کرتے اور پھاڑتے ہوئے رستم کے تخت تک پہنچے،اور رستم کے برابر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے روکنے کی کوشش کی۔آپ نے فرمایا؛”میں تمہارے بلانے سے آیا ہوں،جہاں بیٹھنا چاہتا ہوں،بیٹھنے دوورنہ میں چلا جاو¿ں گا۔مجھے تمہارے پاس آنے کی کوئی غرض نہیں ہے،ہمارے مذہب میں اِس کی سخت ممانعت ہے کہ ایک شخص معبود ہو کر بیٹھے،اور باقی انسان بندے ہو کر کھڑے یا بیٹھے رہیں۔“رستم نے اپنے ساتھیوں کو منع کیا کہ کوئی بھی شخص کچھ نہ بولے۔حضرت ربعی بن عامر کچھ دیر تخت پر بیٹھے ،پھر خودہی اُتر آئے ،اور نیزے سے قالین کا ایک ٹکڑا پھاڑ کرالگ کر دیا،اور ننگی زمین پر بیٹھ گئے،اور رستم سے مخاطب ہو کر فرمایا؛”ہم تمہارے اِس پر تکلف فرش پر نہیں بیٹھتے ،(زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا)اﷲ تعالیٰ کا بچھایا ہوا یہ فرش ہی ہمارے لئے کافی ہے۔“رستم نے ترجمان کے ذریعے پوچھا؛”تم کس وجہ سے ہمارے ملک میںآئے ہو؟“حضرت ربعی بن عامر نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ نے ہم کو اِس دنیامیں اِس غرض سے بھیجا ہے کہ ہم اِس دنیا میں بسنے والے بندوں کو دنیا کی تنگی سے وسعت اور آخرت کی بھلائی کی طرف متوجہ کریں۔اور باطل دینوں سے بچا کر اسلام کے عدل کی طرف لائیں۔ہم اﷲ کے دین کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں،پس جو شخص قبول کرلے گا ،ہم اُسے اور اُس ملک سے جنگ نہیں کریں گے۔لیکن جو شخص اسلام قبول کرنے سے انکار کرے گا،اُس سے ہم اُس وقت تک لڑتے رہیں گے،جب تک ہم جنت میں نہ پہنچ جائیں یا پھر فتح نہ حاصل کر لیں۔“رستم نے کہا؛”کیا تم ہم کو اتنی مہلت دے سکتے ہو؟اور کیا اِس کام کو چند دنوں کے لئے ملتوی کر سکتے ہو؟تاکہ ہم تمہارے خیالات پر غور کریں۔“آپ نے فرمایا؛”ہاں!ایک دو دن ہم رک سکتے ہیں“رستم نے کہا؛”نہیں !ہمیں اتنی مہلت دو کہ ہم اپنے روسا ئے ملک اور اراکین سے اِس معاملے میں خط و کتابت کر سکیں۔“حضرت ربعی بن عامر نے فرمایا؛”یہ نہیں ہوسکتا ہے،ہمارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کو تین دن سے زیادہ مہلت نہ دیا کریں۔اِن تین دن میں غور کر کے یا تو اسلام قبول کر لو ،تاکہ ہم تم کو اور تمہارے ملک کو چھوڑ کر چلے جائیں ،یا پھر جزیہ دینا منظور کر لو،پس ہم اسے قبول کر لیں گے ،اور تم پر معترض نہیں ہو ں گے۔اور جب کبھی تمہیں ہماری ضرورت پڑے گی ،تو ہم تمہاری مدد کریں گے،اور تمہارے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔لیکن اگر اِن دونوں میں سے کسی ایک بات کو قبول نہیں کرو گے ،تو چوتھے روز ہم تم سے جنگ کریں گے،اور انشاءاﷲ ہم تم کو شکست دیں گے۔اور یہی ہمارا اور ہمارے کل ساتھیوں کا قول و قرار ہے۔“رستم نے پوچھا؛”کیا تم مسلمانوں کے سردار ہو؟“آپ نے فرمایا؛”نہیں!لیکن سارے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں،ہم میں سے ہر شخص ہر کام میں مختار ومجاز ہے۔ہم میں ادنیٰ اور اعلیٰ کا کوئی امتیاز نہیں ہے،ادنیٰ اعلیٰ کی طرف سے اجازت دے سکتا ہے۔“رستم اور اُس کے ساتھی کچھ دیر سکتے کے عالم بیٹھے رہے،پھر رستم نے کہا؛”تمہاری تلوار کی نیام بوسید ہ ہے ،غالباً تلوار بھی ایسی ہی ہو گی۔“حضرت ربعی نے تلوار نیام سے نکالتے ہو ئے فرمایا؛”نیام اِس کی ضرور بوسیدہ ہے،لیکن میں نے اسے سان پرابھی رکھوایا ہے۔“(یعنی دھار ابھی لگوائی ہے)پھر رستم نے آپ کا نیزہ اُٹھا کر اُس کا پھل دیکھ کر کہا؛”اِس کا پھل بہت چھوٹا ہے،لڑائی میں کیا کام دیتا ہوگا؟“آپ نے بے پرواہی سے فرمایا؛”پھل ضرور چھوٹا ہے،لیکن سیدھا دشمن کے دل میں اُتر جاتا ہے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آگ کی ایک چھوٹی سی چنگاری پورے شہر کو جلا دینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔“اِس کے بعد حضرت ربعی بن عامر واپس چلے آئے۔رستم نے اپنے سرداروں اور سپہ سالاروں سے کہا ؛”تم نے دیکھا کہ وہ عربی نژاد شخص کس بے باکی سے باتیں کر رہا تھا۔“اُن میں سے ایک نے کہا؛”وہ بہت ہی بد تہذیب ،وحشی ،غیر تربیت یافتہ تھا،پوشاک دیکھی اونٹ کا جھول پہنے ہوئے تھا،اور تمام قالین خراب کر ڈالا۔“دوسرے نے کہا؛”ارے صاحب !اُس نے تو ایک قالین کو درمیان سے پھاڑ کر گھوڑے کی راس اس میں باندھ دی تھی۔“تیسرا بول اُٹھا؛”یہ کیا لڑیں گے،تلوار کی نیام تک تو درست نہیں ہے۔اور نیزے میں دو انگل کا پھل ہے ،اِس سرے سے اُس سرے تک صرف ایک بانس کی بد شکل لکڑی ہے۔“رستم نے جھلا کر کہا؛”تم لوگ اُن کی ظاہری شکل وصورت دیکھ رہے ہو،تف ہے تمہاری عقل پر !اُس کی رائے اور گفتگو دیکھو،اس کے خیالات پر غور کرو،کہ کس قدر دوررس اور بے باکی سے باتیں کر رہا تھا۔“
فارسی لشکر کا نہر پار کرنا
مسلمان سفیروں سے بات کر کے رستم سوچ میں پڑ گیا،اور کافی غور فکر کے بعد جب اُسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو اُس نے لشکر کے کمانڈروں اور سپہ سالاروں سے مشورہ کیا،اور بولا؛”عربوں سے لڑنے کے بارے میں کیا کرنا چاہیئے؟کسریٰ کا حکم جنگ کرنے کا ہے،اوریہ لوگ ہم سے لڑے بغیر نہیں جائیں گے۔یہ لڑائی نہایت ہی خطرناک ہے ،مسلمانوںمیں سے ہر شخص جان دینے کے لئے تیار ہے۔بہتر ہو گا کہ اُن کا دین قبول کر لیا جائے یا پھر جزیہ دینا منظور کر لیا جائے۔“فارسی بولے؛”توبہ ،توبہ!اِن احمقوں کا دین اِس قابل ہے کہ ہم لوگ قبول کر یں؟اب اِن کی اتنی ہمت ہو گئی ہے کہ ہم اُن خراج دیں،جن کو ہم بد ترین اور گھٹیا مخلوق سمجھتے ہیں؟آپ متردد نہ ہوں،پہلی ہی جنگ میں اِن کا خاتمہ ہو جائے گا۔قاعدہ یہ ہے کہ چیونٹی کی جب موت آتی ہے تو اُس کے پر نکل آتے ہیں۔“آخر کار رستم بھی جنگ کے لئے تیار ہو گیا،اور اُس نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگ نہر پار کرو گے،یا ہم پار کر کے آئیں؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ ہی نہر پار کر کے آجاو¿۔رستم کو یہ جواب شام کو ملا،اُس نے لشکر کو پل کی طرف جانے کا حکم دیا تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے پل پر قبضہ جما لیا،اور فرمایا کہ تم دوسرا پل بنا کر نہر پار کرو۔فارسی لشکر نے کچھ دور جاکر نہر پر دوسرا پل بنایا ،اور دوسرے دن دوپہر تک پورا فارسی لشکر نہر پار کر کے مسلمانوں کے لشکر کے سامنے آگیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں