10 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 10
نیشا پور کی فتح، حضرت احنف بن قیس کی فتوحات، بلخ کی فتح، کرمان کی فتح ، سجستان کی فتح ، زرنج والوں کی بغاوت اور تسخیر، کابل اور زابلستان کی فتح
نیشا پور کی فتح
کرمان اور خراسان میں امن و امان ہونے کے بعد عبد اﷲ بن عامر نیشا پور کی طرف متوجہ ہوئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کامیابی کے بعد عبد اﷲ بن عامر نے صوبہ نیشا پور پر متعدد لشکروں کو بھیجا اور ”رستاق ، رام ہرمز ، جیرفت وغیرہ کو بزور ِ تیغ فتح کیا گیا ۔اسود بن کلثوم ( قبیلہ بنو عدی رباب کے ہیں ) نے ”بیہق “ ( نیشا پور کا ایک علاقہ) پر حملہ کیا ۔اتفاق سے شہر پناہ کی دیوار میں سوراخ ہو گیا اور اسود بن کلثوم اِسی کے ذریعے مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ شہر میں داخل ہو گئے ۔دشمنان ِ اسلام نے سوراخ پر مقابلہ شروع کر دیا اور گھمسان کی لڑائی ہوئی ۔حضرت اسود بن کلثوم شہید ہو گئے اور لشکر ِ اسلام کا علم اُن کے بھائی اوہم بن کلثوم نے سنبھالا اور نہایت بہادری سے لڑکر ”بیہق “ فتح کیا اور پھر نیشا پور پہنچ کر محاصرہ کر لیا اور ایک مہنے تک محاصرہ کئے رہے ۔نیشا پور میں سلطنت فارس کے چار مر زبان رہتے تھے اِن میں سے ایک نے رات کو شہر کا دروازہ اِس شرط پر کھول دینے کا وعدہ کیا کہ اُس کو امان دے دی جائے ۔عبد اﷲ بن عامر نے اُس کی یہ شرط منظور کر لی اور مسلمانوں کا لشکر رات کے وقت شہر میں داخل ہو گیا ۔مرزبان ِ اکبر ( چاروں کا سردار ) مسلمانوں کا لشکر سیکھ کر گھبرا گیا اور اپنے حفاظتی دستے کے ساتھ قلعہ بند ہو گیا مسلمانوں نے اُس کے قلعے پر دھاوا بول دیا اور مر زبان اکبر نے مجبور ہو کر دس لاکھ درہم سالانہ پر صلح کرلی ۔
حضرت احنف بن قیس کی فتوحات
حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ فارسیوں کے ساتھ مسلسل حالت ِ جہاد میں تھے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :اِس کامیابی کے بعد عبد اﷲ بن عامر نے نیشا پور پر قیس بن ہیشم سلمی کو مقرر کیا ۔ایک لشکر نسا اور ایبور دکی طرف اور دوسرا لشکر سرخس کی طرف بھیجا ۔اہل نسا اور اہل ایبورد نے مسلمانوں کے لشکر کے پہنچتے ہی جزیہ دیکر صلح کر لی باقی رہا سر خس تو اُس کے مر زبان(حاکم) نے دو چار لڑائیوں کے بعد سو آدمیوں کو امان دینے کی شرط پر شہر مسلمانوں کے حوالے کرنے کا اقرار کرلیا لیکن گنتی کرنے کے وقت اپنے آپ کو بھول گیا اور مسلمانوں نے اُسے قتل کر کے شہر پر قبضہ کر لیا ۔اِس کے بعد طوس کا مر زبان آیا اُس نے چھ لاکھ درہم سالانہ جزیہ پر صلح کر لی ۔ہرات کی طرف عبد اﷲ بن حازم گئے ہوئے تھے وہاں کے مر زبان(حاکم ) نے دس لاکھ سالنہ جزیہ پر اور ”مرو“ کے مر زبان نے دو کروڑ دس لاکھ سالانہ درہم پر صلح کر لی ۔پھر عبد اﷲ بن عامر نے حاتم بن نعمان باہلی کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو ”طخارستان “ کی طرف روانہ کیا ۔ راستے میں دارلجبرد کے حاکم نے تین کروڑدرہم پر صلح کی درخواست پیش کی ۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے یہ شرط لگائی کہ ہمارے زمانہ¿ قیام تک دارلجبرد میں کوئی مسلمان جا کر اذان دیتا رہے گا اور نماز ادا کرتا رہے گا جسے دارلجبردکے حاکم نے منظور کر لیا ۔اِس کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ ”مر والروذ “ پہنچے ۔اہل مرو الروذ مقابلے پر آئے اور شدید جنگ ہوئی جس میں مسلمانوں کو فتح ہوئی لیکن اہل مروالروذ شہر میں گھس گئے اور شہر پناہ کے دروازے بند کر لئے اور حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے شہر کا محاصرہ کر لیا ۔مرزبان( حاکم) مروالروذ یمن کے باذان کا عزیز تھا اُس نے اپنے عزیز باذان کے توسط سے حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ سے صلح کی درخواست کی جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا اور چھ لاکھ درہم سالانہ جزیہ پر صلح کر لی ۔اِس کے بعد جرجان ،طالغان اور فاریاب کے لوگ جمع ہو کر لشکر لیکر حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر آگئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمان مجاہدین کے ساتھ اُن پر زبردست حملہ کیا اور ایک سخت خونریز جنگ کے بعد وہ لوگ پسپا ہوکر بھاگے تو حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ کو اُن لوگوں کے تعاقب میں روانہ کیا ۔وہ لوگ بھاگ کر اپنے اپنے شہروں میں جا چھپے ۔حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ نے جرجان کا محاصرہ کیا اور ایک شدید جنگ کے بعد فتح کر لیا ۔یہ دیکھ کر طالغان اور فاریاب والوں نے حضرت اخنف بن قیس رضی اﷲ عنہ سے صلح کی درخواست کی جو آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لی ۔بعض کے مطابق فاریاب کو امیر بن احمر یشکری نے فتح کیا ہے ۔
بلخ کی فتح
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد بلخ کے لوگوں نے جزیہ دینے سے انکار کر دیا تھا اور بغاوت پر آمادہ ہو گئے تھے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے بلخ پر چڑھائی کی یہ طخارستان کا ایک مشہور شہر ہے ۔بلخ والوں نے جب مروالروذ، جرجان ، طالغان اور فاریاب والوں کا انجام دیکھا تو چار لاکھ درہم اور ایک دوسری روایت کے مطابق سات لاکھ درہم سالانہ جزیہ پر صلح کر لی ۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے اُسید بن منشمر کو بلخ کا گورنر مقرر کیا اور خود لشکر لیکر خوارزم کی طرف بڑھے۔ لیکن خوارزم والوں نے دریائے جیجون کا پل توڑ دیا اور اپنی کشتیاں ہٹا لیں۔ اِس وجہ سے حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ بلخ واپس آگئے اور مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوشخبری عبد اﷲ بن عامر کو بھیجی جسے اُس نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کر دیا ۔
کرمان کی فتح
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں کرمان والوں نے بھی بغاوت کر دی تھی اور خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے اُن کی سرکوبی کے لئے حضرت مجاشع بن مسعود کو لشکر دیکر بھیجا تھا : علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت مجاشع بن مسعود اہل کرمان کی بغاوت کو فرو کرنے پر مامور ہوئے تھے ۔انہوں نے اثنائے راہ میں ”ہمید “ کو جنگ کر کے فتح کیا اور ایک قصر ( قلعہ ) بنوایا جو اُن کی طرف منسوب کیا جاتا ہے پھر سیر جان پر پہنچے اور اس کو بھی نہایت شدید جنگ کے بعد فتح کیا اور وہاں کے اکثر رہنے والوں کو جلا وطن کر دیا اور جنہوں نے جزیہ دینا منظور کیا اُن کو امان دیکر وہیں رہنے دیا ۔اِِس کے بعد سخت جنگ کے بعد ”جیرفت “ پر قبضہ کیا اور کرمان کے اطراف و جوانب پر قبضہ کرتے ہوئے”قفض “ پہنچے ۔یہاں فارسیوں ( ایرانیوں) کا بہت بڑا لشکر جمع تھا اِن میں اکثر وہ لوگ تھے جو اطراف و جوانب سے جلا وطن کر دیئے گئے تھے ۔دونوں لشکروں نے صف آرائی کی اور بہت گھمسان کی جنگ ہوئی مسلمان مسلسل آگے بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے لیکن فارسی ( ایرانی) بھی زبردست مقابلہ کر رہے تھے لیکن شام ہوتے ہوتے فارسیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور ہمت جواب دے گئی اور وہ پسپا ہو کر بھاگنے لگے ۔اکثر ایرانی ( فارسی) کشتیوں پر سوار ہو کر سجستان چلے گئے اور مسلمانوں نے اُن کے مکانات اور زمینوں پر قبضہ کر لیا ۔
سجستان کی فتح
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حکم پر عبد اﷲ بن عامر نے ربیع بن زیاد حارثی کو لشکر دیکر سجستان کی طرف روانہ کیا تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ربع بن زیاد حارثی کو عبد اﷲ بن عامر نے سجستان کی جنگ پر مامور کیا تھا جیسا کہ آپ اوپر پڑھ آئے ہیں ۔پس انہوں نے تیزی سے قطع منازل کر کے ”قلعہ زالق “پر پہنچ کر حملہ کیا اور اُس کے دہقان کو گرفتار کر لیا ۔اُس نے جزیہ دیکر اپنے آپ کو چھڑایا اور اہل فارس کی طرح صلح کر لی ۔پھر ربیع بن زیاد ”دکرکوبہ “ کو فتح کرتے ہوئے ”زرنج “ کی طرف بڑھے وہاں ایرانیوں (فارسیوں) نے مقابلہ کیا ربیع بن زیاد نے پہلے ہی حملے میں اُن کو شکست دیکر ”نازردذہشرواذ “ کو فتح کر لیا اور ”زرنج “ کا محاصرہ کر لیا ۔اہل زرنج نے بہت زبردست مقابلہ کیا اور مسلسل جنگ ہوتی رہی آخر کار مسلمانوں نے اُن کو بھی شکست دیکر پیچھے ہٹایا اورزرنج کے مرزبان ( حاکم) نے صلح کی درخواست کی اور صلح کی گفتگو کرنے کے لئے اپنی امان حاصل کر کے مسلمانوں کے پاس حاضر ہوا ۔ربیع بن زیاد نے مقتولین میں سے ایک کی لاش پر بیٹھ کردوسری لاش کا تکیہ لگایا اور اِسی طرح باقی مجاہدین نے بھی کیا ۔زرنج کا مر زبان ( حاکم ) یہ رنگ دیکھ کر رعب میں آگیا اور بغیر کسی شرط کے صلح کر لی ۔اِس کے بعد ربیع بن زیاد مسلمانوں کا لشکر لیکر ”وادئی سنار “کی طرف روانہ ہوئے اور راستے میں وہ قریہ ملا جہاں رستم اپنا گھوڑا باندھتا تھا ۔اہل قریہ نے مسلمانوں سے جنگ کی لیکن زیادہ دیر ٹک نہیں سکے اور اﷲ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ۔اِس کے بعد ربیع ”زرنج “لوٹ آئے اور ایک سال تک وہیں قیام کیا پھر ایک شخص کو نائب مقرر کر کے عبد اﷲ بن عامر کے پاس واپس آگئے ۔
زرنج والوں کی بغاوت اور تسخیر
ربیع بن زیاد حارثی ”زرنج “ میں اپنا ایک نائب مقرر کر کے عبد اﷲ بن عامر کے پاس واپس آگئے تھے ۔لیکن کچھ ہی مہینوں بعد اہل زرنج نے بغاوت کر دی اور جزیہ دینے سے انکار کر دیا اور مسلح جنگ کی تیاری کرنے لگے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد عبد اﷲ بن عامر نے سجستان پر عبد الرحمن بن سمرہ کو لشکر دیکر روانہ کیا اور انہوں نے اہل زرنج کا محاصرہ کر لیا ۔طویل محاصرے سے مجبور ہو کر اہل زرنج نے دولاکھ درہم اور دولاکھ لونڈیاں دیکر صلح کر لی ۔اِس کے بعد عبد الرحمن بن سمرہ زرنج اور ”کش “ ( اِسے ہندوستان کا دروازہ یا سرحد کہا جاتا تھا ) کے درمیانی شہروں اردکش سے دادین اطراف رخج تک کہیں جنگ کے ذریعے اور کہیں صلح کے ذریعے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔”جبل زور “ والوں نے بہت زبردست مقابلہ کیا لیکن پھر طویل محاصرے سے تنگ آکر صلح کی درخواست کی جسے عبد الرحمن بن سمرہ نے قبول کر لی ۔عبد الرحمن ”جبل زور “ کے بت خانے ( مندر ) میں داخل ہوئے اور اُن کا جو بت تھا اُس کا جسم سونے کا تھا اور آنکھیں یاقوت کی تھیں ۔عبد الرحمن بن سمرہ نے اُس بت کی آنکھیں نکال لیں اور اُس کے ہاتھ کاٹ دیئے اور جبل زور کے حاکم سے فرمایا : ” مجھ کو اِس سونے اور چاندی اور یاقوت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،یہ تُو رکھ لے ۔میں نے اِس بت کے ساتھ ایسا اِس لئے کیا کہ تجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ یہ بت نہ تو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے
کابل اور زابلستان کی فتح
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ اِس کے بعد آگے بڑھے اور کابل کا محاصرہ کر لیا ۔آپ نے لشکر کے ”مقدمة الجیش “ ( لشکر کا اگلا حصہ ) کا کمانڈر حضرت عباد بن حصین کو بنایا تھا ۔ مدتوں محاصرہ کئے ہوئے منجنیقوں سے سنگ باری ( بڑے بڑے پتھر شہر پناہ کی دیوار پر مارنا) کرتے رہے لیکن کابل کسی طرح فتح نہیں ہو رہا تھا ۔یہاں تک کہ کثرت ِ سنگ باری کی وجہ سے ایک بہت بڑا راستہ پیدا ہو گیا اور اُسی جگہ حضرت عباد بن حصین رات بھر لڑتے رہے اور اہل کابل اُس راستے کو بند نہیں کر سکے ۔ صبح کے وقت شہر والے ہاتھیوں کا جھنڈ لیکر مقابلہ کرنے کے لئے نکلے ۔حضرت عبد اﷲ بن حازم سلمی نے مردانہ وار آگے بڑھ کر ہاتھی پر حملہ کیا ،ہاتھی نے اُن کو اپنی سونڈ میں لپیٹ کر اُٹھا لیا۔حضرت عبد اﷲ بن حازم نے سونڈ پر ایسی تلوار چلائی کہ سونڈ بدن سے کٹ کر دور جاگری۔ ہاتھی سواروں نے نیزہ چلا دیا لیکن حضرت عبد اﷲ بن حازم نے وار خالی کر دیا اور جھٹکے سے سوار نیچے آرہے ۔حضرت عبد اﷲ بن حازم نے نعرہ¿ تکبیر بلند کر کے حملہ کیا جسے مسلمانوں نے اتنی بلند آواز سے دہرایا کہ کابل کے شہریوں کے دلوں میں رعب چھا گیا اور وہ بد حواس ہو کر اِس طرح بھاگے کہ شہر پناہ کا راستہ بند کر نہیں سکے اور مسلمان مجاہدین کابل میں داخل ہو گئے اور شہر پر قبضہ کر لیا ۔امام ابو محنف کہتے ہیں کہ ہاتھی کو مہلب نے قتل کیا ۔امام حسن بصری ( اُس جنگ میں شامل تھے) فرماتے ہیں : میرے خیال سے ایک آدمی ،ایک ہزار آدمیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے لیکن میں نے دیکھا کہ حضرت عباد بن حصین ایسے ہی ہیں ۔“ کابل کی فتح کے بعد حضرت عبد الرحمن بن سمرہ ” خشک “ کی طرف بڑھے اور اہل خشک نے ڈر کر صلح کر لی ،پھر حضرت عبد الرحمن بن سمرہ لشکر لیکر ”رخج “ کی طرف بڑھے اور وہاں ایک بہت زبردست جنگ کے بعد فتح حاصل کی اور پھر ”زابلستان“ کی طرف بڑھے اور وہاں بھی گھمسان کی جنگ کے بعد فتح حاصل کی ۔اِس دوران اہل کابل نے بد عہدی کی تو حضرت عبد الرحمن بن سمرہ نے کابل واپس آکر انہیں پھر زیر کیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : زرنج اور جبل زور کی مہم سے فارغ ہونے کے بعد حضرت عبد الرحمن بن سمرہ نے بلاد غزنی پر چڑھائی کی اور کابل کو فتح کرنے کے بعد زابلستان کو صلح کے ذریعے فتح کیا ۔پھر زرنج واپس آئے اور وہیں ٹھہرے یہاں تک کہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خلافت میں تزلزل پیدا ہوا تو انہیں دنوں حضرت عبد الرحمن بن سمرہ اپنی جگہ زرنج میں حضرت عُمیر بن احمر کو نائب بنا کر مدینۂ منورہ چلے گئے اور اُن کے واپس جاتے ہی اہل زرنج نے عہد شکنی کی اور عمیر بن احمر کو شہر سے نکال دیا ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں