جمعرات، 3 اگست، 2023

10 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


10 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 10

قادسیہ پہنچنے کا حکم، تفصیل سے حالات لکھنے کا حکم، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا جواب، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایات، فارسی جاسوس، اسلامی لشکر کا قدیس میں قیام، فارسیوں کے سپہ سالاررستم کا لشکر، کسریٰ کے پاس اسلامی سفیر، اسلامی وفد کسریٰ کے دربار میں، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی کسریٰ سے گفتگو، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی تقریر، کسریٰ کا گھمنڈ، رسول اللہ ﷺ  کے اوصاف اور اسلام کی دعوت، کسریٰ کے تکبر کا جواب، 

قادسیہ پہنچنے کا حکم

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک ساتھ دو فرمان مدینہ منورہ سے جاری کئے۔پہلا فرمان ملک شام میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو لکھ کر بھیجا۔اِس میں حکم دیا تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جو لشکر ملک عراق سے آیا تھا،اُسے فوراً ملک عراق کی طرف بھیجو،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنی ماتحتی میں رکھو۔اِس کا تفصیلی ذکر ہم پچھلے صفحات میں کر چکے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حکم کے مطابق وہ لشکر پورا کرکے ملک عراق کی طرف روانہ کر دیا تھا۔دوسرا فرمان اُسی وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو شراف یا سیراف کے قیام کے دوران بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔شراف میں قیام کے زمانے میں حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے پاس خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا فرمان پہنچا ،جس میں وہی ہدایت دی گئی تھی،جس کا حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اُن کو مشورہ دیا تھا۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ایک ساتھ دو خط لکھے تھے۔ایک حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو لکھا تھا۔اُس میں حکم دیا تھا کہ اہل عراق کو جو تعداد میں چھ ہزار تھے، اُن کوواپس بھیج دو ۔اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے خط میں لکھا تھا کہ تم شراف یا سیراف سے روانہ ہو جاو¿۔اور مسلمانوں کو لیکر فارس کی طرف بڑھو،اﷲ پر بھروسہ رکھو،اور تمام کاموں میں اُسی سے مدد چاہو۔تم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ تم ایسی قوم سے رو برو ہو رہے ہو،جو تعداد میں کثیر ہے۔جس کے پاس ساز و سامان وافر ہے،دنیا پر اُس کا رعب چھایا ہوا ہے ۔اور تم ایسی مملکت پر حملہ کر رہے ہو ،جو نہایت مستحکم ہے ۔ظاہر میں یہ ملک وسیع میدانوں ،ترائیوں اور نہروں کی وجہ سے سہل گزار معلوم ہوتا ہے۔بعض مقامات پر تمہیں ترائیوں کے جنگل بھی ملیں گے ۔جب تم دشمن قوم یا اُس کے فرد سے ملو تو سختی اور قتل سے پیش آنا۔ایسا نہ ہو کہ تم ان کی فوجوں کا تماشہ دیکھنے میں لگ جاو¿۔وہ لوگ بے حد فریبی اور مکار ہیں،تم اُن کے فریب میں مبتلا نہیں ہونا،اور اُن کی چال بازیوں کا ضرور توڑ کرنا۔قادسیہ زمانہ¿ جاہلیت سے فارس کا دروازہ ہے۔اُن لوگوں کی تمام مادی ضروریات اِسی دروازے سے پوری ہوتی ہے۔قادسیہ نہایت دلچسپ ،شاداب اور مستحکم مقام ہے،اُس تک پہنچنے کے لئے پُلوں،اور نہروں کو عبور کرنا پڑے گا۔جب تم قادسیہ پہنچ جاو¿ تو اپنی فوجی چوکیاں اِس کی گھاٹیوں میں قائم کرنا۔تمہارے لشکر کا قیام پہاڑوں،اور نرم زمینوں کے درمیان پانی کے چشموں پر ہونا چاہیئے،ٹھہرنے کے بعد اپنی جگہ سے نہیں ہٹنا۔جیسے ہی دشمنوں کو تمہاری آمد کا علم ہو گا،اُن میں ہلچل مچ جائے گی۔اور وہ اپنی پوری قوت سے تم پر حملہ آور ہوں گے۔اگر تم استقلال اور پامردی سے جمے رہے تو مجھے اُمید ہے کہ تم اُن پر فتح یاب ہو گے۔اور پھر کبھی وہ لوگ تمہارے مقابلے میں اتنے اعتماد سے جمع نہیں ہو سکیں گے۔اور اگر جمع بھی ہوئے تو اُن کے دل ٹھکانے پر نہیں ہوں گے۔اﷲ نہ چاہے!اگر تمہیں ناکامی ہوئی تو پہاڑ تمہارے عقب میں ہو گا،اور تم دشمن کی سرزمین سے ہٹ کر اور پہاڑ کی طرف پلٹ کر اپنے ملک عرب میں پناہ لے سکو گے۔وہاں پہنچ کر تم ہمت اور جسارت اور واقفیت کے ساتھ اپنے دشمن سے لڑو گے،اور وہ ناواقفیت کے ساتھ لڑے گا۔اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ فتح و کامرانی کو بھیجے گا،اور تمہارے دشمن کو مغلوب کرے گا۔

تفصیل سے حالات لکھنے کا حکم

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس خط کے فوراً ایک اور خط لکھا ،اور اُس میں تمام حالات تفصیل سے لکھ کر بھیجنے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔نیز جس روز حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ شراف سے روانہ ہو رہے تھے،اُس روز حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے اُن کو اِس مضمون کا خط بھیجا۔جب فلاں دن آجائے تو تم اپنی فوجوں کو لیکر روانہ ہو جانا،اور ”عذیب الہجانات “اور عذیب القوادس“کے درمیان پہنچ جانا۔اور وہاں سے مشرق اور مغرب کی طرف حملے کرنا۔تم اپنے دل کو مضبوط رکھو،اپنے لشکر کو پند و نصیحت کرتے رہو،اور حسن نیت اور خلوص کی تلقین کرتے رہو۔جو شخص اِس سے غافل ہو جائے،اُس کو متنبہ کرو،صبر اور استقلال سے کام لو۔اﷲ کی طرف سے مدد نیت کے مطابق آتی ہے،اور ثواب خلوص کے مطابق عطا ہوتا ہے۔مجھے اِس کی اطلاع دیتے رہو کہ دشمن کے لشکرکتنے قریب آ گئے ہیں،اور اُن کا سپہ سالار کون ہے۔کیونکہ موقع محل اور دشمن کے حالات سے لاعلمی کے باعث بہت سی باتیں جو لکھنا چاہتا ہوں ،نہیں لکھ سکتا ۔اِس لئے تم اسلامی لشکر کے مورچوں اور اپنے اور مدائن کے درمیان کے شہروں کے حالات ،اور اُن کی تفصیل اور وضاحت سے لکھو،کہ گویا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔تم اﷲ سے ڈرتے رہو،اُسی سے اُمیدیں وابستہ رکھو۔کسی چیز ہر نازاں نہیں ہونا،یاد رکھو اﷲ نے وعدہ کیا ہے ،اُس پر بھروسہ رکھو۔وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے،ایسا نہ ہو کہ تم اُس کو ناراض کر لو۔اور وہ تمہارے بجائے کسی اور قوم سے اپنا کام نکال لے گا۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا جواب

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے انتہائی تفصیل سے حالات لکھ بھیجے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے جواب میں لکھا کہ” قادسیہ “خندق اور نہر عتیق کے درمیان ایک شہر ہے۔اس کے بائیں جانب ”بحر اخضر “ہے۔جس کا پھیلاو¿”حیرہ“تک دو راستوں کے درمیان سے نمودار ہوتا ہے۔اِن میں سے ایک راستہ بلندی کی طرف جاتا ہے،اور دوسرا ایک نہر کے کنارے کنارے جاتا ہے۔جس کو ”الخصوص“کہتے ہیں۔اِس راستے سے گذرنے والا آدمی ”خورنق “اور ”حیرہ“کے درمیان پہنچتا ہے۔اور ”قادسیہ “کے دائیں جانب وہاں کے دریاو¿ں کی ترائی ہے۔سواد کے جن باشندوں نے مجھ سے پہلے کے مسلمان لشکروں سے مصالحت کی تھی،اگرچہ بظاہر وہ لوگ سلطنت فارس کے طرفدار بن گئے ہیں،مگر ہماری امداد کے لئے تیار ہیں۔فارسیوں(ایرانیوں) نے ہمارے مقابلے پر رستم کو جو اُن میں امتیازی مقام رکھتا ہے بھیجا ہے۔دشمن ہم پر حملہ آور ہو کر ہم کو زیر کرنا چاہتا ہے،اور ہم دشمن پر حملہ آور ہو کر اُس کو زیر کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔نتیجہ اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ہماری دعا ہے کہ تقدیر کا فیصلہ ہمارے موافق ہو،اور ہماری عافیت کا باعث ہو۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جواب میں لکھا۔تمہارا خط موصول ہوا،جب تک دشمنوں کی طرف سے کوئی حرکت نہ ہو ،تم اپنی جگہ جمے رہنا۔یاد رکھو!اِس موقع کی کامیابیوں پر آئندہ کی کامیابیاں موقوف ہیں۔اگر اﷲ نے تمہارے ہاتھوں دشمن کو مغلوب کر دیا تو تم اُن کودباتے دباتے مدائن میں گھس جانا،انشاءاﷲ مدائن بھی فتح ہوگا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خاص طور سے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے لئے دعا ءکیا کرتے تھے،اور اُن کے ساتھ اور لوگ بھی ،اُن کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دعاءکیاکرتے تھے۔ خلیفہ¿ دوم نے آگے لکھا کہ مجھے القاءہوا ہے کہ جب تم دشمن سے لڑو گے ،تو اُسے شکست دو گے۔لہٰذا اپنے دل سے شک و شبہ دور کر دو،اﷲ پر بھروسہ رکھو۔اگر تم میں سے کوئی شخص بطور کھیل کے بھی کسی عجمی کو امان دے یا ایسا اشارہ کرے ،یا ایسے الفاظ کہے ،جن کو عجمی نہ سمجھتے ہوں،مگر وہ اِس کو امان جانیں ،تو تم اِس امان کو بر قرار رکھنا۔ہنسی مذاق سے احتراز کرنا،وعدوں کا ایفا کرنا۔کیونکہ ایفا اگر غلطی سے بھی ہو جائے تو اِس کا نتیجہ اچھا ہے۔مگر غداری سے غلطی ہو گی تو اِس کا انجام ہلاکت ہے۔اِس سے تمہاری کمزوری اور دشمن کی طاقت ظاہر ہو گی۔اور تمہاری ہوا بننے کے بجائے دشمن کی ہوا بن جائے گی۔یاد رکھو!میں تم کو اِس بات سے ڈراتا ہوں کہ تم مسلمانوں کی توہین اور ذلت کا باعث بنو۔

فارسی جاسوس

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ”مقدمة الجیش“کے طور پر حضرت زہرہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر آگے روانہ کیا تھا،اِس لشکر میں حضرت کرب بن ابی کرب بھی تھے۔وہ کہتے ہیں،جب ہم عذیب الہجانات پر اپنے لشکر کے ساتھ پہنچے تو صبح سویرے کا وقت تھا۔یہ مقام فارسیوں کی فوجی چوکی تھا،ہم نے اس کے برجوں پر کچھ آدمیوں کو دیکھا۔ہم جس بُرج یا کنگورے ہر نظر ڈالتے تھے ،ہمیں ایک آدمی نظر آتا تھا۔ہمارا دستہ سب سے آگے تھا،اِس لئے ہم اپنے ساتھیوں کے انتظار میں ٹھہر گئے۔یہاں تک کہ ہمارا لشکر ہم سے آملا۔ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ عذیب الہجانات میں کوئی دستہ یا رسالہ موجود ہے۔ہم آگے بڑھے ،اور جب عذیب کے قریب پہنچے تو وہاں سے ایک آدمی گھوڑا دوڑاتا ہوا قادسیہ کی طرف روانہ ہوا۔ہم جب عذیب میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں تو کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ہم سمجھ گئے کہ یہ وہی آدمی ہے ،جو ہم کو بُرجوں اور کنگوروں سے نظر آرہا تھا۔اور اب فارسیوں کوہماری آمد کی خبر دینے جا رہا ہے۔ہم نے اُس کا تعاقب کیا،مگر اُس نے ہم کو جُل دے دیا،اور ہم اُسے پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اتنے میں حضرت زہرہ رضی اﷲعنہ ہمارے پاس پہنچے ،تو ہم نے اُنہیں بتایا،انہوں نے فرمایا کہ اگر یہ شخص فارسیوں تک پہنچ گیا تو اُن کو ہماری آمد کی خبر دیدے گا۔یہ فرما کر انہوں نے گھوڑا دوڑایا،اور اتنی تیزی سے آگے بڑھے کہ اُسے خندق پر جا لیا،اور نیزہ پھینک کا مارا ،جس سے وہ شخص گھوڑے سے گر پڑا،اور مارا گیا۔

اسلامی لشکر کا قدیس میں قیام

جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ عذیب میں پہنچے تو مقدمة الجیش کو آگے روانہ کر دیا ،تاکہ وہ قادسیہ میں نہر عتیق اور خندق کے سامنے پڑاو¿ ڈالیں۔قدیس اُس زمانے میں قادسیہ سے ایک میل نیچے تھا۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ بھی اپنے لشکر کے ساتھ قدیس پہنچ گئے،اور پڑاو¿ ڈال دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ قادسیہ میں اپنے لشکر کے ساتھ پہنچے،اور”قدیس “میں پڑاو¿ ڈال دیا۔جبکہ حضرت زہرہ رضی اﷲ عنہ مقدمةالجیش کے ساتھ ”قنطرہ العتیق“کے سامنے اُس مقام پر فروکش ہوئے ،جہاں آج قادسیہ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ایک مہینے تک ”قدیس“میں ٹھہرے رہے،پھر خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اب تک دشمنوں نے ہماری طرف رُخ نہیں کیا ہے۔اور جہاں تک ہم کو معلوم ہے،جنگ کی مہمات کے لئے بھی کسی کو تیار نہیں کیا ہے۔جب ہم کو اِسکی اطلاع ملے گی تو ہم فوراً آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں لکھ بھیجیں گے۔آپ رضی اﷲ عنہ، اﷲ تعالیٰ سے ہماری مدد و نصرت کی دعا فرمائیں۔کیونکہ ہم اِس وقت ایک بہت وسیع دنیا کے کنارے کھڑے ہیں،اور اِس سے پہلے نہایت مشکلات ہمارے سامنے کھڑی ہیں۔ جن کا اﷲ تعالیٰ نے اِن الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ترجمہ۔”عنقریب تم کو ایک نہایت سخت اور شدید قوم کی طرف بلایا جائے گا۔“

فارسیوں کے سپہ سالاررستم کا لشکر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ قدیس میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے،اور آس پاس کے علاقوں میں اپنے دستے اور رسالے بھیج رہے تھے۔جو لشکر کی ضروریات کی چیزیں لیکر آتے تھے ۔اِس کے علاوہ آس پاس کے شہروں میں جاسوس بھی روانہ کئے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حیرہ اور صلوبا کی طرف اپنے جاسوس بھیجے،تاکہ فارسیوں کی خبریں معلوم ہوں۔وہ لوگ یہ خبر لائے کہ کسریٰ نے رستم بن فرخ ذاد کو سپہ سالار مقرر کیا ہے۔اور ایک بہت بڑا لشکر وہ تیار کر کے نکل چکا ہے۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے یہ خبر فوراًخلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ کو بھیجی تو انہوں نے حکم لکھ بھیجا کہ فارسیوں(ایرانیوں) کی طرف سے جو کچھ تم سنو ،یا جو کچھ تم کو پیش آئے ،تم اُس کو بڑا مت سمجھنا۔اﷲ سے مدد چاہو،اُسی پر بھروسہ رکھو۔رستم کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لئے تم ایسے لوگوں کو بھیجو،جو وجیہہ ،عقل مند اور بہادر ہوں۔اﷲ اِس دعوت کو اُن کی توہین اور ہماری کامیابی کا ذریعہ بنائےگا۔تم روزآنہ مجھے خط لکھتے رہو۔جب رستم نے اپنے لشکر کے ساتھ ”ساباط“میں پڑاو¿ ڈالا تو خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ کو اِسکی اطلاع کر دی گئی۔

کسریٰ کے پاس اسلامی سفیر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کے پاس اپنے سفیر بھیجے،اور اُسے اسلام کی دعوت دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا حکم سنتے ہی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کے دربار میں بھیجنے کے لئے ایسے لوگ منتخب کئے ،جو بڑے حسب نسب والے،عقلمند،بہادر اور وجیہہ تھے۔اُن کے نام حضرت نعمان بن مقرن،حضرت بسر بن ابی رہم،حضرت جملہ بن جویة کنانی،حضرت حنظلہ بن ربیع،حضرت فرات بن حیان،حضرت عدی بن سہیل،حضرت مغیرہ بن زرارہ،حضرت مغیرہ بن شعبہ،حضرت عطارد بن حاجب،حضرت اشعث بن قیس،حضرت حارث بن حسان،حضرت عاصم بن عمرو،حضرت عمرو بن معدی کرب،اور حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہم ہیں۔اِن سب کو فارس (ایران)کے بادشاہ کسریٰ یزد جرد(گرد) کے پاس اسلامی سفیر بنا کر بھیجا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا وفد رستم کو چھوڑ کرسیدھا یزد جرد کے ایوان پہنچا ،تاکہ اُسے اسلام کی دعوت دی جائے،اور اُس پر حجت قائم کردی جائے۔مسلمانوں کے گھوڑوں کی پیٹھیںننگی تھیں۔(اُن پر زین نہیں کسی تھی)اور تیزی اور چستی کا یہ عالم تھا کہ سب گھوڑے ہنہناتے اور ٹاپیں مارتے تھے۔مسلمانوں نے یزد جرد کے پاس پہنچنے کی اجازت چاہی،مگر اُن کو روک دیا گیا۔یزد جرد نے اپنے وزراءاور اعیان مملکت کو طلب کیا،تاکہ اُن سے طریقہ کار اور مسلمانوں سے گفتگو کرنے کے متعلق مشورہ کرے۔

اسلامی وفد کسریٰ کے دربار میں

جب فارسی عوام کو مسلمانوں کی آمد کی اطلاع ہوئی ،تو لوگ اُن کو دیکھنے کے لئے جوق در جوق آنے لگے۔مسلمانوں کی ظاہری حالت یہ تھی کہ اُن کے جبے پھٹے ہوئے تھے،کاندھوں پر پیوند لگی چادریں پڑی ہوئی تھیں،ہاتھوں میں باریک باریک کوڑے تھے،اور پاو¿ں میں موزے چڑھائے ہوئے تھے۔کسریٰ نے درباریوں سے مشورہ کرنے کے بعد مسلمانوںکو دربار میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔قادسیہ کی جنگ میں قید ہوئے ایک قیدی جو بعد میں اسلام قبول کر کے پکے مسلمان ہو گئے تھے۔وہ مسلمانوں کے وفد کی آمد کے وقت وہاں موجود تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ فارسی لوگوں کو جب مسلمانوں کی آمد کی خبر ہوئی تو بکثرت آآ کر اُن کو دیکھنے لگے۔میں ایسے رعب داب کے دس آدمی کبھی نہیں دیکھے تھے،کہ اُن کی ہیبت ہزاروں پر چھا جائے۔اُن کے گھوڑے ٹاپیں مار رہے تھے،اور ایکدوسرے کو دھمکا رہے تھے۔اور اہل فارس اُن کی ہیئت کذائی اور اُن کے گھوڑوں کی حالت دیکھ کر اُن سے نفرت کر رہے تھے۔

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی کسریٰ سے گفتگو

جب مسلمانوں کا وفدکسریٰ یزد جرد کے دربار میں داخل ہوا تو اُس نے اُن کو بیٹھنے کا حکم دیا۔وہ بہت بد تہذیب تھا۔ترجمان کے ذریعے سے پہلی بات چیت جو اُس کے اور مسلمانوں کے درمیان ہوئی ،وہ یہ تھی۔اُس نے ترجمان سے(مسلمانوں کی پیوند لگی چادروں کی طرف اشارہ کر کے ) کہا ؛”اِن سے پوچھو!تم اِن چادروں کو کیا کہتے ہو؟“ترجمان نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے پوچھا؛”تم اپنی چادر کو کیا کہتے ہو؟“امیر وفد حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم اِس کو ”برد“کہتے ہیں۔“اِس سے یزد جرد نے فال لی،اور فارسی محاورے کے مطابق کہا”جہاں برد۔“فارسیوں (ایرانیوں) کے چہروں کی رنگت بدل گئی ،اور اُن کو کسریٰ کی یہ حرکت ناگوار گزری۔پھر اُس نے مسلمانوں کے جوتوں کے متعلق پوچھا کہ تم ان کو کیا کہتے ہو؟انہوں نے کہا؛”ہم اِن کو ”نعل“کہتے ہیں۔کسریٰ نے کہا ؛”ہمارے ملک میں نالہ نالہ۔“پھر پوچھا کہ تمہارے ہاتھوں میں کیا ہے؟حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس کو ”سوط“کہتے ہیں۔“اُس نے سمجھا ۔سوخت۔اور کہا سوخت فارسی میں جلنے کو کہتے ہیں۔اِن لوگوں نے فارس کو جلا دیا،خد اُن کو جلائے۔کسریٰ کا اشارہ اہل فارس کی طرف تھا۔اہل فارس اُس کی باتوں پر بہت خفا ہو رہے تھے۔

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی تقریر

اِس کے بعد کسریٰ یزد جرد نے پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟اور ہم سے جنگ کرنے اور ہمارے ملک میں گھسنے کا کیا باعث ہے؟کیا اِس لئے کہ ہم نے تم کو شتر بے مہار(بغیر رسی کے اونٹ )کی طرح چھوڑ رکھا ہے؟اور تمہاری طرف توجہ نہیں کی ہے۔تم کو ہمارے مقابلے پر آنے کی جرا¿ت کیسے ہوئی ہے؟حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اپنے وفد کے ارکان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ اگر آپ لوگوں کی رائے ہو تو اِس کا جواب میں دوں ۔اور اگر کوئی اور صاحب بولنا چاہتے ہیں تو میں اُن کو اجازت دیتا ہوں ۔سب نے کہا؛”آپ رضی اﷲ عنہ ہی بولیں۔“اور کسریٰ سے کہا کہ اِن کا کہنا ہمارا کہنا ہے۔حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اپنی تقریر شروع کی۔”اﷲ تعالیٰ نے ہم پر اپنا فضل کیا ہے،اور ہمارے درمیان ایک رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھیجا۔انہوں نے ہم کو نیکی کا راستہ دکھایا،اور اُس پر چلنے کا حکم دیا۔انہوں نے ہم کو بُرائی سے آگاہ کیا،اور اُس سے باز رہنے کا حکم دیا۔انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ اگر تم میرا کہنا مانو گے تو تم کو اچھی دنیا اور اچھی آخرت نصیب ہو گی۔عرب قبائل میں سے جس کسی کو ہمارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعوت دی ،اُن میں دو جماعتیں ہو گئیں۔ایک جماعت نے اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ دیا،دوسری اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کی مخالف ہو گئی ۔اُن کے دین میں گنتی کے چند لوگ ہی داخل ہوئے۔کچھ عرصہ یہی حالت رہی،پھر اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم مخالفت کرنے والوں سے لڑو۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے جنگ کی،نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگ اُن کے دین میں داخل ہو گئے۔بعض تو بادلِ نخواستہ،اور بعض دِل کی خوشی سے۔اِس کے بعد ہم کو معلوم ہوا کہ اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ہماری عداوت اور تنگ خیالی کی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔ہمارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ اپنے قریب کی قوموں کو اِس دین اسلام کی دعوت دیں۔اِسی لئے ہم سب کو عدل و انصاف کی طرف مدعو کرتے ہیں،اور تم کو بھی اپنے دین کی طرف بلاتے ہیں۔ہمارا دین ایسا دین ہے ،جس نے نیکی اور بدی کا امتیاز کامل کر دیا ہے۔اگر تم انکار کرو گے ،تو اِس کا نتیجہ تمہارے حق میں بُرا ہو گا۔مگر ایک صورت یہ بھی ہے کہ تم جزیہ دینا منظور کر لو،ورنہ تلوار سے مقابلہ ہے۔اگر تم نے ہمارا مذہب قبول کر لیا،تو ہم تم کو اﷲ کی کتاب دے جائیں گے،اور تم کو اِس شرط پر برقرار رکھیں گے کہ تم اِس کے احکام کے مطابق حکومت کرو۔اِس صورت میں ہم تم سے اور تمہاری حکومت سے کوئی تعرض نہیں کریں گے۔اور اگر تم نے جزیہ دے کر اپنی جان بچائی تو ہم اسے قبول کریں گے،اور تمہاری حفاظت کریں گے۔

کسریٰ کا گھمنڈ

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے انتہائی اثر انگیز انداز میں کسریٰ کو اور تمام عمائدین سلطنت کو اسلام کی دعوت دی۔جب آپ رضی اﷲ عنہ خاموش ہوئے تو کچھ دیر تک پورے دربار میں سناٹا چھایا رہا۔لیکن فارسیوں پر شیطان اتنی بُری طرح سے حاوی تھا کہ وہ اُس اثر سے نکل آئے ،اور گھمنڈ اُن پر غالب آ گیا۔کچھ دیر بعد یزد جرد کسریٰ نے کہا؛”میں بخوبی جانتا ہوںکہ دنیا میں تم سے زیادہ بد بخت ،قلیل التعداداور خستہ حال قوم کوئی نہیں تھی۔ہم تمہارے اوپر زمینداروں کو مقرر کر دیتے تھے،ہمارے بجائے وہی تم سے نبٹ لیتے تھے۔سلطنت فارس نے تم پر کبھی چڑھائی نہیں کی ہے۔تم اِس گمان میں نہیں رہنا کہ تم ہمارے سامنے ٹھہر سکو گے،اگر تمہاری تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے تو تمہیں اِس بات اکڑنا نہیں چاہیئے۔اگر قحط سالی اور افلاس نے تمہیں یہاں آنے پر مجبور کیا ہے،تو ہم تمہاری غذا کا اُس وقت تک کے لئے انتظام کر دیتے ہیں،جب تک کہ تمہارے یہاں غذا پید ا نہ ہونے لگ جائے۔ہم تمہارے سرداروں کی عزت کریں گے،تم کو کپڑے پہنائیں گے۔اور تم پر ایسے شخص کو بادشا ہ مقرر کر دیں گے،جو تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔

رسول اللہ ﷺ  کے اوصاف اور اسلام کی دعوت

مسلمانوں کے وفد کے سامنے جب کسریٰ نے گھمنڈ بھری باتیں کی تو حضرت مغیرہ بن ضرارہ رضی اﷲ عنہ سے ضبط نہیں ہوسکا،اور انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا؛”اے کسریٰ!اے بادشاہ!یہ لوگ سرداران ِ عرب اور وہاں کے معزیزین ،اور اشراف ہیں۔اور اشراف کی عزت اشراف ہی کرتے ہیں۔انہوں نے تم سے سب باتیں نہیں کہیں،اور نہ ہی تمہاری سب باتوں کا جواب دیا ہے۔انہوں نے ٹھیک کیا،اور اِن کے شایان شان ایسا ہی تھا۔مجھ سے گفتگو کرو،تاکہ میں صاف صاف جواب دوں ،اور یہ لوگ اِس کی شہادت دیں۔تم نے ہمارے متعلق جو کچھ بیان کیا ہے،اس سے تم پوری طرح واقف نہیں ہو۔تم نے ہماری خستہ حالی کا ذکر کیاہے،بے شک ہم سے زیادہ خستہ حال کون ہو گا۔تم نے ہماری فاقہ مستی کا ذکر کیا ہے،بے شک اِس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ہم کیڑے مکوڑے سانپ بچھو تک کھا جاتے تھے،اور اُن کو اپنی غذا سمجھتے تھے۔ہمارے مکانات بس زمین کی سطح تھی۔ہم اونٹوں اور بکریوں کے بالوں کو بُن بُن کر جو پہن لیتے تھے،وہی ہمارا لباس تھا۔ہمارا مذہب یہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کی گردن مارتے تھے،اور ایک دوسرے کو لوٹتے تھے۔مگر یہ سب باتیں اب پرانی ہو چکی ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے ہمارے حال پر رحم فرمایا،اور ہمارے درمیان ایک بہترین شخص صلی اﷲ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ہم اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے حسب و نسب سے بخوبی واقف ہیں،اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا حسب ونسب ہم سب سے اچھا ہے۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا گھرانہ ہم سب کے گھرانوں سے بہتر اور بالا تر ہے۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا خاندان اور قبیلہ ہم سب کے خاندانوں اور قبیلوں سے معزز ہے۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم بذات ِ خود بہترین خصائل و اوصاف سے متصف تھے۔سب سے زیادہ سچ بولنے والے،سب سے زیادہ صبر دار،اور بُرد بار تھے۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم کو ایک چیز کی دعوت دی،مگر سوائے اُس یار غار کے ،جو بعد میں اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوئے۔ہم میں سے اور کسی نے اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کی بات نہیں مانی۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم ہم سے اچھی بات فرماتے تھے،تو ہم اُن صلی اﷲ علیہ وسلم سے بری بات کہتے تھے۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم سچ فرماتے تھے،تو ہم جھوٹ کہتے تھے۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم جس کام کو زیادہ کرتے تھے،ہم اُس کام کو کم کرتے تھے۔مگر وہ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمیں کچھ نہیں کہتے تھے،بلکہ ہمارے ساتھ اور زیادہ محبت سے پیش آنے لگتے تھے۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کی تصدیق اور پیروی کا خیال پیدا کر دیا۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمارے اور ”رب العالمین“کے درمیان واسطہ بن گئے ۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم ہم سے جو فرماتے تھے ،وہ اﷲ تعالیٰ کا فرمانا ہوتا تھا۔جس کا حکم دیتے تھے،وہ اﷲ کا حکم ہوتا تھا۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”تمہارا رب فرماتا ہے کہ میں اﷲ ہی تنہا معبود ہوں،میرا کوئی شریک نہیں ہے ۔میں اُس وقت بھی تھا،جب کوئی چیز نہیں تھی۔ہر چیز فنا ہو جائے گی ،سوائے میری ذات کے۔میں نے تمام چیزوں کو پید ا فرمایا ہے،اور ہر چیز میری طرف لوٹ کر آئے گی۔میری رحمت نے تم کو آلیا ہے،میں نے اِس شخص (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کو تمہاری طرف بھیجا ہے،تاکہ تم کو سیدھے راستے پر چلاو¿ں۔تا کہ تم کو مرنے کے بعد عذاب سے نجات ملے،اور اپنے گھر ”دار السلام“(جنت) کو تم پر حلا ل کردوں۔اِسی لئے ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم جو کچھ لیکر آئے،وہ حق ہے،اور حق کے پاس سے آیا ہے۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ(اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے) اِس چیز (اسلام) میں جو تمہاری اتباع کرے گا،اُس کو وہی فائدے حاصل ہو ں گے،جو تم کو حاصل ہیں۔اور اُس پر وہی فرائض لاگو ہوں گے،جو تم پر لاگو ہیں۔جو شخص اِس(اسلام) کو قبول کرنے سے انکار کر ے ،اُس کے سامنے جزیہ پیش کرو۔اگر قبول کر لے تو تم جس طرح اپنی حفاظت کرتے ہو،اُسی طرح اُس کی بھی حفاظت کرو۔اور جو اِس کے بعد بھی انکار کرے،تو اُس کے ساتھ جنگ کرو،میں تمہارے درمیان ”حکم“ہوں۔تم میں سے جو لوگ قتل ہو ں گے،میں اُن کو اپنی جنت میں داخل کروں گا۔اور جو باقی رہیں گے،اُن کی دشمنوں کے مقابلے میں نصرت(مدد) کروں گا۔اے بادشاہ!یا تو ذلت کے ساتھ جزیہ دینا قبول کر لے،ورنہ تیرے لئے ہماری تلوار ہے۔یا پھر اسلا م قبول کر لے،دنیا اور آخرت دونوں جگہ عزت پائے گا۔

کسریٰ کے تکبر کا جواب

حضرت مغیرہ بن زرارہ نے بڑی حکمت سے کسریٰ اور اُس کے درباریوں کو اسلام کی دعوت دی۔لیکن اُن کے اوپر شیطان اِس طرح حاوی تھا کہ انہوں نے اسلام کی دعوت قبول کرنے کے بجائے اُسے ٹھکرا دیا۔کسریٰ کو یہ سب سُن کر بہت ہی غصہ آیا،اور اُس نے کہا؛”تم مجھ سے ایسی باتیں کہتے ہو؟“حضرت مغیرہ بن زرارہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میرے مخاطب تم سب لوگ ہو،اور تمہارے سوا کوئی اور بھی ہوتا تو اُس سے بھی میں ایسی ہی باتیں کرتا۔“کسریٰ نے کہا؛”اگر قاصدوں کا قتل کرنا اصول کے خلاف نہیں ہوتا ،تو میں تم سب کو قتل کرا دیتا۔میرے پاس تمہارے لئے کچھ نہیں ہے۔“اِس کے بعد حکم دیا کہ ایک ٹوکرا مٹی بھر کر لاو¿،اور اِن میں سب سے معزز شخص کے سر پر رکھ دو،اور اُسے ہانکتے ہانکتے مدائن سے باہر نکال دو۔پھر مسلمانوں سے بولا؛”جاو¿ !تم اپنے سردار کے پاس واپس چلے جاو¿،یاد رکھو!میں تمہارے سر کاٹنے کے لئے رستم کو بھیج رہا ہوں۔تاکہ وہ تمہیں اور تمہارے سردار کو قادسیہ کی خندق میں مبتلائے عذاب کر کے موت کے گھاٹ اُتار دے۔پھر میں اُس کو تمہارے ملک میں بھیج کر اِس سے زیادہ مزہ چکھاو¿ں گا،جتنا سابور(سفید ہاتھی جس نے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کو کچل دیا تھا)نے تم کو چکھایا تھا۔“اِس کے بعد اُس نے پوچھا کہ تم سب سے زیادہ عزت دار کون ہے؟مسلمان خاموش رہے ،تو حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور فرمایا ؛”اِن کا سردار میں ہوں ،یہ مٹی میرے سر پر لاد دو۔“کسریٰ نے مسلمانوں سے پوچھا کہ یہ تمہارا سردار ہے؟تو سب نے کہا۔ہاں۔یہ سُن کر حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھ دیا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ اُس ٹوکرے کو اپنے سر پر رکھے کسریٰ کے دربار سے نکلے ،اور اپنے گھوڑے کے پاس آ کر اُس کے اوپر رکھ دی۔اور تیزی سے روانہ ہوئے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ مٹی کا ٹوکرا اُٹھانے کے بعد حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا؛”چلو!فارس کے کسریٰ نے اپنی زمین ہم کو دے دی ہے۔“حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ سب سے آگے نکل گئے تھے،اسلامی لشکر میں آکر ٹوکرا اپنی گود میں اُٹھایا،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس حاضر ہو کر تمام واقعہ کہہ سنایا،اور فرمایا؛”مبارک ہو!اﷲ نے ہم کو اُن کے ملک کی کنجیاں دے دیں۔“وفد کے تمام اراکین بھی آگئے،اور سب ملکر جنگ کی تیاری کرنے لگے،اُدھر دشمنوں کے دلوں میں مسلمانوں کی ہیبت بیٹھ گئی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں