پیر، 7 اگست، 2023

09 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


09 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 9

حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی خلافت، حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بد سلوکی، مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح، صلح نامہ کی شرائط، 41 ہجری :حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کی بیعت، خلافت راشدہ مکمل

حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی خلافت

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے جب مسلمانوں نے پوچھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد ہم کس کو اپنا خلیفہ بنائیں تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تھا کہ میرے مسلمان بھائی جسے چاہیں خلیفہ بنا لیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔علامہ محمدبن جریر طبری لکھتے ہیں : ۰۴ ہجری میں حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے خلافت کی بیعت ہوئی ۔سب سے پہلے حضرت قیس بن سعدبن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ نے یہ کہہ کر بیعت کی کہ” اپنا ہاتھ آگے بڑھایئے ،میں آپ رضی اﷲ عنہ سے اﷲ کی کتاب اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور مفسدوں سے جنگ کرنے پر بیعت کرتا ہوں ۔“ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی کتاب اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر کہ یہی سب شرطوں پر شامل ہے ۔“ حضرت قیس بن سعدبن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ نے بیعت کر لی اور کچھ نہ کہا پھر دوسروں نے بھی بیعت کر لی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کے خیر خواہوں نے متفق ہو کر حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔پھرحضرت قیس بن سعدبن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ کی بیعت اور الفاظ اور حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے جوابی الفاظ جو اوپر آچکے ہیں تحریر کرنے کے بعد آگے لکھتے ہیں :اِس کے بعد لوگ آ کر بیعت کرنے لگے ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ فرماتے جا رہے تھے : ” تم میرے کہنے کو سنتے رہنا اور میری اطاعت کرنا، جس سے میں صلح کروں اُس سے تم بھی صلح کرنا اور جس سے میں جنگ کروں تم بھی اُس سے جنگ کرنا ۔“ اِن فقروں سے لوگوں کو شبہ پیدا ہوگیا ، سرگوشیاں ہونے لگیں اور کہنے لگے : ” یہ تمہارا امیر نہیں ہے اور یہ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔“

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بد سلوکی

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد ملک عراق ،ایران اور حجاز ( مکہ¿ مکرمہ اور مدینہ¿ منورہ ) کے مسلمانوں نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا لیا اور اُدھر ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا ۔شہید ہونے سے پہلے خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ نے چالیس ہزار کا لشکر جنگ کے لئے تیار کیا تھااور اُس کا سپہ سالار حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ کو بنایا تھا ۔ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے بیعت کرنے کے بعد حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ نے ملک شام پر حملہ کرنے پر اصرار کیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے خلافت سنبھالی اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ آذربائیجان کے گورنر تھے اور وہ چالیس ہزار کے لشکر کے سپہ سالار تھے ۔ اِس لشکر نے موت کی شرط پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے اہل ملک شام کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے کوچ کرنے پر اصرار کیا اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ کو آذربائیجان کی گورنری سے معزول کر دیا اور حضرت عبید اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو وہاں کا گورنر مقرر کیا ۔ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کا ارادہ کسی سے جنگ کرنے کا نہیں تھا لیکن اُن کے ساتھیوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ارادے پر غلبہ پالیا اور ایک عظیم لشکر جمع کیا جس کی مثال نہیں سنی گئی ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ کو بارہ ہزار کے لشکر کا سپہ سالار بنایا اور ”مقدمة الجیش“ ( ہر اول دستے ) کے طور پر آگے بھیجا اور خود آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اس کے پیچھے ملک شام کی طرف روانہ ہوئے ۔تاکہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ اور اہل ملک شام کے ساتھ جنگ کریں۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ مدائن سے گزرے تو آپ رضی اﷲعنہ وہاں قیام پذیر ہوئے اور مقدمة الجیش کو آگے بھیجا ۔ابھی مدائن کے باہر ہی قیام پذیر تھے کہ کسی نے آواز لگائی کہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ہیں ۔یہ سننا تھا کہ لشکر میں بھگڈر مچ گئی اور ایکدوسرے کے سامان کی لوٹ مار کرنے لگے حتیٰ کہ انہوں نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کا خیمہ بھی لوٹ لیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کے بچھونے کو بھی چھین لیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو نیزہ مار کر زخمی بھی کردیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شہید ہونے سے چند روز پہلے امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کے ارادے سے ایک لشکر مسلمانوں کا مرتب کیا تھا اور چالیس ہزار مسلمانوں سے جنگ اور موت کی بیعت لی تھی ۔لیکن اتفاق سے لشکر لیکر روانہ ہونے کی نوبت نہیں آئی تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔جب لوگوں نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ملک شام سے لشکر لیکر کوفہ کی بڑھے ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ بھی مقابلے کے ارادے سے کوفہ سے نکلے ۔اِن کے مقدمة الجیش پر بارہ ہزار کے لشکر کے سپہ سالار حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ تھے ۔اور بعض مورخین کے مطابق حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ مقدمة الجیش پر تھے اور ساقہ پر حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ تھے ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مدائن پہنچے اور قیام کرنے کے ساتھ ہی یہ مشہور ہو گیا کہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔اِس خبر کا مشہور ہونا تھا کہ لشکر میں ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ایکدوسرے سے لوگ الجھ گئے ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے خیمے کی طرف بھی جھپٹے ۔جو کچھ پایا وہ لوٹ لیا ۔اندر گھسے تو اُس بستر کوبھی چھین لیا جس پر آپ رضی اﷲ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور اُس چادر کو بھی چھین لیا جو آپ رضی اﷲ عنہ اوڑھے ہوئے تھے ۔بعض ناعاقبت اندیش نے آپ رضی اﷲ عنہ کی ران پر نیزہ بھی مارا ۔ربیعہ اور ہمدان آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت پر اُٹھے اور اوباشوں کے مجمع کو منتشر کیا ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو ایک تخت ( اسٹریچر ) پر اٹھا کر مدائن میں قصر ابیض میں لائے ۔

مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے پیارے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے متعلق پیشنگوئی فرمائی تھی کہ ” میرا یہ بیٹا سید ہے اور یہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۔“ اُس پیشن گوئی کے سچ ہونے کا وقت آگیا تھا اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائی ۔جب حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ مدائن کے قصر ابیض میں تشریف فرما تھے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ اُن کا لشکر بکھر گیا ہے ۔یہ دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے صلح کرنے کا مکمل ارادہ بنا لیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ زخمی حالت میں قصر ابیض میں داخل ہوئے ۔ مدائن میں آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن مسعود ثقفی کو گورنر بنایا تھا ۔ یہ جنگ جسر کے ہیرو اور شہید حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کے بھائی تھے ۔حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کا بیٹا مختار بن ابوعبید جو اُس وقت نوجوان تھا وہیں موجود تھا ۔اُس نے اپنے چچا حضرت سعد بن مسعود ثقفی سے کہا: ” کیا آپ کو شرف اور مال داری میں کچھ دلچسپی ہے ؟ “ چچا نے پوچھا : ” وہ کیا ہے ؟“ بھتیجے نے کہا : ” حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو پکڑ کر قید کرلو اور انہیں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے حوالے کردو ۔“ چچا حضرت سعد بن مسعود ثقفی نے اپنے بھتیجے سے کہا : ” اﷲ تمہارا بھلا نہ کرے اور تُجو بات لیکر آیا ہے اُس کا بھی بھلا نہ کرے ۔کیا میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیٹی کے بیٹے سے خیانت کروں ؟ “ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” مختار بن ابو عبید نے اپنے چچا حضرت سعد بن مسعود سے کہا : ” اگر تم کو مال و عزت کی خواہش ہو تو حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو باندھ لو اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے اِس کے صلہ میں امان مانگ لو ۔“ حضرت سعد بن مسعود ثقفی نے جواب میں کہا : ” اﷲ تجھ پر لعنت کرے ۔میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے نواسے پر حملہ کروں اور اُن کو باندھ لوں؟ کتنا بد بخت شخص ہے تُو ۔“ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے جب یہ دیکھا کہ ملک عراق ، ایران اور حجاز کے مسلمان متفرق ہو گئے ہیں تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو صلح کا پیغام دیا ۔وہ اُس وقت اپنے لشکر کے ساتھ مسکن میں تشریف فرما تھے ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عبد اﷲ بن عامر اور عبد الرحمن بن سمرہ کو بھیجا وہ دونوں حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس مدائن آئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کی شرائط مان کر صلح کر لی۔

صلح نامہ کی شرائط

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کی قربانی دے کر مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروا دی ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ اپنے والد ِ محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد چھ مہینے تک خلافت کے منصب پر فائز رہے ۔( پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی ۔) اِس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور اﷲ تعالیٰ کو ”حکم “ اور فیصلہ دہندہ مان کر یہ شرائط آپس میں طے ہوئیں ۔اِس وقت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ خلیفہ بنائے جاتے ہیں لیکن اُن کے انتقال کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ ہوں گے ۔مدینہ¿ منورہ ، حجاز ،ملک عراق اور ملک ایران کے باشندوں سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا بلکہ وہی ٹیکس لیا جائے گا جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں لیا جاتا تھا ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے قرض کی ادائیگی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کر دیں گے ۔اِن شرائط پر دونوں نے آپس میں اتفاق کر لیا او ر صلح ہو گئی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ معجزہ ظاہر ہو گیا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ” میرا یہ بیٹا مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔“ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے اِن شرائط کے ساتھ خلافت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے سپرد کر دی ۔( تاریخ الخلفا ء) علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں کہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو سب و شتم نہیں کیا جائے گا ۔

41 ہجری :حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کی بیعت

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو سونپ دی اور ۱۴ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کوفہ آئے اور سب نے آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” کوفہ میں اجتماع ہوا تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے کہا کہ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے کہو کہ اُٹھ کر تقریر کریں ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے پوچھا کہ آخر تم کیا چاہتے ہو ۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے ۔آخر کار حضرت معاویہ بن ابی سفیان کو بات ماننی پڑی اور پہلے انہوں نے آکر تقریر کی پھر ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو تقریر کرنے کی دعوت دے ۔اُس شخص نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے تقریر کرنے کی درخواست کی ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے اﷲ کی حمد اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر دورد و سلام پڑھنے کے بعد تشہد پڑھی اور فرمایا : ” اے لوگو ! اﷲ تعالیٰ نے ہم میں سے پہلے شخص ( رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے ذریعہ تمہاری ہدایت کی اور ہم میں سے آخری شخص ( حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ) کے ذریعہ سے تم کو کشت و خون سے بچا لیا ۔سنو اِس حکومت کی ایک مدت و میعاد ہے اور دنیادست بدست ( پھرتی رہتی ) ہے اور اﷲ تعالیٰ اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرما چکا ہے وان ادری لعلہ فتنة لکم و متاع الی حین ۔کیا معلوم کہ وہ تمہاری آزمائش ہو اور ”چند دن کی آسائش “ ابھی اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” بیٹھ جایئے ۔“ اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو بٹھا دیا ۔

خلافت راشدہ مکمل

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے خلافت چھوڑنے کے ساتھ ہی ” خلافت راشدہ “ مکمل ہو گئی ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : پہلے ہم یہ حدیث بیان کر چکے ہیں کہ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد خلافت تیس ( ۰۳ ) سال ہو گی پھر بادشاہت ہو گی اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی خلافت سے تیس سال مکمل ہو گئے ۔پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کا زمانہ ” حکومت “ کا آغاز ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ اسلام پہلے بہترین بادشاہ ہیں ۔حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :” بے شک یہ امر ( کام ) رحمت اور نبوت سے شروع ہوا ،پھر یہ رحمت اور خلافت بن جائے گا ۔پھر کاٹنے والی حکومت بن جائے گا ۔پھر جبر و تکبر اور فساد فی الارض بن جائے گا ۔ وہ حریر ، فروج اور شراب کو حلال قرار دیں گے ۔اِس کے باوجود انہیں رزق سے مدد دی جائے گی حتیٰ کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے ۔“ ( المعجم طبرانی، البدایہ و النہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ) 

اگلی کتاب

قارئین کرام ! یہاں آ کر ”خلافت راشدہ “ کا ذکر مکمل ہو ا۔اب انشاءاﷲ آپ کی خدمت میں ہم ” سلطنت اُمیہ “ کا ذکر پیش کریں گے ۔

   ٭....٭....٭   

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں