ہفتہ، 5 اگست، 2023

09 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


09 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 9

بحری کمانڈر حضرت عبد اﷲ بن قیس کی شہادت، 28 ہجری کے متفرق واقعات، 29 ہجری مسجد نبوی کی توسیع، گورنروں ( حکام ) کی تبدیلی، خراسان کے گورنر، ولید بن عقبہ کی معزولی، باغی فارسیوں کی سرکوبی، خراسان اور کرمان کے باغیوں کی سرکوبی، 

بحری کمانڈر حضرت عبد اﷲ بن قیس کی شہادت

حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے بحری لشکر کا کمانڈر بنایا تھااور انہوں نے بہت ہی کامیابی سے تمام مسلمانوں کی حفاظت کرتے ہوئے اسلامی مملکت کے تما م ساحلی علاقوں کی نگہبانی بھی کی ۔لیکن ایک رومی عورت کی مخبری کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ اکثر کشتی میں سوار ہو کر سلطنت روم کے ساحلی علاقے کا تاجر کابھیس بدل کر دورہ کرتے رہتے تھے۔ایسے ہی ایک دورہ میں آپ رضی اﷲ عنہ رومیوں کے ایک ساحل پر پہنچے تو وہاں فقیروں اور محتاجوں کی بھیڑ موجود تھی آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں بھیک دی تو ایک رومی عورت نے آپ رضی اﷲ عنہ کو پہچان لیا۔جب وہ اپنے گاو¿ں لو ٹی تو اُس نے رومیوں سے کہا : ”کیا تم حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ کو پکڑنا چاہتے ہو؟“وہ بولے : ” وہ کہاں ہے ؟ “ وہ بولی : ” وہ اونچے ٹیلے پر ہے ۔“ وہ کہنے لگے : ” کم بخت ! تجھے کیسے معلوم ہوا کہ وہ عبد اﷲ بن قیس ہے ؟ “ اُس عورت نے کہا : ” اُن کے بھیک دینے کے انداز سے پہچان لیا ۔“ یہ سن کر وہ لوگ ٹیلے پر پہنچے اور آپ رضی اﷲ عنہ پر حملہ کر دیا ۔آپ رضی ا ﷲ عنہ مقابلہ کرنے لگے اور آخر کار شہید ہو گئے ۔ملاح نے جب یہ دیکھا تو کشتی لیکر واپس بھاگا اور حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ کے نائب حضرت سفیان بن عوف ازدی کو خبر دی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون کے مطابق یہ مرقا کے رومی تھے ۔حضرت سفیان بن عوف ازدی نے اہل مرقا پر حملہ کیا اور جنگ میں ہزاروں رومی قتل ہوئے اور مسلمان بھی اچھے خاصے شہید ہوئے اور حضرت سفیان بن ازدی بھی شہید ہوگئے ۔

28 ہجری کے متفرق واقعات

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ خلافت کی ذمہ داری بخوبی نبھا رہے تھے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مسلمان سمندروں میں بھی اسلام کا جھنڈا لہرانے لگے تھے اور سمندر کو بھی مسخر کر لیا تھا ۔اِس سال یعنی 28 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے سیدہ نائلہ بنت فراقصہ سے نکاح کیا ۔آپ عیسائی تھیں اور علامہ عماد الدین اسمعیل بن کثیر لکھتے ہیں کہ سیدہ نائلہ نے اسلام قبول کر لیا تھا تب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اُن سے نکا ح کیا ۔(اِن کا ذکر ہم نے یہاں خاص طور سے اِس لئے کیا کہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے ذکر میں سیدہ نائلہ کا بھی ذکر آئے گا ۔) اِسی سال حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ میں اپنے گھر کی تعمیر کو مکمل کیا ۔ اِس سال خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں سلطنت فارس کی پہلی فتح ہوئی اور یہ اصطخر کی آخری فتح تھی ،اِسی کے ساتھ مکمل طور سے پوری سلطنت فارس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ۔اِس جنگ میں مسلمانوں کے سپہ سالا ر حضرت ہشام بن عامر تھے۔اِس سال حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔

29 ہجری مسجد نبوی کی توسیع

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے 29 ہجری میں مسجد نبوی کی توسیع کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال یعنی 29 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مسجد نبوی کی حدود میں اضافہ کیا اور اُس کی توسیع کی ۔انہوں نے ماہ ِ ربیع الاول میں مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع کا آغاز کیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے کچی مٹی کی دیواروں کو گرا کر منقش پتھروں سے مسجد کی تعمیر کرائی اور ستون اُن پتھروں کے بنوائے جن میں سیسہ بھرا ہوا تھا اور چھت ساگوان کی بنوائی ۔اِس کی لمبائی ایک سو ساٹھ گز اور چوڑائی ایک سو پچاس گز تھی ۔ اِ س کے دروازے اتنے ہی بنوائے جتنے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں تھے ۔یعنی چھ دروازے بنوائے ۔

گورنروں ( حکام ) کی تبدیلی 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مملکت اسلامیہ میں بہت بڑے پیمانے پر گورنروں ( حکام ) کی تبدیلی اور تقرری کی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے 29 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا اور اُن کی جگہ حضرت عبد اﷲ بن عامر کو گورنر بنایا یہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ماموں کے بیٹے ہیں ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے عمیر بن عثمان بن سعد کو خراسان کا حاکم مقرر کیا ۔انہوں نے وہاں دشمنوں کا صفایا کیا اور فرغانہ تک پہنچ گئے اور وہاں کے ہر ضلع کی اصلاح کی اور سجستان کا حاکم انہوں نے عبد اﷲ بن عُمر لیثی ثعلبی کو مقرر کیا اور وہ دشمنوں کو شکست دیتے ہوئے کابل تک پہنچ گئے ۔حضرت عثمان بن عبید ا ﷲ بن معمر تمیمی کو مکران بھیجا انہوں نے بھی وہاں دشمنوں کا صفایا کیا یہاں تک کہ وہ دریا تک پہنچ گئے ۔حضرت عبد الرحمن بن طبیس کو کرمان بھیجا اور فارس و اہواز کی طرف بھی کچھ افراد کو بھیجا بصرہ کے علاقہ کو حضرت حصین بن ابی الحر کی عملداری میں شامل کر دیا ۔پھر حضرت عبد اﷲ بن عُمیر کو معزول کر دیا اور جب حضرت عبد اﷲ بن عامر گورنر مقرر ہوئے تو انہیں ایک سال بر قرار رکھا پھر انہیں معزول کر دیا ۔حضرت عاصم بن عمرو کو گورنر مقرر کیا اور حضرت عبد الرحمن بن طبیس کو معزول کردیا اور حضرت عدی بن سہیل بن عدی کو گورنر بنا دیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کے چوتھے سال حضرت امین بن یشکری کو خراسان پر گورنر مقرر کیا اور اِسی سال حضرت عمران بن فصیل برجمی کو سجستان کا گورنر مقرر کیا اور حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو کرمان کا گورنر بنایا اور وہیں اُن کا انتقال ہوا ۔

خراسان کے گورنر 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ جب خلیفہ بنے تو اُس وقت تک سلطنت ِ فارس پر مکمل فتح حاصل ہو چکی تھی لیکن خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ کو اتنا موقع نہیں مل سکا تھا کہ سلطنت ِ فارس کا مکمل انتظام کر سکیں ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اپنے دور ِ خلافت میں سلطنت فارس کا انتظام مکمل کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خراسان کے علاقہ کو چھ حصوں میں تقسیم کر کے اِن پر چھ حکام مقرر کئے ۔(1) حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو ”مرو “ کے دونوں علاقوں پر مقرر کیا ۔ (2) حضرت حبیب بن قرہ کو” بوعی بلخ “کا گورنر بنایایہ علاقہ اہل کوفہ نے فتح کیا تھا ۔ (3) حضرت خالد بن عبد اﷲ بن زہیر کو ” مہلب ‘ ‘ کا گورنر بنایا ۔ (4) حضرت امین بن احمر یشکری کو ” طوس “ کا گورنر بنایا ۔ (5) حضرت قیس بن ہبیرہ سلمی کو ” نیشا پور “ کا گورنر بنایا ۔ (6) حضرت عبد اﷲ بن حازم کو باقی خراسان کا گورنر بنایا یہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں ۔

ولید بن عقبہ کی معزولی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو معزول کر کے سعید بن عاص کو کوفہ کا گورنر بنا دیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ولید بن عقبہ کو معزول کر کے سعید بن عاص کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور اُن کی معزولی کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اہل کوفہ کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی پھر مُڑ کر کہا تم کو زیادہ پڑھا دوں ؟ ایک شخص نے کہا کہ ہم آپ کی وجہ سے آج تک زیارت میں ہیں پھر ایک جماعت اُن کے درپے ہوگئی کہتے ہیں کہ اُن کے اور آپ کے درمیان عداوت تھی ،انہوں نے خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس شکایت کر دی اور بعض آدمیوں نے آپ کے خلاف شراب نوشی کی شہادت دی اور دوسرے شخص نے گواہی دی کہ اُس نے اُن کو شراب کی قے کرتے دیکھا ہے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے آپ کو کوڑے مارنے کا حکم دیا ،کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے آپ کا حلہ اُتارا اور حضرت سعید بن عاص نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سامنے آپ کو کوڑے مارے اور معزول کر دیا اور آپ کی جگہ کوفہ کا گورنر سعید بن عاص کو مقرر کر دیا ۔

باغی فارسیوں کی سرکوبی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مملکت اِسلامیہ میں بڑے پیمانے پر گورنرو ں کی تبدیلیاں کیں جسے دیکھ کر مفتوحہ علاقوں کے فارسیوں نے بغاوت شروع کردی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل فارس اِس تبدیلیوں کو اپنی بہتری کا ذریعہ سمجھ کر باہم سازش کر کے بغاوت پر آمادہ ہو گئے اور لشکر کو مرتب و آراستہ کر کے مقابلہ پر آ گئے ۔عبید اﷲ بن معمر نے اصطخر کے دروازے پر صف آرائی کی لیکن اُن کے شہید ہونے کے بعد مسلمان پیچھے ہٹ گئے ۔ بصرہ کے گورنر عبد اﷲ بن عامر کو یہ خبر ملی تو وہ لشکر لیکر اہل فارس کی سرکوبی کے لئے آگے بڑھے ۔اُن کے ” مقدمة الجیش “ ( ہر اول دستہ “ پر حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کمانڈر تھے ”میمنہ “پر ابو برزہ اسلمی اور ” میسرہ “ پر معقل بن یسار ، سواروں پر حضرت عمران بن حصین کمانڈر تھے ۔اصطخر میں دونوں لشکر صف آراءہوئے اور ایک بہت بڑی اور خونریز و خوف ناک جنگ کے بعد اہل فارس شکست کھا کر بھاگ گئے ۔ہزاروں فارسی ( ایرانی ) مارے گئے ۔مسلمانوں نے اصطخر کو فتح کر کے دار الجبرد کا رخ کیا اور وہاں سے کامیاب ہو کر شہرجور (ارد شیر ) کی طرف بڑھے جس کا حرم بن حیان محاصرہ کئے ہوئے تھے ۔عبد اﷲ بن عامر کے آتے ہی شہر جور فتح ہوگیا لیکن اہل اصطخر میں پھر بغاوت پھوٹ پڑی ۔ عبد اﷲ بن عامر مجبور ہو کر اصطخر کی طرف لوٹے اور ایک طویل محاصرے کے بعد جنگ کے بعد اصطخر کو فتح کیا ۔ایران ( فارس) کے نامی گرامی سواران فارس کو قتل کر ڈالا کیونکہ اُن لوگوں نے اِس کو اپنا ملجا ءبنا رکھا تھا اور ایرانیوں ( فارسیوں ) کو اِس درجے پامال کیا کہ اُس کے بعد اُن کو ذلت کے سوا عزت حاصل نہ ہوئی

خراسان اور کرمان کے باغیوں کی سرکوبی

اصطخر میں بار بار باغی سر اُٹھا رہے تھے جسے مکمل طور سے عبد اﷲ بن عامر نے ختم کر دیا اور فتح کی خبر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ لکھ کر بھیجی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس مہم سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں نے عبد اﷲ بن عامر کو خراسان کی طرف بڑھنے کی رائے دی کیونکہ اِس اطراف میں بھی بغاوت پھوٹ پڑی تھی ۔اِسی لئے عبد اﷲ بن عامر خراسان کی طرف گئے اور بعض کہتے ہیں بصرہ لوٹ آئے تھے ۔روانگی کے وقت فارس پر شریک بن اعور حارثی کو اپنا نائب مقرر کیا تھا انہوں نے بنوائی ۔جب بصرہ پہنچے تو حضرت احنف قیس رضی اﷲ عنہ نے خراسان پر حملہ کرنے کی رائے دی ۔عبد اﷲ بن عامر نے زیاد بن عامر کو اپنا نائب بنایا اور ایک لشکر جرار لیکر ”کرمان “ کی طرف روانہ ہوئے ۔کرمان والوں نے بھی بغاوت کی تھی اُن کی سرکوبی کے لئے مجاشع بن مسعود سلمی کو اور سجستان والوں کی سرکوبی کے لئے ربیع بن زیاد حارثی کو روانہ کیا اور خود نیشا پور کا رخ کیا ۔اُ ن کے ”مقدمة الجیش “ پر احنف بن قیس تھے انہوں نے طیبین کے دونوں قلعوں کو جو خراسان کے دروازے تھے بہ صلح و امان فتح کر لیا ۔کوہستان پہنچ کر محاصرہ کر کے سنگ باری شروع کر دی ۔اِسی اثنا ءمیں عبد اﷲ بن عامر آ گئے اور چھ لا کھ درہم سالانہ خراج پر صلح ہو گئی اور بعض کہتے ہیں کہ کوہستان کی مہم کے سردار امیر بن احمر یشکری تھے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں