ہفتہ، 5 اگست، 2023

08 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


08 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 8

سبیطلہ کی فتح، حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت نہیں دی تھی، خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ نے سختی سے منع کیا تھا، 28 ہجری : خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت دے دی، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیش گوئی، اہل قبرص کی مشروط صلح

سبیطلہ کی فتح

اِس طرح حکمت عملی سے مسلمانوں نے افریقیوں کی چا ل اُسی پر لوٹا دی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو یہ رائے دی کہ” تجربہ کار مسلمانوں کے ایک گروہ کو خیمے میں رہنے دو اور باقی لشکر کو لیکر مقابلے پر چلو اور رومیوں سے جی کھول کر لڑو یہاں تک کہ رومی تھک کر اپنے پڑاؤ میں واپس ہوں اور اسلا می لشکر بھی واپس آئیں تو اُس وقت وہ تجربہ کار مسلمانوں کا گروہ تلوار لیکر اُن تھکے ہوئے رومیوں پر ٹوٹ پڑیں ۔ اُمید ہے کہ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے گاورنہ اِس طرح سے جیسے تم لڑ رہے ہو ایسے تو یہ جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔“اکابر صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے اِسے پسند فرمایااور اگلے دن ایسا ہی انتظام کیا ۔صبح سے زوال تک مسلمانوں کا ایک لشکر لڑتا رہا اور فریقین تھک کر ایکدوسرے سے الگ ہوئے تو حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اِسی موقع کی منتظر تھے۔انہوں نے خیموں میں آرام کر رہے لشکر کو لیکر حملہ کر دیا ۔جرجیر اور اُس کا لشکر اِس اچانک حملے سے گھبرا گئے اور چونکہ وہ تھکے ہوئے تھے تو لڑنے کے بجائے بھاگ کر اپنے خیموں میں چھپنے کی کوشش کرنے لگے۔مسلمانوں نے اُنہیں اُن کے خیموں میں قتل کرنا شروع کر دیا حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے جرجیر کے خیمے میں گھس کر ایک ہی وار میں اُس کا سر کاٹ دیا۔مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ۔فتح حاصل کرنے کے عبد اﷲ بن ابی سرح نے آگے بڑھ کر ”سبیطلہ“کا محاصرہ کر لیا اور کچھ دنوں میں وہ بھی فتح ہو گیا اور مسلمانوں کے ہاتھ بے شمار مال غنیمت لگا۔سواروں کو تین تین ہزار اور پید ل کو ایک ایک ہزار ملے۔حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ مال غنیمت کا خمس لیکر مدینہ¾ منورہ خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت نہیں دی تھی

خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے طاعون عمواس میں انتقال کے بعد حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کا گورنر بنایا تھا اور اُن کے انتقال کے بعد اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابو سفیان کو ملک شام کا گورنر بنا دیا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بحری جنگ کی اجازت مانگی ۔انہوں نے کئی مرتبہ خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ سے اجازت مانگی کہ دریائی راستے سے ”قبرص “پر حملہ کرنے کی اجازت دی جائے ،لیکن ہر مرتبہ خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ انکار کر دیا کرتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت معاویہ بن ابو سفیان کا اصرار حد سے بڑھا تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا کہ دریا اور بادبانی جہازوں کی تفصیل مجھے لکھ کر بھیجو ۔ انہوں نے مکمل تحقیق کے بعد لکھا کہ میں نے اُس سواری کو دیکھا جسے ”بحری جہاز“کہا جاتا ہے۔یہ بحری جہاز ایک ایسی بڑی مخلوق ہے جس پر چھوٹی چھوٹی مخلوق سوار ہوتی ہے۔اِس سواری کے ٹھہر جانے سے اُس میں سوار لوگوں کے دل خوف کی وجہ سے پھٹنے لگتے ہیں۔اور اِس کی رفتار دیکھ کر عقل و فہم حیران ہو جاتے ہیں ۔اِس میں خوبیاں کم اور خرابیاں زیادہ ہیں ۔اِس میں سوار ہو نے والوں کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔اگر یہ سواری ٹیڑھی ہو جائے یعنی جھک جائے تو سوار ڈوب جاتے ہیں اور دوسری صورت میں لرزتے و ترستے ساحل تک پہنچتے ہیں۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا خط پڑھ کر خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”اﷲ کی قسم ! میں مسلمانوں کو ایسی سواری میں سوار کرا کے انہیں مصائب میں مبتلا نہیں کروں گا۔“اِس کے بعد خلیفہ¿ دُوم رضی اﷲ عنہ نے خط لکھ کر حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کا سختی سے منع کر دیا۔

خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ نے سختی سے منع کیا تھا

ایک اور روایت میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے دور ِ خلافت کے آخری چند مہینوں میں حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کا گورنر بنایا تھا اور پورے ملک شام پر اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی۔لیکن ”بحیرہ¿ روم “میں بعض ساحلی مقامات پر سلطنت روم کی حکومت تھی جن میں ”قبرص“ اور ”صقلیہ“ کو خاص اہمیت حاصل تھی جن کو قیصر روم نے فوجی مرکز بنا دیا تھا اور موقع پا کر یہیں سے اسکندریہ پر حملے کئے گئے تھے۔قبرص شہر ملک شام کے ”حمص“ شہر سے بہت قریب تھا جہاں سے کسی بھی وقت ملک شام کے مسلم علاقوں پر رومی لشکر حملہ کر سکتے تھے۔اِس لئے فوجی نقطۂ نظر سے ملک شام اور ملک مصر کی حفاظت کے لئے ضروری تھا کہ قبرص اور صقلیہ پر قبضہ کر لیا جائے۔اِسی لئے ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بحری بیڑوں کی تیاری کرنے اور ساحلی علاقوں پر قبضہ کرنے کی اجازت طلب کی اور لکھا : ”رومیوں کا ساحلی مقام قبرص ہمارے شہر حمص سے اتنا قریب ہے کہ اہل حمص اُن کے کتوں کا بھونکنا اور مرغ کی بانگ تک سنتے ہیں۔“ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پر اِس کا یہ اثر ہوا کہ انہوں نے سمندری سفر کے کوائف و حالات (اُس وقت کے ملک مصر کے گورنر)حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے دریافت فرمائے جس کے جواب میں انہوں نے لکھا :”میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ ایک گروہ ِ کثیر کو سوار کر کے لے جاتے ہیں اور سوائے پانی اور آسمان کے کوئی چیز نہیں دکھائی دیتی ہے۔اگر دریا روانی سے ٹھہر گیا تو پریشانی بڑھ جاتی ہے اور طغیانی آگئی تو اوسان جاتے رہتے ہیں۔اِس میں کامیابی کم اور خطرے کا اندیشہ زیادہ ہے ۔اِس میں سفر کرنے والا ایسا ہے جیسے کیڑا لکڑی پر بیٹھا ہو ،لکڑی ذرا جھکی کہ کیڑا ڈوب گیا اور اگر صحیح سالم پہنچ گیا تو خوشی سے چمک اُٹھا ۔ “حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب یہ خط پڑھا تو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کوخط لکھا اور سختی سے منع کر دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے لکھا :”اُس ذات کی قسم ! جس نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے ۔میں کسی مسلمان کو دریا کے سفر کی اجازت نہیں دوں گا ،میں نے سنا ہے کہ دریائے شام زمین کے حصہ کو دبائے ہوئے ہے اور ہر روز اﷲ تعالیٰ سے زمین کو ڈبونے کی اجازت طلب کرتا ہے ۔ایسی حالت میں اسلامی لشکر کو کافروں کے سفر کی اجازت کیسے دے دوں؟اﷲ کی قسم ! ایک مسلمان کی جان میرے نزدیک سارے ملک روم (سلطنت روم )سے زیادہ عزیز ہے۔ خبردار ! آئندہ ایسی جرا¿ت نہیں کرنا ۔تُم کو معلوم ہے کہ میں علاءکے ساتھ کیا کیا تھا؟“ 

۔28 ہجری : خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت دے دی

اِس کے چند مہینوں بعد خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی کے دورِ خلافت کے شرو ع کے لگ بھگ دو سال تک تو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ خاموش رہے پھر انہوں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے ”بحری جنگ “ کی اجازت طلب کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ خلیفہ بنے تو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ انہیں ”بحری جنگ“کی طرف متوجہ کراتے رہے ۔شروع میں تو خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے پس و پیش کیا اور کوئی جواب نہیں دیا اور لگ بھگ دو سال گزر گئے ۔ اِس دوران حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ شمالی افریقہ کے لمبے سواحل اور بحیرۂ روم کے ساحلی علاقے جو ہزاروں میل لمبے ہیں اِن علاقوں پر امن رہنا اِسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم اپنا” بحری بیڑا“(سمندری فوج ) بنا کر رکھیں اور ہر وقت سمندر کی طرف سے دفاع کرنے کے لئے ہوشیار رہیں۔یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ”بحری جنگ “کا ارادہ فرما لیا ،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو لکھا :”تم خود بحری جنگ کے لئے مجاہدین کا انتخاب نہیں کرنا اور نہ ہی قرعہ اندازی کرنا ،بلکہ مجاہدین کو اختیار دینا کہ وہ خود ”بحری جنگ “پر جانا چاہیں یا نہیں۔ پھر جو اپنی خوشی سے راضی ہو جائے اُسے لے جانا اور جو نہیں جانا چاہے تو اُس مجبور نہیں کرنا ۔“انہوں نے ایسا ہی کیا اور جو مجاہدین اپنی خوشی سے ”بحری لشکر“میں شامل ہوئے صرف انہیں ہی شامل کیا ۔اِس بحری لشکر سے ”بحری بیڑے “کی تشکیل دی اور حضرت عبد اﷲ بن قیس حارثی رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر بنا یا۔انہوں نے لگ بھگ پچاس حملے کئے ۔اِن میں سے کچھ موسم گرما میں کئے اور کچھ موسم سرما میں کئے۔اِن تمام حملوں میں آسانی سے سمندری سفر ہوئے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ہمیشہ دعا مانگتے تھے کہ ”اے اﷲ تعالیٰ ! لشکر کو خیرو عافیت عطا کر اور کسی صدمے میں مبتلا نہ کر۔ “

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیش گوئی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے بحری جنگ کی اجازت دے دی اور مسلمان رومیوں سے بحری جنگ بھی کرنے لگے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔قبرص بلاد شام کے مغرب میں سمندر میں ایک الگ تھلگ جزیرہ ہے اور اُس کی لمبی دم ”دمشق “ کے قریبی ساحل تک آتی ہے اور اس کا غربی حصہ اس سے چوڑا ہے جس میں بہت سے پھل اور کانیں ہیں اور وہ بہت اچھا ملک ہے ۔اسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے بحری لشکر نے فتح کیا ۔اِس لشکر میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ کی بیوی سیدہ اُم حرام بنت ملحان رضی اﷲ عنہ بھی تھیں ۔ایک دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُن کے گھر میں سوئے پھر مسکراتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔سیدہ اُم حرام رضی اﷲ عنہا نے پوچھا : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے سامنے میری اُمت کے لوگ پیش کئے گئے ہیں جو اس سمندر کے بڑے حصے پر خاندانی بادشاہوں کی طرح سوار ہوں گے ۔“ وہ کہنے لگیں : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! اﷲ سے دعا کر دیں کہ وہ مجھے اُن لوگوں میں سے بنا دے۔“ آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اُن میں ہو ۔“ پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سو گئے اور مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے اور اِسی قسم کی بات بیان کی ۔وہ کہنے لگیں : ” اﷲ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اُن لوگوں میں سے بنا دے ۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پہلے لوگوںمیں سے ہو ۔“ آپ رضی اﷲ عنہا اس جنگ میں شامل تھیں اور وہیں آپ رضی اﷲ عنہ کی وفات ہوئی ۔

اہل قبرص کی مشروط صلح

علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔خلیفۂ دُوم حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان ذوالنورین رضی اﷲ عنہ سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی لیکن شرط یہ رکھی کہ جس کا جی چاہے وہ اِس جہاد میں شریک ہو کسی شخص کو مجبور نہیں کیا جائے ۔صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے ایک گروہ بحری جنگ پر جانے کے لئے تیا ر ہوگیا ۔اِن میں حضرت ابو ذر ، حضرت ابو الدرداء، حضرت شداد بن اوس ،حضرت عبادہ بن صامت اور اُن کی بیوی سیدہ اُم حرام بنت لمحان رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔حضرت عبد اﷲ بن قیس رضی اﷲ عنہ کو بحری بیڑے کا سپہ سالا ر مقرر کیا ۔سمندری لشکر ملک شام سے اﷲ کا نام لیکر قبرص کی طرف روانہ ہوا ملک مصر سے عبد اﷲ بن سرح بھی ان لوگوں سے آملے ۔اہل قبرص نے سات ہزار دینار سالانہ خراج پر مصالحت کر لی لیکن اس کی اجازت بھی لے لی کہ اہل قبرص اِسی قدر رومی بادشاہ کو بھی دیا کریں گے ۔مسلمان اِس سے معترض نہ ہوں اور مسلمان اِس کے سوا جس کا قصد کریں گے ،اہل قبرص مانع نہیں ہوں گے ۔اس کے علاوہ اہل قبرص دشمنان اسلام( رومیوں ) کی جاسوسی کریں گے اور مسلمانوں کو اپنے ملک سے دشمنان اسلام کی طرف جانے کا راستہ دے دیں گے۔ یہ حملہ 28 ہجری میں ہوا اور ایک روایت کے مطابق 29 ہجری میں اور بعض کے مطابق 33 ہجری میں ہوا تھا ۔اِسی حملے میں سیدہ اُم حرام رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا ۔جس وقت دریا سے خشکی پر سیدہ اُم حرام رضی اﷲ عنہا اُتریں تو گھوڑا بدک کر بھاگا اور گر پڑیں جس سے گردن ٹوٹ گئی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیش گوئی پوری ہوئی ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں