08 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 8
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی ملک عراق کے لئے لشکر کی تیاری، 13 ھجری کے خاص واقعات، حضرت ابان بن سعید رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت سلمہ بن ہشام، حضرت ضرا ربن ازور، حضرت طلیب بن عُمیر، حضرت عبد اﷲ بن زبیر بن عبد المطلب رضیہ اللہ عنہم کی شہادت، حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل، حضرت نعیم بن عبد اﷲ،حضرت ہشام بن عاص، حضرت ہبار بن سفیان رضی اﷲ عنہم کی شہادت، 14 ھجری
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی ملک عراق کے لئے لشکر کی تیاری
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خود ملک عراق لشکر لیکر جانے کی تیاری کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ فارسیوں (ایرانیوں) نے یزد جرد کو کسریٰ بنا لیا ہے۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ ملک عرب میں جو عمال(گورنر)قبائل اور بستیوں پر مامور تھے۔اُن کو یہ حکم بھیجا(یہ ذوالحجہ 13 ھجری کا اُس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ حج کے لئے جارہے تھے،آپ رضی اﷲ عنہ ہر سال حج کیا کرتے تھے۔)کہ ہر اُس شخص کو جو شہ سوار ،ذی رائے اور ہتھیار بند ہو،چن لو۔اور میرے پاس بھیج دو ،اور اِس حکم کی تعمیل جلد از جلد ہونی چاہیئے۔حج کی روانگی کے وقت قاصد آپ رضی اﷲ عنہ کا حکم لیکر گورنروں(عمال) کے پاس روانہ ہو گئے۔جو قبائل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے راستوں پر آباد تھے،اُن کے لوگ تو خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے پاس اُسی وقت پہنچ گئے۔اور جو مدینہ منورہ اور ملک عراق کے درمیان میں تھے،وہ لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس حج سے واپس آنے کے بعد پہنچے۔ اور اُس سے زیریں علاقے کے لوگ براہ راست حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ سے جا ملے۔آنے والوں نے خلیفہ ¿دوم رضی اﷲ عنہ کو مطلع کیا کہ ہماری بستیوں کے لوگوں میں بھی شرکت ِ جہاد کا جوش پیدا ہو گیا ہے۔حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ جس سال میرے والد خلیفہ مقرر ہوئے،اُس سال انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو امیر حج مقرر فرمایا تھا،اور اِس کے بعد ہر سال خود امیر حج رہے۔
13 ھجری کے خاص واقعات
خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 13 ھجری کا حج مکمل ہونے کے بعد 14 ھجری کے پہلے مہینے محرم الحرام میں ملک عراق کے لئے لشکر کی تیاری شروع فرمائی ۔ہم اِس ذکر کو یہیں روک کر 13 ھجری کے چند خاص واقعات پیش کر رہے ہیں۔اِس کے بعد انشاءاﷲ یہیں سے ذکر آگے بڑھائیں گے۔ 13 ھجری میں ملک عراق میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جو جنگیں کی ،اُن کے حالات ہم آپ کی خدمت میں خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں تفصیل سے پیش کر چکے ہیں ۔اِس میں اُلیس،حیرہ ،اور انبار وغیرہ فتح ہوئے تھے۔اور اسی سال مشہور قول کے مطابق” جنگ یرموک “بھی پیش آئی تھی،جس کا تفصیلی ذکر ہم اِسی کتاب میں اوپر کر چکے ہیں۔اِس سال خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال ہوا،اور اِسی سال حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جمادی الآخر میں خلیفہ ¿ دوم بنے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے مدینہ منورہ کا ”قاضی القضاہ“حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور حضرت ابو عبیدہ (نام عامر) بن جراح رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کا سب سے بڑا سپہ سالار بنایا۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا،اور جنگی مشیر بنائے رکھا۔اور اسی سال میں بصریٰ صلح سے فتح ہوا،اور یہ ملک شام کا فتح ہونے والا پہلا شہر تھا۔اِسی سال دمشق فتح ہوا ،اور حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو نائب مقرر کیا۔
حضرت ابان بن سعید رضی اﷲ عنہ کی شہادت
جنگ یرموک (جنگ اجنادین) میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابان بن سعید بن عاص اموی ابو الولید مکی رضی اﷲ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی حدیبیہ کے روز حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو پناہ دی تھی۔حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سفارت کرنے کے لئے مکہ مکرمہ میں داخل ہو گئے تھے۔حضرت ابان بن سعید رضی اﷲ عنہ نے اپنے دونوں بھائیوں حضرت خالد بن سعید اور حضرت عمرو بن سعید رضی اﷲ عنہم کے حبشہ سے واپس آنے کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔اُن دونوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اسلام کی دعوت دی تھی،جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا تھا۔اور یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس اُس وقت پہنچے ،جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ۹ ھجری میں بحرین کا گورنر مقرر کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ اجنادین(جنگ یرموک) میں شہید ہوئے۔اِن کے علاوہ حضرت تمیم بن حارث سہمی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے بھائی حضرت قیس بن حارث سہمی رضی اﷲ عنہ ،یہ دونوں جلیل القدر صحابی ہیں۔دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ،اور جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔حضرت حارث بن اوس بن عتیک رضی اﷲ عنہ بھی مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔اور جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔
حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کی شہادت
آپ رضی اﷲ عنہ بھی جلیل القدر صحابی ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ سابقون الاولون میں سے ہیں،اور مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ملک حبشہ میں پندرہ سال تک قیام کیا۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو صنعاءکا گورنر بنایا تھا۔اسود عنسی کے جھوٹی نبوت کے دعوے کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ واپس آگئے تھے۔بعد میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کی سرحد پر مرتدین کی سرکوبی کرنے ،اور مسلمانوں کی لشکر میں بھرتی کرنے کے لئے لشکر دیکر بھیجا تھا۔ایک قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ ”مرج الصفر “کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔اوربعض کے قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ وہاں سے خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ کی اجازت کے بغیر واپس آگئے تھے،اور ایک مہینے تک مدینہ منورہ کے باہر قیام پذیر رہے،یہاں تک کہ خلیفہ¿ اول رضی ا ﷲ عنہ نے مدینہ منورہ میں داخلے کی اجازت دے دی۔ایک قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو اسلم نے شہید کیا،اسلم کا بیان ہے کہ جب میں نے انہیں شہید کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ کے نور کو آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھا۔
حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال
حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن عبادہ خزرجی انصاری رضی اﷲ عنہ اولین انصاری صحابہ میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ بیعت عقبہ ثانی میں شامل تھے،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو بارہ نقیب بنائے تھے،اُن میں سے ایک تھے۔کچھ علمائے کرام کے مطابق غزوہ بدر میں شامل تھے،اور کچھ علمائے کرام کے مطابق غزوہ بدر کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کو سانپ نے کاٹ لیا تھا ،جس کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے تھے۔بہر حال بعد کے ہر معرکے میں شامل رہے۔بیعت سقیفہ بنو ساعدہ کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے تصدیق کی تھی کی خلیفہ قریش میں سے اور وزیر انصار میں سے ہو گا۔آپ رضی اﷲ عنہ کا وصال ملک شام میں ہوا ۔کچھ علمائے کرام کا بیان ہے کہ خلیفۂ اول رضی اﷲ عنہ کے آخری دنوں میں حوران کی بستی ۳۱ ھجری میں انتقال ہوا،بعض کا قول خلیفہ ¿ دوم رضی ا ﷲعنہ کی خلافت کے آغاز میں انتقال ہوا۔بعض کے قول کے مطابق 14 ھجری میں،اور بعض کے مطابق ۵۱ ھجری ،اور بعض کے مطابق 16 ھجری میں انتقال ہوا۔
حضرت سلمہ بن ہشام اور حضرت ضرا ربن ازور رضی اﷲ عنہم کی شہادت
حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ ملک عراق میں کافی عرصے تک حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ فارسیوں کے چھکے چھڑاتے رہے۔پھر اُنہیں کے ساتھ ملک عراق سے ملک شام کا خطرناک سفر کیا۔اور جنگ اجنادین یا جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ضرار بن ازور اسدی رضی اﷲ عنہ مشہور شہسواروں اور بہادروں میں سے ایک ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کی جنگیں اور احوال قابل تعریف ہیں۔اور حضرت سلمہ بن ہشام رضی اﷲ عنہ ابو جہل بن ہشام کے بھائی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا،اور ملک حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔پھر وہاں سے واپس آئے تو آپ رضی اﷲ عنہ کے بد بخت بھائی ابو جہل نے آپ رضی اﷲ عنہ کو قید کردیا تھا،اور بھوکا رکھتا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم دعائے قنوت نازلہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں پھنسے کمزوروں کے لئے دعا فرماتے تھے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ غزوہ خندق میں چپکے سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آگئے،اور آخر تک ساتھ رہے۔جنگ اجنادین (یرموک)میں شامل ہوئے ،اور وہیں شہید ہوئے۔
حضرت طلیب بن عُمیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت
اِس سال 13 ھجری میں حضرت طلیب بن عُمیر رضی اﷲ عنہ بھی شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت طلیب بن عُمیر بن وہب بن کثیر بن ہند بن قصی بن کلاب رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ ارویٰ بنت عبد المطلب ہیں۔یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں،اور حضرت طلیب بن عُمیر رضی اﷲ عنہ ،آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھو پھی زاد بھائی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا۔اور حبشہ کی طر ف ہجرت ثانیہ بھی کی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں۔اور آخر وقت تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔حضرت طلیب رضی اﷲ عنہ جنگ اجنادین میں شہید ہوئے،آپ رضی اﷲ عنہ بوڑھے ہو چکے تھے۔
حضرت عبد اﷲ بن زبیر بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت عبد اﷲ بن زبیر بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ جوانی کی حالت میں شہید ہوئے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایک چچا حضرت زبیر بن عبد المطلب بہت ہی سمجھ دار اور عقلمند تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ اُن کے بیٹے،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ قریش کے مشہور بہادروں اور دلیروں میں سے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جنگ اجنادین میں مقابلے میں رومیوں کے دس بہادر جرنیلوں(کمانڈروں)کو قتل کیا تھا۔اِس کے بعد شہید ہوئے،شہادت کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عمر تیس (30) یا پینتیس(35) سال تھی۔حضرت عبد اﷲ بن عمرو دوسی رضی اﷲ عنہ بھی جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ مشہور آدمی نہیں تھے۔
حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِسی سال حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عتاب بن اُسید بن ابی عیص بن اُمیہ۔بنو اُمیہ کے ہیں۔ابو عبد الرحمن کنیت ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کو مکہ مکرمہ کا گورنر (عامل) بنایا۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عمر لگ بھگ بیس(20) سال تھی۔اور اُس سال آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی لوگوں کو حج کرو ایا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو مکہ مکرمہ کا گورنر بنائے رکھا۔آپ اﷲضی اﷲ عنہ کا انتقال مکہ مکرمہ میں ہی ہوا۔بعض کہتے ہیں کہ جس دن خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا،اُسی دن آپ رضی اﷲ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔
حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل کی شہادت
حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل(عمر)بھی 13 ھجری میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل(عمر)بن ہشام بن مغیرہ بن عبد اﷲ بن عمر بن مخزوم کا باپ جاہلوں کا سرداریعنی ابو جہل تھا۔حضرت عکرمہ رضی ا ﷲ عنہ بن ابو جہل فتح مکہ تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف اپنے باپ کی طرح بہت سخت تھے۔لیکن فتح مکہ کے وقت جب اسلام قبول کیا تو اسلام کے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سچے شیدائی بن گئے۔جب عمان کے لوگ مرتد ہو گئے تو خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیجا تھا،وہاں آپ رضی اﷲ عنہ نے مرتدین پر فتح حاصل کی،اور لوگ اسلام کی طرف لوٹ آئے تو خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ نے لشکر دیکر سلطنت روم سے ٹکرانے کے لئے ملک شام بھیج دیا۔جہاں آپ رضی اﷲ عنہ کم لشکر ہونے کے باوجود پامردی سے رومیوں کا مقابلہ کرتے رہے۔یہاں تک کہ خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ نے کئی لشکر ملک شام کی طرف روانہ فرمائے ،اِن میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا بھی لشکر تھا۔پھر جب جنگ یرموک میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں ہوئی،تو خندق نما گھاٹی کی وجہ سے رومی مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچا رہے تھے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ خندق نما گھاٹی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔یہ دیکھ کر حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے چار سو مجاہدین کے ساتھ ملکر خندق نما گھاٹی پر حملہ کیا،اور بے شمار تیر اپنے جسم پر کھاتے ہوئے خندق نما گھاٹی میں اُترے ،اور رومیوں کا قتل عام کیا،اور اپنے بیٹے کے ساتھ شہید ہو گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو ستر سے زیادہ تیر لگے اور تلوار کے زخم آئے۔
حضرت نعیم بن عبد اﷲ کی شہادت
حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ بھی اسی سال جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت نعیم بن عبد اﷲ بن نحام رضی اﷲ عنہ بنو عدی کے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا۔اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اُن کی بہن اور بہنوئی کی طرف بھیجنے والے آپ رضی اﷲ عنہ ہی ہیں۔آپ رضی ا ﷲ عنہ صلح حدیبیہ تک ہجرت نہیں کر سکے تھے۔اِس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے رشتہ داروں اور اقارب کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے۔اِس لئے قریش نے کہا کہ آپ رضی اﷲ عنہ ہمارے ساتھ رہیں،اور جس دین پر چاہیں رہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ اجنادین میں بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے۔
حضرت ہشام بن عاص رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت ہشام بن عاص رضی اﷲ عنہ سابقین اولین میں سے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ہشام بن عاص بن وائل سہمی رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ہیں۔ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی،جب وہاں سے واپس آئے تو قید کر لئے گئے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے غزوہ خندق کے بعد ہجرت کی۔خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے بادشاہ کے پاس بھیجا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ بہت بہترین شہ سوار تھے،اور جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔
حضرت ہبار بن سفیان رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت ہبار بن سفیان رضی اﷲ عنہ بھی سابقین اولین میں سے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ہبار بن سفیان بن وبن عبد الاسود رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے بھتیجے ہیں۔اور جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔ایک اور قول کے مطابق جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔واﷲ اعلم۔
14 ھجری
اِس سے پہلے ہم نے اوپر ذکر کیا تھا کہ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ محرم الحرام 14 ھجری میں لشکر لیکر ملک عراق کے ارادے سے مدینہ منورہ سے باہر لشکر لیکر آئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اِس سال کا آغاز ہوا تو خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لوگوں کو سلطنت فارس کے خلاف جہاد کے لئے تیار کرنے لگے۔کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی تھی کہ جسر یا حسبر کی جنگ میں سپہ سالار حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ہیں۔اور فارسی اپنی جمیعت کو منظم کر رہے ہیں۔اور انہوں نے متفق ہو کر شاہی گھرانے کے ایک نوجوان یزدجرد کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے۔اور ملک عراق کے ذمیوں نے عہد شکنی کی ہے،اور مسلمان گورنروں(عمال) کو نکال دیا ہے۔خلیفۂ دوم نے وہاں موجود لشکر کو حکم دیا تھا کہ فی الحال محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں