پیر، 7 اگست، 2023

07 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


07 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

حضرت حسن اور حسین رضی اﷲ عنہما کو وصیت، مسلمانوں کو وصیت، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت، خلیفۂ چہارم رضی اﷲ عنہ کا خواب، آخرین کے شقی القلب کا انجام، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا کنبہ 

حضرت حسن اور حسین رضی اﷲ عنہما کو وصیت

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جندب بن عبداﷲ کا بیان ہے کہ میں نے امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! اگر آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو جائیں تو کیا ہم حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لیں ؟“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” نہ میں تمہیں اِس کا حکم دیتا ہوں اور یہ ہی اس سے روکتا ہوں ،تم لوگ زیادہ مناسب سمجھ سکتے ہو ۔“ جندب بن عبد اﷲ نے دوبارہ سوال کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہما کو بلوایا اور اُن سے فرمایا : ” میں تم دونوں کو اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور تم دونوں دنیا کو ہر گز تلاش نہیں کرناچاہے دنیا تم سے بغاوت ہی کیوں نہ کرے اور جو شئے تم سے ہٹا دی جائے اُس پر رونا یا افسوس نہیں کرنا ۔ ہمیشہ حق بات کہنا ، یتیموں پر رحم کرنا ، پریشان کی مدد کرنا ،آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا ، ہمیشہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے دوست رہنا اور کتاب اﷲ ( قرآن پاک ) کے احکامات پر عمل کرنا ۔ اﷲ کے دین میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں گھبرا نا ۔“ پھر محمد بن حنفیہ کی جانب دیکھ کر فرمایا : ” میں نے تیرے بھائیوں کو جو نصیحت کی ہے تُو نے اسے سن کر محفوظ کرلیا ؟ “ محمد بن حنفیہ نے عرض کیا : ” جی ہاں ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے محمد بن حنفیہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” میں تجھے بھی وہی نصیحت کرتا ہوں جو تیرے بھائیوں کو کی ہے ۔اِس کے علاوہ میں تجھے یہ وصیت کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کی عزت و توقیر کرنا اور اِن دونوں کے اہم حق کو ملحوظ رکھنا جو اِن کا تیرے ذمہ ہے ۔اِن دونوں کے حکم کی پیروی کرنا اور اِن کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرنا ۔“ اِس کے بعد حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہما سے فرمایا : ” میں تم دونوں کو بھی محمد کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارا بھائی ہے اور تمہارے باپ کا بیٹا ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا ہے ۔“ پھر خاص طور پر حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” اے میرے بیٹے ! تیرے لئے میری وصیت یہ ہے کہ تُو اﷲ سے ڈرنا ، نماز وقت پر ادا کرنا ۔ ذکوٰة کو اُس کے مصرف میں خرچ کرنا اور وضو اچھی طرح کرنا کیونکہ وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور ذکوٰة روکنے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ہر وقت گناہوں کی مغفرت طلب کرنا ۔غصہ پینا ، صلہ رحمی کرنا ، جاہلوں سے برد باری سے کام لینا ،دین میں تفقہ حاصل کرنا ، ہر کام میں ثابت قدمی دکھانا ۔قرآن پاک کو لازم پکڑے رہنا ۔پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور خود بھی برائیوں سے بچنا ۔“ 

مسلمانوں کو وصیت 

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے اپنے آخری وقت میں مسلمانوں کو بھی وصیت کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب وفات کا وقت آیا تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو یہ وصیت کی : ” بسم اﷲ الرحمن الرحیم ! یہ وہ وصیت ہے جو علی بن ابی طالب ( رضی اﷲ عنہ ) نے کی ہے ۔وہ اِس بات کی وصیت کرتا ہے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ یکتا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور رسول ہیں جنہیں اﷲ تعالیٰ نے ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ وہ اِس دین کو تمام ادیان پر غالب فرما دیں چاہے یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی بری کیوں نہ معلوم ہو ۔یقینا میری نماز ،میری قربانی ،میری زندگی اور موت سب کچھ اﷲ رب العالمین کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔مجھے اِسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں تابع فرمان لوگوں میں سے ہوں ۔اے حسن ( رضی اﷲ عنہ ) ! میں تجھے اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا پروردگار ہے اور اِس بات کی کہ تم صرف اسلام کی حالت میں جان دینا ۔ تم سب مل کر اﷲ کے دین کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں متفرق نہیں ہوجانا کیونکہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” آپس میں ایک دوسرے سے تعلق رکھنا اور ان کی اصلاح کرنا ۔نفل نمازوں اور روزوں سے بہتر ہے کہ تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اِس سے اﷲ تم پر حساب نرم فرما دے گا ۔یتیموں کے معاملے میں اﷲ سے ڈرنا ۔ نہ تو انہیں اتنا موقع دینا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مدد طلب کریں اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں پریشانی میں مبتلا ہوں ۔اﷲ سے ڈرو اور اﷲ سے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں ڈرو کیونکہ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نصیحت ہے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمیشہ پڑوسیوں کے حقوق کی وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم پڑوسیوں کو وارث نہ بنا دیں ۔قرآن پاک کے معاملہ میں اﷲ سے ڈرو ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ قرآن پاک پر عمل کرنے میں غیر قومیں تم پر سبقت نہ لے جائیں ۔نماز کے معاملہ میں اﷲ سے ڈرو کیونکہ یہ دین کا ستون ہے ۔تم اپنے پرودگار کے گھر ( مسجد ) کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو اور جب تک تم زندہرہو کسی بھی وقت اسے خالی نہ چھوڑو کیونکہ اگر اُسے خالی چھوڑ دیا گیا تو کوئی وہاں نظر نہیں آئے گا ۔جہاد کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو اور اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرو ۔زکوٰة کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو کیونکہ یہ اﷲ کے غضب کو بجھاتی ہے ۔اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذمہ داری کے لئے بھی اﷲ سے ڈرو اور اِس بات سے اﷲ سے ڈرو کہ تمہارے موجود ہوتے ہوئے کسی پر ظلم نہ کیا جائے ۔اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اﷲ عنہم کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِن کے بارے میں وصیت فرمائی ہے ۔فقراءاور مساکین کے بارے میں اﷲ سے ڈرو اور انہیں اپنی روزیوں اور کھانے میں شریک کرو۔اپنے غلاموں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو ۔نماز ادا کرو ،نماز ادا کرو ۔دین کے معاملے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرنا ۔اگر کوئی تمہیں نقصان پہنچا نا چاہے گا اور تمہارے خلاف بغاوت کرے گا تو اﷲ تمہارے لئے کافی ہو گا ۔لوگوں کو نیک بات کا حکم دو جیسا کہ اﷲ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔ ” امربالمعروف اور نہی عن المنکر “ کو ترک نہیں کرنا ۔اگر تم بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دو گے تو اﷲ تعالیٰ تمہارے اوپر بُرے لوگوں کو حاکم بنا دے گا ۔پھر تم دعا کرو گے تو تمہاری دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی ۔صلہ رحمی کرو اور اﷲ کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ پشت دکھانے ، قطع رحمی اور تفرقہ اندازی ( فرقہ بندی ) سے احتراز کرو۔نیکی اور تقویٰ کے معاملے میں ایک دوسرے کی اعانت کرو اور نافرمانی اور سرکشی میں کسی کی اعانت نہ کرو اور اﷲ سے ڈرو کیونکہ اﷲ سخت عذاب دینے والا ہے ۔اﷲ تعالیٰ تمہاری اور تمہارے اہل بیت کی حفاظت کرے جیسے اُس نے اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی حفاظت کی ۔میں تمہیں اﷲ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلام اور اﷲ کی رحمت بھیجتا ہوں ۔“ 

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر آخرین کے شقی القلب آدمی نے حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ لا الہ الا اﷲ پڑھنے میں مشغول رہے حتیٰ کہ روح عالم بالا کو پرواز کر گئی ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت ماہ ِ رمضان المبارک ۰۴ ہجری میں ہوئی ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اور حضرت عبد اﷲ بن جعفر طیار رضی اﷲ عنہم نے غسل دیا ۔ تین کپڑوں کا کفن پہنایا گیا جس میں قمیص نہیں تھی اور حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی مدت ِ خلافت پانچ سال میں تین مہینے کم رہی یعنی چار سال نو مہینے رہی ۔ پھر چھ مہینے تک حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ نے خلافت سنبھالی۔

خلیفۂ چہارم رضی اﷲ عنہ کا خواب

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے ایک خواب دیکھا ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : ۷۱ رمضان المبارک ۰۴ ہجری کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے علی الصباح بیدار ہو کر اپنے صاحبزادے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” رات کو میں نے خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے شکایت کی ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت نے میرے ساتھ کجروی اختیار کی ہے اور سخت اختلاف میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اﷲ سے دعا کرو ۔“ میں نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی : ” اے اﷲ ! مجھے تُو ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے ۔“ ابھی آپ رضی اﷲ عنہ اتنا کہہ ہی رہے تھے کہ موذن نے آواز دی ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھانے کے لئے گھر سے نکلے اور راستے میں لوگوں کو نماز کے لئے آواز دے دے کر جگاتے جا رہے تھے کہ اتنے میں ابن ملجم سے سامنا ہوا اور اُس نے اچانک آپ رضی اﷲ عنہ پر تلوار کا بھر پور وار کیا ۔ وار اتنا شدید تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ پر جا کر ٹھہری ۔اتنی دیر میں لوگ چاروں طرف سے لوگ دوڑ پڑے اور قاتل کو پکڑ لیا ۔یہ ذخم بہت کاری تھا پھر بھی آپ رضی اﷲ عنہ جمعہ اور سنیچر تک زندہ رہے اور اتوار کی رات میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ( تاریخ الخلفا ء) 

آخرین کے شقی القلب کا انجام

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے وصیت کی تھی کہ قاتل کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کو قاتل کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا اور پھر فرمایا : ” اے بنو عبد المطلب ! کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون کو نہ بہا دینا اور یہ کہتے پھرو کہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ قتل کر دیئے گئے سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہیں کرنا ۔اے حسن رضی اﷲ عنہ ! اگر میں اِس کے وار سے مر جاو¿ں تو تم بھی قاتل کو ایک ہی وار سے ختم کرنا کیونکہ ایک وار کے بدلے میں ایک وار ہی ہونا چاہیئے اور قاتل کا مثلہ نہیں کرنا کیونکہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :” تم لوگ مثلہ کرنے سے احتراز کرو چاہے باؤلے کتے ہی کا کیوں نہ ہو ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ نے ابن ملجم کو طلب کیا ۔اُس شقی القلب شخص نے آپ رضی اﷲ عنہ سے کہا : ” کیا تم ایک اچھا کام کرو گے ؟ وہ یہ کہ میں نے اﷲ سے عہد کیا ہے کہ میں اسے ضرور پورا کروں گا اور وہ عہد میں نے حطیم کے قریب کیا تھا ۔وہ عہد یہ ہے کہ میں علی ( رضی اﷲ عنہ ) اور معاویہ ( رضی اﷲ عنہ ) کو ضرور قتل کروں گا یا اِس کوشش میں خود مارا جاو¿ں گا ۔اگر تم یہ پسند کرو تو مجھے معاویہ ( رضی اﷲ عنہ ) کو ختم کرنے کے لئے چھوڑ دو اور میں تم سے اﷲ کے نام پر عہد کرتا ہوں کہ اگر میں اُسے قتل کر دوں یا اُسے قتل کر کے بچ جاو¿ں تو میں خود تمہارے پاس آکر اپنے آپ کو تمہارے حوالے کر دوں گا ۔“ حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں اُس کام کے لئے تجھے ہر گز نہیں چھوڑ سکتا کہ تُو آگ کو اور بھڑکا دے ۔“ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے بڑھکر ایک ہی وار میں اسے قتل کر دیا اور آخرین کا شقی القلب آدمی اپنے انجام کو پہنچا ۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا کنبہ 

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیشہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا اور حضرات حسن اور حسین رضی اﷲ عنہما کو اپنا کنبہ مانتے تھے ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت ( مباہلہ ) نازل ہوئی تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا اور حضرات حسن اور حسین رضی اﷲ عنہم کو بلا کر دعا کی : ” اے اﷲ ! یہ میرے کنبہ کے لوگ ہیں ۔“حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم تمام لوگ مختلف درختوں کی شاخیں ہو اور میں اور علی رضی اﷲ عنہ ایک ہی درخت سے ہیں ۔“ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں