ہفتہ، 5 اگست، 2023

07 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3



07 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ


تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


قسط نمبر 7


سال 26 ہجری حرم کعبہ میں توسیع ، اسکندریہ ہاتھ سے نکل گیا، مسلمانوں کی فتح، اسکندریہ کی واپسی، 27 ہجری :شمالی افریقہ میں پیش قدمی، گریگوری (جرجیر) کو اسلام کی دعوت، دشمن کی چال اُسی کو واپس


سال 26 ہجری حرم کعبہ میں توسیع 


خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِس سال یعنی 26 ہجری میں ”حرم ِ کعبہ “ میں توسیع کا حکم دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔انہوں نے آس پاس کے لوگوں سے توسیع حرم کے لئے زمینیںخرید لی ،اُن میں سے کچھ لوگوں نے انکار کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے مکانات گرا دئے اور اور اُن کی قیمتیں بیت المال میں جمع کروادیں ۔اُن لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس جا کر چیخ و پکار کی تو اُن سے فرمایا :”میرے حِلم اور بُرد باری کی وجہ سے تمہیں یہ جرا¿ت ہوئی ہے ،جب تمہارے ساتھ خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس قسم کی کاروئی کی تھی تو تم اُن پر نہیں چیخے چلائے تھے۔“اور انہیں قید کرنے کا حکم دے دیا۔آخر کار حضرت عبد اﷲ بن خالد بن اُسید کی سفارش پر انہیں رہا کر دیا اور اُن کی منہ مانگی قیمتیں انہیں ادا کیں۔ 
﴾ملک مصر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی اصلاحات﴿
خلیفہ¿ دُوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ملک مصر فتح کر لیا تھا اور خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے انہیں ملک مصر کا گورنر (حاکم ) بنا دیا تھا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ملک مصر کا انتظام بہت ہی حکمت سے سنبھالا ۔عوام پر کم سے کم ٹیکس لاگو کیا اور انہیں اُن کے مذہب پر آزاد چھوڑ کر مانوس کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور انہیں اپنا معیار ِزندگی بلند کرنے میں اُن کی ہر ممکن مدد کی۔ اِس طرح ملک مصر کے باشندوںنے اسلام اور مسلمانوں کے کردار کو دیکھا اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے نظام ِ حکومت اتنے بہترین طریقے سے چلایا کہ ملک مصر کے باشندے اسلام سے متاثر ہو گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کے گرویدہ ہو گئے۔اُس وقت ”اسکندریہ“ملک مصر سے الگ ایک ملک تھا اِس لئے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے وہاں کے حکمراں سے سالانہ جزیہ پر صلح کرلی اور سالانہ خراج کی نگرانی اور وصولی کے لئے ایک ہزار کا لشکر وہیں تعینات کر دیا۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ خلیفہ بنے تو لگ بھگ دو ڈھائی سال تک حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ملک مصر کا گورنر(حاکم) بنائے رکھا پھر ۶۲ ہجری میںآپ رضی اﷲ عنہ کو سبکدوش کر کے اپنے رشتہ دار عبد اﷲ بن سعد کو ملک مصراور اسکندریہ کا گورنر اور وزیر خزانہ بنا دیااور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے اختیارات میں کمی کر دی 

اسکندریہ ہاتھ سے نکل گیا


حضرت عمر وبن عاص رضی اﷲ عنہ کی جگہ عبد اﷲ بن سعد نے ملک مصر کا انتظام سنبھالا ۔ اُس میں وہ صلاحیت نہیں تھی جو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ میں تھی ۔اِس لئے ملک مصر کی عوام دھیرے دھیرے اُس سے بد ظن ہونے لگی اوراسکندریہ کے سرداروں نے تو باقاعدہ بغاوت کی کاروائی شروع کر دی۔ اُس وقت سلطنت روم یورپ تک سِمٹ کر رہ گئی تھی اور اُس کا ”صدر مقام “ (راجدھانی) ”قسطنطنیہ“تھا۔ہرقل قیصر کا انتقال ہو چکا تھا اور اُس کا بیٹا ”قیصر“یعنی سلطنت روم کا بادشاہ تھا۔اُس سے اسکندریہ کے رومی سرداروں نے خفیہ مراسلت کی اور بحری بیڑوں کے ذریعے اچانک اسکندریہ پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔قیصر (رومی بادشاہ) نے تین سو جنگی بحری جہازوں کا ایک بیڑہ تیار کیا اور اُس کا سپہ سالار ”مانویل“کو بنایا۔عبد اﷲ بن سعد پوری طرح سے اسکندریہ سے غافل تھا ،مانویل نے رومی بحری بیڑے کو رات کی تاریکی میں بڑی خاموشی کے ساتھ ساحل سے لگا دیا ، اسکندریہ کے عیسائیوں نے اُس کی مدد کی اور وہاں موجود مسلمانوں کے لشکر کو گھیر لیا۔انہوں نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا لیکن رومی لشکر نے سب کو شہید کردیا اور اسکندریہ پر رومیوں کا قبضہ ہو گیا۔

مسلمانوں کی فتح


اسکندریہ پر قبضہ کرنے کے بعد مانویل آگے بڑھا اور ملک مصر پر حملہ کر کے بلا دریغ عوام کو قتل کرنے لگا اور شہروں کو جلانے لگا۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں نے اُس کے خلاف ہتھیار اُٹھا لیا اور مصری(قبطی) عوام جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا انہوں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ ملکر رومیوں کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو رومی حملے اور اسکندریہ پر قبضے کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو اسلامی لشکر کا سپہ سالار بنا دیا اور رومیوں سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ پندرہ ہزار مسلمان مجاہدین کو لیکر رومیوں کے مقابلے پر آئے ،اِس لشکر میں غیر مسلم مصری بھی شامل ہو گئے ۔ادھر مانویل شہروں کو فتح کرتا اور جلاتا ہوا ”بابلیون“تک پہنچ چکا تھا جو مسلمانوں کی فوجی چھاونی تھی۔حضرت عمر بن عاص رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر آگے بڑھے اور قلعہ نقیوس کے قریب ساحل سمندر پر دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے صف آراءہو گئے اور جنگ شروع ہو گئی ۔یہ جنگ اِس بات کا فیصلہ کرنے والی تھی کہ کون ملک مصر پر قابض رہے گا؟اِسی لئے مسلمان اور رومی دونوں نے ایکدوسرے پر شدید حملے کئے ۔گھمسان کی جنگ چل رہی تھی اور مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے لگے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے گھوڑے کو ایک تیر لگ گیا اور وہ سواری کے قابل نہیں رہا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے پید ل ہی دشمنوں پر حملہ کر دیا اور دشمنوں کی صفوں کو چیر کر رکھ دیا۔مسلمانوں نے اپنے سپہ سالار کی یہ شجاعت دیکھی تو اتنے جوش سے ایک ساتھ حملہ کیا کہ رومیوں کے پیر اُکھڑ گئے اور وہ شکست کھا کر بھاگنے لگے۔

اسکندریہ کی واپسی


حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں نے رومیوں پر فتح حاصل کی اور رومی جان بچا کر اسکندریہ کی طرف بھاگے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ایک تازہ دم گھوڑے پر سوار ہوئے اور لشکر کو حکم دیا کہ رومیوں کا تعاقب کرو۔بھاگے ہوئے رومیوں نے اسکندریہ کے قلعوں میں پناہ لی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔جب محاصرہ طول کھنچنے لگا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے قلعوں کی فصیلوں کو توڑنے کا حکم دے دیا۔تمام قلعوں کی فصیلوں کو توڑ دیا گیا اور تمام رومیوں کو قتل کر دیا گیا ۔اُن کا سپہ سالار مانویل بھی قتل کر دیا گیا ،کچھ رومیوں نے جو پہلے ہی بھاگ کر اپنے بحری بیڑے میں چلے گئے تھے ،صرف وہی جان بچا سکے اور انتہائی شرمناک شکست کھا کر کچھ جہاز لیکر قسطنطیہ بھاگ گئے اور باقی جہازوں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔اِس طرح اسکندریہ رومیوں سے پاک ہو گیا اور جن مقامی رومیوں نے مصریوں کے مال و جائداد پر قبضہ کر لیا تھا اُس کے بارے میں مصریوں نے شکایت کی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے تفتیش کے بعد مصریوں کے مال و جائدا دانہیں واپس دلائے۔اِس کے بعد عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ میں کچھ تنازعہ ہوا تو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ واپس بلا لیا۔

27 ہجری :شمالی افریقہ میں پیش قدمی


خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں جب حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ملک مصر فتح کیا تھا تو آگے بڑھ کر شمالی افریقہ کے شہر برقہ کا رخ کیا اور وہاں کے رہنے والوں نے تیرہ ہزار دینار جزیہ دیکر صلح کر لی تھی۔خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو آگے بڑھنے سے منع کر دیا تھا اور ملک مصر کے انتظام پر توجہ دینے کا حکم دیاتھا ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جب عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو ملک مصر کا گور نر بنایا تو اُس نے شمالی افریقہ میں پیش قدمی کی اجازت مانگی جو خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ نے دے دی۔(ہمارے وقت میں پورے بر اعظم افریقہ کو ”افریقہ“کہا جاتا ہے اور طرابلس ، طنجہ ، تیونس اور مراقش ”شمالی افریقہ“میں آتے ہیں۔لیکن اُس وقت اِسی شمالی افریقہ کو ہی ”افریقہ“کہا جاتا تھااور اِسی لئے اُس وقت کے مورخین نے افریقہ ہی لکھا ہے۔)اُس وقت شمالی افریقہ پر ”گریگوری“(جرجیر) حکمراں تھا جو سلطنت روم کو خراج ادا کیا کرتا تھا۔اِس علاقے میں رومی اور بربری کثرت سے آباد تھے ۔ 26 ہجری میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو شمالی افریقہ میں پیش قدمی کی اجازت دی اور حوصلہ افزائی کے لئے لکھا کہ اگر اﷲ تعالیٰ تمہیں فتح و کامرانی عطا فرمائے گا تو مال غنیمت کے خمس کا خمس ”حسن خدمت“کے صلہ میں تم کو دیا جائے گا۔

گریگوری (جرجیر) کو اسلام کی دعوت


خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو شمالی افریقہ میں آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت عثمان ذوالنورین رضی اﷲ عنہ نے عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو افریقہ میں آگے بڑھنے کی اجازت دے دی اور فرمایا :”اگر اﷲ تعالیٰ کامیابی و فتح یابی عنایت فرمائے گا تو مال غنیمت کے خمس کا خمس (یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ) ” حسن خدمت “ کے صلہ میں تمہیں دیا جائے گا۔“لشکر کے ایک حصہ کا کمانڈر حضرت عتبہ بن نافع بن عبد القیس رضی اﷲ عنہ کو اور دوسرے حصہ کا کمانڈر حضرت عبد اﷲ بن نافع بن حارث کو بنایا۔دس ہزار مجاہدین کو لیکر عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح اُسوقت کے افریقہ کی سرحد پر پہنچ گیا اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے افریقہ کے اندرونی حصہ میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ نے بڑے بڑے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کیا اور مدینۂ منورہ سے ایک لشکر روانہ کیا جس میں حضرت عبد اﷲ بن عباس ،حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق ،حضرت عمرو بن عاص ، حضرت ابن جعفر طیار ،حضرت امام حسن ،حضرت امام حسین اور حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہم جیسے جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم شامل تھے۔ یہ لشکر عبد اﷲ بن ابی سرح کے پاس پہنچا تو برقہ میں حضرت عقبہ بن نافع رضی اﷲ عنہ بھی اپنے لشکر کے ساتھ آکر مل گئے۔افریقہ کا بادشاہ گریگوری (جرجیر) طرابلس اور طنجہ کے درمیانی شہروں پر حکمرانی کر رہا تھا ۔یہ ہرقل یعنی سلطنت روم کا ماتحت اور خراج گذار تھا۔جب اسے اسلامی لشکر کی خبر ملی تو اُس نے بھی اپنا لشکر تیار کیا جو ایک لاکھ بیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا۔وہ اپنا لشکر لیکر شہر ”سبیطلہ“ سے ایک رات کی مسافت پر پہنچ کر صف بندی کرلی۔عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح بھی لشکر لیکر وہاں پہنچ گیا اور صف بندی کرلی۔اِس کے بعد اُس نے جرجیر کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ،اُس نے انکار کر دیا اور جزیہ دینا بھی منظور نہیں کیا۔

دشمن کی چال اُسی کو واپس


مسلمانوں اور افریقیوں کے لشکر ایکدوسرے کے آمنے سامنے صف بندی کر کے تیار تھے ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔جرجیر نے جنگ کرنامنظور کیا اور جنگ شروع ہو گئی جس نے طول کھینچ لیا۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو طویل مسافت کی وجہ سے جنگ کی کوئی خبر نہیں ملی توآپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر مسلمانوں کی کمک کے طور پر روانہ کیا۔یہ لشکر اُس وقت پہنچا جب شدید گھمسان کی جنگ ہو رہی تھی ،مسلمانوں نے امدادی لشکر پہنچنے پر نعرۂ تکبیر اﷲ اکبر بلند کیا تو جرجیر نے نعرے کی آواز سن کر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی امداد کے لئے تازہ دم لشکر آیا ہے ،جرجیر یہ سن کر فکرمند ہو گیا۔اگلے دن عبد الرحمن بن زبیر رضی اﷲ عنہ میدان جنگ میں آئے تو عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو نہیں پایا ۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ جر جیر نے اعلان کرایاہے کہ ”جو شخص ابن ابی سرح کا سر کاٹ کر لائے گا اُس کو صلہ میں ایک لاکھ دینار میں دوں گا اور اپنی بیٹی سے اُس کی شادی کر دوں گا۔“اِس وجہ سے ابن ابی سرح میدان میں نہیں آیا ہے ۔حضرت عبد الرحمن بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے یہ سن کر عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو مشورہ دیا کہ تم بھی اپنے لشکر میں اعلان کرادو ”جو شخص جرجیر کا سر لیکر آئے گا میں اُسے مال غنیمت سے ایک لاکھ دینار دوں گا اور جرجیر کی بیٹی سے اُس کی شادی کر دوں گااور اُس کے ملک کا گورنر (حاکم) بنا دوں گا۔“جرجیر یہ اعلان سن کر بہت گھبرا یا لیکن اب میدان جنگ میں آنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں