07 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 7
جنگ کسکر، جالینوس کی شکست اور فرار، جنگ حسبر یاجنگ جسر، حضرت ابو عبید ثقفی کی شہادت اور مسلمانوں کی ہزیمت، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی دور اندیشی، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو اطلاع، حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے لئے مزید کمک، دونوں لشکروں کی صف بندی، جنگ بویب، شکست خوردہ لوگوں کا تعاقب، تمام فارسی چوکیوں اور ساباط کی فتح، یزد جرد(گرد)سلطنت ِفارس کا کسریٰ(حکمراں)، خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے امداد اور مشورہ،
جنگ کسکر
مسلمانوں کے ہاتھوں نمارق میں شکست کھانے کے بعد فارسی سپاہی کسکر کی طرف بھاگے ،تاکہ نرسی کے پاس پناہ لیں۔نرسی کسریٰ کا خالہ زاد بھائی تھا،اور کسکر اُ سکی جاگیر تھی،اور نرسیان اُس کا خاص باغ تھا۔اُس کے پھل وغیرہ نرسی کے خاندان والوں کے علاوہ کسی کو میسر نہیں تھے،اور نہ ہی وہاں کسی کو بولنے کی اجازت تھی۔رستم اور بوران نے نرسی سے کہا کہ جاو¿ اپنی جاگیر کو اپنے اور ہمارے دشمن سے بچاو¿،اور مرد بنو۔جب نمارق میں فارسیوں کو شکست ہوئی اور بھاگے ہوئے فارسی کسکر پہنچے تو نرسی اُس وقت اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲعنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دشمنوں کا تعاقب کرو،اور ان کو نمارق سے بارق ورتا تک ہلاک کرتے چلے جاو¿،یا پھر نرسی کے لشکر میں گھسا دو۔اور لشکر لیکر کسکر پہنچ گئے۔مسلمانوں کے لشکر کی ترتیب وہی تھی جو جابان سے مقابلے کے وقت تھی۔نرسی کے میمنہ اور میسرہ پر اُس کے دو ماموں زاد بھائی بندویہ اور تیرویہ بسطام کے بیٹے تھے۔یہ دونوں کسریٰ کے بھی ماموں زاد بھائی تھے۔بوران اور رستم کو جابان کی شکست کی اطلاع ملی تو انہوں نے جالینوس کو نرسی کی امداد کے لئے روانہ کیا۔نرسی کو جب اُس کے آنے کی اطلاع ملی تو اُسے اُمید ہوئی ،لیکن حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ بھی با خبر تھے۔اِس لئے جالینوس کے آنے سے پہلے ہی سقاطیہ کے مقام پر نرسی کے لشکر پر حملہ کردیا۔یہ ایک چٹیل میدان تھا،یہاں بڑی شدت کا معرکہ ہوا۔اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ،نرسی بھاگ گیا ،اور کسکر پر مسلمانوںکا قبضہ ہو گیا۔بے شمار مال غنیمت اور کھانے کے ذخیرے حاصل ہوئے۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے قریب کے آباد عربوں کو بلا لیا،اور انہیں اجازت دی کہ جتنا چاہیں لے جائیں۔اور نرسی کے خزانوں پر قبضہ کر لیا۔مگر مسلمانوں کو سب سے زیادہ خوشی نرسی کے باغ کو حاصل کر کے ہوئی۔مسلمانوں نے اِس باغ کو آپس میں تقسیم کر لیا،اور اِس کے پھل کاشتکاروں کو کھلائے،اور مال غنیمت کے خمس کے ساتھ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھی بھیجے۔
جالینوس کی شکست اور فرار
کسکر کی فتح کے بعد حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ وہیں رک گئے ،اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو بارو سما کی طرف،حضرت والق کو زوابی کی طرف،اور حضرت عاصم کو نہر جوبر کی طرف بھیجا۔اِن کمانڈروں نے اِن مقامات پر موجود فوجوں کو شکست دی۔اِس علاقے کے سردار فروخ اور فروند اذ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اور جزیہ ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔انہوں نے اِن دونوں کوحضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔اِن دونوں میں سے ایک باروسما کی طرف سے اور دوسرا نہر جوبر کی طرف سے آیا تھا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے اِن سے فی کس سالانہ چار دینار جزیہ پر معاہدہ کر لیا۔زوبی اور کسکر والوں پر بھی یہی جزیہ لاگو کیا گیا۔جابان اور نرسی کی مدد کے لئے رستم اور بوران نے جالینوس کو روانہ کیا تھا،لیکن اُس کے پہنچنے سے پہلے ہی حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے اُن دونوں کو شکست دے دی۔یہ دیکھ کر جالینوس بارو سما کے قریب باقسیا ثا کے علاقے میں ہی ٹھہر گیا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُس کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے،اور باقسیا ثا میں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔مسلمانوں نے اتنا شدید حملہ کیا کہ فارسیوں کے ہوش اُڑ گئے،اور انہیں شکست فاش ہوئی ۔جالینوس بھاگ گیا،اور وہاں کا تما م علاقہ حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کے قبضے میں آگیا۔
جنگ حسبر یاجنگ جسر
اِس کے بعد جنگ حسبر یا جنگ جسر پیش آئی۔کچھ علمائے کرام اسے جنگ حسبر کہتے ہیں،اور کچھ علمائے کرام اسے جنگ جسر کہتے ہیں۔ باقسیاثا میں شکست کھانے کے بعد جالینوس اور اُس کے ساتھ کی فوجیں رستم کے پاس پہنچیں،تو رستم نے فارسیوں(ایرانیوں)سے دریافت کیا کہ عربوں کے لئے زیادہ سخت آدمی کون ہے؟انہوں نے کہا کہ بہمن جاذویہ ہے۔رستم نے بہمن جاذویہ کو لشکر لیکر مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا۔اُس کے لشکر میں بہت سے دیو پیکر ہاتھی بھی تھے۔اور جالینوس کو بہمن کے ساتھ روانہ کیا،اور کہا کہ جالینوس کو آگے رکھنا،اور اُس سے پھر پہلے جیسی حرکت سرذد ہو تو اُس کی گردن مار دینا۔بہمن جاذویہ لشکر لیکر روانہ ہوا ”درفش کاویانی“جو فارسیوں(ایرانیوں) کے نزدیک فتح کا نشان تھا،اور کسریٰ کا علم(جھنڈا) تھا،وہ اُس کے ہمراہ تھا۔یہ جھنڈا چیتے کی کھال کا بنا ہوا تھا،اور آٹھ ہاتھ چوڑا اور بارہ ہاتھ لمبا تھا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ آگے بڑھ کر مقام ”مروحہ“میں جو برج اور عاقول کی جگہ پر واقع ہے،پڑاو¿ ڈال دیا۔دونوں لشکروں کے درمیان دریائے فرات بہہ رہا تھا۔بہمن جازویہ نے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کو پیغام دیا کہ یا تو تم دریائے فرات پار کر کے اِس پار آجاو¿،یا ہم کو اپنی طرف آنے کی اجازت دو۔لشکر کے کئی کمانڈروں نے رائے دی کی فارسیوں کو دریا پار کرنے دیا جائے،اِن میں حضرت سُلیط سب سے آگے تھے۔لیکن حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ جوش میں آگئے،اور کسی کا مشورہ قبول نہیں کیا ،اور فرمایا:”وہ لوگ ہم سے زیادہ موت کے لئے جری نہیں ہوسکتے ہیں،ہم خود دریا پار کر کے اُس طرف جائیں گے۔“اب مسلمان دریا پار کر کے فارسیوں کے لشکر کے سامنے آگئے۔جنگ شروع ہوئی اور دونوں طرف سے بہت شدت سے حملے ہو رہے تھے۔پورا دن جنگ ہوتی رہی ،جب شام ہونے لگی تو بنو ثقیف کے ایک شخص نے چند لوگوں کو جمع کیا،انہوں نے تلواروں سے مصافحے کئے اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔لگ بھگ چھ ہزار فارسیوں(ایرانیوں) کو مسلمان قتل کر چکے تھے۔لیکن فارسیوں کا لشکربہت زیادہ تھا۔
حضرت ابو عبید ثقفی کی شہادت اور مسلمانوں کی ہزیمت
جنگ بڑی شدت سے جاری تھی،اور دونوں فریقین بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے،فارسیوں کے پاس ہاتھیوں کے ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو ہاتھیوں سے بہت پریشانی ہو رہی تھی ۔کیونکہ ہاتھیوں کو دیکھکر اُن کے گھوڑے آگے بڑھنے سے انکار کر دیتے تھے۔اِن ہاتھیوں پر زنگولے پڑے ہوئے تھے،اور وہ مسلمانوں کے گھوڑوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے تھے۔جب کبھی مسلمان اُن پر حملے کے لئے آگے بڑھتے تو زنگولوں کی آواز سے اور دیو پیکر ہاتھیوں کو دیکھ کر گھوڑے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔اِس کے بعد بھی مسلمانوں نے چھ ہزار فارسیوں(ایرانیوں )کو قتل کر دیا۔لیکن ہاتھیوں کی وجہ سے مسلمانوں کو مسلسل پریشانی ہو رہی تھی۔آخر کار حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ گھوڑے سے اُتر گئے،اور ہاتھیوں کی سونڈوںاور پیروں پر تلوار سے حملے کرنے لگے۔کئی ہاتھیوں کی سونڈ اور پیر کاٹنے کے بعد اچانک ایک ہاتھی کے پیر کے نیچے آگئے،اور شہید ہوگئے۔یہ بہمن جاذویہ کا خاص سفید ہاتھی تھا،اور جب اُس نے دیکھا کہ حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ پیدل ہیں،اور مسلسل ہاتھیوں کو بے کار کر رہے ہیں،تو اس نے اپنے سفید ہاتھی کو پیچھے سے اُن کے اوپر چڑھا دیا۔ان کی شہادت سے مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ پسپا ہونے لگے۔حالانکہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ،اور آگے بڑھ بڑھ کر حملے کرتے رہے،اور اِس میں کافی زخم بھی کھائے ۔لیکن مسلمان پیچھے ہٹنے لگے،انہیں روکنے اور جنگ پر آمادہ کرنے کے لئے بنو ثقیف کے ایک شخص نے رسی کا پل کاٹ دیا۔لیکن یہ ایک اور بڑا نقصان ثابت ہوا،اور مسلمانوں کے لئے دریا پار کرنا مشکل ہو گیا۔
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی دور اندیشی
حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے وصیت کی تھی کہ اگر میں شہید ہو جاو¿ں تو بنو ثقیف کا فلاں شخص سپہ سالار ہو گا،اِس طرح بنو ثقیف کے سات لوگوں کے بارے میں فرمانے کے بعد حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا اِن کے شہید ہونے کے وہ سپہ سالار ہوں گے۔بنو ثقیف کے ساتوں سپہ سالار ایک کے بعد ایک شہید ہوئے،لیکن انہوں نے لشکر کو پیچھے ہٹنے کا حکم نہیں دیاتھا۔بلکہ جانبازی اور بہادری سے لڑنے کی تلقین کرتے رہے۔لیکن حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ اِس طرح تو پورا اسلامی لشکر کام آجائے گا۔اس لئے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی وصیت کے مطابق جب وہ سپہ سالار بنے ،تو انہوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی۔اورایسے وقت میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جلدی سے پُل بنائیں ،تب تک ہم فارسیوں کو روکتے ہیں۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت عاصم ضمی،اور حضرت مذعور کے ساتھ اپنے اپنے دستے لیکر فارسیوں کے مقابلے پر دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے۔اور زبردست مقابلہ کرتے رہے،یہاں تک کہ پُل دوبارہ تیار ہو گیا،اور مسلمان دریا پار کر نے لگے۔جب آخری مسلمان بھی دریا پار کر گیا تو سب سے آخر میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فارسیوں سے مسلسل جنگ کرتے ہوئے دریا پار کیا۔فارسی سپاہی پل پر بھی لڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے،جیسے ہی تمام مسلمانوں نے دریا پار کیا،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے پل کاٹنے کا حکم دے دیا۔فوراًپل کاٹ دیا گیا ،اور اُس پر موجود سینکروں فارسی سپاہی دریائے فرات میں گر گئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ بہت شدید زخمی ہو چکے تھے،انہوں نے مسلمانوں کو مروحہ میںہی رکے رہنے کا حکم دیا۔ اِس جنگ میں لگ بھگ چار ہزار مسلمان شہید ہوئے،اور کچھ مسلمان اِدھر اُدھر بھاگ گئے۔اِن میں سے بعض لوگ مدینہ منورہ میں آکر روپوش ہو گئے،خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس کا علم ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے اﷲ کے بندو!میری طرف سے ہر مسلمان آزاد ہے،میں ہر مسلمان کا رفیق ہوں۔اﷲ حضرت ابو عبید رضی اﷲ عنہ پر رحم فرمائے،کاش وہ خیف میں پناہ گزیں ہو جاتے ،یا جنگ نہ کرتے ،اور ہمارے پاس آجاتے تو ہم لوگ اُن کے رفیق ہوتے۔“
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو اطلاع
اِس جنگ حسبر میں لگ بھگ چار ہزار مسلمان شہید ہوئے،دوہزار اِدھر اُدھر بھاگ گئے،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مروحہ میں صرف تین ہزار مسلمان رہ گئے تھے۔خود آپ رضی اﷲ عنہ بہت بری طرح سے زخمی تھے،اور سفر کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔اِس لئے وہیں مروحہ میں قیام کرنے حکم دیا،اور تمام حالات لکھوا کر حضرت عبداﷲ بن زید انصاری کے ہاتھوں مدینہ منورہ بھیج دیئے۔یہ واقعہ رومیوں سے جنگ یرموک کی فتح کے چالیس دنوں بعد پیش آیا۔اُدھر ملک شام سے فتوحات کی خبریں آرہی تھیں،اور ساتھ ہی ملک عراق سے بھی فتوحات کی خبریں آرہی تھیں کہ اچانک جنگ حسبر کی ہزیمت کی خبر مدینہ منورہ پہنچی۔خلیفہ ¿دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو زخم مندمل ہونے تک وہیں قیام کرنے کا حکم بھیجا،اور مزید کمک بھیجنے کے لئے ملک شام میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ جو دس ہزار مجاہدین حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملک شام گئے تھے،انہیں فوراً حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجو۔اُدھر سلطنت فارس کے صدر مقام(ایران )میں خانہ جنگی شروع ہوگئی تھی،اِس کی اطلاع بہمن جازویہ کو ملی تو وہ اپنے لشکر کو لیکر واپس صدر مقام چلا گیا،اور مسلمانوں کو سنبھلنے کا موقع مل گیا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ تندرست ہونے کے بعد لشکر لیکر اُلیس میں آگئے۔
حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے لئے مزید کمک
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ تین ہزار مجاہدین کے لشکر کو لیکر اُلیس میں آگئے۔اور یہاں لشکر کے لئے بھرتی کرنے لگے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جانے والے مجاہدین کو ملک عراق واپس بھیجنے کا حکم دیا تھا،اِس کے علاوہ مدینہ منورہ سے بھی لشکر تیار کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس مزید کمک بھیج رہے تھے۔اِس کے لئے حضرت جریر بن عبداﷲ کو ایک لشکر دیکر روانہ کیا،اس کے علاوہ حضرت عصمہ بن عبد اﷲ کو بھی ایک لشکر دیکر روانہ کیا۔اور جوبھی لوگ جہاد کے لئے حاضر ہوتے ،انہیں آپ رضی اﷲ عنہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجتے رہے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کے بارے میں رستم اور فیزران کو برابر خبر مل رہی تھی۔اُن دونوں نے بوران سے مشورہ کر کے مہران کو لشکر دیکر حیرہ کی طرف جانے کا حکم دیا۔اُس وقت حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر اور مدد گار قبائل کے ساتھ قادسیہ اور خفان کے درمیان ”مرج السباخ“ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔حضرت بشیر اُن دنوں حیرہ کا نتظام سنبھالے ہوئے تھے،جب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو مہران ہمدانی کے حضرت بشیر کی طرف جانے کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر فرات باد قلی میں آگئے۔اور حضرت جریر بن عبد اﷲ اور کمک کے لئے آنے والوں کو جلدی پہنچنے کا پیغام بھیجا۔حضرت جریر بن عبد اﷲ نے حضرت عصمہ اور دوسرے قائدین کو جلدی پہنچنے کو کہا،اور خود بھی تیزی سے آگے بڑھے۔
دونوں لشکروں کی صف بندی
حضرت مثنی ٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس جب حضرت جریر اور حضرت عصمہ اپنے اپنے لشکر کے ساتھ پہنچ گئے تو آگے بڑھ کر بویب میں مہران ہمدانی کے راستے پر پڑاو¿ ڈال دیا۔بویب اُس وقت دریائے فرات کی ترائی میں تھا،اُس کا پانی جوف میں گرتا تھا۔مسلمان موضع الزارق میں اور فارسی موضع السکون میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔قبیلہ بنو نمر کا انس بن ہلال نمری ،اور قبیلہ بنو تغلب کا عبد اﷲ بن کلیب۔یہ دونوں عیسائی اپنے عیسائی ساتھیوں کے ساتھ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس مدد دینے کے لئے آئے۔اور کہا کہ ہم عیسائی ہیں،اور آپ مسلمان ہیں،لیکن ہم دونوں عرب ہیں،اور ہمارا دشمن عجمی ہے،اور آگ کی پوجا کرتا ہے۔اِس لئے ہم آپ کا ساتھ دینا چاہتے ہیں،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اجازت دے دی۔مہران ہمدانی نے پیغام بھیجا کہ تم دریائے فرات پار کر کے آو¿ ،یا ہمیں پار کر کے آنے دو۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فارسیوں کو دریائے فرات پار کرنے کی اجازت دے دی۔دریا پار کرنے کے بعد مہران ہمدانی نے لشکر کی صف بندی کی،اور تین صف بنا کر مسلمانوں کے مقابلے پر آئے۔ہر صف میں دیو پیکر ہاتھی تھے،اور ہاتھیوں کے آگے پیدل فوج تھی۔میمنہ پر ابن آزاذبہ ،اور میسرہ پر مروان شاہ کمانڈر تھا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے میمنہ پر حضرت مذعور اور میسرہ پر حضرت النسیر کو کمانڈر بنایا۔سواروں کے کمانڈرحضرت عاصم کو کمانڈربنایا،اور پیشرو دستوں کا کمانڈر حضرت عصمہ کو بنایا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے گھوڑے شموس پر سوار تھے،یہ بہت ہی عمدہ نسل کا اور شریف تھا۔یہ ماہ رمضان کا زمانہ تھا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی:”تم لوگ روزے سے ہو،چونکہ روزہ آدمی کو کمزور اور نڈھال کرتا ہے،اِس لئے میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ روزہ افطار کر لو۔اور کھانا کھا کر دشمن سے لڑنے کے لئے مضبوط ہو جاؤ۔“سب نے کہا کہ یہ مناسب ہے ،اور روزے افطار کر لئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص صف سے آگے نکل کر جنگ کے لئے کودنا چاہتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دریافت کیا کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟لوگوں نے بتایا کہ یہ جنگ حسبر میں بھاگ گیا تھا،اور اب اپنی جان دینا چاہتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے پیچھے صف میں دھکیلا،اور فرمایا:”تم اپنی جگہ جمے رہو،جب تمہارے پاس کوئی دشمن آئے ،اُس وقت اپنے ساتھی کو اُس کے حملے سے بچانا،اور بےکار میں اپنی جان ضائع مت کرنا۔“اُس شخص نے کہا:”ہاں !میں اِسی قابل ہوں۔“اور صف میں اپنی جگہ جم گیا۔
جنگ بویب
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد فرمایا:”میں تین تکبیریں کہوں گا،تم اِن پر تیار ہو جانا۔اور چوتھی تکبیر سنتے ہی دشمن پر حملہ کر دینا۔“جب آپ رضی اﷲ عنہ نے پہلی تکبیر کہی تو فارسیوں نے جلدی سے حملہ کردیا،اور مسلمانوں نے بھی گڑبڑا کر مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔جس کی وجہ سے صفوں میں کچھ خلل واقع ہوا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آج مسلمانوں کو رسوا مت کرو۔“یہ سنتے ہی انہوں نے صفیں درست کیں ۔اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔جنگ دھیرے دھیرے شدت اختیار کرنے لگی،اور جب طول پکڑ گئی ،اورسخت ہو گئی ۔تب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے انس بن ہلال کے پاس جاکر فرمایا:”اے انس!حالانکہ تم ہمارے دین پر نہیں ہو ،مگر بہادر عرب ضرور ہو۔جب تم مجھ کو مہران پر حملہ کرتے دیکھو ،تو تم بھی میرے ساتھ حملہ کرنے لگنا۔“اور یہی بات انہوں نے ابن مرویٰ الفہر سے بھی کہی۔دونوں نے خوشی سے منظور کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مہران ہمدانی پر حملہ کر کے اُسے سامنے سے ہٹا دیا،اور اُس کے میمنے میں گھس گئے۔اور فارسیوں کی گردنیں اُڑانے لگے۔دونوں طرف کی قلب کی فوجیں ایک جگہ جمع ہو گئیں،اور اتنی دھول اُڑی کہ آسمان تک غبار کا بادل چھا گیا۔بازوو¿ں کی فوجیں خوں ریزی میں مصروف تھیں،نہ فارسی اپنے سپہ سالار کی مدد کر سکتے تھے،اور نہ مسلمان ۔بنو تغلب کے ایک عیسائی نوجوان نے مہران ہمدانی کو قتل کردیا،اور اُس کے گھوڑے پر سوار ہو کر اُس کی موت کا اعلان کیا،تو فارسیوں(ایرانیوں) میں مایوسی پھیل گئی۔اور اب وہ لڑنے کے بجائے فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ یہ دیکھ کر فوراً پل پر گئے ،اور اُسے کاٹ دیا۔جس کی وجہ سے فارسی دریا پار نہیں سکے ،اور مسلمانوں نے انہیں چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں نے انہیں کاٹ کاٹ کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے ،عرب و عجم کی کسی لڑائی کی بوسیدہ ہڈیاں اتنے عرصے تک باقی نہیں رہی تھیں ،جیسی کہ اِس جنگ میں باقی رہیں۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے بعد میں پل کا راستہ روکنے پر ندامت کا اظہار کیا،اور فرمایا:”میں نے پل کی طرف بڑھ کر اور اُس کو توڑ کر بے بس دشمنوںکو تنگ کردیا تھا۔اﷲ نے ہم کو اس کے شر سے محفوظ رکھا۔آئندہ میں ایسی حرکت نہیں کروں گا۔اے لوگو!تم بھی ایسا کبھی نہیں کرنا ،اور میری تقلید نہیں کرنا۔جس جماعت میں مدافعت کی قوت موجود ہو ،اُس کو کبھی تنگ نہیں کرنا چاہیئے۔
شکست خوردہ لوگوں کا تعاقب
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فتح اور مال غنیمت کی تقسیم کے بعد فرمایا:”کون سیب تک دشمنوں کا تعاقب کرے گا؟“یہ سن کر حضرت جریر بن عبد اﷲ نے اپنے قبیلے بجیلہ کے لوگوں کو اُکسایا،اور وہ تیار ہو گئے۔اِس کے بعد حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے جنگ حسبر کے بچے مجاہدین سے فرمایا:”کہاں ہے وہ شخص اور اُس کے ساتھی جو کل صفوں سے نکلے جارہے تھے۔آگے بڑھو،اور دشمنوں کا سیب تک تعاقب کرو،اور اُن سے پچھلی ہزیمت کی بھڑاس نکال لو۔تمہارے لئے یہی بہتر اور باعث ِ اجر ہے،اﷲ سے مغفرت کی درخواست کرو،اﷲ مغفرت کرنے والا اور مہربان ہے۔“اِس اعلان پر سب سے پہلے وہ شخص آگے بڑھا،جو کل صف سے آگے نکلا تھا۔اور پھر اُس کے ساتھی بھی آگے آئے،جو دشمنوں میں جاکر جان دینا چاہتے تھے۔وہ مستعدی سے آگے بڑھے ،اور دریا کی طرف جھپٹے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے لئے پل بندھوا دیا،اور شکست خوردہ لوگوں کا پیچھا کرنے کے لئے روانہ کر دیا۔اُن کے پیچھے بنو بجیلہ کے شہ سوار اور دوسرے شہ سوار بھی جھپٹے ۔یہ لوگ دشمنوں کا تعاقب کرتے کرتے سیب تک پہنچ گئے۔لشکر میں جتنے جنگ حسبر میں شامل تھے،وہ سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اِس خدمت کے لئے نکل پڑے۔اِس مہم میں بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا ۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مدینہ منورہ بھیج دیا۔اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کر دیا۔
تمام فارسی چوکیوں اور ساباط کی فتح
جنگ بویب میں فتح کے بعد سلطنت فارس کی تمام سرحدی چوکیوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔کیونکہ تمام فارسی چوکیاں ٹوٹ گئیں تھیں،اور اُن کی فوجیں بھاگ کر ساباط میں جاکر پناہ گزین ہو گئیں تھیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب مہران ہمدانی ہلاک ہو گیا ،تو مسلمانوں کو سواد کے تمام علاقے پر اُن کی فرو گاہ سے لیکر دجلہ تک دست برد کرنے کا پورا موقع مل گیا۔اور انہوں نے پورے علاقے پر قبضہ کر لیا۔کیونکہ عجمیوں کی فوجی چوکیاں ٹوٹ گئی تھیں،اور اُن کی فوجیں بھاگ کر ساباط میں پناہ گزین ہو گئیں تھیں۔انہوں نے یہی بہتر سمجھا کہ دجلہ کے اُس پارتک کا علاقہ چھوڑ دیں۔فارسیوں کے دلوں میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کا رعب ڈال دیا تھا۔اُسی لئے تعاقب میں جانے والی فوج کے قائدین اور حضرت عاصم،حضرت عصمہ،اور حضرت جریر بن عبد اﷲ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اﷲ نے ہم کو سلامتی عطا فرمائی ،اور ہمارے کام کو ہلکا کردیا۔اور جس مقصد کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے ہمیں بھیجا تھا،وہ پورا ہو گیا ہے۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں پیش قدمی کی اجازت دیں تو ہمارے لئے دشمنوں کوزیر کرنا کچھ مشکل نہیں ہوگا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اُن کو پیش قدمی کی اجازت دے دی۔اِس لئے وہ فارسیوں کو مارتے دھکیلتے ساباط تک پہنچ گئے۔تمام فارسی ساباط کے شہر میں قلعہ بند ہو گئے۔ اور مسلمانوں پر تیر اندازی شروع کر دی۔مسلمانوں کے قائدین حضر ت جریر بن عبد اﷲ ،حضرت عصمہ،اور حضرت عاصم نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ فصیل کے بڑے دروازے کو توڑ دیا،اور اندر داخل ہو گئے۔اُن کے ساتھ مسلمان بھی داخل ہو گئے ،اور ساباط کو فتح کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس واپس آگئے۔ اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲعنہ نے تکریت بھی فتح کرلیا۔
یزد جرد(گرد)سلطنت ِفارس کا کسریٰ(حکمراں)
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ سواد اور تکریت میں جس وقت مصروف تھے۔اُس وقت سلطنت ِفارس کے دارلحکومت ایران میں رستم اور فیرزان آپس میں لڑ رہے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔دونوں میں صلح کرانے کے لئے سرداران فارس جمع ہو کر اُن دونوں کے پاس گئے،اور کہا کہ تم دونوں کے اختلاف سے ہم لوگ ہلاکت میں پڑے ہوئے ہیں۔تمہاری بدولت ہم لوگ ذلت و خواری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔اِس لئے تم دونوں آپس میں متفق ہوجاو¿،ورنہ ہم پہلے تم سے لڑیں گے ،پھر اپنے دشمنوں سے لڑ کر اپنی جانیں دے دیں گے۔ملک عرب کی وحشی قومیں ،کہاں تک آگئی ہیں،اور تکریت تک پہنچ گئی ہیں۔اِس کے بعد صرف مدائن باقی رہ گیا ہے،اور وہ بھی ایک نہ ایک دن اُن کے قبضے میں چلا جائے گا،اگر تم دونوں اسی طرح لڑتے رہے۔رستم اور فیرزان اِس تقریر کو سن کر قائل ہو گئے۔یہ دونوں سرداراہل فارس کے ساتھ ملکربوارن اور خاندان کسریٰ کی عورتوں کے پاس گئے،اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی تو ایک عورت نے بتایا کہ خاندان کسریٰ کا صرف ایک نوجوان باقی ہے،جس کا نام یزد جرد(گرد)ہے۔یہ لڑکا شہر یار بن کسریٰ کی اولاد ہے،اِس کی ماں نے اسے اُس وقت اپنے بھائی کے پاس رو پوش کر دیا تھاجب شیرویہ نے اپنے بھائیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تھا۔تب سے وہ اپنے ماموں کی حفاظت میں ہے۔رستم اور فیرزان نے یہ سن کر یزد جرد کی ماں سے اُس کا پتہ پوچھ کر اُسے اُس کے ماموں کے پاس لائے،اُس وقت یزدجرد کی عمر اکیس(۱۲)سال تھی۔اور اُس کو سلطنت ِفارس کا کسریٰ یعنی حکمراں بنا دیا۔یزد جرد نے کسریٰ بنتے ہی تمام گورنروں اور سپہ سالاروں کو طلب کر کے سلطنت فارس کے تمام علاقوں کی حفاظت کی سخت تاکید کی۔اور نامی گرامی آزمودہ سپہ سالاروںکو حیرہ ،انبار اور ایلہ کی طرف کثیر التعداد لشکر دیکر روانہ کیا۔
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے امداد اور مشورہ
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو یزد جرد کی تخت نشینی ،اور لشکروں کے بھیجنے کی اطلاع ملی۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں تمام حالات لکھ کر بھیجے۔اور مزید کمک اور ہدایات مانگیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کو فارسیوں کے حالات اور اُن کا متفق رائے سے یزد جرد کو بادشاہ بنانے کی کیفیت معلوم ہوئی ،تو آپ رضی ا ﷲعنہ نے اِن واقعات کی اور اندیشہ ¿ بغاوت کی اطلاع خلیفہ¿ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجی۔ابھی اُن کے پاس قاصد خط لیکر پہنچا بھی نہیں تھا کہ سواد کے اکثر لوگ جنہوں نے مسلمانوں سے صلح کر لی تھی،انہوں نے صلح کے معاہدے کو توڑ دیا۔اور دشمنی پر آمادہ ہو گئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے دستے کو لیکر ذی قار میں آگئے،اور پورا لشکر الطف میں قیام پذیر رہا۔خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے حکم بھیجا کہ عجمیوں کے حلقوں سے نکل جاؤ،اور اپنی حدود ِسلطنت میں جہاں جہاں تمہاری اور دشمن کی سرحدیں ملتی ہیں،وہاں کے پانی کے چشموں پر پھیل جاؤ۔اور قبائل بنو مضر اور بنو ربیعہ اور اُن کے حلیفوں میں سے جتنے بہادر اور شجاع لوگ ملیں ،اُن کو لشکر میں بھرتی کر لو۔اور عجمیوں کی طرح تم بھی عربوں کو جہاد کے لئے اُبھارو،میں بہت جلد کمک بھیجنے کی کوشش کرتا ہوں۔یہ واقعہ ذوالقعدہ 13 ھجری کا ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں