06 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 6
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر حملہ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پر حملہ، حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ پر حملہ، قاتل کے بارے میں وصیت
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر حملہ
خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کی مکمل منصوبہ بندی خارجیوں ،سبائیوں نے کر لی تھی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” جب اُس جمعہ کی رات آئی جس کی صبح کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھاتو ابن ملجم اپنے ساتھیوں کے ساتھ قطامہ کے پاس پہنچا اور بولا : ” یہی وہ رات ہے جس کی صبح ہم لوگوں نے قتل کا عہد کیا تھا ۔“ اِس کے بعد قطامہ نے ریشم کی پٹی منگائی اور اُن لوگوں کے سروں پر باندھ دی ۔ اُن لوگوں نے اپنی اپنی تلواریں لیں اور اُس چوکھٹ کے قریب بیٹھ گئے جہاں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ تشریف لایا کرتے تھے ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ صبح کے وقت نماز کے لئے مسجد کے دروازے پر پہنچے تو شبیب نے بڑھ کر وار کیا جو دروازے کی چوکھٹ یا طاق پر پڑا ۔ ابن ملجم نے پیشانی پر وار کیا اور وردان بھاگ کر اپنے گھر میں گھس گیا ۔اُسی کے باپ کی اولاد میں سے ایک شخص اچانک اُس کے گھر پہنچ گیا ۔ وہ اپنے سر سے ریشم کی پٹی اُتار رہا تھا ۔اُس نے سوال کیا : ” یہ تلوار اور ریشم کی پٹی کیسی ہے ؟“ وردان نے تمام واقعہ سنایا ۔ اُس شخص نے تلوار کا وار کر کے وردان کا قتل کر دیا ۔شبیب اندھیرے میں بنو کندہ کے گھروں کی طرف بھاگا لوگ اُس کے پیچھے چلاتے ہوئے بھاگے ۔راستے میں ایک حضرمی شخص ملا ۔ جب اُس نے شبیب کے ہاتھ میں نگی تلوار دیکھی تو اُسے پکڑ لیا اور نیچے گرا دیا لیکن جب دیکھا کہ لوگ اِسی طرف آرہے ہیں تو اُسے اپنی جان کا خوف ہوا اور اُس نے شبیب کو چھوڑ دیا اور شبیب لوگوں کے ساتھ مل گیا اور اُس کی جان بچ گئی ۔ابن ملجم کو لوگوں نے گھیر کر پکڑ لیا اور ہمدان کے ایک شخص جس کی کنیت ابو ادناءتھی اپنی تلوار نکال کر ابن ملجم کے پاو¿ں پر ماری اور اُس کا پاو¿ں کاٹ ڈالا ۔ حضرت علی المرتضی رضی اﷲ عنہ زخمی ہو کر پیچھے ہٹے اور اپنی جگہ جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ۔ انہوں نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جب وہ رات آئی جس کی صبح ابن ملجم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کا اقرا رکیا تھا اور یہ جمعہ کی رات تھی تو ابن ملجم شبیب اور وردان کے ساتھ مسجد میں آیا اور اُس دروازے کے قریب چھپ کر بیٹھ گیا جس دروازے سے امیر المومنین حضرت علی المرتضی رضی اﷲ عنہ مسجد میں آتے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ تشریف لائے اور بلند آواز سے فرمایا : ” اے لوگو ! نماز ، نماز ....“ ابھی آپ رضی اﷲ عنہ اندر داخل ہوتے ہوئے اتنا ہی فرما پائے تھے کہ شبیب نے لپک کر تلوار چلائی آپ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھ گئے تھے تو دروازے پر پڑی ۔ابن ملجم نے بڑھ کر پیشانی پر تلوار کا وار کیا اور چلا کر کہا : ” حکم صرف اﷲ کا ہے اور اے علی ( رضی اﷲ عنہ ) تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نہیں ہے ۔“ وردان بھاگ کر اپنے مکان میں آیا اور اپنے بعض احباب سے اِس واقعہ کو بیان کیا انہوں نے اُس کو مار ڈالا ۔شبیب تاریکی میں بھاگا چلا جارہا تھا لوگوں نے دوڑو، پکڑو چلانا شروع کیا ۔ ایک حضرمی شخص نے پہنچ کر شبیب کی تلوار چھین لی اور گرفتار کر لیا ۔پھر لوگوں کو آتے دیکھ کر اِس خوف سے کہ مجھ کو ہی قاتل نہ سمجھ لیں چھوڑ دیا اور شبیب بھاگ گیا اور لوگوں نے ابن ملجم کو گرفتار کر لیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : پس یہ تینوں ابن ملجم ، وردان اور شبیب تلواریں لگا کر آئے اور اُس دروازے کے سامنے بیٹھ گئے جہاں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ داخل ہوا کرتے تھے ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ داضل ہوئے اور لوگوں کو نماز کے لئے نیند سے اُٹھانے لگے اور ”نماز ، نماز “ کہنے لگے ۔پس شبیب نے آپ رضی اﷲ عنہ پر تلوار ماری تو وہ طاقچے پر لگی اور ابن ملجم نے آپ رضی اﷲ عنہ کے سر پر تلوار ماری تو خون آپ رضی اﷲ عنہ کی داڑھی پر بہنے لگا اور اُس نے کہا : ” حکم صرف اﷲ ہی کا ہے اے علی ( رضی اﷲ عنہ ) تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کیا نہیں ۔“ یہ واقعہ سترہ ( 17 ) رمضان المبارک 40 ہجری کا ہے ۔
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پر حملہ
خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر کوفہ میں جس صبح حملہ ہوا اُسی صبح ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پر بھی حملہ ہوا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جس رات حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر وار کیا گیا اُسی رات برک بن عبد اﷲ بھی مسجد میں گھات لگا کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے انتظار میں بیٹھ گیا تھا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھانے کے لئے آئے تو اُس نے اُن پر تلوار سے حملہ کیا تو وار پیچھے سے ہونے کی وجہ سے کولہوں پراُچٹتا ہوا پڑا کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھ چکے تھے۔ برک بن عبد اﷲ کو پکڑ لیا گیا تو اُس نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے کہا : ” میرے پاس ایک ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ ( رضی اﷲ عنہ ) خوش ہو جائیں گے اور اگر وہ خبر صحیح ہو گی تو آپ کو بہت فائدہ پہنچے گا۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اچھا وہ خبر بیان کرو ۔“ برک نے کہا : ” آج اِسی وقت میرے ایک بھائی نے خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو قتل کر دیا ہو گا۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” وہ ایسا نہیں کر سکے گا ۔“ برک نے کہا : ” وہ ضرور کامیاب ہوا ہو گا کیونکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ محافظ دستہ ( باڈی گارڈ ) نہیں رکھتے ہیں ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اُس کے قتل کا حکم دے دیا اور اُسے قتل کر دیا گیا ۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے طبیب کو بلایا ۔اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ کے زخم کو دیکھا تو کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ دو باتوں میں سے ایک بات کو پسند کرلیں ۔یا تو میں لوہا گرم کر کے اِس زخم کی جگہ لگا دیتا ہوں( پہلے زمانے میں زخم کو اچھا کرنے کے لئے زخم کو جلا کرداغ دیا جاتاتھا) یا آپ رضی اﷲ عنہ یہ پسند کریں کہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کوپینے کے لئے ایک ایسا شربت دوں جس سے زخم تو اچھا ہو جائے گا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کو آگے کوئی اولاد نہیں ہو گی کیونکہ جس تلوار سے زخم دیا گیا ہے وہ زہر میں بجھائی ہوئی تھی ۔“حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” آگ کی تکلیف تو میں برداشت نہیں کر سکتا ۔رہا اولاد نہیں ہونے کی بات تو یزید اور عبداﷲ انھی دونوں سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی ۔“ طبیب نے آپ رضی اﷲ عنہ کو شربت پلا دیا جس وہ شفا یاب ہو گئے ۔
حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ پر حملہ
خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر جس فجر کوفہ میں حملہ ہوا اُسی فجر ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پر بھی حملہ ہوا اور اُسی فجر ملک مصر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ پر بھی حملہ ہوا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کے دھوکے میں دوسرے شخص کو قتل کر دیا گیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اُسی رات عمرو بن بکر بھی حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی گھات میں بیٹھا رہا لیکن صبح کو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نماز پڑھانے نہیں آئے کیونکہ اُن کے پیٹ میں تکلیف تھی ۔انہوں نے حضرت خارجہ بن حذافہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا یہ اُن کے محافظ دستہ ( باڈی گارڈ ) میں تھے اور بنو عامر بن لوی کے خاندان میں سے تھے ۔یہ نماز پڑھانے کے لئے نکلے تو عمرو بن بکر نے انہیں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سمجھ کر حملہ کر دیا اور انہیں قتل کر دیا ۔لوگوں نے پکڑ لیا اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے سامنے پیش کیا ۔تمام لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کو حاکم کی طرح سلام کر رہے تھے ۔ عمرو بن بکر نے پوچھا : ” یہ کون شخص ہے ؟ “ لوگوں نے جواب دیا : ” یہ ملک مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ہیں ۔“ عمرو بن بکر نے کہا : ” پھر میں نے کسے قتل کیا ہے ؟ “ لوگوں نے جواب دیا : ” حضرت خارجہ بن حذافہ کو ۔“ عمرو بن بکر نے کہا : ” اے فاسق ! اﷲ کی قسم ! میں نے تیرے علاوہ کسی کا ارادہ نہیں کیا تھا ۔“ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” ہاں ! تُونے میرا ارادہ ضرور کیا تھا لیکن اﷲ نے تو حضرت خارجہ بن حذافہ کا ارادہ کیا تھا ۔“ اِس کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے آگے بڑھ کر اُس کو قتل کر دیا ۔ جب اِس واقعہ کی خبر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو ملی تو انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو یہ خط لکھ بھیجا ۔ قتل تو ایک ہی ہوا ہے اگرچہ موت کے اسباب بہت سے ہیں ۔موت تو صرف لوی بن غالب کے شیخ کی آئی ہے ۔ اے عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ! ذرا ٹھہر جاو¿ تم بھی خارجہ کے چچا کا بیٹا ہے اور دیگر رشتہ داروں کو چھوڑ کر اُس کا دوست ہے ۔تم نے قتل سے نجات پالی اور مرادی ( ابن ملجم ) نے اپنی تلوار کو مکہ کے سردار ابو طالب کے بیٹے کے خون سے تر کر لیا ہے ۔اُس کے دوسرے بھائی نے بھی تلوار ماری لیکن مجھ پر یہ تلوار اُچٹتی ہوئی پڑی ۔لیکن تم و دن رات ملک مصر میں ہرنیوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے پھرتے ہو ۔“
قاتل کے بارے میں وصیت
خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ بہت بری طرح سے زخمی ہو چکے تھے اور خون بہتا ہی جا رہا تھا پھر بھی آپ رضی اﷲ عنہ نے قاتل کے بارے میں وصیت کی ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: محمد بن حنفیہ کا بیان ہے کہ جس صبح کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر حملہ ہوا ۔اُس رات میں جامع مسجد میں تمام رات نماز میں مشغول رہا اور دیگر لوگ بھی جو ملک مصر کے باشندے تھے چوکھٹ کے قریب نمازوں میں مشغول رہے ۔اُن لوگوں نے تمام رات قیام و رکوع اور سجدوں میں گذاری اور شروع رات سے آخری رات تک قطعاً نہیں سوئے ۔ جب صبح کے وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نماز کے لئے نکلے تو اُن لوگوں کو آواز دی ۔ ”نماز کے لئے کھڑے ہو جاو¿ ۔“ یہ مجھے معلوم نہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے یہ کلمات چوکھٹ کے اندر داخل ہو کر کہے یا باہر سے کہے ۔ ہاں میں اتنا جانتا ہوں کہ میںنے ایک چمک دیکھی اور میں نے یہ الفاظ سنے : ” اﷲ کے علاوہ کسی کا حکم نہیں ہے ۔اے علی ( رضی اﷲ عنہ ) ! نہ تجھے اختیار ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کو ۔“ میں نے ایک تلوار کی چمک دیکھی ، پھر دوسری تلوار کی چمک دیکھی ۔پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ”تم سے یہ شخص بچ کر نہ نکل جائے “ اور لوگ اُس پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑے ۔ کچھ دیر نہیں گذری کہ ابن ملجم کو پکڑ لیا گیا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے رو برو پیش کیا گیا ۔میں بھی لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہوا ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ فرما رہے تھے : ” جان کے بدلے جان ہے ۔اگر میں مر جاو¿ں تو تم بھی اسے قتل کر دینا جیسے اِس نے مجھے قتل کیا ہے اور اگر میں زندہ باقی رہ گیا تو اِس کے بارے میں خود فیصلہ کروں گا ۔“ لوگ گھبرائے ہوئے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے اور انہیں اِس واقعہ سے مطلع کیا ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں