06 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 6
گورنروں(حکام) کی تقرری اور معزولی، گورنروں (حکام ) کو احکامات، محصولین کو احکامات، عوام کو احکامات، سپہ سالاروں کو احکامات، خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی اصلاحات، 24 ہجری میں اسلامی فوجی مراکز، فتح آذربائیجان و آرمینیہ، آذربائیجان اور آرمینیہ والوں کی بغاوت، باغیوں کی سرکوبی
گورنروں(حکام) کی تقرری اور معزولی
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خلافت کا بوجھ سنبھالنے کے بعد اسلامی صوبوں میں گورنروں(حکام )کی تقرری اور معزولی فرمائی۔یہاں ہم صرف چند کا ذکر کریں گے اور پھر آگے موقع محل کے مطابق ذکر کرتے جائیں گے۔خلیفہ¾ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کی گورنری سے استفاءدے دیا تھا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں دوبارہ کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بد ستور بصرہ کی گورنری پر قائم رکھا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی وصیت کے مطابق معزول کر دیا۔ معزولی کی وجہ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے بیان کی :”میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو کسی جرم یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے بلکہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی وصیت کے مطابق معزول کیا ہے۔“حضرت عبد اﷲ بن عامر رضی اﷲ عنہ کو ”کابل “(حالیہ افغانستان )کا گورنر (حاکم ) مقرر فرمایا جو اُس وقت ”سجستان “کی عملداری میں تھا ۔سجستان کا علاقہ اُس وقت ” خراسان “ سے بھی بڑا تھا۔ملک شام میں اپنی خلافت کے آخری دنوں میں خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو کچھ علاقے کاگورنر مقرر کیا تھا ،حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں مکمل ملک شام کا گورنر بنا دیا اور آخر تک بر قرار رکھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک سال بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کی گورنری سے سبکدوش کر کے ولید بن عقبہ کو کوفہ کا گورنر بنایا ۔اِس کا ذکر انشاءاﷲ ہم آگے کریں گے۔
گورنروں (حکام ) کو احکامات
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خلافت کا بوجھ سنبھالنے کے بعد مملکت ِ اسلامیہ کے تمام صوبوں کے گورنروں (حکام ) کو احکامات لکھ کر بھیجے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنا پہلا حکم نامہ جو گورنروں کا لکھ کر بھیجا وہ یہ ہے :”اﷲ تعالیٰ نے گورنروں (حکام) کو حکم دیا ہے کہ وہ رعایا (عوام) کے محافظ بنیں۔اوائل اسلام کے لوگ صرف خراج جمع کرنے والے نہیں تھے بلکہ عوام کے نگہبان تھے۔لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم لوگ اُمت کی نگہبانی کے فرائض چھوڑ کر کہیں خراج جمع کرنے میں نہ لگ جاو¿۔اگر تم ایسا کرو گے تو حیا ،امانت اور وفا کا جذبہ تم میں سے اُٹھ جائے گا ۔بہترین عدل یہ ہے کہ مسلمانوں کے امور پر غور کرو ،جو اُن کا حق ہے وہ انہیں دو اور جو تمہارا اُن پر حق ہے وہ اُن سے لو۔اِس کے بعد ملکر دشمن کی طرف متوجہ ہو اور اُس پر فتح پاؤ اور جو اُس سے وعدہ کرو وہ ضرور پورا کرو ۔“
محصولین کو احکامات
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے صدقات ، ذکوٰة اور خراج کی وصولی کرنے والوں کو یہ احکامات لکھ کر بھیجے:”اﷲ تعالیٰ نے حق و صداقت پر مخلوق کو پیدا فرمایا ہے،کیونکہ حق و صداقت کے سو ا کوئی چیز اُسے پسند نہیں ہے۔اِس لئے حق کے مطابق کوئی چیز وصول کرو اور صداقت پر قائم رہو۔تم ہمیشہ امانت داری اور دیانت داری کو اختیار کرو ،ایسا نہ ہو کہ تم ہی سب سے پہلے بد دیانتی کرنے لگو ۔اِس طرح تم مستقبل کے لوگوں کے لئے بد دیانتی کی راہ کھول دو گے اور اُن کے گناہوں میں تمہاری بھی شرکت مانی جائے گی۔“
عوام کو احکامات
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے عوام کو یہ احکامات لکھ کر بھیجے :” مسلمانو! تُم اِس بلند مرتبہ پر اﷲ کے احکام کی پیروی اور اطاعت کی بدولت پہنچے ہو ،دنیا کی مشغولیت تمہیں تمہارے فرائض سے غافل نہ کر دے۔یاد رکھو !اِس اُمت میں اُس وقت ذلت پھیل جائے گی جب تمہارے اندر تین باتیں جمع ہو جائیں گی۔(۱) نعمتوں کی تکمیل ( ۲) قیدی عورتوں اور باندیوں سے تمہاری اولاد پیدا ہونا (۳) اعرابی (دیہاتی ،بدو) اور اہل عجم قرآن پاک پڑھنے لگیں ،کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:”اہل عجم میں کفر کی بعض باتیں ہیں ،جب شریعت کا کوئی حکم اُن کی سمجھ میں نہیں آئے گا تو وہ بہ تکلف نئی نئی باتیں نکالیں گے۔“
سپہ سالاروں کو احکامات
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جس وقت خلافت کی ذمہ داری سنبھالی ،اُس وقت مختلف مقامات پر مسلمانوں کو لیکر اُن کے سپہ سالار دشمنوں سے حالت ِ جنگ میں تھے۔انہیں آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ احکامات لکھ کر بھیجے :”تُم مسلمانوں کے حامی اور محافظ ہو ۔خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تمہیں جو ہدایات بھیجی تھیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں ،بلکہ ہمارے مشورے سے جاری کی گئیں تھیں۔لہٰذا تمہاری طرف سے اِس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہونا چاہیئے ،ورنہ اﷲ تعالیٰ تمہیں بھی تبدیل کر دے گا اور تمہارے بجائے دوسرے کو مقرر کر دے گا۔تم دھیان رکھو کہ تم کیسا کام کرتے ہو ؟اﷲ تعالیٰ نے میرے ذمہ جو کام مقرر کر دیئے ہیں ،میں اُن کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔“
خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی اصلاحات
خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ نے مہاجرین و انصار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم ،اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہما ،مسلمان مردوں اور عورتوں یہاں تک کہ پید ہونے بچوں اور جنگ پر جانے والے مجاہدین اور سپہ سالاروں وغیرہ کے اُن کے مراتب کے لحاظ سے وظائف مقرر فرمائے تھے۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِن میں سے ہر ایک کے وظائف میں سو ،سو درہم کا اضافہ کردیا۔اور متعبدین ، متکفین ، مسافروں ، فقراءاور مساکین کے لئے مساجد میں دستر خوان بنائے ۔ ماہِ رمضان المبارک میں ہر رات کے لئے بیت المال سے ایک درہم افطاری کے لئے مقرر کیا تھا اور اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہما کے لئے دودو درہم مقرر فرمائے تھے۔
24 ہجری میں اسلامی فوجی مراکز
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جس وقت خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو اُس وقت تک مملکت اسلامیہ شمال میں ترکی کی سرحدوں تک ،مغرب میں ملک مصر کے آگے ،جنوب میں یمن تک اور مشرق میں کابل (حالیہ افغانستان) تک پھیلی ہوئی تھیں اور تین طرف یعنی مشرق ، مغرب اور شمال میں اسلامی لشکر غیر مسلموں سے حالت ِجنگ میں تھے۔اُس وقت ملک عراق اور ملک شام میں الگ الگ جگہوں پر فوجی مراکز تھے۔مشرقی سرحد کا انتظام سنبھالنے کے لئے ملک عراق میں” کوفہ“ اور” بصرہ“ اسلامی فوجی مراکز تھے ۔اہل کوفہ کے فوجی مراکز ”رے“اور” آذربائیجان“ تھے۔اُن کے دس ہزار مجاہدین میں سے چھ ہزار آذربائیجان میں تھے ،کیونکہ وہیں سے آرمینیا کی جنگ کی جا رہی تھی اور بقیہ چار ہزار ”رے“میں متعین تھے۔کوفہ میں ہر وقت چالیس ہزار مجاہدین تیار رہتے تھے،اِن میں سے ہر سال دونوں سرحدوں پر دس دس ہزار مجاہدین جنگ کرتے تھے۔اِسی طرح شمالی سرحد کا انتظام سنبھالنے کے لئے ملک شام میں ” دمشق “ اور ” حمص “ اسلامی فوجی مراکز تھے ۔یہاں سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پورے ملک شام اور ترکی کے سرحدی علاقوں کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ اور اِسی طرح مغربی سرحد کا انتظام سنبھالنے کے لئے ملک مصر میں قلعہ ”بابلیون“اسلامی فوجی مرکز تھا اور پورے ملک مصر کا انتظام حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سنبھالے ہوئے تھے۔
24 ہجری اور 25 ہجری
خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ 23 ہجری کے آخر میں شہید ہوئے اور خلیفۂ سُو م حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ 24 ہجری کی شروعات میں خلیفہ بنے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اِن دو برسوں میں بہت سی اصلاحات کیں ۔اِسی دوران حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کی گورنری سے سبکدوش کر کے اپنے رشتہ دارولید بن عقبہ کو کوفہ کا گورنر بنایا۔بقیہ گورنروں اور سپہ سالاروں کو اپنی جگہ قائم رکھا ۔اِن میں سے چند کا ذکر ہم کر دیتے ہیں ۔ملک عراق میں بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ تھے اور کوفہ کے گورنر ولید بن عقبہ۔ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ تھے اور ملک مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ تھے ۔اِسی سال حضرت عبد اﷲ بن سرح نے افریقہ پر حملہ کرنے کی اجازت طلب کی تو انہیں اجازت مل گئی۔اِس سال خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔اِسی سال 25 ہجری میں یزید بن معاویہ پیدا ہوا۔(طبری)
فتح آذربائیجان و آرمینیہ
خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں ہی مسلمانوں نے آذربائیجان کو فتح کر لیا تھا ۔اِس کا تفصیلی ذکر ہم خلیفۂ دُوم رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں کر چکے ہیں۔آذربائیجان پہاڑی علاقہ ہے اور خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق کے دورِ خلافت میں ہی حضرت بکیر بن عبد اﷲ اور حضرت عتبہ بن فرقد نے آذربائیجان اور آرمینیہ کو فتح کر لیا تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سراقہ بن عمرو کو ”باب“اور ”دربند“پر حملہ کرنے کا حکم دیا اور حضرت حبیب بن سلمہ فہری کو حضرت سراقہ بن عمرو کی مدد کرنے کا حکم دیا تھا ۔جب حضرت سراقہ بن عمرو ”باب“کی فتح سے فارغ ہوئے تو اپنے کمانڈروں کو لشکر دیکر آرمینیہ کے علاقوں کی فتوحات کے لئے روانہ کیا۔حضرت بکیر بن عبد اﷲ نے ”موقان“فتح کیا ،حضرت حبیب بن مسلمہ نے ”تغلیس “فتح کیا اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے ”قوقاذ“کو فتح کر لیا تو حضرت سراقہ بن عمرو پورے اسلامی لشکر کو لیکر مغربی آرمینیہ اور آئیبیریا کی طرف بڑھے۔راستے میں حضرت سراقہ بن عمرو کا انتقال ہو گیا تو حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ باہلی کو اُن کی جگہ سپہ سالار بنایا گیا۔انہوں نے ”بحر خزر“کے اکثر ساحلی شہروں پر قبضہ کر لیا، لیکن ابھی اِس فتح کو مستحکم نہیں کر پائے تھے کہ خلیفہ¿ دُوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت کاواقعہ پیش آ گیا اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خلافت کا بوجھ سنبھالا۔
آذربائیجان اور آرمینیہ والوں کی بغاوت
مسلمان سپہ سالاروں کا یہ قاعدہ تھا کہ جس علاقے کو فتح کرتے تھے اُس علاقے پر وہیں کے لوگوں میں سے کسی کو حاکم بنا دیتے تھے اور اُس کی نگرانی کے لئے چند مسلمانوں کو چھوڑ دیتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے۔یا پھر اُس علاقے کا حکمراں مسلمانوں سے سالانہ خراج پر صلح کرلیتا تھا تو وہاں کا حکمراں اُسے ہی رہنے دیتے تھے اور اُس سے سالانہ خراج کی وصولی کے لئے مسلمانوں کو مقرر کر کے آگے بڑھ جاتے تھے۔اِس طرح مفتوحہ علاقوں میں مسلمانوں کی فوجی چھاونیاں نہیں تھیں ۔ ہاں ضرورت کے مطابق عارضی فوجی چھاونیاں قائم کی جاتی تھیں اور اسی کے مطابق مجاہدین کو مقرر کیا جاتا تھا۔دراصل ہر مفتوحہ علاقے میں لشکر (فوج) رکھنا ممکن نہیں تھاکیونکہ اگر ہر مفتوحہ علاقے میں ایک ایک لشکر چھوڑ دیا جاتا تو آگے کی فتوحات رُک جاتیں اور مسلمان مجاہدین تھوڑے تھوڑے ہر مفتوحہ علاقے میں بٹ جاتے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی ہوا اُکھڑ جاتی اور اسلامی لشکروں کا دبدبہ اور رعب ختم ہو جاتا۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں آذربائیجان اور آرمینیہ کے حاکموں نے بغاوت کردی ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو اِس کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو اِس بغاوت کی سرکوبی کرنے کا حکم دیا۔
باغیوں کی سرکوبی
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت حبیب بن مسلمہ فہری کو چھ ہزار کا لشکر دیکر آذربائیجان روانہ کیا ۔انہوں نے وہاں پہنچ کر ”تالیقلا“کا مستحکم قلعہ جزیہ کی شرط پر فتح کر لیا اوروہاں کے مسلمانوں کو منظم کرکے اسلامی لشکر میں شامل کرنے لگے۔انہیں خبر ملی کہ آرمینیہ کے حکمراں نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے ایک بہت بڑا لشکر جمع کر رکھا ہے۔حضرت حبیب بن مسلمہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے مزید کمک بھیجنے کی درخواست کی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو کمک بھیجنے کا حکم دیا ۔ اُس نے حضرت سلمان بن ربیعہ کو بارہ ہزار مجاہدین کا ایک لشکر دیکر آرمینیہ روانہ کیا ۔اِس لشکر کے پہنچنے سے پہلے ہی حضرت حبیب بن مسلمہ کے لشکر کا آرمینیہ کے حکمراں کے لشکر سے مقابلہ ہو گیا ۔انہوں نے اسلامی لشکر کے ساتھ صبح صادق کے وقت اچانک حملہ کیا ۔اُس وقت آرمینائی لشکر غفلت کی نیند میں تھا ،مسلمانوں نے اُن کا قتل عام کرنا شروع کر دیا اور فتح حاصل کی۔حضرت سلمان بن ربیعہ اپنا لشکر لیکر پہنچے تو فتح حاصل ہو چکی تھی ۔اِس کے بعد دونوں سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر آگے بڑھے ااور حضرت سلمان بن ربیعہ نے مشرقی آرمینیہ کو فتح کیا اور حضرت حبیب بن مسلمہ نے مغربی آرمینیہ کو فتح کیا۔ اِس طرح پورے آرمینیہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں