جمعرات، 3 اگست، 2023

06 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


06 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 6

عراق کے لشکر کی واپسی، فحل کی طرف روانگی، جنگ فحل ذات الروغہ، بیسان کی فتح اور طبریہ کی اطاعت, عراق(سلطنت فارس) سے جنگ کے لئے آمادہ کرنا، خلیفہ دوم رضی ا ﷲ عنہ کا عوام سے خطاب، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی حضرت ابو عبید ثقفی کو ہدایات، جزیرہ نمائے عرب میں دو مذہب باقی نہ رہیں، سلطنت فارس میں خانہ جنگی، جنگ نمارق، 

عراق کے لشکر کی واپسی

ملک شام میں دمشق کی فتح کے بعد رومیوں کا زور کافی حد تک ٹوٹ گیا تھا۔اِس لئے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکم بھیجا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملک عراق سے جو لشکر ملک شام آیا تھا ،اُسے ملک عراق واپس بھیج دو۔لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنے ساتھ اپنی ماتحتی میں رکھو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا حکم آیا کہ عراق کی فوجوں کو عراق واپس بھیج دو،اور اُن کو حکم دو کہ وہ حضرت سعد بن مالک سے جا کر مل جائیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے عراق کے لشکر کا سپہ سالار حضرت ہاشم بن عتبہ کو بنایا۔مقدمة الجیش کا کمانڈر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔میمنہ کا کمانڈر حضرت عمرو بن مالک زہری کو بنایا، اور میسرہ کا کمانڈر حضرت ربعی بن عامر کا بنایا۔ حضرت ہاشم بن عتبہ کی قیادت میں یہ لشکر دمشق سے ملک عراق کی طرف روانہ ہوا،اِس لشکر میں سے جو لوگ شہید ہو گئے تھے،اُن کی جگہ نئی بھرتی کر کے دس ہزار کا لشکر پورا کیا گیا۔نئے بھرتی ہونے والوں میں قیس اور اشتر بھی تھے۔

فحل کی طرف روانگی

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق میں حضرت یزید بن ابو سفیان کو اُن کے لشکر کے ساتھ چھوڑ دیا،اور سب کو لیکر فحل کی طرف روانہ ہوئے۔اِس بار لشکر کا سپہ سالار حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔انہوں نے ”مقدمة الجیش“پر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو،میمنہ پر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو،میسرہ پر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ،سواروں پر حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ کو،اور پیدلوں پرعیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کومقرر فرمایا۔اُن لوگوں نے ہرقل کی جانب بڑھنا مناسب خیال کیا ،کیونکہ اسی ہزار(80,000)رومی اُن کے عقب میں موجود تھے۔اور یہ معلوم تھا کہ فحل کی فوجیں رومیوں کے لئے ڈھال کا کام کر رہی ہیں۔اور انہیں سے رومیوں کو توقعات وابستہ ہیں۔اگر یہ معرکہ سر ہو گیا،تو پورے ملک شام پر قبضہ کرنا آسان ہو جائے گا۔

جنگ فحل ذات الروغہ

حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر حضرت ابو الاعور رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے طبریہ پر حملہ کرنے کی رائے دی۔تھوڑے لشکر کو طبریہ کی طرف بھیج کر حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ باقی لشکر لیکر فحل کی طرف روانہ ہوئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب مسلمان حضرت ابو الاعور رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اُن کو طبریہ کی طرف بڑھایا۔طبریہ پہنچ کر مسلمانوں نے اِس کا محاصرہ کر لیا،اور باقی لشکر نے فحل پر جو ”علاقہ اُردن“میں واقع ہے پڑاو¿ ڈال دیا۔حضرت ابو الاعور رضی اﷲ عنہ جب فحل کی طرف آئے تھے تواُس وقت رومی پسپا ہو کر بیسان کی طرف چلے گئے تھے۔حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ اسلامی فوجوں کو لیکر فحل میں قیام پذیر ہو گئے۔مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان وہ پانی اور دلدلیں حائل تھیں ،جن کا ہم اِس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔مسلمانوں نے محاذ جنگ کی اطلاعات خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کیں،اور اُن کا ارادہ فحل پر حملہ کرنے کے بجائے جواب آنے تک رکنے کا تھا۔اور اِس وقت دشمن کی طرف بڑھنا ممکن نہیں تھا،کیونکہ سامنے کیچڑ اور دلدلیں موجود تھیں۔عرب اِس جنگ کو ”جنگ فحل ¿ ذات الروغہ“اور بیسان کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں۔یہاں کے قیام کے زمانے میں مسلمانوںکو ”اُردن “کی نفیس ترین پیداوار سے مشرکین سے زیادہ مستفید ہونے کا موقع ملا۔اُن کا سلسلہ رسد برابر قائم تھا،اور بہت ہی فارغ البالی سے گذر بسر ہو رہی تھی۔اِسی وجہ سے دشمنوں نے خیال کیا کہ مسلمان بالکل بے خبر بنے ہوئے ہیں۔رومیوں کا سپہ سالار سقلا¿ بن مخراق تھا،اُن کو توقع تھی کہ ہم لوگ اچانک مسلمانوں پر جا پڑیں گے،اور بے دریغ قتل کر دیں گے۔لیکن مسلمان بے خبر نہیں تھے،اور وہ ہر وقت ہوشیار اور چوکنے رہتے تھے۔حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ دن رات لشکر کی صف بندی قائم رکھتے تھے۔اِس لئے جب رومیوں نے اچانک مسلمانوں پر حملہ کیا تو انہیںغافل ہونے کے بجائے پوری طرح تیار پایا۔یہ صورتحال اُن کے لئے اُمید کے خلاف تھی،اِس لئے جب تک سنبھل کر حملہ کرتے ،اُن پر مسلمان حملہ کر چکے تھے۔فحل میں یہ معرکہ اس زور و شور سے پیش آیا کہ اِس سے پہلے اِس شدت کی جنگ کبھی نہیں ہوئی تھی۔رات بھر اور اگلے روز تک شدید جنگ ہوتی رہی،دشمنوں کی آنکھوں میں دنیا اندھری ہو گئی تھی۔کیونکہ اُن کے واپس پڑاو¿ تک پہنچنے کے راستے کو مسلمانوں نے بند کر دیا تھا،اور اب اُن کے پاس لڑتے رہنے یا شکست کھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔رومیوں نے جب دیکھا کہ واپسی کا راستہ بند ہے تو انہوں نے فرار ہونے اور قتل سے بچنے کے لئے اپنے گھوڑوں کو دلدل میں ڈالنا شروع کر دیا۔رومی دلدل میں دھنس دھنس گئے ،اُن کی کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ مسلمان انہیں چھوتے بھی تھے تو وہ روکتے نہیں تھے۔مسلمانوں نے اُن کو اپنے نیزوں سے کچوکے دیئے ،اورآخرکا ررومیوں کو شکست فاش ہوئی ،اور اُن کا سپہ سالار،اور دوسرے بڑے بڑے کمانڈر مارے گئے۔جن میں ایک نسطور بھی تھا۔مسلمانوں کو نہایت شاندار فتح حاصل ہوئی۔بہت سے رومی دلدل میں دھنس گئے،اُس روز اسی ہزار(80,000)رومی قتل ہوئے،اور بہت تھوڑے جان بچا کر بھاگ سکے۔مسلمان اِس دلدل کو بہت ناپسند کر رہے تھے،مگر اﷲ تعالیٰ نے اِسی دلدل کو اپنی قدرت سے دشمنوں کے لئے مصیبت اور مسلمانوں کے لئے کارآمد اور مفید بنا دیا،تاکہ مسلمانوں کو بصیرت حاصل ہو،اور اُن کی جد و جہد میں اور ترقی ہو جائے۔

بیسان کی فتح اور طبریہ کی اطاعت

حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فحل کی فتح کے بعد یہاں کے علاقوں کا ذمہ دار حضرت شرجیل بن حسنہ کو بنا دیا،اور انہیں اور اُن کے لشکر کو ،اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کو بھی وہیں چھوڑ کر اپنا لشکر لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حمص کی طرف روانہ ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فحل کی جنگ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کو لیکر بیسان کی طرف بڑھے،اور اُن کا محاصرہ کر لیا۔اُس وقت حضرت ابو الاعور اور چند دوسرے کمانڈر طبریہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔اردن کے علاقوں میں دمشق کے واقعات اور فحل میں رومیوں اور سقلا کے انجام کی کیفیت کی خبر پھیل چکی تھی۔اور لوگوں کو معلوم ہو گیا تھا کہ حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور حضرت حارث بن ہشام اپنے اپنے لشکر لیکر بیسان کے ارادے سے جارہے ہیں۔اِس لئے ہر جگہ کے لوگ قلعہ بند ہو گئے۔حضرت شرجیل رضی اﷲ عنہ نے بیسان پہنچ کر اُس کا محاصرہ کر لیا،جو چند روز جاری رہا۔پھر وہاں کے کچھ لوگ باہر نکلے اور مسلمانوں سے مقابلہ کیا،یہاں تک کہ قتل ہو گئے،باقی سب لوگوں نے صکح کی درخواست کی،جس کو مسلمانوں نے دمشق کی شرائط پر منظور کر لیا۔جب طبریہ والوں کو اِس صلح کی خبر ملی تو انہوں نے بھی حضرت ابو الاعور سے اِس شرط پر صلح کی کہ انہیں حضرت شرجیل رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا دیا جائے۔اور طبریہ والوں سے بھی دمشق کی شرائط پر صلح کر لی گئی۔اور یہ طے ہو اکہ شہروں اور دیہاتوں کے آدھے مکانات مسلمانوں کے لئے خالی کر دیئے جائیں،اور باقی آدھے مکانوں میں رومی رہیں۔اور فی کس سالانہ ایک دینار اور فی جریب زمین سے ایک جریب گیہوں یا جو یا جس چیز کی کاشت کریں ،اداکی جائے۔اِس کے بعد مسلمان قائدین اور اُن کے لشکر آبادی میں مقیم ہونے لگے،اور اردن کی صلح پایہ تکمیل کو پہنچ گئی۔اور تمام امدادی دستے اردن کے علاقے میں مختلف مقامات پر سکونت پذیر ہوگئے۔اور مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوش خبری خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بھیجی گئی۔

عراق(سلطنت فارس) سے جنگ کے لئے آمادہ کرنا

خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا جب وصال ہوا ،اُس وقت مسلمان ایک ساتھ دو سوپر پاوروںسلطنت ِفارس اور سلطنت ِروم سے حا لت ِ جنگ میں تھے۔سلطنت فارس کے حکمراں اُس وقت آپس میں ہی لڑ رہے تھے ،اِس لئے مسلمانوں کو ملک عراق میں تھوڑا سکون تھا۔ملک عراق میں مسلمانوں کی جو فوج لڑ رہی تھی ،اُس میں سے آدھی فوج خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک شام چلے گئے تھے۔اور انہوں نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو ملک عراق کے لشکر کا سپہ سالار بنا دیا تھا۔اُدھر ملک شام میں رومیوں سے شدید جنگ چل رہی تھی،اور اِدھر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ مزید لشکر کے لئے خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو وصیت کی تھی کہ میرے وصال کے فوراً بعد لشکر تیار کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو دے کر ملک عراق کی طرف روانہ کرنا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جس رات خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔خلیفہ ¿دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے نماز فجر سے پہلے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر سلطنت ِ فارس سے جنگ کے لئے آمادہ کیا۔جب صبح ہوئی تو مسلمانوں سے خلافت کی بیعت لینے لگے۔اور پھر سلطنت ِ فارس سے لڑنے جانے کے لئے آمادہ کرنے لگے۔لوگ لگاتار بیعت کے لئے آتے رہے ،اور آپ رضی اﷲ عنہ بیعت لینے کے ساتھ ساتھ سلطنت ِفارس سے جنگ کے لئے آمادہ کرتے رہے۔تین دن بعد بیعت سے فراغت ہوگئی تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ روز مسلمانوں کو سلطنت ِ فارس سے جنگ کے لئے آمادہ کرتے تھے۔چوتھے دِن سب سے پہلے حضرت ابو عبیدبن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ نے سلطنت ِ فارس سے جنگ کے لئے ملک عراق جانے پر لبیک کہا۔اِس کے بعد حضرت سعد بن عبید بھی تیار ہوئے۔

خلیفہ دوم رضی ا ﷲ عنہ کا عوام سے خطاب

خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل مسلمانوں کو سلطنت ِ فارس سے جنگ کے لئے آمادہ کر رہے تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ بھی مسلمانوں کو جنگ کے لئے آمادہ کر رہے تھے۔چوتھے دن حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲعنہ نے مسلمانوں کے سامنے تقریر کی،اور فرمایا:”اے مسلمانو!تم ملک عراق کی جنگ کو کوئی بہت بڑا معرکہ نہ سمجھو۔کیونکہ ہم نے فارس کے شداب علاقوں پر قبضہ جما لیا ہے،اور سواد کے بہترین نصف پر ہم غالب ہو گئے ہیں۔اور تقسیم کر کے ہم اُن میں سے بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں۔اور ہمارے پیش رو افراد کو ان پر جرا¿ت حاصل ہو گئی ہے۔اﷲ کی ذات سے اُمید ہے کہ آئندہ بھی ہمیں ایسی ہی کامیابی حاصل ہو گی۔“اتنا فرما کر وہ بیٹھ گئے ،تو خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے،اور فرمایا:”مسلمانو!تم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ حجاز میں تمہاری بود و باش کی صرف یہی صورت ہے کہ تم چارے کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھومتے رہو،اِس کے سوا یہاں کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔کہاں ہیں اﷲ کے وعدے پر غربت اختیار کرنے والے،اور وطن کو ترک کرنے والے۔تم اُس ملک میں جاو¿ ،جس کے وارث بنانے کا اﷲ نے تم سے اپنی کتاب میں وعدہ کیا ہے۔کیونکہ قرآن پاک فرماتا ہے۔ترجمہ”تاکہ تمام مذاہب پر اسلام کو غالب کر دیا جائے“اﷲ تعالیٰ اپنے دین کو غالب اور اُس کے مدد گاروں کو عزت دینا چاہتا ہے،اور دوسری قوموں کے ملک و دولت کا والی بنانا چاہتا ہے۔اﷲ کے نیک اور صالح بندے کہاں ہیں؟“آپ رضی اﷲ عنہ کی تقریر سن کر حضرت ابو عبیدبن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ نے اپنی خدمات پیش کیں۔اس کے بعد اور لوگ تیار ہونے لگے،یہاں تک کہ ایک بہت بڑا لشکر تیار ہو گیا ہے۔اِس لشکر میں بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”بڑے بڑے صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم نے بڑی بڑی خدمات کیں ہیں،میں اُن پر اور بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔اِس لئے نوجوانوں کو موقع دینا چاہتا ہوں۔اور میں اُسے لشکر کا سپہ سالار بناتا ہوں جس نے سب پر سبقت کی ہے۔“اور حضرت ابو عبیدبن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا کر ملک عراق کی طرف روانہ کر دیا۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی حضرت ابو عبید ثقفی کو ہدایات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر ملک عراق کی طرف روانہ کرتے ہوئے فرمایا:”تم مکرو فریب،خیانت اور ظلم کی سر زمین میں جارہے ہو۔اور تم ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو،جس میں بدی کرنے کی جسارت پیدا ہو گئی ہے ،اور وہ اُس کو سیکھ گئی ہے۔اور بھلائی کو بھول بیٹھی ہے،اور اس سے قطعاً ناواقف ہو گئی ہے۔اِس لئے تم چوکنا رہنا،اور اپنی زبان کو محفوظ رکھنا۔اپنا راز ہر گز آشکارا نہ کرنا،کیونکہ راز داری برتنے والا شخص جب تک راز کو محفوظ رکھتا ہے،گویا وہ قلعے میں محفوظ ہے۔اُس کو کوئی ناگوار صورت پیش نہیں آسکتی اور جب کوئی اُس کو ضائع کر دیتا ہے ،تو وہ خطرے میں گرفتار ہو جاتا ہے۔“

جزیرہ نمائے عرب میں دو مذہب باقی نہ رہیں

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک عراق کی طرف لشکر روانہ کرنے کے بعد ایک اور لشکر تیار کیا،اور حضرت یعلیٰ بن اُمیہ کو سپہ سالار بنا کر یمن کی طرف روانہ کیا۔ اور حکم دیا کہ اہل نجران کے عیسائیوں کو جلا وطن کردیں۔ کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی علالت کے زمانے میں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی علالت کے زمانے میں اِس کی وصیت فرمائی تھی۔خلیفہ ¿دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت یعلیٰ بن اُمیہ سے فرمایا:”تم اُن لوگوں کے پاس جاو¿ ،اُن کو اُن کے دین کے بارے میں پریشان نہ کرو ۔بلکہ اُن کو مہلت دو۔اُن میں سے جو اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہیں،اُن کو جلا وطن کر دو۔اور جو لوگ اسلام قبول کرلیں ،اُن کو اُن کے وطن میں مقیم رہنے دو۔اور جلاوطنی کے بعد اِس سرزمین کو اُن کے وجود سے بالکل صاف کر دو،اور اُن سے کہدو کہ تم کو دوسرے شہروں میں جانے کا اختیار ہے۔اور اُن کو بتلا دو کہ ہم تم کو اِس لئے جلا وطن کر رہے ہیںکہ اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ” جزیرة العرب “میں دو مذہب باقی نہ رکھے جائیں۔اِس لئے جو شخص اپنے مذہب پر رہنا چاہتا ،وہ یہاں سے نکل جائے ۔چونکہ وہ لوگ ہمارے ذمی ہیں،اور اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہم پر اُن کا حق واجب ہے کہ ۔اِس لئے ہم زمین کے عوض اُن کو زمین عطا کریں گے۔

سلطنت فارس میں خانہ جنگی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے وقت ملک شام میں ”سلطنت روم “کے ساتھ مسلمانوں کی شدید جنگ چل رہی تھی۔اِس لئے پہلے ہم نے ملک شام میں جنگوں کا ذکر کیا۔اب سلطنت روم سے جنگوں کے ذکر کو روک کر ہم ”سلطنت فارس“کے کچھ حالات پیش کر رہے ہیں،تاکہ تسلسل برقرار رہے۔خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک عراق میں سلطنت فارس کے پر خچے اُڑا رہے تھے۔اُس وقت سلطنت فارس کے حکمراںکسریٰ کے خاندان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔یہ اتفاق ہو ا کہ خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ”اﷲ کی تلوار“کا رخ سلطنت فارس سے موڑ کر سلطنت روم کی طرف کر دیا،اور فارس کے حکمرانوں کو کچھ مہلت مل گئی۔لیکن اُن میں خانہ جنگی بدستور بر قرا ر رہی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔بوران کسریٰ کی بیٹی تھی۔مدائن میں جب اختلافات رو نما ہوئے تو تنازعہ ختم کرنے کے لئے بوران کو تخت نشین کر دیا گیا تھا۔جس وقت فرخ ذاد بن بندوان قتل ہوا ،اور رستم نے آکر آزرمی دخت کو قتل کیاتو اُس وقت سے یزد جرد یا گرد کے تخت نشین کئے جانے تک بوران ہی سلطنت فارس کی حکمراں رہی۔حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کی عراق آمد کے وقت بوران ہی حکمراں تھی،اور رستم ”وزیر جنگ “تھا۔پہلے بوران اور شیریٰ میں مخالفت تھی،بعد میں بوران اُس کی مطیع ہو گئی ،اور شیریٰ رئیس اور بوران حاکم عدل قرار پائی۔جب سیاہ و خش نے فرخ ذاد کو قتل کردیا ،اور آزرمی دخت ملکہ بن بیٹھی تو سلطنت فارس میں اختلافات رونما ہوگئے۔اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے مدینہ منورہ سے واپسی تک وہ مسلمانوں کی طرف متوجہ نہیں ہو سکے۔بوران نے رستم کو حالات سے مطلع کیا،اور اُس نے جلد آنے کا کہا۔رستم اُس وقت خراسان کی چھاونی پر متعین تھا۔وہ فوراً اپنی فوجوں کو لیکر چلا ،اور راستے میں جہاں کہیں بھی آزرمی دخت کی فوجیں ملتی رہیں،اُن کو شکست دیتا ہوا مدائن پہنچا۔طرفین میں جنگ ہوئی سیاہ وخش کو شکست ہوئی ،اور وہ اور آزرمی گرفتار ہو گئے۔رستم نے سیاہ وخش کو قتل کردیا،اور آزرمی دخت کی آنکھیں نکال ڈالیں۔اِس کے بعد بوران ملکہ بن گئی۔اُس نے رستم کو دس سال کے لئے سلطنت فارس کا انتظام سنبھالنے کی دعوت دی۔اور کہا کہ کسریٰ کے خاندان سے اگر کوئی لڑکا مل گیا تو اُسے بادشاہ بنا دیا جائے گا،ورنہ اِس خاندان کی لڑکیاں تخت نشین ہوتی رہیں گی۔ حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کی عراق آمد کے وقت رستم سلطنت فارس کا منتظم تھا۔

جنگ نمارق

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ سے روانہ ہوکر دس دن میں حیرہ پہنچ گئے،جبکہ حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر ایک مہینے بعد حیرہ پہنچے۔اِدھر رستم نے سواد کے دیہاتیوں کو لکھا کہ تم لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاو¿۔اُس نے تمام منڈیوں میں وہاں کے باشندوں کو برانگیختہ کرنے کے لئے ایک ایک آدمی بھیجا۔مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے رستم نے جابان کو بہقاذ الاسفل کی طرف بھیجا،اور نرسی کو کسکر کی طرف بھیجا،اوردونوں کے ملنے کے لئے ایک دن مقرر کر دیا تھا۔اور ایک لشکر پہلے ہی حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ سے لڑنے کے لئے بھیج دیا تھا۔انہیں اِن حالات کی اطلاع ہوئی توانہوں نے اپنی چوکیوں کے لشکروں کو اپنے ساتھ ملا لیا،اور خطرے کے لئے چوکنے ہو گئے۔جابان تیزی سے آگے بڑھا،اور نمارق میںاپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈال دیا۔نرسی نے بڑھ کر زنددرد میں پڑاو¿ ڈالا،اور منڈیوں سے آئی ہوئی فوجیں دریائے فرات کے بالائی حصے سے چل کر زیریں فرات پر آگئیں۔یہ سب لوگ مسلمانوں پر حملے کی ٹھان چکے تھے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر خفان میں آگئے،تاکہ اُن کے پیچھے سے دشمن اُن پر کوئی کاروائی نہیں کر سکے۔اِسی دوران حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کا بھی انہیں ہی سپہ سالار بنا دیا۔اب دونوں لشکر ایکدوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ نے صف بندی کرلی،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو سواروں کا کمانڈر بنایا،میمنہ پر حضرت والق بن جید کو اور میسرہ پر حضرت عمرو بن ہیثم سلمی کو کمانڈر بنایا۔جابان کے میمنہ جشنس ماہ اور میسرہ پر مرد انشاہ تھے۔نمارق کے میدان میں دونوں لشکروں نے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا۔بہت شدت کی جنگ ہوئی ،مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی ،اور فارسیوں کو شکست ہوئی۔جابان گرفتار ہوا،اُسے مطر بن قصةتمیمی نے گرفتار کیا۔مرد انشاہ بھی گرفتار ہوا ،اُسے اکتل بن خسماخ عکلی نے گرفتار کیا۔اکتل نے تو مرد انشاہ کو قتل کر دیا،لیکن جابان نے مطر بن قصة کو کچھ دی کر بھاگنے کی کوشش کی،تو مسلمانوں نے اُسے پکڑ لیا،اور حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کے سامنے پیش کر کے کہا کہ یہ شخص فارسیوں کا بادشاہ ہے،اور مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔لیکن حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”میں اسے قتل کرنے کے بارے میں اﷲ سے ڈرتا ہوں،کیونکہ ایک مسلمان اسے پناہ دے چکا ہے اور تمام مسلمان محبت اور امداد میں ایک جسم کی مانند ہیں ۔جو بات کسی ایک پر واجب ہوتی ہے،وہ سب پر واجب ہوتی ہے۔“لوگوں نے کہا کہ یہ بادشاہ ہے۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہوا کرے ،میں بد عہدی ہر گز نہیں کروں گا ۔“اس لئے اسے چھوڑ دیا گیا ۔اِس جنگ میں بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آیا،جس کا خمس نکال کر حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے فتح کی خوش خبری کے ساتھ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا ۔اور باقی مال غنیمت لشکر میں بانٹ دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں