پیر، 7 اگست، 2023

05 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


05 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

پورا دور ِ خلافت اندرونی مسائل حل کرتے رہے، تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو شہید کرنے کا منصوبہ، ایک ہی دن اور ایک ہی وقت شہید کرنے کا منصوبہ، شہادت کی خبر پہلے سے تھی، اولین کا بد بخت ترین آدمی اور آخرین کا بد بخت ترین آدمی، آخرین کا بد بخت ترین آدمی کوفہ میں، حملے کی منصوبہ بندی

پورا دور ِ خلافت اندرونی مسائل حل کرتے رہے

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اپنے پورے دورِ خلافت میں اندرونی مسائل میں ہی اُلجھے رہے اوراُن مسائل کو حل کرتے رہے ۔بد بخت یہودی منافق خارجی عبد اﷲ بن سبا ء مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے مسلمان ہوا تھا اور وہ پوری مملکت اسلامیہ میں اپنا خفیہ نیٹ ورک چلا رہا تھا اور مسلمانوں کو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف بھڑکا رہا تھا ۔جس کے نتیجے میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی درد ناک شہادت کا واقعہ پیش آیا ۔جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو بد بخت منافق خارجی عبد اﷲ بن سباءنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر خلیفۂ چہارم حضرت علی امرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی مسلمانوں کو جوڑنے اور امن پید ا کرنے کی ہر کوشش کو بھی ناکام بنانے میں کامیاب رہا ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا دورِ خلافت لگ بھگ ساڑھے چار سال رہا اور اِس دوران آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل اِسی کوشش میں رہے کہ تمام مسلمان ایک ہو جائیں اور آپس میں امن ہو جائے ۔اِس کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ اپنے پورے دورِ خلافت میں اندرونی مسائل کو حل کرنے میں مصروف رہے ۔ بد بخت یہودی منافق عبد اﷲ بن سباءیہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا عاشق ہے لیکن اُس کا اصل مقصد مسلمانوں کو آپس میں لڑوانا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ مسلمان کبھی متحد نہ ہوں ۔اور اِس کے لئے اُس نے منافقین کا خفیہ نیٹ ورک بھی بنا رکھا تھا جس کی وجہ سے ” جنگ جمل “ ، ”جنگ صفین “ اور” جنگ نہروان “ (خوراج سے جنگ ) ہوئی ۔آخرکار اُس کے خفیہ نیٹ ورک کے تین کارندوں نے ایک ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ 

تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو شہید کرنے کا منصوبہ

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کے حالات ایسے ہیں کہ ہمارا قلم اِن حالات کو لکھنے سے قاصر ہے ۔اِس کے لئے آ پ تاریخ کی مستند کتابوں کی طرف رجوع کریں ۔یہاں ہم صرف خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش کریں گے ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ مکہ¿ مکرمہ ، مدینہ¿ منورہ ،پورا حجاز اور تہامہ کا علاقہ ، ملک یمن ، ملک عراق اورایران کے خلیفہ تھے اور اِن علاقوں پر آپ رضی اﷲ عنہ کی خلافت قائم تھی ۔ملک شام ( جس میں فلسطین ، لبنان اور اردن بھی شامل تھے ) اور ملک مصر پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کی حکومت تھی اور انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنایا ہوا تھا ۔ایسے وقت میں تین بد بخت منافق خارجی اکٹھا ہوئے اور تینوں صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو ایک ساتھ شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جنگ نہروان میں باقی بچے خوارجوں میںسے تین خوارج عبد اﷲ بن ملجم مرادی ، برک بن عبد اﷲ تمیمی ( اِس کو حجاج بھی کہتے ہیں ) اور عمرو بن بکر تمیمی حجاز میں ایک مقام پر اکٹھا ہوئے اور عظماءاور امرائے اسلام کی برائیاں کرنے لگے ۔نہروان کے مقتولوں پر افسوس ظاہر کیا اور بہت دیر تک خاموش اور مغموم بیٹھے رہے ۔پھر اُن میں سے ایک نے کہا : ” کاش ہم لوگ اپنی جانوں پر کھیل کر( نعوذ باﷲ ) آئمتہ الضلال( گمراہ سرداروں ) کو مار ڈالتے تو بہت اچھا ہوتا اور مسلمان اُن کے ظلم سے نجات پا جاتے ۔“ ابن ملجم ( یہ ملک مصر کا رہنے والا تھا ) نے کہا : ” میں علی ( رضی اﷲ عنہ ) کے لئے کافی ہوں ۔“ برک نے کہا : ” میں معاویہ ( رضی اﷲ عنہ ) کا کام تمام کر دوں گا۔“ عمرو بن بکر نے کہا : ” میں عمرو بن عاص ( رضی اﷲ عنہ ) کو ختم کر دوں گا ۔“ اِس کے بعد تینوں نے یہ عہد و پیمان کیا کہ جب تک ہر شخص اپنے کام کو پورا نہیں کر لے تب تک واپس نہیں آئے گا یا تو کام پورا کرے گا یا پھر مر جائے گا اور یہ کام ماہ رمضان المبارک کی سترہ ( 17 ) تاریخ کو نماز فجرکے وقت انجام دیا جائے گا ۔

ایک ہی دن اور ایک ہی وقت شہید کرنے کا منصوبہ

تینوں خارجیوں یا سبائیوں نے تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں شہید کرنے کی منصوبہ بندی کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن ملجم ، برک بن عبد اﷲ اور عمرو بن بکر نے ایک جگہ جمع ہو کر معاملات پر غور و فکر کیا اور اُن تینوں نے حکام کے طرز عمل پر نکتہ چینی کی ۔اِس کے بعد نہروان کے مقتولوں ( خارجیوں ) کا ذکر کیا اور اُن کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعا کی اور بولے کہ ہم اِن لوگوں کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے ۔یہ لوگ ایسے بھائی تھے جو لوگوں کو اﷲ کی طرف دعوت دیتے تھے اور اﷲ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کیا کرتے تھے ۔کیوں نہ ہم اپنی جانوں کو اﷲ کے ہاتھ فروخت کر دیں اور اُن ( نعوذ باﷲ ) گمراہ اماموں کے پاس جائیں اور اُن کے قتل کی کوشش کریں ۔اِس طرح تمام علاقہ کے لوگوں کو اِن سے چھٹکارہ مل جائے گا اور ہم اپنے بھائیوں کا انتقام بھی لے لیں گے ۔اِس پر ابن ملجم نے کہا :” علی بن ابی طالب ( رضی اﷲ عنہ ) سے میں تمہیں چھٹکارہ دلاو¿ں گا ۔“ یہ ملک مصر کا باشندہ تھا ۔برک بن عبد اﷲ نے کہا : ” معاویہ بن ابی سفیان ( رضی اﷲ عنہ ) کو میں قتل کروں گا ۔“ عمرو بن بکر نے کہا : ” عمرو بن عاص ( رضی اﷲ عنہ ) کو میں ختم کروں گا ۔“ اِن تینوں نے اﷲ کو حاضر ناضر کر کے آپس میں معاہدہ کیا کہ ہم میں ہر ایک نے جس شخص کے قتل کا ذمہ لیا ہے وہ اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹے گا یا تو اُس شخص کو قتل کردے گا یا خود قتل ہو جائے گا ۔ اِ ن تینوں نے اپنی اپنی تلواروں کو زہر میں بجھایا اور تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے قتل کے لئے سترہ ( 17 ) رمضان المبارک متعین کی اور اِس کے بعد یہ تینوں اُن تینوں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے قتل کے لئے روانہ ہو گئے ۔( اُس وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کوفہ میں رہتے تھے ،حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ دمشق میں اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ملک مصر میں رہتے تھے ۔) 

شہادت کی خبر پہلے سے تھی 

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو اُن کے شہید ہونے کی خبر پہلے سے ہی تھی ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : امام ابو داو¿د نے اپنی ”مسند طیا لسی “ میں بیان کیا ہے کہ خوارج نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس آکر کہا : ” اﷲ سے ڈریئے بے شک آپ ( رضی اﷲ عنہ ) مرنے والے ہیں ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” نہیں ! اُس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا ہے ،( مجھے ایسے موت نہیں آئے گی ) لیکن میں کھوپڑی پر ( ایسی ) ضرب لگنے سے شہید ہوں گاجو داڑھی کو رنگ دے گی ۔“ اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھ سے داڑھی کی طرف اشارہ کیا ۔پھر آگے فرمایا : ” یہ ایک معروف و مشہور عہد اور فیصلہ شدہ امر ہے اور جس نے افتراءکیا وہ ناکام ہوا ۔“ 

اولین کا بد بخت ترین آدمی اور آخرین کا بد بخت ترین آدمی 

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ شہید ہوں گے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : امام ابو یعلیٰ اپنی ”مسند “ میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اولین بد بخت ترین آدمی کون ہے ؟ میں کہا : ” ( حضرت صالح علیہ السلام کے زمانے میں ) اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے بالکل درست کہا اور آخرین کا بد بخت ترین آدمی کون ہے؟ “ میں نے عرض کیا : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !مجھے اِس کا علم نہیں ہے ۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( آخرین کا بد بخت ترین آدمی وہ ہوگا ) جو تمہاری کھوپڑی پر تلوار مار کر تمہارے خون سے تمہاری داڑھی کو رنگ دے گا ۔“راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے : ” میں چاہتا ہوں کہ تمہارا بد بخت ترین آدمی ظاہر ہو جائے ۔“ خطیب بغدادی بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” اولین کا بد بخت ترین آدمی کون ہے ؟ “ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا: ” ( حضرت صالح علیہ السلام کے زمانے میں ) اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا ۔“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آخرین کا بد بخت ترین آدمی کون ہے ؟ “ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ۔“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں شہید کرنے والا ۔“

آخرین کا بد بخت ترین آدمی کوفہ میں

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کوفہ میں تھے اِس لئے آخرین کا بد بخت ترین آدمی ابن ملجم کوفہ آیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن ملجم مرادی کا شمار بنو کندہ میں ہوتا تھا ۔یہ شخص کوفہ پہنچا اور وہاں اپنے ہم قوم اور دوست احباب سے ملا لیکن اِس راز کو اُس نے سینے میں چھپائے رکھا اور اپنی قوم اور دوستوں سے بھی اِس کا ذکر نہیں کیا کہ کہیں راز فاش نہ ہو جائے ۔ایک روز اُس نے بنو تیم الرباب کے کچھ آدمیوں کو دیکھا جو بیٹھے ہوئے اپنے مقتولوں کا ذکر کر رہے تھے جن کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جنگ نہروان میں قتل کیا تھا ۔اُس روز ابن ملجم بنو تیم الرباب کی ایک عورت سے ملا جس کا نام قطامہ بنت شجنہ تھا ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جنگ نہروان میں اُس کے بھائی اور باپ کو قتل کیا تھا ۔یہ عورت بہت حسین تھی ابن ملجم نے اُسے دیکھا تو اُس کا دیوانہ ہو گیا اور اُسے نکاح کا پیغام دیا ۔قطامہ نے کہا کہ میں تجھ سے اُس وقت تک شادی نہیں کر سکتی جب تک تُو میرے کلیجے کا ٹھنڈک نہ پہنچا دے ۔“ ابن ملجم نے کہا : ” وہ کس طرح ؟ قطامہ نے کہا : ” تین ہزار درہم ، ایک غلام اور ( حضرت ) علی بن ابی طالب ( رضی اﷲ عنہ ) کا قتل ۔“ ابن مہجم نے پوچھا : ” کیا یہ تیرا مہر ہو گا ؟ “ قطامہ نے جواب دیا : ” ہاں یہ میرا مہر ہو گا ۔میں ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) کا سر چاہتی ہوں اگر تُو نے ایسا کیا تو اپنا اور میرا دونوں کا کلیجہ ٹھنڈا کرے گا اور عیش کی زندگی گذارے گا اور اگر تُو قتل ہو گیا تو اﷲ پاس جو اجر ہے وہ دنیا اور دنیا کی زینت سے بہت بہتر ہے ۔“ ابن ملجم نے کہا : ” اﷲ کی قسم ! میں اِس شہر کوفہ میں اِسی لئے آیا ہوں اور میں تیری خواہش پوری کروں گا ۔قطامہ نے کہا : ” میں یہ چاہتی ہوں کہ تیرے ساتھ کوئی ایسا شخص ہو جو تیری پشت پناہی کر سکے اور مد دکر سکے ۔ “ اِس کے بعد قطامہ نے اپنی قوم کے ایک شخص جس کا نام وردان تھا طلب کیا اور اُس کے سامنے یہ منصوبہ رکھا اور اُس نے قبول کیا ۔

حملے کی منصوبہ بندی

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کی تیاری اُسی شہر میں کی جا رہی تھی جس میں آپ رضی اﷲ عنہ مقیم تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس کے بعد ابن ملجم مع اشجع کے ایک شخص شبیب بن بجرہ کے پاس گیا اور اُس سے کہا : ” تُو دنیا اور آخرت کی عزت و کرامت کا طلب گار ہے ؟ “ شبیب نے کہا : ” وہ کس طرح ؟ “ ابن ملجم نے کہا :” وہ عزت و شرافت ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) کو قتل کر کے حاصل ہو سکتی ہے ۔“ شبیب نے کہا : ” تیری ماں تجھ پر روئے !تُو نے بہت ہی بری بات زبان سے نکالی ہے تُو ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) پر کیسے قابو پا سکتا ہے ؟ “ ابن ملجم نے کہا :” میں مسجد میں چھپ کر بیٹھ جاو¿ں گا ۔ جس وقت ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) صبح کی نماز کے لئے مسجد میں داخل ہونے لگے گا تو ہم اُس پر حملہ کر دیں گے ۔ اِس کے بعد ہم بچ گئے تو ہمارے دل ٹھنڈے ہو جائیں گے اور ہم اپنے مقتولوں کا بد لہ بھی لے لیں گے اور اگر ہم قتل ہو گئے تو اﷲ کے پاس جو ہمارا اجر ہو گا دنیا و ما فیہا سے بہت بہتر ہو گا ۔“ شبیب نے کہا : ” تجھ پر افسوس ہے ! اگر ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) کے علاوہ کوئی اور شخص تیرا نشانہ ہوتا تو مجھے اتنا شاق نہیں گذرتا ۔ تُویہ بھی جانتا ہے کہ ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) نے اسلام کی خاطر کتنے مصائب برداشت کئے اور تُو یہ بھی جانتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ دینے میں انہوں نے سبقت کی ہے ۔ میرا دل اُن کے قتل سے مطمئن نہیں ہے ۔ “ ابن ملجم نے کہا : ” تُو یہ بات جانتا ہے کہ ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) نے اہل نہروان کو قتل کیا ہے اور یہ سب اﷲ کے نیک بندے تھے ۔“ شبیب نے کہا : ” کیوں نہیں ۔“ ابن ملجم نے کہا :” تو ہم اُن لوگوں کو ضرور قتل کریں گے جنہوں نے ہمارے بھائیوں کا قتل کیا ہے ۔یہ سن کر شبیب نے ابن ملجم کی حمایت کا وعدہ کیا اور یہ سب ملکر قطامہ کے پاس پہنچے وہ جامع مسجد میں اعتکاف میں بیٹھی تھی ۔اُن سب نے اُس سے جاکر کہا : ” ہم نے ( حضرت ) علی ( رضی اﷲ عنہ ) کے قتل پر اتفاق کر لیا ہے ۔“ قطامہ نے کہا : ” جس روز تم قتل کرنا چاہو گے اُس روز میرے پاس آنا ۔“ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں