ہفتہ، 5 اگست، 2023

05 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


05 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 5

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر خلافت کا بوجھ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی بیعت، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کی بیعت، پہلا خطبہ ، پہلا فیصلہ ، پہلی روایت ،دیت ادا کر کے چھوڑ دیا، دوسری روایت ،مقتول کے ورثا کے حوالے کردیا

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر خلافت کا بوجھ

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ مسلسل تین دن اور تین رات تک سب لوگوں کی رائے معلوم کرتے رہے اور آخر کار ایک نتیجے پر پہنچ گئے۔چوتھے دن صبح آپ رضی اﷲ عنہ مسجد میں پہنچے اور اعلان کروایا۔علامہ عمد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہم سے ملاقات کی اور دونوں سے عہد لیا کہ اگر انہیں خلیفہ بنایا جائے گا تو عدل سے کام لیں گے۔پھر تینوں حضرات رضی اﷲ عنہم مسجد کی طرف گئے اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے وہ عمامہ باندھا ہوا تھا جو رسول ا صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں پہنایا تھا اور تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ”الصلاة الجامعہ“کا اعلان کر دیا اور مسجد لوگوں سے بھر گئی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ منبر پر چڑھے اور دعا کی پھر فرمایا :”اے لوگو ! میں نے پوشیدہ اور اعلانیہ تمہاری رائے پوچھی اور میں نے تم کو حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اﷲ عنہم کے برابر کسی کو قرار دیتے نہیں دیکھا ہے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم کو بلا کر خلافت کے متعلق وعدہ لیا ۔اِس کے بعد فیصلہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حق میں دیا کہ اکثریت ان کے ساتھ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور مسجد کی چھت (یعنی آسمان) کی طرف سر اُٹھا کر فرمایا:”اے اﷲ ! سُن اور گواہ رہ ، اے اﷲ ! سُن اور گواہ رہ ، اے ا ﷲ ! سُن اور گواہ رہ ، اے اﷲ ! میں نے وہ ذمہ داری حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی گردن میں ڈال دی ہے جو میری گردن میں پڑی ہوئی تھی۔پھر لوگ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی بیعت کرنے لگے اور بھیڑ بہت زیادہ تھی ۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی بیعت

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر

 منبر پر بٹھا دیااور لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم منبر پر جس سیڑھی پر بیٹھتے تھے ،اُس پر خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے ۔جس سیڑھی پرخلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے ،اُس سیڑھی پر خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے اور جس سیڑھی پر خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے ،اُس پر خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے۔لوگ جلدی جلدی آگے بڑھ کر بیعت کر رہے تھے اور بھیڑ کی وجہ سے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ پیچھے رہ گئے ۔یہ دیکھ کر حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”جو عہد شکنی کرے گا ،اُس کی عہد شکنی اُس کی ذات کے لئے نقصان دہ ہو گی اور جس نے اﷲ سے کیا ہوا معاہدہ پورا کیا تو وہ عنقریب اُسے بہت بڑا ثواب عطا فرمائے گا۔“یہ سنتے ہی حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ تیزی سے بھیڑ کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لی اور خلافت کا بوجھ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے کاندھوں پر آگیا

حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کی بیعت

خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی سب نے بیعت کرلی تو حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ بھی آگئے۔علامہ محمد بن جریر طبری رضی اﷲ عنہ لکھتے ہیں۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ اُس دن آئے جس دن حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تھی ۔لوگوں نے کہا :”تم بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لو۔“انہوں نے فرمایا :”کیا تمام اہل قریش اُن کی حمایت کرتے ہیں ؟“لوگوں نے کہا :”ہاں ۔“پھر وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”تمہیں اِس معاملے کا اختیار ہے ،اگر تم انکار کرو گے تو میں اِس معاملے کو لوٹا دوں گا (یعنی خلافت کی ذمہ داری سے ہٹ جاو¿ں)۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”کیاآپ رضی اﷲ عنہ سے لوٹا دیں گے؟“خلیفہ¿ سوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”ہاں “حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”کیا تمام لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے؟“خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جی ہاں ۔“یہ سن کر حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”میں بھی بیعت کرنے پر رضامند ہوں ،میں لوگوں کے متفقہ فیصلہ سے الگ رہنا نہیں چاہتا ہوں ۔“یہ فرما کر انہوں نے بھی بیعت کر لی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔ بیعت عامہ کے دن حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ آئے۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”تُم کو اختیار ہے اگر تم میری بیعت سے انکار کر دو تو میں خلع خلافت کردیتا ہوں۔“حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”کیا سب نے بیعت کر لی ہے؟“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”جی ہاں۔“حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”میں اس سے اختلاف نہیں کرنا چاہتا جس پر سب نے اتفاق کر لیا ہے ،میں آپ رضی اﷲ عنہ کی خلافت سے راضی ہوں۔“

پہلا خطبہ 

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی سب لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ رضی اﷲعنہ منبر پر کھڑے ہوئے پہلا خطبہ¿ خلافت دیا۔سب سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا پھر فرمایا :”اے لوگو ! تم قلعہ بند گھر میں (اپنے آپ کو سمجھتے )ہو اور اپنی عُمر کے بقیہ حصے میں ہو ۔اِس لئے اپنی (باقی ماندہ) زندگی میں جلد سے جلد نیک کام سر انجام دو اور جو نیک عمل کر سکتے ہو اُس سے دریغ نہ کر و،کیونکہ تمہیں صبح یا شام اِس دنیا سے چلا جانا ہے ۔ آگاہ ہو جاؤ ! یہ دنیا مکرو فریب میں لپٹی ہوئی ہے ،اِس لئے تمہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا نہ کر دے ۔تم گذری ہوئی باتوں سے عبرت حاصل کرو اور سرگرمی کے ساتھ نیک کام کرو اور غافل نہ رہو۔کیونکہ وہ (اﷲ تعالیٰ ) غافل نہیں ہے۔وہ دنیا دار اور اُن کی اولاد کہاں ہیں؟جنہوں نے دنیا میں بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کیں اور لمبے عرصے تک دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔کیا دنیا نے انہیں چھوڑ نہیں دیا ہے ؟ تُم بھی دنیا کو وہیں پھینک دو جہاں اﷲ تعالیٰ نے اُسے پھینکا ہوا ہے ۔(اس کے بجائے تم )آخرت کے طلب گار بنو ۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے دنیا کی کیا ہی اچھی مثال دی ہے اور فرمایا ہے :”(اے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ! ) تُم انہیں دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو کہ وہ اُس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان سے نازل کیا اور اُس میں زمین کی روئیدگی مل گئی ((اور ہر چیز اُگنے کے بعد) وہ چورا ہو گئی (یعنی گھاس پھوس) جسے ہوائیں اُڑاتی پھرتی ہیں اور اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک بہتر ثواب اور بہتر اُمید کا باعث ہے“۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ منبر سے اُتر آئے ۔

پہلا فیصلہ 

خلیفہ بننے کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سامنے پہلا مقدمہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبید اﷲ بن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا پیش کیا گیا۔اِن کا واقعہ یہ تھا کہ حضرت عبید اﷲ بن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہوا کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا قاتل ابو لولوة حملے سے ایک یا دو دن پہلے ایک نصرانی جس کا نام جفینہ تھا (یہ ملک عراق کا باشندہ تھا) اور ہرمزان سے ملا تھا اور اُس کے ہاتھ میں وہی خنجر تھا جس سے اُس نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پر حملہ کیا تھا۔(ہرمزان آپ کو یاد ہوگا ،ہم نے اِس کے بارے میں خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں تفصیل سے بتایا تھا کہ یہ ملک عراق میں سلطنت فارس کے بڑے سپہ سالاروں میں سے ایک تھا اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اُسے گرفتار کر کے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مدینہ¿ منورہ بھیج دیا تھا ۔یہاں اُس نے خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ کی سادگی اور عدل کو دیکھا تو بہت متاثر ہوا اور اسلام قبول کرلیا ۔ہرمزان مدینہ¿ منورہ میں ہی بس گیا اور اپنے بیوی بچوں کو بھی بلا لیا اور انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا۔)حضرت عبید اﷲ بن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جفینہ اور ہرمزان کو قتل کردیا ۔انہیں مسلمانوں نے گرفتار کر کے قید کرلیا تھا ۔خلیفہ بننے کے بعد حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا اور تمام واقعہ سنانے کے بعد اُن کے بارے میں فیصلہ کرنے کو کہا گیا۔خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِس مقدمے کا کیا فیصلہ کیا اِس کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ہم دونوں آپ کی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں۔ 

پہلی روایت ،دیت ادا کر کے چھوڑ دیا

خلیفۂ سوم رضی اﷲ عنہ نے منصب خلافت سنبھالتے ہی پہلے مقدمے کا کیا فیصلہ کیا اِس بارے میں علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت فارو ق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے دوسرے دن حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے کہا :”میں نے حملے سے پہلے ہرمزان ،ابو لولوة اور جفینہ کو ایک جگہ مشورہ کرتے دیکھا تھا اور وہی خنجر ہرمزان کے ہاتھ میں تھا جس سے ابولولوة نے حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ پر حملہ کیا تھا ۔مجھے دیکھ کر یہ لوگ خاموش ہو گئے تھے اور خنجر ہرمزان کے ہاتھ سے گر پڑا تھا ۔حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ہرمزان کو قتل کر دیا ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے دوڑ کر حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو گرفتار کر لیا۔اگلے دن خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دربار ِ خلافت میں یہ مقدمہ پیش ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مہاجرین اور انصار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ طلب کیا۔کچھ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے قتل کرنے کا مشورہ دیا اور کچھ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے دیت دینے کا مشورہ دیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے دیت دے کر حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو آزاد کر دیا۔

دوسری روایت ،مقتول کے ورثا کے حوالے کردیا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے دوسری روایت کے مطابق حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مقتول کے ورثا کے حوالے کر دیا اور انہوں نے اﷲ کی رضا کی خاطر انہیں چھوڑ دیا ۔ یہ روایت علامہ محمد بن جریر طبری ،ہرمزان کے بیٹے فحاذ بان بن ہرمزان کی زبانی بیان کرتے ہیں۔”اہل عجم “(ملک عرب کے باہر سے آکر بسے لوگ) مدینۂ منورہ میں ایک دوسرے سے ملتے رہتے تھے ۔ایک دفعہ ابولولوة میرے والد کے پاس سے گزرا ، اُس کے ہاتھ میں درمیانی دستے کا دوہری دھار والا خنجر تھا (میرے والد) نے اُسے پکڑا اور پوچھا :”تُم اِس ملک میں اِس کاکیاکرو گے؟ “ اُس نے کہا:”میں اِسے استعمال کروں گا ۔“ایک آدمی نے انہیں اِس حالت میں دیکھ لیا تھا ۔ جب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پر حملہ ہوا تو اُس شخص نے کہا :”میں نے اِس (قاتل) کو ہرمزان کے ساتھ دیکھا تھا اُس نے یہ خنجر ابولولو ة کو دیا تھا ۔یہ سن کر حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ہر مزان کو قتل کر دیا ۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو میرے حوالے کردیا اور فرمایا :”اے میرے فرزند ! یہ تمہارے والد کا قاتل ہے اور تم ہم سے زیادہ اِس پر حق رکھتے ہو ،جاو¿ اور جو سلوک کرنا چاہو کرو ۔“انہیں میں اپنے ساتھ لے گیا ،اُس وقت اس مقام کا ہر شخص میرے ساتھ تھا اور مجھے مشورہ دے رہا تھا ۔میں پوچھا :”کیا میں انہیں قتل کر سکتا ہوں ؟“ لوگوں نے کہا :”ہاں“ میں نے پوچھا :”کیا آپ لوگ مجھے اِن کے قتل سے منع کرتے ہیں ؟“لوگوں نے کہا :”نہیں“ پھر میں نے اﷲ کی رضا کی خاطر حضرت عبید اﷲ بن عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ کو آزاد کر دیا ۔میرے اِس فیصلے سے لوگ اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے مجھے اپنے کاندھوں پر اُٹھا لیا ۔اﷲ کی قسم ! میں لوگوں کے کاندھوں اور ہاتھوں پر سوار ہو کر اپنے گھر پہنچا ۔“دونوں روایات ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کردی ۔حقیقت کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔واﷲ و اعلم ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں