جمعرات، 3 اگست، 2023

05 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


05 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 5

مسلمانوں کی آپسی محبت،اور شہادت کی تمنا، مسلمانوں کی فتح، رومی سپہ سالاروں اور کمانڈروں کا قتل، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے سپہ سالار، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ عام سپاہی کی حیثیت سے، رومی کیوں ناکام ہوئے، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ”امیر الامراء“، دمشق کا محاصرہ، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا حملہ، دمشق والوں سے صلح، مال غنیمت کی تقسیم

مسلمانوں کی آپسی محبت،اور شہادت کی تمنا

جنگ یرموک میں مسلمانوں نے ایکدوسرے سے آپسی محبت اور شہید ہونے کی تمنا کا ایسا مظاہرہ کیا،جو ہمیشہ تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جائے گا۔اور ہر زمانے اور ہر دور کے مسلمان اِس سے سبق حاصل کر کے اِس پر عمل کر کے کامیاب ہوتے رہیں گے۔علامہ عماد الدین ابن کثیرلکھتے ہیں۔اور واقدی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ جب وہ (حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ ،اُن کے بیٹے اور چارسو مجاہدین)زخم کھا کر گر پڑے ،تو انہوں نے پانی مانگاتو اُن کے پاس پینے کے لئے پانی لایا گیا۔اور جب اُن میں سے ایک کو پانی دیاجانے لگا،تو دوسرے آدمی نے پانی مانگا تو پہلے آدمی نے کہا:”یہ پانی اُسے پلا دو۔“پس اِن میں سے ہر ایک نے دوسرے کو پانی پلانے کو کہا۔یہاں تک کہ سب لوگ پیاسے شہید ہو گئے ،اور کسی نے بھی پانی نہیں پیا۔

مسلمانوں کی فتح

اﷲ تعالیٰ نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے چار سو (400) ساتھیوں کی قربانی کو قبول فرمایا،اور مسلمانوں کوفتح عطا فرمائی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ ملکر خندق نما گھاٹی میں داخل ہوتے ہی رومیوں کا قتل عام شروع کردیا۔رومیوں کے پیر اُکھڑ گئے،اور انہیں بُری طرح شکست ہوئی ۔رومی بھاگ کر واقوصہ کی گھاٹی میں چلے گئے،اور وہ گھاٹی اُن کے لئے موت کا پھندہ بن گئی۔اِس گھاٹی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا،اور اُس پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔رومیوں کے بھاگنے کا راستہ بند ہو چکا تھا،اور مسلمان انہیں مسلسل کاٹتے جارہے تھے۔رومی بہت زیادہ تعداد میں تھے،اﷲ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں رعب ڈال دیا تھا۔ورنہ وہ اتنے زیادہ تعداد میں تھے کہ اگر وہ ہمت سے لڑتے تو مسلمان مصیبت میں آجاتے۔اِس بات کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اچھی طرح جانتے تھے،اسی لئے انہوں نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ فرار ہونے والے گھڑ سواروں کو مت روکو۔لیکن ان کے کمانڈروں اور سپہ سالاروں کو روک لو۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے یہ دیکھ کر کہ رومی سوار بھاگنا چاہتے ہیں،ان کو راستہ دے دیا،اور مزاحم نہیں ہوئے۔یہ لوگ بھاگ کر مختلف شہروں میں منتشر ہو گئے۔پھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور مسلمان پیدل رومی فوجیوں کی طرف متوجہ ہوئے۔اور اُن کو کاٹ کاٹ کر یہ حالت کر دی ،گویا کہ ایک عظیم الشان دیوار تھی ،جو منہدم کر دی گئی ۔رومی اپنی خندق میں گھس گئے،حضرت خالد رضی اﷲ عنہ وہاں بھی پہنچے تو وہاں سے جان بچا کر رومیوں نے واقوصہ کی گھاٹی کی طرف رخ کیا۔جن رومیوں نے بیڑیاں اور زنجیریں پہنی ہوئی تھیں،وہ اُس گھاٹی میں دھڑا دھڑا گرنے لگے۔اور اُن میں سے جو لوگ لڑنے کے لئے جم کر کھڑے رہنا چاہتے تھے،اُن کو بھی وہ لے مرتا تھاجس کے دل پر مسلمانوں کی دہشت طاری ہوتی تھی۔ایک کے گرنے سے دس دس کی جان پر آبنتی تھی،اور ذرا سا دو آدمی جھکتے تھے تو اُن کے ساتھ باقی لوگ بے بس ہو جاتے تھے۔ایک لاکھ بیس ہزار(1,20,000) رومی واقوصہ کی گھاٹی میں قتل کئے گئے۔اِن میں سے اسی ہزار(80,000)بیڑیاں اور زنجیریں پہنے ہوئے تھے،اور چالیس ہزار کھلے ہوئے تھے۔یہ تعداد اُن گھڑ سواروں اور پیدلوں کے علاوہ تھی،جو واقوصہ کی گھاٹی کے باہر قتل ہوئے۔

رومی سپہ سالاروں اور کمانڈروں کا قتل

جنگ یرموک میں رومیوں کا قتل عام ہو رہا تھا،اور اُن کے کمانڈر،سردار اور سپہ سالار شرم کی وجہ سے منہ چھپائے بیٹھے تھے۔جبکہ اُن کا سب سے بڑا سپہ سالار تذارق اپنی جان بچا کر بھاگ گیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فیقا ءاور بعض دوسرے رومی کمانڈروں اور سپہ سالا روں نے مارے شرم اور غیرت کے اپنی ٹوپیوں میں اپنے منہ چھپا لئے،اور بیٹھ گئے۔اور کہا کہ آج اگر ہم نصرانیت(عیسائیت) کی حمایت کرنے اور یوم مسرت دیکھنے کے قابل نہیں ہیں تو اِس ذلت اور بد بختی کے دن کو بھی دیکھنا نہیں چاہتے ۔اور اسی حالت میں انہیں قتل کر دیا گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے پڑاو¿ میں داخل ہونے کے بعدتذارق کے خیمے میں قیام فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ہرقل کے بھائی تذارق کے خیمہ میں گذاری ،جو اُس روز رومیوں کا سپہ سالار تھا۔وہ بھی بھگوڑوں کے ساتھ بھاگ گیا تھا۔اور گھڑسواروں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے کے پاس چکر لگاتے ہوئے گذاری ،اور جو بھی رومی اُن کے پاس سے گذرتا تھا،وہ اسے قتل کر دیتے تھے۔یہاں تک کہ صبح ہو گئی ،اور تذارق بھی قتل کر دیا گیا۔اُس کے لئے تیس شامیانے اور تیس دیباج کے پردے تھے ،جن میں بچھونے اور ریشم بھی تھا۔ 

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے سپہ سالار

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بنتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا ،اور حضرت ابو عبیدہ بن جر اح رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا سپہ سالار بنایا۔اور ایک خط لکھ کر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی طرف بھیجا۔اُس خط کا مضمون ہم اوپر پیش کر چکے ہیں،لیکن تسلسل برقرار رکھنے کے لئے یہاں بھی پیش کر رہے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خط میں لکھا:”میں تم کو اُس اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں،جو باقی رہنے والا ہے۔اور جس کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے،جس نے ہم کو گمراہی سے نکال کر راہ راست(سیدھے راستے )پر لگایا۔اور ظلمت(کفر)سے نکال کر نور(اسلام)میں داخل فرمایا۔میں تم کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی جگہ لشکر کا سپہ سالار مقرر کرتا ہوں۔تم مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو جاو¿،تم غنیمت کی حرص میں آکر مسلمانوں کو ہلاکت میں مبتلا نہ کرنا۔اور نہ کسی اجنبی مقام میں وہاں کے حالات اور نتائج سے بے خبر ہوکر اُن کو ٹھہرانا۔جب تم کسی لشکر کو جنگ کے لئے بھیجو،تو معقول تعداد کے بغیر نہیں بھیجنا۔مسلمانوں کو ہلاکت میں ہرگز مبتلا نہ کرنا،اﷲ نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ میں ،اور میرا معاملہ تمہارے ہاتھ میں دیا ہے۔دنیا کی محبت سے آنکھیں بند کر لو،اور اپنے دل کو بے نیاز کر لو۔خبردار اگلے لوگوں کی طرح اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔اُن کے بچھڑنے کے میدان تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں۔“جو لوگ ملک شام میںخلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر لیکر گئے تھے،اُن کے نام حضرت شداد بن اوس بن ثابت انصاری رضی اﷲ عنہ ،حضرت محمیہ بن جز اور حضرت یرفا ہیں۔اُن لوگوں نے مسلمانوں کے فتح یاب ہونے تک اِس خبر کو پوشیدہ رکھا،اُس وقت مسلمان یرموک میں واقوصہ کی گھاٹی میں رومیوں سے جنگ کر رہے تھے۔یہ رجب المرجب ۳۱ ھجری کا واقعہ ہے۔اِس کے بعد انہوں نے حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی اطلاع دی۔اور بتایا کہ خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا سپہ سالار مقرر فرمایا ہے۔اور تمام سپہ سالاروں کو آپ رضی اﷲ عنہ کا ماتحت بنایا ہے،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا ہے۔اور خلیفہ ¿دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا خط پیش کر دیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ عام سپاہی کی حیثیت سے

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی معزولی کا جو خط حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو بھیجا تھا۔وہ خط آپ رضی اﷲ عنہ نے جنگ یرموک ختم ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو دیا۔انہوں نے خط پڑھتے ہی اپنی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا دیا،اور خود ایک عام سپاہی کی حیثیت سے مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ایک روایت میں ہے کہ جنگ یرموک میں فتح حاصل ہونے کے بعد خط دیا،اور محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ فحل اور دمشق کی فتح کے بعد دیا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُس وقت مجاہدین میں مال غنیمت تقسیم کر چکے تھے یا کرنے والے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ فوراًکھڑے ہو گئے ،اور لشکر کے سامنے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال اور خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خلافت اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری اور اپنی معزولی کا اعلان فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے لشکر والوں کو خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر دی تو مال غنیمت حاصل ہونے کی خوشی انہیں نہیں ہوئی ۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی شکل میں خلیفہ¿ اول کا بدل عنایت فرمایا۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے لشکر والوں سے حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی تعزیت کی تو فرمایا:”سب تعریف اُس اﷲ کے لئے ہے،جس نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی موت کا فیصلہ فرمایا۔اور وہ مجھے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے زیادہ محبوب تھے۔اور اُس اﷲ کا شکر ہے ،جس نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ¿ دوم بنایا۔اور وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بہ نسبت مجھے کم محبوب تھے۔لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی محبت اور اطاعت مجھ پر لازم کر دی ہے۔“

رومی کیوں ناکام ہوئے

یرموک میں شکست کھانے کے بعدرومی فوج بھاگ کر ہرقل کے پاس پہنچی،وہ اُس وقت انطاکیہ میں تھا۔اُسے رومیوں کی بد ترین شکست کی خبر دی گئی ،اُسے رومیوں کی شکست کا اور بھائی کی موت کا بہت صدمہ ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب شکست خوردہ رومی آئے تو ہرقل جو انطاکیہ میں تھا،اُس نے کہا:”تم ہلاک ہو جاو¿،مجھے اُن لوگوں کے متعلق بتاو¿،جنہوں نے تمہیں شکست دی ہے۔کیا وہ تمہاری طرح انسان نہیں تھے ؟انہوں نے کہا:”اِس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ بھی انسان تھے۔“اُس نے پوچھا :”کیا وہ تعداد میں زیادہ تھے؟“انہوں نے جواب دیا :”نہیں !ہماری تعداد اُن سے کئی گنا زیادہ تھی۔“ہرقل نے پوچھا:”پھر تمہیں شکست کیسے ہو گئی؟“کسی نے کچھ نہیں کہا ،پھر ایک بوڑھا کھڑا ہوا ،اور بولا:”اِس وجہ سے انہیں فتح ہوئی کہ وہ لوگ رات کو عبادت میں گذارتے ہیں،اور دن کو روزہ رکھتے ہیں،اور وعدہ و عہد پورا کرتے ہیں،اور نیکی کا حکم دیتے ہیں،اور برائی سے روکتے ہیں،اور آپس میں انتہائی محبت اور انصاف سے پیش آتے ہیں۔اور ہمیں اِس وجہ سے شکست ہوئی کہ ہم شراب پیتے ہیں،زنا کاری کرتے ہیں،حرام کا موں کو کرتے ہیں،وعدہ و عہد توڑتے ہیں،دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں،لوگوں پر ظلم کرتے ہیں،اور نا پسندیدہ کاموں کا حکم دیتے ہیں،اور جن باتوں سے اﷲ راضی ہوتا ہے اُن سے روکتے ہیں،اور زمین پر فساد کرتے ہیں۔“ہر قل نے کہا:”اے بزرگ !تم نے مجھ سے سچ بولا ہے۔“ 

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ”امیر الامراء“

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو ”سپہ سالار اعظم“ بنا دیا۔یعنی دوسرے سپہ سالار آپ رضی اﷲ عنہ کے ماتحت تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ملک شام کی سپہ سالاری حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو منتقل ہو گئی ،اور آپ رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں جنہیں ”امیر الامرائ“کا خطاب دیا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے یرموک پر حضرت بشیر بن کعب حمیری کو اپنا نائب بنا کر چھوڑ دیا۔اِس کے بعد آگے بڑھے ،آپ رضی اﷲ عنہ بھاگنے والوں کا تعاقب کرنا چاہتے تھے۔لیکن یقینی معلوم نہیں تھا کہ رومی کس طرف جائیں گے۔اتنے میں اطلاع آئی کہ رومی ”فحل“میں جمع ہو رہے ہیں۔اور دمشق والوں کی مدد کے لئے حمص سے کمک آرہی ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے تمام تفصیلات لکھ کر خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دی،اور جواب کے انتظار میں ”صفر“میں ٹھہر گئے۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے جواب میں حکم دیا کہ تمام سپہ سالار اپنے اپنے عہدے پر قائم رہیں گے۔صرف حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ تمہارے ماتحت رہیں گے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا خط یہ دریافت کرنے کے لئے آیا کہ کس مقام پر حملہ پر پہلے کیا جائے،تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے جواب میں خط بھیجا:”اما بعد!تم کو چاہیئے کہ پہلے دمشق پر حملہ کرو ،کیونکہ دمشق ملک شام کا قلعہ اور دشمنوں کا دار الحکومت ہے ۔اور فحل والوں کے مقابلے پر اپنے دستے چھوڑ کر اُنہیں اُلجھائے رکھو ،تاکہ وہ لوگ تمہاری طرف توجہ نہیں دے سکیں۔اسی طرح اہل فلسطین اور اہل حمص کو بھی مصروف کر دو۔اگر یہ مقامات دمشق سے پہلے فتح ہو گئے ،تو تمہاری مُراد بر آئے گی ۔اوراﷲ تعالیٰ نے دمشق کو ان سے پہلے فتح کرا دیا ،تو اُس کی حفاظت کے لئے ایک کمانڈر (امیر)چھوڑ دینا۔اور باقی سپہ سالاروں کے ساتھ ملکر فحل پر حملہ کرنا،جب فحل فتح ہو جائے تو تم حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حمص کی طرف مڑ جانا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی ا ﷲ عنہ کو اردن میں اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین میں چھوڑ دینا،اور ہر شہر اور ہر فوج کے سپہ سالار اگلا حکم آنے تک اپنی اپنی خدمات بر قرا رکھیں گے۔

دمشق کا محاصرہ

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دس کمانڈروں کے ماتحت دس دستے فحل کی طرف روانہ کئے۔یہ دستے جب فحل کے قریب پہنچے تو فحل والوں نے اطراف کی ندیوں کے بند توڑ دیئے۔جس سے زمین دلدلی ہو گئی ،اور مسلمانوں کو یہ علاقہ پار کرنے میں بہت پریشانی ہوئی ۔ادھر صفر سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق کی طرف آگے بڑھنے سے پہلے حضرت ذوالکلاح کولشکر دے کر روانہ کیا،اور حکم دیا کہ حمص اور دمشق کے درمیان جاکر پڑاو¿ ڈال دو۔اور حمص سے آنے والی رومیوں کی فوجی امداد کو دمشق تک نہیں پہنچنے دینا۔اور حضرت یزید بن ابو سفیان کو لشکر دیکر فلسطین اور دمشق کے درمیان پڑاو¿ ڈالنے کا حکم دیا۔کہ فلسطین سے آنے والی فوجی امداد کو روکیں۔اِس کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر دمشق کی طرف بڑھے۔”مقدمة الجیش“کا کمانڈر حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کو بنا کر آگے بھیجا۔وہ دمشق کی طرف روانہ ہوئے ،اور اُن کے ایک بازو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ تھے،اور دوسرے بازو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ تھے۔گھڑسواروں کے کمانڈر حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ تھے۔اور پیدل کے کمانڈر حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ تھے۔مسلمانوں نے دمشق کا محاصرہ کر لیا۔سامنے کی طرف حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ تھے۔دائیں بازو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ تھے ۔بائیں بازو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ تھے۔اور پیچھے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی ا ﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ تھے۔دمشق کا حکمراں نسطاس بن نسطوس تھا،اُس نے ہرقل سے فوجی کمک (مدد) مانگی۔ہر قل اُن دنوں حمص میں ٹھہرا ہوا تھا،اُس نے فوجی کمک بھیجی تو راستے میں حضرت ذولکلاع سے ٹکراؤ ہوا،انہوں نے رومیوں پر اتنا زبردست حملہ کیا کہ وہ واپس حمص بھاگ گئے۔اِدھر دمشق پر مسلمانوں کے حملے جاری رہے،اور کبھی منجنیقوں سے حملے کرتے ،اور کبھی تیر اندازی کرتے تھے۔اِس طرح دمشق کے محاصرے کو ستر دن گذر گئے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا حملہ

مسلمان دمشق کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور اندر رومی ہرقل کی فوجی امداد کا انتظار کر رہے تھے۔لیکن جب انہیں ہرقل کی طرف سے امداد نہیں مل سکی تو اُن کے اندر بزدلی پیدا ہو گئی ۔پھر بھی انہوں نے سمجھا کہ مسلمان دوسرے عام لٹیروں کی طرح ہیں،اس لئے جب سردی زیادہ ہو جائے گی تو یہ خود ہی یہاں سے بھاگ جائیں گے۔لیکن سردی زیادہ ہونے کے باوجود مسلمان محاصرے پر ڈٹے رہے۔حضرت خالد بن ولید مسلسل حملہ کرنے کی تاک میں تھے،اگر اُن کے اوپر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا دباؤ نہیں ہوتا ،تو ابھی تک وہ دمشق پرفیصلہ کن حملہ کر چکے ہوتے۔اِس کے بعد بھی وہ موقع کی تلاش میں تھے،اور آخر کار انہیں وہ موقع مل ہی گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِسی عرصے میں اہل دمشق کے سب سے بڑے پادری کے یہاں لڑکا پیدا ہوا۔اُس نے پورے دمشق والوں کی دعوت کی،رومیوں نے خوب کھایا،اور خوب شراب پی۔یہاں تک کہ وہ لوگ اپنی اپنی متعینہ جگہ کی نگرانی سے بالکل بے خبر ہو گئے۔مسلمانوں میں سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے سوا کوئی بھی رومیوں کی اِس حالت سے واقف نہیں تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی ہمیشہ یہ کیفیت ہوتی تھی کہ نہ خود سوتے تھے ،اور نہ کسی کو سونے دیتے تھے۔اُن کو رومیوں کی سب باتوں کا علم رہتا تھا،اُن کی آنکھیں بہت تیز تھیں،اور وہ ہر سمت میں ہمیشہ مصروف رہتے تھے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو پہلے سے ہی رسیوں اور ڈوریوں کی سیڑھیاں بناکر تیار رکھنے کا حکم دے رکھا تھا۔دعوت کے روز شام ہوتے ہی آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیاکہ جیسے ہی فصیل پر اﷲ اکبر کا نعرہ سننا توفصیل کے دروازے پر حملہ کردینا ،اور کئی سومجاہدین کو لیکر شہر کی فصیل کی بڑھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت قعقاع بن عمرو اور حضرت مذعوربن عدی رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔یہ سب لوگ اپنی کمر پر مشکیزے باندھ کرخندق میں اتر گئے،اور خاموشی سے تیر کر خندق پار کی۔اور شہر کی فصیل کے کنگوروں پر رسیوں کی سیڑھیاں پھینک کر اوپر چڑھے۔اور اِس مقام پر کچھ لوگوں کو حفاظت کے لئے چھوڑ دیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اندر اُتر کر اپنے دستے کے ساتھ آگے بڑھے ،اور دروازے کے دربانوں اور قریب کے دشمنوں کا خاتمہ کر دیا۔اور فصیل پر موجود اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا،انہوں نے زور سے نعرہ تکبیر اﷲ اکبر کا نعرہ لگایا۔ادھر نیچے کے مجاہدین نے دروازہ کھول دیا ،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے مسلمان دوڑے،اور فوراً خندق پار کر کے دروازے سے داخل ہوئے،بہت سے مسلمان چھلانگیں مارتے ہوئے رسی کی سیڑھیوں کے ذریعے فصیل پر بھی چڑھ گئے۔اور قریب کے رومی فوجیوںکو قتل کرنے لگے۔پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ سامنے والے دروازے سے مسلمان شہر میں داخل ہو چکے ہیں۔اب شہر کے بڑے لوگ صلح کی باتیں کرنے لگے۔

دمشق والوں سے صلح

دمشق شہر کے چاروں طرف جو اونچی فصیل ”شہر پناہ “کے طور پر بنی ہوئی تھی،اُس میں چاروں طرف بہت بڑے بڑے دروازے تھے۔سامنے والے دروازے پر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے،اور وہ صرف اِس کوشش میں تھے کہ کسی بھی طرح دمشق فتح ہو جائے۔شہر کے دائیں طرف والے دروازے کے سامنے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔شہر کے بائیں طرف کے دروازے کے سامنے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ،اور شہر کے پچھلے دروازے کے سامنے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ دالے ہوئے تھے۔اِن تینوں سپہ سالاروں نے ستر (70)دنوں کے محاصرے کے دوران کئی بار دمشق والوں کو صلح کرنے کا حکم دیا تھا،لیکن انہوں نے نہیں مانا تھا۔لیکن جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سامنے والے دروازے کو کھول دیا،اور اُن کے لشکر نے رومی فوجوں کا قتل عام شروع کر دیا ،تو شہر کے رومیوں نے جلدی سے تینوں اطراف کے دروازے کھول دیئے ،اور تینوں سپہ سالاروں سے کہا کہ ہم صلح کو قبول کرتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اِس حملے میں خاطر خواہ کامیابی مل گئی ،اور وہ اپنی طرف کے دروازے پر قابض ہو گئے ۔تو اُس طرف کے دشمن بھاگ بھاگ کردوسرے دروازوں کی طرف پناہ لینے کے لئے دوڑے۔اُن دروازوں کی طرف کے دشمنوں کو مسلمانوں نے نصف نصف تقسیم پر مصالحت کی دعوت دی تھی،مگر انہوں نے اِس تجویز کو مسترد کردیا تھا،اور دفاع پر اڑے رہے تھے۔لیکن جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن پر اچانک حملہ کر دیا تو وہ لوگ فوراً اپنی طرف کے مسلمانوں سے صلح کے خواستگار ہوگئے،جو مسلمانوں نے منظور کر لیا۔رومیوں نے فوراًاندر سے دروازے کھول دیئے،اور مسلمانوں سے کہا کہ جلدی سے اندر آو¿ ،اور ہمیں اِس دروازے کے حملہ آوروں سے بچاو¿۔اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تین طرف کے سپہ سالار اور مسلمان تو صلح کے ساتھ دمشق میں داخل ہوئے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فتح کرتے ہوئے داخل ہوئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی جب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ سے دمشق میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ دمشق فتح ہوا ہے،لیکن حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ صلح ہوئی ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ رومیوں کی چالاکی سمجھ گئے ،لیکن خاموش ہو گئے۔اور حضرت ابو عبید بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق والوں سے نصف پیداوار پر صلح کر لی۔دمشق 31 ہجری میں فتح ہوا۔

مال غنیمت کی تقسیم

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق والوں سے صلح کر لی۔اور زمینوں کی تقسیم پر اور فی کس سالانہ ایک دینار رومیوں سے لیا گیا۔مقتولین کا سامان مال غنیمت میں ڈال دیا گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے مجاہدین کو بھی دوسرے مجاہدین کے برابر دیا گیا۔زمین میں فی جریب ایک جریب پیداوار کا محصول لیا گیا،مگر شاہی خاندان اور اُس کے ساتھ جانے والوں کا تمام سامان اور زمینیں مال غنیمت میں شامل کر دیا گیا۔مال غنیمت میں حضرت ذوالکلاع رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کا،اور حضرت ابوالاعور رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر،اور حضرت بشیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کو بھی حصہ عطا کیا گیا۔فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا گیا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں