پیر، 7 اگست، 2023

04 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 4


04 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 4

خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ, حضرت طلحہ اور حضرت زبیراور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا مطالبہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیراور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا مطالبہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی درخواست، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر، مملکت اسلامیہ میں مختلف رد ِ عمل کا اظہار، گورنروں کی واپسی پر رد عمل، 

خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ کے لوگوں نے خلیفہ بنا دیا اور بیعت کر لی ۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے پہلا خطبہ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے بیعت جمعہ کے دن پچیس ( 25 ) ذی الحجہ 35 ہجری کو کی گئی ۔اِس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ دیا جس میں اﷲ تعالیٰ کی حمدو ثنا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد فرمایا : ”اﷲ تعالیٰ نے ایسی کتاب نازل فرمائی جو لوگوں کو ہدایت کرنے والی ہے ۔اِس کتاب میں ہر قسم کے خیر و شر کو بیان فرمایا ۔اب تم کو چاہیئے کہ تم خیر کو قبول کرو اورشر کو چھوڑ دو ۔اﷲ تعالیٰ کے فرائض ادا کرو وہ تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا ۔اﷲ تعالیٰ نے بہت سے اُمور حرام فرمائے ہیں جو ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور تمام حرام کاموں سے زیادہ مسلمانوں کا خون حرام فرمایا ہے ۔اُس نے مسلمانوں کے ساتھ اخلاص اور آپ میں متحد رہنے کا حکم فرمایا ہے ۔تم موت آنے سے قبل عام اور خاص سب پر عمل کر لو کیونکہ لوگ تو تمہارے سامنے موجود ہیں اور موت تمہیں گھیرتی چلی آرہی ہے ۔تم گناہوں سے ہلکے ہو کر موت سے ملو ،لوگ تو ایک دوسرے کا انتظار ہی کرتے رہتے ہیں ۔تم اﷲ کے بندوں اور اُس کے شہروں کے معاملے میں اﷲ سے ڈرو کیونکہ تم سے اس کا ضرور سوال کیا جائے گا ۔حتیٰ کہ چوپایوں اور گھاس پھوس کے بارے میں بھی تم سے سوال ہو گا ۔ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرو ،اُس کی نافرمانی نہ کرو اور جو بھی خیر تمہیں نظر آئے اُسے قبول کرو اور جو برائی دیکھو اُسے چھوڑ دو اور اُس وقت کو یاد کرو جب تم لوگ تھوڑی تعداد میں تھے اور زمین میں کمزور تھے ۔“ اتنا فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ بیٹھ گئے ۔

حضرت طلحہ اور حضرت زبیراور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا مطالبہ

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو خلافت کی ذمہ داری سنبھالے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ابھی خلافت کی باگ ڈور پوری طرح سے سنبھالی بھی نہیں تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ سے مطالبے شروع ہو گئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ خطبہ دے کر اپنے مکان پر واپس آئے ۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم آئے اور فرمایا : ” چونکہ ہم نے بیعت اِس شرط پر کی تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ حدود و قصاص جاری کریں گے اِسی لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا قصاص لیں ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جب تک لوگ راہ راست پر نہ آجائیں اور کُل اُمور منظم نہ ہو جائیں اُس وقت تک میں آپ رضی اﷲ عنہم کی رائے پر عمل نہیں کر سکتا ،حالانکہ مجھ کو خود حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حقوق اور قصاص کی فکر ہے ۔“ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم یہ سن کر چلے گئے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کے قصاص کی بابت سرگوشیاں ہونے لگیں ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی بیعت ہو جانے کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم دوسرے صحابہ¿ کرام ضی اﷲ عنہم کے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! ہم نے آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کے وقت یہ شرط رکھی تھی آ پ رضی اﷲ عنہ اﷲ کی حدود کو قائم فرمائیں گے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ باغیوں کی یہ تمام جماعت حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے میں شریک ہے اور اِس طرح انہوں نے مسلمانوں کے خون کو حلال کیا ہے ۔اِس لئے آپ رضی اﷲ عنہ پر اِن سب لوگوں سے قصاص لینا فرض ہے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے میرے بھائیو! میں بھی تمہاری طرح اِن امور سے ناواقف نہیں ہوں لیکن ابھی حالات ایسے نہیں ہیں کہ سختی کا موقف اپنایا جائے اور کیا ایسے حالات ہیں کہ تم قصاص لینے پر قدرت رکھتے ہو ؟ “ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا : ” نہیں ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! تم جو دیکھ رہے ہو میں بھی اُن حالات کو دیکھ رہا ہوں اور لوگ خلافت کے معاملے میں کئی قسم ( کئی طبقوں )کے ہیں ۔ایک طبقہ کی وہی رائے ہے جو تمہاری رائے ہے جبکہ دوسرے طبقہ کی رائے تمہاری رائے کے خلاف ہے اور تیسرا طبقہ ایسا ہے جونہ تو تمہاری رائے کا حامی ہے اور نہ ہی دوسرے طبقہ کی رائے کا حامی ہے ۔ بلکہ وہ اِس معاملے یعنی خلافت سے بالکل الگ ہے اور خاموشی اختیا رکئے ہوئے ہے ۔اِس لئے جب تک لوگ ایک رائے پر جمع نہ ہو جائیں اور دل درست نہ ہو جائیں تب تک قصاص لینا ممکن نہیں ہے ۔ اِس وقت آپ لوگ جایئے اور یہ دیکھیئے کہ حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں اُس کے مطابق ہم فیصلہ لیں گے ۔ “ 

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی درخواست

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں میں پھیلی بد امنی کو دور کرنے کی جد و جہد کر رہے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی المر تضیٰ رضی اﷲ عنہ بیعت کے تیسرے دن لوگوں کے خطبہ دینے کے لئے باہر تشریف لائے اور فرمایا : ” اے لوگو ! اعرابیوں ( دیہاتیوں ) کو اُن کے علاقے میں واپس بھیج دو اور اے اعراب ! تم اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے جاؤ ۔“ اعرابیوں نے تو آپ رضی اﷲ عنہ کا حکم مان لیا اور اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے لیکن سبائیہ فرقہ ( عبد اﷲ بن سبا ءکا گروہ ) نے واپس جانے سے انکار کر دیا ۔اِس خطبہ کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اﷲ او ر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا : ” اب آپ لوگ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قاتل کو پکڑ کر قتل کر دیں ۔“ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا : ” یہ قاتل تو اتنے زیادہ چھائے ہوئے ہیں کہ اعراب کے چلے جانے سے بھی اُن کی قوت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! آج کے بعد وہ اِس سے بھی زیادہ چھا جائیں گے ۔“ پھر آگے فرمایا : ” اگر میری قوم کے سردار ( مملکت ِ اسلامیہ میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر ) میری اطاعت کرتے تو میں انہیں ایسی بات کا حکم دیتا جس سے دشمن بھی دوست بن جاتے ۔“ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” مجھے بصرہ جانے کی اجازت دے دیجیئے اور میری طرف سے کسی قِسم کا خطرہ دل میں نہ لایئے ۔میں وہاں لشکر میں شامل رہوں گا ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں اِس پر غور کروں گا ۔“ اِس کے بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے کوفہ جانے کی درخواست کی اور فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ میری طرف سے کوئی بد گمانی نہ کریں میں وہاں لشکر کے ساتھ رہوں گا ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے انہیں بھی فرمایا : ” میں اِس پر غور کروں گا ۔“

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے وقت اور خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے وقت مملکت ِ اسلامیہ کے گورنروں کے نام ہم یہاں پیش کر رہے ہیں تاکہ آگے حالات کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : کوفہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ امام الصلاة اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ جنگ کے منتظم اور حضرت جابر بن فلان مزنی ٹیکس کے منتظم مقرر تھے ۔ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ تھے اور حمص پر حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ گورنر تھے ۔قنسرین پر حضرت حبیب بن سلمہ ، اُردن پر حضرت ابو الاعور اور فلسطین پر حضرت عکی بن علقمہ گورنر تھے ۔ آذربائیجان پر حضرت اشعث بن قیس اور قرقیسیا پر حضرت جریر بن عبد اﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ گورنر تھے ۔ حلوان پر عتیبہ بن نہاس ،قیساریہ پر مالک بن حبیب اور ہمدان میں حبیش گورنر تھے ۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو 35 ہجری کے آخری مہینے میں شہید کیا گیا تھا اور خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تھا ۔چند دنوں بعد 36 ہجری شروع ہوگئی تب حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مملکتِ اسلامیہ میں اپنے گورنر مقرر کرنے شروع کئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کے پہلے سال ۶۳ ہجری میں بصرہ کا گورنر عثمان بن حنیف کو ، کوفہ کا گورنر عمارہ بن شہاب کو ، یمن کا گورنر حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو ، ملک مصر کا گورنر قیس بن سعد کو اور ملک شام کا گورنر سہیل بن حنیف کو مقرر کر کے روانہ کیا ۔

مملکت اسلامیہ میں مختلف رد ِ عمل کا اظہار

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مملکت اسلامیہ میں اپنے گورنر مقرر کر کے بھیجا تو اِس کے جواب میں مختلف رد ِ عمل کا اظہار کیا گیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عثمان بن حنیف بصرہ پہنچے تو لوگوں کی اکثریت نے انہیں گورنر کے طور پر تسلیم کر لیا لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے کہا کہ ہم اِس معاملے میں سکوت اختیار کرتے ہیںاور اہل مدینہ آگے جو بھی فیصلہ کریں گے اُس کی ہم اتباع کریں گے ۔کوفہ کی طرف عمارہ بن شہاب رونہ کئے گئے تھے ۔جب وہ مقام ” زبالہ “ پر پہنچے تو طلیحہ بن خویلد سے ملاقات ہو گئی ۔سلام دعا کے بعد طلیحہ کو معلوم ہوا کہ کوفہ کے گورنر بنا کر بھیجے گئے ہیں اُس نے کہا : ” بہتر ہے کہ تم یہیں سے واپس چلے جاو¿ کیونکہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو ہی کوفہ کا گورنر بنائے رکھنا چاہتے ہیں اور اگر تم میرا کہنا نہیں مانو گے تو میں تمہاری گردن اُڑا دوں گا ۔“ یہ سن کر عمارہ بن شہاب وہیں سے واپس آگئے ۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے یمن میں داخل ہونے سے پہلے ہی وہاں کے گورنر اپنا سامان باندھ کر مکہ¿ مکرمہ روانہ ہوگئے تھے ۔اِسی لئے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے اطمینان سے یمن کے انتظامات سنبھال لئے ۔قیس بن سعد ملک مصر پہنچے اور امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا فرمان مصریوں کو دکھایا تو وہ چند گروہ میں بٹ گئے ۔ایک گروہ نے قیس بن سعد کو گورنر تسلیم کر لیا ۔ایک گروہ نے قصاص کے انتظار میں سکوت اختیار کیا اور ایک گروہ نے کہا کہ جب تک ہمارے بھائی مدینہ¿ منورہ سے واپس نہیں آئیں گے اُس وقت تک ہم کچھ نہیں کریں گے نہ کسی کی حمایت کریں گے اور نہ ہی کسی کی مخالفت کریں گے ۔سہیل بن حنیف جو ملک شام کے گورنر بنا کر بھیجے گئے تھے وہ تبوک پہنچے تو چند سواروں سے ملاقات ہوئی ۔انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ تو انہوں نے بتایا کہ مجھے امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کا گورنر بنا کر بھیجا ہے ۔سواروں نے کہا کہ تم یہیں سے واپس چلے جاو¿ کیونکہ ہم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنر کے علاوہ کسی کو گورنر تسلیم نہیں کریں گے ۔یہ سن کر سہیل بن حنیف واپس آگئے ۔

گورنروں کی واپسی پر رد عمل

خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے کوفہ اور ملک شام بھیجے گئے گورنر واپس آگئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب سہیل بن حنیف ملک شام سے واپس آگئے اور دوسرے گورنر بھی واپس آگئے تو امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے کبار صحابہ¿ کرام اور حضرت طلحہ بن عبیداﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم کو بلوایا اور فرمایا : ” اے میری قوم ! جس بات سے میں تم کو ڈراتا تھا آج وہ پیش آچکی ہے اور حالات ایسے پیش آگئے ہیں کہ ان کو ختم کئے بغیر کوئی چارہ¿ کار نہیں ہے ۔یہ آگ کی طرح فتنہ ہے کہ جب ایک بار آگ لگ جاتی ہے تو بڑھتی اور بھڑکتی چلی جاتی ہے ۔“ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا : ” آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں مدینہ¿ منورہ سے باہر جانے کی اجازت دیں تاکہ ہم اِس کی کوئی تدبیر کریں ورنہ آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں چھوڑ دیں ۔“ امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھ سے جہاں تک ہو سکے گا میں اِن حالات کو سنبھالنے کی کوشش کروں گا اور جب کوئی تدبیر باقی نہیں رہے گی تو آخری دوا زخم پر جلا کر داغ لگانا ہی ہوتا ہے کہ انسان تکلیف سے نجات پانے کے لئے اپنے جسم کو جلوانا بھی گورا کر لیتا ہے ۔“ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں