04 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 4
حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ثالث بنایا ، مجلس شوریٰ کا انعقاد، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تجویز، مجلس شوریٰ کا عہد، حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی رائے، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی رائے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تحقیق،
حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ثالث بنایا
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا کہ حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ ( حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بہنوئی)بھی ”عشرہ مبشرہ “میں سے ہیں ،لیکن چونکہ میرے رشتہ دار ہیں اِس لئے میں نے انہیں مجلس شوریٰ میں نہیں چُنا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مجلس شوریٰ کے ارکان سے فرمایا :”مجھے دفن کرنے کے بعد تین دن تک صلاح و مشورہ کرنا، اِس دوران حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ نماز پڑھائیں گے۔مگر چوتھے دن تم میں سے کوئی نہ کوئی خلیفہ (امیر) مقرر ہونا چاہیئے۔اِس مجلس میں میرا بیٹا عبد اﷲ بن عُمر ثالث کی حیثیت سے موجود رہے گا ،مگر اُس کا انتخاب کے معاملے میں کوئی دخل نہیں ہوگا ۔“اِسکے بعد حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ سے فرمایا :”اے ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ ! اﷲ تعالیٰ نے تمہارے (انصار کے) ذریعے طویل مدت تک اسلام کو غالب رکھا ۔تُم انصار میں سے پچاس افراد کا انتخاب کرو اور مجلس شوریٰ کو آمادہ کرو کہ وہ اپنی جماعت میں سے کسی ایک شخص کا خلیفہ کے لئے انتخاب کر لیں۔“اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر پانچ لوگ ایک پر راضی ہوجائیں اور ایک نہ ہو تو اُس کی گردن اُڑا دینا ،اگر چار لوگ ایک پر متفق ہوں اور دو مخالف ہوں تو اُن کی گردن اُڑا دینا۔اگر تین افراد ایک پر متفق ہوں اور تین مخالف ہوں تو میرے بیٹے عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ثالث بنانا اور وہ فریقین میں سے جس کے بارے میں فیصلہ کر دے گا اُسے خلیفہ بنانا۔اگر باقی لوگ عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے تو اُن تین لوگوں کی حمایت کرنا جن میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ ہوںاور باقی تین لوگوں کو قتل کرا دینا۔“
مجلس شوریٰ کا انعقاد
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو دفن کر نے کے بعد ”مجلس شوریٰ “کا انعقاد کیا گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دفن کرنے کے بعد حضرت مقداد بن اسود رضی اﷲ عنہ نے اہل شوریٰ کو حضرت مسور بن مخرمہ رضی اﷲ عنہ کے گھر میں جمع کیا ۔ایک اور روایت کے مطابق انہیں ”بیت المال “میں یا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی اجازت سے اُن کے حُجرہ میں جمع کیا گیا ۔یہ لوگ تعداد میں پانچ تھے حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ثالث کی حیثیت سے اُن کے ساتھ تھے۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ موجود نہیں تھے ۔حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ دربانی کرنے کے لئے بیٹھ گئے ۔اتنے میں حضرت عمرو بن عاص رضی ا ﷲعنہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ بھی دروازے کے قریب آکر بیٹھ گئے ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے انہیں اُٹھوا دیا اور فرمایا:”تُم یہ چاہتے ہو کہ تم یہ کہہ سکو کہ ہم مجلس شوریٰ میں شریک تھے“۔اِس کے بعد مجلس شوریٰ کے لوگ اپنے اپنے دلائل دینے لگے ، وقت گزرتا جا رہا تھا اور کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم ! میں اِن تین دنوں میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے “۔ پھر اپنے گھر میں بیٹھ کر دیکھوں گا کہ تم کیا کرتے ہو؟“(یعنی تین دن کے اندر خلیفہ چُن لو)۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تجویز
خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”عشرۂ مبشرہ“ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے چھ صحابہ کرام حضرت عبد الرحمن بن عوف ،حضرت عثمان بن عفان ، حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت زبیر بن عوام اور حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہم کی مجلس شوریٰ بنائی اور اِن چھ افراد سے فرمایا کہ تم تین دن میں اپنے آپ میں سے خلیفہ چُن لینا۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کہیں باہر سفر پر گئے ہوئے تھے ،اِس لئے باقی پانچ افراد جمع ہوئے ۔کافی دیر تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے ایک تجویز پیش کی اور فرمایا :”تُم میں سے کون ہے جو خلافت کے منصب سے خود بخود دستبردار ہو کر اِس بات کی کوشش کرے کہ وہ تم میں سے بہترین شخصیت کو خلیفہ بنوائے“۔کسی نے کوئی جواب نہیں دیا انہوں نے فرمایا :”میں خود دستبردار ہوتا ہوں“۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں سب سے پہلے آپ کی تائید کرتا ہوں کیونکہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :”جو اِس سر زمین کا امین ہے وہ آسمان کا بھی امین ہے“۔باقی سب لوگوں نے کہا :”ہم سب آپ رضی اﷲ عنہ کو مختار بنانے پر رضامند ہیں“۔لیکن حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ خاموش رہے ۔اِس پر عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے ابو الحسن رضی اﷲ عنہ ! (حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے )آپ کی کیا رائے ہے؟“حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ مجھ سے پختہ عہد کریں کہ آپ رضی اﷲ عنہ حق و صداقت کو ترجیح دیں گے اور نفسانی خواہشات کی پیروی نہیں کریں گے اور کسی رشتہ دار کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے اور قوم کے ساتھ خیر خواہی کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے“۔
مجلس شوریٰ کا عہد
مجلس شوریٰ کے تمام ارکان حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو ”حَکم“(فیصلہ کرنے والا) بنانے پر راضی ہوگئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم سب بھی مجھ سے پختہ عہد کرو کہ تم سب مخالف اور تبدیل ہونے والے کے مقابلے میں میرا ساتھ دو گے اور جس شخص کا خلیفہ کے طور پر میں انتخاب کروں تو تم اسے تسلیم کرو گے“ ۔ تما م ارکان مجلس نے عہد لیا اور خود اُن سے بھی عہد کیا۔اِس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے تمام ارکان مجلس سے تنہائی میں بات چیت کی اور اُن کا انتخاب پوچھا۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی رائے
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں دریافت فرمایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ ارکان ِ مجلس میں سب سے زیادہ اِس معاملے(خلافت ) کے حقدار ہیں کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ کی (رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ) قریبی رشتہ داری ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔دین داری میں آپ رضی اﷲ عنہ کی اچھی شہرت ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ خود بھی اپنے آپ کو حق سے الگ خیال نہیں کرتے ہیں ۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو موقع دیا جائے اور آپ رضی اﷲ عنہ اِس مجلس میں نہ ہوںتو اِس صورت میں آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے کے مطابق خلافت کا کون زیادہ حقدار ہو گا؟ “حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ“ (حقدار ہیں)۔
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی رائے
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے بھی رائے لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔پھر حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ تنہائی میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے ملے اور یہ فرمایا ؛”آپ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ بنو عبد مناف کے شیخ ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے داماد اور اُن کے چچا زاد بھائی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ ”السابقون الاولون“میں سے ہیں ۔اگر آپ رضی ا ﷲ عنہ اِس مجلس میں شریک نہ ہوں اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس مجلس میں سے کس کواِس ( خلافت) کا زیادہ مستحق سمجھتے ہیں؟“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کو“ ۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تحقیق
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد بقیہ ”ارکان ِ مجلس “سے الگ الگ ملاقات کی اور اُن کی رائے معلوم کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھرحضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ تنہائی میں حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے ملے اور اُن کی رائے معلوم کی تو انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا نام لیااور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا نام لیا۔ اِس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے بھی اُن کی رائے معلوم کی اور راتوں کو گشت کر کے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اور اُن کے سپہ سالاروں اور معزز افراد سے ملاقاتیں کرتے رہے جو اُس وقت مدینہ¿ منورہ میں موجود تھے اور اُن سے (خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں) رائے معلوم کرتے رہے ۔اکثریت کی رائے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے بارے میں تھی۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔اہل شوریٰ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو اختیار دے دیا کہ وہ مسلمانوں کے افضل آدمی کے لئے کوشش کریں اور خلافت اُس کے سپرد کر دیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے پہلے اکیلے میں اہل شوریٰ کی رائے لی ،پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں اور اُن کے سرداروں سے رائے لی اور سب کی رائے لینے لگے۔حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے پردہ نشین عورتوں ،مدرسہ کے لڑکوں مدینہ¿ منورہ کی طرف آنے والے لوگوں اور بدوو¿ں(دیہاتیوں) سے بھی تین دن اور تین رات مسلسل رائے لیتے رہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے تین دن اور تین رات لوگوں کی رائے لینے کے لئے خوب کوشش کی اور زیادہ نیند نہیں لی اور استخارہ کرتے اور لوگوں کی رائے معلوم کرتے ہوئے وقت گذارا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں