جمعرات، 3 اگست، 2023

04 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


04 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 4

لشکر میں تبدیلی،اورمسلمان خواتین کو حکم، صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی جوشیلی تقریریں، باہان یا ہامان کا تکبر، رومی کمانڈر جرجہ کو اسلام کی دعوت، جرجہ کا قبول اسلام، رومیوں کی شکست اور جرجہ کی شہادت، رومیوں کا زبردست حملہ، گھمسان کی جنگ، حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی بہادری، رومیوں کی شکست اور جرجہ کی شہادت، حضرت عکرمہ بن ابو جہل اور اُن کے بیٹے کی شہادت

لشکر میں تبدیلی،اورمسلمان خواتین کو حکم

حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے رومیوں کے لشکر کا جائزہ لیا،تو دیکھا کہ اُن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔یہ دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر میں کچھ تبدیلی کی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔رومی لشکر فخر اور تکبر کے ساتھ میدان میںآیا،اُن کی تعداد اتنی تھی کہ انہوں نے اِس علاقے کی نرم اور سخت ہر قسم کی زمینوں کو اِس طرح بھر دیا،گویا وہ سیاہ بادل ہوں جو بلند آواز سے چلا رہے تھے۔اور اُن کے راہب ،پادری اُن کے سامنے انجیل کی تلاوت کرتے تھے،اور انہیں جنگ پر آمادہ کرتے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جب رومی لشکر کا جائزہ لیا تو اسلامی لشکر میں کچھ تبدیلی کی۔آپ رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس گئے ،اور فرمایا:”میں آپ رضی اﷲ عنہ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کے دل میں جو خیال پیدا کیاہے،اُس پر عمل کریں،میں آپ رضی اﷲ عنہ کی بات سنوں گا،اور اُس پر عمل کروں گا۔“حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے رومی لشکر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:”بے شک یہ لوگ ایک بہت ہی عظیم حملہ کرنے والے ہیں،جس کا سامنا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔مجھے میمنہ اور میسرہ کے متعلق خدشہ ہے،میں گھڑسواروں کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا ہوں۔اور انہیں میمنہ اور میسرہ کے پیچھے مقرر کرنے والا ہوں،تاکہ جب رومیوں سے ٹکراو¿ ہو تویہ سوار میمنہ اور میسرہ کے مدد گار ہوں،اور پیچھے سے انہیں سنبھالیں۔“حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے بہت اچھی ہے،اِس پر عمل کریں۔“گھڑ سواروں کے ایک حصے کی کمانڈخود حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سنبھالی،اوردوسرے حصے کی کمانڈ حضرت قیس بن ہبیرہ رضی اﷲ عنہ کو بنایا،اور حضرت ابو عبید بن جراح رضی اﷲ عنہ کو اُن کے دستے کے ساتھ ”قلب “سے ہٹا کر اسلامی لشکر کے پیچھے متعین کر دیا۔تاکہ جب بھاگنے کا ارادہ کرنے والا شخص آپ رضی اﷲ عنہ کو دیکھے تو اُسے حیا آجائے،اور وہ واپس جنگ کی طرف پلٹ جائے۔اور اُن کی جگہ ”قلب“کی کمانڈ حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ (جو ”عشرہ مبشرہ “میں سے ہیں،اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بہنوئی ہیں)کو سونپی۔اِس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اسلامی لشکر کے پیچھے مسلمان خواتین کے خیموں کے پاس آئے،اور انہیں تلواریں دیکر فرمایا:”تم جس مسلمان کو بھی پیٹھ پھیر کر بھاگتے دیکھنا،اُسے فوراً قتل کر دینا۔

صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی جوشیلی تقریریں

مسلمانوں کے لشکر میں ایک ہزار (1,000)سے زیادہ جلیل القدر بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم تھے۔اور اِن میں سے سو(100) سے زیادہ تو بدری صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم تھے۔اور انہوں نے مسلمانوں کے سامنے بڑی جوشیلی تقریریں کیں۔تقریریں بہت زیادہ ہیں،کچھ کمانڈر صحابہ رضی اﷲ عنہم کی تقریریں پیش ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے آگئے،اور فریقین نے ایک دوسرے کو دیکھا ،تو حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے سامنے تقریر فرمائی:”اے اﷲ کے بندو!اﷲ کی مدد کرو،وہ تمہاری مدد کرے گا،اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔اے مسلمانوں کا گروہ!صبر کرو،بے شک صبر کفر سے نجات دینے والا ہے،اور اﷲ کی خوشنودی ہے،اور عار کو دور کرنے والا ہے۔اپنے میدان کو نہیں چھوڑنا،اور نہ اُن کی طرف پیش قدمی کرنا،اور نہ اُن سے جنگ کی ابتدا کرنا۔نیزوں کو اُٹھا کر بلند رکھو،اور ڈھا ل کی پناہ لو،اور خاموشی اختیار کرو۔اور دلوں میں اﷲ کا ذکر کرو،حتیٰ کہ میں تمہیں حکم دوں،انشاءاﷲ۔“حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے درمیان گھوم گھوم کر فرمانے لگے:” اے اہل قرآن!اور کتاب کے محافظو،اور حق و ہدایت کے مدد گارو!بے شک رحمت کو (بزدلی سے)حاصل نہیں کیا جاسکتا،اور نہ خواہشات سے جنت میں داخل ہوا جاتا ہے۔اور اﷲ تعالیٰ صرف ”صادق و مصدوق “کو ہی مغفرت اور رحمت عام سے سرفراز فرماتا ہے۔کیا تم نے اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان ”اﷲ کا وعدہ اُن لوگوں سے ہے جو ایمان لائے،اور نیک اعمال کئے........آیت کے آخر تک۔“کو نہیں سنا ؟اﷲ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے ،اپنے رب سے حیا کروکہ وہ تم کو تمہارے دشمن کے مقابلہ میں بھاگتا ہوا دیکھے۔حالانکہ تم اُس کے قبضہ میں ہو،اور تمہارے لئے اُس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے،اور نہ اُس کے سوا کوئی عزت ہے۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے مسلمانو!نگاہیں نیچی رکھو،اور گھٹنوں کے بل بیٹھ جاو¿،اور اپنے نیزوں کو بلند کر لو۔اور جب وہ تم پر حملہ کریں ،تو انہیں مہلت دو۔اور جب و ہ نیزوں سے وار کریں تو اُن سے بچ کر اُن پر شیر کی طرح حملہ کر دو۔پس اُس ذات کی قسم! جو سچ سے راضی ہوتا ہے،اور اس کا بدلہ دیتا ہے۔اور میں نے سنا ہے کہ عنقریب مسلمان اُن کا ایک ایک پہاڑ اور ایک ایک محل فتح کر یں گے۔پس اُن کی فوجیں اور اُن کی تعداد تمہیں خوفزدہ نہ کرے ۔اور اگر تم نے دل جمعی کے ساتھاُن پر حملہ کیا تو وہ چکور کے بچوں کی طرح اُڑ جائیں گے۔“حضرت ابو سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے مسلمانو!تم عرب ہو،اور اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر اور خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ (انہیں ابھی خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر نہیں ملی تھی)اور مسلمانوں کی مدد سے دور ہو کر عجم کے علاقے میں ہو۔اور اﷲ کی قسم!تم ایک کثیر تعداد دشمن کے مقابلے پر ہو۔جو تم پر بہت غصے ہے۔اور تم نے انہیں ان کی جانوں،شہروں،اور عورتوں کے بارے میںتکلیف دی ہے۔اور کل کو اﷲ تعالیٰ مردانہ وار جنگ کرنے اور ناپسندیدہ مقامات پر استقلال دکھانے سے ہی تم کو اُن سے نجات دے گا،اور تم اُس کی رضا مندی حاصل کر سکو گے۔آگاہ رہو،یہ ایک سنت لازمہ ہے،اور زمین تمہارے پیچھے ہے۔تمہارے خلیفہ رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کے اور تمہارے درمیان صحراءاور جنگلات ہیں،اور تمہارے لئے اﷲ کے وعدہ کی اُمید اور صبر کے علاوہ کوئی قلعہ اور واپس پھرنے کی جگہ نہیں ہے۔اور اﷲ سب سے بہترین بھروسہ کے قابل ہے،پس اپنی تلوار کے سائے میں آجاو¿ ،وہی تمہارے قلعے ہونا چاہیئے۔اے اہل اسلام !جو تم دیکھتے ہو،وہ حاضر ہے۔یہ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور جنت تمہارے سامنے ہیں۔اور شیطان اور دوزخ تمہارے پیچھے ہے۔“حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے ان کو نصیحت کی ،اور فرمایا:”بڑی بڑی آنکھوں والی حوروںاور ”جنة النعیم“میں اپنے رب کے پڑوس میں جانے کے لئے جلدی کرو۔اِس میدان ِجنگ کی بہ نسبت تم اﷲ کو محبوب ہو،آگاہ رہو کہ استقلال دکھانے والوں کی اپنی فضیلت ہے۔“

باہان یا ہامان کا تکبر

دونوں لشکرو ں کی صف بندی کے بعد رومی کمانڈر باہان یا ہامان(کچھ علمائے کرام نے باہان اور کچھ علمائے کرام نے ہامان بتایا ہے)نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں صفوں کے درمیان اُن سے ملنا چاہتا ہے۔اور دونوںملاقات کر کے اپنے اپنے موقف کو واضح کریں۔ باہان نے کہا:”ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم کو اپنے ملک سے بھوک اور تنگ دستی نے نکالا ہے۔میرے پاس آو¿ !میں تم میں سے ہر آدمی کو دس دینار اور لبا س اور کھانا دوں گا،اور تم اپنے ملک واپس چلے جاو¿۔جب اگلا سال آئے گا تو ہم تم کو اِسی قدر چیزیں بھیج دیں گے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جس چیز کا تُو نے ذکر کیا ہے،ہمیں اُس نے اپنے ملک نہیں نکالا ۔ہم خون نوش لوگ ہیں،ہمیں معلوم ہوا ہے کہ رومیوںکے خون سے کوئی خون عمدہ نہیں ہے۔اور ہم اس کے لئے آئے ہیں۔“باہان کے ساتھیوں نے اُس سے کہا:”اﷲ کی قسم !ہم عربوں کے متعلق تم سے یہی بات بیان کیا کرتے تھے۔“ 

رومی کمانڈر جرجہ کو اسلام کی دعوت

اِسلامی لشکر میں ایک ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔اِن میں سے لگ بھگ سو صحابہ کرام وہ تھے،جو غزوہ بدر میں شریک تھے۔لشکر کی صف بندی کے دوران ایک شخص نے کہا کہ رومی کتنے زیادہ ہیں ،اور مسلمان کتنے کم ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ سن کرفرمایا:”اوہورومی کتنے کم ہیں ،اور مسلمان کتنے زیادہ ہیں،سنو!فوجیں کامیابی سے زیادہ،اور ناکامی سے کم ہوتی ہیں،نہ کہ فوجیوں کی تعداد سے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے صف بندی کی،اور رومیوں نے بھی صف بندی کرلی۔دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے، تو رومیوں کے لشکرسے اُس کا کمانڈر جرجہ اپنے گھوڑے پر سوار آگے بڑھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جرجہ اپنی فوج سے نکل کر صفوں کے درمیان آکر کھڑا ہو گیا،اور آواز لگائی :”خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ)اپنے لشکر سے نکل کر میرے پاس آئیں۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو نائب بنا کر آگئے بڑھے،اور اُس کے پاس پہنچے۔دونوں اتنے قریب پہنچ گئے کہ اُن کے گھوڑوں کی گردنیں آپس میں مل گئیں،کیونکہ دونوں نے ایک دوسرے کو امان دے دی تھی۔جرجہ نے کہا:”اے خالد بن ولید!سچ کہنا،جھوٹ نہیں بولنا،شریف جھوٹا نہیں ہوتا،اور نہ ہی مجھے دھوکا دینا۔کیونکہ کریم النفس ایسے شخص کو دھوکا نہیں دیتا جو خدا کا واسطہ دے کر آیا ہو۔(جرجہ عیسائی تھا)مجھے یہ بتاو¿!کیا اﷲ نے تمہارے نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم)پر آسمان سے کوئی تلوار اُتاری ہے؟اور انہوں نے وہ تلوار تم کو دے دی ہے کہ تم جس قوم پر اُس کو کھینچتے ہو،وہ شکست ہی پاتی ہے؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”نہیں ایسا تو نہیں ہے۔“جر جہ نے پوچھا :”پھر تمہارا نام سیف اﷲ (اﷲ کی تلوار) کیوں ہے؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے ہم میں اپنے ایک نبی کو مبعوث فرمایا۔انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت دی،پہلے تو ہم میں سے کسی نے اُن کی بات نہیں مانی ۔بلکہ اُن سے الگ الگ رہے۔مگر کچھ عرصے بعد بعض لوگوں نے اُن کی تصدیق کی،اور اُن کے پیرو ہو گئے۔اور بعض دور رہے ،اور اُن کو جھٹلایا۔میں بھی اُن لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اُن (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کو جھٹلایاتھا،اُن سے دور رہے،اور اُن سے لڑے۔مگر اﷲ تعالیٰ نے ہمارے دلوں اور پیشانیوں کو پکڑ لیا،اور ہمیں ہدایت نصیب فرمائی ۔ہم نے اُن کی پیروی کی،پھراُن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:”تم اﷲ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہو،جس کو اﷲ تعالیٰ نے مشرکین پر کھینچا ہے۔“پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے میرے لئے فتح و نصرت کی دعا فرمائی ۔یہی وجہ ہے کہ میں ”سیف اﷲ “کے نام سے مشہور ہوں۔اور مشرکوں کے لئے سب سے زیادہ سخت مسلمان ہوں۔“جرجہ نے کہا:”بے شک تم سچ کہہ رہے ہو۔“پھر آگے اُس نے کہا:”اے خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ)!مجھے بتلاو¿ ،تم کن باتوں کی دعوت دیتے ہو؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تمہیں اِس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اوررسول ہیں۔اور اقرار کر و کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جو کچھ لائے ہیں ،وہ اﷲ کی طرف سے ہے۔“جر جہ نے کہا:”اور جو شخص تمہاری بات نہ مانے ؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”وہ جزیہ ادا کرے،ہم اُس کی جان و مال کی حفاظت کریں گے۔“جرجہ نے کہا:”اگر کوئی جزیہ بھی نہیں دے تو؟“

جرجہ کا قبول اسلام

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”پھر ہماری طرف سے اُسے اعلان جنگ ہے،اور ہم اُس سے لڑیں گے۔“جرجہ نے کہا”اچھا جو شخص آج تمہاری اِس دعوت کو قبول کر لے ،اُس کا درجہ کیا ہوگا؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے ہم پر جو فرائض عائد کئے ہیں،اُن کے لحاظ سے اعلیٰ ،ادنیٰ اور اول ،آخر سب برابر ،اور ہم مرتبہ ہیں۔“جرجہ نے کہا:”اے خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ)!جو شخص آج تمہارے مذہب میں داخل ہوتا ہے،کیا اُس کو بھی وہی اجر و ثواب ملے گا،جو تم کو ملے گا؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہاں!بلکہ ہم سے زیادہ ملے گا۔“جرجہ نے کہا:”وہ تمہارے برابر کیسے ہو سکتا ہے؟حالانکہ تم نے اُس سے بہت پہلے اسلام قبول کیاہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ اُس وقت اسلام میں داخل ہوئے تھے،اور اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہم نے اُس وقت بیعت کی تھی،جب وہ ہمارے درمیان موجود تھے۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر آسمان سے خبریں آتی تھیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہم کو کتابوں کی خبریں سناتے تھے،اور اﷲ کی نشانیاں دکھاتے تھے۔ہماری طرح جس شخص نے بھی یہ چیزیں دیکھیں یا سنی ہیں،اُس کا تو یہ فرض تھا کہ وہ اسلام قبول کر کے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیعت کر لے۔مگر تم نے وہ عجیب باتیں،اور وہ اﷲ کی نشانیاں کہاں دیکھی ہیں،جن کا موقع ہم کو ملا ہے۔اس لئے تم میں سے جو شخص سچے دل سے اور خلوص نیت سے اِس دین میں داخل ہو گا،وہ ہم سے افضل ہو گا۔“جرجہ نے کہا:”اے خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ )!قسم کھا کر کہو کہ تم نے مجھ سے یہ سب باتیں سچ کہی ہیں،اور تم نے مجھے دھوکہ نہیں دیا ہے،اور نہ ہی میرا دل خوش کرنا چاہا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم ! میں نے تم سے سچ کہا ہے،مجھے تمہارا یا تم سے کسی بات کا ذرا بھی خوف نہیں ہے۔اﷲ گواہ ہے کہ میں نے تمہارے سوالات کا ٹھیک ٹھیک جواب دیا ہے۔“جرجہ نے کہا:”میں آپ (رضی اﷲ عنہ ) کی صداقت کو تسلیم کرتا ہوں۔“پھر اُس نے اپنی ڈھال کو پلٹ دیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اسلامی لشکر میں چلا آیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ مجھے اسلام قبول کرائیں۔آپ رضی اﷲ عنہ جرجہ کو لیکر اپنے خیمے میں آئے ۔اُس کے اوپر پانی کا مشکیزہ اُنڈیل کر غسل کرایا،اور اسلام قبول کرایا،اور نماز پڑھنا سکھایا۔اور جرجہ نے دو رکعت نماز ادا کی۔

رومیوں کی شکست اور جرجہ کی شہادت

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جرجہ کو جاتے دیکھ کر رومیوں نے حملہ کر دیا۔وہ یہ سمجھے کہ جرجہ حملہ کرتا ہوا جارہا ہے۔رومیوں کے اِس اچانک حملے نے مسلمانوں کو اُن کی جگہ سے ہٹا دیا۔مگر مدد گار دستے جن کے افسر حضرت عکرمہ بن ابو جہل اور حضرت حارث بن ہشام رضی اﷲ عنہم تھے، وہ اپنی جگہ جمے رہے۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھ حضرت جرجہ دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر واپس آئے ۔اُس وقت رومی مسلمانوں کے لشکر میں گھسے ہوئے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو للکارا،اور رومیوں پر ٹوٹ پڑے۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کے پیر جم گئے،اور رومیوں کو اپنی جگہ واپس جانا پڑا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جرجہ کے ساتھ مسلمانوں کو لیکر رومیوں پر چڑھ دوڑے،اور شدید حملہ کر دیا۔تلواروں پر تلواریں چلنے لگیں،اور غروب ِ آفتاب تک آپ رضی اﷲ عنہ اور جرجہ مسلمانوں کے ساتھ ملکر رومیوں کی گردنیں کاٹتے رہے،اور سر اُڑاتے رہے۔آخر کا ر حضر ت جرجہ شہید ہو گئے،انہوں نے صرف وہی دو رکعت نماز سجدے سے ادا کی،جو انہوں نے اسلام قبول کرتے وقت پڑھی تھیں۔اور ظہر اور عصر کی نمازیں اشارے سے جنگ کرتے ہوئے بغیر سجدے کے ادا کیں۔اور پورے اسلامی لشکرنے بھی جنگ کرتے ہوئے اشارے سے نماز پڑھیں۔

رومیوں کا زبردست حملہ

جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ حضرت جرجہ کو اسلام قبول کرا رہے تھے،اور وہ دو رکعت نماز ادا کر رہے تھے،اُس وقت رومیوں نے زبردست حملہ کر دیا۔حملہ اتنا زبردست تھا کہ مسلمانوں کے قدم پیچھے ہٹ گئے۔صرف حضرت عکرمہ رضی ا ﷲ عنہ بن ابو جہل اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے دستوں کے ساتھ ثابت قدم رہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور باہان نے باہر نکل کر میسرہ کے کمانڈر الدبریجان کو زبر دست حملے کا حکم دیا۔اور وہ اﷲ کا دشمن اِن میں درویش تھا۔اُس نے میمنہ پر حملہ کر دیا(جس میں حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں)بنو ازد،بنو مذجح ،حضر موت اور خولان کے آدمی تھے۔انہوں نے ثابت قدمی دکھائی ،اور اﷲ کے دشمنوں کو روک دیا۔پھر پہا ڑوں کی مانند رومیوں نے حملہ کیا،اور مسلمان پیچھے کی طرف چلے گئے۔اور ایک گروہ لشکر سے الگ ہو گیا،اور مسلمانوں کا بہت بڑا گروہ ثابت قدم رہا۔پیچھے ہٹنے والوں کو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے اپنی تقریر سے مقابلے کا جذبہ پیدا کر کے لشکر میں لڑنے کے لئے بھیجا۔اور عورتوں نے لکڑیوں اور پتھروں سے انہیں مارتے ہوئے اُن کا استقبال کیا۔اور سیدہ خولہ بن ثعلبہ رضی اﷲ عنہا اُن سے کہنے لگیں:”اے پرہیز گار عورتوں کو چھوڑ کر بھا گنے والو!عنقریب تم اُن کو (رومیوں کی عورتوںکو)قیدی دیکھو گے،وہ نہ عقل مند ہوں گی،اور نہ پسندیدہ ہوں گی۔“پھر تمام پیچھے ہٹنے والے مسلمان اپنے اپنے مقامات پر واپس آگئے۔

گھمسان کی جنگ

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حضرت جرجہ کے ساتھ میدان جنگ میں آئے تو رومی مسلمانوں پر حاوی تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور جرجہ کے ساتھ ملکر رومی لشکر پر حملہ کردیا،اور رومیوں کو کاٹنا شروع کردیا۔آپ رضی اﷲ عنہ بجلی بن گئے تھے،اور رومیوں کو کاٹتے ہوئے کبھی قلب میں ہوتے ،کبھی میمنہ میں،اور کبھی میسرہ میںہوتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو دیکھ کر مسلمانوں میں زبردست جذبہ پیدا ہو گیا۔حضرت جرجہ مسلسل آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ لگے ہوئے تھے،اور ”اﷲ کی تلوار“کا قہر دیکھ رہے تھے۔اب مسلمانوں نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ رومی بری طرح گھبرا گئے،پھر سنبھل کر حملہ کرنے لگے۔اب جنگ برابری پر آگئی تھی،اور دونوں طرف سے زبردست حملے ہو رہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔تمام مسلمان اپنے اپنے جھنڈے تلے ثابت قدم رہے،اور رومی چکی کی طرح چکر لگانے لگے۔اور یرموک کے روز میدان جنگ میں اُچھلتا ہوا خون،گودے دار ہڈیاں،عمدہ کلائیاںاور اُڑتی ہوئی ہتھیلیاں دیکھی گئیں۔اُس روز مسلمانوں میں سے سب سے پہلے شہید ہونے والا شخص حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا،اور بولا:”میں نے اپنی پوری تیاری کر لی ہے،کیا آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کچھ عرض کرنا ہے؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہاں!میری طرف سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو سلام کہنا،اور یہ بھی کہنا کہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !ہمارے رب نے ہم سے جو وعدے کئے تھے،ہم نے انہیں بر حق پایا۔“پھر وہ مسلمان آگے بڑھے،اور رومیوں پر تیزی سے حملہ کر کے انہیں کاٹنے لگے،یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔رومیوں کے حوصلے اُن کے پادری اور راہب بڑھا رہے تھے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ جب پادریوں اور راہبوں کی آواز سنتے تو بلند آواز سے فرماتے تھے:”اے اﷲ !رومیوں کے پاو¿ں ڈگمگا دے،اور اُن کے دلوں کو مرعوب کر دے۔ہم پر سکینت نازل فرما،اور ہمیں تقویٰ کی بات کا پابند رکھ،اور جنگ کو ہمارا محبوب بنا دے،اور ہمیں فیصلے سے راضی کر دے۔“

حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی بہادری

جنگ یرموک میں حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ بھی شامل تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس جنگ میں بہادری کا ایسا بے مثال مظاہرہ فرمایا کہ لوگ عش عش کر اُٹھے۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ ”عشرہ مبشرہ“میں سے ہیں،اور ”بدری صحابی“بھی ہیں۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھوپھی ذاد بھائی ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شامل تھے،اور بڑے دلیر اور شہسوار تھے۔اُس روز بہادر شہسواروں کے ایک گروہ نے آپ رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر رومیوں سے لڑنا چاہتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:تم لوگ میرا ساتھ نہیں دے پاو¿ گے۔“انہوں نے کہا:”ہم ہر حال میں آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ نبھائیں گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ٹھیک ہے۔“اور پھر اُن کے ساتھ رومیوں پر حملہ کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ رومیوں کو کاٹتے مارتے اُن کی صفوں میں آگے بڑھتے چلے جارہے تھے،جب کے اُن کے ساتھی رومیوں کی صفوں کو نہیں توڑ سکے ،اور وہیں رک گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ رومیوں کی صفوں کو توڑتے اُنہیں مارتے کاٹتے رومیوں کے لشکر کے اُس پار چلے گئے۔اور جب گھوم کر دیکھا تو اُن کے ساتھی رومیوں کے لشکر کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں،تو پھر سے رومیوں کے اوپر ٹوٹ پڑے،اور مارتے کاٹتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے۔اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ کے کندھے پر دو اتنے گہرے زخم آئے تھے کہ بعد میں اُن کے چھوٹے بیٹے حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲعنہ اُن زخموں کے نشانات میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلتے تھے۔

حضرت عکرمہ بن ابو جہل اور اُن کے بیٹے کی شہادت

یرموک میں جنگ اپنے شباب پر تھی،اور مسلمان کم تعداد ہونے کے باوجود رومیوں پر حاوی ہو گئے تھے۔یہاں تک کہ رومیوں کو دھکیلتے ہوئے خندق تک پہنچ گئے تھے۔رومی خندق نما گھاٹی میں چھپ گئے ،اور وہیں سے تیر اندازی کر کے مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روک رہے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسلسل خندق نما گھاٹی کے کنارے اپنا گھوڑا دوڑانے لگے ،اور کمزور پہلوتلاش کرنے لگے،تاکہ وہیں سے رومیوں پر حملہ کر کے خندق نما گھاٹی سے پیچھے دھکیل سکیں۔آپ رضی اﷲ عنہ چاہتے تھے کہ اتنے فیصلہ کُن مرحلے پر آنے کے بعد شام تک کم سے کم خندق نما گھاٹی پر مسلمانوں کا قبضہ ہو جائے،تاکہ کل صبح جنگ اسی جگہ سے آگے بڑھے۔اور اگر خند ق نما گھاٹی پر مسلمانوں کا قبضہ نہیں ہو سکا ،تو کل جنگ وہیں سے شروع کرنی پڑے گی،جہاں سے آج صبح شروع کی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے اِس ارادے کو اُن کے بچپن کے دوست حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل نے بھانپ لیا ۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ایک جگہ خندق نما گھاٹی پر رومیوںکوکچھ کمزور دیکھاتو وہیں اپنا خیمہ لگوا لیا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل خیمے اور گھاٹی کے درمیان کھڑے ہو گئے ،اور بلند آواز سے مسلمانوں کو موت پر بیعت کرنے کے لئے پکارا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یرموک کے روز حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل نے فرمایا:”میں وہ شخص ہوں،جس نے کئی میدان میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے جنگ کی ہے۔کیا آج کی جنگ میں اِن کافروں سے ڈر کر بھاگ جاو¿ں گا؟“اِس کے بعد انہوں نے بلند آواز سے فرمایا:”آو¿،کون موت کے لئے بیعت کرتا ہے؟“یہ سنتے ہی حضرت حارث بن ہشام اور حضرت ضرار بن ازور آگے بڑھے ،اور موت کے لئے بیعت کی۔یہ دیکھکر چارسو(400)بہادر اور ذی مرتبہ مسلمانوں نے موت کے لئے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل کے ہاتھ پر بیعت کی۔اب یہ لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے کے پاس خندق نما گھاٹی کی طرف بڑھنے لگے۔رومی فوجی اُن پر مسلسل تیر برسانے لگے،لیکن یہ چار سو (۰۰۴)مجاہدین کا دستہ تیر کھا کر بھی آگے بڑھتا رہا۔یہاں تک کہ خندق نما گھاٹی میں داخل ہو گئے،اور وہاں کے رومیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔اِس دستے میں حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے بیٹے سب سے آگے تھے،اور کئی تیر لگنے کے بعد بھی جنگ کر رہے تھے،اور رومیوں کو قتل کر رہے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے حکم پر اسلامی لشکر اسی جگہ سے خندق نما گھاٹی میں داخل ہوگیا،اور رومیوں پر اتنا زبردست حملہ کیا کہ ان کے پیر اُکھڑ گئے۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے بیٹے بہت شدید زخمی ہو چکے تھے۔اُنہیں اسی حالت میں اُٹھا کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ کا سر اپنی گود میں ایک طرف رکھا،اور دوسری طرف اُن کے بیٹے کا سر رکھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اُن دونوں جانباز باپ بیٹے کے چہروں سے خون صاف کرتے جاتے تھے،اور اُن کے منہ میں پانی ٹپکاتے جاتے تھے۔اور فرماتے جاتے تھے:”ابن الختہ نے غلط کہا تھا کہ ہم شہادت کے حصول سے گریز کریں گے۔“آخر دونوں باپ بیٹے وہیں شہید ہو گئے۔اور جن چار سو مجاہدوں نے موت پر بیعت کی تھی،اُن میں سے تمام لوگ زخمی ہوئے،اور اکثر شہید ہوئے ،صرف چند لوگوں کے زخم اچھے ہوئے،شدیدزخمی ہونے والوںمیں حضرت ضرار بن ازوررضی اﷲ عنہ بھی تھے،جو بعد میں تندرست ہو گئے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں