03 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 3
تمہاری حیثیت حضرت ہارون علیہ السلام جیسی ہے، خلافت کا بوجھ اُٹھانے سے انکار، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر خلافت کا بوجھ، خلافت کی بیعت، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی مشروط بیعت
تمہاری حیثیت حضرت ہارون علیہ السلام جیسی ہے
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کومدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تا کہ اہل بیت کی دیکھ ریکھ ہو سکے اور غزوہ تبوک کے لئے اسلامی لشکر لے کرروانہ ہوگئے۔ ادھر مدینہ منورہ میں منافقین نے افواہ اڑائی کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بن گئے ہیں۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ یہ افواہیں سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بدن پر ہتھیار سجائے اور سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تیزی سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقامِ” جرف “پر جا کر ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عورتوں اور بچوں کے درمیان چھوڑ کر آگئے اور منافقین اس طرح کی افواہیں مدینہ منورہ میں پھیلا رہے ہیں۔ “سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ لوگ جھوٹے ہیں اور تم میرے لئے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام تھے۔ ( ہاں اتنا ضرور ہے کہ ) میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“
خلافت کا بوجھ اُٹھانے سے انکار
خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے مختصر تعارف کے بعد ہم اُمور ِ خلافت کی طرف واپس آتے ہیں ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد بڑے بڑے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خلافت کا بوجھ اُٹھانے کی درخواست کی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” مورخین کا اِس بات میں اختلاف ہے کہ خلیفہ¿ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے لئے بیعت کس وقت کی گئی اور کن کن لوگوں نے کی ۔بعض مورخین کی رائے تو یہ ہے کہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے جمع ہو کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے خلافت کی بیعت لینے کی درخواست کی لیکن آپ ضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا ۔جب صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے حد سے زیادہ اصرار کیا تو انہوں نے خلافت کا بوجھ اُٹھانا قبول کیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ مہاجرین و انصار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا ایک گروہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس خلافت کے لئے بیعت کرنے آیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” امیر ( خلیفہ) ہونے سے میں وزیر ہونے کو بہتر سمجھتا ہوں ،جس کو تم منتخب کرو گے میں بھی اُسی کا انتخاب کروں گا ۔“ اُن لوگوں نے منت و سماجنت سے کہا : ” ہم آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ کسی کو خلافت کا مستحق نہیں پاتے ہیں اور نہ ہی آپ رضی اﷲ عنہ کے علاوہ کسی اور کو منتخب کر سکتے ہیں ۔علامہ عما دالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت علیٰ المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے خلافت قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔انہوں نے باربار آپ رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ انہیں چھوڑ کر بنو عمرو بن مبدول کے باغ میں چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا ۔لوگوں نے وہاں آکر دروازہ کھٹکھٹایا اور آپ رضی اﷲ عنہ سے خلیفہ بننے پر اصرار کیا اور وہ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم کو بھی اپنے ساتھ لائے اور انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” اِس امر ( خلافت کے کام ) کا خلیفہ کے بغیر باقی رہنا ممکن نہیں ہے ۔“ اور وہ مسلسل آپ رضی اﷲ عنہ سے یہی بات کرتے رہے حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی بات مان لی ۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر خلافت کا بوجھ
صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے مسلسل اصرار پر حضرت علی المرتضی ٰ رضی اﷲ عنہ خلافت کا بوجھ اُٹھانے کے لئے تیار ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محمد بن حنفیہ کا قول ہے کہ جس روز حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہید کئے گئے اُس روز میں اپنے والد ِ محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھا ۔جب اُنہیں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنے گھر سے نکلے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر پہنچے ۔وہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اﷲ عنہم آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہید کر دیئے گئے ہیں اور لوگوں کے لئے ایک نہ ایک خلیفہ کی موجودگی ضروری ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ۔آج ہم رُوئے زمین پر آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ کسی کو اِس کا حقدار نہیں پاتے اور نہ ہی آج کوئی شخص ایسا موجود ہے جو اسلام میں آپ رضی اﷲ عنہ سے سبقت رکھتا ہو اور نہ کوئی ایسا فرد موجود ہے جسے آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کا قرب اور آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ رشتہ داری حاصل ہو ۔اِس لئے یہ بوجھ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے کاندھوں پر اُٹھایئے اور لوگوں کو بے چینی او ر پریشانی سے نجات دیجیئے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” بہتر یہ ہے کہ تم کسی اور کو اپنا خلیفہ بنا لو اور مجھے اُس کا وزیر رہنے دو اور بہتر یہی ہے کہ کوئی دوسرا خلیفہ ہو اور میں اُس کا وزیر ہوں ۔“ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا : ” اﷲ کی قسم ! ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے علاوہ کسی کی بیعت کے لئے تیار نہیں ہیں ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جب تم مجھے مجبور کر رہے ہو تو بہتر یہ ہے کہ بیعت مسجد میں ہونی چاہیئے تاکہ لوگوں پر میری بیعت مخفی نہ رہے اور حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی رضامندی کے بغیر یہ خلافت مجھے حاصل بھی نہیں ہوسکتی ۔“ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ( رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے چچا زادبھائی ) فرمایا کرتے تھے : ” مجھے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا مسجد میں جانا بہتر معلوم نہیں ہوا ۔کیونکہ مجھے یہ خوف تھا کہ لوگ اُن کے خلاف شور نہ مچائیں لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے میری بات قبول نہیں فرمائی اور مسجد تشریف لے گئے ۔وہاں تما م مہاجرین و انصاررضی اﷲ عنہم نے جمع ہو کر آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی اور اُن کے بعد دیگر لوگوں نے بیعت کی ۔“ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اُن لوگوں کے اصرار پر مسجد میں تشریف لائے اور صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم جن میں حضرت طلحہ و زبیر رضی اﷲ عنہم بھی تھے فرمایا : ” میں تمہیں اختیار دیتا ہوں ۔ اگر تم پسند کرتے ہو تو میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا اور اگر تم راضی ہو تو میرے ہاتھ پر بیعت کر لو۔“ انہوں نے کہا : ” نہیں ! ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔“ یہ فرما کر پہلے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے پھر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے بیعت کی ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ” سب سے پہلے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے اپنے دائیں ہاتھ سے آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی جو غزوہ¿ اُحد میں شل ہو گیا تھا کیونکہ اُس کے ذریعے آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا بچاو¿ کیا تھا اور بعض لوگوں نے کہا کہ یہ کام پورا نہیںہو گا ۔
خلافت کی بیعت
خلیفۂ چہارم حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے کندھوں پر زبردستی خلافت کا بوجھ رکھ دیا گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہید کئے گئے تو مہاجرین و انصار جمع ہو کر جن میں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم بھی تھے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا : ” اے ابو الحسن رضی اﷲ عنہ ! اپنا ہاتھ آگے بڑھا یئے تاکہ ہم آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لیں ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے خلافت کی کوئی حاجت نہیں ہے تم جسے بھی خلیفہ بنانا چاہو بنا لو میں اُس سے خوش ہوں اور اِس معاملے میں تمہارے ساتھ ہوں ۔“ مہاجرین و انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے جواب دیا : ” ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے علاوہ کسی کو خلیفہ بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔“ الغرض حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد مہاجرین و انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم بار بار حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے اور انہیں خلافت قبول کرنے پر مجبور کرتے رہے حتیٰ کہ مہاجرین و انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے ایک بار یہاں تک کہا کہ خلافت کے بغیر معاملات طے نہیں پا سکتے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ٹال مٹول سے معاملہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” چونکہ تم مجھے بار بار آ کر مجبور کر رہے ہو تو میں بھی تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں اگر تم میری بات قبول کرو گے تو میں خلافت قبول کروں گا ورنہ مجھے خلافت کی کوئی حاجت نہیں ہے ۔“ مہاجرین و انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے وعدہ کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ جو حکم دیں گے ہم انشاءاﷲ اسے ضرور پورا کریں گے ۔یہ وعدہ لے کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ مسجد میں تشریف لائے اورمنبر پر بیٹھ گئے لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے گرد جمع ہو گئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں نے مجبور ہو کر خلافت کے اِس بوجھ کو قبول کیا ہے کیونکہ تم لوگوں نے مجھ کو اِس پر انتہائی مجبور کیا ہے اور میرے پاس اِس کے علاوہ کوئی چارہ¿ کار باقی نہیں رہ گیا کہ میں تمہاری درخواست قبول کر لوں ۔اب میری یہ شرط ہے کہ تمہارے خزانوں کی چابیاں اگرچہ میرے قبضے میں ہوں گی لیکن میں تمہاری رضامندی کے بغیر اِس میں سے ایک درہم بھی نہیں لوں گا ۔“ ( یعنی مجھے مال و دولت سے کوئی غرض نہیں ہے ) صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے یہ بات قبول فرمائی ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے اُن کا یہ جواب سن کر فرمایا : ” اے اﷲ تُو اِن پر گواہ رہنا ۔ “ اِس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے لوگوں سے بیعت لی ۔
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی مشروط بیعت
خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی مدینۂ منورہ میں بیعت کرلی گئی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بعض نے کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد پانچ دنوں تک نافقی بن حرب مدینۂ منورہ کا امیر رہا ۔اِس کے بعد ملک مصر کے باغی جمع ہو کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے ۔کوفہ کے باغی حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور بصرہ کے باغی حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور خلیفہ بننے کی درخواست کی تو اُن تینوں نے صاف انکار کر دیا ۔اِس کے بعد باغیوں نے متفق ہو کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انہوں نے بھی انکار کر دیا اور حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بھی انکار کر دیا تو باغیوں کو بہت تردد ہوا کہ کوئی بھی خلافت کی ذمہ داری اُٹھانے کو تیار نہیں ہے ۔باغیوں نے اِس کے بعد اہل مدینۂ منورہ کو جمع کیا اور یہ کہا : ” آپ لوگ اہل شوریٰ ہیں اور آپ لوگوں کا حکم تمام اُمت ِ محمدیہ پر جائز و نافذ ہے ۔آپ لوگ خلیفہ مقرر کریںہم آپ کے مطیع ہیں اور آپ اِس کام کو انجام دیں ۔ہم دو دن کی مہلت دیتے ہیں اگر اِس مقررہ مدت میں آپ نے خلیفہ نہیں چُنا تو ہم آپ کے فلاں اور فلاں اشخاص کو مار ڈالیں گے ۔اہل مدینہ یہ بات سن کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے خلیفہ بننے سے انکار کر دیا ۔اُن لوگوں نے کہا : ” اگر آپ رضی اﷲ عنہ خلیفہ کا عہدہ قبول نہیں کریں گے تو فتنہ کا دروازہ کھل جائے گا ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مجبور ہو کر اگلے دن کا وعدہ کیا ۔اگلے روز صبح ہوتے ہی وہ لوگ آ پہنچے۔حکیم بن جبلہ مصریوں کے ساتھ اور مالک اشتر کوفیوں کے ساتھ حاضر ہوا ۔حکیم بن جبلہ نے حضرت زبیر بن عوم رضی اﷲ عنہ کو جبراً لا کر پیش کیا اور مالک اشتر نے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کو جبراً لا کر پیش کیا اور ان لوگوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے پاتھ پر بیعت کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : لوگ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کو لے آئے اور اُن سے کہا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کرو ۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں مجبورا ً بیعت کررہا ہوں ۔“ انہوں نے بیعت کی اور سب سے پہلے انہوں نے ہی بیعت کی ۔اِس کے بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کو لایا گیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا : ” میں مجبورا ً بیعت کررہا ہوں ۔“ اور اِس کے بعد بیعت کرلی لیکن حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی بیعت کے بارے میں اختلاف ہے ۔پھر اُن صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو لایا گیا جو اِس اختلاف سے کنارہ کش تھے ۔انہوں نے آکر بیعت کی اور فرمایا : ” اے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ! ہم آپ رضی اﷲ عنہ کی اِس بات پر بیعت کرتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ اﷲ کے احکام کا نفاذ فرمائیں گے چاہے آ پ رضی اﷲ عنہ کا کوئی قریبی رشتہ دار ہو یا دور کا رشتہ دار ہو ،طاقتورہو یا کمزور ہو۔“ اِس کے بعد عام لوگوں نے بیعت کی ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں