03 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 3
ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات، ملک شام کی طرف اسلامی لشکروں کی روانگی، ہرقل کی جنگی تیاری، تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم، رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا، رومیوں سے طویل جنگ، اللہ کی تلوار کا جذبۂ جہاد، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان میں جنگ، مسلمانو ں کے اتحادکا مشورہ، لشکر کے مشترکہ سپہ سالار، اسلامی لشکر کی نئی ترتیب، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی دعا، لشکر سے خطاب
ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں ہم نے آپ کو ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے اپنے لشکر کو لیکر وہاں پہنچنے اور رومیوں سے جنگ کے مختصر حالات پیش کئے تھے۔ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ مدینہ منورہ میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال ہو گیا ،اور حضرت عُمر فاروق رضی عنہ کو خلیفہ بنا دیا گیا۔اب ہم ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات وہیں سے شروع کرتے ہیں ،جہاں ہم اُسے روکا تھا۔اِس سے پہلے ہم بہت مختصر میں مسلمانوں اور رومیوں کے لشکر وں کے بارے میں بتا دیں ۔تاکہ وہاںکے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ۱۱ ھجری میں ذو القصہ سے جو گیار ہ لشکر روانہ فرمائے تھے۔اُن میں سے ایک لشکر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو ملک شام اور ملک عرب کے سرحدی علاقوں کی طرف روانہ کیا تھا۔اور انہیں حکم دیا تھا کہ اُس علاقے کے لوگوں کو ارتداد سے روکیں،اور مسلمانوں کو اپنے لشکر میں شامل کریں۔لگ بھگ ایک سال تک حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو اپنے لشکر میں بھرتی کرتے رہے۔اِس دوران حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک عرب سے ارتداد کا خاتمہ کرنے کے بعد ملک عراق میں فارسیوں کو شکست پر شکست دے رہے تھے۔اور حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل عمان ،بحرین،یمن اور تہامہ میں ارتداد کا خاتمہ کرنے کے بعد واپس آئے تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم پر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کی مدد کرنے اپنا لشکر لیکر آگئے۔
ملک شام کی طرف اسلامی لشکروں کی روانگی
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ جیسے ہی حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل لشکر لیکر پہنچیں،تم اپنے لشکر کے(ایک سال پہلے مدینہ منورہ سے آئے) مجاہدین کو مدینہ منورہ روانہ کردینا۔اِس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کو ایک بڑا لشکر دیکر ملک شام کی طرف روانہ کیا۔ایک لشکر دیکر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کی طرف روانہ کیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت ملک شام بہت بڑا تھا،اور ملک فلسطین،اُردن،لبنان وغیرہ تک کا علاقہ ملک شام میں ہی آتا تھا۔)ایک لشکرحضرت ولید بن عقبہ کو دے کرروانہ کیا،اور ایک لشکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو دیکر روانہ کیا۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے جلد بازی کی اور اِن لشکروں کے آنے سے پہلے ہی رومیوںسے بھڑ گئے۔جس کانتیجہ یہ ہوا کہ انہیں کافی پیچھے ہٹنا پڑا ،اور اچھے خاصے علاقے چھوڑنا پڑے۔لیکن حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل عنہ ڈٹے رہے ،اور رومیوں سے مقابلہ کرتے رہے۔جب تما م لشکر ملک شام پہنچ گئے تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو واپس بلا لیا۔
ہرقل کی جنگی تیاری
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر مقررہ مقامات تک پہنچ گئے۔سلطنت روم کے حکمراںقیصر ہرقل کو جب مسلمانوں کے لشکر کے آمد کیاطلاع ملی تو اُس نے بھی غیر معمولی جنگی تیاری شرو ع کر دی۔اور وہ خود چل کر ”حمص“میں آیا،اور رومیوں کا ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا۔اُس کے پاس کافی فوج تھی،بلکہ بے اندازہ فوج تھی۔اس لئے اُس نے مسلمانوں کے ہر لشکر سے لڑنے کے لئے الگ الگ لشکر تیار کر کے روانہ کئے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کے لئے اپنے حقیقی بھائی تذارق کا نوے ہزار (90,000) کا لشکر دیکربھیجا۔اور اُس کے پیچھے ایک افسر کو ساقہ پر متعین کیا۔اُس کو بالائی فلسطین میں”ثنیتہ جلق“پر متعین کیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت فلسطین،لبنان ،اور اردن ،ملک شام کا حصہ تھے۔)اور حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر جرجہ بن توزرا کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر دراقص کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر فیطار بن نسطورا کو ساٹھ ہزار کا لشکر دیکر بھیجا۔یہ دیکھکر تمام سپہ سالاروں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو تمام حالات لکھ بھیجے،اور اگلی ہدایت کا انتظار کرنے لگے۔
تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایت کے آنے کے درمیان میں تمام سپہ سالار ایکدوسرے سے خط و کتابت کے ذریعے صلاح مشورہ کر رہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے سب کو یہ مشورہ دیا کہ ایک جگہ جمع ہو جائیں،تو ہمارے لئے زیادہ بہتر رہے گا۔کیونکہ دشمنوں نے ہر سپہ سالار پر بڑے بڑے لشکر مسلط کر دیئے ہیں۔تمام سپہ سالار اِس بات پر متفق ہو گئے کہ ایک جگہ جمع ہوا جائے،لیکن یہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ کہاں جمع ہوا جائے۔اسی دوران خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کاجواب بھی آ گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تمام لشکر جمع ہو کر ایک لشکر ہو جائیں،اور ملکر دشمنوں سے جنگ کریں۔تم اﷲ کے سپاہی ہو،اﷲ تمہارا مدد گار ہے۔اﷲ اُس کو ذلیل کرتا ہے،جو اُس کا انکار کرتا ہے۔تم جیسے(اﷲ کو ماننے والے)لوگ تعداد کی قلت کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتے۔دس ہزار بلکہ اُس سے بھی کہیں زیادہ، اگرگناہوں کے طرفدار بن کر اُٹھیں گے تو وہ دس ہزار سے ضرور مغلوب ہوں جائیں گے۔لہٰذا تم گناہوں سے احتراز کرو ،اور یرموک میں مل کرجنگ کرنے کے لئے جمع ہو جاو¿ ۔تم میں سے ہر سپہ سالار اپنے اپنے لشکر کی امامت کرے ،اور نماز پڑھائے۔
رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مسلمانوں کے تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر یرموک میں آکر جمع ہونے لگے۔ہر قل کو جب مسلمان لشکروں کے اجتماع کی خبر ملی تو اُس نے اپنے پادریوں کو حکم دیا کہ تم بھی رومیوں کے ہر لشکر کوایک ایسی جگہ مسلمانوں کے سامنے جمع کرو۔جہاں کافی گنجائش اور وسعت ہو،اور بھاگنے والوں کے لئے راستہ تنگ ہو۔تمہاری فوج کا سپہ سالار تذارق کو مقرر کیا جاتا ہے۔مقدمة الجیش پر جرجہ کو،اور میمنہ اور میسرہ پر دراقص کو متعین کیا جائے،اور سپہ سالار اعظم فیقار کو بنایا جائے۔ میں تمہیں خوش خبری دیتا ہوں کہ باہان تمہارے عقب میں تمہاری مدد کے لئے موجود ہے۔پادریوں نے ہرقل کے حکم کی تعمیل کی،اور یرموک کے قریب ایک بہت بڑی اور وسیع وادی ”واقوصہ “میں تمام روم کے تمام لشکروں کو جمع کردیا۔رومیوں کے لشکر کے سامنے کی وادی نے اُن کے لئے خندق کا کام دیا۔جس کی وجہ سے وہ ایک ناقابل تسخیر وادی بن گئی۔باہان اور اُس کے ساتھیوں کی خواہش تھی کہ رومیوں کے دلوں سے مسلمانوں کی دہشت نکل جائے۔اور وہ اُن کو ہوا سمجھنا چھوڑ دیں۔
رومیوں سے طویل جنگ
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام مسلمان سپہ سالار اپنے لشکروں کے ساتھ یرموک میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔جب تمام رومی لشکروں کے سپہ سالارجب اپنے اپنے لشکر لیکر واقوصہ میں پہنچ گئے،تو مسلمان آگے بڑھ کر رومیوں کے لشکر کے مد مقابل پہنچ گئے۔رومیوں کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بول اُٹھے۔مسلمانو!مبارک ہو،اﷲ کی قسم!رومی محصور ہو گئے ہیں،اب ان سے کچھ بن آنا مشکل ہے۔رومیوں کے پیچھے واقوصہ کی گھاٹی تھی،اور سامنے خندق نما گھاٹی تھی،جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت پریشانی ہو تی تھی۔ ماہ صفر المظفر ۳۱ ھجری میں دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے آئے۔دونوں کے درمیان خندق نما گھاٹی تھی،روز جنگ ہوتی ،لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔یہاں تک کہ ماہ ربیع الاول آگیا۔اور یہ پورا مہینہ بھی گذر گیا ،اور جنگ کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔مسلمان سپہ سالاروں نے تمام حالات لکھ کر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجے،اورمزید کمک طلب کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراًحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ حیرہ میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو آدھا لشکر دے کرچھوڑ دو،اور آدھا لشکر لیکر تم جلد سے جلد ملک شام پہنچو۔وہاں تمہاری شدید ضرورت ہے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا جذبۂ جہاد
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کا حکم ملتے ہی آدھا لشکر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو دیا۔اور آدھا لشکر لیکر ملک شام جانے کی تیاری کرنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ کون ہے جو ہمیں مختصر راستے سے ملک شام پہنچا دے۔حضرت رافع بن عمیرہ طائی آگے بڑھے،اور کہا کہ میں ایسا مختصر راستہ جانتا ہوں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ اتنے بڑے لشکر و اسباب کو لیکر اس راستے کو طے نہیں کر سکیں گے۔اﷲ کی قسم!تنہا سوار بھی اس مشکل اور تکلیف دہ راستے کو طے کرنے کی ہمت نہیں کرتا ہے،کیونکہ اس راستے پر پانچ دن و رات تک کسی مقام پر آپ رضی اﷲ عنہ کو پانی نہیں ملے گا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھ کو یہ راستہ طے کرنا بہت ضروری ہے،کیونکہ خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مجھے جلد سے جلد مسلمانوں کی مدد کے لئے ملک شام پہنچنا ہے۔اور تیرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اُن کی مدد کو نہیں جاو¿ں؟میں نے جان اﷲ کی راہ میں وقف کر دی ہے۔اور اب تُم مجھے اِس راستے سے لیکر جاو¿ گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تمام مجاہدین سے کہہ دو کہ پانچ دنوں کا پانی اپنے ساتھ لیکر چلیں۔اِس کے علاوہ اپنے اونٹوں کو بار بار پانی پلائیں(اونٹ کا ایک معدہ ایسا ہو تا ہے کہ بالکل صاف ستھرا پانی اُس میں محفوظ رہتا ہے،جسے پانی نہ ملنے کی صورت میں وہ استعمال میں لاتا ہے)تمام مسلمانوں نے چھاگلوں،مشکیزوںاور دوسرے برتنوں میں پانی بھر لیا۔اور اونٹوں کو وقفہ وقفہ سے بار بار پانی پلایا،اور اُن کے پاو¿ں پر کپڑے لپیٹ دیئے،تاکہ روزآنہ کے مسلسل سفر سے اُن کے پیر پھٹنے سے محفوظ رہیں۔اور کئی سو زائد اونٹ ساتھ لے لئے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر اِس دشوار گذار سفر پر نکل پڑے۔اور مسلسل چار دنوں کے سفر کے بعدپانچویں روز علمین کے قریب پہنچے تو حضرت رافع نے لوگوں سے کہا:”ذرا دیکھو تو کہیں عوسج کا درخت نظر آرہاہے یا نہیں؟“لوگوں نے دیکھا تو ہر طرف صحراءاور ریت کے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔جب عوسج کا درخت کہیں دکھائی نہیں دیا تو حضرت رافع نے انا ﷲوانا الیہ راجعون پڑھ کر کہا۔”افسوس تم بھی ہلاک ہوئے ،اور مجھے بھی ہلاک کیا۔،میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ راستہ بہت دشوار گذار ہے۔“سب لو گ پیاس سے بے حال ہو رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے جو زائد اونٹ ساتھ لئے ہیں ،انہیں زبح کرو ،اور ان کے گوشت کھانے کے لئے،اور اُن کے معدوں کے اندر کا پانی پینے کے استعمال میں لاو¿۔سب نے ایسا ہی کیا ،اور گھوڑوں کو بھی پانی پلایا۔اس کے بعد جب اور آگے چلے تو لشکر کے آگے والے مسلمانوں کو عوسج کا درخت نظر آیا،اور انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔حضرت رافع کے کہنے پر اس کی جڑ کے پاس کھودا گیا تو نیچے ایک پانی کا چشمہ تھا۔تمام لشکریوں نے سیر ہو کر پانی پیا ،اور اونٹوں کو بھی پلایا،اور چھاگلوںاورمشکیزوں کو بھی بھر لیا۔اس کے بعد وہ ”سویٰ“ پہنچ گئے۔یہی بنو بہراءکے رہنے کا مقام تھا۔یہ لوگ غفلت میں بیٹھے شراب پی رہے تھے،اور اُن کا ایک مغنی(گانے والا)گا رہا تھا۔مسلمانوں نے ان پر چھاپہ مارا اور ان کے سردار حرقوص بن نعمان بہرائی کو قتل کر کے ان کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔اور اس کے بعد سفر کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر ماہ ربیع الثانی کے آخری دنوں میں مسلمانوں کے لشکر میں یرموک پہنچے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان میں جنگ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب یرموک پہنچے،تو اُسی وقت باہان بھی اپنا لشکر لیکر رومیوں کی مدد کے لئے آیا۔اُس نے اپنی فوج کے آگے آگے آفتاب پرستوں،راہبوں،اور پادریوں کو متعین کیا تھا،کہ وہ لوگ فوج کو جنگ کے لئے اکسائیں،اور ان کے دلوں میں جوش پیدا کریں۔اتفاق سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان کی آمد بیک وقت ہوئی،اور باہان اِس انداز میں آگے بڑھا جیسے میدان اُسی کا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ باہان سے لڑنے لگے،اور دوسرے سپہ سالار اپنے اپنے مقابلے کے رومیوں سے لڑنے لگے۔باہان نے شکست کھائی ،اور رومیوں نے یکے بعد دیگرے ہزیمت اُٹھائی اور اپنی خندق میں گھس گئے۔رومیوں نے باہان کی آمد کو نیک فال تصور کیا تھا،اور مسلمانوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے خوشی ہوئی تھی،اور مسلمان خوب جوش سے لڑے،اوررومی بھی خوب جوش سے لڑے۔ لیکن شام تک کوئی فیصلہ کن جنگ نہیں ہوئی ،اور دونوں فریقین اپنے اپنے پڑاو¿ میں واپس چلے گئے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا مشورہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یرموک پہنچنے کے بعد دیکھا کہ تمام مسلمان سپہ سالارالگ الگ اپنے لشکروں کو لیکر جنگ کررہے تھے۔انہوں نے سب کو یہ مشورہ دیا کہ مسلمانوں کے لشکر کو اکٹھا کر دیا جائے ،اور ایک دن ایک سپہ سالار تمام مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کرے۔اور دوسرے دن دوسرا سپہ سالار قیادت کرے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی عنہ نے ملک شام میں الگ الگ شہروں کے لئے لشکر اور سپہ سالار بھیجے تھے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حمص کی طرف،حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کودمشق کی طرف،حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کواُردن کی طرف،اورحضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کی طرف بھیجا تھا۔جب مسلمان ملک شام کے قریب پہنچے تو رومیوں کا بہت بڑا لشکر دیکھ کر اُن کے ہوش اُڑ گئے۔انہوں نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے تمام سپہ سالاروں کو اپنے لشکر لیکر ایک جگہ جمع ہونے اور پورے لشکرکوایک ساتھ رومیوں کے لشکر سے جنگ کا حکم دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ تمام مسلمان سپہ سالار الگ الگ اپنے لشکروں کو لیکر جنگ کر رہے ہیں،تو انہوں نے فرمایا :”اے سپہ سالارو!کیا آپ لوگ ایسا مشورہ ماننے کے لئے تیار ہیں؟جس سے اُمید ہے کہ اﷲ کا دین سر بلند ہوجائے گا،اور آپ کے مراتب میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔“
مسلمانو ں کے اتحادکا مشورہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب یرموک پہنچے تو دیکھا کہ مسلمانوں کے لشکر میں ہر سپہ سالار الگ الگ قیادت کر رہا ہے ،تو انہوں نے سب کومتحد کرنے کی کوشش شروع کردی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ملک شام میں چاروں سپہ سالار لگ بھگ ستائیس ہزار (27,000) کا لشکر لیکر پہنچے تھے۔اِن کے علاوہ حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ تین ہزار(3,000)مجاہدین کے سپہ سالار تھے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک عراق سے دس ہزار(10,000)مجاہدین لیکر آئے تھے۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل چھ ہزار (6,000) مجاہدین کے ساتھ ڈٹے ہوئے تھے۔ یہ سب کُل ملاکر مسلمانوں کو لشکر چھیالیس ہزار (46,000)مجاہدین پر مشتمل تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے تک تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکروں کو لڑانے کے لئے کسی کے تابع نہیں تھے۔رومیوں سے جنگ شروع کرنے سے پہلے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے تمام مسلمان سپہ سالاروں کو جمع کیا،اور اﷲ کی حمد و ثنا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد فرمایا:”آج کا دن اﷲ کے اہم ترین دنوں میں سے ایک ہے۔آج کسی کو فخر اور خود رائی نہیں کرنی چاہیئے،بلکہ خلوص نیت سے جہاد کرو،اور عمل صرف اﷲ کے لئے کرو۔آج کی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی ہے۔رومیوں کے منظم اور مرتب لشکر سے تمہارا آزادی اور انتشار کے ساتھ لڑنا کسی طرح جائز نہیں اور مو زوں نہیں ہے۔اگر اُن کو(خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کو )جو تم سے دور ہیں،یہاں کی کیفیت کا ایسا ہی علم ہوجائے،جیسا تم کو ہے۔تو وہ بھی تم کو اِس طرح لڑنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔جس کام میں تم کو خلیفہ رضی اﷲ عنہ کا خاص حکم نہیں ملا ہے،اُس کو اپنی ایک ایسی رائے کے ساتھ انجام دو،گویا وہ تمہارے خلیفہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے خیر خواہوں کا حکم ہے۔“
لشکر کے مشترکہ سپہ سالار
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی تقریر سُن کر تمام سپہ سالاروں نے کہا:”آپ رضی اﷲ عنہ رائے دیں کہ ہم کیا کریں؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ہم لوگوں کو یہ خیال کر کے بھیجا ہے کہ ہم اِس مہم کو بآسانی سر کر لیں گے۔اگر اُن کو یہاں کے واقعات اور حالات کا علم ہوتا تو وہ تم کو متفرق رکھنے کے بجائے متحد رکھتے۔مسلمانوں کے لئے یہ موقع اِس سے پہلے کے مواقع کی بہ نسبت بہت سخت ہے،اور رومیوں کو چونکہ کافی مدد مل گئی ہے۔اِس لئے حالات اُن کے حق میں سازگار ہیں،اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تم الگ الگ اپنے اپنے لشکر کی قیادت کر رہے ہو۔اگر ہم سب ملکرتمام مسلمانوں کے لشکر کو متحد کردیں،اور ہم میں سے کسی ایک کو پورے لشکر کا سپہ سالار بنا دیں ۔اور ہم سب اُس ایک سپہ سالار کے مطیع ہو جائیں،تو ہم میں سے کسی کے مراتب میں فرق نہیں آئے گا۔جس کو ہم اپنا مشترکہ سپہ سالار بنائیں گے،اُسے کوئی بڑائی نہیں ملے گی،اوراُس کو اپنا سپہ سالار بناکر اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے نزدیک ہمارا درجہ کم نہیں ہوگا۔دیکھو دشمن کی تیاری کتنی عظیم الشان ہے،اگر آج ٍہم نے اِن کو خندق میں دھکیل دیا تو پھر ہمیشہ دھکیلتے رہیں گے۔اور اس کے برعکس آج انہوں نے ہمیں شکست دے دی تو آئند ہ ہمارے پنپنے کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔ہونا یہ چاہیئے کہ سپہ سالاری کے عہدے کو باری باری کر دیا جائے۔آج ہم میں سے ایک شخص سپہ سالار ہوگا،تو کل دوسرا،پرسوں تیسرا،یہاں تک کہ آپ سب کو امیر بننے کا موقع مل جائے،اور آج مجھے امیر بنا دو۔“سب لوگوں نے اتفاق رائے سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کوسپہ سالار بنا لیا۔
اسلامی لشکر کی نئی ترتیب
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سپہ سالار بنتے ہی اسلامی لشکر کی تر تیب کو بدل دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے پہلے لگ بھگ ایک مہینے سے روزآنہ دن بھر مسلمانوں اور رومیوں میں جنگ ہوتی تھی ،اور شام کو دونوں فریق بغیر کسی فیصلے کے واپس اپنے پڑاو¿ میں چلے جاتے تھے۔اِسی لئے دوسرے مسلمان سپہ سالاروں نے سمجھا کہ آج بھی ویسی ہی جنگ ہوگی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رومیوں کی آج کی یورش بھی اور دنوں کی طرح ہو گی،اور ابھی یہ چپقلش اور طول کھینچے گی۔مگر اِس بار رومیوں کی صف آرائی ایسی با ضابطہ تھی کہ اس کی مثال اِس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔اُن کے مقابلے میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے لشکر کو جس طریقے پر مرتب کیا،وہ عربوں کے لئے بالکل نیا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کو بہت سے دستوں میں تقسیم کر دیا،جن کی تعداد چھتیس(36)سے چالیس(40) تک تھی۔حضرت خالد بن ولید رجی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تمہارے دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے،اور وہ اپنی کثرت پر اترایا ہوا ہے۔ایسی ترتیب کہ ہمارا لشکر دشمن کو زیادہ نظر آئے،صرف یہ ہے کہ اس کے بہت سے دستے بنا دیئے جائیں۔“اسی کے مظابق آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کے قلب کے کئی دستے بنائے،اور اُن پر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر مقرر فرمایا۔میمنہ کے کئی دستے بنا کر اُن کر حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر بنایا۔میسرہ کے کئی دستے بنائے ،اور اُن پر حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کوکمانڈر بنایا۔عراق سے آئے لشکر کے ایک دستے پر حضرت قعقاع بن عمروکو،ایک دستے پر حضرت مذعور بن عدی کو،ایک دستے پر حضرت عیاض بن غنم کو،ایک دستے پر حضرت ہاشم بن عتبہ کواور ایک دستے پر حضرت زیاد بن حنظلہ کو کمانڈر بنایا۔اسی طرح ایک ایک دستے کا کمانڈر حضرت وحید بن خلیفہ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح،حضرت عکرمہ بن ابوجہل، حضرت صفوان بن اُمیہ،حضرت سعید بن خالد،حضرت عبداﷲ بن قیس،حضرت ضرار بن ازور وغیرہ کو بنایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پس رومی ایسی ترتیب و تنظیم کے ساتھ نکلے کہ اِس قسم کی ترتیب پہلے کبھی نہیں دئکھی گئی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی ایسی ترتیب و تنظیم کے ساتھ نکلے کہ عربوں نے اِس سے پہلے ایسی ترتیب و تنظیم کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ چھتیس(۶۳) سے چالیس دستوں کے ساتھ نکلے،ہر دستہ ایک ہزار(1,000)مجاہدین پر مشتمل تھا،اور اُن پر ایک کمانڈر مقرر کر دیا گیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”قلب(درمیان) “کی کمانڈ سونپی۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”میمنہ (دائیں بازو)“کی کمانڈ سونپی۔حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”میسرہ(بائیں بازو )“کی کمانڈسونپی۔اور حضرت حباب بن اثیم رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”ہر اول (سب سے اگلا حصہ)“کی کمانڈ سونپی۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو مال غنیمت پر مقرر فرمایا۔حضرت ابو الدردا رضی اﷲ عنہ کو لشکر کا قاضی بنایا۔حضرت ابو سفیان بن حرب کو جنگ کے لئے آمادہ کرنے ،اور وعظ و نصیحت والا بنایا۔اور حضرت مقداد بن اسود رضی اﷲ عنہ کو قاری بنایا،اور وہ پرے اسلامی لشکر میں گھوم گھوم کر سورہ الانفال اور دسری سورہ میں آنے والی آیات جہاد کی تلاوت کرتے تھے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی دعا
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے لشکر کی کثیر تعداد دیکھ کر اپنے لشکر کو بالکل نئے طریقے سے منظم کیا تھا۔اور ہر کمانڈر کا موقع کی مناسبت سے کھڑا کر کے لشکر کے قاریوں کو سورہ انفال کی تلاوت کرنے کا حکم دیا۔اور خود لشکر کے قلب کے آگے کھڑے ہو کر تمام مہاجرین و انصار رضی اﷲ عنہم کو الگ کر کے اپنے آگے کھڑا کیا۔اور پھر آسمان کی ہاتھ اُٹھا کر بلند آواز سے یہ دعا مانگنے لگے:”اے پروردگارِعالم!یہ وہ تیرے خاص بندے رضی اﷲ عنہم ہیں،جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہر حال میں ساتھ دیا،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے معاون و مدد گار رہے ہیں۔تیری مرضی کے لئے انہوں نے اپنے گھر بار ،اہل و عیال (گھر والوں اور بچوں)کو چھوڑا ہے۔اے اﷲ !آپ ہماری عزت نہ رکھیں،بلکہ اپنے سچے دین ،اور سچے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت رکھ لیں۔ہماری مدد نہ کریں،بلکہ اپنے دین کی مدد کریں۔اے بے کسوں کے چارہ ساز!آپ اِن کے ذریعے سے ہماری مدد کریں،اور کافروں کے ہاتھوں ہمیں ذلیل و خوار نہ ہونے دیں۔“
لشکر سے خطاب
حضرت خالد بن ولید اﷲ تعالیٰ سے دعا کرنے کے بعد اسلامی لشکر کی طرف متوجہ ہوئے۔اور بلند آواز سے ا ﷲ تعالیٰ کی حمد اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد فرمایا:”اے مسلمانو!یہ دن تمہاری آزمائش و امتحان کا ہے،آج کے دن تم کو فخر نہیں کرنا چاہیئے۔تم لوگ آج جو کام کر و خالص اﷲ کے لئے کرو،اور اپنے نیک اعمال سے اﷲ کو راضی کرو۔یہ وہ دن ہے کہ اگر تم مارے گئے،تو بے شک جنت میں جاو¿ گے۔اور اگر اﷲ کے دشمنوں پر فتح یاب ہوئے ،تو ”غازی“ کہلاؤ گے۔کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”جنت تلوار کے سائے میں ہے“پس اگر تم لوگوں کو جنت حاصل کرنا ہے،اور اﷲ کو راضی کرنا ہے ،تو لڑو،لڑو،لڑو!شاید اِس کے بعد ایسا موقع نہیں ملے اور تمہاری موت آجائے۔بستر پر ذلت کی حالت میں مرنے سے بہتر ہے کہ میدانِ جنگ میں اﷲ کے لئے لڑتے ہوئے مارے جاو¿۔اور اِسی خون آلود کپڑے میں دفن کر دیئے جاو¿،تا کہ قیامت میں تمہارے فی سبیل اﷲ لڑنے اور لڑتے لڑتے جان دے دینے کی وہ گواہی دیں۔اے بھائیو!یہ وہ دن ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آج تمہارے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے ہیں۔کیا تم لوگ جنت میں جانا پسند نہیں کرو گے؟دیکھو اﷲ کی رحمت تم پر نازل ہونا ہی چاہتی ہے،تم کو اﷲ تعالیٰ فتح یاب کرے گا۔نیک نیتی سے اُس کی راہ میں کوشش کرو،اور یہ اچھی طرح سے سمجھ لو کہ دنیا تم سے چھوٹنے والی ہے۔اﷲ اﷲ ،ہر شخص اپنے لئے زاد ِ سفر تیار کر لے،اور اگر تم لڑ کر شہید ہوئے یا فتحیاب ہوگئے،تو تم سے بڑھ کر محبوب اﷲ کے نزدیک کوئی نہیں ہو گا۔اور اگر تم نے لڑنے میں کچھ بھی پس و پیش کیا،تو دنیا تو تم سے چھوٹ ہی گئی ہے،نہایت بے عزتی سے کافروں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر مارے جاو¿ گے۔اور قیامت تک تم سے اﷲ کی رحمت دور رہے گی۔پھر اﷲ کو اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو،اور اُس کے خلیفہ کو کیا منہ دِکھاو¿ گے؟چلو چلو!اپنی مُرادیں حاصل کر لو۔دیکھو اﷲ کے دشمن تمہاری طرف بڑھنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔پس اِس سے پہلے کہ وہ تم پر حملہ کریں،تم اُن پر ٹوٹ پڑو۔اگر تم نے انہیں خندق نما گھاٹی کی طرف لوٹا دیا تو پھر کیا ہے ،اُن کو شکست ہو گی۔اور اگر اﷲ نہ چاہے،انہوں نے تم کو شکست دی تو اﷲ کی قسم !ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا اپنے آپ کو جہنم میں ڈالنا ہے۔چلوآگے بڑھو،اور تمہارے ایک ایک قدم پر ہزار ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔آو¿جو کچھ لینا ہے،آج ہی لے لو،کل پر باقی نہ رکھو۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں