02 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 2
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خالہ کی بشارت،حضرت ابو بکر صدیق کی تحریک پر قبول ِ اسلام ،اسلام قبول کرنے پر خاندان والوں کا ظلم،خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ بہت ہی حیا والے تھے، شہادت کی خبر پہلے ہی دے دی
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خالہ کی بشارت
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سفر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہو گیا تھا ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ سفر سے واپس آئے تو گھر پر بھی اُن کی خالہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں بتایا۔آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :”میں گھر آیا تو میر ی خالہ ”سعدی“ کو بیٹھادیکھاوہ میری والدہ اور گھر والوں سے باتیں کر رہی تھیں ۔ میری خالہ کہا نت کرتی تھی، مجھ کو دیکھتے ہی کہا :” اے عثمان تجھ کو بشارت ہو سلامتی کی بار بار دس بار، تُوبھلائی سے ملے گا اور برائی سے محفوظ ہو جائے گا۔ اللہ کی قسم !تُو ایک نہایت پاک دامن حسین عورت سے نکاح کرے گا۔“ یہ سن کر مجھے بہت تعجب ہوااور میں نے کہا :” اے خالہ یہ کیا کہہ رہی ہو؟ “انھوں نے کہا :”اے عثمان ! تیرے لئے جمال بھی ہے اور شان بھی ہے، یہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے ساتھ نبوت و رسالت کے دلائل اور نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حق دے کر بھیجا ہے، اُن پر اللہ کا کلام ( قرآن پاک) اترتا ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتا ہے۔ پس تو اُن کی اتباع کر کہیں بُت تجھ کو گمراہ نہ کردیں۔“ میں نے کہا :”اے خالہ آپ ایسی بات کا ذکر کر رہی ہیں جس کا شہر میں کہیں تذکرہ نہیں سنا ۔خالہ نے جواب دیا:” عبداللہ کے بیٹے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اللہ کی طرف سے وہ اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کا قول نجات اور کامیابی ہے، وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں چیخ و پکار فائدہ نہیں دے گی۔ چاہے کتنی ہی تلواریں اور نیزے اُن کے مقابلے میں چلائی جائیں۔“
حضرت ابو بکر صدیق کی تحریک پر قبول ِ اسلام
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”یہ کہہ کر میری خالہ چلی گئیں، مگر میں غور و فکر میں پڑ گیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میرے تعلقات تھے۔ میں اُن کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ انھوں نے مجھے متفکر دیکھا تو وجہ پوچھی۔ میں نے اپنی خالہ سے جو سنا تھا وہ ان سے کہہ دیا۔ انھوں نے فرمایا:” اے عثمان ( رضی اللہ عنہ)! ماشاءاللہ تم ہوشیار اور سمجھ دار ہو، حق اور باطل کے فرق کو سمجھ سکتے ہو۔ یہ بُت جن کی پوجا میں ہماری قوم مبتلا ہے، یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ نہ ہمیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ “میں نے کہا :”بے شک یہ ایسے ہی ہیں جیساآپ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں۔“ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :” اللہ کی قسم !تمہاری خالہ نے بالکل سچ کہا ہے۔ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا پیغام دے کر تمام مخلوق کی طرف بھیجا ہے۔ تم اگر مناسب سمجھو تو اُن کا کلام ضرور سنو۔“ اتفاق سے اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم آتے دکھائی دیئے ،اُن کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ ( ابھی لڑکے تھے) بھی تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ عرض کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا:” اے عثمان ( رضی اللہ عنہ)! اللہ تعالیٰ جنت کی دعوت دیتا ہے، تم اللہ کی دعوت قبول کر لو اور میں اللہ کارسول ہوں جو تمہاری طرف اور تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں۔“ اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنتے ہی میں ایسا بے خود ہواکہ فوراً اسلام قبول کرلیا اور یہ کلمات ادا کئے۔ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ کچھ روز گزرنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے میرا نکاح ہوا تو میر ی خالہ نے مجھے مبارکباد دی اور کہا:” اللہ نے اپنے بندے عثمان کو ہدایت دی اور اللہ ہی حق کی ہدایت دیتا ہے۔ پس عثمان نے اپنی صحیح رائے سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کیا۔ آخر ارویٰ کا بیٹا ہے۔ ( ارویٰ بنت کریز حضرت عثمان غنی کی والدہ کا نام ہے) سمجھ سے کام لیااور حق کو قبول کیا اور اس پیغمبر برحق نے اپنی ایک بیٹی اس کے نکاح میں دے دی۔ پس یہ ایسا ہوا جیسے چاند اور سورج جمع ہو ئے ہوں۔ اے ہاشم کے بیٹے محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم امین ہیں اور مخلوق کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ “
اسلام قبول کرنے پر خاندان والوں کا ظلم
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بنو اُمیّہ خاندان کے ہیں۔عبد مناف کے دو بیٹوں ہاشم اور عبد شمس کے دو خاندان بنے ۔ہاشم کی اولاد ”بنو ہاشم“کہلائی اور عبد شمس کے ایک بیٹے کا نام اُمیّہ تھا اُس کے نام پر عبد شمس کی اولاد ”بنو اُمیّہ “کہلائی۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اُس وقت مکہ¿ مکرمہ کے کافر اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں پر بہت شدید ظلم کر رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں جب اُن کے خاندان بنو اُمیہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ پر بہت ظلم کیا تاکہ آپ رضی اﷲ عنہ اسلام کو چھوڑ دیں۔اُن کا خاندان ”اسلام دشمن تحریک “ کا قائد تھا اِس لئے بنو اُمیہ کے بزرگوںکو یہ گوارا نہیں تھا کہ اُن کے خانوادے کا ایک صاحب ِ ثروت نوجوان حق کا پرستار بن کر اُن کے دشمن ”ہاشمی رسول“صلی اﷲ علیہ وسلم کا شیدائی بن جائے۔اِس لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو اُن کے خاندان کے افراد نے ظلم و ستم کا ہدف بنایا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو بُرا بھلا کہا گیا ،بہت سی تکلیفیں اور ایذائیں دی گئیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے سگے چچا حکم بن ابو العاص نے آپ رضی اﷲ عنہ کو باندھ دیا اور مارتا پیٹتا رہا اور کہتا رہا کہ اسلام کو چھوڑ دے ۔ لیکن کلمہ¿ حق سے آشنا ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ہر ظلم کو سہتے رہے اور زبان سے اﷲ کی وحدانیت کا اعلان کرتے رہے۔
خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ بہت ہی حیا والے تھے
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بہت ہی حیا والے تھے ،آپ رضی اﷲ عنہ میں اتنی حیا تھی کہ فرشتے بھی اور سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم بھی آپ رضی اﷲ عنہ سے حیا کرتے تھے۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جس ہاتھ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ،اُس ہاتھ کو ہمیشہ پاک و صاف رکھا اور نجاست سے دور رکھا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے غسل کرتے وقت بھی غسل خانے میں کبھی پورے کپڑے نہیں اُتارے ۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے اور پنڈلی مبارک تھوڑی سی کھل گئی تھی۔میرے والد ِ محترم (حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ) آئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُسی حالت میں اُن سے بات کی ۔وہ چلے گئے تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے بھی اُسی حالت میں بات کی۔وہ چلے گئے تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اندر داخل ہونے کی اجازت مانگی۔اُن کی آواز سنتے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنی پنڈلی مبارک کو بھی ڈھک لیا اور اندر آنے کی اجازت دی ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ آئے اور بات کر کے چلے گئے تو میں نے عرض کیا :”یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! میرے والد اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم آئے تو آپ نے وہ اہتمام نہیں کیا جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے کیا؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”عثمان غنی رضی اﷲ عنہ میں اِتنی حیا ہے کہ اگر میں ویسی ہی حالت میں رہتا تو وہ حیا کی وجہ سے جو کہنے آئے تھے کہہ نہیں پاتے۔اُن سے فرشتے حیا کرتے ہیں تو میںبھی کیوں نہ حیا کروں۔“
شہادت کی خبر پہلے ہی دے دی
سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تُم شہید ہو گے اور تمہیں منافقوں کا ایک گروہ شہید کرے گا۔حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”میرے پاس سے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ گزرے تو میرے پاس بیٹھے ہوئے فرشتے نے کہا :”یہ شہید ہیں ،اِن کو قوم شہید کرے گی ،مجھے اِن سے حیا آتی ہے۔“سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اے عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ! اﷲ تعالیٰ تمہیں ”خلافت“ کی قمیص پہنائے گا ،جب منافقین اسے اُتارنے کی کوشش کریں گے تو اسے مت اُتارنا ،یہاں تک کہ تُم مجھ سے آملو۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں