01 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 1
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ، سلسلہ نسب اور پیدائش، کنیت اور لقب، خاندان، بچپن اور جوانی، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا، قبول ِ اسلام کے لئے دِل نرم، دِل میں کشمکش، حق کی طرف رہنمائی، بہن اور بہنوئی کی خبر لو، کچھ بھی کر لو ،ہم اسلا م نہیں چھوڑیں گے، یہ اﷲ کا کلام ہے، اے عُمر !تمھیں مبارک ہو، اسلام قبول کرنے آیا ہوں، قبول ِاسلام، الفاروق کا لقب، اعلانیہ ہجرت
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ذکر ہم آپ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔اب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ذکر پیش کر رہے ہیں۔اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے وصال سے پہلے مسلمانوں کی رائے سے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ نامزد کر دیا تھا۔اس کے بارے میں ہم نے مختصراًخلیفہ اول کے ذکر میں بتایا تھا۔اب ہم اسے تفصیل سے پیش کریں گے۔لیکن اس سے پہلے ہم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا مختصر تعارف پیش کردیں۔
سلسلہ نسب اور پیدائش
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔حضرت عُمر بن خطاب بن نُفیل بن عبد العزیٰ بن رباح بن قُرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی ہے۔کعب بن لوی پر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے آٹھویں پُشت پر مل گیا ہے۔والدہ محترمہ حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبد اﷲ بن عمر بن مخزوم تھیں۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی پیدائش واقعہ”عام الفیل“کے تیرہ (۳۱)سال بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی۔یعنی آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے لگ بھگ تیرہ(۳۱) سال چھوٹے ہیں۔(تہذیب التہذیب جلد ۷)
کنیت اور لقب
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو حفص“ہے۔اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہاکے والدہیں،اور اسی نسبت سے ”ابو حفص“کنیت ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ کا لقب ”الفاروق “ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے مسلمان چھپ کرنماز ادا کرتے تھے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !کیاہم حق پر نہیں ہیں ؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہم بالکل حق پر ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”بس پھر ہم کھلے عام نماز ادا کریں گے۔“اس کے بعد سے مسلمان کھلے عام نماز ادا کرنے لگے،اس موقع پررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”الفاروق“کا لقب عطا فرمایا۔
ّخاندان
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خاندان ”بنو عدی“کے ہیں۔قریش میں دس بڑے خاندان یا شاخیں تھیں۔بنو ہاشم،بنو اُمیہ،بنو نوفل،بنو عبد الدار،بنو اسد،بنو تیم،بنو مخزوم،بنو عدی،بنو جمح،اور بنوسمح۔قریش کے اِن دس بڑے خاندانوں نے اپنی اپنی ذمہ دار ی سنبھال رکھی تھی۔بنو عدی قریش کے سفیر تھے،اور وہ دوسرے ممالک اور علاقوں سے تعلقات سفارت کی ذمہ داری اِن کے ذمہ تھی۔اور مناضرہ کے ”حکم“یعنی قاضی بنو عدی کے ہی مقرر ہوتے تھے۔عرب میں یہ دستور تھا کے برابر کے دو رئیسوںمیں سے کسی کو افضلیت کا دعویٰ ہوتا تو بنو عدی سے ایک شخص کو ثالث مقرر کیا جاتا تھا۔وہ دونوں کے دلائل سن کر جس کے حق میں بھی فیصلہ دیتا تھا،اُسے تمام قریش قبول کرتے تھے۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے چچا ذاد بھائی حضرت زید بن عمرو بن نُفیل ہیں۔
بچپن اور جوانی
حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بچپن میں بکریاں چراتے تھے،اور گھوڑسواری ،تلوار بازی ،اور کشتی وغیرہ میں مہارت حاصل کی۔جوان ہوئے تو تجارت کرنے لگے،کیونکہ قریش کا اصل ذریعہ معاش تجارت تھا۔جوانی میں آپ رضی اﷲ عنہ بہت ہی گرم مزاج تھے،اور بہت بہادر تھے۔اسی وجہ سے تمام قریش پر آپ رضی اﷲ عنہ کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔عام نوجوانان قریش میں پڑھنا لکھنا سیکھ کر علم الانساب اور شاعری سے متصف ہوئے۔جسمانی ورزش ،پہلوانی اور شہ سواری میں اتنے ماہر ہو گئے تھے۔اور عُکاظ کے میلوں میں اپنی شہ زوری اور شہ سواری کے کرشمے دِکھا کر شہرت حاصل کی۔آپ رضی اﷲ عنہ کا رنگ سفید تھا،جس پر سُرخی غالب تھی۔جس کی وجہ سے نگاہیں آپ رضی اﷲ عنہ پر مرکوز ہو جاتی تھیں۔اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کو کمال معنوی اور جمال ظاہری دونوں عطا فرمائی تھیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا
حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے اُس زمانے میں اسلام قبول کیا جب مکہ مکرمہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر قریش ظلم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔اور اسلام انتہائی مظلومیت کی حالت میں تھا،یہاں تک کہ مسلمان چھپ کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے اسلام کو بہت زبردست قوت حاصل ہوئی۔اُس وقت مکہ مکرمہ میں دو عُمر بہت طاقتور تھے،ایک عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،اور دوسرا عُمر بن ہشام(ابو جہل ) تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کے اسلام قبول کرنے کی دعا کی تھی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا میں فرمایا:”اے اﷲ تعالیٰ!عُمر بن خطاب (رضی اﷲ عنہ)یا عُمر بن ہشام (ابوجہل) میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے،اُسے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما،اور اسلام کو قوت عطا فرما۔“(جامع ترمذی)اور ایک روایت میں تو یہ ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے لئے خصوصی دعا فرمائی تھی۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں اتنی قوت نہیں تھی کہ ہم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ سکیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا،تو انہوں نے بڑھ کر خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھی ،اور ہم نے بھی اُن کے ساتھ نماز ادا کی۔(سیرت النبی ابن ہشام)
قبول ِ اسلام کے لئے دِل نرم
رسول اﷲکی دعا کو اﷲ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حق میں قبول فرمایا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ایسے کئی واقعات پیش آئے ،جن کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کا دِل اسلام کے لئے نرم ہوگیا۔خود حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس بارے میں فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ میں خانہ کعبہ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں۔میرے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ دیکھوںتو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کیا پڑھ رہے ہیں؟میں اُن کے قریب خانہ کعبہ کے پردے کی آڑ میں چھپ کر سننے لگا۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے،یہ اِتنا فصیح و بلیغ کلام تھا کہ میں حیرت ذدہ رہ گیا۔میں نے سوچا کہ اﷲ کی قسم!یہ تو شاعر ہیں،جیسا کہ قریش اِن کے بارے میں کہتے ہیں۔اُسی وقت آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:ترجمہ۔”یہ ایک بزرگ رسول کا قول (کہا ہوا)ہے،یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔“(سورہ الحاقہ آیت نمبر 14)یہ سننے کے بعد میں نے سوچا کہ شاید یہ کاہن ہیں۔لیکن اتنے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:ترجمہ۔”یہ کسی کاہن کا قول نہیں ہے،تم لوگ کم ہی نصیت قبول کرتے ہو۔یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔“(سورہ الحاقہ آیت نمر 34)
دِل میں کشمکش
اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا قبول کر کے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بھلائی کا ارادہ فرما لیا تھا،آپ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیںکہ اتنا سننا تھا کہ میرے دل میں احساس پیدا ہوا کہ اسلام ہی حق ہے،اور یہ احساس لگاتار بڑھتا جا رہا تھا۔میں وہاں سے چلا آیا،لیکن دل و دماغ میں وہ دل نشین اور خوب صورت کلام گونج رہا تھا۔(سیرت النبی ابن ہشام)اب اسلام دھیرے دھیرے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دل میں جڑ پکڑنے لگا۔لیکن چونکہ آپ رضی اﷲ عنہ بہت ہی غصہ ور اور ضدی طبیعت کے مالک تھے اِس لئے اِس احساس کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دے رہے تھے۔لیکن لاشعور میں اسلام کی حقانیت کا احساس بیٹھ چکا تھا،اور اِسی کی وجہ سے اکثر غور و فکر میں مبتلا رہنے لگے۔اسی دورا ن دوسرا واقعہ پیش آیا۔
حق کی طرف رہنمائی
حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ پہلے واقعہ کے بعد اکثر غور و فکر کرنے لگے تھے،کہ دوسرا واقعہ پیش آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ایک دِن میں (قربان گاہ کے پاس)اِسی غورو فکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص بچھڑا لیکر آیا،اور اُسے ذبح کیا۔اُس بچھڑے نے زور کی چیخ ماری،اور اُس کے اندر سے آواز آئی ۔”اے ذریح!(عرب میں بہادر اور دلیر شخص کو ذریح کہا جاتا تھا)معاملہ کامیابی کا ہے،ایک آدمی صاف صاف زبان سے کہہ رہا ہے۔لا الہ الا اﷲ۔“میں حیرت سے کھڑا ہو گیا ،اور اُس کٹے ہوئے بچھڑے کو دیکھنے لگا۔اُس میں سے پھر آواز آئی۔”وہی شخص آخری نبی ہے۔“(صحیح بخاری)یہ کوئی فرشتہ یا نیک جن تھا،جو بچھڑے کے اندر سے آپ رضی اﷲ عنہ سے مخاطب تھا۔اِس واقعہ نے آپ رضی اﷲ عنہ پر بہت گہرا اثر ڈالا۔لیکن چونکہ ضدی طبیعت کے مالک تھے،اِس لئے اپنی ضد پر اڑے رہے۔اِس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا ،جس نے آپ رضی اﷲ عنہ کی ضد کو توڑ دیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی کا رُخ ہی بدل گیا۔
بہن اور بہنوئی کی خبر لو
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کشمکش میں مبتلا خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔اور اُن سے کچھ دور قریش کے سردار بیٹھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے۔ابوجہل نے کہا کہ اگر کوئی محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کو (نعوذ باﷲ)قتل کر دے گا ،تو میں اُس کی اوراُس کے خاندان کی کفالت کروں گا،اور انہیں کسی بھی نقصان سے بچاؤں گا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ میں یہ کام کروں گا۔آپ رضی اﷲ عنہ چونکہ قریش میں سب سے بہادر اور دلیر تھے،اِس لئے قریش کے تمام سرداروں نے کہا کہ اے عُمر بن خطاب !بے شک تم یہ کام کر سکتے ہو۔اور سب نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اتنا اُکسایا کہ آپ رضی اﷲنے تلوار نکال لی،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل پڑے۔تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ صفا پہاڑی کے دامن میں حضرت ارقم رضی اﷲ عنہ کے مکان”دارِ ارقم“میں ہیں۔آپ رضی ا ﷲعنہ تلوار لیکردارِارقم کی طرف جانے لگے،راستے میں حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ ملے۔(یہ اسلام قبول کر چکے تھے،لیکن اپنے اسلام کو ظاہر نہیں فرمایا تھا)اُنہوں نے پوچھا:”اے عُمر بن خطاب!بہت غصہ میں دکھائی دے رہے ہو؟اور یہ تلوار سونت کر کہاں جا رہے ہو؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں اُس شخص (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے پاس جا رہا ہوں،جس نے قریش کے گھر گھر میں جھگڑا لگا دیا ہے۔اور ہمارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اﷲ کی طرف بلا رہا ہے،میں اُسے قتل کر دوں گا،تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو جائے گا۔“حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے عُمر بن خطاب !تُم غلط راستے پر چل رہے ہو،اور اﷲ کی قسم!تم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہو۔کیا تُم بنو عدی(حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کے خاندان یا قبیلے کا نام)کو برباد کرنا چاہتے ہو؟تمہارا کیا خیال ہے؟اگر تم محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم )کو قتل کر دو گے تو کیا بنو عبد مناف (بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب)تم کو زندہ چھوڑ دیں گے؟“ یہ سن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میرا اندازہ ہے کہ تُو صابی(بے دین ) ہو گیا ہے۔(جو شخص اسلام قبول کرتا تھا،تو قریش اُسے صابی کہتے تھے)اگر ایسا ہے تو میں پہلے تیرا ہی قتل کرتا ہوں۔“جب حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ اُن کی جان پر بن آئی ہے تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تم سے کہتا ہوں کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) سے پہلے اپنے گھر والوں کی خبر لو، کیونکہ کئی لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے پوچھا:”وہ کون کون ہیں؟“انہوں نے جواب دیا‘”تمھاری بہن اور بہنوئی اور چچا ذاد بھائی بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔“
کچھ بھی کر لو ،ہم اسلا م نہیں چھوڑیں گے
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب اپنی بہن اور بہنوئی کے بارے میں سنا توغصہ کے عالم میں اپنے بہنوئی کے گھر کی طرف چل پڑے۔ادھر حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے دارِارقم جاکر تمام واقعہ بتا دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ غصہ کی حالت میں اپنے بہنوئی کے گھر پہنچے تو انہیں قرآن پاک کی تلاوت کی آواز سنائی دی۔سورہ طٰہٰ کی آیات آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں،اور وہ لیکر حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ آئے تھے ،اور اندر دونوں کو پڑھا رہے تھے۔تلاوت کی آواز سن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا غصہ قابو کے باہر ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔اند ر سے پوچھا گیا ،کون ہے؟آپ رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا:”عُمر بن خطاب۔“یہ سن کر حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ فوراً چھپ گئے،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ نے دروازہ کھولا۔آپ رضی اﷲ عنہ اندر آتے ہی اپنے بہنوئی کو مارنے لگے،اور فرمانے لگے:”تُو صابی ہو گیا ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ بہت طاقتور تھے،اور غصے کے عالم میں مارتے ہی جارہے تھے۔ بہن نے جب دیکھا کہ وہ اُن کے شوہر کو مارتے ہی جارہے ہیں ،تو وہ شوہر کو بچانے کے لئے درمیان میں آگئی۔آپ رضی اﷲ عنہ سخت غصے میں تھے،اِس لئے توجہ نہیں کی،اور بہن کے درمیان میں آتے ہی ایک ہاتھ اُسے بھی لگ گیا۔وہ گِر پڑی ،اور اُس کے منہ سے خون نکلنے لگا۔وہ بھی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بہن تھیں،اور جوش اور غصہ انہیں بھی وراثت میں ملا تھا۔بہن کو بھی غصہ آ گیا،وہ کھڑی ہوئیں اور کہا:”اے اﷲ کے دشمن ! کیا تُو ہمیں اِس لئے مار رہا ہے کہ ہم اﷲ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں؟تو سُن !میں گواہی دیتی ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔اب تُجھے جو بھی کرنا ہے کر لے،ہم اسلام نہیں چھوڑنے والے ہیں۔“
یہ اﷲ کا کلام ہے
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اپنے بہنوئی کو مار رہے تھے،اور بہن کی طرف توجہ نہیں کی تھی۔لیکن جب بہن کی غصہ بھری آواز سنی تو اُس کی طرف دیکھاکہ اُن کی بہن کے منہ سے خون نکل رہا ہے ۔یہ دیکھ کر آپ رضی ا ﷲ عنہ کو جھٹکا لگا،اور اس پر بہن کا پُر عزم لہجہ اور الفاظ نے اُن کے دل پر اثر کر دیا۔اور تمام غصہ اور ضد ختم ہو گئی ،انہیں احساس ہوا کہ اسلام قبول کرنے بعد اسلام کی حقانیت سے دِل اتنا منور ہو جاتا ہے کہ انسان بڑی سے بڑی مصیبت کا مردانہ وار مقابلہ کر لیتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نرم پڑ گئے،اور بہن سے فرمایا:”اچھا یہ تو بتاو¿!تم لو گ کیا پڑھ رہے تھے؟“بہن نے کہا:”میں نہیں بتاو¿ں گی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میری بہن تمہارے رویہ اور الفاظ سے میرا دل بہت متاثر ہو گیا ہے،میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کون سی نعمت ہے؟جسے ملنے پر میری پیاری بہن مجھ پر ناراض ہو گئی ہے؟“بہن نے کہا:”تم ناپاک ہو ،اِس لئے اِسے نہیں چھو سکتے ہو، جاؤ غسل کر کے آؤ،اور وضو کر لو۔“
آپ رضی اﷲ عنہ نے غسل اور وضو کیا،تو بہن نے صحیفہ دیا۔اِس میں سورہ طٰہٰ اور کچھ دوسری سورہ تھیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس میں ”بسم اﷲ الرحمن الرحیم “دیکھا،اور جب ”الرحمن الرحیم“پر پہنچے تو کانپ اُٹھے۔پھر خود کو سنبھالا،اور آگے پڑھنے لگے۔ترجمہ۔”طٰہٰ۔ہم نے یہ قرآن پاک آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم )پر اِس لئے نہیں اُتارا کہ آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) مشقت میں پڑ جائیں۔بلکہ اُس کے لئے نصیحت ہے جو اﷲ سے ڈرتا ہو۔اِس کا اُتارا جانا اُس کی طرف سے ہے،جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔جو رحمن ہے،عرش پر قائم ہے،جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور اِن دونوں کے درمیان اور ہر ایک چیز پر ہے۔اگر تُو اونچی بات کہے ،تو وہ ہر ایک پوشیدہ بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے۔وہی اﷲ ہے،جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،بہترین نام اُسی کے ہیں۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر ۱ سے ۸ تک)اِن آیات نے آپ رضی اﷲ عنہ کے دل پر بہت اثر کیا،اِتنا پڑھنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کیا قریش اِسی سے بھاگتے ہیں؟“کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ آگے پڑھنے لگے،اور جب اِن آیات پر پہنچے۔ترجمہ”بے شک میں ہی اﷲ ہوں،میرے سِوا عبادت کے لائق کوئی نہیں ہے۔پس تُو میری ہی عبادت کر ،اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔قیامت یقینا آنے والی ہے،جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہت ہوں۔تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے،جس کے لئے اُس نے کوشش کی ہے۔پس اِس یقین سے تجھے کوئی شخص روک نہ دے ،جو اس پر ایمان نہیں رکھتا ہو،اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو،پس وہ ہلاک ہو جائے۔“(سورہ طٰہٰ آیت ۴۱ سے ۶۱ تک)آپ رضی اﷲ عنہ نے جیسے ہی اِن آیات کی تلاوت کی،تو بے ساختہ پکار اُٹھے کہ یہ اﷲ کا کلام ہے۔
اے عُمر !تمھیں مبارک ہو
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پر سورہ طٰہٰ کی ابتدائی آیات کا ایسا اثر پڑا کہ آپ رضی اﷲ عنہ بے ساختہ پکار اُٹھے کہ یہ اﷲ کا کلام ہے،اور بے شک محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) سچے ہیں۔اِتنا سنناتھا کہ حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ جو چھپے ہوئے تھے،نکل کر باہر آئے ،اور فرمایا:”اے عُمر بن خطاب !تمہیں مبارک ہو،اور خوش ہو جاو¿،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دُعا کی تھی کہ ”اے اﷲ !دو عُمر(حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ،اور عُمر بن ہشام یعنی ابوجہل)میں سے ایک عُمر جو تیرے نزدیک بہتر ہو،اُس کے ذریعے اِسلام کو قوت عطا فرما۔“اور مجھے اُمید ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ دعا تمہارے حق میں اﷲ تعالیٰ نے قبول فرما لی ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”مجھے محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے پاس لے چلو۔“حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ خوشی خوشی انہیں لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے۔
اسلام قبول کرنے آیا ہوں
حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ خوشی خوشی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آرہے تھے۔اِدھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ”دارِ ارقم “میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کے ساتھ موجود تھے،اور انہیں یہ خبر مل چکی تھی کہ حضرت عُمر فاروق رضی عنہ (نعوذ باﷲ)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے نکل چکے ہیں۔حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ ”دارِارقم“پر پہنچے ،اور دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے پوچھا گیا :”کون ہے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں عُمر بن خطاب ہوں۔“حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ اُس وقت تک اسلام قبول کر چکے تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ قریش کے بہت بہادر اور دلیر شخص تھے۔انہوں نے فرمایا:”اگر عُمر بن خطاب کسی غلط ارادے سے آیا ہے،تو آج یہ ضرور میرے ہاتھوں سے قتل ہو گا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”دروازہ کھول دو،اگر اﷲ تعالیٰ نے اِس کے لئے بھلائی چاہی ہے،تو یہ اسلام قبول کر لے گا۔اور اِس کے علاوہ اِس کا کوئی اور اِرادہ ہے تو اِس کو قتل کرنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا۔“حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور درواز کھول کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دونوں بازوو¿ں میں جکڑ لیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آگے بڑھے،اور حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”اِسے چھوڑ دو۔“جب اُنہیں چھوڑا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی چادر پکڑ کر ہلکا جھٹکا دیا اور فرمایا:”اے خطاب کے بیٹے!تم باز نہیں آؤ گے؟ایسا نہ ہو کہ اﷲ تمہیں کسی مصیبت میں مبتلا کر دے۔اب بتاؤ ،کیا ارادہ ہے؟“
قبول ِاسلام
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ سے فرمایا کہ اب بتاو¿کیا ارادہ ہے؟حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دل میں اسلام گھر کر چکا تھا،اور رہی سہی کسر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت آمیز جھڑکی نے پوری کر دی۔انہوں نے عرض کیا:”اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم !اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔“اتنا سننا تھا کہ تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے اتنی زور سے ”اﷲ اکبر“کا نعرہ لگایا کہ ”صفا پہاڑی“اُس نعرے سے گونج اُٹھی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کلمہ پڑھ کررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبار ک پر اسلام قبول کیا۔(مسند احمد،جامع ترمذی) حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کر لیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بے حد خوشی ہوئی۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا اسلام قبول کرنا گویا کہ اسلام کی فتح تھی،آپ رضی اﷲ عنہ کی ہجرت ”نصرت“تھی،اورآپ رضی اﷲ عنہ کی امامت ”رحمت“تھی۔ہم میں یہ ہمت و طاقت نہیں تھی کہ ہم خانہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ سکیں۔لیکن جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مشرکین سے اِس قدر جدال و قتال کیا کہ عاجز آکر انہوں نے ہمارا پیچھا چھوڑ دیا،اور ہم خانہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھنے لگے۔(طبرانی،طبقات ابن سعد)
الفاروق کا لقب
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !کیا ہم زندہ یا مُردہ دونوں حالتوں میں حق پر نہیں ہیں؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”قسم ہے اُس ذات ِپاک کی جس کے قبضہ¿ قدرت میں میری جان ہے !بے شک تم حق پر ہو،چاہے وفات پاو¿ یا زندہ رہو۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم!پھر چُھپنا کیوں؟قسم ہے اُس ذات ِپاک کی جس نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے،ہم ضرور کھلے عام نکلیں گے۔اور اﷲ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔اب تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم ”دارِارقم “سے باہر دو صف بنا کر نکلے۔ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ تھے،اور دوسری صف میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ تھے۔اور دونوں صفوں کے درمیان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم چل رہے تھے۔اِسی طرح یہ لوگ ”خانہ کعبہ“کے صحن میں داخل ہوئے۔جب کافروں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کے ساتھ دیکھا تو بہت ہی حیرت ذدہ اور صدمے میں پڑ گئے۔کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ خانہ کعبہ کے صحن میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکے۔اُس دِن مسلمانوں نے کھلے عام نماز ادا کی،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو ”الفاروق“کا لقب دیا۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے اپنا اسلام (مسلمان ہونا)علی اعلان ظاہر کیا،وہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا،تو اسلام ظاہر ہوا۔ورنہ لوگ اپنا اسلام ظاہر نہیں کرتے تھے،بلکہ چھپاتے تھے۔اب کُھلم کُھلا لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جانے لگی،اور ہم خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھنے ،طواف کرنے ،مشرکین سے بدلہ لینے اور اُن کا جواب دینے کے قابل ہوگئے۔
اعلانیہ ہجرت
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔مدینہ منورہ کے انصارکے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے ایک مرکز عطا فرما دیا۔اور رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی سہولت سے مدینہ منورہ ہجرت کریں۔قریش مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے،اِسی لئے تمام مسلمان چھپ چھپ کر ہجرت کر رہے تھے۔لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اتنے بہادر تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے کھلے عام قریش کو چیلنج کر کے ہجرت کی۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے سوا ہم کسی ایسے ایک شخص کو بھی نہیں بتلا سکتے،جس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو ،سوائے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے۔جس وقت حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہجرت کے ارادے سے نکلے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی تلوار حمائل کی،اور اپنے شانے پر کمان لٹکائی ،اور ہاتھ میں ترکش کے تیر کر لے لیا۔پھر خانہ کعبہ میں تشریف لائے،وہاں قریش کے سرداران بیٹھے ہوئے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے سامنے سات مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کیا،مقام ابراہیم پر دو رکعت پڑھیں۔اور پھر قریش کے سرداروں کی مجلس کے پاس آکر ایک ایک شخص سے فرمایا کہ تمہاری صورتیں بگڑیں،اور تم تباہ ہو جاو¿۔اگر کوئی تم میںسے اپنی ماں کو بے اولاد ،بیٹے کویتیم اور بیوی کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتووہ مکہ مکرمہ کے باہر آکر مجھ سے مقابلہ کرے۔مگر وہاں کسی میں تاب نہیں کہ وہ آپ رضی اﷲ عنہ کا پیچھا کرتا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی بہادری دیکھ کر کئی صحابہ رضی اﷲ عنہم بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہوگئے،اور ایک اچھا خاصا قافلہ تیار ہو گیا۔ایک روایت کے مطابق لگ بھگ تیس افراد نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں