بدھ، 26 جولائی، 2023

غیر مسلموں سے روابط کیسے رکھیں Relationship with Non Muslim


غیر مسلموں سے روابط کیسے رکھیں

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

غیرمسلموں سے تعلقات کی حدود، ترکِ موالات کا حکم، ان آیات میں احکامات، مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے، غیرمسلموں کے ساتھ تشبہ کی ممانعت، غیرمسلموں کے مذہبی شعائر استعمال نہ کریں، غیرمسلموں کے مخصوص رنگ والے لباس پہننا حرام ہے ، غیرمسلموں کے تیوہاروں میں شرکت جائز نہیں، غیرمسلموں کی تقریبات میں شرکت کا حکم ، غیرمسلموں کے ہوٹلوں کا استعمال، خالص غیرمسلموں کی آبادیوں میں رہنے سے اجتناب 

غیرمسلموں سے تعلقات کی حدود

اہل اسلام کا غیرمسلم سے تعلق کسی نوعیت کا اور کسی  حدتک ہو؟ اس میں ہمارے معاشرہ میں بڑی افراط وتفریط پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کا ذہن یہ ہے کہ غیرمسلم سراپا ناپاک ہیں؛ اس لئے ان سے کسی بھی قسم کا میل جول نہ رکھا جائے، جب کہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو غیرمسلموں سے جگری دوستی رکھتے ہیں اور ان سے ” فیملی روابط“ رکھ کر فخر کرتے ہیں، ماڈرن  معاشرہ میں یہ وبا کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی ہے، حالانکہ اسلام کی تعلیم اس بارے میں افراط وتفریط کی دونوں حدوں کے درمیان میں ہے کہ نہ تو غیرمسلموں سے ایسی نفرت ہوکہ ان سے انسانی اور اخلاقی طور پر بھی رابط نہ رہے اور نہ ان سے اتنا گہرا اور مخلصا نہ میل جول ہو کہ وجہ سے دین یا اہل دین پر حرف آجائے۔

اسلام نے غیرمسلموں سے تعلق میں دراصل دوباتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھاہے: اول یہ کہ ان سے رابط وضبط کی وجہ سے ایمان وعمل میں بگاڑ نہ آئے پائے، اسی وجہ سے غیرمسلموں کے مذہبی شعائر ورسومات اور خالص مذہبی تقریبات میں شرکت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

دوسرے یہ کہ یہ تعلق قومی وملی حیثیت سے مسلمانوں کےلئے نقصان دہ نہ ہو، یعنی تعلق اس حدتک نہ بڑھے کہ وہ غیرمسلم آپ کا راز دار بن کر آپ کی خفیہ باتیں دشمن تک نہ پہنچادے، اور بالآخر یہی جاسوسی قومی وملی نقصان کا ذریعہ نہ بن جائے، وغیرہ۔

اگر یہ دو باتیں نہ ہوں تو پھر کسی شخص کے محض غیرمسلم ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ برا سلوک ہرگز نہیں کیا جائے گا، چنانچہ اہل ذمہ کے ساتھ قومی حیثیت سے انصاف اور رواداری کا برتاؤ عین اسلامی تعلیم ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 2

ترکِ موالات کا حکم

اسلام کی نظر میں انفرادی فوائد کے مقابلہ میں قومی وملی مفادات کی اہمیت زیادہ ہے، اس لئے غیرمسلموں سے بےمحابا تعلقات کے جو نقصانات یقینی طور پر پیش آسکتے ہیں ان سے آگاہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں متعدد جگہ بڑی صراحت کے ساتھ مخالف کفار سے دلی دوستی (جس کی قرآنی تعبیر ” موالات “ ہے) کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور اس وضاحت کی ضرورت خاص کر اس لئے پیش آئی کہ ابتدائے اسلام میں بعض مسلمانوں کی پرانے غیرمسلم دوستوں سے گہری دوستیاں قائم تھیں، وہ کفار اگرچہ اپنے اس دوست سے ظاہری طور پر بہت اچھی طرملتے تھے، لیکن اسلام کی ترقی سے وہ اندرہی اندر کڑھتے رہتے تھے، اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ کب موقع ملے اور اہل اسلام کو ملی حیثیت سے نقصان پہنچائیں؛ لہٰذا اندیشہ تھا کہ بڑی محنت اور قربانیوں کے بعد جو دین حق کا رنگ جمنا شروع ہواہے، کہیں ان جھوٹی دوستیوں اور بے احتیاطیوں کی وجہ وہ محنتیں رائیگاں نہ چلی جائیں؛ اس لئے اللہ تعالٰی نے قیامت تک آنے والے اہل ایمان کو اس کے متعلق متنبہ فرما دیا، چند آیات ملاحظہ فرمائیں: 

ترجمہ: مومن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا یارومددگار نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، الا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لیے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرو، اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے بچاتا ہے، اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔[ سورۂ آل عمران ۲۸]

ترجمہ:اے ایمان والو ! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو رازدار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ، بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ (عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتادی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔[ سورۂ آل عمران ۱۱۸ ]

ترجمہ:اے ایمان والو ! یہودیوں اور نصرانیوں کو یارومددگار نہ بناؤ یہ خود ہی ایک دوسرے کے یارومددگار ہیں اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا۔ یقینا اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔[ سورۃ المائدۃ ۵۱] 

ترجمہ:اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایسے لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے اور کافروں کو یارومددگار نہ بناؤ، اور اگر تم واقعی صاحب ایمان ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔[ سورۃ المائدۃ ۵۷]

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 3

ان آیات میں احکامات

درج بالا آیات سے چند امور مستفاد ہوئے:

الف:—— کسی بھی کافر سے ایسی گہری دوستی جو دل وجان اور ایمان پر اثر انداز ہو، جائز نہیں ہے۔

ب:—— البتہ دفع مضرت یا کسی مصلحت سے کفار کے ساتھ ظاہری طور پر حسن معاملہ کر سکتے ہیں، نیز انسانی ناطے سے مدارات ومواسات سب درست ہے جیسا کہ سورۂ ممتحنہ کی آیت نمبر ۸ سے واضح ہے۔

ج:—— اسلامی حکومت میں بالخصوص راز دارانہ عہدوں پر کسی کافر کو مقرر نہ کیا جائے، اور امور مملکت میں ان کو خاص مشیر نہ بنایا جائے۔

د:—— یہود ونصاریٰ سے زیادہ دوستیاں نہ بڑھائی جائیں؛ اس لئے کہ ان کی سرشت میں دین اسلام سے دشمنی پیوست ہے، اور جوان سے دلی دوستی رکھے گا گویا اس کا شمار انہیں میں سے ہوگا۔

ہ:—— جو لوگ دین کا مذاق اڑانے والے ہیں ان کےلئے دل میں نرم گوشہ رکھنا کسی مسلمان کےلئے قطعاً جائز نہیں ہے۔

مذکورہ امور میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام میں دین کی قیمت پر کسی غیرمسلم سے تعلق قائم نہیں رکھا جاسکتا، اور غیروں سے تعلق قائم کرتے ہوئے دینی اور ملی مفاد کو کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

ساری دُنیا پر یہ بات دو اور دو چار کی طرح واضح ہونی چاہئے کہ مسلمان کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت اس کے دین کو حاصل ہے، اس کی پوری معاشرت، معاملات اور روابط سب دین کے اردگرد ہی گھومنے چاہئیں؛ حتی کہ وطن سے تعلق بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ دین میں حائل اور رکاوٹ نہ ہو؛ لہٰذا جہاں وطن اور دین میں ٹکراؤ ہوگا تو دین کو ترجیح ہوگی۔ اسی لئے ناگزیر حالات میں ” ہجرت “ (یعنی دین کے تحفظ کےلئے ترک وطن) کا حکم دیا گیا ہے جو اسلام کا اہم ترین عمل ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 4

مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے               

چونکہ اسلام میں عقیدہ کے تحفظ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس لئے مشرک (بت پرست اور آتش پرست وغیرہ) عورتوں سے نکاح کو قطعاً ممنوع قرار دے دیا گیا، ارشاد خداوندی ہے:

ترجمہ: اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یقینا ایک مومن باندی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ مشرک عورت تمہیں پسند آرہی ہو، اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور یقینا ایک مومن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد تمہیں پسند آرہا ہو۔ یہ سب دوزخ کی طرف بلاتے ہیں جبکہ اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنے احکام لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔[ سورۃ البقرۃ ۲۲۱]

اپنے حکم لوگوں کو؛  تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

اس آیت میں اس ممانعت کی وجہ بھی ساتھ ساتھ بیان کردی گئی کی مشرک عورتوں کے اثر سے ایمان سے محروم ہوجانے کا خطرہ ہے، البتہ اگر مشرکہ عورت بصدق دل اسلام قبول کرلے تو پھر اس کو نکاح میں لایا جاسکتاہے اس میں شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 5

پاک دامن یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح کی گنجائش   

قرآن پاک میں اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے؛ لیکن اس میں ” محصن“ کی شرط لگی ہوئی ہے، اب اس  ” محصن“ کے مصداق کے بارے میں حضرات مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بہت سے حضرات نے اس سے آزاد عورتیں مراد لی ہیں خواہ وہ عفت ماٰب ہوں یا نہ ہوں، جب کہ دیگر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے وہ اہل کتاب عورتیں مراد ہیں جن کی پاک دامنی کا پہلے سے علم ہو، اور عفت کے خلاف کوئی بات ان کی طرف مشہور نہ ہو۔ اس رائے کی تائید اس واقعہ  سے ہوتی ہے کہ صحابی رسول حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے بعض رومی (عیسائی یا یہودی) عورتوں سے شادی کرلی تو امیرالمؤمنین سیدنا حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں نے لکھا کہ وہ اس بیوی کو چھوڑ دیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ کیا ان عورتوں سے نکاح ناجائزہے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: نکاح ناجائز تو نہیں ہے؛ لیکن مجھے یہ خطرہ ہے کہ اگر ان عورتوں سے نکاح کا سلسلہ (بلاروک  ٹوک) جاری ہوجائے تو اندیشہ ہے کہ فاحشہ اور بدکار عورتوں کے ساتھ معاشرت ہونے لگے گی (جومسلم معاشرہ کےلئے خطرناک ہے)[ احکام القران للجصاص، تفسیرطبری وغیرہ]

اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کرتے وقت اپنے اسلامی معاشرہ اور اس کے امیتازات سے صرف نظر کسی طرح رو انہیں ہے؛ الہٰذا اگر یہ اندیشہ ہوکہ اس سے گھر کا ایمانی یا عملی ماحول بگڑجائے گا جیسا کہ آج کل صورت حال ہے تو ایسی عورتوں سے نکاح نہ کرنا ہی بہتر ہے، باقی نفس جواز اپنی جگہ ہے جو بہت سی صورتوں میں دینی اور دعوتی اعتبار سے مفید بھی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ شوہر دین میں پختہ اور بیوی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 6

غیرمسلموں کے ساتھ تشبہ کی ممانعت

اسلام ایک کامل ومکمل اور جامع مذہب ہے، اس کے اپنے شعائر اور تشخصات ہیں، اسے یہ ہرگز گوارا نہیں کہ کوئی بھی مسلمان کسی بھی حالت میں تشخص کو فراموش کرے یا دوسرے مذاہب کے مخصوص شعائر کو استعمال کرے، بریں بنا اسلام میں انسانی بنیادوں پر غیرمسلموں سے رواداری، ہمدردی اور مساوات کی تعلیم کے باوجود ان سے اتنی حدتک دوری بنائے رکھنے کا حکم ہے کہ عقائد، اعمال، معاشرت اور رہن سہن وغیرہ میں ان سے متأثر نہ ہوں، اس لئے کہ تشخص کی حفاظت کے بغیر دینا میں کوئی قوم نہ کبھی محفوظ رہی ہے اور نہ رہ سکتی ہے۔

نبی اکرم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں ایک اصولی ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ [ ابوداؤد ۲/ ۵۵۹ رقم:۴۰۴۱، مسنداحمد رقم: ۵۱۱۴] 

ترجمہ: جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے اس کا شمار اسی قوم میں سے ہوگا۔

یعنی اگر مسلمانوں کے ساتھ تشبہ ہے تو وہ مسلمانوں میں شمار ہے اور غیرمسلموں کے ساتھ مشابہت ہے تو انہی میں شامل ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 7

غیرمسلموں کے مذہبی شعائر استعمال نہ کریں

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ کسی ایسے عمل کو اختیار نہ کرے جو کسی دوسری قوم کا مذہبی شعار ہو، مثلاً:

الف:—— نمستے، یا رام رام:— یہ ہندوؤں کا مذہبی شعار ہے، جسے یہ لوگ ملاقات کے وقت استعمال کرتے ہیں؛ لہٰذا کسی مسلمان کےلئے سلام کی جگہ پر یہ الفاظ کہنا کسی حال میں ہرگز جائز نہیں ہے؛ بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں سے ملاقات کے وقت سلام کا لفظ استعمال کریں، اور غیر مسلموں سے ضرورت کے وقت ” آداب “ جیسے الفاظ استعمال کریں۔

افسوس ہے کہ آج بہت سے مسلمان (بالخصوص سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ) اپنے ہندولیڈروں کے ایسے رعب میں رہتے ہیں کہ ان کے سامنے آتے وقت اپنا مسلمان ہونا بھی ان کے ذہن سے نکل جاتاہے، اور چاپلوسی میں ان کے سامنے ایسے جھکے چلے جاتے ہیں، گویا زندگی کا مقصود بس وہی ہوں، یہ نہایت کم ظرفی اور حماقت کی باتیں ہیں۔ آدمی کو کسی بھی حال میں مذہبی تقاضے کو نظر انداز نہیں چاہئے، ورنہ جس جھوٹی اور معمولی عزت کے حصول کےلئے یہ سب خلاف شرع باتیں کی جاتی ہیں وہ سب رائیگاں چلی جائیں گی اور دُنیا وآخرت کی ذلت ورسوائی الگ ہوگی۔ اللّٰهم احفظنامنه۔

ب:—— سلام کے وقت جھک کر ہاتھ جوڑنا:— اسلام میں سلام اصل میں زبان سے ہی ہوتاہے؛ لیکن ہندؤوں میں سلام کرتے وقت ہاتھوں کو مخصوص انداز میں جوڑ کر اور جھک کر سلام کیا جاتاہے؛ اس لئے کسی مسلمان کےلئے ہندؤوں کی طرح ہاتھ جوڑنا یا جھکنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ بہت سے مسلمان ذہنی مرعوبیت کی وجہ سے اپنے غیرمسلم آقاؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے نظرآتے ہیں، وہ دراصل اپنے ہی ہاتھوں اپنے دین کی توہین کرنے والے ہیں، ان کو اپنے برے انجام سے یقیناً ڈرنا چاہئے۔

ج:—— کلائی میں ڈورے باندھنا یا مخصوص کڑے پہننا:— آج کل مشرکین کی ایک ظاہری علامت یہ ہے کہ وہ اپنی کلائی میں لال رنگ کے کچھ ڈورے باندھے رہتے ہیں، ان میں سے اکثر ان کے مذہبی تیوہار ” راکھی بندھن “ کے وقت باندھتے ہیں، اس کے علاوہ کچھ مندروں میں جاکر بھی یہ ڈورے بندھوائے جاتے ہیں، جب کہ سکھ لوگ ایک خاص قسم کا کڑا علامت کے طور پر پہنتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ جاہل مسلم معاشرہ بالخصوص نوجوانوں میں بعینہٖ اسی طرح ڈورے باندھنے کا رواج پڑگیا ہے، اور مزارات پر بیٹھے ہوئے دین فروشوں نے اس ہندوانہ رسم کو خوب فروغ دیا ہے، اور برابر دے رہے ہیں، ان ڈوروں کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہین لگا سکتاہے کہ یہ کسی مزار کا ڈوراہے یا راکھی بندھن کا ڈوراہے؟ اسی طرح طبقہ میں سکھوں جیسے کڑے پہننے کا بھی رواج ہوتا جارہاہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام ایسی تشبہ والی باتوں کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتا، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہوش کے ناخون لیں اور ٹونے ٹوٹکے والے عقیدوں سے باز آئیں اور مشرکین کے شعائر کو اختیار کر کے اپنے لئے جہنم نہ مول لیں۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 8

غیرمسلموں کے مخصوص رنگ والے لباس پہننا حرام ہے 

اسلام کی ایک امتیازی تعلیم یہ بھی ہے کہ کسی مسلمان کےلئے غیرمسلموں کے مخصوص رنگ والے لباس پہننا جائز نہیں ہے۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ گیروے (زعفرانی) رنگ کا لباس پہن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر ارشاد فرمایا:إِنَّ هٰذِهٖ مِنْ ثِيَْابِ الْكُفَّارِ فَلاَ تَلْبِسْهَا [ مسنداحمد ۲/ ۲۰۷] 

ترجمہ:یہ کافروں کے (خاص) لباسوں میں ہے؛ اس لئے تم اسے مت پہنو۔

اس روایت میں رسول اللہ ﷺ  نے ایک اصول  بتلا دیا کہ ہر وہ لباس جو کسی غیر قوم کا مذہبی شعار ہو وہ کسی مسلمان کےلئے پہننا جائز نہیں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آج اپنے کو مسلمان کہلانے والے بعض لوگ اپنے مزعومہ پیروں اور مزاروں کی عقیدت میں بالکل سادھوؤں کی طرح لباس پہنے پھر تے ہیں، حالانکہ کہ اسلام میں ایسے تشبہ کی بالکل اجازت نہیں ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 9

غیرمسلموں کے تیوہاروں میں شرکت جائز نہیں

آج کل ایک فیشن سیاسی مرعوبیت کی وجہ سے یہ چل پڑاہے کہ غیرمسلموں کے تیوہاروں کے موقع پر مسلمانوں کی جانب سے مبارک باد کے بڑے بڑے اشتہارات اور باتصویر ہورڈنگ لگائے جاتے ہیں، جب کہ اسلامی شریعت میں کسی غیرمسلم کو ان کے مذہبی تیوہار پر خوشی کا اظہار کرنا اور ان کی مذہبی مجالس میں شرکت کرنا جائز نہیں، امیرالمؤمنین سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی ہدایت ہے:اِجْتَنِبُوْا اَعْدَاءَ اللّٰهِ فِی عِيْدِهِمْ [ تحفة الاخوان للشيخ التويجری، الشاملة]

ترجمہ: اللہ کے دشمنوں کے تیوہاروں کے موقع پر ان سے دور ہی رہو۔

بلکہ بعض فقہاء نے تو اس عمل پر کفر کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ فتاویٰ بزاز یہ میں امام ابوحفص کبیرؒ کے حوالہ سے منقول ہے: لَوْأَنَّ رَجُلاً عَبَدَرَبَّهٗ خَمْسِيْنَ سَنَةً ثُمَّ جَاءَ يَوْمَ النَّيْرُوْزِ فَأَهْدیٰ إِلیٰ بِعْضِ الْمُشْرِكِيْنَ هَدْيَةً يُرِيْدُ تَعْظِيْمَ ذٰلِكَ الْيَوْمِ فَقَدْكَفَرَ  [ البزازیۃ 6/ 334] 

ترجمہ: اگر کوئی شخص پچاس سال اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہے پھر مشرکین کے تیوہار نو روز کے دن اس کی تعظیم کے بطور بعض مشرکین کو ہدیہ (مٹھائی وغیرہ) بھیجے تو ایسے شخص پر کفر کا اندیشہ ہے۔

اور مجمع لانہر میں لکھا ہے کہ: ” جو شخص مجوسیوں (آتش پرستوں) کے تیوہار نو روز میں ان کے مذہبی اعمال میں شریک ہو، اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا“۔ [ مجمع الانہر 4/ 513]

اسی طرح کی صراحت شرح فقہ اکبر 86 پر بھی درج ہے، اور کنزالعمال میں ارشاد نبوی منقول ہے:مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ وَمَنْ رَضِيَ عَمَلَ قَوْمٍ كَانَ شَرِيْكاً فِيْ عَمَلِهٖ [ کنزالعمال 9/ 11 رقم: 24730] 

ترجمہ: جوشخص کسی قوم کی تعداد میں اضافہ کرے وہ انہی میں سے ہے، اور جوشخص کسی قوم کے عمل پر راضی ہو وہ گویا ان کے عمل میں شریک ہے۔

مذکورہ بالا ہدایات بالخصوص ان لوگوں کےلئے قابل عبرت ہیں جو ہمارے ملک میں غیر مسلموں کے خوشی کے مواقع (ہولی ـ دیوالی وغیرہ) پر عملاً آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، اور اسے فخر کی چیز سمجھتے ہیں، انہیں ہوش میں آنا چاہئے اور وقتی موہوم مصالح کی وجہ سے اپنے دین وایمان کو ہرگز داؤ پر نہیں لگانا چاہئے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 10

غیرمسلموں کی تقریبات میں شرکت کا حکم 

اگر طہارت اور حلت کا گمان غالب ہو تو فی نفسہٖ غیرمسلم کے یہاں کھانے میں حرج نہیں؛ لیکن آج کل کئی باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے:

الف:—— غیرمسلموں کی تقریبات میں دیگر منکرات ناچ گانے کے علاوہ عموماً شراب کا چلن عام ہوگیاہے، اور جس مجلس اور تقریب میں برملا منکرات ہو رہے ہوں اور شراب پی جارہی ہو، وہاں کسی مسلمان کا موجود رہنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دسترخوان پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے جہاں شراب کا دور چل رہاہو۔

[ ابوداؤد شریف ۲/ ۵۳۰ حدیث: ۳۷۷۴]

ب:—— عموماً غیرمسلموں کے یہاں جھٹکے کا گوشت استعمال ہوتاہے، اور پکانے والے اس کی احتیاط نہیں کرتے کہ ایک دیگچی کاکف گیر دوسری میں نہ ڈالیں، جس کی وجہ سے ایسی تقریبات میں پکی ہوئی سبزیاں وغیرہ بھی پاکی کے اعتبار سے مشتبہ ہوجاتی ہیں؛ اس لئے بہر حال احتیاط اسی میں ہے کہ جب تک طہارت کا گمان غالب یا مشاہدہ نہ ہو، ایسا مشتبہ کھانا نوش نہ کیا جائے۔

ج:—— بعض غیرمسلم برتن دھونے میں پاکی ناپاکی کا قطعاً خیال نہیں کرتے؛ اس لئے شبہ کی جگہوں پر ان کے دھونے پر اعتماد نہ کیا جائے؛ بلکہ موقع ہو تو برتن خود اپنے ہاتھ سے دھوکر صاف کر لیا جائے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 11

غیرمسلموں کے ہوٹلوں کا استعمال

تقریباً یہی معاملہ غیرمسلموں کے ہوٹلوں اور ڈھابوں کا بھی ہے، جن ہوٹلوں میں شرابیں پی جاتی ہوں اور جہاں حلال وحرام کھانے مخلوط پکائے جاتے ہوں، وہاں مسلمانوں کا کھانا تو دور رہا، ان میں داخل ہونا بھی شرم کی بات ہے۔ آج کل ماڈرن معاشرہ میں فائیواسٹار ہوٹلوں کا کلچر رواج پارہاہے، یعنی محض تفریح طبع اور موج مستی کےلئے اپنا گھر یا مسلمانوں کے ہوٹل دستیاب ہونے کے  بجائے فائیواسٹار ہوٹلوں کے ریسٹوران میں ” لنچ“ یا ”ڈنر“ لیا جاتاہے، حالانکہ وہاں وہی سب خرابیاں عملاً موجود ہوتی ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے؛ اس لئے بلاسخت ضرورت یا واقعی مجبوری کے ایسی جگہوں پر جانے یا وہاں اپنی تقریبات منعقد کرنے سے مسلمانوں کو احتراز کرنا لازم ہے۔ 

 خالص غیرمسلموں کی آبادیوں میں رہنے سے اجتناب 

انسان چوں کہ سب سے زیادہ اپنے پاس پڑوس رہنے والوں کے حالات سے متأثر ہوتا ہے؛ اس لئے اسلام کی ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ مسلمان خالص غیرمسلموں کی آبادیوں میں بود وباش اختیار نہ کریں۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے: لاَتُسَاكِنُوْا الْمُشْرِكِيْنَ وَلاَ تُجَامِعُوْهُمْ فَمَنْ سَاكنَهُمْ أَوْ جَامَعَهُمْ فَلَيْسَ مِنَّا [ الحاکم فی المستدرک 2627] 

ترجمہ: شرک کرنے والوں کے ساتھ بود وباش اور یکجائی مت کرو، پس جوشخص ان کے ساتھ رہنا سہنا اور اٹھنا بیٹھنا کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

ایک دوسری حدیث میں ہے 

مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِكَ وَسَكَنَ مَعَهٗ فَإِنَّهٗ مِثْلُهٗ [ ابوداؤد 2/ 385 رقم: 2787]

ترجمہ: جس شخص نے مشرک کے ساتھ میل جول اور رہائش اختیار کی وہ گویا اسی جیسا ہے۔

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 

أَنَابَرِيْءٌ مِّنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيْمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِيْنَ  [ ابوداؤد 2/ 355، حدیث: 2645] 

ترجمہ: میں ہر ایسے مسلمان سے بےزار ہوں جو مشرکین کے درمیان قیام پذیر ہو۔

اور ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو مشورہ دیا: لاَ تَسْتَضِيْئُوْا الْمُشْرِكِيْنَ [مسنداحمد 3/ 99] 

ترجمہ: مشرکین کی آگ سے اپنی آگ مت جلاؤ۔

یعنی مشرکین کے مکانات کے قریب اپنے گھر مت بناؤ کہ وقت وقت پر ان سے ضرورتیں وابستہ رہیں؛ بلکہ ان سے الگ ہٹ کر رہا کرو۔

یہ ہدایات ان لوگوں کی آنکھ کھولنے کےلئے کافی ہیں جو غیرمسلموں کی کالونیوں میں رہنا اپنے لئے فخر کی چیز سمجھتے ہیں، انہیں مسلم آبادیوں میں رہتے ہوئے کڑھن ہوتی ہے، کبھی صفائی ستھرائی نہ ہونے کا بہانہ بناکر اور کبھی بھیڑ بھاڑ کا عذر پیش کر کے وہ مسلمانوں کے علاقہ سے نکل کر غیروں کے ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں، ایسے حضرات  سے گذارش ہے کہ وہ پیغمبر علیہ السلام کی مذکورہ بالا ہدایات بار بار پڑھیں، اور پھر فیصلہ کریں کہ ان کے حق میں وہ بہتر ہے جو انہوں نے اپنی عقل سے سمجھا ہے یا وہ بہتر ہے جس کی تعلیم محسن انسانیت فخر دو عالم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دی ہے؟ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں بہر حال پیغمبر علیہ السلام کی ہدایات کو مقدم رکھنا چاہئے۔

اس ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان گھرانہ چوبیس گھنٹہ غیروں کے ساتھ رہے گا اور ان کی عورتوں اور بچوں کی آمدورفت گھروں میں ہوگی تو رفتہ رفتہ ان کفر یہ جراثیم محسوس اور غیر محسوس طریقہ پر مسلم گھرانوں میں داخل ہوتے چلے جائیں گے، اور نہ صرف ظاہری لباس، تراش خراش، معاشرت؛ بلکہ عقائد پر بھی نہایت منفی اثرات پڑیں گے، اور یہ کوئی محض خیال نہیں؛ بلکہ عینی مشاہدہ ہے، آپ کسی بھی ایسی کالونی کے مسلمان مکینوں کے گھروں کا جائزہ لےکر دیکھ لیجئے، تو ایسے حقائق سامنے آئیں گے جو بیان کے قابل نہیں، حتی کہ آج اتنی دعوتی محنتیں ہونے کے باوجود مشرکین کے دبد بہ والے گاؤں دیہاتوں میں رہنے والے مسلمانوں کے بعض گھروں میں مورتیاں تک رکھی دکھائی دیتی ہیں اور گھر والے مسلمانوں جیسے نام رکھنے کے باوجود پڑوسی ہندؤوں سے متأثر ہوکر یا ان کے دباؤ میں آکر مورتیوں کا اکرام کرتے ہیں، العیاذ باللہ۔ ان حالات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عاقبت اندیشی پر مبنی درج بالا ہدایات نہایت قابل توجہ ہیں۔

علاوہ ازیں ملکی حالات کے اعتبار سے بھی عافیت اسی میں ہے کہ مسلمان اپنی آبادیوں میں مجتمع رہیں اور غیروں کی کالونیوں میں متفرق طور پر رہائش اختیار نہ کریں؛ کیونکہ جب فرقہ وارانہ حالات بگڑتے ہیں تو سب سے پہلے زیادتیوں کا نشانہ وہی لوگ بنتے ہیں جو متفرق طور پر غیروں کی کالونیوں میں مقیم ہوتے ہیں، جب کہ ٹھوس مسلم آبادیوں میں رہنے والوں کو پھر ایک گونہ تحفظ حاصل ہوتاہے۔

تاہم جن مسلمانوں کو کسی مجبوری کی وجہ سے ایسے ماحول میں رہنا پڑے (مثلاً سرکاری ملازموں کو حکومت کی بنائی ہوئی کالونیوں میں رہنا پڑتاہے) تو انہیں خصوصی طور پر اپنے گھرانہ کو دین پر ثابت قدم رہنے اور عقیدے اور اعمال میں پختگی قائم رکھنے پر توجہ دینی چاہئے، اور پاس پڑوس کے اثرات قبول کرنے کے بجائے اپنے اخلاق وکردار اور حکمت عملی کے ساتھ ان کے سامنے دین اسلام کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی فکر کرنی چاہئے؛ تاکہ وہاں کا قیام دعوتی اعتبار سے مفید بن جائے، اس سلسلہ میں خاص طور پر گھر کی خواتین کو تربیت دینے اور انہیں ہمیشہ بیدار رکھنے کی ضرورت ہے

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 12

خلاصۂ کلام

خلاصہ یہ ہے کہ غیرمسلموں سے مدارات ومواساۃ اور دعوتی وانسانی بنیادوں پر خیر خواہی تو مطلوب ہے؛ لیکن ان سے ایسے روابط قائم کرنا یا ان سے مرعوب ہو کر رہنا یا رسم ورواج اور معاشرت میں ان کی تہذیب اور طور طریقوں کو اپنانا ہرگز درست نہیں ہے۔ آج ہر فکر مند شخص کو سوچنا چاہئے کہ ہمارے معاشرہ میں غیرمسلموں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے جو غلط باتیں درآئی ہیں، اُن کا خاتمہ کیسے ہو؟ اس بارے میں سنجیدہ کوششیں کرنی ضروری ہیں۔ یوم پیدائش (سال گرہ) یوم عاشقاں (ویلن ٹائن ڈے) بسنت (پتنگ اڑانے کا تیوہار) اور کسی کے مرنے پر سوگ کرنا اور تیجہ، دسواں، چہلم منانا، خوشی اور غمی کے موقع پر ٹونے ٹوٹکے والی رسومات یہ سب غیروں کی باتیں ہیں، جو آج مسلم گھرانوں میں داخل ہوگئی ہیں، ان کے خلاف ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ ہمارا دین اسلام ایسی سطح اور کچی باتوں کو ہرگز قبول نہیں کر سکتا، ہمارے لئے نمونہ اور قابل تقلید صرف اور صرف قرآنی تعلیمات اور نبوی ہدایات اور سلف صالحین کے آثار ہیں، ان کے علاوہ کی طرف ہمیں نظر اٹھانے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ان میں ہمارے لئے نجات ہے۔

اللہ تعالٰی پوری امت کو صلاح وفلاح سے نوازیں، دین پر استقامت عطا فرمائیں اور غیروں کی مشابہت سے ہر سطح پر محفوظ رکھیں، آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِين۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں