خلیفۂ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق
تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی
خلیفۂ اول
تمام مسلمانوں نے اتفاق ِ رائے سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ اول منتخب کر لیا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ سید الانبیاءصلی ﷲ علیہ وسلم کی اُمت میں آپ رضی ﷲ عنہ سب سے افضل ہیں اور آپ رضی ﷲ عنہ کی موجودگی میں کسی اور کو خلیفہ بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آپ رضی ﷲ عنہ کا پورا دور خلافت اس بات کا گواہ ہے کہ آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا ہے۔اﷲ تعالیٰ ”خلیفہ اول“حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کو ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔آمین۔آپ رضی ﷲ عنہ کے دور خلافت کے حالات بیان کرنے سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں آپ رضی ﷲ عنہ کا نام ،لقب ،سلسلہ نسب اور حالات زندگی مختصراً پیش کررہے ہیں۔اس کے بعد انشاءﷲ دور خلافت کے حالات پیش کریں گے۔ﷲ کی مدد سے۔
حضرت ابوبکر رضی عنہ کا خاندان
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ قبیلہ قریش کی شاخ یا خاندان”بنو تیم“میں سے ہیں۔سید الانبیاءصلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتویں دادا ”حضرت مُرّہ بن کعب“کے تین بیٹے تھے۔ایک کانام”کلاب بن مُرّہ“ہے،ان کی نسل میں سید الانبیاءصلی ﷲ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔دوسرے کا نام”تیم بن مُرّہ“ہے،ان کی نسل میں حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ پیدا ہوئے۔تیسرے بیٹے کا نام”یقنطہ بن مُرّہ“ہے،ان کی نسل میں حضرت خالد بن ولید رضی ﷲ عنہ پیدا ہوئے۔قبیلہ بنو تیم ،یا خاندان بنو تیم،قریش کے معزز خاندانوں میں سے ایک ہے۔قریش نے مختلف قبیلوں یا خاندانوں میں مختلف عہدے بانٹ رکھے تھے۔مقدموں کے فیصلے کا محکمہ ”بنو تیم “کے پاس تھا۔اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ قریش کے ”جج“تھے۔
نام اور سلسلہ نسب
حضرت ابو بکر رضی ﷲ عنہ کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے ”عبد الکعبہ“تھا۔جب آپ رضی ﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تو سید الانبیاءصلی ﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی ﷲ عنہ کا نام ”عبدﷲ “ رکھ دیا۔آپ رضی ﷲ عنہ کے ایک بیٹے کا نام ”بکر“ہے ،اسی لئے آپ رضی ﷲ عنہ کی کنیت ”ابو بکر“ہے۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے۔حضرت ابوبکر(نام عبد اﷲ)صدیق رضی اﷲ عنہ بن ابو قحافہ(نام عثمان)بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مُرہ۔یہاں آکر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم سلسلہ نسب سے مل گیا ہے۔
لقب عتیق
حضرت ابو بکر رضی ﷲ عنہ کا ایک لقب”عتیق “ہے اور یہ لقب زیادہ مشہور نہیں ہے۔کچھ علمائے کرام اسے نام بھی کہتے ہیں۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں۔”میں ایک دن گھرکے دالان میں بیٹھی ہوئی تھی اور دالان میں پردہ پڑا ہوا تھا۔صحن میں رسول اﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے۔اتنے میں والد ِ محترم تشریف لائے اُنہیں آتا دیکھ کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:جو کوئی ”عتیق من النار“(دوزخ سے آزاد)شخص کو دیکھنا چاہتا ہو وہ ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کو دیکھ لے۔تب سے آپ رضی ﷲ عنہ کا نام یا لقب ”عتیق“مشہور ہوگیا۔“(مسند ابو یعلیٰ،المستدرک امام حاکم،)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ روایت کرتی ہیں۔”ایک روز میرے والد محترم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ!ﷲ تعالیٰ نے تم کو”عتیق من النار“(آگ سے بری) فرما دیا ہے۔“اُسی دن سے آپ رضی ﷲ عنہ ”عتیق “کے لقب یا نام سے مشہور ہو گئے۔(جامع ترمذی،المستدرک)
ّلقب صدیق
حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کا ایک اور لقب”صدیق“ہے۔اس لقب کے بارے میں کئی روایات ہیں لیکن اس بات پر اکثرعلمائے کرام کا اتفاق ہے کہ ”سفرِ معراج “کی تصدیق کی وجہ سے آپ رضی ﷲ عنہ ”صدیق “کے لقب سے زیادہ مشہور ہوئے۔جب آپ رضی ﷲ عنہ کو ”سفر معراج“کے بارے میں معلوم ہوا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ مشرکین آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہنس رہے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ آکر بیٹھے تو قریش کے مشرکین نے کہا ۔اِن کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک رات میں ”بیت المقدس “جا کر واپس آئے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے عرض کیا:”یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم!میں نے اور یہاں پر موجود کئی لوگوں نے ”بیت المقدس“دیکھا ہے۔آپ صلی ﷲ علیہ وسلم اُس کے بارے میں بتائیں۔“ﷲ تعالیٰ نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے ”بیت المقدس “کردیا۔ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم اُسکی نشانیاں بتانے لگے اور ہر نشانی پر حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ عرض کرتے ”صَدَّقتَ “یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم“ ۔اِس طرح آپ رضی ﷲ عنہ کی تصدیق سے قریش لاجواب ہو گئے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ”صدیق“کا لقب عطا فرمایا۔امام محمد بن اسحاق اور حضرت قتادہ رحمتہ اﷲ علیہم کا بیان ہے کہ ”شب معراج “کی صبح سے ہی آپ رضی ﷲ عنہ ”صدیق “کے لقب سے مشہور ہو گئے۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کے مشرکین نے میرے والد ِ محترم کے پاس آکر کہاکہ آپ کو کچھ خبر ہے کہ آپ کے دوست یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ رات کو ”بیت المقدس“پہنچائے گئے تھے۔آپ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا:”کیا واقعی وہ ایسا ہی فرماتے ہیں؟“انہوں نے کہا:”ہاں وہ یہی کہتے ہیں“۔یہ سن کر آپ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا:”تب تو بے شک وہ سچ فرما رہے ہیں۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تو ہمیں صبح شام آسمانوں کی خبریں دیتے ہیں اور میں اُ ن کی تصدیق کرتا ہوں۔“اسی بنا پر آپ رضی ﷲ عنہ کو ”صدیق “کہا جاتا ہے۔(المستدرک،امام حاکم)اسی حدیث کو امام طبرانی نے اپنی ”المعجم “میں حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہم کی روایت سے بیان کیا ہے۔
قبول اسلام سے پہلے
حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کی اسلام قبول کرنے سے پہلے کی زندگی انتہائی صاف ستھری ہے۔آپ رضی ﷲ عنہ نے کبھی جھوٹ نہیں کہا،اور ہمیشہ سچ ہی فرمایا۔شراب کو کبھی ہات نہیں لگایااور نہ ہی کبھی زمانۂ جاہلیت میں عربوں کی طرح شعرو شاعری کی۔ہر ایک کی مدد فرماتے تھے۔ کمزوروں کی مدد کرنا اور ظالموں سے مقابلہ کرنا آپ رضی ﷲ عنہ کا شیوہ تھا۔نہ زبان سے کوئی بُری بات نکالی اور نہ کسی کو کبھی لعنت و ملامت کی۔ہمیشہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کی،خاص طور سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے قریب بچپن میں بھی رہے،جوانی میں بھی رہے اور آخری وقت تک ساتھ رہے۔تجارتی قافلوں کے ساتھ ملک شام،ملک حبشہ اور دوسرے ممالک کا سفر بھی کیا۔قریش آپ رضی ﷲ عنہ کی بہت عزت کرتے تھے ۔ آپ رضی ﷲ عنہ اُن کے جج تھے اور اُن کے مقدمات کے فیصلے کرتے تھے۔عام طور سے قریش کا پیشہ تجارت تھا اسی لئے آپ رضی ﷲ عنہ نے بھی یہی پیشہ اپنایا۔دیانت داری اور سلیم الطبع فطرت کی وجہ سے آپ رضی ﷲ عنہ بہت جلد مکہ مکرمہ کے ممتاز تاجر بن گئے اور بہت بڑے پیمانے پر کپڑوں کی تجارت کرنے لگے۔ اس سلسلہ میں کئی مرتبہ ملک شام اور ملک یمن کے سفر بھی کئے۔مکہ مکرمہ کے مشرکانہ ماحول میں پرورش پانے کے بعد بھی آپ رضی اﷲ عنہ شرک سے بہت دور رہے۔ کبھی بت پوجا نہیں کی اور مشرکانہ رسوم و رواج میں بھی کبھی حصہ نہیں لیا۔آپ رضی ﷲ عنہ کا مکان بنو جمح کے محلہ میں تھاجہاں قریش کے ممتا ز تاجر سکونت پذیر تھے۔وہیں اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی ﷲ عنہا کا بھی مکان تھا۔نکاح کے بعد آپ صلی ﷲ علیہ وسلم یہیں منتقل ہو گئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے پہلے سے ہی مراسم تھے۔یہاں منتقل ہونے کے بعد اور قریبی تعلقات ہوگئے۔
قبول اسلام
حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔بعض علمائے کرام حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا نام ذکر کرتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے پہلے اسلام قبول کیالیکن اُس وقت آپ رضی ﷲ عنہ مرد نہیں بلکہ بچے تھے اور آپ رضی ﷲ عنہ کی عُمر دس یا گیارہ سال تھی جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کی عُمر چالیس سال کے آس پاس تھی۔امام ابو حنیفہ رحمتہ ﷲ علیہ کے مطابق خواتین میں سب سے پہلے اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی ﷲ عنہا نے اسلام قبول کیا۔مَردوں میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر رضی ﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا۔غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی ﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا اور بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی ﷲ عن نے اسلام قبول کیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کو جیسے ہی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تو آپ رضی ﷲ عنہ نے فوراً اسلام قبول کرلیااور ایک منٹ بھی نہیں سوچا۔حضرت عباس رضی ﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے جس کو بھی اسلام کی دعوت دی،اُس نے میرے کلام کو لوٹا دیا(یعنی انکار کیا یا پھر غورو فکر کے لئے وقت مانگا)سوائے ابن ابی قحافہ(حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ) کے۔میں نے جیسے ہی اُن کو اسلام کی دعوت دی ،انہوں نے فوراً قبول کر لیااور اُس پر ثابت قدم رہے۔(دلائل النبوة،امام ابو نعیم،تاریخ ابن عساکر)حضرت ابو الدرداء رضی ﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے لو گو!کیا تم میرے دوست(حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ)کو چھوڑنا چاہتے ہو،جبکہ میں نے لوگوں سے کہا کہ میں ﷲ کا رسول ہوں ،تو لوگوں نے مجھے جھٹلایا،تو اُس وقت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے میری تصدیق کی۔(صحیح بخاری)
قوم فرعون کے مرد مومن سے بہتر
حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو اُس وقت حضرت علی رضی ﷲ عنہ کی عُمر دس یا بارہ سال تھی اور اُن کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ہی پال پوس رہے تھے۔اسی لئے حضرت علی رضی ﷲ عنہا ہروقت آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔بچے ہونے کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتے تھے اورصرف دیکھتے رہتے تھے۔حضرت علی رضی ﷲ عنہ ،خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ کی بہادری کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک مرتبہ قریش کے مشرکین نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو نرغے میں لے لیا اور مارنے پیٹنے لگے۔ وہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم ہی وہ ہو جو کہتے ہو کہ ﷲ ایک ہے۔ﷲ کی قسم ! کسی کو اِن مشرکین سے مقابلہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مار مار کر دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے۔تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخص کو ایذا(تکلیف) پہنچا رہے ہوجو یہ کہتا ہے کہ ”میرا رب صرف ایک ﷲ ہے“۔اتنا فرما کر حضرت علی رضی ﷲ عنہ اپنی چادر پر منہ رکھ کر اتنا روئے کہ آپ رضی ﷲ عنہ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔پھر فرمایا:”اے لو گو!اﷲ تمہیں ہدایت دے! بتاؤ کہ قوم فرعون کے مرد مومن اچھے تھے یا حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ اچھے تھے؟“(قوم فرعون کے مرد مومن کا ذکر ﷲ تعالیٰ نے سورہ المومن میں تفصیل سے کیا ہے۔)یہ سن کر لوگ خاموش رہے تو حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا:”لوگو!جواب کیوں نہیں دیتے؟ﷲ کی قسم!حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی ایک ساعت قوم فرعون کے مرد مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے۔اس لئے کہ وہ اپنا ایمان(ڈر کی وجہ سے)چھپاتے تھے،اور حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی شجاعت
حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے لوگوں سے دریافت فرمایا:” بتاؤ سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟“لوگوں نے جواب دیا کہ آپ رضی ﷲ عنہ سب سے زیادہ بہادر ہیں۔حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تو ہمیشہ اپنے برابر کے جوڑ سے لڑتا ہوں،پھر میں سب سے بہادر کیسے ہوا؟“تم یہ بتاؤ کہ سب سے بہادر کون ہے؟“لوگوں نے کہا کہ حضرت ہمیں نہیں معلوم،آپ رضی ﷲ عنہ ہی بتائیں۔حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا:”سب سے زیادہ بہادر اور شجاع حضرت ابو بکر رضی ﷲ عنہ ہیں۔سنو! غزوۂ بدر میں ہم نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے سائبان بنایاتھا۔ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ (اس سائبان کے نیچے)رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ کون رہے گا؟کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مشرک رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم پر حملہ کردے۔ﷲ کی قسم !ہم میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھاتھا کہ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ شمشیر برہنہ ہاتھ میں لیکر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے اور پھر کسی مشرک کو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آنے کی ہمت نہیں پڑی۔اگر کسی نے ایسی جرأت کی بھی توآپ رضی اﷲ عنہ فوراً اُس پر ٹوٹ پڑے۔اس لئے آپ رضی ﷲ عنہ ہی سب سے بہادر ہیں۔(مسند البزار)
اُمت کے سب سے بڑے عالم
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ صحابہ کرام رضی اﷲعنہم میں سب سے بڑے عالم تھے۔علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں سب سے زیادہ قرآن پاک کا علم رکھتے تھے۔اسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی ا ﷲعنہ کو نماز میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا امام بنایا تھا۔رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امام قرآن پاک کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہونا چاہیئے۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جس قوم میں ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ موجود ہوں اُن کے سوا کوئی دوسرا امامت نہیں کر سکتا ۔(جامع ترمذی)آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ احکام رسالت سے آگاہ تھے اور بکثرت احادیث یاد تھیں،جنہیں بوقت ضرورت بیان فرما دیا کرتے تھے۔کیونکہ سب سے زیادہ آپ رضی ا ﷲ عنہ ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریب رہے ہیں ۔اس کے علاوہ یاداشت بھی بہت اچھی تھی۔اس کے باوجود آپ رضی اﷲ عنہ سے کم احادیث مروی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ بمشکل تین(۳)سال زندہ رہے ،اور بہت کم تابعی آپ رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کر سکے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ کی خلافت کی طرف اشارہحضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ملنے لگا تھا۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میرے بعد تم ابو بکر اورعُمر رضی اﷲ عنہم کی پیروی کرنا۔(جامع ترمذی،المستدرک )حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خد مت اقدس میں ایک خاتون (کسی کام سے)آئیں (کام پورا ہونے کے بعد )رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا©:(اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو)پھر آنا۔اُن خاتون نے عرض کیا کہ اگر میںآئی ،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو نہیں پایا تو؟آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر تم مجھے نہ پاو¿ تو ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آنا۔(صحیح بخاری،صحیح مسلم)یہ حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت کی طرف واضح اشارہ ہے۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے اپنی علالت کے دوران فرمایا:”تم اپنے والد اور بھائی کو بلالو تاکہ میں کچھ انہیں لکھ کر دے دوں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میرے بعد کوئی خواستگار ِخلافت نہ کھڑا ہوجائے۔“پھر فرمایا:”رہنے دو(مت بلاو¿)کیونکہ ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنانا حق ہے اور اﷲ تعالیٰ اور مومنین ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے سوا کسی اور کو خلیفہ نہیں مانیں گے۔(صحیح مسلم)امام احمد بن حنبل اور دوسرے محدثین اِس حدیث کو اِن الفاظ میں روایت کرتے ہیں کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں مجھ سے ارشاد فرمایا کہ عبد الرحمن بن ابو بکر کو بلالو،تاکہ میں ابو بکر رضی اﷲ عنہ کے لئے وصیت لکھ دوںتاکہ میرے بعد اُن سے کوئی اختلاف نہ کرے۔“پھر فرمایا:”اچھا رہنے دو! اﷲ نہ کرے کہ ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے معاملہ میں مومنین اختلاف کریں۔(مسند احمد)
بیعت سقیفہ بنو ساعدہ
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ہوش و حواس اُڑ گئے تھے اور ایسے سنگین وقت میں صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ہوش وحواس قائم تھے۔اس کے بارے میں ہم سلسلہ نمبر ۱ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدنی زندگی میں تفصیل سے پیش کر چکے ہیںاور اُس میں ہم نے یہ بتایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں جو خطبہ دیا تو اُس سے تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو یقین آگیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔اب یہیں سے آگے بڑھاتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی خطبے کے دوران میں ایک صحابی رضی اﷲ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور کہا کہ دیکھو انصار بنو ساعدہ میں جمع ہو کر کسی ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیںاور وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک امیر ہو اور مہاجرین میں سے ایک امیر ہو۔اس اطلاع پر حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جلدی سے وہاں پہنچے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے چاہا کہ وہ تقریر کریں مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں روک دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”بہتر ہے! میں نہیں چاہتا کہ ایک دن میں دو مرتبہ آپ رضی ا ﷲ عنہ کی نافرمانی کروں۔“حضرت ابوبکر صدیق نے انصار کو خطاب کیا اور جو جو اُن کے فضائل قرآن پاک سے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زبانی معلوم تھے،وہ سب بیان کئے اور فرمایا :” تم کو معلوم ہے کہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے یہاں تک تمہارے متعلق فرمایا ہے کہ اگر دوسرے لوگ ایک راستہ اختیار کریں اور انصار دوسرا راستہ اختیار کریں تو میں انصار کے ساتھ چلنا پسند کروں گا۔اے حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ !تم خود جانتے ہو کہ تم موجود تھے اور تمھارے سامنے رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ خلافت کے وارث قریش ہیں۔نیک نیکوں کی اقتداءکریں گے اور بد کار بُروں کی اقتداءکریں گے۔“حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا©:”بے شک !آپ رضی ا ﷲ عنہ سچ فرما رہے ہیں۔لہٰذا اب یہ ہونا چاہیئے کہ ہم وزیر رہیں اور آپ لوگ امیر ہوں۔“حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”اپنا ہاتھ لایئے! میں بیعت کروں گا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”نہیں بلکہ آپ ہاتھ لایئے ،کیونکہ اِس منصب کے اُٹھانے کی قوت آپ میں مجھ سے زیادہ ہے۔“کیونکہ ان دونوں میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ زیادہ قوی تھے مگر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا تھا اور زبردستی ایکدوسرے کا ہاتھ کھول رہے تھے۔آخر کار حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ کھول لیا اور فرمایا:”میری بیعت قبول کرو اور میری قوت بھی آپ کی قوت کے ساتھ ہے۔“اس کے بعد وہاں موجود سب لوگوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی۔(تاریخ طبری جلد دوم،حصہ اول)
بیعت ِ عامہ
سقیفہ بنو ساعدہ کے چوپال میں مخصو ص لو گو ں نے بیعت کی تھی۔دوسرے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیعت عامہ کے لئے مسجد نبوی میںبیٹھے ۔امام محمد بن اسحاق سیرت میں لکھتے ہیںکہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جب بیعت ثقیفہ ہو چکی تو دوسرے دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف لے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے تقریر کرنے سے پہلے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور حمد و صلوة کے بعد فرمایا:”لو گو !اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحب خاص اور یار غار پر متفق کر دیا ہے جو تم میں سب سے بہتر اور اچھے ہیں۔اس لئے کھڑے ہو جاو¿ اور بیعت عام کر لو۔تمام لوگوں نے اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ سے بیعت عام کی ۔یہ بیعت ”بیعت سقیفہ“کے بعد ہوئی۔اِس بیعت عام کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور حمدو ثنا کے بعد فرمایا:”مسلمانو!تم نے مجھے اپنا امیر بنایا ہے حا لانکہ میں اس قابل نہیں ہوں۔اب اگر میں بھلائی کروں تو تم میری مدد کرنااور اگر میںبُرائی کروں تو مجھے سیدھا کر دینا۔سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔تم میں سے جو ضعیف ہےںوہ میرے نزدیک اُس وقت تک قوی ہیں جب تک میں اُن کا حق نہ دلوا دوں۔(انشاءاﷲ)یاد رکھو!جو قوم جہاد فی سبیل اﷲ (اﷲ کے لئے لڑنا)چھوڑ دیتی ہے اﷲ اُس کو ذلیل وخوار کر دیتا ہے اور جس قوم میں بد کاری پھیل جاتی ہے اﷲ تعالیٰ اُن کو بلاو¿ں میں گرفتار کر دیتا ہے۔مسلمانو!جب تک میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت کروں،تب تک تم بھی میری اطاعت اور اتباع کرنا اور جب میں اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے رو گردانی کروں تو پھر میری اطاعت تم پر واجب نہیں رہے گی۔پس !اب چلونماز پڑھو !اﷲ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔“امام موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب ”مغازی“میں لکھا ہے اور امام حاکم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُس دن خطبہ میں ارشاد فرمایا:”اﷲ کی قسم!مجھے دن رات میں کبھی امارت کا شوق نہیں ہوااور نہ میں نے کبھی اس کی حرص کی نہ میں نے اﷲ تعالیٰ سے اس کے لئے ظاہر و باطن میں دعامانگی۔(یعنی خلافت کی کبھی تمنا یا دعا نہیں کی)اصل (بات)یہ ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں فتنہ برپا نہ ہو جائے۔میرے لئے خلافت میں کو ئی راحت و سکون نہیں ہے ۔میرے کندھوں پر بھاری بوجھ رکھ دیا گیا ہے۔انشاءاﷲ! اﷲ تعالیٰ کی مدد سے اس دشوار کام کو انجام دینے کی کوشش کروں گا۔مجھے اﷲ کی طاقت اور قوت پر پورا پورا بھروسہ ہے۔“یہ تقریر سن کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہمیں ندامت ہے کہ ہم مشورہ ¿ خلافت میں آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ نہیں تھے۔حالانکہ ہم خوب جانتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہی تمام لوگوں میں خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیںکیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ، رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے یار غار ہیں۔ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کے شرف اور بزرگی کا علم ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کو امامت کا حکم فرمایا تھا۔“
منبر پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جگہ نہیں بیٹھے
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بیعت عامہ کے بعد خطبہ کے بارے میں امام محمد بن سعد لکھتے ہیںکہ حضرت مالک بن عُروہ رضی اﷲعنہ نے فرمایاکہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حمد و صلوة کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا:”لوگو!میں اگرچہ تمہارا امیر ہو گیا ہوںلیکن میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔قرآن پاک نازل ہو چکا ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی سنتوں پر چلنا سکھا دیا ہے۔ہم اچھی طرح (احکام ِ شریعت) جان گئے ہیں۔پس اے لوگو!سمجھ لو کہ دانشمند وہی ہے جو متقی ہے اور سب سے زیادہ فاسق و فاجر وہ ہے جو(گناہوں سے بچنے میں)سب سے زیادہ عاجز ہے۔میرے نزدیک تم میں جو سب سے زیادہ کمزور ہے ،وہ اُس وقت تک قوی ہے جب تک کہ اُس کا حق قوی سے نہ دلوا دوں اور میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ قوی اُس وقت تک ضعیف ہے ،جب تک کہ اس سے لوگوں کا حق نہ لے لوں۔لو گو !میں سنت کی پیروی کرنے والا ہوں،دین میں نئی نئی باتیں پیدا کرنے والا نہیں ہوں۔پس میں نیکی کروں تو مجھ سے تعاون کرنااور اگر میں غلطی کروں تو مجھے سیدھے راستے پر لے آنا۔بس مجھے اتنا ہی کہنا ہے۔ اب میں اپنے اور تمہارے سب کے لئے مغفرت چاہتا ہوں۔“(طبقات ابن سعد)حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پوری زندگی منبر پر اُس جگہ نہیں بیٹھے جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے۔اسی طر ح حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،پوری زندگی اُس جگہ پر نہیں بیٹھے جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پوری زندگی اُس جگہ پر نہیں بیٹھے جہاں حضرت عُمر رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے۔(المعجم الاوسط،امام طبرانی)
اسلام پر سنگین بحران
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال سے اسلام کے لئے بہت ہی سنگین بحران پیدا ہو گیا۔ ملک عرب کے بہت سے قبیلے اسلام چھوڑ کر مُرتد ہوگئے۔بہت قبیلوں نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا۔کئی لوگوں نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔پورے ملک عرب میں بے یقینی اور بے چینی کا ماحول تھا۔ہر قبیلے کے صحیح مسلمان حیران و پریشان تھے اور اپنے اپنے قبیلے والوں کو سمجھا رہے تھے۔لوگوں کو مُرتد ہونے سے روک رہے تھے۔جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کی اتباع کرنے سے روک رہے تھے اور ذکوٰة روکنے والوں کو بھی سمجھا رہے تھے۔ہر قبیلے کے سچے مسلمان اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو سمجھا رہے تھے۔ایسے سنگین حالات میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا خلیفہ بنایا گیااور آپ رضی اﷲ عنہ پر اسلام کو بحران سے نکالنے اور دنیا والوں تک پہنچانے کی عظیم ذمہ داری ڈال دی گئی ۔
تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انتہائی سنگین حالات میں خلافت کی ذمہ داری سنبھالی اور آپ رضی اﷲ عنہ کا دور ِ خلافت بہت ہی ہنگامہ خیز تھا ۔رسول ا ﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جو طوفان اُٹھا وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے پہلی آزمائش سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کی وہ مجلس تھی جس میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جا نشینی کا مسئلہ طے ہونا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اِس آزمائش میں پورے اُترے ۔اس کے بعد فتنہ¿ ارتداد کی وبا نے تقریباًسارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کے ساتھ ساتھ منکرین ذکوٰة کا فتنہ الگ انتشار پیدا کرر ہا تھا۔رہی سہی کسر جھوٹے مدعیان ِنبوت نے پوری کر دی۔اِ ن نا مساعد حالات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بہت سے قبائلی سرداروں نے بھی بغاوت کر دی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد عالم اسلام کی ذمہ داریوں اور اُمت کی قیادت کا بوجھ بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے کاندھوں پر آگیا۔انہوں نے کمال بصیرت و دانائی سے پہلے صحابہ ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے زخمی دلوں پر پھایا رکھاجو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال سے بد حال ہو رہے تھے۔ اُسی وقت سقیفہ بنو ساعدہ میں پہنچے اور اپنی خدا داد فراست و تدبر سے انتہائی بگڑے ہوئے حالات پر قابو پایامگر یہاں مشکلات کا خاتمہ نہیں ہوابلکہ یہ تو آغاز تھا۔اُن مصائب کا جن سے آپ رضی اﷲ عنہ کو دوچار ہو نا تھا۔حالات انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکے تھے لیکن اس طوفانی دور میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے استقلال کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اُن کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے مسلک سے ایک انچ بھی ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔حالانکہ بعض مواقع پر بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم کی رائے آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے سے مختلف تھی۔خاص طور سے منکرین ذکوٰة اور لشکر ِ اُسامہ کے بارے میں ۔لیکن بعد میں حالات نے ثابت کیا اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے بھی تسلیم کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے اور فیصلہ دُرست تھااور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی فراست اور تدبر سے جھوٹے نبیوں کا بھی خاتمہ کیا ،منکرین زکوٰة کو بھی اسلام پر عمل کرایا،مرتدین کو بھی دوبارہ حلق بگوش اسلا م کیااور باغیوںکی بھی سرکوبی کی اور ان سب معا ملات کو کنٹرول کرنے کے لئے اُنہوں نے ”اﷲ کی تلوار“یعنی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا بہت خوبی سے استعمال کیا۔یہ اجمالی حالات ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔اب انشاءاﷲ تمام حالات تفصیل سے پیش کریں گے۔اﷲ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
فتنوں کے پیدا ہونے کی وجوہات
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو اُس وقت مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور طائف کے تمام لوگ اسلام پر قائم رہے۔ان کے علاوہ قبیلہ مزنیہ،قبیلہ بنو غفار ،قبیلہ بنو جہینہ،قبیلہ بنو اشجع،قبیلہ بنو اسلم،اور قبیلہ بنو خزاعہ کی اکثریت اسلام پر قائم رہی صرف چند افراد مُرتد ہوئے تھے۔اِن کے علاوہ پورے ملک عرب میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی تھی۔وہ لوگ جن کے دل قبائلی عصبیت سے پاک نہیں ہوئے تھے اور وہ لوگ جن کے دل میں اسلام راسخ نہیں ہوا تھاوہ مُرتد ہو گئے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ۹ ھجری اور ۰۱ ھجری میں پورے ملک عرب سے وفود نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھااور چند ہفتے یا چند مہینے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے قبیلے میں جا کر اسلام کی تعلیم دی۔اس طرح دور دور کے قبائل میں اسلام راسخ نہیں ہو سکا تھااور وہ ہوا کے رخ پر بہہ گئے۔دوسرا گروہ ”مانعین زکوٰة“ کا تھا۔یہ مدینہ منورہ کے قریب آباد قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان،قبیلہ بنو کنانہ ،قبیلہ بنو غطفان اور قبیلہ بنو فزارہ تھے۔انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بھیجے ہوئے تحصیلداروں کو زکوٰة دینے سے انکار کر دیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان قبائل کے اندر جاہلی تصور پیدا ہو گیا تھااور اُنہوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ چونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا جا نشین مقرر نہیں کیا ۔اس لئے ہم پر مہاجرین و انصار کے منتخب خلیفہ کی اطاعت لازم نہیں ہے اور ہمیں بھی یہ اختیار ہے کہ اپنا امیر مقرر کر لیں اور اسلام پر کاربند رہتے ہوئے اپنے امیر کی پیروی کریں۔زکوٰة کو یہ لوگ جزیہ سمجھتے تھے۔تیسرا گروہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کا تھا۔اِن جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں میں (۱) اسود عنسی (یمن) (۲) مسیلمہ کذاب (یمامہ) (۳) طلیحہ (بنو اسد) (۴) سجاع(بنو تمیم) (۵)ذوالتاج لقیط بن مالک(عمان)سرِفہرست تھے۔اِن تینوں گروہوں کے علاوہ چوتھا گروہ مسلح باغیوں کا تھا۔
لشکر اُسامہ کی روانگی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلا حکم یہ دیا کہ لشکر اُسامہ کو روانہ کیا جائے۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تمام عرب کے قبائل یا تو سب کے سب مُرتد ہو گئے تھے یا اُن میں سے کچھ لوگ مرتد ہو چکے تھے۔صرف طائف کا قبیلہ بنو ثقیف ایسا تھاجو اسلام پر قائم رہے ،نہ تو انہوں نے فرار اختیار کیا اور نہ ہی مرتد ہوئے۔دوسرے کئی قبائل نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا تھا۔جس لشکر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک شام میں بلقاءکی ملحقہ سرحد پر( جہاں جنگ موتہ ہوئی تھی )جانے کا حکم دیا تھا۔وہ مقام ”جرف“پر جا خیمہ زن ہو گیا تھا۔اُن لوگوں میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز پڑھانے کے لئے مستثنیٰ کر لیا تھا۔چونکہ ہر طرف نفاق پھوٹ پڑا تھا اور اب یہود و نصاریٰ بھی للچائی ہوئی نظروں سے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے اور خود مسلمانوں کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت کی وجہ سے اُن بھیڑ بکریوں کی طرح ہو گئی تھی جو موسم سرما کی برساتی رات میں حیران ہو گئی ہوں۔ایسے وقت میں جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے کہا کہ اب لے دے کے صرف یہی مسلمان ہیں جو آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ہیںاور عربوں کے ارتداد کی جو حالت ہے وہ تو آپ رضی ا ﷲ عنہ جانتے ہی ہیں۔اس لئے اب مناسب نہیں ہے کہ لشکر اُسامہ کو بھیجا جائے۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”جس لشکر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا،میں اُسے ضرور بھیجوں گا۔اﷲ کی قسم! اگر میرے پاس ایک شخص بھی نہ رہے اور مجھے اندیشہ ہو کہ درندے اُٹھا لے جائیں تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا اور لشکر اُسامہ کو اُس کی مہم پر روانہ کروں گا۔ اگر تمام بستیوں میں میرے سوا کوئی نہ رہے تو میں تنہا ہی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا۔“اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ مقام جرف پر جاکر پڑاو¿ ڈالے ہوئے لشکر کو کوچ کے لئے تیار کریں۔
رسول اللہ ﷺ کے حکم کو ہر حال میں پورا کروں گا
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ کو بھیجنے کا پختہ فیصلہ کرلیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔امام حسن بن حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پہلے ایک لشکر روانہ کیا اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو اُس کا سپہ سالار مقرر کیا۔اس لشکر میں حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ بھی تھے،ابھی لشکر نے خندق کو پوری طرح پار بھی نہیں کیا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سب کے ساتھ ٹھہر گئے اور انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے عرض کیاکہ آپ رضی اﷲ عنہ جایئے اور خلیفہ ¿ رسول رضی اﷲ عنہ سے میری واپسی کی اجازت لے آیئے۔کیونکہ تمام اکابر اور جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میرے ساتھ ہیںاور مجھے خلیفہ ¿ رسول رضی اﷲ عنہ اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں کی جانوں کا اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن اچانک سب کو قتل نہ کردیں۔اِس لشکر کے کچھ مجاہدین نے کہا۔اگر خلیفہ رسول رضی اﷲ عنہ واپسی کی اجازت نہ دیں اور لشکر کے جانے کا اصرار کریں تو اُن سے ہماری طرف سے کہہ دینا کہ وہ ہمارا سپہ سالارکسی ایسے شخص کو مقرر کر دیں جوحضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سے زیادہ عُمر والا ہو۔(یہ نو جوان تھے)حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ آئے اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کی درخواست سنائی۔حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر کتے اور بھیڑیئے تنہائی کی وجہ سے مجھے کھا لیں ،تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کروں گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ لشکر کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سپہ سالار کسی زیادہ عُمر والے کو بنا دیں۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ جو بیٹھے ہوئے تھے،غصے سے کھڑے ہو گئے اور آگے بڑھکر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی داڑھی پکڑ لی اور فرمایا:”اے خطاب کے بیٹے !یہ کہنے سے پہلے تم مر کیوں نہیں گئے کہ جس شخص کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس منصب پر فائز کیا ہے ،میں اُسے ہٹا دوں۔“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر لشکر اُسامہ کے پاس آئے۔
لشکر اُسامہ کو اپنی نگرانی میں روانہ کیا
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اس کے بعد مقام جرف میں پہنچے۔تب تک پورا لشکر کوچ کی تیاری کر چکا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ پیدل ہی لشکر کے ساتھ چلنے لگے(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ اُن کا گھوڑا لیکر ساتھ میں چل رہے تھے۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اے خلیفہ رسول رضی اﷲ عنہ !یا تو آپ رضی اﷲ عنہ گھوڑے پر سوار ہو جائیںیا پھر مجھے بھی پیدل چلنے دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:”دونوں باتیں نہیں ہو سکتیں!میں اِس وقت اس لئے پیدل چل رہا ہوں کہ اﷲ کی راہ میں کچھ دیر چل کر اپنے قدم خاک آلود کر لوںکیونکہ مجاہد کے ہر قدم کے عوض میں سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیںاور سات سو درجے بڑھائے جاتے ہیںاور سات سو خطائیں معاف کی جاتی ہیں۔چلتے چلتے جب وہ ٹھہرے تو فرمایا:”بہتر ہوتا کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو میرے پاس چھوڑ جاتے۔“حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :”ٹھیک ہے!آپ رضی اﷲ عنہ اُنہیں اپنے ساتھ رکھیں۔“اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر سے بلند آواز میں خطاب کیا۔”میں تمہیں دس باتوں کی نصیحت کرتا ہوں!اچھی طرح یاد رکھنا(1)خیانت نہ کرنا۔(2)نفاق نہ برتنا۔(3)مثلہ نہ کرنا،یعنی اعضائے جسم کو کاٹ کر الگ نہ کرنا۔(4)کبھی چھوٹے بچے کو ،بوڑھے مرد کو،اور کسی عورت کو قتل نہ کرنا۔(5)کسی کھجور کے درخت کو نہ کاٹنا،اور نہ جلانا۔(6)کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا،سوائے کھانے کی ضرورت کے۔(7)تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے ،جو ترک ِدنیا کر کے خانقاہوں میں بیٹھ گئے ہیں،اُن سے کوئی تعارض نہ کرنا۔(8)بعض لوگ تمہارے لئے کھانوں کے خوان لائیں گے،اگر تم اُن میں سے کچھ کھانا چاہوتو اﷲ کا نام لیکر کھانا۔(9)ایسے لوگوں سے تمہارا مواجہہ ہوگا جن کی سر کی چندیا صاف ہو گی ،اور اُس کے گرد بالوں کی پٹیاں جمی ہوں گی ،ایسے لوگوں کی خبر تلوار سے لینا۔(10)اچھا اب اﷲ کا نام لیکر جاو¿ ،اﷲ تمہاری نیزے کی ضرب سے اور طاعون سے حفاظت کرے۔(تاریخ طبری)
ملک یمن میں عاملوں(گورنروں)کا تقرر
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حجتہ الوداع“ہونے کے بعد مدینہ منورہ پہنچتے ہی ملک یمن کی امارت کا انتظام فرمایا۔اسے کئی اشخاص میں تقسیم کردیا اور ہر شخص کو ملک یمن کے خاص خاص رقبوں کا عامل(گورنر)مقرر فرما دیا۔ اسی طرح آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حضر موت “میں بھی گورنروں کا تقرر کیا۔حضرت عمرو بن حزم رضی اﷲ عنہ کو نجران کا گورنر مقرر کیا۔حضرت خالد بن سعیدبن عاص رضی اﷲ عنہ کو بحران،رمع اور زبید کے درمیانی علاقے کا والی مقرر فرمایا۔حضرت عامر بن شہر رضی اﷲ عنہ کو ہمدان کا والی مقرر کیا۔حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ کو صنعاءکا والی مقرر کیا۔حضرت طاہر بن ابی ہالہ کو عک اور اشعرین کاوالی،حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو مارب کا والی،اور حضرت یعلیٰ بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو جند کا والی مقرر فرمایا تھا۔اسی طرح حضر موت میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے والی(گورنر)مقرر فرمائے تھے۔حضرت عکاشہ بن ثور رضی اﷲ عنہ کو عکاسک اور سکون کا والی مقرر فرمایااور حضرت عبد اﷲ بن مہاجر کو بنو معاویہ بن کندہ کا والی مقرر فرمایا تھا،جو بیماری کی وجہ سے نہیں جاسکے تھے۔اُن کی جگہ عارضی طور سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت زیاد بن لبید رضی اﷲ عنہ کو والی مقرر کیا تھا۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد اُنہیں بھیجا۔ان سب کے علاوہ حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک یمن اور حضر موت کا معلم(اسلام کی تعلیمات دینے والا) بنایا تھا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل ملک یمن اور حضر موت کا دورہ کرتے رہتے تھے ،اور اسلام کی اور قرآن پاک کی تعلیم دیتے رہتے تھے۔(تاریخ طبری ،تاریخ ابن کثیر)
اسود عنسی کی بغاوت
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سب سے پہلے اسود عنسی نے مسلح بغاوت کی۔اس کا نام عبہلةبن کعب بن غوث ہے اور اُس کے شہر کو کہف حنان کہا جاتا تھا۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔عبید بن مخر سے مروی ہے کہ ہم جند میں تھے اور ہم نے وہاں کے باشندوں کا معقول انتظام کرلیا تھااور اُن سے معاہدے لکھوا لئے تھے کہ اتنے میں اسود عنسی کا خط ہمارے پاس آیا۔جس میں لکھا تھا کہ ”اے لوگو!جو ہمارے ملک میں گھس آئے ہو اُس علاقے کو جس پر تم نے قبضہ کرلیا ہے ہمارے حوالے کر دو۔ جو کچھ تم نے جمع کیا ہے وہ ہمیں دے جاو¿ کیونکہ ہم اس کے حقدار ہیںاور تم کو کوئی حق نہیں ہے۔“ہم نے اُس کے پیامبر سے پوچھا کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟اُس نے کہا ۔کہف حنان سے۔اس کے بعد اسود نے نجران کی طرف رُخ کیا اور اپنے خروج کے دس دن بعد اُس نے نجران پر قبضہ کر لیا۔مذحج کے عوام اُس کے ساتھ ہو گئے۔ہم ابھی اپنی حالت پر غور کر رہے تھے اور اپنی جماعت کو جمع کر رہے تھے کہ ہمیں اطلاع ملی کہ اسود ”شغوب “میں آچکا ہے اور حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ اُس کے مقابلے پر نکل چکے ہیں۔یہ اسود کے خروج کے بیس دنوں بعد کا واقعہ ہے۔ہم اُن دونوں کے مقابلے کے نتیجے کے منتظر تھے کہ دیکھیں کسے شکست ہوتی ہے؟کہ ہمیں خبر ملی کہ اسود عنسی نے حضرت شہر بن باذام کو شہید کر دیا ہے اور ابناءکو شکست ہوئی ہے۔اسود عنسی نے اپنے خروج کے پچیس دنوں بعد صنعاءپر بھی قبضہ کر لیا ہے اور حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ وہاں سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے جو ”مارب “میں تھے۔ وہ دونوں یمن کو چھوڑ کر حضر موت میں داخل ہو گئے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ قبیلہ سکون میں ٹھہر گئے اور حضرت ابو بوسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ عکاسک کے پاس اُس علاقے میں جو مفور اور مغازہ جو اُن کے اور مارب کے درمیان متصل تھاوہاں فروکش ہو گئے۔حضرت عمرو اور حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہم مدینہ منورہ لوٹ آئے اور بقیہ یمن کے عاملین حضرت طاہررضی اﷲعنہ کے پاس چلے آئے۔وہ اُس وقت صنعا کے گرد ”عک“کے علاقے کے وسط میں مقیم تھے۔اُس وقت تک حضر موت کے صحراءصہیہ سے لیکر طائف کے علاقے سے عدن کی جانب بحرین تک کا علاقہ اسود عنسی کے قبضے میں آ چکا تھا۔پورا یمن اُس کے ساتھ ہو گیا تھا۔البتہ تہامہ کے قبائل ”عک“اُس کے مخالف تھے۔اُس کی کیفیت ایک جہاں سوز آگ کے جیسی تھی،کہ جدھر بھی اُس نے رُخ کیا سب کو جلا دیا۔اُس کی حکومت قائم ہو گئی تھی اور اُس کی شان و شوکت بہت بڑھ گئی تھی۔سواحل میں سے حاز،شارجہ،حردہ،غلافقہ،عدن اور جند پر اُس کا قبضہ ہو گیا تھا۔ممالک میں صنعاءسے لیکر طائف کی جانب اخسیہاور علیب تک کا علاقہ اُس کے قبضے میں تھا۔مسلمانوں نے اُس سے رحم کی درخواست کر کے امان حاصل کی اور مرتدین نے اُس سے کفر اور اسلام کو چھوڑ دینے کے وعدے پر معاملہ کرلیا۔مذحج میں اُس کا نائب عمرو بن معدی کرب تھا،اسی طرح اُس نے اپنے اُمور سلطنت کو کئی آدمیوں کو تفویض کیا تھا۔(تاریخ طبری جلد ،تاریخ ابن کثیر)
اسود عنسی کا انجام
یمن میں اسود عنسی اپنی حکومت قائم کرچکا تھا۔قیش بن عبد یغوث اُس کی فوج کا سپہ سالار تھا،ابناءکی سرداری فیروز اور دازویہ کے سپرد تھی۔یہاں اسود عنسی نے ایک بہت بڑی غلطی کی۔اس نے حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ کی بیوہ سے شادی کرلی۔جس کی وجہ سے فیروز اُس سے بد ظن ہو گیاکیونکہ وہ فیروز کی چچا زاد بہن تھی۔دوسری بڑی غلطی اُس نے یہ کی کہ قیس اور دازویہ پر باغی ہونے کا شک کرنے لگا۔ہم اسی پریشانی میں حضر موت میں مقیم تھے اور ہم اس اندیشے میں مبتلا تھے کہ پتہ نہیں اسود خود ہم پر حملہ کرے گا یاہمارے مقابلے پر فوج بھیجے گایا پھر حضر موت میں بھی کوئی شخص اسود کی طرح جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے خروج کرے گا۔ہم حیران وپریشان تھے کہ ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط ملا۔جشیش بن الدیلمی سے مروی ہے کہ حضرت دبر بن یحسنس رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط لیکر ہمارے پاس آئے۔اس خط میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم اسلام پر قائم رہیںاور لڑائی یا حیلے سے اسود کے خلاف جنگی کاروائی کریں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پیغام کو اُن لوگوں تک بھی پہنچائیں جو اِس وقت اسلام پر جمے ہوئے ہیں۔حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ عنہ اُسی وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنے نکل پڑے اور گھوم گھوم کر راسخ مسلمانوں کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچانے لگے۔ہم نے فیروزاور قیس سے ملکر اُنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔فیروز تو پہلے ہی اسود سے بد ظن تھا۔ادھر حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کی کوششوں سے اچھے خاصے مسلمان ایک جگہ اکٹھا ہو گئے۔اسود عنسی پر اس کا بہت اثر ہوا ،اور اُسے اپنی موت نظر آنے لگی۔
خلیفہ ءاول کو پہلی خوش خبری ملی
ادھر یمن میں مسلمانوں کی کاروائی جاری تھی۔جشیش بن الدیلمی آگے فرماتے ۔ہم لوگ قیس سے ملے اور اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔وہ بہت خوش ہوا کیونکہ وہ اسود عنسی کے برتاو¿ کی وجہ سے اُس سے بد ظن ہو گیا تھا۔فیروز اور قیس کو بلا کر اسود عنسی نے کہا کہ تم مسلمانوں سے مل گئے ہواور قتل کی دھمکی دی۔(یہاں ہم مختصر ذکر کر رہے ہیں،مفصّل ذکر آپ تاریخ طبری اور تاریخ ابن کثیر میں پڑھ سکتے ہیں۔)اس کے بعد فیروز نے طے کرلیا کہ کسی بھی صورت میں اسود عنسی کو قتل کردے گا۔اس کے لئے وہ اپنی چچا زاد بہن سے ملا اور اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام سنایااور یہ بتایا کہ اگر میں اسود کو قتل نہیں کروں گا تو وہ مجھے قتل کردے گا۔وہ اسود کی بیوی تھی لیکن سچی مسلمان تھی،اُس نے بتایا کہ محل میں بہت زبردست پہرہ رہتا ہے لیکن یہاں میرے محل کی پچھلی دیوار پر پہرہ نہیں رہتا ہے۔ فلاں رات کو اسودعنسی میرے پاس آئے گا،اُس رات کو تم پچھلی دیوار میں نقب لگا کر آجانا اور اُسے قتل کر دینا۔اس کے بعد فیروز ہمارے پاس آیا اور اس نے ساری منصوبہ بندی بتائی۔قیس اور دازویہ اُس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔یہ تینوں رات میں نقب لگا کر اندر پہنچے۔فیروز کی چچا زاد بہن نے اُن کی مدد کی۔اسود عنسی بہت طاقتور اور سخت جان تھا اور اُس نے بہت مزاحمت کی لیکن ان چاروں نے ملکر کسی نہ کسی طر ح اُسے قتل کردیا ۔صبح دازویہ نے اذان دی تو سب لوگ حیران ہو کر محل کے اطراف جمع ہو گئے (کیونکہ اسود نے اذان بند کرا دی تھی)فیروز محل کی فصیل پر اسود کا سر لیکر کھڑا ہوا اور بلند آواز سے پکارا:”میں اعلان کرتا ہو ں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور یہ بد بخت اسود عنسی عبہلہ کذاب(جھو ٹا)تھا۔“پھر اُس نے اسود کا سر اُن کے سامنے ڈال دیا۔حضرت عبد اﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔جس رات اسود عنسی مارا گیا اُسی وقت اُسکے قتل کی اطلاع اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دے دی تھی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صبح ہم کو بشارت دی کہ کل رات اسود عنسی کو قتل کردیا گیا ہے۔اُسے ایک مبارک آدمی جو ایک مبارک خاندان کا فرد ہے نے قتل کیا ہے۔ہم نے عرض کیا :”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !وہ کون ہے؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:فیروز!فیروز کامیاب ہوا۔“لیکن باقاعدہ قاصد کے ذریعے اسود کے قتل کی اطلاع خلیفہ ءاول کو اُس وقت ملی جب آپ رضی اﷲ عنہ لشکر اُسامہ کو بھیج چکے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ماہ ربیع الاول کے آخری دنوں میں لشکر اُسامہ کو روانہ کیا تھا ۔اور اس کے بعد ہی اسود عنسی کے خاتمے کی خبر لیکر یمن سے قاصد آیا۔لشکر اُسامہ کے جانے کے بعد یہ پہلی فتح کی بشارت تھی جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں ملی۔(تاریخ طبری)
نبوت کے جھوٹے دعویدار
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ بھیجنے کے بعدحالات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔اس دوران کئی نبوت کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوگئے ۔اسود عنسی کا انجام ذکر ہو چکا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنے والد محترم حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال اورلشکرِاُسامہ کی روانگی کے بعدتمام خاص و عام عرب مرتدہوگئے۔مسیلمہ اور طلیحہ نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا،اُن کی جماعت اور طاقت بہت بڑھ گئی،قبیلہ بنو طے اور بنو اسد، طلیحہ اسدی کے ساتھ ہو گئے۔ اسی طر ح بنو اشجع اور بنو غطفان کے بعض خاندانوں کے خاص لوگوں کے علاوہ تمام غطفان مرتد ہوگئے۔قبیلہ بنو ہوازن متردد تھے،انہوں نے بھی ذکوٰة کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔البتہ بنو ثقیف اسلام پر قائم رہے اور اُن کی اقتداءمیں بنو جدلہ اور بنو اعجاز بھی عام طور پر اسلام پر قائم رہے ۔لیکن بنو سلیم کے خواص مرتد ہو گئے اور یہی حال تمام قبائل عرب کا تھا۔یمن ،یمامہ اور بنو اسد کے علاقوں سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے عاملین(گورنروں)اور اُن اشخاص کے نمائندے جن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسود ،مسیلمہ اور طلیحہ کی مدافعت اور مقاو مت کا حکم بھیجا تھا،آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس واقعات اور خطوط کے ساتھ آئے ۔یہ سب خط اُنہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو دیئے اور زبانی تمام حالات بیان کئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں ذرائع سے اُن سب کا مقابلہ شروع کیا جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم استعمال کر چکے تھے۔کہ مراسلت شروع کی ۔جو قاصد اب آئے تھے اُن کو تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے حکم سے واپس بھیج دیا،مگر اُن کے عقب میں اپنے دوسرے قاصد اس غرض کے لئے روانہ کئے۔(تاریخ طبری)
مُرتدین کے نام خط
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مرتد قبائل کو ایک ہی مضمون کا خط لکھا اور اپنے قاصدوں کو دیکر الگ الگ علاقوں میں بھیجا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ”قطع حجت “کے لئے مرتدین کی طرف بھی ایک ایک خط روانہ کیا تھا۔یہ تمام خطوط ایک ہی مضمون کے تھے،جس میں بسم اﷲ کے بعد یہ لکھا تھا۔”یہ ابوبکر خلیفة الرسول(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی طرف سے! اُس شخص کے لئے ہدایت ہے جس کے پاس یہ فرمان پہنچے۔چاہے وہ عام ہو یا خاص اور اسلام پر قائم ہو یا نہ ہو۔اُس پر سلام ہو !جس نے ہدایت کی اتباع کی اور گمراہی اور خواہش نفس کی طرف نہیں لوٹا۔اُس اﷲ کی تعریف ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور جو اکیلا ہے ،اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہ ہو ں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم جو دین لیکر آئے ہیںاُس پر ایمان لاتا ہوں اور انکار کرنے والے کو مردود سمجھتا ہوں اور اُس سے جہاد کے لئے تیار ہوں۔(اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نبوت اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کو عمدہ طریقے سے بیان کیا اور خوب خوب نصیحتیں کیں۔)پھر لکھا ۔میں فلاں کو مہاجرین اور انصار اور تابعین کے لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجنے والا ہوں۔ میرا حکم ہے کہ وہ کسی سے نہ لڑے اور کسی کو نہ مارے،جب تک کہ اسلام کی دعوت نہ دیدے۔پھر جس نے کلمہ پڑھ لیا ،اسلام قبول کر لیااور برائیوں سے رُک گیا اور نیک اعمال میں لگ گیا،اُس کا اسلام قابل قبول ہے اُس کی مدد کی جائے گی اور جو اسلام سے انکار کرے گا،اُس سے لڑنے کی اجازت اُس وقت تک ہے،جب تک کہ اُس میں کفر کا اثر باقی ہے۔پھر جو اسلام لے آئے گا اُس کے لئے بہتری ہے اور جو اسلام نہیں لائے گا تو وہ اﷲ کو عاجز کرنے سے رہا۔میں نے قاصد کو حکم دے دیا ہے کہ وہ یہ خط مجمع ¿ عام میں پڑھ کر سنائے اور تمہاری اذان کے ذریعے دعوت دے ۔پھر اگر مسلمان کی اذان سُن کر لوگ بھی اذان دینے لگیں تو اُن سے رُک جاو¿ اور اگر اذان نہ دیں تو اُن سے اذان نہ دینے کی وجہ پوچھو۔اگر وہ انکار کر دیں تو اُن کے بارے میں جلدی کرو اور اگر یہ اقرار و توبہ کرلیںتو اُن کی توبہ قبول کر لی جائے اور اُن کے لئے مناسب احکام جاری کر دیئے جائیں۔ (تاریخ ابن خلدون،جلد ۱)
مُرتدین کے نام تفصیلی خط
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مُرتدین کے نام ایک ہی طرح کا خط لکھا تھا۔اوپر ہم نے جو علامہ عبد الرحمن ابن خلدون کی روایت کا خط پیش کیا ،وہ مختصر تھا۔اس خط کو علامہ محمد بن جریر طبری نے بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے۔وہ بھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔امام طبری لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مُرتدین کو ایک ہی مضمون کا خط لکھا،وہ حسب ذیل ہے۔”بسمہ ا ﷲ الرحمن الرحیم۔یہ خط ابو بکر خلیفہ ¿ رسول اﷲ(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی جانب سے! اُن تمام عام اور خاص لوگوں کے نام ہے۔جن کو یہ موصول ہو،چاہے وہ اسلام پر قائم ہوں یا مُرتد ہو گئے ہوں۔سلامتی ہو اُن پر جنہوں نے راہِ راست کی اتباع کی اور ہدا یت کے بعد گمراہی اختیار نہیں کی۔میں تمہارے سامنے اُس معبود ِ حقیقی کی جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے تعریف کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ اﷲ وحدہُ لا شریک ہے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور رسول ہیں۔اﷲ کا جو پیام وہ ہمارے لئے لائے ہیںہم اُس کا اقرار کرتے ہیں اور جو انکار کرے ہم اُسے کافر سمجھتے ہیں اور اُس سے جہاد کریں گے۔ا ﷲ تعالیٰ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو واقعی اپنی جانب سے اپنی مخلوق کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والااور اﷲ کی جانب سے اُس کے حکم کی دعوت دینے والا اور ایک روشن شمع بنا کر مبعوث فرمایا ہے تاکہ وہ جو زندہ ہوںاُن کو اﷲ کا خوف دلائیں اور اس طرح منکرین کے خلاف بات پکی ہو جائے۔جس نے اُن (صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی بات مانی اﷲ نے اُسے راہ راست بتا دی اور جس نے انکار کیا،رسول اﷲ صلی ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ کے حکم سے اُسے اچھی طرح سزا دی۔یہاں تک کی اُس نے خوشی سے یا بادل نخواستہ اسلام قبول کر لیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا مگر وہ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) اﷲ تعالیٰ کے حکم کو پوری طرح نافذ کر چکے تھے اور اِس اُمت کے ساتھ مخلصانہ خیر خواہی کر چکے ہیں۔(اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وسال کے بارے میں قرآن پاک کی آیات لکھیں،اس کے بعد آگے فرمایا)میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اﷲ سے ڈرتے رہو اور اس طرح اپنا حصہ اور نصیبہ اُس سے حاصل کرتے رہو۔تاکہ تمہارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم جو اﷲ کا پیغام تمہارے پاس لائے ہیں اُس سے بہرہ ور ہو سکو،اور اﷲ کی ہدایت پر گامزن رہو۔ جسے اﷲ نے گمراہ کر دیاوہ بالکل گمراہ ہے اور جب تک کوئی اسلام قبول نہ کرلے نہ دنیا میں اُس کا کوئی عمل قبول ہو گااور نہ آخرت میں کوئی بدلہ یا معاوضہ قبول کیا جائے گا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے لوگ اسلام لانے اور اُس پر عمل پیرا ہونے کے بعد اُس سے مُرتد ہو گئے ہیں۔اُن کو یہ جسارت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے متعلق غلط اندازہ قائم کیا ہے اور اُس کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہیںاور انہوں نے شیطان کے اغوا کو قبول کرلیا۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔اُس کی جماعت تم کو اس لئے اغوا کرتی ہے کہ تم دوزح میں جاو¿۔“میں نے فلاں شخص کو مہاجرین، انصار اور تابعین کی جمیعت کے ساتھ تمہارے پاس بھیجا ہے اور اُن کو حکم دیا ہے کہ جب تک وہ اﷲ کا پیغام تم تک نہ پہنچا دیںتب تک نہ تو کسی سے جنگ کریں اور نہ ہی کسی کو قتل کریں۔لہٰذا جو اِس دعوت کو قبول کرکے اس کا اقرار کرلے اور اپنے موجودہ طرز عمل سے باز آ جائے ،اور عمل صالح کرنے لگے تو اس کے اقرار اور عمل کو قبول کر کے اُس پر بقاءاور قیام کے لئے اُس شخص کی اعانت کی جائے۔ جو اِس پیغام کو رد کردے ،اُس کے متعلق میں نے حکم دیا ہے کہ اِس انکار کی وجہ سے اُس سے جنگ کی جائے اور پھر جس پر قابو چلے ،اُس کے ساتھ ذرا بھی رحم نہ کیا جائے اور بُری طرح قتل کیا جائے۔اُس کے اہل و عیال کو غلام اور لونڈی بنا لیا جائے اور اسلام کے سوا کسی بات کو قبول نہیں کیا جائے۔جو اسلام کی اتباع کرے گاوہ اُس کے لئے بہتر ہے اور جو انکار کرے تو اسے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ اﷲ سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔میں نے اپنے پیامبر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اِس خط کو ہر مجمع میں پڑھ کر سنا دیںاور ہمارا شعار اذان ہے،لہٰذا جب مسلمان اذان دیں اور مرتدین بھی اذان دیں تو خاموشی اختیار کی جائے۔ اگر وہ اذان نہ دیں تو فوراً اُن کی خبر لی جائے اور اذان دینے کے بعد بھی اُن سے دریافت کیا جائے کہ وہ کس مسلک پر ہیں؟اگر وہ اسلام سے انکار کریں تو فوراً اُن سے جنگ شروع کر دی جائے اور اگر وہ اسلام کا اقرار کر لیں تواُن کے بیان کو قبول کر کے اُن پر اسلام کی خدمت عائد کی جائے۔“
باغیوں کو صاف جواب
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ شدید بے چینی سے لشکر اُسامہ کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔اسی دوران قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان ،بنو اسد،اور بنو کنانہ اچھا خاصہ لشکر لیکر آئے اور مدینہ منورہ کے قریب پڑاو¿ ڈال دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں،قبیلہ بنو عبس اور بنوذیبان جوش مردانگی سے اُبل پڑے بنو عبس نے” ابرق “میں اور بنو ذیبان نے ”ذی القصہ “میں پڑاو¿ ڈال دیا۔اُن کے ساتھ بنو اسد اور بنو کنانہ کے بھی کچھ لوگ تھے۔اُن لوگوںنے متفق ہو کر چند آدمیوں کو بطور وفد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔اس وفد نے نماز کی کمی اور ذکوٰة کی معافی کی درخواست کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم!اگر ایک عقال(جس رسی سے اونٹ کے پاو¿ں باندھتے ہیں۔)بھی کم دیں گے تو میں تم سے جنگ کروں گا اور پانچ وقت کی نماز میں سے ایک رکعت کی بھی کمی نہیں کی جائے گی ۔(تاریخ ابن خلدون،جلد نمبر ۲)امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرما تے ہیںکہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو ملک عرب کے بعض لوگ مرتد ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن ذکوٰة نہیں دیں گے۔پس میں خلیفہ¿ اول کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا:”یا خلیفہ¿ رسول !لوگوں کی تالیف قلوب کیجیئے اور اُن کے ساتھ مرو¿ت اور نرمی کا برتاو¿ کیجیئے“۔یہ سُن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھے توتم سے بھر پور تعاون کی اُمید تھی اور تُم مجھے ہی پست کئے دے رہے ہو۔تم زمانہءجاہلیت(اسلام سے پہلے)میں تو بڑے جری اور بہادر تھے ، اسلام قبول کرنے کے بعد اس قدر کمزور پڑ گئے۔بتاو¿ میں کس طرح اُن کی تالیف قلب کروں؟اُن کے ساتھ باتیں بناو¿ں یا اُن پر افسوں اور جادو کر دوں؟افسوس صد افسوس،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے رب سے جاملے ہیں اور وحی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔اﷲ کی قسم!جب تک میرے ہاتھ میں تلوار ہے ،میں ذکوٰة نہ دینے والوں سے اُس وقت تک جنگ کرتا رہوں گا،جب تک کہ وہ ذکوٰة دینے میں راضی نہ ہو جائیں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اِس معاملہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو میں اپنے سے ذیادہ مستعد اور اجرائے احکام پر سخت پایا ہے۔امام ذہبی بیان کرتے ہیںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر جب چاروں طرف عام ہوئی توملک عرب کے بہت سے قبیلے مُرتد ہو گئے اور ادائیگی زکوٰة سے گریز کرنے لگے۔یہ صورت حال دیکھکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُن سے جنگ کا ارادہ کیا۔اُس وقت حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ اِس وقت اِن سے جنگ کرنا مناسب نہیں ہے۔یہ سُن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم!اگر یہ لوگ ایک رسی یا ایک بکری کا بچہ بھی جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں زکوٰة میں دیا کرتے تھے ،اب اُسے دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا۔“اِس پر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ کس طرح اُن لوگوں سے کس طرح جنگ کریں گے جب کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یہ فرما چکے ہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اُس وقت تک لڑوں ،جب تک وہ لا الٰہ الا ا ﷲ نہ کہیں(یعنی ایمان نہ لے آئیں)اور جس نے یہ کلمہ پڑھ لیا(یعنی ایمان لے آئے)اُس کا مال ،اُس کی جان اور اُس کا خون بہانامجھ پر منع کر دیا گیا ہے۔سوائے ادائے حق کے اور اُس کا حساب اﷲ کے ذمہ ہے۔جب یہ حکم موجود ہے تو آپ رضی اﷲ عنہ ان سے کس طرح جنگ کر سکتے ہیں؟“اس کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ا ﷲ کی قسم !میں اُن سے نماز اور زکوٰة میں فرق کرنے کی وجہ سے جنگ کروں گاکیونکہ زکوٰة بھی بیت المال کا حق ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حق پر جنگ کی جائے۔“یہ سُن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”اﷲ کی قسم !مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ حق پر ہیںاور اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کے دل کواِس جنگ کے لئے آگاہ کر دیا ہے۔(تاریخ الخلفائ،امام جلا ل الدین سیوطی،تاریخ ابن کثیر)
باغیوں سے جنگ
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا دو ٹوک جواب سُن کر باغیوںاور منکرین زکوٰة کا وفد واپس چلا گیا اور ساتھ ہی یہ جائزہ بھی لیتا گیا کہ مدینہ منورہ میں بہت کم مسلمان ہیں۔(کیونکہ زیادہ تر لشکر اُسامہ کے ساتھ گئے تھے۔)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ ءکرام رضی اﷲ عنہم کو جمع کر کے فرمایا:”تمہارے چاروں طرف دشمن ڈیرے ڈالے ہوئے ہے اور اُسے تمہاری کمزوریوں کا علم ہو گیا ہے۔نہ معلوم دن اور رات کے کس حصے میں وہ تم پر چڑھ آئیں،وہ تم اے ایک منزل کے فاصلے پر خیمہ زن ہیں۔ابھی تک وہ اِس اُمید میں تھے کہ شاید تم اُن کی شرائط قبول کر لو گے لیکن اب ہم نے اُن کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اس لئے وہ ضرور ہم پر حملہ کرنے کی تیاریاں کریں گے،تم بھی اپنے آپ کو لڑائی کے لئے تیار رکھو۔“(صدیق اکبر،خلفائے راشدین)اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ ،حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت زبیر بن عوام،اور حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم کو ایک دستہ دے کر مدینہ منورہ کے بیرونی راستوں پرمتعین کر دیااور باقی تمام لوگوں کوجنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا۔ اس طرح مدینہ منورہ کا ہر فرد ہنگامی حالات کے لئے تیار تھا اور باغی بھی تاک میں تھے۔آخرکا ر تین دنوں بعد باغیوں نے اچانک مدینہ منورہ پر حملہ کردیا۔بیرونی راستوں پر متعین دستوں نے فورا ً آپ رضی اﷲ عنہ کو خبر کردی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ہنگامی طور سے جنگ کا اعلان کروا دیا اورفوراً مسلمانوں کا لشکر تیار ہو گیا۔ باغیوں اور منکرین زکوٰة کا خیال تھا کہ مسلمان غفلت میں ہوں گے اور ہم انہیں آسانی سے قتل کر دیں گے لیکن اُن کا استقبال مسلمانوں کے تیار اور تر وتازہ لشکر نے کیا۔جس کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو سکے اور انہیں میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔مسلمانوں نے ذی حشب تک اُن کا پیچھا کیا۔وہاں باغیوں کی تازہ کمک موجود تھی۔
مسلمانوں کی فتح
علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمادی الآخر میں ذی القصہ پہنچے تو بنو عبس،بنو ذیبان،بنو مرہ،اور بنو کنانہ سے سامنا ہوا ۔اور طلیحہ نے اپنے بیٹے حبال کے ذریعے اُنہیں مدد دی۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو انہوں نے دھوکہ بازی کی اور لڑنے کے بجائے آس پاس کے پہاڑوں میں چھپ گئے اور اوپر سے آگ جلا جلا کر نیچے پھینکنے لگے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے اونٹ اور گھوڑے اتنی بُری طرح سے بھڑکے کہ سیدھے مدینہ منورہ پہنچ کر ہی دم لیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہی کا وار اُنہی پر پلٹانے کا منصوبہ بنایااور لشکر تیار کر کے خاموشی سے ذی القصہ تک پہنچے اور صبح تڑکے اچانک اُن پر حملہ کردیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے میمنہ پر حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا،میسرہ پر اُن کے بھائی حضرت عبد اﷲ بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا اور ساقہ پراُن دونوں کے بھائی حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا۔دشمنوں کو کوئی آہٹ بھی محسوس نہیں ہوئی اور مسلمان اُن پر ٹوٹ پڑے اور قتل کرنے لگے۔ابھی سورج طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ دشمن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی زیادہ تر سواریوں پر قبضہ کر لیااور حبال قتل ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی خلافت میں یہ پہلی فتح تھی۔
لشکر اُسامہ کی فتح اور واپسی
حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر بیس دن کا سفر طے کرنے کے بعد حدودِ شام میں مقام بلقاءپہنچے۔بلقاءکے قریب ہی جنگ موتہ ہوئی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو وہیں پڑاو¿ ڈالنے کا حکم دیااور بنو آبل اور بنو قضاعہ کی طرف صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے دستے بھیجے ،اِس میں اُنہیں بہت زبردست کامیابی ملی۔بہت سے رومی قتل ہوئے اور بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تمام ہدایتوں پر عمل کیا۔انہوں نے اپنے حملے رومی سرحدوں تک ہی محدود رکھے اور اندر داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ فتح حاصل کرنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو فوراًواپس کوچ کرنے کا حکم دیا۔اس فتح نے اسلام کی شان و شوکت میں اضافہ کیا۔جب حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ فاتح لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مہاجرین و انصار صحابہ رضی اﷲ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر آ کرپُر جوش استقبال کیا اور مدینہ منورہ میں ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔لشکر اُسامہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے لگ بھگ ستر (۰۷) دنوں بعد واپس آیا۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی گزارش مان لی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اس فتح سے دوسرے قبائل پر بھی اثر پڑا ،اور وہ لوگ اپنی اپنی زکوٰة لے کر مدینہ منورہ آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔یہ جنگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے ساٹھ دن بعد ہوئی اور اس کے کچھ ہی دن بعد لشکر اُسامہ بھی واپس آگیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجاہدین کو آرام کرنے کا مشورہ دیااور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ پر اپنا قائم مقام بنا کر لشکر لیکر ذی القصہ آئے ۔وہاں مقرن کے تینوں بیٹے حضرت نعمان،حضرت عبداﷲ اور حضرت سوید رضی اﷲ عنہم اپنی پہلی پوزیشنوں پر موجود تھے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کا ارادہ باغیوں کی سرکوبی کا تھا،جب آپ رضی اﷲ عنہ اونٹ سوار ہوئے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ اُس کی مہار پکڑے چل رہے تھے۔انہوں نے عرض کیا:”اے خلیفة الرسول!کہاں جانے کا ارادہ ہے؟میں آپ رضی اﷲ عنہ سے وہی بات کہتا ہوں جو (آپ نے)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرمائی تھی۔ہمیں مصیبت میں نہ ڈالیئے اور مدینہ منورہ واپس چلے جایئے۔اﷲ کی قسم!اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو کچھ ہو گیا تو ہمیشہ کے لئے اسلام کا نظام قائم نہیں ہو سکے گا۔“ایک اور روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ”آپ رضی اﷲ عنہ اپنی جگہ کسی اور بہادر کو بھیج دیں ۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی بات مان لی اور ذی القصہ سے گیارہ لشکروں کو روانہ کیااور مدینہ منورہ واپس آ گئے۔(تاریخ ابن کثیر)
گیارہ لشکروں کی روانگی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ایک ساتھ گیارہ لشکروں کو ہر طرف روانہ کیا۔ جب حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر نے آرام کرلیااور اُن کی سواریاں بھی تازہ دم ہو گئیں۔اُسی زمانے میں اتنے زیادہ صدقات و زکوٰةمدینہ منورہ میں وصول ہو کر آئے کہ مسلمانوں کی ضرورت پوری ہو کر بچ گئے۔حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے گیارہ لشکر تیار کئے اور اُن کے سپہ سالار مقرر کر کے گیارہ مقامات کی طرف روانہ فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔(1)اُمراءاور بہادر سرداروں کے سرخیل حضرت ابو سلیمان خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے۔امام احمد بن حنبل نے حضرت وحشی بن حرب کی روایت پیش کی کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مُرتدین سے جنگ کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے جھنڈا باندھا تو فرمایا:”میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ،اﷲ کا کیا ہی اچھا بندہ ہے اور ہمارا بھائی ہے جو اﷲ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔جسے اﷲ تعالیٰ نے کافروں اور منافقین کے خلاف سونتا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ذوالقصہ سے چلتے وقت آپ رضی اﷲ عنہ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ عنقریب اپنے ساتھی سپہ سالا روں سے خیبر کی جانب ملیں گے اور اعرابیوں کو ڈرانے والا مظاہرہ کریں گے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ سب سے پہلے طلیحہ اسدی کی طرف جائیں،پھر اس کے بعد بنو تمیم کی طرف جائیں۔(تاریخ ابن کثیر)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ پہلے طلیحہ بن خویلد اسدی کے مقابلے پر جائیں اور اُس سے فارغ ہو کربطاح میں مالک بن نویرہ سے لڑیں۔(2)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو بنایااور جھنڈادیکر انہیں حکم دیا کہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے پر جائیں۔(3)حضرت مہاجر بن ابی اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنایا اور جھنڈا دیکر آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ وہ اسود عنسی کی بچی کچی فوجوں کا مقابلہ کریںاور قیس بن مکثوح اور اُن دوسرے اہل یمن کے مقابلے میں جو ابناءسے لڑ رہے ہیں،اُن کے خلاف ابناءکی مدد کریںاور اُن سے فارغ ہو کر بنو کندہ سے مقابلہ کرنے کے لئے حضر موت چلے جائیں۔(4)ایک لشکرکا سپہ سالار حضرت سعید بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کو بنایا(جو اُسی زمانے میں یمن میںپھیلی بد نظمی کی وجہ سے مدینہ منورہ واپس آ گئے تھے۔)اُن کو ایک جھنڈا دیکر حمقتین بھیجا،جوملک شام کی سرحد پر ہے۔(5)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو جھنڈا دیکر بنو قضاعہ ،بنو ودیعہ اور بنو حارث کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا۔(6)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت حذیفہ بن محصن غطفانی کو بنایااور اُنہیںجھنڈا دیکر حکم دیا کہ وہ بنو دیا کے مقابلے پر جائیں۔(7)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عرفجحہ بن ہر شمہ کو بنایا۔اُنہیں جھنڈا دیکر مہرہ جانے کا حکم دیااور ہدایت کی کہ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مہر ہ میں اکٹھا ہو جائیں مگر جو جو علاقے اُنہیں دیئے گئے ہیں،اُن میں وہ ایک دوسرے پر امیر رہیں گے۔(8)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو بنایااور جھنڈا دیکر حکم دیا کہ تم حضرت عکرمہ بن ابی جہل کے پیچھے جاو¿ اور یمامہ سے فارغ ہو کر تم بنو قضاعہ چلے جانااور مُرتدین سے جنگ کے موقع پر تم اپنے لشکر کے آزاد سپہ سالار رہو گے۔(9)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکرکاسپہ سالار حضرت طریفہ بن حاجز رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو حکم دیا کہ وہ بنو سلیم اور ان کے ساتھی بنو ہوازن کے مقابلے پر جائیں۔(10)ایک لشکر کا سپہ سالارحضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو حکم دیا کہ وہ یمن کے علاقہ تہامہ کی طرف جائیں۔ (11) ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت علاءالحضرمی رضی اﷲ عنہ کو بنایااور بحرین کی طرف جانے کا حکم دیا ۔یہ تمام سپہ سالاراپنے اپنے لشکر کے ساتھ ذی القصہ سے اپنی اپنی سمت روانہ ہوئے۔(تاریخ طبری)
سپہ سالاروں کے نام خط
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں کو ایک ایک خط دیا،سب کا مضمون حسب ذیل تھا۔”یہ فرمان ابو بکر صدیق خلیفہ رسول (رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی طرف سے فلاں شخص(سپہ سالار) کے لئے لکھا گیا ہے۔جب انہوں نے اُسے مسلمانوں کی فوج کے ساتھ مُرتدین سے لڑنے کے لئے روانہ کیا۔میں نے اِ ن سپہ سالاروں کو اِس شرط پر یہ منصب دیا کہ وہ دل میں اور علانیہ جہاں تک ہو سکے ،ا ﷲ کے معاملے میں ڈرتے رہیں گے اور مرتدین کے مقابلے میں خلوص نیت کے ساتھ پوری سعی کریں گے اور اُن سے اﷲ کے لئے لڑیں گے۔ہاں مگر اِس سے پہلے وہ اُن کو اپنی اصلاح کا موقع دیں گے اور اسلام کی دعوت دیں گے تاکہ اگر وہ اسے قبول کریں تو اُن سے کوئی تعارض نہیں کیا جائے اور اگر انکار کر دیں تو فوراً اُن سے جنگ کی جائے۔یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں،تب اُن کو اُن کے حقوق و فرائض بتائے جائیںاور جو اُن پر واجب الادا ہو ،وہ وصول کیا جائے اور جس کے وہ مستحق ہوںوہ اُن کو دیا جائے۔اِس معاملے میں اُن کو ہر گز مہلت نہ دی جائے اور جب تک یہ اغراض حاصل نہ ہو جائیں تب تک مسلمانوں کو جہاد سے واپس نہ لایا جائے۔جو شخص اﷲکی بات تسلیم کر کے اُس کا اقرار کر لے،اُس کے ایمان کو قبول کر کے تپاک کے ساتھ دین پر قیام کے لئے اُس کی مدد کی جائے۔اور اُن لوگوں سے بھی جہاد کیا جائے جو ایک طرف اﷲ کے پیغام کا اقرار کرتے ہیں اور پھر اﷲ کے حکم سے انکار کرتے ہیں۔البتہ اگر وہ ہماری دعوت قبول کرلیں تو اُن سے کوئی تعارض نہیں کیا جائے ۔اگر انہوں نے نفاق سے کام لیا ہو گاتوایسی صورت میں اﷲ تعالیٰ آخرت میں اُن سے حساب لے گا۔اگراﷲ تعالیٰ فتح عطا فرمائے توجو مال غنیمت دستیاب ہو تواُس میں سے پانچواں حصہ الگ کر کے باقی مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے اور پانچواں حصہ ہمیں بھیج دیا جائے۔سپہ سالار کو چاہیئے کہ وہ اپنے سپاہیوں کو جلد بازی اور فساد سے روکے اور اِن میں غیر آدمی کو اُس وقت تک شامل نہ ہونے دے،جب تک کہ اُس کے بارے میں تحقیق کر کے اطمینان نہ کر لے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دشمن کا جاسوس ہو اور اس طرح بے خبری میں مسلمانوں پر کوئی حملہ ہو جائے۔سفر اور قیام میں مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور میانہ روی اختیار کرے اور اُن کی خبر گیری کرتا رہے اور مسلمانوں کے ساتھ برتاو¿ اور گفتار میں ہمیشہ خوش خلقی اور ملائم لہجہ اختیار کرے۔“ (تاریخ طبری)
طلیحہ کا لشکر جمع کرنا
ادھر مدینہ منورہ میں ہنگامی حالات چل رہے تھے،اور اُدھر جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا طلیحہ لشکر جمع کر رہا تھا اور اس کے لئے اُس نے اپنے آس پاس کے قبائل کو بھی اپنے لشکر میں شامل ہونے کی دعوت دی۔جسے قبول کر کے قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان،اور اُن کے ما تحت قبائل آکر اُس کے لشکر میں شامل ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جب بنو عبس،بنو ذیبان اور ان کے توابع بزاخہ میں جمع ہو گئے ۔ تب طلیحہ نے بنو جدیلہ اور بنو غوث کو کہلا بھیجا کہ تم میرے پاس آجاو¿۔ان قبائل کے کچھ لوگ تو فوراً ہی اُس کے پاس پہنچ گئے اور اپنی قوم والوں کو ہدایت دی کہ تم بھی ہم سے آ ملو اور وہ سب کے سب طلیحہ کے ساتھ ہو گئے۔(تاریخ طبری)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔طلیحہ بن خویلد اسدی اپنی قوم بنو اسد اور بنو غطفان میں تھا۔اور بنو عبس اور بنو ذیبان اُس کے ساتھ شامل ہو چکے تھے۔ حاتم طائی کے قبیلہ بنو طے،بنو غوث،اور بنو جدیلہ کو بھی طلیحہ نے اپنے لشکر میں شامل ہو نے کے لئے بلایا،تو انہوں نے اپنے جوانوں کو اُس کے لشکر میں شامل ہونے کے لئے بھیج دیا۔
حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ کی کامیابی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روانہ کر نے سے پہلے حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ (حا تم طائی کے بیٹے)کو اُن کے قبیلے بنو طے میں انہیں سمجھانے کے لئے بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قبل اس کے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روانہ کریں۔انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ تم فوراً اپنی قوم کے پاس جاو¿۔ایسا نہ ہو کہ اِس ہنگامے میں وہ برباد ہو جائیں۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ڈروہ اور غارب میں انہوں نے اُن کو روک لیا۔اُن کے بعد ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ روانہ ہوئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ پہلے وہ اکناف پر بنو طے سے شروع کریں،اور پھر بزاخہ کا رُخ کریںاور وہاں سے آخر میں بطاخ کی طرف جائیںاور جب وہ دشمن سے فارغ ہو جائیں،تو جب تک کہ نئے احکام موصول نہ ہوں وہ ان کا قصد نہ کریں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر روانہ ہوئے اور بزاخہ سے انہوں نے کنائی کاٹ کر آجا کا رُخ کیااور یہ ظاہر کیا کہ اب تو وہ خیبر جا رہے ہیں ،پھر وہاں سے اُن کے مقابلے پر پلٹیں گے۔اس خیال سے بنو طے اپنی جگہ بیٹھے رہے اور طلیحہ کے پاس نہیں گئے۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے کہا ؛”ہم ابو الفصیل کی کبھی بیعت نہیں کریں گے۔“حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا:”تمہارے مقابلے پر ایسی فوج آرہی ہے کہ تمہارا گھر بار لوٹ کر برباد کر دے گی اور اُس وقت تم حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو” ابوالفحل الاکبر “کی کنیت سے یاد کرو گے۔میری بات نہیں مانتے تو تم جانو ،تم ہی اُس شخص سے نپٹ لینا۔“بنو طے کے لوگوں نے کہا ؛”اچھا تم اُس حملہ آور فوج سے جا کر ملواور اُسے ہم پر یورش کرنے سے روکو تاکہ اِس دوران میں ہم اپنے ان ہم قوم لوگوں کو جو بزاخہ میں ہیں واپس بلا لیں۔ یہ بات اِس لئے ضروری ہے کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اب جبکہ ہمارے لوگ طلیحہ کے ہاتھ میں ہیں ، اگر ہم نے ابھی طلیحہ کی مخالفت کا اعلان کر دیا تو وہ یا تو اُن سب کو قتل کردے گایا اُن کو یر غمال کی حیثیت سے قید میں رکھے گا۔
قبیلہ بنو طے کی اسلام میں واپسی
حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ وہاں سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔جو اُس وقت تک لشکر لیکر ”مقام سخ“تک آچکے تھے۔انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”مہر بانی فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ مجھے تین دن کی مہلت دیںاور میری قوم کے خلاف کاروائی شروع نہ کریں۔مجھے اُمید ہے کہ قبیلہ بنو طے کے پانچ سو جنگجو تمھارے ساتھ ہو جائیں گے،جن کے ساتھ تم دشمن کا مقابلہ کرنا اور یہ بات اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں جہنم واصل کر دو اور اِس کے لئے اُن سے جنگ کرو۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن کی تجویز مان لی۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔وہ لوگ پہلے ہی اپنی قوم کے لوگوں کو واپس بلانے کے لئے اپنے آدمی بھیج چکے تھے۔اُن لوگوں نے طلیحہ سے کہا کہ مسلمانوں کا لشکر ہو سکتا ہے ہم پر حملہ کردے ،اُن سے مقابلے کے لئے ہمارا اپنے قبیلے میں رہنا ضروری ہے۔اس طرح سب لوگ واپس آ گئے۔اگر یہ ترکیب نہ لگاتے تو مُرتدین انہیں واپس نہیں آنے دیتے۔اُن سب کو مسلمان بنا کر حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آ کر اُن کے اسلام میں واپس آنے کی اطلاع دی۔
بنو غوث اور بنو جدیلہ کی اسلام میں واپسی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جب قبیلہ بنو طے کے اسلام کی خبر سنی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے بنو جدیلہ سے مقابلے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔یہ دیکھ کر حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے جلدی سے کہا:”بنو طے کی مثال ایک پرندے کے جیسی ہے ،جس کے ایک بازو میں بنو جدیلہ رہتے ہیںاور دوسرے بازو میں بنو غوث رہتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ مجھے چند روز کی مہلت دیں،شاید اﷲ تعالیٰ انہیں بھی گمراہی سے نکال لے ،جیسے بنو غوث کو نکالا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسکرانے لگے اور تین دن کی مہلت دے دی۔حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ بنو جدیلہ کے پاس آئے اور انہیں سمجھاتے رہے۔انہوں نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کی بات نہیں مانی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا اور مسلسل سمجھاتے رہے۔آخر کار بات اُن کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے اسلام میں واپسی کی اور ایک ہزار شترسوار(اونٹ سوار)جنگجو دیئے۔حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ انہیں لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کے اسلام لانے کی بشارت دی اور ایک ہزار شتر سوار جنگجو اسلامی لشکر کے لئے پیش کئے، جبکہ پانچ سو جنگجو بنو طے سے بھی لائے تھے۔ اس طرح حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ سے زیادہ با برکت اور موجب سعادت شخص بنو طے میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔
طلیحہ اسدی کا دعویٰ
رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ ¿ مبارک میں ہی طلیحہ بن خویلد اسدی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں طلیحہ اسدی مُرتد ہو کر سمیرا میں آکر مقیم ہو گیا تھا۔یہ کاہن تھا،اس نے دعوائے نبوت کیا تھااور بنی اسرائیل کے چند فرقے اس کے مطیع ہو گئے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کی سرکوبی کرنے کے لئے حضرت ضرار بن الازور رضی اﷲ عنہ کی سر کر دگی میں چند مسلمانوں کو روانہ فرمایا تھا۔ابھی طلیحہ کی سرکوبی نہیں ہونے پائی تھی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر مشہور ہو گئی۔جس سے طلیحہ کے کاموں میں ایک گونہ استحکام پیدا ہوااور بنو غطفان و بنو ہوازن اس کے حامی ہو گئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی طلیحہ اسدی مُرتد ہو گیا تھا اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو عیینہ بن حصن ،بدر سے اُس کی مدد کو کھڑا ہو گیا اور اسلام سے مُرتد ہو گیا۔اُس نے اپنی قوم سے کہا:”ا ﷲ کی قسم ! بنو ہاشم کے نبی کی نسبت مجھے بنو اسد کا نبی زیادہ محبوب ہے۔محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کا وصال ہو گیا ہے اور یہ طلیحہ ہے ،اس کی اتباع کرو اور اُسکی قوم بنو فزارہ نے اُس کی بات سے اتفاق کیا۔
طلیحہ کی شکست
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ کے انتظار میں تھے تو اسی دوران گشتی دستے لشکر کے آس پاس گشت کرتے رہتے تھے۔ایسے ہی ایک گشت کے دوران حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہ اور حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ کا سامناطلیحہ اسدی اور اُسکے بھائی مسلمہ اسدی سے ہو گیاجو اتفاق سے وہ بھی گشت پر نکلے تھے۔فریقین میں زبردست مقابلہ ہوا اور حضرت عکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہم شہید ہو گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو دونوں کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر طلیحہ اسدی کے مقابلے پرآئے اور بزاخہ میں اُس کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔آس پاس کے اعرابی قبائل بھی جمع ہوگئے لیکن وہ جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور دور کھڑے دیکھ رہے تھے کہ کس کی فتح ہوتی ہے اور کس کی شکست؟طلیحہ اسدی اپنے قبیلہ اور دوسرے کئی قبائل کا لشکر لیکر میدان میں آیا۔اُس میں عیینہ بن حصن بھی بنو فزارہ کے سات سو جنگجوو¿ں کے ساتھ تھا۔ طلیحہ نے عیینہ کو سپہ سالار بنایااور جب جنگ شروع ہوئی تو اُس نے عیینہ سے کہا کہ تم جنگ لڑو ،میں اپنے خیمے میں وحی کا انتظار کرتا ہوںاور اپنے خیمے میں آکر چادر اوڑھ کر بیٹھ گیا۔عیینہ جنگ لڑتا رہااور اس کے لشکر کے سپاہی مرتے جارہے تھے۔وہ جلدی سے آیا اور طلیحہ سے پوچھا کہ کیا جبرئیل تمہارے پاس آیا ؟طلیحہ نے جواب دیا ؛”نہیں! تم ابھی جنگ پر توجہ دو۔“عیینہ چلا گیا لیکن ہر محاذپر اس کا لشکر مات کھا رہا تھا۔کچھ دیر بعد آکر اُس نے پر پوچھا تو جواب نہیں میں تھا۔تیسری مرتبہ آکر اُس نے پوچھا تو طلیحہ نے کہا ؛”یہ وحی آئی ہے کہ تیرے پاس بھی ویسی ہی چکی ہے جیسی مسلمانوں کے پاس ہے۔تیرا ذکر بھی ایسا ہے جسے تُو کبھی نہیں بھولے گا۔“عیینہ نے یہ بے تکے الفاظ سنے تو غصہ سے بے قابو ہو گیا اور بولا؛”بے شک اﷲ کو معلوم ہے کہ عنقریب ایسے واقعات پیش آئیں گے کہ تُو کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔“تاریخ ابن خلدون میں یہ الفاظ ہیں۔طلیحہ نے کہا:”جبرئیل مجھ سے کہہ گیا ہے کہ تیرے لئے جو قسمت میں لکھا ہے ،وہی ہو گا۔“یہ سُن کر عیینہ نے کہا :”اے بنو فزارہ !یہ شخص کذاب(جھوٹا) ہے۔“ اور اس کے بعدبنو فزارہ سے کہا کہ واپس چلو۔یہ سنتے ہی بنو فزارہ نے راہِ فرار اختیار کی ۔مسلمانوں نے اُن کا پیچھا کر کے گرفتارکرنا شروع کر دیا،عیینہ اور اُس کے بہت سے ساتھی گرفتار ہو ئے۔ادھر بنو فزارہ کے فرار کے بعد بقیہ لشکر طلیحہ کے گِرد جمع ہو گیااور پوچھا کہ اگلا حکم کیا ہے؟تو طلیحہ اسدی نے کہا کہ اپنی اپنی جان بچا کر بھاگواور اپنی بیوی کو لیکر گھوڑے پر سوار ہو کر ملک شام کی طرف بھاگ گیا۔مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور طلیحہ کی جھوٹی نبوت کا طلسم ٹوٹ گیا۔یہ دیکھکر اُس کے ساتھیوں نے ہتھیار رکھ دیئے اور اسلام قبول کر لیا۔گرفتار شدہ لوگوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مدینہ منورہ بھیج دیا۔جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں سمجھایا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں رہا کردیا۔ادھر ملک شام میں جب طلیحہ کو معلوم ہوا کہ اُس کے ساتھیوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ،تو وہ بھی مسلمان ہو گیا۔
چھ قبیلوں کی اسلام میں واپسی
حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ اور طلیحہ کی جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے اور جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔اِن میں بنو عامر،بنو سلیم اور دوسرے چار قبائل تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے طلیحہ اور بنو فزارہ کو بُری طرح شکست دی، تو اِن دونوں قبیلوں اور چھ اور قبیلوں نے خود سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضری دی اور کہنے لگے کہ ہم نے جس دین کو چھوڑا ہے ،اُس میں پھر سے داخل ہوتے ہیں اور ہم ا ﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیںاور اپنی جان اور مال کے متعلق اﷲ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے اُن کی بات کو قبول کیا اور معاف کردیا۔اِن میں سے بہت سے جنگجو آپ رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔قبیلہ بنو طے ،بنو غوث اور بنو جدیلہ کے لگ بھگ دوہزار جنگجوحضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ کی کوششوں سے پہلے ہی بغیر جنگ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔اس طرح آپ رضی اﷲ عنہ جو لشکر لیکر مدینہ منورہ سے چلے تھے،اُس میں کئی ہزار جنگجوو¿ں کا اضافہ ہو گیااور لشکر کافی بڑا ہو گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے لگ بھگ ایک مہینہ بزاخہ میں قیام کیا اور آس پاس کے مُرتدین کا چن چن کر قتل کرتے رہے۔یہ آپ رضی اﷲ عنہ نے اس لئے کیا تاکہ دوسرے مُرتدین پر مسلمانوں کی ہیبت طاری ہو جائے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کا خط
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد تمام قیدیوں کو مدینہ منورہ خلیفہ اول کی خدمت میں روانہ کیا اور ساتھ ہی ایک خط بھی روانہ کیا۔ اس میں لکھا کہ” اﷲ تعالیٰ نے طلیحہ کے مقابلے میں مسلمانوں فتح عطا فرمائی ہے اور بنو عامر اور کئی قبائل نے اسلام سے رو گردانی اور انتظار کے بعد خود حاضر ہو کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔جن قبائل سے میری جنگ ہوئی یا جن قبائل نے بغیر جنگ کے اسلام قبول کر لیا ہے۔اُن سب پر میں نے یہ شرط لازم کر دی ہے کہ وہ اُن تمام لوگوں کو جنہوں نے ارتداد کے زمانے میں مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے تھے،جب تک انہیں میرے حوالے نہیں کریں گے تب تک میں اُن سے مصالحت نہیں کرو ں گا۔انہوں نے میری شرط مان لی ہے اور ایسے تمام مجرموں کو میرے حوالے کر دیا ہے۔میںنے اُن کو طر ح طرح کے عذاب دے کر قتل کیا ہے تاکہ پھر کوئی شخص مسلمانوں پر ظلم کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔البتہ قیدیوں کو آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔“حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے جواب میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا کہ”جو کچھ تم نے کیا اور جو کامیابی تم کو حاصل ہوئی ،اﷲ تعالیٰ تم کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائے ۔ تم ہر کام میں اﷲ سے ڈرتے رہوکیونکہ اﷲ اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے اور نیکی کرتے رہتے ہیں۔تم اﷲ کے اِس کام میں پوری جد و جہد کرواور تساہلی نہیں کرنااور جس کسی ایسے شخص پر جس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہوتمہارا قابو چل جائے تو اُسے بے دریغ قتل کر کے دوسروں کے لئے باعث عبرت بنانااور جس شخص نے اﷲ کی مخالفت کی ہواور تم اسے قتل کردینے میں اسلام کی بھلائی سمجھتے ہو تو بے دریغ قتل کر دینا۔“(تاریخ طبری)
حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کا وظیفہ
حضرت ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کو جب خلیفہ بنایا گیا تو لو گوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”یا خلفیة اﷲ“کہہ کر پکارا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں،یعنی ”خلیفة الرسول“اور یہی مجھے پسند ہے۔“(مسند احمد،تاریخ الخلفائ)خلیفہ بننے کے دوسرے روز حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کچھ چادریں لیکر تجارت کی غرض سے بازار جا رہے تھے ،کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مل گئے، اور عرض کیا:آپ رضی اﷲ عنہ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟“انہوں نے فرمایا:”میں اپنے اہل و عیال کے لئے حلال رزق کمانے جارہا ہوں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اب آپ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ ہو گئے ہیںاس لئے یہ کام چھوڑ دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر میں یہ کام چھوڑ دوں تو میرے اہل و عیال کہاں سے کھائیں اور پہنیں گے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”آپ رضی ا ﷲ عنہ واپس چلیئے اور پھر انہیں لیکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا کہ ایک اوسط درجے کے مہاجر کی خوراک کا اندازہ کر کے ، روزآنہ کی خوراک اور موسم سرما اور موسم گرما کا لباس اِن کے لئے (بیت المال) سے مہیا کریںلیکن اِس طرح کہ جب وہ پھٹ جائے تو اُسے واپس لیکر ہی نیا اُس کے عوض میں دیں۔اِن حضرات رضی اﷲ عنہم نے اُن کے لئے آدھی بکری کا گوشت ،تن ڈھانکنے کے لائق کپڑا اور پیٹ بھر روٹی مقرر کر دی۔امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ کا سالانہ یومیہ وظیفہ سال کا دوہزار درہم مقرر ہوا۔(روزآنہ لگ بھگ ساڑھے پانچ درہم)اس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میرے گھر کے لوگ زیادہ ہیں،اتنے وظیفہ میں گزر اوقات نہیں ہو سکتی اور تم نے مجھ پر خلافت کا بوجھ ڈال کر تجارت کرنے سے بھی روک دیا ہے۔لہٰذا اِس میں کچھ اضافہ کرنا چاہیئے ۔“آپ رضی اﷲ عنہ کی اِس درخواست پر پانچ سودرہم (روزآنہ لگ بھگ سات درہم)سالانہ کا اضافہ کر دیا گیا۔(طبقات ابن سعد،تاریخ الخلفائ)
اُم رمل یا زمل سلمیٰ بنت حاکم کا لشکر جمع کرنا
حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے بزاخہ میں مُرتدین کو شکست دی۔اُن میں سے بہت سے لوگ فرار ہو کر حواب میں جا کر جمع ہو گئے۔یہاں پر ایک عورت اُم رمل یا اُم زمل(تاریخ طبری میں اُم رمل ہے،اور تاریخ ابن کثیر میں اُم زمل ہے)سلمیٰ بنت مالک رہتی تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اس کے بعد قبائل بنو غطفان اور بنو سلیم وغیرہ کے بقیہ لوگ سلمیٰ بنت مالک کے پاس حواب میں جا کر جمع ہو گئے،اور اُسے اپنا پیشوا بنا لیا ۔یہ سلمیٰ وہی ہے جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں قید ہو کر آئی تھی۔اتفاق سے اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے ملاقات ہوئی تو آپ رضی اﷲ عنہا نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کر کے آزاد کرادیا تھا۔اس کے بعد یہ اپنی قوم میں لوٹ آئی تو مُرتد ہو گئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔غرض یہ کہ یہ تمام مفرور لوگ سلمیٰ بنت مالک کے پاس جو عزت میں اُن کی ماں کے جیسی تھی جمع ہوگئے،اُس کے پاس اس کی ماں اُم فرقہ کا اونٹ تھا۔جب تمام بھگوڑے اُس کے پاس جمع ہوئے تو اُس نے ان لوگوں کو انکی شکست پر غیرت دلائی اور جنگ کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔اس کے بعد اُس نے خود بھی قبیلوں کا دورہ کیا اور قبائل میں گھو م گھوم کر اُن کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اُکسایا۔اس طرح اُس کے پاس ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا۔اُس نے لوگوں کو جمع کرنے کے لئے حواب سے بنو ظفر تک کے کئی چکر لگائے اور قبیلہ بنو غطفان،قبیلہ، بنو ہوازن،قبیلہ بنو سلیم ،قبہلہ بنو اسد اور قبیلہ بنو طے کے وہ تمام لوگ جو جنگ سے فرار ہو کر بے یار و مدد گار مصیبت کے دن بسر کر رہے تھے،اُس کے پاس ایک اور کوشش کے لئے جمع ہو گئے۔یہ تمام کاروائی اُس نے حضرت خالد بن ولید کے بزاخہ میں ایک مہینے کے قیام کے دوران مکمل کی۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔سلمیٰ بنت مالک اپنی ماں اُم فرقہ کی طرح سیدات العرب میں سے تھی اور کثرت ِاولاد اور قبیلے اور گھرانے کی عزت کی وجہ سے اُس کی ما ںکی مثال بیان کی جاتی تھی۔جب وہ اکٹھے ہو کر اُس کے پاس گئے تو اُس نے انہیں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خلاف جنگ کے لئے اُکسایا۔
شمالی مشرقی عرب سے ارتداد کا خاتمہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ میں قیام پذیر تھے اور آس پاس کے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے جاسوس سلمیٰ اور اُس کے لشکر کے بارے میں ایک ایک رپورٹ دے رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اس کی اطلاع ملی،اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ مجرموں کی گرفتاری،زکوٰة کی وصولی،دعوت اسلام اور لوگوں کی تسکین میں منہمک تھے۔اس کے بعد اس عورت کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے تب تک اُس کی شان و شوکت اور طاقت بہت بڑھ چکی تھی اور اُس کا مقابلہ آسان نہیں تھا۔دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا ،سلمیٰ خود اپنے اونٹ پر سوار میدان جنگ میں موجود تھی جسکی وجہ سے اُس کے سپاہیوں کا حوصلہ بہت بلند تھا اور بہت خوںریز جنگ ہو رہی تھی۔مسلمان بھر پور کوشش کر رہے تھے کہ اُس کے اونٹ تک پہنچ جائیں لیکن اُس کے اونٹ تک پہنچنا بہت مشکل ہورہا تھا۔آخر کار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ ملکر اتنا شدید حملہ کیا کہ اُس کے گرد کا حفاظتی گھیرا ٹوٹ گیا اور بہت سے مُرتدوں کو قتل کرنے کے بعد مسلمان اُس کے اونٹ تک پہنچ گئے اور اُسے ذبح کر ڈالااور سلمیٰ کا قتل کردیا۔اُسکے قتل ہوتے ہی اُس کے حامیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی اور دشمنوں کو کامل شکست ہو گئی۔اس طر ح شمال مشرقی عرب سے ارتداد کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے اِس فتح کی خوش خبری مدینہ منورہ بھیجی۔
دھوکے باز ی اور غداری کی سزا
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ اور حواب میں مصروف تھے۔اِسی دوران مدینہ منورہ میں حضرت ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس بنو سُلیم کا ایک شخص فجاہ¿ ایاس بن عبداﷲ بن عبد یالیل آیا اور بولا:”میں مسلمان ہوں اور مُرتدوں سے جہاد کرنا چاہتا ہوں۔آپ رضی اﷲ عنہ سواری اور اسلحہ سے میری مدد کریںاور فوج دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اسے سواری ،اسلحہ اور فوج دی۔وہ مدینہ منورہ سے نکل کر جون یا جواءکے مقام پر پہنچا اور بنو شرید کے نجبة بن ابی المثنیٰ مُرتد سے مل گیااور یہ دونوں مسلمانوں پر شب خون مارنے لگے۔یہ وہاں سے چلکر مفصلات میں آیااور وہاں ہر آنے جانے مسلمان اور مُرتد سے زبردستی مال وصول کرنے لگا اور جو اُسے مال نہیں دیتا تھا تو وہ چاہے مسلمان ہو یا مُرتد اُسے یہ قتل کر دیتا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اسکی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت طریقہ بن حاجز کو خط لکھا کہ اﷲ کے دشمن فجاہ نے دھوکہ بازی کی اور جھوٹ بول کر مسلمانوں کا اسلحہ اور سواریاں لیںاور مسلمانوںکو ہی قتل کررہا ہے۔اس کے ساتھ بنوشرید کا نجبة بن ابی المثنیٰ ہے۔تم اپنے ساتھ مسلمانوں کو لیکر جاو¿ اور اس اﷲ کے دشمن کو قتل کردو یا پھر زندہ گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔حضرت طریقہ بن حاجز مسلمانوں کو لیکر اُس کے مقابلے پر گئے ۔دونوں لشکروں میں پہلے تیراندازی کا مقابلہ ہوا،مسلمانوں نے بہت زبردست تیر اندازی کی اور تیروں کی اتنی زبر دست بارش کی کہ پہلے ہی ہلے میں نجبة کو تیر لگا اور وہ ہلاک ہو گیا۔فجاہ نے مسلمانوں کی شجاعت ،سعی اور ثابت قدمی دیکھی تو وہ سہم گیا ۔پھر بھی اُس نے کہا۔اِس کام کے تم مجھ سے زیادہ حقدار نہیں ہو کیونکہ مجھے بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے امیر مقرر کیا ہے اور تمہیں بھی۔حضرت طریقہ بن حاجز نے فرمایاکہ اگر تو سچا ہے تو ہتھیار رکھ دے اور میرے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل۔اس طر ح حضرت طریقہ بن حاجز اُسے لیکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت طریقہ بن حاجز سے فرمایا کی اسے البقیع میں لے جاو¿ ،اور آگ میں جلا دو۔حضرت طریقہ اُسے عید گاہ لائے ،آگ جلوائی اور اِس میں اُسے زندہ جلا دیا۔تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت طریقہ نے اُسے جلایااور تاریخ ابن خلدون اور تاریخ ابن کثیر میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُسے جلایااور اﷲ تعالیٰ ،اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے دھوکہ اور غداری کی سزا دی تاکہ یہ واقعہ بقیہ لوگوں کے لئے عبرت ثابت ہو۔
خلیفہ بننے کے بعد معمولات
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے جو معمولات پہلے تھے ،خلیفہ بننے کے بعد بھی وہی معمولات رہے اور خلافت کی بھاری ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ساتھ آپ رضی اﷲ عنہ نے گھریلو اور معاشرتی ذمہ داریوں کو اُسی طرح نبھایا ،جیسے پہلے نبھاتے تھے۔امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔بیعت کے بعد بھی چھ مہینے تک حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ وہیں ”مقام سخ“(یہاں حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کی بیوی رہتی تھی اور یہ مقام مدینہ منورہ سے ایک کوس کے فاصلے پر ہے)میں مقیم رہے۔صبح کو کبھی کبھی پیدل مدینہ منورہ آتے اور اکثر گھوڑے پر سوار ہو کر آتے تھے۔ جسم پر تہبند اور چادرہوتی تھی،جو گیرو میں رنگی ہوتی تھی۔وہ مدینہ منورہ میں رہتے اور (خلافت کے اُمور نبٹانے کے ساتھ ساتھ)سب نمازیں لوگوں کو پڑھاتے جب (پانچوں وقت کی)نماز پڑھا کر فارغ ہو جاتے تو اپنے گھر والوں کے پاس ”سخ“واپس آجاتے۔ اگر کسی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ نماز کے وقت نہیں پہنچ پاتے تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔جمعہ کے روز دِن نکلنے تک ”سخ“میں ہی رہتے اور اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو مہندی (کے خضاب)میں رنگتے تھے۔اپنی بکریوں کی دیکھ بھال کرتے ،انہیں چارا دیتے اور اُن کے دودھ دُوہتے تھے۔خلیفہ بننے کے بعد محلے (یا قبیلے)کی ایک لڑکی نے کہا کہ اب ہمارے گھر کی اُونٹنیاںنہیں دوہی جائیں گی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب یہ سُنا تو مسکراتے ہوئے فرمایا:”کیوں نہیں!میں تمہارے لئے ضرور دُوہوں گااور مجھے اُمید ہے کہ جس چیز کو(خلافت کو) میںنے اختیار کیا ہے ،وہ مجھے اِس عادت سے نہیں روکے گی جس پر میں تھا۔“اکثر وہ اپنے محلے یا قبیلے کی لڑکیوں سے فرماتے کہ اے لڑکی !تُو کیا چاہتی ہے کہ میں تیرے دودھ میں پھین اُٹھا دوں یا اُسے بغیر پھین کے رہنے دوں۔جو وہ کہتی تھی آپ رضی اﷲ عنہ ویسا ہی کر دیتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ لگ بھگ چھ مہینے تک”سخ“میں رہے،اس کے بعد مدینہ منورہ میں آکر مقیم ہو گئے۔
مسیلمہ کذاب کی گستاخی
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیاتھا۔اسود عنسی کے قتل کی خبر خود آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے دی تھی لیکن مسیلمہ کذاب بدستور اپنی طاقت بڑھاتا رہا۔اسی دوران آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور اس کے بعد طلیحہ ،سلمیٰ اورسجاح نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیاتھا۔طلیحہ اور سلمیٰ کا انجام تو اوپر ذکر ہو چکا ہے اور سجاح کا ذکر ہم آگے کریں گے لیکن اُس سے پہلے مسیلمہ کذاب کے بارے میں بتا دیں ،تا کہ تسلسل قائم رہے۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کا وفد ۹ ھجری میں حاضر ہوا ۔اِس وفد میں مشہور چالاک ،فتنہ باز مُسیلمہ کِذّاب(جھوٹا )بھی تھا۔وفد کے تمام ارکان آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے لیکن وہ بد بخت کذاب گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے نہیں آیااور اونٹوں کے پاس ہی بیٹھا رہا۔آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو جب اس بد بخت کے بارے میں معلوم ہوا تو اُس کی دلجوئی کے خیال سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے پاس تشریف لے گئے۔ساتھ میں حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔اُس بد بخت جھوٹے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ اگر آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم ) مجھ کو اپنی خلافت عطا فرمائیںاور اپنے بعد مجھ کو اپنا قائم مقام مقرر کریں تو میں بیعت کرنے کو تیار ہوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک میں اُس وقت کھجور کی چھڑی تھی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اگر تُو یہ چھڑی بھی مانگے گا تو میں نہیں دوں گااور اﷲ تعالیٰ نے تیرے لئے جتنا مقدر فرما دیا ہے،اُتنا ہی ملے گا اور غالباًتُو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھااور یہ ثابت بن قیس رضی اﷲ عنہ تیری بات کا جواب دیں گے۔اتنا فرما کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔(فتح الباری،المواہب الدنیا)
دو کذابوں(جھوٹوں) کے بارے میں خواب
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس جھوٹے بد بخت کے پاس سے تشریف لے آئے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:”میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا:” رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو کون سا خواب دکھلایا گیا تھا؟“اُنہوں نے فرمایا:”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن لا کر رکھے گئے جس سے میں گھبرا گیا۔خواب میں ہی مجھے کہا گیا کہ اِن پر پھونک مارو،میں نے پھونک ماری تو وہ فوراً اُڑ گئے۔جس کی تعبیر یہ ہے کہ دو کذاب(جھوٹے )ظاہر ہوں گے۔“حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں:”اِن دو کذابوں میں سے ایک کذاب مسیلمہ ہوا اور دوسرا کذاب اسود عنسی ہوا۔اسود عنسی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی قتل ہوا(آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس کے قتل کی خبر دے دی تھی،لیکن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے چند دنوں بعد یمن سے قاصد نے آکر اُس کے قتل کی خبر دی اورقتل کی وہی تاریخ بتائی،جس تاریخ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس کے قتل کا اعلان فرمایا تھا۔)اوربد بخت مسیلمہ کذاب خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرتے ہوئے قتل ہوا۔(فتح الباری ،المواہب الدنیا)
مسیلمہ کذاب کا جھوٹی نبوت کاجھوٹا دعویٰ
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ سے جب بنو حنیفہ کا وفد یمامہ واپس گیا تو بد بخت مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا۔امام عبد الملک بن ہشام لکھتے ہیں۔یہاں سے واپس جانے کے بعد (یمامہ میں ) مسیلمہ نے جھوٹی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیااور اپنے قبیلے کے لوگوں سے یہ جھوٹ بولا کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ کو (نبوت میں ) اپنا شریک بنا لیا ہے(سیرت النبی)اس کے بعد بد بخت مسیلمہ کذاب نے ۰۱ ھجری کے آخری مہینے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کے پاس ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا تھا۔مسیلمہ(نعوذباﷲ )اﷲ کے رسول کی طرف سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف! پس میں تمہارے کام (نبوت) میں شریک کر دیا گیا ہوں۔اس لئے آدھی زمین ہمارے لئے ہے اور آدھی زمین قریش کے لئے ہے مگر قریش انصاف نہیں کرتے ہیں۔والسلام۔اُس بد بخت جھوٹے کے خط کے جواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ خط لکھوا کر بھیجا۔”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم،محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب (جھوٹے) کی طرف! سلام ہو اُس پر جو ہدایت (اسلام) کی اتباع کرے،بے شک زمین اﷲ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عطا فرما تا ہے اور اچھا انجام اﷲ سے ڈرنے والوں کا ہے۔“یہ واقعہ ”حجة الوداع“سے واپسی کے بعد کا ہے۔(تاریخ ابن اثیر)علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ رجال بن عنقوہ(اِس کا نام نہار تھا،اوریہ بنو حنیفہ کے بڑے لوگوں میں سے تھا)نے مسیلمہ کذاب کی نبوت کی شہادت دی اور یمامہ کے لوگوں سے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے(نعوذ باﷲ )مسیلمہ کو حکومت میں شریک کر لیا ہے۔رجال کے اِس کہنے کا اثر لوگوں پر زیادہ اس لئے ہوا کہ وہ ہجرت کر کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آگیا تھااور مدینہ منورہ میں رہ کر قرآن پاک اور دین کی باتیں سیکھی تھیں۔جب مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُسے اہل یمامہ کی تعلیم اور مسیلمہ کذاب کو سمجھانے کے لئے بھیجالیکن اِس بد بخت نے یمامہ پہنچ کر مسیلمہ کذاب کے دین کو اختیار کر لیا اور اُس کی اذان دینے لگااور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسیلمہ کذاب کی رسالت کا اقرار کر لیا۔مسیلمہ کذاب بہت سے فقرہ بنا بنا کر لوگوں کو سناتا اور کہتا تھاکہ یہ (نعوذ باﷲ)قرآن ہے اور چند خلاف عادات ِ انسانی باتیں لوگوں کو دکھلا کر اس کو معجزہ بتلاتا تھا۔(تاریخ ابن خلدون)
بنو تمیم میں ارتداد
جزیرہ نمائے ملک عرب کے مشرقی حصے میں بنو تمیم کے قبائل آباد تھے۔یہ مدینہ منورہ کے مشرق میں خلیج ِ فارس سے لیکر جزیرہ نمائے ملک عرب کے شمال مشرق میں دریائے عرفات کے دہانے تک آباد تھے۔بنو تمیم بہت بڑا قبیلہ تھا اور اُس کی بہت سی شاخیں تھیں۔جن میں بنو حنظلہ ،بنو دارم، بنو مالک،اور بنو یربوع کافی مشہور قبیلے تھے۔بنو تمیم کے زیادہ تر لوگ نصرانی(عیسائی)اور چاند کی پوجا کرنے والے تھے۔اپنی کثیر تعداد اور بہادری کی وجہ سے یہ کسی کی اطاعت قبول نہیں کرتے تھے۔لیکن جب تمام ملک عرب کے قبائل نے اسلام قبول کرنا شروع کیا تو اِنہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو تمیم کے قبیلوںبنو عوف اوربنو ابناءکی طرف زبرقان بن بدر کو عامل بنا کر بھیجا۔بنو مقاعس کی طرف قیس بن عاصم کو،وکیع بن مالک کو بنو مالک کی طرف،اور مالک بن نویرہ کو بنو یربوع کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا۔(اِن کے علاوہ اور بھی کئی لوگوں کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو تمیم کے دوسرے قبائل کے عاملین بنا کر بھیجے تھےلیکن ہم ان کا خصوصی طور سے اِس لئے ذکر کر رہے ہیں کہ آگے چلکر ان کا ذکر آئے گا۔)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بنو تمیم بھی ارتداد کا شکار ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ اِن میں آپس میں جنگ شروع ہو گئی ایک گروہ کہتا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ذکوٰة بھیجی جائے اور دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں بھیجی جائے۔تیسرا گروہ مرتدین کا تھا۔یہ سب آپس میں لڑ رہے تھے کہ سجاع بن حارث لشکر لیکر پہنچ گئی۔
سجاع بنت حار ث کا جھوٹا دعوائے نبوت
ملک عرب میں جیسے جھوٹے نبیوں کی وباءپھوٹ پڑی تھی اور مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔اِن میں بنو تغلب کی سجاع بنت حارث بھی تھی۔بنو تمیم کی ایک شاخ بنو یربوع کے بہت سے لوگ الجزیرہ میں آباد تھے،اِن میں بنو تغلب بھی تھے۔سجاع بنت حارث عیسائی تھی،بہت ہی حسین اور خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی تھی۔یہ بہت ماہر کاہنہ تھی،بنو تغلب اور بنو یربوع اس کی بہت عزت کرتے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سُن کر اس بد بخت نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا۔الجزیرہ میں آباد بنو تغلب اور بنو یربوع نے تو اس کی فوراًاطاعت کرلی۔پھر اس نے بنو نمرد،بنو شیبان اور بنو ربیعہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا،اس طرح ایک بڑا لشکر لیکر بنو تمیم کے دوسرے قبائل کی طرف روانہ ہوئی۔اُس کا ارادہ تھا کہ بنو تمیم کے تمام قبائل کے ساتھ مل کر مدینہ منورہ پر حملہ کرے اور مسلمانوں کا خاتمہ کردے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔تمام بنو تمیم کے علاقے کا یہی حال تھاکہ ہر ایک کو اپنی پڑی تھی،اور وہ آپس میں دست و گریباں تھے۔اُن میں جو لوگ مسلمان تھے ،اُن کا واسطہ اُن لوگوں سے تھا جو متذبذب تھے۔اسی حالت میں سجاح بنت حارث الجزیرہ سے اُن کے پاس پہنچی ،یہ اور اُس کا خاندان بنو تغلب میں تھا۔ایک طرف تو پہلے سے خود ہی اِن قبائل میں خلفشار اور بد نظمی پھیلی ہوئی تھی تو دوسری طرف سجاح اور اُس کا کثیر لشکر اُن پر چڑھ آئے۔یہ واقعی بڑی پریشانی کی بات تھی جس میں سب مبتلا ہو گئے۔
سجاح اور مسیلمہ
بنو تمیم کے لوگ پریشانی میں تھے۔مالک بن نویرہ نے سجاح کی اطاعت کرلی،علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب وہ بلاد تمیم سے گزری تو اُس نے اُنہیںاپنے امر کی دعوت دی اور اُن کے عوام نے اُس کی بات کو قبول کر لیا۔ سجاح کے قبول کرنے والوں میں مالک بن نویرہ ،عطارد بن حاجب اور بنو تمیم کے سادات امراءکی ایک جماعت بھی شامل تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔بنو تمیم میں اختلاف تو پہلے ہی سے تھا،سجاح کے خروج سے مخالفت اور زیادہ ہو گئی۔مالک بن نویرہ نے اُس سے مصالحت کرلی اور مدینہ منورہ پر فوج کشی کرنے سے روک کر بطون بنو تمیم پر حملہ کرنے کی تحریک دی۔بنو تمیم اُس کے مقابلے سے بھاگے لیکن وکیع بن مالک اُس سے مل گیا۔رباب و منبہ نے ملکر اُس سے جنگ کی تو سجاح کے لشکر کو شکست ہوئی اُس کے متعدد سپاہی قید کر لئے گئے۔اس کے بعد بحیثیت ِ کُل صلح کر لی گئی اور سجاح اپنے لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو کر نباج پہنچی۔وہاں اوس بن خزیمہ نے بنو عمرو کو لیکر اُس پر حملہ کردیا ،فریقین میں سخت جنگ ہوئی ،سجاح کے لشکر میں سے ہذیل و عقبہ گرفتار کر لئے گئے۔پھر فریقین میں اِس شرط پر صلح ہوئی کہ اوس بن خزیمہ قیدیوں کو چھوڑ دے ،اور سجاح اوس کے شہروں میں کسی قسم کا تصرف نہیں کرے گی۔اس واقعہ کے بعد مالک بن نویرہ اور وکیع بن مالک اُس سے الگ ہو کر اپنی قوم سے جاملے اور سجاح اپنے لشکر کی کمزوری کی وجہ سے انہیں نہیں روک سکی۔اس کے بعد سجاح اپنا لشکر لیکر بنو حنیفہ کی طرف بڑھی ،تو مسیلمہ گھبرا گیا۔(کیونکہ وہ پہلے ہی مسلمانوں سے لڑ رہا تھا)مسیلمہ کذاب نے یہ خیال کر کے کہ اگر وہ سجاح سے جنگ کرے گا تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کو موقع مل جائے گا،اور حضرت شرجیل بن حسنہ اور اسلامی لشکر جو ابھی تک خاموش ہیں ،وہ بھی حملہ کر دیں گے۔اُس نے فوراً سجاح کی خدمت میں قیمتی تحائف بھیجے اور یہ کہلا بھیجا کہ پہلے ملک عرب کے کُل بلاد میں سے نصف ہمارا تھا اور نصف قریش کا تھالیکن چونکہ قریش نے بد عہدی کی ہے لہٰذا وہ نصف تمہیں دے دیا گیا۔
سجاح کا فرار
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ حواب سے روانہ ہو چکے تھے اور یہ سب واقعات اُن کے سفر کے دوران پیش آرہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پھر سجاح نے اپنی فوجوں کے ساتھ یمامہ کا رُخ کیاتاکہ اُسے مسیلمہ کذاب سے چھین لے اور انہوں نے مسیلمہ سے جنگ کرنے کی ٹھان لی۔جب اُس نے سنا کہ وہ اس طرف آ رہی ہے تو وہ اُس سے اپنے علاقے کے بارے میں خوفزدہ ہو گیاکیونکہ وہ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگ میں مصروف تھا۔(حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ یمامہ کے ایک قبیلے کے سردار تھے،ارتداد کے زمانے میں اسلام پر قائم رہے اور یمامہ کے لوگوں کو سمجھاتے رہے،یمامہ کے تمام مسلمان اُن کے پاس جمع ہوگئے تھے اور وہ سب مسلسل مسیلمہ کذاب سے حالت ِ جنگ میں تھے۔)اور حضرت عکرمہ بن ابو جہل رضی اﷲ عنہ انہیں فوجی امداد دے رہے تھے اور اُسکے علاقے میں پڑاو¿ ڈالے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتظار کر رہے تھے جیساکہ آگے بیان ہو گا۔پس اُس نے سجاح کوصلح کا پیغام بھیجا اور کہا کہ اگر تم واپس چلی جاو¿ تو میں قریش کے حصے کی آدھی زمین تمہیں دے دوں گااور اس سلسلے میں تم سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔مسیلمہ کذاب اُس سے ملنے کو قلعہ سے نکل کر اُس خیمہ میں آیا جو ملاقات کے لئے سجایا گیا تھا۔محافظین خیمے سے نکال دیئے گئے،دونوں میں تھوڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی،جب مسیلمہ نے اپنے گھڑے ہوئے مر صع فقرے پڑھے تو سجاح نے اقرار نبوت کر لیا اور خود کو اُسکی زوجیت میں دے دیا۔تین دن تک اُس کے خیمہ میں مقیم رہی،چوتھے روز لوٹ کر اپنی قوم میں آئی تو اُس کی قوم اُسے بلا ادائے مہر نکاح کرنے پر لعنت ملامت کرنے لگی۔مجبور ہو کر سجاح مسیلمہ کے پاس پھر لوٹ آئی اور اُس سے مہر کا تقاضا کیا۔مسیلمہ کذاب نے کہا ،جا اپنی قوم سے کہہ دے کہ مسیلمہ (نعوذباﷲ) رسول اﷲ نے دو نمازیں یعنی فجر اور عشاءکی معاف کردیں،جن کو محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرض کیا تھا اور تیری قوم کو یمامہ کی نصف پیدا وار بھی دی۔اس کے بعد سجاح لشکر لیکر الجزیرہ واپس جانے لگی اور ہذیل اور عقبہ کو یمامہ کی آئندہ سال کی پیداوار لینے کے لئے چھوڑ گئی۔ راستے میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر سے سامنا ہوا ،جس سے اُس کا لشکر منتشر ہو گیا اور سجاح بھاگ کر الجزیرہ چلی گئی۔
حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کی بطاح کی طرف روانگی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بد ستور بزاخہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے اور خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے اگلے حکم کے انتظار میں تھے۔ادھر سجاح کے الجزیر ہ کی طرف روانہ ہونے کے بعد بنو تمیم کے سرداران کو بہت پشیمانی ہوئی ۔وکیع اور سماعہ کو احساس ہو کہ انہوں نے بہت ہی غلط حرکت کی ہے اسی لئے انہوں نے اپنے علاقے کے تمام افرادکے ساتھ خلوص سے اسلام قبول کیا اور زکوٰة کی رقم اپنے علاقے سے وصول کر کے اُسے لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام ذکوٰة کی رقم پیش کی۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے جاسوس بھیج کر تمام حالات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ تمام بنو تمیم اسلام پر لوٹ آئے ہیں۔البتہ مالک بن نویرہ اور اُس کے ساتھیوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے جب بنو ظفر ،بنو اسد، بنو غطفان،بنو طے ،اور بنو ہوازن کو درست کر چکے توانہوں نے کوچ کا ارادہ کیااور لشکر کو بطاح کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیاجو حزن سے ادھر واقع ہے اور جہاں مالک بن نویرہ مقیم تھا۔اُسکی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے معاملے میں سخت متردّد تھا۔(اور فیصلہ نہیں کرپارہا تھا کہ اسلام کی طرف لوٹ آئے یا نہیں)اس موقع پر انصار نے آگے بڑھنے سے انکار کردیااور کہا کہ خلیفہ نے ہدایت کی تھی کہ جب ہم بزاخہ سے فارغ ہو جائیں تو اُن کا دوسرا حکم آنے تک وہیں قیام کریں۔اس لئے ہم آپ رضی ا ﷲ عنہ کے ساتھ نہیں جائیں گے اور اُن کا دوسرا حکم آنے تک یہیں رُکیں گے۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کو ایسا حکم دیا گیا ہومگر خلیفہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آگے بڑھوں۔تمام خبریں مجھے موصول ہوتی رہتی ہیںاور مجھے اس کے خلاف ابھی تک کوئی حکم موصول نہیں ہوا ہے اوراُن کا صاف حکم ملنے تک اگر مجھے دشمن کو زیر کرنے کا کوئی موقع ملے اور میں اُن کے حکم کے انتظار میں رہوں تو اس طرح یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔میں تو ہر گز ایسا نہیں کروں گابلکہ فوراً موقع سے فائدہ اُٹھاو¿ں گااور اسی طر ح ہم اگر کسی مصیبت میں پھنس جائیں تو کیا ہم خلیفہ کے حکم کا انتظار کریں گے یا اُس مصیبت سے نکلنے کی اپنے طور پر کوئی کوشش کریں گے؟اب مالک بن نویرہ چونکہ ہمارے قریب موجود ہے تو میں اپنے لشکر کو لیکر آگے بڑھتا ہوںاور آپ لوگوں کو اپنے ساتھ آنے پر مجبور نہیں کرتا۔اُن کے جانے کے بعد انصار نے مشورہ کیا کہ اگر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو کامیابی ملی تو ہم ایک بھلائی سے محروم رہ جائیں گے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوئے تو یہ انصار کے لئے رسوائی ہو گی ۔اسی لئے تمام انصار فوراً آپ رضی اﷲ عنہ سے آملے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت خوش ہو کر اُن کا استقبال کیا۔جب مسلمانوں کا لشکر بطاح پہنچا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔سجاح کا لشکر اُن کے آنے خبر سُن کر منتشر ہو گیا تھااور وہ خود الجزیرہ بھاگ گئی تھی جبکہ مالک بن نویرہ کا لشکر بھی منتشر ہو گیا تھا۔
مالک بن نویرہ کی گرفتاری
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے سفر کے دوران مالک بن نویرہ تردد میں تھا کہ کیا کرے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اس موقع پر مالک بن نویرہ نے اپنے ساتھیوں سے کہااے بنو یربوع!جب ہمارے امراءنے ہمیں اسلام کی دعوت دی تو ہم نے اُن کی بات نہیں مانی اور دوسرے لوگوں کو بھی اسلام قبول کرنے سے باز رکھا مگر ہمیں اِس معاملے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا،میں نے اِس معاملے پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اِس کام کو بغیر سوچے سمجھے اور بغیر مصلحت بینی کے اختیار کیا گیا ہے اور نہ اس کی رہبری کے لئے لوگ ہیں۔ایسی حالت میں تم اِس شورش سے الگ ہو جاو¿ اور اپنے اپنے علاقوں میں چلے جاو¿ اور جس کا دل چاہے وہ اسلام میں داخل ہو جائے۔مالک بن نویرہ کے اس مشورے کے بعد تمام لو گ اپنے اپنے علاقے میں چلے گئے۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح آئے اور وہاں کسی کو موجود نہیں پایا تو انہوں نے باغیوں کی تلاش کے لئے مختلف فوجی دستے اطراف میں روانہ کئے اور حکم دیا کہ جہاں بھی پہنچیں تو اذان دیں،جو اس کا جواب نہیں دے تو اُسے گرفتار کر لیںاور جو مقابلہ کرے تو اُسے قتل کر دیں۔جب تمام فوجی دستے واپس آئے تو اِن میں سے ایک فوجی دستے نے مالک بن نویرہ اور اُس کے چند ساتھیوں کو گرفتار کر کے لیکر آیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا۔اس فوجی دستے میں اختلاف ہو گیا اور دو گروہ بن گئے۔ایک گروہ کہتا تھا کہ قیدیوں نے اذان کے جواب میں اذان دی ،اقامت کہی اور نماز پڑھی،اس گروہ میں حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ انہوں نے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ سُن کر حکم دیا کہ انہیں قید میں رکھو،ہم انہیں خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیں گے،پھر وہ جو چاہیں فیصلہ کریں گے۔
غلط فہمی میں قیدیوں کا قتل
حضرت خالد بن ولید نے گرفتار شدہ لوگوں کو قید میں رکھنے کا حکم دے دیالیکن اُسی رات قیدیوں کو غلط فہمی کی وجہ سے قتل کر دیا گیا۔ہوا یہ کہ رات میں بہت شدید سردی پڑی ،یہ دیکھ کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے خیمے کے اندر سے ہی لشکر کے کسی آدمی کو حکم دیا کہ قیدیوں کو گرم کرو،یعنی گرم کپڑے دو۔اُس نے آواز لگائی کہ قیدیوں کو گرم کرو۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اُس رات اِس قدر شدید سردی پڑی کہ کوئی چیز اُس کی تاب نہیں لاسکتی تھی۔جب سردی اور بڑھنے لگی تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے منادی کو حکم دیا کہ قیدیوں کو گر م کرو۔اُس نے بلند آواز سے چلا کرکہا کہ او فﺅاسرارکم(اپنے قیدیوں کو گرم کرو)بنو کنانہ کے محاورے میں اِس لفظ کے معنی قتل کرنے کے تھے۔دوسروں کے محاورے میں جب ادفہ کہیںتو قتل کے معنی سمجھے جاتے تھے۔ سپاہیوں نے اِس لفظ کا مفہوم مقامی محاورے کے اعتبار سے یہ سمجھ لیا کہ قیدیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس لئے انہوں نے سب قیدیوں کو قتل کر ڈالا،حضرت ضراربن ازور رضی اﷲ عنہ نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا۔(ایک اور روایت میں ہے کہ عبد بن ازور اسدی نے قتل کیا)حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب شور وغل کی آواز سنائی دی تو وہ خیمے کے باہر آئے مگر تب تک تمام قیدی قتل کئے جاچکے تھے۔یہ دیکھکر آپ رضی اﷲ عنہ رنجیدہ ہو گئے اور فرمایا:”اﷲ جس کام کو کرنا چاہتا ہے ،وہ بہر حال ہو کر رہتا ہے۔اس سے پہلے بھی لوگوں کا ان کے بارے میں اختلاف تھا۔“حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور دونوں میں کچھ تلخ کلامی ہو گئی اور حضرت ابوقتادہ رضی اﷲ عنہ ناراض ہو گئے۔
میں اﷲ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا
حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ ناراض ہو کر بغیر اجازت لئے لشکر سے الگ ہو گئے،اور مدینہ منورہ آئے اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ سے ساری بات بیان کی۔ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام حالات سے آگاہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا :”آپ رضی اﷲ عنہ اپنے امیر(سپہ سالار) کی اجازت کے بغیر کیوں آئے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی سفارش کی مگر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جب تک یہ اپنے امیر کے پاس واپس نہیں جائیں گے میں انہیں معاف نہیں کروں گا۔“حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ لشکر میں واپس آگئے اور پھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آئے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول سے عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک مسلمان کے خون کے ذمہ دار ہیںاور اگر یہ بات ثابت نہ ہو سکے تب بھی اتنا تو ثابت ہے کہ جس کی وجہ سے ان کو قید کر دیا جائے۔“ امام طبری آگے ایک اور روایت میں بیان کرتے ہیں۔مالک بن نویرہ کا بھائی متمم بن نویرہ حضرت ابوبکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے پاس اپنے بھائی کا قصاص لینے آیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کا قصاص ادا کر دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اصرار کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا جائے کیونکہ اُن کی تلوار پر ایک بے گناہ مسلمان کا خون لگا ہے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ! یہ نہیں ہو سکتا ،میں اُس تلوار کو جسے اﷲ نے کافروں کے لئے نیام سے برآمد کیا ہے پھرنیام میں واپس نہیں ڈال سکتا۔“
معذرت قبول کی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ لشکر کو اُسی حالت میں چھوڑ کر مدینہ منورہ آو¿۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیجیئے،اُس کی تلوار میں ظلم پایا جاتا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں اُس تلوار کو نیام میں نہیں کروں گا ،جس اﷲ نے کافروں پر سونتا ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو پیغام بھیجا اور آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنی فولادی زرہ پہنے ہوئے تھے،جس پر خون کی کثرت کی وجہ سے زنگ لگ گیا تھااور عمامے میں خون سے لتھڑے ہوئے تیر لگائے ہوئے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو وہ خاموشی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور اپنا عذر پیش کر کے معذرت کی۔ خلیفہ اول نے معذرت قبول کی اور در گذر فرمایااور آئندہ احتیاط برتنے کا حکم دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔پھر جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ خلیفہ اول کے طلب کرنے پر مدینہ منورہ آئے تو حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے مالک بن نویرہ کے مقدمہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے قصاص لیںاور معزول کر دیں لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ ”میں اُس تلوار کو نیام میں نہیں کرنا چاہتا جسے اﷲ نے کافروں پر تان رکھا ہو۔اس کے بعد مالک بن نویرہ اور باقی قیدیوں کا خوں بہا بیت المال سے دے دیا اورحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کولشکر کی جانب لوٹا دیا۔(یہاں ایک بات یہ ذہن میں رکھیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کے درمیان کوئی رنجش نہیں تھی بلکہ دونوں خالص اﷲ کے لئے کام کرتے تھے اور جو عجیب عجیب روایتیں اِن دونوں مقدس حضرات رضی اﷲ عنہم کے بارے میں پھیلائی گئی ہیںیہ دونوں اِس سے پاک ہیں۔)
حضرت عکرمہ اور حضرت شرجیل رضی ا ﷲ عنہم کے لشکر
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے۔ابھی تک ہم حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے احوال ہی پیش کرسکے ہیں۔اب بقیہ لشکروں کے حالات انشاءاﷲ اس طر ح پیش کریں گے کہ تسلسل بر قرار رہے۔جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ میں مصروف تھے،اُس وقت حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے جنگ میں مصروف تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔جس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے گیارہ لشکر مُرتدین ِ عرب کی سرکوبی کے لئے روانہ کئے تھے،اُس وقت حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ کو مسیلمہ کذاب سے لڑنے کے لئے یمامہ کی طرف بھیجا تھا۔پھر اُن کے بعد حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو اُن کی مدد کے لئے روانہ کیا تھا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے عجلت کر کے حضرت شرجیل رضی اﷲ عنہ کے آنے سے پہلے ہی جنگ شروع کردی،جس میں انہیں شکست ہوئی ۔اس شکست سے جب حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کو مطلع کیا گیا تو انہوں نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجا کہ خود تم تو استادی جانتے ہی نہیں ہو اور شاگردوں میں عیب نکالتے ہو۔بغیر شرجیل رضی اﷲ عنہ کے آئے ہوئے تم نے حملہ کیوں کردیا؟خیر جو کچھ ہوا ،مدینہ منورہ کا رُخ نہ کرنا۔حضرت حذیفہ و حضرت عرفجہ رضی اﷲ عنہم کے پاس جاو¿ اور اُن کی ماتحتی میں مہرہ اور اہل عمان سے لڑو۔جب اُن کی جنگ سے فراغت حاصل ہو تو مع اپنے لشکر کے حضرت مہاجر بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کے پاس یمن اور حضر موت میں چلے جانااور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ تم حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر کا انتظار کرواور جب وہ آجائیں تو اُن کے ساتھ ملکر جنگ کرو۔پس جب وہاں سے فارغ ہو جانا تو بنو قضاعہ کی طرف چلے جانااور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر مرتدین سے لڑنا۔اس کے بعد جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح سے فارغ ہو کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی طلبی پر اُن کے پاس حاضر ہوئے ۔خلیفہ اول نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے جب اصل واقعات سنے تو اُن سے راضی ہو گئے۔تب انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو مسیلمہ کذاب سے جنگ کرنے کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیااور کافی تعداد میں لشکر بھی دیا۔مہاجرین میں سے حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زید رضی اﷲ عنہم اور انصار میں سے حضرت ثابت بن قیس اور حضرت براءبن عازب رضی اﷲ عنہم بھی ساتھ تھے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی یمامہ روانگی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے راضی ہو گئے تو میدان ِجنگ کے حالات پر بات چیت کی اور انہیں اور بھی لشکر دیا اور مسیلمہ کذاب سے جنگ کرنے کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیا کیونکہ مسیلمہ کذاب نے یمامہ میں لگ بھگ چالیس ہزارکا لشکر جمع کرلیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں مہاجرین اور انصار کے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی اچھی خاصی تعداد تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب بطاح سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کے عرض حال اور معذرت خواہی کے بعد وہ اُن سے راضی ہو گئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُن کو مسیلمہ کذاب سے مقابلے کے لئے بھیجااور ایک بڑا لشکر انہیں دیا ۔اُن کے ساتھ اِس فوج میں جو انصار تھے ،اُن کے سپہ سالار حضرت ثابت بن قیس اور حضرت براءبن عازب رضی اﷲ عنہم تھے اور جو مہاجرین تھے اُن کے سپہ سالار حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زید رضی اﷲ عنہم تھے۔اِس طرح ہر قبیلے کا الگ الگ سپہ سالار تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح میں اپنے لشکر کے پاس آئے اور پورا لشکر لیکر یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔
مسیلمہ کذاب کی تیاری
حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کی روانگی کی خبر جب مسیلمہ کذاب کو ملی،تو اُس نے بھی اپنی تیاری شروع کردی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور جب مسیلمہ کذاب نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی آمد کے متعلق سنا تو اُس نے یمامہ کی ایک جانب ایک جگہ جسے ”عقربائ“کہا جاتا تھاپڑاو¿ کر لیااور سبزہ زار اُن کے پیچھے تھااور اُس نے یمامہ کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسایا اور ایک بہت بڑا لشکر جمع کر لیا۔اُس نے اپنی فوج کے میمنہ اور میسرہ پر حکم بن طفیل کو اور رجال بن عنقوہ کو مقرر کیا۔یہ رجال اُس کا وہ دوست تھا ،جس نے اُس کے لئے یہ گواہی دی تھی کہ اُس نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو(نعوذ باﷲ )یہ فرماتے سنا ہے کہ مسیلمہ بن حبیب کذاب (جھوٹے)کو اُن کے ساتھ حکومت میں شریک کیا گیا ہے۔(رجال کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں)اور یہ ملعون اہل یمامہ کو سب سے بڑا گمراہ کرنے والا تھاحتیٰ کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب کی اتباع کر لی۔اﷲ تعالیٰ کی دونوں پر لعنت ہو۔ یہ رجال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا تھا اور سورہ البقرہ پڑھی تھی اور ارتداد کے زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اس بد بخت کو یمامہ کی طرف بھیجا کہ وہ انہیں اسلام پر ثابت قدم رکھے لیکن یہ بد بخت یمامہ آکر مسیلمہ کذاب سے مل گیااور اُس کی جھوٹی نبوت کی گواہی دی۔حضرت ابو ہریرہ رضی ا ﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ ایک دن ہم لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے اور ہم میں رجال بن عنقوہ بھی تھا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”بے شک تم میں ایک ایسا آدمی ہے جس کی داڑھ اُحد پہاڑ سے بھی بڑی ہے ،اور وہ آگ(جہنم)میں ہو گی۔“پس سب لوگ مر گئے اور میں اور رجال رہ گئے اور میں اِس بات سے خوفزدہ تھا حتیٰ کہ رجال نے مسیلمہ کا ساتھ دیا اور اُس کی نبوت کی گواہی دی اور رجال کا فتنہ مسیلمہ کے فتنہ سے بھی بڑا تھا۔
مسیلمہ کذاب کی خرافات
بد بخت ملعون مسیلمہ کذاب خرافات بکتا تھا ،اوراُ سے الہام بتاتا تھا۔ویسے تو یہ سب بیان کرنے کے لائق نہیں ہے لیکن اُس کی بد بختی اور کم بختی پر ہنسنے کے لئے چند خرافات پیش ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسیلمہ اپنے متبعین کے سامنے اپنے الہامات پڑھتا تھا۔بنو تمیم کے متعلق اُس نے اپنا الہام پڑھا۔بنو تمیم پاک جوان مرد ہیں،ان میں کوئی برائی یا تساہل نہیں ہے۔ہم اپنی زندگی بھر ان کی لغزشوں کا احسان کر کے در گذر کرتے رہیں گے۔ہر شخص کے مقابلے میں اُن کی حفاظت کریں گے اور جب ہم مر جائیں گے تو پھر اُن کا معاملہ اﷲ رحمن سے ہے۔اسی طرح ایک الہام(خرافات) وہ یہ پڑھتا تھا۔قسم ہے بکری کی اور اُس کے رنگوں کی اور سب سے تعجب انگیزاُس کا سیاہ رنگ اور اُس کا دودھ ہے۔سیاہ بکری اور سفید دودھ کس قدر عجیب بات ہے،دودھ میں پانی ملانا حرام کر دیا گیا ہے،پھر تم کو شرم نہیں آتی۔ایک اور الہام(خرافات) یہ ہے۔اے مینڈکی،مینڈک کی بیٹی۔تو کس قدر پاک صاف ہے،تیرا بالائی حصہ پانی میں رہتا ہے،اور زیرین مٹی کیچڑ میں۔تُو نہ پانی پینے والوں کو روکتی ہے اور نہ پانی کو مکدر کرتی ہے۔ایک اور الہام(خرافات)یہ ہے۔قسم ہے کھیت میں بیج ڈالنے والوں ،فصل دور کرنے والوں،دانہ نکالنے والوں،پھر چکی میں آٹا پیسنے والوں،روٹی پکانے والوں،اُن کو چورہ کر کے ملیدہ بنانے والوںاور پھر لقمے بنا کر کھانے والوں کی جو چربی اور مکھن سے کھاتے ہیں۔اے ساکنان بادیہ!تم کو فضیلت دی گئی ہے اور شہری تم سے کسی بات میں آگے نہیں ہیں۔اپنے علاقے کی مدا فعت کرو،غریب کو پناہ دو اور بد معاش کو اپنے یہاں سے نکال دو۔(تاریخ طبری)اسی طر ح کی بہت سی خرافات وہ بد بخت بکتا رہتا تھا۔
مجاعہ کی گرفتاری
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یمامہ میں داخل ہونے کے بعد عقرباءسے ایک دن کی مسافت کے فاصلے پر آکر رُک گئے اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی ا ﷲ عنہ بھی اُن سے آ کر مل گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے آس پاس چند فوجی دستے گشت کرنے کے لئے بھیجے۔ایسے ہی ایک گشتی دستے نے مجاعہ اور اُس کے(تیس یا ساٹھ) ساتھیوں کو گرفتار کیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا۔یہ بنو حنیفہ کے لوگ تھے اور بنو تمیم سے انتقام لینے کے لئے گئے تھے کہ واپسی میں گرفتار کر لئے گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے مسیلمہ کذاب کو اپنا رسول بتایا۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے قتل کا حکم دے دیا۔انہوں نے قتل ہونا منظور کیالیکن اسلام میں داخل ہونا منظور نہیں کیا۔البتہ انہوں نے کہا کہ مجاعہ کو قتل نہ کرنابلکہ اُسے یرغمال بنا کر رکھنا،ہو سکتا ہے کہ وہ آگے چلکر تمہارے کام آئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مجاعہ کو قتل نہیں کیااور اُسے بیڑیاں پہنا کر اپنے خیمے میں اپنی بیوی کی نگرانی میں رکھا۔
دونوں لشکر آمنے سامنے
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اس کے بعد آگے بڑھے اور عقرباءمیں مسیلمہ کذاب کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔مسلمانوں کے لشکر میںحضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ بھی تھے اور حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت براءبن مالک رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے اور حضرت وحشی بن حرب بھی تھے۔حضرت وحشی کو اِس بات کا ہمیشہ افسوس رہا تھا کہ حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کو انہوں نے اپنی آزادی حاصل کرنے کی مجبوری میں شہید کیا تھااور اسلام قبول کرنے کے بعد ہر جنگ میں اسی کی تلافی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔مسلمانوں کا لشکر تیرہ ہزار تھا اور مسیلمہ کذاب کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ”مقدمة الجیش“پر حضرت خالد مخزومی کو سپہ سالار مقررکیا اور اپنے لشکر کے میمنہ پر حضرت زید رضی اﷲ عنہ کو اور میسرہ پر حضرت ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:مہاجرین صحابہ رضی اﷲ عنہم کے سردار اِس جنگ میں حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی ا ﷲعنہ تھے۔ مہاجرین نے کہا کہ ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کی جانب سے اپنے لئے اندیشہ معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے فرمایا:”اگر میں بزدلی دکھاو¿ں تو میں قرآن کا بُرا حامل بنوں گااور یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“انصار کے سردار حضرت قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ تھے اور دوسرے قبائل ِعرب اپنے اپنے سرداروں کے ماتحت تھے۔مجاعہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے میں اُن کی بیوی سیدہ اُم تمیم کی نگرانی میں بیڑیاں پہنے ہوئے تھا۔جنگ شروع ہوئی ،دونوں لشکر میں بہت زبردست مقابلہ ہوا،مسیلمہ کذاب کا لشکر مسلمانوں کے لشکر سے تین گُنی زیادہ تھااسی لئے پہلے حملے میں وہ مسلمانوں پر حاوی ہو گئے اور اسلامی لشکر کو دھکیلتے چلے گئے۔اسلامی لشکر سنبھلتے سنبھلتے ہوئے بھی اتنا پیچھے ہو گیا کہ بنو حنیفہ کے بعض لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے میں گھس آئے اور سیدہ اُم تمیم کو قتل کرنا چاہتے تھے کہ مجاعہ نے انہیں بچایا اور کہا کہ میں اُن کا ہمسایہ ہوںاور یہ بہت نیک بی بی ہیں۔اس طرح حملہ آوروں کو پلٹا دیا۔
حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت خالد بن ولید کا لشکر وقتی طور سے پیچھے ہٹا پھر مسلمان سنبھلے اور مقابلے پر جم گئے اور اتنا شدید حملہ کیا کہ یمامہ کے لشکر کے لوگ گھبرا گئے۔ مسلمانوں کے پیر جمانے میں سب سے بڑی کوشش مہاجرین اور انصار کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے کی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو پکارا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مسلمانو!مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاو¿اور دشمن کی طرف چلواور آگے بڑھو۔اﷲ کی قسم!میں میں تم سے بات نہیں کروں گایہاں تک کہ اﷲ دشمنوں کو شکست دیدیا میں اﷲ سے جاملوں اور اس سے اپنی دلیل کے ساتھ بات کروں گا۔“اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو لیکرشدید حملہ کیااور مسیلمہ کذاب کے لشکر کے مقدمةالجیش کے سپہ سالار رجال بن عنفوہ ملعون کو قتل کر دیااور اس کے بعد دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے خود بھی شہید ہو گئے۔
حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں موجود صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اسلامی لشکر میں سب سے آگے آگئے اور مرتدوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے واپس اُن کی جگہوں پر لے گئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:پھر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کی اور حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم نے اپنے مد مقابل کو بری بات کا عادی بنا دیا ہے۔“ انہوں نے ہر طرف سے آواز دی:”اے خالد رضی اﷲ عنہ ! ہمیں منتخب کرو۔“پس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مہاجرین اور انصار کی ایک پارٹی منتخب کی۔صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا:”اے سورہ البقر ہ والو!آج جادو بے کار ہو گیا ہے۔“ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ نے زمین میں اپنی نصف پنڈلیوں تک اپنے پاو¿ں کے لئے ریت میں گڑھا کھودا اور وہیں جم کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور دشمنوں سے زبردست مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔
حضرت ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر کے قلب پر لڑ رہے تھے اور شدید حملے کر کے مسلمانوں کے حوصلے بڑھا رہے تھے۔ادھر میمنہ اور میسرہ میں بھی مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم مسلسل پیش قدمی کر رہے تھے۔حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ بھی بہادری سے ثابت قدم رہتے ہوئے حملے کر رہے تھے اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے جارہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مرتدوں کو قتل کرتے ہوئے اور آگے بڑھتے ہوئے فرمایا:”اے اہل قرآن!قرآن پاک کو اپنے افعال کے ساتھ زینت دو۔“اور مرتدوں پر بے تحاشہ ٹوٹ پڑے اور انہیں مسلسل قتل کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ بھی شہید ہو گئے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی یلغار
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسلسل بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے حتیٰ کہ مسیلمہ کذاب کے لشکر کو کاٹتے اور چیرتے ہوئے آپ رضی اﷲ عنہ اتنی اندر تک پہنچ گئے کہ مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچ گئے اور لڑتے ہوئے انتظار کرنے لگے کہ وہ بد بخت آئے تو اُسے قتل کریں۔اسی دوران بہت سے مرتدین کو قتل کیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حملہ کیا حتیٰ کہ اُن سے آگے نکل گئے اور مسیلمہ کذاب کے پہاڑوں کے پاس چلے گئے اور انتظار کرنے لگے کہ وہ آئے تو اُسے قتل کریں۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ واپس ہوئے اور دونوں لشکر کی صفوں کے درمیان کھڑے ہو کر مبارزت طلب کی اور بلند آواز سے فرمایا:”میں ابن الولید العود ہوں،میں عامر اور زید کا بیٹا ہوں“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے نشان امتیاز سے پکارااور اُن کا نشان امتیاز ”یا محمداہ“تھا۔پس آپ رضی اﷲ عنہ نے تلوار لہرا کر بلند آواز سے پکارا:”یا محمداہ“۔اور جو کوئی بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر آرہا تھااُسے آپ رضی اﷲ عنہ قتل کررہے تھے اور جو چیز بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے قریب آتی تھی وہ فنا ہو جاتی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچے اور اسے اسلام کی دعوت دی اور سمجھایالیکن مسیلمہ کذاب کا شیطان اسے بر گشتہ کردیتا تھا۔اور وہ گردن کج کر کے آپ رضی اﷲ عنہ کی بات کو ٹھکرا دیتا تھا۔
مسیلمہ کذاب کا فرار
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ جب تک مسیلمہ کذاب ڈٹا رہے گا تب تک جنگ کا فیصلہ نہیں ہو سکے گا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اس کے بعد مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچ کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُسے للکارا۔اُس کے متعلق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک شیطان مسیلمہ کذاب کے تابع ہے،جب وہ اُس کے پاس آتا ہے تو اُس کے منہ سے اِس قدر کف جاری ہوتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے دونوں جبڑوں میں ناسور ہے اور جو بھلی بات کرنے کا ارادہ مسیلمہ کذاب کرتا ہے تو وہ شیطان اُسے کرنے سے روک دیتا ہے۔لہٰذا تمہیں اگر کبھی اُس کے خلاف موقع مل جائے تو اسے ہر گز ہاتھ سے جانے نہ دینا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُس کے قریب پہنچ کر اُس پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کرنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ وہ اپنی جگہ جما ہوا ہے حالانکہ اب جنگ میں مسلمانوں کا پلہ بھاری ہو چکا تھا اور وہ مرتدین کو بے دریغ قتل کر رہے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اندازاہ لگایا کہ جب تک مسیلمہ کذاب اپنی جگہ سے نہیں ہٹے گا تب تک مرتدین بھی جمے رہیں گے۔انہوں نے موقع کی تلاش میں اُسے آواز دی،اُس نے جواب دیا۔اُس کی یہ عادت تھی کہ جب وہ کوئی جواب دینا چاہتا تو اپنا منہ شیطان سے مشورہ کرنے کے لئے پھیر لیتا تھا۔اسی لئے اِس گفتگو کے دوران اُس نے جب ایک مرتبہ منہ پھیرا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر ٹوٹ پڑے اور وہ سہم کر بھاگا،اُس کے بھاگتے ہی اُس کے تمام متبعین بھی بھاگنے لگے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو للکارا کہ خبردار !اب کوئی کوتاہی نہ کرنا،آگے بڑھو اور کسی کو بچ کر جانے نہ دو۔یہ سن کر مسلمان سب کے سب مرتدین پر پل پڑے۔
مرتدین کا فرار
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اسلامی لشکر میں واپس آگئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کومرتدین کو قتل کرتا دیکھکر مسلمانوں میں اتنا جوش اور جذبہ بھر گیا اور حوصلے اتنے بلند ہو گئے کہ وہ بڑھ بڑھ کر حملے کرنے لگے اور مرتدین کو قتل کرنے لگے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔مسلمانوں کی چکی گھومنے لگی اور اِس میدان کار زار میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے جس استقلال کا مظاہرہ کیا ،اُس کی مثال دیکھی نہیں گئی اور وہ مسلسل اپنے دشمنوں کے سینوں کی طرف پیش قدمی کرتے رہے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں اُن پر فتح عطا فرمائی اور مرتدین پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ مسلمانوں نے اُن کو مارتے ہوئے اُن کا پیچھا کیااور اُن کی گردنوں پر جہاں چاہی تلوار ماری حتیٰ کہ مجبور کر کے موت کے باغیچے میں لے گئے۔
مرتدین”محکم الیمامہ میں
اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور مرتدین فرار ہونے لگے۔مسیلمہ کذاب کے سپہ سالار محکم بن طفیل نے جب مرتدین کا بھاگتے دیکھا تو بلند آواز سے پکارا ۔”محکم الیمامہ“یعنی محکم(میرے)باغیچے میں داخل ہو جاو¿۔وہ مسلسل آواز لگا لگا کر مرتدین کو اپنے باغ میں بلا رہا تھا۔ادھر حضرت عبد الرحمن بن ابی ابکر صدیق رضی اﷲ عنہ اُس کی تاک میں تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کو نشانہ لیکر ایسا تیر مارا کہ وہ بد بخت وہیں مر گیااور مرتدین نے باغ کا دروازہ بند کر دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور محکم الیمامہ،یعنی محکم بن طفیل نے انہیں باغیچے میں جانے کا مشورہ دیاتھااور اﷲ کا دشمن مسیلمہ کذاب پہلے ہی اس باغ میں چلا گیا تھا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُسے تاک کر اُس وقت تیر مارا جب وہ تقریر کر رہا تھااور اُسے قتل کر دیا۔ بنو حنیفہ نے باغ کا دروازہ بند کردیا اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔
مسیلمہ کذاب کا قتل
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے حکم سے مسلمانوں نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل باغ کے اطراف گھوڑا دوڑا رہے تھے اور حملہ کرنے کے لئے جائزہ لے رہے تھے۔ادھر مسلمان دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے اور اندر سے مرتدین دروازے کو روکے ہوئے تھے۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت براءبن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اُٹھا کر باغ کے اندر پھینک دو ، دروازہ کھولنے کی ذمہ داری میری ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:حضرت براءبن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:اے گروہِ مسلمین!مجھے باغ کے اندر پہنچا دو۔“پس انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو لاٹھیوں اور نیزوں پر بلند کر کے باغ کی دیوار کے اوپر پہنچا دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ دروازے کے آگے مسلسل مرتدین سے جنگ کرتے رہے حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے دروازہ کھول دیااور مسلمان باغ کے اندر داخل ہو کر مرتدین کو قتل کرنے لگے اور قتل کرتے کرتے مسیلمہ کذاب تک پہنچ گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دیوار کے ایک شگاف میں کھڑا ہے گویا کہ وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہے۔وہ اُس دیوار پر چڑھنا چاہتا تھااور غصے کی وجہ سے بے عقل ہو چکا تھا۔حضرت وحشی بن حرب نے دور سے ہی اُس کا نشانہ لیکر نیزہ اُس کی طرف پھینکاجو سیدھا اُسے جاکر لگا اور اُس کے پار ہو کر دوسری طرف نکل گیا۔عین اُسی وقت حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس پہنچے اور اُس کا سر کاٹ کر اُس کے قتل کا اعلان کیا۔(حضرت وحشی فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کی طرف جب میں نیزہ پھینکا تو مجھے یک گونہ اطمینان ہو ا کہ اِس بد بخت کو قتل کر کے میں حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی کچھ تلافی کر سکوں گالیکن یہ دیکھ کر میں بہت بری طرح گھبرا گیا کہ اسی وقت حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ بھی اُس بد بخت کے قریب پہنچ گئے۔ابھی نیزہ ہوا میں ہی تھااور میں نے سوچا کہ کہیں پھر مجھ سے ایک اور جلیل القدر صحابی رضی اﷲ عنہ کی شہادت نہ ہو جائے لیکن اﷲ کا شکر ہے کہ اُن کے پہنچنے سے کچھ لمحہ پہلے نیزہ مسیلمہ کذاب کو جا کرلگا۔)اور ایک عورت نے پکار کر کہا۔ہائے حسینوں کے امیر کو ایک سیاہ فام غلام نے قتل کر دیاہے۔جنگ اور باغ میں قتل ہونے والے مرتدین کی تعدادتقریباًدس ہزار تھی،بعض کا قول ہے کہ اکیس ہزار تھی اور مسلمانوں میں سے چھ سو شہید ہوئے،بعض کا قول ہے کہ پانچ سو شہید ہوئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فتح حاصل ہونے کے بعد قریب کی ایک وادی ”دبر“میں اپنے لشکر کے ساتھ قیام فرمایا۔
جنگ یمامہ میں مہاجرین شہداء
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری میں یمامہ میں مسیلمہ کذاب اور اُس کے متبعین سے جو جنگ ہوئی ۔اُس میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی لیکن اِس جنگ میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہو گئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جنگ یمامہ میں مجموعی طور سے ساڑھے چار سوحاملین قرآن اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہوئے تھے۔اِن میں سے چند مہاجرین صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے نام یہ ہیں۔(1)حضرت مالک بن عمرو رضی اﷲ عنہ،بنو غنم کے حلیف بدری صحابی ہیں۔(3)حضرت یزید بن اقیش بن رباب اسدی رضی اﷲ عنہ ،بدری صحابی ہیں۔(3)حضرت حکم بن سعید بن عاص بن اُمیہ اُموی رضی اﷲ عنہ ۔(4)حضرت حسن بن مالک بن بحیفہ رضی اﷲ عنہ ،حضرت مالک بن ازدی کے بھائی،بنو مطلب بن عبد مناف کے حلیف۔(5)حضرت عامر بن بکر لیثی رضی اﷲ عنہ ،بنو عدی کے حلیف،بدری صحابی ہیں۔(6)حضر ت مالک بن ربیعہ رضی اﷲ عنہ،بنو عبد شمس کے حلیف ہیں۔(7)حضرت ابو اُمیہ صفوان بن اُمیہ بن عمرو رضی اﷲ عنہ ۔(7)حضرت یزید بن اوس رضی اﷲ عنہ ،بنو عبد الدار کے حلیف۔(9)حضرت حسبی معلی بن حارثہ ثقفی رضی اﷲ عنہ ،طائف کے قبیلہ بنو ثقیف کے ہیں۔(10)حضرت حبیب بن اُسید بن حارثہ ثقفی رضی اﷲ عنہ،طائف کے بنو ثقیف سے ۔(11)حضرت ولید بن عبد شمس مخزومی رضی اﷲ عنہ۔(12)حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن بجرہ عدوی رضی اﷲ عنہ۔(13)حضرت ابو قیس بن حارث بن قیس سہمی رضی اﷲ عنہ ،مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔(14)حضرت عبد اﷲ بن حارث بن قیس رضی اﷲ عنہ۔(15)حضرت عبد اﷲ بن مخرمہ بن عبد العزیٰ بن ابی قیس بن عبدود بن نصر عامری رضی اﷲ عنہ ،اولین مہاجرین میں سے ہیں۔بدری صحابی ہیں ،اور بعد کی سب جنگوں میںشریک ہوئے۔(16)حضرت عمرو بن اویس بن سعد بن ابی سرح عامری رضی اﷲ عنہ ۔(17)حضرت سُلیط بن عمرو عامری رضی اﷲ عنہ ۔(18)حضرت ربیعہ بن ابی خرشہ عامری رضی اﷲ عنہ ۔(19)حضرت عبد اﷲ بن حارث بن رحضہ عامری رضی اﷲ عنہ ۔
جنگ یمامہ میں شہدائے انصار
جنگ یمامہ میں مدینہ منورہ کے انصار بھی اچھی خاصی تعداد میں شہید ہوئے۔اِن میں سے چند نام پیش خدمت ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے انصار میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔(1)حضرت عمارہ بن خرم بن زید بن لوذان بخاری رضی اﷲ عنہ ،یہ حضرت عمرو بن خرم رضی ا ﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔فتح کے روز اُن کی قوم کا جھنڈا آپ رضی اﷲ عن کے ہاتھ میں تھا۔بدری صحابی ہیں۔(2)حضرت عقبہ بن عامر بن نابی بن زید بن حرام سلمی رضی اﷲ عنہ ،آپ رضی اﷲ عنہ بیعت عقبہ اولیٰ میں شامل تھے۔بدری صحابی ہیں۔(3)حضرت ثابت بن ہزارل رضی اﷲ عنہ ،بنو سالم بن عوف کے ہیں،بدری صحابی ہیں۔جنگ یمامہ کے دن ایک تیر آ کر آپ رضی اﷲ عنہ کو لگا ،جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے کھنچ کر نکال دیا ۔پھر کمر کس لی،اور جنگ کرنے لگے،یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو بہت زخم لگے۔(4)حضرت عبد اﷲ بن عتیک رضی اﷲ عنہ۔(5)حضرت رافع بن سہل رضی اﷲ عنہ۔(6)حضرت حاجب بن یزید اشہلی رضی اﷲ عنہ ۔(7)حضرت سہل بن عدی رضی اﷲ عنہ ۔(8)حضرت مالک بن اوس رضی اﷲ عنہ۔(9)حضرت عمرو بن اوس رضی اﷲ عنہ۔(10)حضرت طلحہ بن عتبہ رضی اﷲ عنہ۔(11)حارث کے غلام حضرت رباح رضی اﷲ عنہ۔(12)حضرت جزءبن مالک بن عامر رضی اﷲ عنہ۔(13)حضرت ورقہ بن ایاس بن عمرو خزرجی رضی اﷲ عنہ،بدری صحابی ہیں۔(14)حضرت مروان بن عباس رضی اﷲ عنہ۔(15) حضرت عامر بن ثابت رضی اﷲ عنہ ۔(16)حضرت بشر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ۔(17)حضرت کلیب بن تمیم رضی اﷲ عنہ۔(18)حضرت عبد اﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ۔(19)حضرت ایاس بن ودیعہ رضی اﷲ عنہ (20)حضرت اُسید بن یربوع رضی اﷲ عنہ۔(21)حضرت سعد بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ۔(22) حضرت سہل بن حمان رضی اﷲ عنہ۔(23)حضرت محاسن بن حمیر رضی اﷲ عنہ (24)حضرت سلمہ بن مسعود رضی اﷲ عنہ۔اور بعض کا قول ہے کہ یہ بھی شہید ہوئے۔(25)حضرت مسعود بن سنان رضی اﷲ عنہ۔(26)حضرت ضمرہ بن عیاض رضی اﷲ عنہ۔(27)حضرت عبد اﷲ بن اُنیس رضی اﷲ عنہ۔(28)حضرت ابو جتہ بن غزیہ مازنی رضی اﷲ عنہ ۔(29)حضرت خباب بن زید رضی اﷲ عنہ۔(30)حضرت حبیب بن عمرو بن محصن رضی اﷲ عنہ ۔(31)حضرت ثابت بن خالد رضی اﷲ عنہ۔(32)حضرت فروةبن نعمان رضی اﷲ عنہ۔(33)حضرت عائذ بن ماعص رضی اﷲ عنہ۔(34)حضرت یزید بن ثابت بن ضحاک رضی اﷲ عنہ،حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔جنگ یمامہ میں ایک روایت کے مطابق مہاجرین اور انصار کے شہدا کی تعدا د 85 ہے۔بقیہ ساڑھے چار سو اِن کے علاوہ ہیں۔اور مرتدین چالیس ہزار (40,000) سے زیادہ قتل ہوئے۔اصل تعداد کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔
قرآن پاک کے بارے میں حضرت عُمر فاروق ؓکی تشویش
حضرت خالد بن ولید کی سپہ سالاری میں جس لشکر نے یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے لشکر سے جنگ کی تھی اُس میں لگ بھگ پانچ سو یا چھ سو مسلمان شہید ہوئے تھے۔ان میں سے بہت سے مکمل قرآنِ پاک کے حافظ تھے۔اِن حافظوں کی شہادت کی وجہ سے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تشویش ہوئی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا کہ جس طرح یمامہ کی جنگ میں قرآن پاک کے حافظین شہید ہوئے ہیں۔اگر اسی طرح حفاظ ِ کرام شہید ہو تے رہیں گے تو قرآن پاک کہیں ناپید نہ ہو جائے۔اسی لئے میری درخواست ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کردیں تاکہ آنے والے زمانوں کے مسلمانوں کو قرآن پاک محفوظ شکل میں مل سکے اور قرآن ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا شرح صدر
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے قرآن پاک جمع کرنے کی رائے دی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ جس کام کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے اُس کام کو میں کیسے کر سکتا ہوں؟لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل اصرار کرتے رہے ،اصرار کرتے رہے ۔یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا سینہ اﷲ تعالیٰ نے کھول دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو ”شرح صدر“ ہو گیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بھی قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کرنے پر راضی ہو گئے۔اب دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مل کر اِس بات پر غور و فکر کرنے لگے کہ کِس صحابی رضی اﷲ عنہ کو یہ اہم ذمہ داری سونپی جائے؟بڑے غور و فکر کے بعد یہ طے ہوا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے ذمہ یہ اہم کام سونپا جائے کیونکہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ”کاتب ِ وحی“رہ چکے ہیںاور سب سے زیادہ قرآن ِ پاک انہوں نے لکھا ہے۔اس کے علاوہ وہ جوان ہیں اور اُن کی یادداشت سب سے تیز بھی ہے اور خوش خطی سے قرآن پاک لکھ بھی سکتے ہیں۔اسی لئے خلیفہ اول نے یہ اہم ذمہ داری انہیں سونپی۔
حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ پر عظیم ذمہ داری
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”کاتب ِ وحی“حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ عنہ کو قرآن پاک ایک مصحف میں جمع کرنے کی ذمہ داری دی۔صحیح بخاری میں حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب سے جنگ کے کچھ دنوں بعد ایک دن خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجھے یاد فرمایا۔جس وقت میں وہاں پہنچا تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پہلے سے تشریف فرما تھے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے فرمایا:”حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مجھ سے کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے ہیںاور مجھے خوف ہے کہ اگر اسی طرح مسلمان شہید ہوتے رہے تو حافظوں کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی نہ آٹھ جائے۔(کیونکہ وہ ابھی تک لوگوں کے سینوں میں ہی محفوظ ہے)لہٰذا میں سمجھتا ہو کہ قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کر لیا جائے۔میں نے اِن سے (حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے )کہا تھا کہ بھلا میں اُس کام کو کیوں کر سکتا ہوںجسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔تو اِس پر انہوں نے یہ جواب دیا کہ اﷲ کی قسم یہ نیک کام ہے اور اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔اُس وقت سے اب تک اِن کا صرار جاری ہے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا سینہ کھول دیا اور اِس معاملے میں مجھے شرح صدر ہوا ۔ میں سمجھ گیا کہ اس کی بڑی اہمیت ہے۔“حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خاموشی سے سن رہے تھے۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا :”اے زید رضی اﷲ عنہ!تم جوان اور دانشمند آدمی ہواور تم کسی بات میںاب تک متہم بھی نہیں ہوئے ہو۔(یعنی تم ثقہ ہو)اس کے علاوہ تم ”کاتبِ وحی “(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے کاتب)بھی رہ چکے ہو لہٰذا تم تلاش و جستجو سے قرآن پاک کو ایک جگہ جمع کردو۔“
حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کا شرح صدر
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ بری طر ح گھبرا گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیںکہ یہ بہت ہی عظیم کام تھااور مجھ پر بہت ہی شاق تھا۔اگر خلیفة الرسول رضی اﷲ عنہ مجھ کو پہاڑ اُٹھانے کا حکم دیتے تو میں اُس کو بھی اِس کام کے مقابلے میں ہلکا سمجھتا ۔لہٰذا میں نے عرض کیا کہ آپ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم وہ کام کس طر ح کر سکتے ہیں جو کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے میرا یہ جواب سُن کر فرمایا کہ اِس میں کچھ حرج نہیں ہے۔مگر مجھے پھر بھی تامل رہا(کہ میں خود کو ایک عظیم کام کے انجام دینے کا اہل نہیں سمجھتا تھا) اور میں نے اِس پراصرار کیا۔یہاں تک کہ اﷲ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیااور مجھے” شرح صدر“ فرمایا۔اور اِس امر عظیم(عظیم کام) کی اہمیت مجھ پر بھی واضح ہو گئی۔
قرآن پاک کا ایک مصحف میں جمع کرنا
حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کی سمجھ میں بھی یہ بات آگئی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آنے والی اُمت کے لئے قرآن پاک جمع کرنا کتنا اہم ہے۔اس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں۔پھر میں نے تفتیش اور تلاش کا کام شروع کیااور کاغذ کے پُرزوں اونٹ اور بکریوں کے شانوں کی ہڈیوں اور درختوں اور پتوں کو جن پر قرآن پاک کی آیات تحریر تھیں۔انہیں جمع کیا اور پھر لوگوں کے حفظ کی مدد سے قرآن پاک کو جمع کیا۔سورہ توبہ کی دو آیتیں لقد جاءکم....سے دونوں آیات کے آخر تک۔مجھے حضرت خذیمہ بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے سوا کہیں اور سے نہیں مل سکیں۔اِس طرح میں نے قرآن پاک جمع کر کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کردیاجو اُن کی وفات تک اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ا ﷲ عنہا کے پاس رہا۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ کے دور خلافت میں اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس رہا۔پھر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں انہوں نے اس کی تین نقول تیار کر کے بڑے صوبوں میں بھیجااور اس کی نقل کر کے عالم اسلام میں پھیلانے کا حکم دیا۔ہمارے پاس جو قرآن پاک ہے وہ اسی کی نقل ہے۔اﷲ تعالیٰ تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو اجر عظیم عطا فرمائے اورجنت میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پڑوس عطا فرمائے،آمین۔
بحرین میں ارتداد
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب بادشاہوں کوخطوط لکھے تھے اوراپنے قاصدوں کے ذریعے انہیں اسلام کی دعوت دی تھی ۔تب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو خط دیکر بحرین روانہ فرمایا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بحرین پہنچ کر وہاں کے بادشاہ منذر بن ساویٰ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط دیا اور اسلام کی دعوت دی۔حضرت منذر بن ساویٰ نے اسلام قبول کیا اور بحرین کے تمام قبائل نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ جس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اُس وقت حضرت منذر بن ساویٰ کی طبیعت خراب تھی۔کچھ ہی دنوں بعد اُن کا انتقال ہو گیاجب تک وہ زندہ تھے تو اہل بحرین اسلام پر رہے لیکن اُن کے انتقال کے بعد بحرین میں بھی ارتداد پھیل گیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیرلکھتے ہیں:رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو بحرین کے بادشاہ حضرت منذر بن ساویٰ عبدی کے پاس بھیجا اور انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیااور ملک میں اسلام و عدل و انصاف کو قائم کیا۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا ،تو تھوڑے عرصے بعد حضرت منذر بن ساویٰ کا بھی انتقال ہو گیا۔اُن کے انتقال کے بعد بحرین کے باشندے مُرتد ہو گئے اور انہوں نے الغرور کو اپنا بادشاہ بنالیا۔اِس کا نام منذر بن نعمان بن منذر تھا۔بحرین میں صرف ایک بستی جس کا نام ”جواثا یا جوانا“تھا صرف وہیں کے لوگ اسلام پر قائم رہے۔
حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ کا قبول اسلام
حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ ”جواثا یا جوانا“بستی میں رہتے تھے،آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ حق کی تلاش میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے جارود !اسلام قبول کر لو۔“انہو ں نے عرض کیا:”میں خود اپنا دین رکھتا ہوں۔“آپ صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارا دین کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے وہ مہمل ہے۔“حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اگر میں اسلام قبول کر لوں،تو جو خرابی بعد میں اسلام میں ہو گی اُس کی ذمہ داری آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا:”ٹھیک ہے۔“(کیونکہ اسلا م میں کوئی خرابی ہے ہی نہیں اور نہ ہوگی)۔ حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور مدینہ منورہ میں ہی رہ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کرتے رہے۔جب مسائل ِ دین سے اچھی طرح واقف ہو گئے تو انہوں نے گھر جانے کا ارادہ کیااور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیاکہ سفر کے لئے اگر کوئی سواری ہو تو عنایت کیجیئے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تو کوئی سواری نہیں ہے،ہاں اگر تم کچھ دن اور رک جاو¿ تو ہو سکتا ہے کہ انتظام ہو جائے۔حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ اگر راستے میں کوئی بھٹکا ہوا جانور مل جائے تو میں اُسے لے لوں؟آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہر گز نہیں کرنا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اسلام کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کیا اور اُن کی پوری قوم مسلمان ہو گئی۔
حضرت جارود بن معلی رضی ا ﷲ عنہ کی ثابت قدمی
حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ کی قوم کو اسلام قبول کئے ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیااور ملک عرب میں پھیلی ارتداد کی ہوا اُن کی قوم تک پہنچ گئی لیکن آپ رضی ا ﷲ عنہ نے بڑی حکمت سے اپنی قوم کو سمجھایااور اسلام پر قائم رکھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔تھورا ہی عرصہ گذرا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔اُن کے قبیلے عبد القیس نے کہا کہ اگر محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) نبی ہوتے تو کبھی اُن کا وصال نہ ہوتااور سب مُرتد ہو گئے۔حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے سب کو جمع کیا اور کھڑے ہو کر فرمایا:”اے گروہ ِ عبد القیس!میں تم سے ایک بات پو چھنا چاہتا ہوں،اگر تم اسے جانتے ہو تو بتانااور اگر نہیں جانتے ہو تو نہ بتانا۔“انہوں نے کہا :”ٹھیک ہے ،جو چاہو پوچھو۔“آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”کیا تم جانتے ہو کہ گذشتہ زمانے میں اﷲ کے انبیائے کرام علیہم السلام دنیا میں آچکے ہیں؟“انہوں نے جواب دیا :”ہاں! ہم جانتے ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم انہیں جانتے ہو یا انہیں دیکھا بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا:”نہیں،ہم نے ا ُن کو دیکھا تو نہیں ہے،لیکن ہم اُن کو جانتے ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”پھر کیا ہوا؟“انہوں نے جواب دیا:”پھر اُن سب کا وصال ہو گیا۔“حضرت جارود بن معلی رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”جس طرح گذشتہ انبیائے کرام علیہم السلام کا وصال ہوا ،اُسی طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا بھی وصال ہوا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اوربے شک محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اوررسول ہیں۔“ جب اُن کی قوم نے یہ سنا تو کہا کہ ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اور رسول ہیںاور ہم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنا بر گزیدہ اور اپنا سردار تسلیم کر لیا۔اس کے بعد مُرتدین نے انہیں تکلیف دینا شروع کر دی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور یہ پہلی بستی تھی جس نے ارتداد کے زمانے میں نماز ِ جمعہ کو قائم کیا۔جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مُرتدین نے اُن کا محاصرہ کر لیااور انہیں تنگ کرنے لگے اور اُن کا غلہ روک لیا۔ وہ سخت بھوکے ہو گئے اور اُن کے ایک شخص عبد اﷲ بن حذف نے جو بکر بن کلاب کا آدمی تھابھوک کی شدت سے تنگ آکر کہا۔”ارے کوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور مدینہ منورہ کے جوانوں کو پیغام پہنچا دے کہ کیا تمہارے پاس اِن معزز لوگوں کے لئے کچھ ہے؟جو ”جواثا یا جوانا“میں محصور ہیںاور ہر راستے میں اُن کے خون سورج کی شعاع کی طرح دیکھنے والوں کو ڈھانکے ہوئے ہیں۔ہم نے تو اﷲ رحمن پر توکل کیا ہوا ہے اور ہم نے توکل کرنے والوں کے لئے صبر پایا ہے۔“بعد میں حضرت علا ءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے آکر بحرین میںارتداد کا خاتمہ کیا اور تب انہیں نجات ملی۔
بحرین میں اسلامی لشکر
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے،اُن میں سے تین کا ذکر ہو چکا ہے۔اب ہم چوتھے لشکر کا ذکر کرتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو لشکر دے کا بحرین کے مُرتدین کی سر کوبی کرنے کے لئے روانہ کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ جب بلاد بنو تمیم سے گذر کر بحرین کے قریب پہنچے تو وہاں پر یمامہ سے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کو لیکر آئے اور آپ رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ابھی تک وہ مسیلمہ کذاب سے اپنی حد تک مسلسل لڑ رہے تھے۔جب انہوںنے حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ کے لشکر کے آنے کی خبر سنی تو یمامہ کی طرف سے اطمینان ہو گیا اورآپ رضی اﷲ عنہ اِدھر آگئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے بحرین کی طرف حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو بھیجا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ جب بحرین کے قریب پہنچے تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ اُن سے آکر مل گئے اور اُن کے نواح کے سب امراءبھی آکر حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور اُن کے ساتھ حُسن سلوک کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ ”مستجاب الدعوات“تھے،اِس سفر میں ایسا اتفاق ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک جگہ پڑاو¿ ڈالنے کا حکم دیااور سب لوگ اُتر پڑے ۔ ابھی سامان وغیرہ اُتارنے بھی نہیں پائے تھے کہ ایسا طوفان آیا کہ تمام اونٹ سامان سمیت بھاگ گئے۔رات انہوں نے بہت ہی تکلیف میں گذاری اور بہت غم زدہ ہو گئے اور ایک دوسرے کو وصیت کرنے لگے۔ (صحراءمیں سواری اور پانی نہ ہونے سے انسان کی موت ہو جاتی ہے) حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے سب لوگوں سے فرمایا:”اے لوگو!کیا تم مسلمان نہیں ہو؟کیا تم نے ا ﷲ کی راہ میں جہاد نہیں کیا؟کیا تم انصار اﷲ نہیں ہو؟“انہوں نے جواب دیا :”بے شک ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”خوش ہو جاو¿ ،اﷲ کی قسم!جس شخص کی بھی حالت تمہارے جیسی ہواﷲ تعالیٰ ا س کو بے یار و مدد گار نہیں چھوڑتا ہے۔“اس کے بعد فجر کی اذان دی گئی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کو نماز پڑھائی ،دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنے لگے،اور دعا مانگتے مانگتے سورج نکل آیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے اُن کے لئے صحراءمیں خالص پانی کا ایک تالاب بنا دیا۔سب لوگوں نے اِس تالاب سے پانی پیااور غسل کیا،پانی
کی بو پاکر تمام اونٹ سامان سمیت پانی پینے کے لئے واپس آگئے اور انہوں نے اونٹوں کو بھی پانی پلایا۔
بحرین کے مرتدین سے جنگ
اس کے بعد حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کی مدد کی اور اپنے ساتھ لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت علا ءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ اور ایک دوسرے صاحب کو یہ حکم دے کر بھیجا کہ تم دونوں عبد القیس کو لیکر حطم کے مقابلے کے لئے جو اُس کے علاقے سے ملا ہوا ہے،وہاں پڑاو¿ ڈالواور خود حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ حطم کے مقابلے پر اُس علاقے میں آئے جو ”مقام ِ ہجر “سے ملا ہوا ہے۔اہل دارین کے علاوہ تمام مرتدین حطم کے پاس جمع ہو گئے ۔اسی طرح تمام مسلمان بھی حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کے لشکر سے آکر مل گئے۔دونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے اور دونوں لشکروں نے اپنے اپنے آگے خندق کھود لی۔اب وہ روزآنہ اپنی اپنی خندقوں سے برآمد ہو کر لڑتے تھے اور پھر اپنی اپنی خندقوں میں واپس چلے جاتے تھے۔ایک مہینے تک ایسے ہی جنگ ہوتی رہی،اس کے بعد ایک رات ایسا ہوا کہ مرتدین کے لشکر سے شور و غل کی آواز سنائی دی ۔حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے اپنے جاسوس کو رپورٹ لانے کے لئے بھیجا۔اُس نے آکر بتایا کہ مرتدین شراب پی رہے ہیں اور مستی کر رہے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کوتیار رہنے کا حکم دیااور فجر کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دشمنوں پر ٹوٹ پڑو۔مسلمانوں نے اچانک حملہ کر دیا،مرتدین نشے میں دھت تھے۔اِن میں سے بہت کم بھاگ سکے ،اور اکثریت قتل ہوئی،بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا۔
دریا میں گھوڑے دوڑادیئے
حضرت علاءبن حضرمی کی حکمت عملی کامیاب رہی اور اکثر مرتدین کا خاتمہ ہوالیکن وہ لشکر اتنا بڑا تھا کہ اچھے خاصے لوگ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اور کشتی میں بیٹھ کر فرار ہونے لگے۔ علامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ رضی اﷲ عنہ اُن کو(لشکر کو)لیکر ساحل ِسمندر پر آگئے تاکہ وہ کشتیوں میں سوار ہوںلیکن جب آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ دور کی مسافت ہے اور کشتیوں پر سوار ہونے تک مرتدین بھاگ جائیں گے تو آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گھوڑے سمیت سمندر میں اُتر گئے۔ آپ رضی اﷲ عنہ فرما رہے تھے:”یا ارحم الراحمین،یا حکیم،یا کریم،یا احد،یا صمد،یا حی،یا قیوم،یا ذوالجلال والاکرام،لا الہ الا انت ربنا“اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ کلمات پڑھیں اور سمندر میں گھس جائیں۔پورے لشکر نے بھی ایسا ہی کیااور آپ رضی اﷲ عنہ انہیں اﷲ کے حکم سے کھاڑی سے پار لے گئے اور وہ نرم نرم ریت پر چلتے تھے جس کے اوپر پانی تھاجو اونٹوں کے پاو¿ںاور گھوڑوں کے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتا تھا۔اور کشتیوں کے لئے یہ سفر ایک دن اور ایک رات کا تھا،پس آپ رضی اﷲ عنہ نے دوسرے کنارے تک اسے طے کیااور دشمنوں سے جنگ کر کے اُن کو مغلوب کر لیااور مال ِ غنیمت سمیٹ کر پانی میں چلتے ہوئے پہلی جگہ پرواپس آ گئے اور یہ سب کچھ ایک دن میں ہوااور آپ رضی اﷲ عنہ نے دشمن کا ایک خنجر بھی نہیں چھوڑااور بچوں، چوپایوںاور اموال کو لیکر آئے اور مسلمانوں کی بھی سمندر میں کوئی چیز بھی ضائع نہیں ہوئی ہاں ایک مسلمان کے گھوڑے کا توبرہ گم ہو گیا تھاتو حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ واپس جا کر اُسے بھی لے آئے۔
بحرین سے ارتدا دکا خاتمہ
حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے دارین پر حملہ کرنے سے پہلے یہ اطمینان کر لیا کہ تمام بحرین سے ارتداد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ حطم میں ہی مقیم رہے اور ہر طرف اپنے قاصدوں کو بھیجا۔تمام قبائل نے اسلام دوبارہ قبول کر لیااور جو لوگ مرتد تھے وہ سب دارین میں جمع ہو نے لگے۔یہاں تک کہ پورے بحرین میں ایک بھی مرتد نہیں رہ گیااور تمام مرتدین سمندر پار بھاگ کر دارین میں جمع ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت علا ءبن حضرمی رضی اﷲعنہ بدستور مرتین کی فروگاہ(حطم) میں مقیم رہے اور بنو بکر بن وائل کو اسلام کی دعوت دی اور جب قاصد اُن کا جواب لیکر آیا کہ سب نے اسلام قبول کر لیا ہے اور لشکر کی امداد کے لئے سپاہی بھی بھیجے ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اطمینا ن ہو گیا کہ اب بحرین میں ایسی کوئی بات نہیں رونما ہو گی جس کا برا اثر پڑے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کو جمع کر کے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے شیاطین کے گروہوں اور جنگ سے شکست کھائے ہوئے بھگوڑوں کو تمہارے ہاتھوں تباہ کرنے کے لئے اِس سمندر میں جمع کر دیا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے خشکی میں تم کو ایسی نشانیاں دِکھلا دی ہیں،جس سے تم سمندر میں اُس کی ذات پر بھروسہ کر سکو۔لہٰذا اپنے دشمن کی طرف آگے بڑھو اور سمندر پھاڑ کر اُن تک پہنچ جاو¿کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اُن سب کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے اوریہ اُن کو تباہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔“مسلمانوں نے کہا: ”ہم اِس کے لئے خوشی سے تیار ہیں۔“اس کے بعد حضرت علا بن حضرمی رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو لیکر سمندر کے کنارے آئے اور سب کے سب گھوڑوں،اونٹوں،خچروں،پر سوار ہو کر اور پیدل سمندر میں گھس گئے۔اُس وقت حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ یہ دعا فرما رہے تھے اور تمام مسلمان اِس دعا کو دُہرا رہے تھے۔”اے ارحم الرحمین،اے کریم،اے احد ،اے صمد،اے حی ،اے محی الموتی ٰ،اے حی،اے قیوم،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور تُو ہی ہمارا رب ہے۔“تمام مسلمانوں نے اﷲ کے حکم سے اِس خلیج کو بغیر کسی نقصان کے عبور کر لیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایسی نرم ریت پرچل رہے ہوں جس پر پانی چھڑکا گیاہو کیونکہ اُن کے اونٹوں کے پاو¿ ں تک نہیں ڈوبے۔ حالانکہ بعض موقعوں پر ساحل سے دارین تک کا سفر کشتیوں کے زریعے ایک دن اور ایک رات میں طے ہوتا تھا۔اب مسلمانوں اور مرتدین کے درمیان جنگ شروع ہوئی اور نہایت ہی خونریز معرکہ ہواجس میں تمام مرتدین اِس طرح مارے گئے کہ کوئی ان کی خبر دینے والا بھی نہیں بچا۔مسلمانوں نے اُن کے اہل و عیال کو غلام اور لونڈی بنا لیااور اُن کی املاک پر قبضہ کرلیااور اتنا مال غنیمت حاصل ہو کہ ہر مسلمان شہسوار کو چھ ہزار اور ہر پیدل مسلمان کو دو ہزار درہم ملے۔مسلمانوں کو ساحل سمندر سے اُن تک پہنچنے اور مقابلے میںپورا دن صرف ہو گیا۔پھر جس راستے سے وہ سب گئے تھے اُسی راستے سے واپس آئے اور اُسی طرح سمندر پار کیا۔اِس طرح پورے بحرین سے ارتداد کا خاتمہ ہو گیا۔حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکالا ،اور مدینہ منورہ بھیج دیا۔باقی مال غنیمت کو لشکر میں تقسیم کر دیا۔
ہجر کے راہب کا قبول اسلام
حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جب یہ واقعات پیش آنے والے اِن تمام واقعات کو وہاں ہجر میں مقیم ایک راحب نے دیکھا اور اسلام قبول کر لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ہجر میں مسلمانوں کے ساتھ ایک راہب بھی تھاجس نے اُس دن اسلام قبول کرلیا۔لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ کیا ہے؟اُنہوں نے کہا کہ تین چیزیںایسی ہیں جن کے واقع ہونے کے بعد میں ڈر گیا کہ اگر اب بھی اسلام قبول نہیں کروں گا توکہیں اﷲ تعالیٰ مجھے مسخ نہ کردے۔(۱) ریگستان میں چشمے کا جاری ہونا،(۲)سمندر کی پنہائی کا سمٹ جانا،(۳)اور وہ دعا جس کی گونج میں نے صبح کے وقت اُن کے پڑاو¿ سے آتی ہوئی فضا میں سنی۔لوگوں نے پوچھا کہ وہ دعا کیا تھی؟راہب نے کہا !وہ دعا یہ ہے۔”اے اﷲ !تُو رحیم ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تُو ابتدا سے ہے،تجھ سے پہلے کوئی شے¿ نہیں تھی۔تُو ہروقت ہے،تجھ پر غفلت کبھی طاری نہیں ہوتی ،تُو ہی وہ زندہ ہے کہ جسے موت نہیں ہے،۔تُو ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے،چاہے وہ نظر آتی ہو یا نہیں نظر آتی ہو۔ہر روز تُو ایک نئی شان میں جلوہ افروز ہوتا ہے،تُو ہر چیز کو جانتا ہے،بغیر اس کے کہ تُو نے اس کو سیکھا ہو۔“اِس دعا سے مجھے معلوم ہوا کہ اگر یہ لوگ اﷲ کے حکم پر عمل پیرا نہیں ہوتے اور اُس کے دین پر نہ ہوتے تو فرشتے اُن کی امداد کے لئے نہیں بھیجے جاتے۔اُس زمانے کے بعد لوگ اِس واقعہ کو کو اِن ہجری راہب کی زبانی سنا کرتے تھے۔
حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے بھر پور کوشش سے بحرین میں مجموعی طور سے ارتداد کا خاتمہ کر دیا تھالیکن کچھ شر پسند عناصر چھپ کر تخریبی کاروائی کر رہے تھے،جن کی وجہ سے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیاحالانکہ بعد میں یہ شر پسند عناصر بھی ختم ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ تمام لوگوں کو واپس لے آئے اور سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے وہیں پر قیام کرنے کو پسند کیا سب لوگ واپس آگئے۔ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ بھی واپس آگئے۔سب لوگ جب بنو قیس بن ثعلبہ کے چشمہ¿ آب پر مقیم تھے تو کچھ لوگوں کی نظر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ پر پڑی ۔انہوں نے حطم کا چوغہ اُن کے جسم پر دیکھاتو ایک شخص کو دریافت کے لئے بھیجا ۔ اُس سے کہا کہ جا کر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ سے دریافت کرو کہ یہ چوغہ تم کو کہاں سے ملا؟اور حطم کے متعلق دریافت کرو کہ کیا تم نے اُسے قتل کیا ہے،یا کسی اور نے ؟اُس شخص نے آکر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ سے چوغے کے بارے میں پوچھا۔انہوں نے فرمایا کہ یہ مجھے مال غنیمت میں ملا ہے۔اُس شخص نے کہا کہ کیا تم نے حطم کو قتل کیا ہے؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ نہیں،حالانکہ میری یہ تمنا تھی کہ میں اُس کو قتل کرتا۔اُس شخص نے کہا۔یہ چوغہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اس کا جواب تمہیں میں پہلے بھی دے چکا ہوں ۔اُس شخص نے اپنے دوستوں سے آکر اس گفتگوکے بارے میں بتایا۔وہ سب کے سب آپ رضی ا ﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کو گھیر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کیوں کیا ہے؟“اُن سب نے کہا کہ تم ہی حطم کے قاتل ہو۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”تم جھوٹے ہومیں اُس کا قاتل نہیں ہوں....البتہ یہ چوغہ مجھے مال غنیمت میں بطور حصے کے ملا ہے۔“اُن لوگوں نے کہا کہ حصہ تو صرف قاتل ہی کو ملتا ہے۔حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:یہ چوغہ اُس کے جسم پر نہیں تھابلکہ اُس کی قیام گاہ سے ہمیں حاصل ہوا ہے۔“اُن لوگوں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہواور اُن پر حملہ کر دیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کا مقابلہ کیا ،لیکن وہ تعداد میں اتنے زیادہ تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے۔
عمان میں اسلامی لشکر
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر بھیجے تھے،اُن میں سے چار لشکر کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔اب پانچویں اور چھٹے لشکر کا ذکر پیش ہے۔یہ دونوں لشکر عمان اور مہرہ(ساحل ،بحیرہ عرب) کی طرف روانہ ہوئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد یقط بن مالک اذدی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا تھااور عمان کی اکثریت مرتد ہو گئی۔حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم جو عمان اور مہرہ کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے انہیںپہاڑوں میں رو پوش ہونے پر مجبور کردیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اہل عمان میں ایک شخص نمودار ہوا جسے ذو التاج یقط بن مالک ازدی کہا جاتا تھااور زمانہ ¿ جاہلیت میں اس کا نام الحسبندی تھا۔اس نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیااور عمان کے جاہلوں نے اس کی اتباع کرلی اور وہ عمان پر غالب آ گیا۔اُس نے حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم کو پہاڑوں اور سمندر کے نواحی اطراف میں جانے پر مجبور کر دیا۔حضرت جیفر رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات لکھ کر ایک قاصد کے ذریعے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی کے پاس بھیجا اور کمک مانگی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے دو لشکر روانہ فرمائے۔ ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت حذیفہ بن محصن غطفانی رضی اﷲ عنہ کو بنایااور دوسرے لشکر کا سپہ سالار حضرت عرفجة البارقی رضی اﷲ عنہ کو بنایا اور دونوں کو حکم دیا کہ اکٹھے رہیںاور عمان سے ابتدا کریں۔ حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ عمان میں امیر ہوں گے اور حضرت عرفجة رضی ا ﷲ عنہ بلاد مہرہ میں امیر ہوں گے۔اس سے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عکرمہ بن ابو جہل رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ یمامہ کا محاذ چھوڑ کر اِن دونوں حضرات کے لشکر سے جاملیںاور عمان اور مہرہ سے ارتداد کے خاتمے کے بعد یمن اور حضر موت کی طرف اپنا لشکر لیکر چلے جائیں۔اسی حکم کے مطابق حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ ان دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم سے آملے۔
عمان سے ارتداد کا خاتمہ
حضرت عکرمہ،حضرت حذیفہ،اور حضرت عرفجة رضی اﷲ عنہم لشکر لیکر جب عمان کے نزدیک پہنچے تو حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم کو خبر دی۔وہ دونوں حضرات اپنے اپنے لشکر لیکر ”مقام صحار “پر آگئے اور پڑاو¿ ڈال دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور یقط بن مالک کو بھی اسلامی لشکر کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔پس وہ اپنی فوج لیکر نکلااور ”مقام دبا“پر پڑاو¿ ڈال دیا۔یہ مقام اس علاقے کا شہر اور بڑی منڈی تھا۔اُس نے عورتوں،بچوں اور اموال کو اپنے لشکر کے پیچھے رکھاتاکہ اُن کی جنگ کے لئے قوت کا باعث ہو۔ حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم مقام صحار پر اکٹھے ہو گئے اور وہیں پڑاو ڈال دیا۔پھر اسلامی لشکر سے آکر مل گئے۔اس کے بعد مسلمانوں اور مرتدین میں جنگ شروع ہوئی اور دونوں طرف سے شدید حملے ہو نے لگے۔جنگ اتنی شدید ہوئی کہ مسلمان آزمائش میں پڑ گئے اور قریب تھا کہ ہمت ہار دیں،کہ اُسی وقت اﷲ تعالیٰ کی مدد آئی ۔ اِس نازک گھڑی میں بنو ناجیہ اور بنو عبد القیس کے لشکر مسلمانوں کی مدد کے لئے پہنچ گئے۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور مرتدین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔مسلمانوں نے اُن کا پیچھا کیا اور ان میں سے دس ہزار بھگوڑوں کو قتل کر دیااور عورتوںاور بچوں کو قید کر لیااور اُن کے اموال پر قبضہ کر لیا۔مال غنیمت میں سے خمس نکال کر مدینہ منورہ روانہ کر دیااور باقی مال غنیمت لشکر میں بانٹ دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ ”مقد مة الجیش“پر تھے،اور میمنہ پر حضرت حذیفہ ،میسرہ پر حضرت عرفجة،اور قلب میں حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم اپنے اپنے لشکر کے ساتھ تھے۔ ادھر یقط اور اُس کا لشکر صف بہ صف کھڑے تھے اور اُن کے پیچھے عورتیں اور لڑکے تھے۔نماز فجر کے بعد جنگ شروع ہوئی ،دونوں فریقین نے جی توڑ کر لڑنا شروع کیا۔جنگ کا آغاز نہایت خطرناک نظر آ رہا تھا۔مسلمانوں کا لشکر نشیب میں تھا اور مرتدین کا لشکر بلندی پر تھا۔اس کے باوجود مسلمان جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھتے رہے ۔یقط نے یہ رنگ دیکھ کر اپنی فوج کو للکارکر آگے بڑھایااور خود ایک ہاتھ میں پرچم اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے گھوڑے کو مہمیز لگا کر آگے بڑھا۔مسلمان اِس اچانک اور مجموعی حملے سے گھبرا گئے اور قریب تھا کہ ہمت چھوڑ دیتے لیکن اُسی وقت بنو ناجیہ اور بنو عبد القیس اُن کی مدد کو آگئے،اسلامی لشکر کا حوصلہ اِس غیر متوقع امداد کی وجہ بڑھ گیا اور انہوں نے ایک ساتھ اﷲ اکبر کہہ کر حملہ کر دیا ۔مرتدین پیٹھ پھر کر بھاگے ،دس ہزار کے قریب مارے گئے۔قیدیوں کی تعداد کا اندازہ اِس بات سے لگتا ہے کہ مال غنیمت کا خمس(پانچواں حصہ)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا گیا تو اُس میں آٹھ سو(۰۰۸)قیدی تھے۔جنگ ختم ہونے کے بعد حضرت حذیفہ تو اپنے لشکر کے ساتھ عمان میں ٹھہرے رہے اور حضرت عکرمہ باقی لشکر لیکر مہرہ روانہ ہو گئے۔اس طرح عمان سے بھی ارتداد کا خاتمہ ہو گیا۔
بلادِمہرہ (ساحل بحیرہ عرب )سے ارتداد کا خاتمہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق عمان میں پورے اسلامی لشکر کے سپہ سالار حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ رہے۔عمان میں فتح حاصل کرنے کے بعد اسلامی لشکر مہرہ کی طرف بڑھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب عمان سے فارغ ہوئے تو حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی ا ﷲ عنہ لشکر کو لیکر بلاد ِمہرہ کی طرف بڑھے۔جب مہرہ میں داخل ہوئے تو مرتدین کو دو حصوں میں منقسم پایا۔ایک گروہ کا کمانڈر المصبح تھا جو بنو محارب کا تھااور دوسرے گروہ کا کمانڈر شخریت تھا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے ان دونوں کے اختلاف کا فائدہ اُٹھایااور شخریت کو اسلام کی دعوت دی تو اُس نے اپنے لشکر کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔اِس سے مسلمانوں کی طاقت بڑھ گئی اور المصبح اپنے آپ کو کمزور محسوس کرنے لگا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے اُسے بھی اسلام کی دعوت دی لیکن وہ شخریت کی دشمنی اور اپنے لشکر کی کثرت کی وجہ سے دھوکہ کھا گیااور اپنی سر کشی پر اصرار کرنے لگا۔حضرت عکرمہ رضی ا ﷲ عنہ لشکر لیکر آگے بڑھے اور مقام دبا کی جنگ سے بڑھ کر سخت جنگ ہوئی ۔گھمسان کا رن پڑا اور سخت جد وجہد کے بعد آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ مرتدین پیٹھ پھیر کر بھاگے اور المصبح اور اُسکے بے شمار ساتھی قتل ہوئے۔بے حساب مال غنیمت حاصل ہوا جن میں ایک ہزار عمدہ گھوڑیاں بھی تھیں۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینہ منورہ خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کیااور باقی مال غنیمت شخریت اور لشکر میں تقسیم کر دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں:اس جنگ سے مسلمانوں کو بہت مدد ملی۔اس کے بعد اطراف و جوانب کے کُل رہنے والے نجد،روضہ وساطی،جزایر،مرو لسان ،اہل جبرہ،ظہعر الشحر،فرات ،ذات الحمیم،اور فرہ کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے۔اس طرح بلاد ِمہرہ سے بھی ارتداد کا خاتمہ ہوگیا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے تمام واقعات حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجے اور خود اپنا لشکر لیکر اُن کی ہدایت کے مطابق یمن کی طرف روانہ ہو گئے۔
یمن سے ارتداد کا خاتمہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے جو گیارہ لشکر ذی القصہ سے روانہ کیا تھا ۔اُن میں سے ایک لشکر حضرت سُوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو دے کر تہامہ یمن کی طرف روانہ کیا تھااور ایک اور لشکر حضرت مہاجر بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو دے کر یمن میں پہلے صنعاءاور پھر حضر موت کی طرف جانے کا حکم دیا تھا۔یمن کے اسود عنسی ،اور مرتدین کے بارے میں ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔اِن دونوں لشکروں کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پر موجود صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم لگاتار مرتدین سے مقابلہ کر رہے تھے۔ جب یہ دونوں لشکر وہاں پہنچے تو یمن سے لگ بھگ ارتداد خاتمے کے قریب تھااور پھر حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے اور تینوں لشکروں نے چن چن کر یمن سے مرتدین کا صفایا کر دیا۔
بقیہ عالم عرب سے مرتدین کا صفایا
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر بھیجے تھے،اُن میں سے آٹھ لشکروں کا ہم ذکر کر چکے ہیں،بقیہ تین لشکر یہ ہیں۔حضرت طریف بن حاجز رضی اﷲ عنہ کو لشکر دے کر بنو سُلیم اور اُن کے حلیف بنو ہوازن کی طرف بھیجا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دے کر بنو قضاعہ،بنو ودیعہ،اور بنوحارث کی طرف بھیجااور حضرت خالد بن سعید بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر اطراف ملک شام بنو تیما کی طرف بھیجا۔ان تینوں لشکروں نے بھی مذکورہ علاقوں میں پہنچ کر آسانی سے ارتداد کا خاتمہ کر دیا۔اس طر ح تمام عالم ِ عرب سے ارتداد کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور سب کے سب اسلام میں داخل ہو گئے۔تمام گیارہ لشکروں نے لگ بھگ چار مہینے میں پورے عالم عرب سے ۱۱ ھجری کا سال مکمل ہونے سے پہلے ہی مرتدین کا صفایا ہو گیااور عالم عرب میں مسلمانوں کے علاوہ صرف ذمی ہی رہ گئے تھے جو خلافت راشدہ کو اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے جزیہ ادا کرتے تھے۔
11 ھجری کے خاص واقعات
عالم اسلام اور مسلمانوں کے لئے 11 ھجری کا سال بہت ہی دکھ بھرا اور ہنگامہ خیز رہا۔سب سے بڑا غم جو عالم اسلام اور مسلمانوں کو ہوا وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال تھا۔آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کا وصال اکثر روایات کے مطابق بارہ ربیع الاول 11 ھجری کو ہوا۔اس کے بعد پورے عرب میں ارتداد کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا ،جسے لگ بھگ نو مہینے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی شاندار حکمت عملی سے مکمل طور سے ختم کر دیا۔اﷲ تعالیٰ کا یہ مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اپنے آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت میں پیدا فرمایااور آپ رضی اﷲ عنہ کا ہم تمام مسلمانوں پر یہ احسان ِ عظیم ہے کہ ایسے نازک حالات میں بھی ثابت قدم رہے اور اسلام کی حفاظت فرمائی ورنہ ہو سکتا تھا کہ ہم بھی مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوتے۔ 11 ھجری میں تمام جھوٹے نبیوں کا خاتمہ ہوااور قرآن پاک کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کیا گیا۔آج جو قرآن پاک مکمل کتابی شکل میں ہمارے پاس ہے وہ حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عُمر فاروق اور حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہم کی کوششوں اور جد و جہد کا نتیجہ ہے اور قیامت تک کے تمام مسلمان اِن تینوں حضرات رضی اﷲ عنہم کے احسان مند رہیں گے۔
سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کا وصال
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے چند ہی مہینوں بعد سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کا وصال ہو گیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:مشہور ترین قول کے مطابق آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے چھ مہینے بعد سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کا وصال ہو گیا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا کہ میرے اہل بیت میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آکر ملو گی ۔ اس کے ساتھ ہی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کیا تم اِس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم جنتی عورتوں کی سردار ہو۔ مشہور قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔اور اس کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہاکے سوا آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی کوئی اولاد زندہ نہیں تھی۔اِس لحاظ سے آپ رضی اﷲ عنہا کا اجر بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ آپ رضی ا ﷲ عنہا کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کا غم اُٹھانا پڑا تھا۔سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے وصال کا وقت جب قریب آیا تو آپ رضی اﷲ عنہا نے سیدہ اسما بنت عمیس رضی اﷲ عنہا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بیوی کو وصیت کی کہ وہ انہیں غسل دیںاور آپ رضی اﷲ عنہا کی نماز جنازہ آپ رضی اﷲ عنہا کے شوہر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پڑھائی ۔ایک اور روایت کے مطابق آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ نے پڑھائی ۔ایک اور روایت کے مطابق حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے پڑھائی ۔اب حقیقت کا علم تو صرف ا ﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازے کو چادر سے ڈھانک کر لے جانا۔اس لئے آپ رضی اﷲ عنہا پہلی ہستی ہیں جن کے جنازے کو ڈھانک کر لے جایا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہا کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہا کی عُمر کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔اِن میں ستائیس،اٹھائیس،اُنتیس،تیس سال کی عمر بتائی جاتی ہیں۔اصل عمر کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔
سیدہ اُم ایمن رضی اﷲ عنہا کی وفات
سیدہ اُم ایمن رضی اﷲ عنہانے رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بچپن سے خدمت کی۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہا کا نام برکة بنت ثعلبہ بن حصین بن مالک بن سلمہ بن عمرو بن نعمان بن ہے۔اُم ایمن کنیت ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خادمہ ہیں،آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو اپنے والد ِ محترم حضرت عبداﷲ سے ورثہ میں ملیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں اور اُن کے شوہر عبید کو آزاد کردیااور اُن سے ایک بیٹے ایمن پیدا ہوئے۔ اسی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہا ”اُم ایمن“کے نام سے مشہور ہو گئیں۔پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کا نکاح حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ سے کر دیا اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اُن کے یہاں پیدا ہوئے۔اور آپ رضی اﷲ عنہا نے دو ہجرتیں کی ہیں،پہلے حبشہ اور پھر مدینہ منورہ۔آپ رضی اﷲ عنہا صالحہ عورتوں میں سے تھیںرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اکثر اُن کے گھر جا کر اُن سے ملاقات کرتے تھے۔کہ میری والدہ محترمہ کے بعد یہ اُن کی جگہ ہیںاور اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ،اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی اُن کے گھر جا کر اُن سے ملاقات کرتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پانچ یا چھ مہینے بعد وفات پائی۔
حضرت ثابت بن اقرم بن ثعلبہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہ کو جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے طلیحہ اسدی نے اُس وقت قتل کیا جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُس سے مقابلہ کرنے کے لئے بنو طے کے علاقے میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے اور حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہ ،حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ گشتی دورے پر تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں،اور لگ بھگ سبھی جنگوں میں شریک ہوئے۔جنگ موتہ میں بھی آپ رضی اﷲ عنہ شامل ہوئے اور جب حضرت عبد اﷲ بن رواحہ رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے تو جھنڈا اُنہیں دیا گیا ۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے جھنڈا حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے سپرد کردیا،اور فرمایا :”آپ رضی اﷲ عنہ مجھ سے زیادہ فن حرب کو جانتے ہیں۔“
حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت ثابت بن قیس رضی اﷲ عنہ قبیلہ بنو خزرج کے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کی آواز بہت اونچی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ یمامہ کی جنگ میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ خزرجی انصار میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کو ابو محمد”خطیب انصار“اور ”خطیب النبی“بھی کہا جاتا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ یمامہ کے روز شہید ہوئے اور اُس روز انصار کا جھنڈا آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔جب یہ آیت ترجمہ”اے ایمان والو!اپنی آواز کو نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کی آواز سے اونچی نہ کرو۔....آیت کے آخر تک۔“ نازل ہوئی تو حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ کو بہت ڈر محسوس ہواکیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ اونچی آواز میں بات کرتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ صرف اپنے گھر تک محدود ہو گئے اور روتے رہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کے گھر حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ میری آواز اونچی ہے ،اس لئے مجھے ڈر ہے کہ میرے اعمال برباد چکے ہوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اُن میں سے نہیں ہوبلکہ تم قابل تعریف حالت میں زندہ رہو گے اور شہید ہو گے اور اﷲ تعالیٰ تم کو جنت میں داخل کرے گا۔
حضرت حزن بن ابی وہب رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت حزن بن ابی وہب رضی اﷲ عنہ قریش کے قبیلہ بنو مخزوم کے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہجرت کی اور ایک روایت میں ہے کہ فتح مکہ کے سال اسلام قبول کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ یمامہ میں اپنے دوبیٹوںحضرت عبد الرحمن بن حزن اور حضرت وہب بن حزن رضی اﷲ عنہم کے ساتھ شریک ہوئے اور تینوں حضرات رضی اﷲ عنہم شہید ہوئے۔
حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ اپنے بھائی حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بڑے ہیںاور اُن سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔بدری صحابی ہیں،اور لگ بھگ تمام جنگوں میں شرکت کی۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِن کے اور حضرت معن بن عدی انصاری رضی اﷲ عنہ کے درمیان مواخات کرائی تھی اور یہ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اُن کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میرے بڑے بھائی مجھ سے دو نیکیوں میں سبقت لے گئے۔پہلی یہ کہ مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا اور دوسری یہ کہ مجھ سے پہلے شہید ہوئے اور جب باد صبا چلتی ہے تو مجھے حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی یاد دلا دیتی ہے۔
حضرت ابو حذیفہ سالم بن عبید رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت ابو حذیفہ سالم بن عبید رضی اﷲ عنہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ اِس جنگ میں مہاجرین کے سپہ سالار تھے۔آپ رضی ا ﷲ نے بہت پہلے اسلام قبول کیااور سادات میں سے ہیں۔رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے ہجرت کی اور سب سے زیادہ حافظ ِ قرآن ہونے کی وجہ سے مہاجرین کو نماز پڑھایا کرتے تھے جن میں حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ بدری صحابی ہیں اور بعد کی جنگوں میں بھی شرکت کی۔آپ رضی اﷲ عنہ اُن چار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے ایک ہیں،جن کے بارے میںفرمایا کہ چار اشخاص سے قرآن پڑھو، اِن میں حضرت ابو حذیفہ رضی ا ﷲ عنہ بھی ہیں۔حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنی شہادت کے وقت فرمایا کہ اگر حضرت ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ زندہ ہوتے تو میں اُن کو خلیفہ بنانا پسند کرتا۔
حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ بھی جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کا نام سماک بن اوس بن خرشہ بن لوذ ان بن عبدود بن زیدبن ثعلبہ بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج انصاری، خزرجی ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیںاور غزوہ ¿ اُحد میں بے مثال شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کیا تھااور شدید جنگ کی تھی۔اُس جنگ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں اپنی تلوار عنایت فرمائی تھی اور آپ رضی اﷲ عنہ اُسے لیکرفخر سے سینہ تانے میدان جنگ میں چل رہے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں دیکھکر مسکراتے ہوئے فرمایا تھا کہ بے شک اﷲ تعالیٰ اِس میدان جنگ کے علاوہ اِس چال کو پسند نہیں فرما تا ہے۔ آپ رضی ا ﷲ عنہ سرخ عمامہ باندھا کرتے تھے جو آپ رضی اﷲ عنہ کی شجاعت کی علامت تھا۔غزوہ ¿ اُحد میں آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس تلوار کا حق ادا کر دیا تھا۔جنگ یمامہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی پھر بھی اُسی حالت میں آپ رضی اﷲ عنہ جنگ کرتے رہے۔حتیٰ کہ شہید ہو گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت وحشی بن حرب کے ساتھ مسیلمہ کذاب کو قتل کیاتھا۔حضرت وحشی بن حرب نے نیزہ مارا تھااور حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ عنہ نے تلوار سے اُس کا سر کاٹ دیا تھا۔
حضرت شجاع بن وہب رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت شجاع بن وہب رضی اﷲ عنہ بھی جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت شجاع بن وہب رضی اﷲ عنہ ربیعہ اسدی کی اولاد میں سے ہیں اور بنو عبد شمس کے حلیف ہیں۔ مدینہ منورہ ہجرت کی،اور بدری صحابی ہیں۔اور اس کے بعد کے معرکوں میں بھی شامل ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنا قاصد بنا کر حارث بن شمر غسانی کے پاس بھیجا تھا۔ اُس نے تو اسلام قبول نہیں کیا لیکن اُس کے دربان حضرت سومی نے اسلام قبول کر لیاتھا۔آپ رضی اﷲ عنہ لمبے ،دبلے اور کبڑے تھے اور چالیس سال سے بھی کم عمر میں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت طفیل بن عمرو بن عاص بن ثعلبہ بن سُلیم بن فہر بن غنم بن دوس نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اعلان نبوت کئے کچھ ہی سال ہوئے تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے قبیلے کے سردار اور بہت ہی عقلمند اور بہت بڑے شاعر تھے۔قریش نے آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا کلام سننے سے منع کیااور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف خوب بھڑکایا۔یہاں تک کہ جب آپ رضی اﷲ عنہ جب رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے سامنے جاتے تو کانوں میں روئی ٹھونس لیتے تھے۔ایک دن آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا کلام سنا تو اسلام قبول کر لیااور اپنے قبیلے میں جا کر اسلام کی دعوت دی تو صرف آپ رضی اﷲ عنہ کے والد اور بیوی نے اسلام قبول کیااور قبیلے والوں نے انکار کردیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بد دعا کرنے کی درخواست کی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اﷲ تعالیٰ قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرمااورانہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما اور آپ رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ صبر سے اسلام کی دعوت دیتے رہو۔غزوہ ¿ خیبر کے وقت بہتر(۲۷)یا نوے(۰۹) خاندانوں کو لیکر مدینہ منورہ ہجرت کی اور سب نے اسلا م قبول کیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی کوششوں سے اسلام قبول کیا تھا۔ حضرت طفیل بن عمرو رضی اﷲ عنہ بھی جنگ یمامہ میں شامل ہوئے ،اُن کے ساتھ اُن کے بیٹے عمرو بن طفیل رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔جنگ سے ایک دن پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے خواب دیکھا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ مجھے اِس خواب کی تعبیر یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اِس جنگ میں اﷲ تعالیٰ مجھے شہادت کے مرتبے پر فائز فرمائے گااور تم کافی دنوں بعد شہید ہو گے۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ یمامہ میں شہید ہو گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے کافی دنوں بعد جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔اُن کا ذکر انشااﷲ ہم جنگ یرموک کے ذکر میں کریں گے۔
حضرت عباد بن بشرانصاری رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت عباد بن بشرانصاری رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ اور حضرت اُسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ سے بھی پہلے حضرت مصعب بن عُمیر رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیںاور اُس کے بعد کی جنگوں میں بھی شریک ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے بد بخت کعب بن اشرف کو قتل کرنے والے دستے میں بھی شامل تھے۔ جب آپ رضی ا ﷲ عنہ رات میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے رخصت ہوتے تو اُن کی چھڑی روشن ہو جاتی تھی۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ پہرے پر تھے۔ اُن کی آواز سن کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے اﷲ ! اِسے بخش دے۔“آپ رضی اﷲ عنہ چالیس سال سے بھی کم عمر میں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
حضرت سائب بن عثمان،حضرت سائب بن عوام کی شہادت
حضرت سائب بن عثمان رضی اﷲ عنہ مشہور جلیل القدر صحابی حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں۔نو جو انی میں اسلام قبول کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیںاور غزوہ بدر میں خوب تیر چلائے تھے۔جنگ یمامہ کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ جوان تھے،اِس جنگ میں آپ رضی اﷲ عنہ کو ایک تیر آ کر لگااور شہید ہو گئے۔حضرت سائب بن عوام رضی ا ﷲ عنہ مشہور صحابی حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اﷲ عنہا کے بیٹے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ بھی جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
حضرت عبد اﷲ بن سہیل رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت عبد اﷲ بن سہیل بن عمرو بن عبد شمس بن عبدود رضی اﷲ عنہ قریش کے قبیلہ بنو عامر سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کے والد حضرت سہیل بن عمرو نے قریش کی طرف سے ”صلح حدیبیہ“کی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کے والد نے قید میں رکھا تھا۔غزوہ ¿ بدر میں قریش کے لشکر کے ساتھ مجبوری میں آئے اور اسلامی لشکر میں بھاگ کر آگئے اور اُس جنگ میں رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے قریش سے مقابلہ کیا تھا۔ اِس طرح آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہوئے۔جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ جب جنگ یمامہ کے بعد حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو اُن کے والد حضرت سہیل بن عمرو سے اُن کی تعزیت کی۔حضرت سہیل بن عمرو نے کہا:”مجھے پتہ چلا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک شہید اپنے خاندان کے ستر(۰۷)لوگوں کی شفاعت کرے گا،اور مجھے اُمید ہے کہ میرا بیٹا مجھ سے آغاز کرے گا۔“حضرت سہیل بن عمرو نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔
حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ منافقوں کے سردار عبد اﷲ بن ابی بن سلول کے بیٹے ہیں۔جب منافقوں کے سردار نے ایک غزوے سے واپسی کے دوران رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم!اگر میرے والد کے قتل کا حکم دینا ہے تو مجھے حکم دیں کہ میں اپنے والد کو اپنے ہاتھوں سے قتل کروں۔کیونکہ پورا مدینہ منورہ جانتا ہے کہ میں اپنے والد سے بہت محبت کرتا ہوں۔اس لئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اگر کسی دوسرے صحابی کو میرے والد کو قتل کرنے کا حکم دیں گے تو مجھے ڈر ہے کہ اپنے والد کی محبت کی وجہ سے میں اُن صحابی رضی اﷲ عنہ کو قتل کر کے کہیں جہنم میں نہ چلا جاو¿ں۔“آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے اُن کی پیٹھ تھپتھپا کر فرمایا:”ہم تمہارے والد کو قتل نہیں کریں گے بلکہ اُس کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔“اِس کے بعد بھی حضرت عبد اﷲ بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کو جیسے اطمینان نہیں ہوا اور آپ رضی اﷲ عنہ لشکر سے پہلے مدینہ منورہ کے دروازے پر جا کر کھڑے ہو گئے اور تلوار نکال کر اپنے والد کا انتظار کرنے لگے۔جب منافقوں کا سردار آیا تو اُس سے فرمایا:”اے میرے باپ !تُو ذلیل ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عزت والے ہیں۔“باپ بیٹے کا پیر پکڑ کر خوشامد کر نے لگا۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے دروازے پر پہنچے تو منافقوں کا سردار اپنے بیٹے کے پیروں پر سر رکھے کہہ رہا تھا کہ میں ذلیل ہو ںاور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عزت والے ہیںاور حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ بلند آواز سے فرما رہے تھے:”اے میرے باپ !تُو ذلیل ہے ،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عزت والے ہیں۔“ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ !اپنے باپ کو چھوڑ دو ۔“تب منافقوں کے سردار کو چھوڑا۔حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے حباب تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نام بدل کر عبد اﷲ رکھ دیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ بھی جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
حضرت عبد اﷲ بن ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت عبد اﷲ بن ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بھی اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ہجرت کے موقع پر جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ غار ثور میں تشریف فرما تھے تو حضرت عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ ہی اُن دونوں کے لئے کھانا پانی اور قریش کی خبریں لیکر آتے تھے۔رات اُن کے ساتھ گذارتے تھے اور دن قریش کے درمیان گذارتے تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ غزوہ¿ طائف میں بھی شریک تھے اُس غزوہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کو ایک تیر لگااور پثر مردہ ہوگئے۔بعد میں وہ زخم اچھا ہو گیالیکن ہمیشہ آپ رضی اﷲ عنہ کی طبیعت خراب رہی آخر کا ر شوال ۱۱ ھجری میں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔
حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ کی شہادت
آپ رضی اﷲ عنہ کا نام حضرت عکاشہ بن محصن بن حرثان بن قیس بن مُرہ بن کثیر بن غنم بن دوادن بن اسد بن خزیمہ اسدی ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ بنو عبد شمس کے حلیف ہیں،کنیت ابو محصن ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر اور سادات صحابہ کرام میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مدینہ منورہ ہجرت کی اور بدری صحابی ہیں۔غزوہ ¿ بدر میں آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت ہی شجاعت کا مظاہرہ کیا تھا کہ تلوار ٹوٹ گئی تھی۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک درخت کی شاخ توڑ کر دے دی کہ اِس سے جنگ کرو۔آپ رضی اﷲ عنہ نے شاخ ہاتھ میں لے کر ہلائی تو وہ لوئے کی سخت اور تیز تلوار بن گئی۔اِس تلوار کو ”العون“کہا جاتا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ گزوہ ¿ اُحد اور غزوہ ¿خندق اور اس کے بعد کے معرکوں میں بھی شامل ہوئے اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے فرمایا کہ میری اُمت میں سے ستر ہزار(70,000)بغیر حساب کتاب جنت میں جائیں گے تو حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا :”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اﷲ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ مجھے اِن میں شامل کر دے۔“آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے اﷲ تعالیٰ!آپ عکاشہ کو اِن میں شامل کردیں۔“پھر ایک اور صحابی رضی اﷲ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ اﷲ سے دعا کریں کہ مجھے بھی اِن میں شامل کردے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جو لشکر دے کر ذی القصہ سے روانہ کیا تھا ۔اُس لشکر میں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت عکاشہ بن ،حصن اور حضرت ثابت بن اقرم رضی ا ﷲ عنہ کو ”ہر اول “کے طور پر آگے بھیجا۔وہاں طلیحہ اسدی اور اُس کے ساتھیوں سے سامنا ہو گیا۔حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ نے طلیحہ کے بیٹے کو قتل کر دیااور طلیحہ نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کو شہید کر دیا۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عمر چوالیس(۴۴)سال تھی،آپ رضی اﷲ عنہ بہت خوب صورت تھے۔
حضرت معن بن عدی رضی اﷲ عنہ کی شہادت
آپ رضی ا ﷲ عنہ کا نام حضرت معن بن عدی بن جعد بن عجلان بن صبیعةالبلوی ہے۔بنو عمرو بن عوف کے حلیف تھے۔حضرت عاصم بن عدی رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہے اور دوسرے معرکوں میں بھی شریک ہوئے ہیں۔رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ اور حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے درمیان مواخات کرائی تھی اور دونوں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو لوگ رونے لگے اور بولے کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہمارے بعد ہوتا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں پسند نہیں کرتا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال سے پہلے مروںتاکہ جس طرح میں نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں تصدیق کی ہے اُسی طرح وصال کے بعد بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تصدیق کروں۔
نجران کے عیساﺅں سے تجدید ِ معاہدہ
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نجران کے عیسائیوں نے معاہدہ کیا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب پورے ملک عرب میں ارتداد پھیلا تو اُس وقت نجران کے عیساﺅں کے پاس چالیس ہزار جنگجو تھے۔اِس کے باوجود جب انہیں اطلاع ملی کہ مسلمانوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنا لیا ہے تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں ایک وفد بھیجا اور معاہدے کی تجدید کی درخواست کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں یہ فرمان لکھ کر دیا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ فرمان عبد اﷲ ابو بکر صدیق (رضی اﷲ عنہ ) خلیفہ ¿ رسول کی طرف سے اہل نجران کے لئے لکھا جاتا ہے۔میں نے اِن کو اپنی اور اپنی فوج کی طرف سے پناہ دی اور جو فرمان ِ معافی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِن سے کیا تھامیں بھی اُسے تسلیم کرتا ہوںاور اس کی توثیق کرتا ہوں سوائے ان باتوں کے جن سے خود رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ کے حکم سے ان کے بارے میں رجوع کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ نہ صر ف ان کے علاقے میں بلکہ تمام عرب میں دو مذہب سکونت پذیر نہیں رہ سکتے ۔اس کے علاوہ ان کی جان ،مذہب ،املاک ،حاشیہ اور متعلقین چاہے وہ اِس وقت نجران میں ہوں یا باہر ہوں۔ان کے پادریوں ،راہب اور گرجا جہاںوہ بنے ہوئے ہیںاور تھوڑی یا زیادہ جس قدر ان کی املاک ہیں،ان سب کو ان کے حق میں رہنے دیا جاتا ہے۔بشرطیکہ جو سرکاری خراج مقرر ہے وہ ادا ہوتا رہے اور جب وہ اپنے واجبات پورے کریں تو نہ ان کو خارج البلد کیا جائے نہ ان سے عشر لیا جائے ۔نہ کسی پادری کو اس کے حلقے سے بدلا جائے اور نہ کسی راہب کو اُس کی خانقاہ سے نکالا جائے۔جو کچھ اِس تحریر میں لکھا گیا ہے اُس کے ایفا کے لئے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ضمانت اور مسلمانوں کی نگہبانی کی ضمانت دی جاتی ہے۔اس کے ساتھ اہل نجران کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے خیر خواہ اور وفادار رہیں۔“مشعر بن عمرو اور عمرو مولیٰ ابوبکر نے اِس تحریر پر اپنی گواہی کے دستخط کئے۔
لشکر کے لئے بھرتی کا حکم
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اﷲ کی مدد سے اور اپنی حکمت عملی سے پورے ملک عرب سے ارتداد کا خاتمہ کر دیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ اُس وقت کی دو سب سے بڑی سوپر پاور کی طرف متوجہ ہوئے لیکن اُن سے مقابلے کے لئے اور زیادہ لشکر کی ضرورت تھی۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے ملک عرب پر اپنے مقرر کئے گورنروں کو حکم دیا کہ لشکر کے لئے مجاہدین کی بھرتی کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ تم اہل طائف میں سے لشکر کے لئے مجاہدین کی بھرتی کرو۔ہر محلے سے اُن کی استطاعت کے مطابق مجاہدین لئے جائیں اور ان پر اپنے ایک خاص معتمد شخص کو کمانڈر مقرر کرو۔حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نے ہر محلے میں سے بیس بیس مجاہدین کی بھرتی کی اور اُن کے اوپر اپنے بھائی کو کمانڈر مقرر کر دیا۔اسی طر ح حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اہل مکہ مکرمہ اور اپنے ماتحت علاقوں سے پانچ سو مجاہدین کی بھرتی کر کے اُن پر اپنے کسی خاص معتمد کو کمانڈر مقرر کر دو۔حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ نے حکم کی تعمیل کی اور اُن پر اپنے بھائی حضرت خالد بن اُسید رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر مقرر کر دیا۔اب ہر لشکر اور اُن کے کمانڈر جہاد پر جانے کے لئے تیار ہو گئے کہ خلیفہ اول کا حکم جیسے ہی ملے گا وہ جہاد کے لئے نکل پڑیں گے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی عراق(سلطنت فارس )کی طرف روانگی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ملک عرب کی طر ف سے مطمئن ہونے کے بعد اُس وقت کی دونوں ”سوپر پاور“ سلطنت ِ فارس اور سلطنت ِ روم کی طرف متوجہ ہوئے۔اس کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لشکر لیکر ملک عراق کی طرف جانے کا حکم دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یمامہ سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ نے انہیں عراق جانے کا پیغام بھیجا اور حکم دیا کہ وہ فرج الہند یعنی ایلہ سے آغاز کریں ۔ عراق کے زیریں حصے داخل ہوں اور لوگوں سے دوستی کریں اور دعوت الی اﷲ دیں ۔پس اگر وہ قبول کریں تو فبہا۔ورنہ اُن سے جزیہ لیںاور اگر وہ دینے سے انکار کریں تو ان سے جنگ کریں۔ یہ حکم بھی دیا کہ کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنااور جس مسلمان کے پاس سے گذرنا،اُسے اپنے ساتھ لے لینا۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اُن کی مدد کے لئے لشکر جمع کر کے بھیجنے میں مصروف ہو گئے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں:محرم 21 ھجری(633)میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو یمامہ کی مہم سے فارغ ہونے کے بعد عراق میں ایلہ کی طرف سے داخل ہونے کا حکم دیا ۔(ایلہ منتہائے بحر فارس پر جانب شمال بصرہ کے قریب واقع ہے۔)اور یہ بھی لکھا کہ اہل فارس اور ان لوگوں کی تالیف قلوب کرنا،جو اُن کے ملک میں دیگر مذہب و ملت کے آباد ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یمامہ کی مہم سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خد مت میں آئے۔ یہاں سے اُن کے حکم کے مطابق عراق کی طرف روانہ ہو کر با نقیاءباروسما اور الیس پہنچے۔اُن کے حکمرانوں جابان اور صلوبا نے حاضر ہو کر دس ہزار دینار سالانہ خراج پر مصالحت کر لی۔
ابن صلوہا کو امان نامہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خراج لیکر ابن صلوبا کو امان نامہ لکھ کر دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عراق جانے کا حکم بھیجا۔آپ رضی اﷲ عنہ عراق روانہ ہوئے وہاں پہنچ کر سواءکی بستیوں بارو سما اور الیس میں اترے ۔یہاں کے باشندوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی اور جزیہ دینا منظور کیا۔یہ مصالحت ابن صلوبا نے کی تھی۔یہ واقعہ ۲۱ ھجری کا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن لوگوں سے جزیہ لینا قبول کر لیااور حسب ذیل تحریر لکھ کر دی۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ وثیقہ خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ )کی طرف سے ابن صلوبا سوادی باشندہ ¿ ساحل فرات کے حق میں لکھ جا تا ہے۔چونکہ تم نے جزیہ دے کر جان بچائی ہے اس لئے تم کو اﷲ کی امان دی جاتی ہے۔تم نے جزیے کی رقم ایک ہزار درہم اپنی طرف سے اور اپنے خراج دہندوں اور جزیرے اور با نقیا،با رو سما کے باشندوں کی طرف سے ادا کی ہے ۔میں اسے قبول کرتا ہوںمیرے ساتھ کے تمام مسلمان اس تصفیے پر تم سے خوش ہیں۔آج تم کو اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی حفاظت میں لیا جاتا ہے۔“ہشام بن ولید نے اِس عہد نامے پر گواہ کی حیثیت سے دستخط کئے۔
قبیصہ بن ایاس کی جزیہ پر مصالحت
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یہاں سے فارغ ہو کر اپنے لشکر کو لیکر حیرہ کے قریب پہنچے۔وہاں کے ذمہ داران قبیصہ بن ایاس کی سرکر دگی میں آپ رضی اﷲ عنہ سے ملنے آئے۔سلطنت ِفارس کے حکمراں کسریٰ نے نعمان بن منذر کی جگہ اُسے وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُس سے فرمایا:”میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں،اگر تم اسے قبو ل کر لو گے تو مسلمانوں میں شامل ہو جاو¿ گے اور جو سہولتیں انہیں میسر ہونگی وہ تمہیں بھی ملیں گی اور جو ذمہ داریاں اُن پر ہوں گی ،وہ تم پر بھی ہوں گی اور اگر تم انکار کرو گے ،تو تمہیں جزیہ دینا پڑے گا۔میں تمہارے پاس ایسے لوگوں کے ساتھ آیا ہوںجو زندگی کے مقابلے میں تم سے بڑھ کر موت کی آرزو رکھتے ہیں۔ہم تم سے جہاد کریں گے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا۔“قبیصہ بن ایاس نے کہا۔”ہمیں آپ(رضی اﷲ عنہ)سے جنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ ہم اپنے دین پر قائم رہیں گے اور تمہیں جزیہ ادا کریں گے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کفر ایک گمراہ کن جنگل ہے،وہ شخص سب سے بڑا احمق ہے جو اِس جنگل میں چلتا ہے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے نوے ہزار درہم پر مصالحت کر لی ۔ ایک روایت میں ہے کہ دو لاکھ درہم پر کی اور یہ پہلا جزیہ ہے جو عراق سے مو صول ہوا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ جزیہ خلیفہ اول کی خدمت میں مدینہ منورہ بھیج دیا۔
حضرت مثنیٰ بن حارثہ کو حکم
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جس وقت بزاخہ اور پھر یمامہ میں مصروف تھے۔اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ کون ہے جو سلطنت فارس سے مقابلے کے لئے جائے؟حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”میں تیار ہوں“۔خلیفہ اول نے انہیں عراق جانے کی اجازت دے دی۔وہ عراق کی سرحدوں پر آئے اور تب سے مسلسل حالت جنگ میں تھے۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بناج آئے تو اُس وقت حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ حفان میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے انہیں وہ خط بھیجا ،جس میں خلیفہ اول نے اُن کو حکم دیا تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی اطاعت کرو۔یہ حکم پڑھتے ہی حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر اُن سے آملے۔اس کے بعد اسلامی لشکر آگے بڑھا تو الیس کا حکمراںجابان اپنا لشکر لیکر آیا۔اُسکے مقابلے کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو بھیجا۔دونوں لشکروں میں شدید جنگ ہوئی ،اور جابان کو شکست ہوئی۔اُس کے اتنے زیادہ سپاہی ندی کے کنارے مارے گئے کہ وہ”خون کی ندی “کے نام سے مشہور ہو گئی۔اس کے بعد جابان نے جزیہ دیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی۔
اہل حیرہ سے جزیہ پر صلح
حضرت خالد بن ولید اس کے بعد آگے بڑھ کر حیرہ کے قریب آئے توآذاذبہ کی فوجیں مقابلے کے لئے نکلیں۔آذاذبہ کسریٰ کی اُن تمام فوجی چوکیوں کا افسر تھا جو عراق اور ملک عرب کی سرحدوں پر تھیں۔ندیوں کے سنگم پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے بڑھ کر دشمن پر ایسا شدید حملہ کیا کہ انہیں شکست ہوگئی۔یہ دیکھ کر اہل حیرہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے استقبال کے لئے نکلے۔اور ایک وفد آپ رضی اﷲ عنہ سے ملنے لشکر میں آیا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے خیمے میںاُن سے بات کی۔اُن کے ساتھ عبد المسیح بن عمرو اور ہانی بن قبیصہ بھی تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے عبد المسیح سے پوچھا:”تم کہا ں سے آئے ہو؟“اُس نے جواب دیا:”اپنے باپ کی پشت سے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم کہاں سے نکلے ہو؟“اُس نے جواب دیا:”اپنی ماں کے پیٹ سے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم پر افسوس ہے ،یہ بتاو¿ تم کس چیز پر ہو؟“اُس نے کہا :”ہم زمین پر ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ارے میاں!تم کس شے¿ میں ہو؟“اُس نے کہا :”اپنے کپڑوں میں ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:تم کچھ عقل سے بھی کام لیتے ہو؟“اُس نے کہا ہاں عقل سے بھی کام لیتا ہو ں اور قید سے بھی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تم سے سوال کر رہا ہوں۔“اُس نے کہا:”میں آپ کو جواب دے رہا ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم جنگ کرنا چاہتے ہو یا صلح کرنا چاہتے ہو؟“اُس نے کہا:”ہم صلح کرنا چاہتے ہیں“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:پھر اِن قلعوں سے تمہارا کیا ارادہ ہے؟“اُس نے کہا:”یہ قلعے ہم نے اِس لئے بنائے ہیں،کہ اگر کوئی بے وقوف آئے تو ہم اُسے قید کر لیں،اور کوئی سمجھ دار آئے تو اِن ست بچ کر چلا جائے۔“اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے وفد کے لوگوں سے فرمایا:” میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں،اور وہ یہ ہے کہ صرف ایک اﷲ کو اپنا معبود مانو،اور صرف اُسی کی عبادت کرو،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ کا رسول تسلیم کرو۔اگر تم نے اسلام قبول کر لیا تو ہمارے اور تمہارے حقوق برابر ہیں۔اور اگر اِس سے انکار ہی تو جزیہ دو،اگر یہ بھی نہیں تو یادرکھو!میں تم پر ایسی قوم لایا ہوں،جو موت کو اتنا ہی محبوب رکھتی ہے،جتنا تم شراب نوشی کو۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ لوگوں سے لڑنا نہیں چاہتے۔اس کے بعد ایک لاکھ نوے ہزار درہم کے سالانہ جزیہ پر اہل حیرہ سے صلح کرلی۔اور اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ حیرہ کے لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے جاسوسی کریں گے،جسے انہوں نے منظور کر لیا۔جزیہ مدینہ منورہ روانہ کر دیا گیا۔
اہل مدائن اور ہرمز کے نام خط
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اہل مدائن اور ہرمز کے نام خط لکھا۔جس میں یہ لکھا تھا۔”خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) کی طرف سے سلطنت فارس کے سرداروں کے نام۔سلام ہے اُن پر جو ہدایت کی پیروی کریں۔اما بعد!اُس اﷲ کا شکر ہے جس نے تمہاری شوکت کا خاتمہ کر دیا،تمہارا ملک سلب کر لیا،اورتمہارے مکر کو ناکام کر دیا۔جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے،ہمارے قبلے کی طرف رُخ کرے،اور ہمارے ہاتھ کا ذبیحہ کھائے،وہی مسلمان ہے۔اُس کے حقوق اور ہمارے حقوق برابر ہیں۔اِس خط کے پہنچتے ہی میرے پاس ضمانت بھیجو،اور اپنی حفاظت کی ذمہ داری کا اطمینان حاصل کر لو۔ورنہ اُس اﷲ کی قسم،جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔میں تمہارے مقابلے پر ایسی قوم کو لاو¿ں گا جو موت کی اُتنی ہی عاشق ہے،جتنا تم زندگی کے عاشق ہو۔“یہ خط پڑھ کر اہل فارس کو بے حد تعجب ہوا۔یہ ۲۱ ھجری کا واقعہ ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ہرمز کے نام جو خط لکھا،اُس میں یہ لکھا تھا۔”امابعد!اسلام قبول کرو ،تم سلامت رہو گے،یا اپنی اور اپنی قوم کی حفاظت کے لئے ضمانت حاصل کر لو،اور جزیہ دینے کا اقرار کرو۔ورنہ اس کے جو نتائج ہوں گے،اُن کے لئے سوائے اپنے آپ کے کسی اور کو ملامت نہیں کرسکو گے۔کیونکہ میں تمہارے مقابلے پر ایسی قوم کو لایا ہوں،جو موت ایسا ہی پسند کرتی ہے ،جیسا تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔“
اسلامی لشکر کی روانگی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد اسلامی لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔تینوں کو الگ الگ راستے سے روانہ کیا۔پہلے حصے کا کمانڈر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ کو بنایا،اور روانہ کردیا،اُن کا راہ نما ظفر تھا ۔اُس کے ایک دن بعد حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اﷲ عنہ اور حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے دوسرے حصے کا کمانڈر بنا کر دوسرے راستے سے روانہ کیا۔اں دونوں کے رہنمامالک بن عباد اور سالم بن نصر تھے۔اور دونوںحصوں کے کمانڈروں کو ہدایت فرمائی کہ اپنے راستے میں آنے والے دشمنوں سے جنگ کرتے ہوئے،حضیر کے مقام پر پہنچ کر پڑاو¿ ڈال دیں۔تیسرے دن آپ رضی اﷲ عنہ اپنے حصے کا لشکر لیکر تیسرے راستے سے روانہ ہوئے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کا رہنما رافع تھا۔اس طر ح آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی حکمت عملی سے دشمن کو پریشان کر دیا۔کیونکہ تین اطراف سے فارسیوں کو خبر مل رہی تھی کہ مسلمانوں کا لشکر آرہا ہے۔اور ہرمز بھی اسی پریشانی کا شکار ہو گیا تھا۔
ہرمزکی تیاری
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے تینوں حصوں کو حضیر میں جمع ہونے کا حکم دیا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علاقہ عرب اور عراق کی سرحد کے ایسے مقام پر تھا،جہاں ہندستان کا سمندر بھی ملتا تھا۔اس لئے اِس علاقے کا نام”فرج الہند“تھا۔سلطنت فارس نے اِس سرحدی علاقے کا گورنر یا کمانڈر ہرمز کو بنایا تھا۔ہرمز بہت ہی کمینہ خصلت اور خبیث شخص تھا۔یہ عربوں کا بد ترین پڑوسی تھا ،اور تمام سرحدی علاقے کے عربوں کو ستاتا رہتا تھا،اور سب عرب اُس سے جلے بیٹھے تھے۔اور خباثت میں اُس کو ضرب المثل بنا رکھا تھا۔ہرمز خشکی میں عربوں سے اور سمندر میں ہندستانیوں سے مقابلہ کرتا تھا۔جب اُسے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا خط ملا تو اُس نے اُسے پڑھ کر شیری بن کسریٰ اور ارد شیر بن شیری کی طرف بھیج دیا۔اور اپنی فوجیں جمع کیں،اور ایک تیز دستے کو لیکر فوراًخالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کے لئے کو زطم پہنچا۔اور اپنی فوج کو آگے بڑھایا،مگر یہاں آکر اُسے معلوم ہو کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا راستہ یہ نہیں ہے۔اور یہ اطلاع ملی کہ مسلمانوں کا لشکر حضیرمیں جمع ہو رہا ہے،اسی لئے پلٹ کا حضیر کی طرف جھپٹا۔وہاں پہنچتے ہی اپنی فوج کی صف آرائی کی،محفوظ فوج کے لئے اُن دو شہزادوں کو مقرر کیا جن کا سلسلہ نسب اردشیر اور شیری کے واسطوں سے ارد شیر اکبر تک پہنچتا تھا۔ان میں ایک کا نام قباذ تھا اور دوسرے کا انوشجان تھا۔
دونوں لشکر آمنے سامنے
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب ہرمز کے حضیر پہنچنے کی اطلاع ملی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو کاظمہ کی طرف پلٹایا۔ہرمز کو اس کا پتہ چل گیا،اس لئے وہ فوراً کاظمہ پہنچ گیا ،اورپانی کے اوپر قبضہ کر کے پڑاو¿ ڈال دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ جب اسلامی لشکر لیکر کاظمہ پہنچے تو دیکھا کہ پانی پر فارسیوںکا قبضہ ہے۔تو انہیں ایسے مقام پر پڑاو ڈالنا پڑا ،جہاں پانی نہیں تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فارسیوں نے اِس خیال سے کہ کہیں میدان چھوڑ کر بھاگ نہ جائیںاپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا۔فریقین نے حضیر کے سامنے ایک میدان میں اپنی اپنی صفوں کو منظم کیا۔اتفاق سے اسلامی لشکر جواُن کے مقابلے پر تھا ،وہ ایسے مقام پر خیمے نصب کررہا تھا،جہاں پانی نہیں تھا۔لشکر کے مسلمانوں نے شکایت کی کہ لشکر پانی کے بغیر مر جائے گا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔“یہ سُن کر خاموشی سے خیمے نصب کرنے لگے،اور اسباب اُتارنے لگے،تھوڑی دیر بعد اﷲ تعالیٰ کے حکم سے ایک بادل آیا اور اُن پر برسا۔جس سے اُن کے اِرد گِرد کے چشمے بھر گئے۔
جنگ سلاسل(محرم 21 ھجری)
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس اٹھارہ ہزار کا لشکر تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ بارش کاجو پانی آس پاس کے تالابوں میں جمع ہوا ہے وہ اتنے بڑے لشکر کے لئے ایک یا دو دن ہی چل سکے گا۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ چاہتے تھے کہ جلد سے جلد پانی پر قبضہ کر لیں یا پھر جنگ کا فیصلہ ہوجائے۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراً لشکر کی صفیں مرتب کیں۔فارسیوں نے مسلمانوں کی بے جگری کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا،اسی لئے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ لیا تھا۔تاکہ اُن کے دل میں بھاگنے کا خیال نہ آئے۔اسی لئے اِس جنگ کا نام ”جنگ سلاسل “پڑ گیا۔صفیں مرتب ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور میدان میں آکر للکار کر اپنے مقابلے پر لڑنے والے کو طلب کیا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی للکار سن کر ہرمز آگے آیا۔دونوں میں بہت زبردست مقابلہ ہوا،پھر دونوں اپنے اپنے گھوڑوں سے اُتر گئے ،اور پیدل لڑنے لگے۔آخر کار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ہرمز کی تلوار چھین لی،اور اُسے اُٹھا کر زمین پر پٹک دیا۔ہرمز کا حفاظتی دستہ(باڈی گارڈ)یہ دیکھ کر جلدی سے آگے بڑھے کہ ہر مز کو بچا لیں ،لیکن اُن کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی آپ رضی اﷲ عنہ نے ہرمز کی گردن اُڑا دی۔اور مسلمانوں کو ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دیا۔ادھر سے حضرت قعقاع بن عمرو رضی ا ﷲ عنہ اپنے دستے کے ساتھ پہلے ہی آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کو پہنچ چکے تھے۔مسلمانوں نے فارسیوں پر شدید حملہ کیا۔زنجیروں میں بندھے ہونے کی وجہ سے انہیں لڑنے میں پریشانی ہو رہی تھی،اور وہ مسلمانوں کے حملوں کا خاطر خواہ جواب نہیں دے پا رہے تھے۔آخر کار فارسیوں(ایرانیوں )کو شکست ہوئی۔اور وہ لڑنے کے بجائے زنجیروں کو توڑ کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔مسلمانوں نے انہیں چن چن کر قتل کردیا۔اِس جنگ میں بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا۔جس میں حاصل ہوئی زنجیروں کا وزن کیا گیا تو وہ ایک ہزار رطل (لگ بھگ پانچ سو کلو)تھیں۔اسی لئے اِس جنگ کو” ذات السلاسل“یعنی زنجیروں والی جنگ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس جنگ میں انوشجان اور قباذ جان بچا کر بھاگ گئے۔
مدینہ منورہ میں ہاتھی کی نمائش
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینہ منورہ بھیجا،اور باقی لشکر میں تقسیم کردیا۔اِس میں ہرمز کی ٹوپی بھی تھی۔اہل فارس کی ٹوپیاں اُس خاندانی اعزاز کے ساتھ ہوتی تھیں ،جو اُن کو اپنے خاندان میں حاصل ہوتا تھا۔جس کا اعزاز بدرجہ¿ کمال کو پہنچ جاتا تھا،اُس کی ٹوپی ایک لاکھ کی ہوتی تھی۔اور ہرمز یہ اعزاز حاصل کر چکا تھا،اور اُس کی ٹوپی ایک لاکھ کی تھی،اور جواہرات سے مرصع تھی۔اہل فارس میں کمال شرف یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی شخص اُن کے چوٹی کے سات مشہور خاندانوں میں سے ہو۔یہ ٹوپی بھی مدینہ منورہ بھیج دی گئی ،جسے تمام لوگ دیکھ کر حیرت کر رہے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے یہ ٹوپی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عطا فرما دی۔مال غنیمت میں ہاتھی بھی آیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کے ساتھ میں ہاتھی بھی مدینہ منورہ بھیج دیا تھا۔جب حضرت زرین کلیب مال غنیمت اور ہاتھی کو لیکر مدینہ منورہ پہنچے تو لوگوں کے دیکھنے کے لئے ہاتھی کو سارے شہر میں گشت کرایا گیا۔مدینہ منورہ کی بوڑھی عورتیں اِس ہاتھی کو دیکھ کر بہت متعجب ہوئیں،اور کہنے لگیں ۔”کیا یہ واقعی اﷲ کی کوئی مخلوق ہے؟“وہ سمجھیں کہ یہ کوئی بناوٹی چیز ہے۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲعنہ نے حضرت زرین کلیب کے ساتھ ہاتھی کو واپس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔اس جنگ میں لشکر کے ہر سوار کے حصہ میں ایک ہزار درہم آئے،اور پیدل کے حصہ میں ساڑھے سات سو درہم آئے۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر آگے بڑھے۔
جنگ مذار(صفر المظفر 21 ھجری)
حضرت خالد بن ولید اسلامی لشکر کو لیکر آگے بڑھے ،آپ رضی اﷲ عنہ نے کسانوںاور عام لوگوں سے کوئی تعرض نہیں کیا۔اور انہیں ذمی بنا لیا،لیکن جنگجوؤں کو قید کر لیا۔ادھر ہرمز کی مدد کے لئے کسریٰ نے قارن بن قربانس کولشکر دے کر بھیجا۔جب یہ مذار کے پاس پہنچا تو اسے ہرمز کی شکست کی اطلاع ملی،اور اس نے وہیں پڑاو¿ ڈال دیا ۔جنگ سلاسل سے بھاگ کر آنے والے فارسی فوجی اُس سے آکر ملے۔اور اس طرح اچھا خاصا لشکر جمع ہو گیا۔اور قارن نے انوشجان اور قباذ کو محفوظ دستے پرمقرر کیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو فارسی لشکر کے مذا ر میں جمع ہونے کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اس کی اطلاع خلیفہ اول کو دی ۔اور اپنا لشکر لیکر مذار میں قارن کی فوجوں کے سامنے آئے ،اور لشکر کو صف آرا کردیا۔سلطنت فارس میں قارن کا بہت بڑا مقام تھا،اور بہت ہی عزت اور مرتبے والا تھا۔وہ اپنے لشکر سے نکلا ،اور مسلمانوں کو مقابلے کے لئے للکارا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُس کے مقابلے پر نکلے ،لیکن اُن سے پہلے حضرت معقل بن اعشیٰ بن نباش پہنچ گئے۔اور قارن سے مقابلہ کرنے لگے،یہ دیکھکر آپ رضی اﷲ عنہ رک گئے۔کچھ دیر کے مقابلے کے بعد حضرت معقل نے قارن کو قتل کر دیا۔اب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ گئے،اور زبر دست جنگ ہو نے لگی۔مسلمان کمانڈروں نے فارسی کمانڈروں کو تاک لیا،اور حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اﷲ عنہ نے قباذ کو اور حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ نے انوشجان کو قتل کردیا ۔اس کے بعد فارسی لشکر کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور فارسی یعنی ایرانی لوگ بھاگنے لگے،مسلمانوں نے اُن کا تعاقب کیا ۔اور قتل کرنے لگے،اُس روز فارسیوں کے تیس ہزار آدمی قتل ہو ئے اور بہت سے کشتیوں پر بیٹھ کر بھاگنے میں دریا کے پانی میں غرق ہوگئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ وہیں مذار میں ٹھہر گئے،اور مال غنیمت کو اکٹھا کر کے اُس کا خمس نکالا،اور باقی لشکر کے مجاہدین میں بانٹ دیا۔اور مال غنیمت کا خمس حضرت سعید بن نعمان رضی اﷲ عنہ کے زریعے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔یہ جنگ صفر المظفر ۲۱ ھجری میں ہوئی۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مفتوحہ علاقے پر فوج کا افسر حضرت سعید بن نعمان رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا،اور حضرت سوید بن مقرن مزنی رضی اﷲ عنہ کو جزیے کا افسر مقرر کیا۔اور فرمایا کہ حضیر جاو¿ اور لگان کے عہدے دار مقرر کر کے لگان وصول کرو۔
جنگ دلجہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی فتح اور قارن کے قتل اور فارسیوں کی شکست کی خبر جب ارد شیر کو ملی تو اُس نے اندر زغر (اندر زگر)کو فوج دیکر روانہ کیا۔یہ سواد میں پیدا ہوا تھا،اور یہ بھی بہت بڑا شہسوار اور جنگجو تھا۔وہ خراسان کی سرحدی چھاو¿نی پر مقرر تھا،وہ پہلے مدائن آیا،پھر کسکر پہنچا ،اور وہاں سے دلجہ کی طرف بڑھا۔اُس کے پیچھے ارد شیر نے بہمن جاذویہ کو ایک بڑا لشکر دے کر روانہ کیا ،اور اُسے حکم دیا کہ اندر زغر سے کترا کر جانا۔اندر زغر دلجہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا،اُس کے پاس آس پاس کے کسان اور عیسائی بھی آگئے ،اور اُس کے لشکر میں شامل ہو گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اندر زغر دلجہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہے توآپ رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر نہر عبور کر کے اُس کے مقابلے پر آئے۔اور صف بندی کرنے سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ،ایک حصہ کو اپنے پیچھے چھپا دیا۔اور بقیہ دو حصے میں سے ایک حصے کو اپنے ساتھ رکھا۔اور دونوں حصوںنے ایک ساتھ فارسیوں کے لشکر پر حملہ کردیا۔اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت دونوں حصے پیچھے ہٹنے لگے۔فارسیوں نے سمجھا کہ وہ جنگ جیت رہے ہیں،اور مسلمان بھاگنے کی تیاری میں ہیں۔اسی لئے وہ جوش میں آگئے،اورہوش کھو کر زیادہ تیزی سے حملے کرنے لگے۔مسلمان پیچھے ہٹتے ہٹتے اُس جگہ سے بھی پیچھے ہٹ گئے،جہاں لشکر کا ایک حصہ چھپا ہو ا تھا۔جب فارسی لشکر آگے آگیا تو چھپا ہوا لشکر اُس کے پیچھے نمودار ہوا ،اور پیچھے سے حملہ کردیا۔اس اچانک حملے سے فارسی لشکر میں گھبراہٹ پھیل گئی،اور جب تک وہ سنبھلتے ،تب تک حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے حصے کے ساتھ کوس کا چکر کاٹ کر دائیں بازو پر آگئے،اور زور دار حملہ کر دیا۔ادھر سامنے والے حصے نے بھی پلٹ کر حملہ کر دیا۔اس طرح فارسی لشکرمسلمانوں کے گھیرے میں آگیا،اور اُن پر ہر طرف سے حملے ہونے لگے،اور اُن کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔اور اُن کی اکثریت قتل ہو گئی۔اندر زغرہزیمت اُٹھا کر بھاگا ،اور پیاس کی تکلیف سے مر گیا۔
اُلیس میں دشمنوں کا اجتماع
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جنگ دلجہ میں ایک ایسے ایرانی (فارسی) کو مقابلے کی دعوت دی ،اور قوت و طاقت میں ایک ہزار آدمیوں کے برابر تھا۔اور جب آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے قتل سے فارغ ہو گئے تو اُس کا تکیہ بنا کر بیٹھ گئے ،اور وپیں اپنا کھانا طلب کیا۔اِس جنگ میں بنو بکر بن وائل کے عیسائی قتل ہوئے تھے۔اِس کی وجہ سے عیسائیوں نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کی تیاری شروع کر دی،اورعجمیوں سے رابطہ قائم کر کے انہیں مدد کے لئے آنے کی درخواست دی۔اور وہ سب ”مقام اُلیس “میں جمع ہو گئے۔اُلیس دریائے فرات کے کنارے واقع ہے۔اور اپنا سپہ سالار عبد الاسود عجلی کو بنایا۔ارد شیر نے بہمن جاذویہ کو حکم دیا کہ تم اپنا لشکر لیکر عیسائیوں اور عجمیوں کی مدد کے لئے اُلیس پہنچو۔ادھر جابان نے بھی صلح نامہ توڑ دیا ،اور بہمن جاذویہ سے جاملا۔اُس نے جابان کو اُلیس کی طرف روانہ کیا ،اور حکم دیا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں کے اندر جوش پیدا کرو۔لیکن میرے آنے تک دشمن سے جنگ شروع نہیں کرنا،ہاں اگر دشمن حملہ کر دے تو اُن سے جنگ کرنا۔اور پھر وہ ارد شیر سے ملنے چلا گیا ،تاکہ اُس سے مشورہ کرے ،اور مزید ہدایات حاصل کرے۔مگر وہاں جاکر دیکھا کہ ارد شیر بیمار پڑا ہوا ہے ،تو اُس کی تیمار داری میں لگ گیا ،اور اُلیس نہیں پہنچ سکا۔جابان جب اُلیس آیا تو اُس نے دیکھا کہ سرحدی چوکیوں کی فوجیںجو عربوں کے مقابلے پر متعین تھیں،اور بنو عجل کے عیسائی ،عربوں میں سے عبد الاسود،تیم الاب،ضبیعہ اور حیرہ کے خالص عرب ،یہ سب جمع ہیں،اور ایک عیسائی جابر بن بجیر اپنے عیسائی ساتھیوں کے ساتھ موجود ہے،تو اُس کا حوصلہ بڑھ گیا۔
جنگ اُلیس
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عیسائیوں،عربی عیسائیوںکے لشکروں کے اُلیس میں جمع ہونے کی خبر ملی ،تو آپ رضی اﷲعنہ اپنا لشکر لیکر اُلیس کی طرف روانہ ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ جابان غداری کر چکا ہے ،اور معاہد ہ توڑ کر فارسیوں سے مل گیا ہے۔ آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُن کے سامنے آگئے ،اور لشکر نے سامان اُتارنا شروع کر دیا۔عیسائیوں نے مسلمانوں کو سامان اُتارتے دیکھا تو جابان سے کہا کہ انہیں سامان اُتار کر صفیں مرتب کرنے میں دیر لگے گی ۔تب تک ہمارالشکر اور ہم کھانا کھا لیتے ہیں۔جابان نے کہا کہ کھا نے کے بارے میں بھول جاو¿ ،اور اپنے لشکر کی صفیں مرتب کرو۔لیکن انہوں نے نہیں مانا ،اور کھانا لگا دیا گیا،اور سب کھانے بیٹھ گئے۔اُن کے کھانے سے پہلے ہی مسلمانوں نے سامان اُتار لیا ،اور صفیں مرتب کر لیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور بلند آواز سے للکارا:”اے جابر بن بجیرکہاں ہے؟اے عبد الاسودکہاں ہے؟اے مالک بن قیس کہاں ہے؟“یہ شخص بنو جذرہ سے تھا،باقی سب لوگ تو خاموش رہے ،لیکن مالک بن قیس میدان میںنکلا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے کہا:”اے بد کار عورت کے بیٹے،اور باقی سب تو دبکے ہوئے ہیں ،تجھے مقابلے پر آنے کہ ہمت کیسے ہوئی؟تجھ میں کیا رکھا ہے؟“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک ہی وار میں اُس کی گردن اُڑا دی۔جابان نے یہ ماجرا دیکھا تو بولا کہ میں نے پہلے ہی تم سے کہا تھا کہ تم لوگ کھانا نہیں کھاسکو گے۔اﷲ کی قسم!مجھے کسی سپہ سالار سے ایسی دہشت نہیں ہوئی ،جیسی خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) سے ہو رہی ہے۔لوگوں نے کہا کہ کھانا یوں ہی چھوڑ دو،اور جنگ جیتنے کے بعد کھائیں گے۔جابان نے کہا کہ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ یہ کھانا ہمارے دشمن کھائیں گے،اس لئے تم ایسا کرو کہ کھانے میں زہر ملا دو۔تاکہ اگر ہم ہار جائیں تو یہ کھانا جب مسلمان کھائیں تو سب کے سب مر جائیں۔لیکن عیسائیوں اور باقی لوگوں کو اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ انہوں نے زہر ملانے سے انکار کردیا۔اور لڑنے کے لئے میدان میں آگئے۔جابان نے میمنہ پر عبد الاسود کو اور میسرہ پر جابر بن بجیر کو کمانڈر بنایا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے پچھلی جنگ کی طرح ایک حصہ کو چھپا دیا،اور جنگ شروع کردی۔اور بڑے زور و شور سے لڑائی ہونے لگی،فارسیوں اور عیسائیوں کو بہمن جاذویہ کے آنے کی اُمید تھی ،اور اسی اُمید پر وہ بڑے حوصلے سے لڑ رہے تھے۔دونوں طرف سے جم کر مقابلہ ہو رہا تھا،اور حضرت خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ کو بھی شدید جنگ کرنی پڑ رہی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے چالاکی سے دشمنوں کے لشکر کو گھیر لیا،اور ہر طرف سے حملے کرنے لگے۔
خون کی ندی
حضرت خالد بن ولید نے دشمنوں کو ہر طرف سے گھرنے کے بعد نعرہ تکبیر لگایا، مسلمانوں کا مخصوص نعرہ”یا محمداہ“لگایا تو مسلمانوں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکی ہے،اور دشمن پر آخری کاری ضرب لگانی ہے۔اسی لئے مسلمان بڑھ بڑھ کر حملے کرنے لگے،لیکن دشمن بھی پہمن جاذویہ کی اُمید پر ڈٹے ہوئے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جب دشمنوں یہ ثابت قدمی دیکھی تو منت مانی:”اے اﷲ !میں تیرے نام سے منت مانتا کہ اِن میں سے جس کسی پر بھی ہم کو قابو حاصل ہو گا تو ،اُس کو زندہ نہیں رکھوں گا،اور ان کے خون سے ایک نہر جاری کر دوں گا۔“اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ،اور دشمن بھاگنے لگے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے بلند آواز میں اعلان فرمایا: قید کرو،قید کرو۔“اور اسلامی فوجیں دشمنوں کو گرفتار کر کے ہانکتی ہوئی اُس جگہ لانے لگی،جہاں پر آپ رضی اﷲ عنہ نے کچھ لوگوں کو متعین کیا تھا کہ اُن کی گردنیں اُڑا کر خون کی ندی بہائیں۔یہ عمل ایک دن اور ایک رات تک ہوتا رہا،خون نکلتا اور کچھ دور جا کر جم جاتا تھا۔اگلے دن بھی قیدیوں کو لا لا کر گردن اُڑانے کا سلسلہ جاری رہا۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ اور دوسرے سمجھ دار لوگوں نے کہا:”اگر آپ رضی اﷲ عنہ پوری دنیا کے انسانوں کا قتل بھی کر دیں تو خون نہیں بہے گا،کیونکہ کچھ دور بہنے کے بعد وہ جم جاتا ہے۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ اِس خون پر پانی بہا دیں ،تو آپ رضی اﷲ عنہ کی قسم پوری ہو جائے گی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ندی کا پانی روک رکھا تھا۔اور ندی میں خون بہانے کی کوشش کر رہے تھے۔اس لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے دوبارہ ندی جاری کرنے کا حکم دیا،تو خالص سرخ خون بہتا ہوا نظر آنے لگا۔اس واقعہ کی وجہ سے یہ نہر یا ندی ”خون کی نہر یا ندی “کے نام سے مشہور ہو گئی۔
خالد بن ولید جیسا بیٹا پیدا ہونا بہت مشکل ہے
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فتح حاصل ہونے کے بعد کھانے کے پاس آکر کھڑے ہوئے۔کھاناستر ہزار(۰۰۰،۰۷)سے ذیادہ لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا،جبکہ مسلمانوں کی تعداد اٹھارہ ہزار یا بیس ہزار تھی۔اور اتنا کھانا اُن کے لئے کئی وقت کام آسکتا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا:”یہ کھانا میں تم کو عطا کرتا ہوں،یہ تمہارا ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب کسی تیار کھانے پر قبضہ فرماتے تھے تو اسے اپنے لشکر کو بخش دیتے تھے۔“مسلمان جب کھانے بیٹھے تو سفید روٹیوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر حیرت سے دیکھنے لگے،کیونکہ انہوں نے ایسی سفید روٹیاںکبھی نہیں دیکھی تھیں۔وہ ایکدوسرے سے حیرت سے پوچھنے لگے کہ یہ سفید ٹکڑے کیسے ہیں؟ان میں سے جو لوگ روٹیوں کو جانتے تھے،انہوں نے مذاق سے کہا:”تم ”رقیق العیش“کے بارے میں سنا ہے؟“بقیہ لوگوں نے کہا:”ہاں سنا ہے۔“تو مذاق کرنے والوں نے کہا :”یہ وہی ہیں۔“اسی واقعہ کی وجہ سے روٹیوں کو ”رقاق“کہنے لگے۔حالانکہ اس سے پہلے عرب ان کو ”قریٰ“کہتے تھے۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے وہیں پڑاو¿ ڈال دیا،اور نہر میں پن چکی لگوا دی،اور تین دن تک اٹھارہ ہزار کے لشکر کے لئے ُسرخ پانی سے آٹا پیسا جاتا رہا تھا۔اُلیس کی جنگ میں ستر ہزار کے لگ بھگ فارسی اور عیسائی قتل ہوئے تھے،اور بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکالا،اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کردیا۔اور جنگ کی پوری تفصیل ،اور فتح کی خوش خبری ،اور مال غنیمت کا خمس دے کر بنو عجل کے حضرت جندل عجلی کو مدینہ منورہ بھیجا۔انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اُلیس کی فتح کی خوش خبری ،مال غنیمت کی مقدار،قیدیوں کی تعداد،خمس میں جو چیزیں حاصل ہوئی تھیںاور جن لوگوں نے کار ہائے نمایاں انجام دیئے تھے۔اِن سب کی تفصیل بہت عمدگی سے بیان کی ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اُن کا یہ انداز بہت پسند آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے پوچھا:”تمہارا نام کیا ہے؟“تو انہوں نے عرض کیا:میرا نام جندل ہے۔“خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”واہ رے بلندال (بلندل عربی میں قیمتی پتھر کو کہتے ہیں)“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نےاُن کو مال غنیمت میں سے ایک لونڈی بطور انعام عطا فرمائی،جس سے اُن کی اولاد ہوئی۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو مخاطب کر کے فرمایا:”اے گروہ ِ قریش!تمہارے شیر نے ایک شیر پر حملہ کیا ہے،اور اُس کی گپھا میں گھس کر اُس پر غالب آگیا ہے۔اب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جیسا بیٹا پیدا ہونا بہت مشکل ہے۔“ (ابن کثیر)جنگ اُلیس میں قتل ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد”امغیشیا“یا ”منیشیا“کے لوگوں کی تھی۔
امغیشیایا امعیشیا کی فتح
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب اُلیس کی فتح سے فارغ ہوئے تو امغیشیا کی طرف آئے۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ،اور امغیشیا کے لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کا ایسا رعب بِٹھا دیا کہ جب انہوں نے سنا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر اِسی طرف آرہے ہیں ،تو وہ سب کے سب امغیشیا چھوڑ کر بھاگ گئے۔اور سوادمیں منتشرہو گئے،اُس روز سے سکرات ،سواد کے علاقے میں شامل ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے امغیشیا کے تمام مکانات منہدم کرادیئے۔امغیشیا ، حیرہ کے برابر کا شہر تھا۔فرات باد قلی اس کے پاس سے گذرتا تھا،اُلیس اِس مقام کی فوجی چوکی تھا۔امغیشیا میں مسلمانوں کواتنا مال غنیمت حاصل ہو کہ ملک عراق میں داخل ہونے سے لیکر ابھی تک کل ملا کر بھی اتنا مال غنیمت حاصل نہیں ہوا تھا۔امغیشیا کے مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینہ منورہ روانہ کیا گیا،اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کیا گیا تو ہر سوار کے حصے میں پندرہ ہزار درہم آئے۔اِس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اب خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ جیسا بہادر پیدا ہونا بہت مشکل ہے۔(طبری)
جنگ مقراور جنگ فرات باد قلی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جب امغیشیاکو فتح کرلیا تو آزاذبہ نے محسوس کیا کہ اب اُس کی خیر نہیں ہے،اِس لئے اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کی تیاریاں شروع کردیں ،اور اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ فرات کا پانی روک دو۔آزاذبہ خاندان کسریٰ کے عہد سے حیرہ کی امارت(گورنری)پر فائز تھا،یہ گورنر کسریٰ کی اجازت کے بغیر ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے تھے۔آزاذبہ کا اعزاز نصف درجے تک پہنچ چکا تھا،اور اُس کی ٹوپی پچاس ہزار کی تھی۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ امغیشیا سے روانہ ہوئے ۔اور پید ل فوج مع سامان اور مال غنیمت کشتیوں میں سوار کر دی گئی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ دیکھکر پریشانی ہوئی کہ دریائے فرات میں پانی اتنا کم ہو گیا ہے کہ کشتیاں زمین سے لگ رہی ہیں۔ملاحوں نے کہا کہ فارسیوں نے نہروں کو کھول دیا ہے ،جس کی وجہ سے فرات میں پانی کم ہو گیا ہے۔جب تک نہریں بند نہیں ہوں گی،تب تک فرات میں پانی نہیں بڑھے گا۔یہ سنتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک دستہ لیکر آزاذبہ کے لڑکے کی طرف بڑھے۔فم عتیق پر اُس کے ایک رسالے سے اچانک مڈ بھیڑ ہو گئی ،وہ لوگ اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی یورش سے بالکل بے فکر تھے۔طرفین میں جنگ ہوئی ،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اِن سب کا مقر میں خاتمہ کر دیا۔اور اس سے پہلے کہ آزاذبہ کے بیٹے کو ”مقر “کے حالات کا علم ہوتا،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرات باد قلی کے دہانے پر پہنچ کر اُس کے لشکر پر حملہ کر دیا،اور اُن سب کو قتل کر دیا ۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے تمام نہروں کو بند کر دیا،جس سے دریائے فرات میں پھر سے پانی جاری ہو گیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ دریائے فرات کو پار کیا۔آزاذبہ کو جب اپنے بیٹے کی موت کا علم ہوا،اور اسی دوران اُسے اطلاع ملی کہ ارد شیر اور شیری کو(اُس کے اُمراءنے) قتل کردیا گیا ہے ،تو وہ بغیرلڑے فرات عبور کر کے بھاگ گیا،اور اُس کی فوج غزیین اور قصر ابیض کے درمیان مقیم تھی۔
حیرہ کے قلعوں کا محاصرہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تمام لشکر کو لیکر غزیین اور قصر ابیض کے درمیان اُس جگہ میدان میں پڑاو¿ ڈال دیا ،جہاں آزاذبہ کی فوج قلعوں میں مقیم تھیں۔اہل حیرہ قلعہ بند ہو گئے،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ایک رسالے کو حیرہ میں داخل کر دیا۔اور ہر محل پر اپنا ایک ایک کمانڈر متعین کر دیاکہ محل والوں کا محاصرہ کرلو،اور اُن سے لڑو۔حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ نے ”قصر ابیض“کا محاصرہ کر لیا، اس میں ایاس بن قبیصہ طائی تھا۔حضرت ضرار بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ”قصر عدسین“کا محاصرہ کر لیا،اس میں عدی بن عدی مقتولی تھا۔حضرت ضرار بن مقر مزنی رضی اﷲ عنہ جو اپنے دس بھائیوں میں سے ایک تھے،انہوں نے”قصر بنو مازن“کا محاصرہ کر لیا،اس میں ابن اکال تھا۔اور حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے”قصر بنو بقیلہ“کا محاصرہ کر لیا،اس میں عبد المسیح تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے تمام کمانڈروں کو حکم دیا کہ تمام قلعے والوں کو اسلام کی دعوت دو،اور انہیں ایک دن کی مہلت دو۔اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا ،تو بہت اچھی بات ہے،اور اگر وہ کفر پر اڑے رہے تو اُن کے حیلوں پر توجہ مت دو ۔بلکہ اُن سے لڑو،اور مسلمانوں کو دشمنوں کے ساتھ لڑنے میں تردد میں مبتلا مت کرو۔
قصر ابیض پر حملہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حیرہ کے قلعوں پر اپنے کمانڈروں کو لشکر دیکر متعین کردیا،اور خود بقیہ لشکر کے ساتھ میدان میں خیموں میںقیام پذیر تھے۔ سب سے پہلے قصر ابیض والوں سے جنگ ہوئی۔جب قلعے والے نیچے میدان میںجھانکنے لگے ،تو حضرت ضرار بن ازور نے انہیں تین باتوں کی پیش کش کی۔پہلی اسلام قبول کر لو،دوسری جزیہ دو،اور تیسری مقابلے کے لئے تیار ہو جاو¿۔قلعے والوں نے مقابلہ کرنا پسند کیا،اور بولے۔ابھی ہم تم پر غلے برساتے ہیں۔حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر سے کہا کہ ذرا پیچھے ہٹ جاو¿،اور دیکھو کہ ان کی بکواس کی اصلیت کیا ہے؟اچانک قصر کی فصیل آدمیوں سے بھر گئی ،اُن سب کے ہاتھوں میں غلیلیں تھیں،اور وہ مسلمانوں پر مٹی کے غلے برسانے لگے۔حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کی اِن پر تیر برساو¿،مسلمان آگے بڑھ کر تیر برسانے لگے تو فصیل سے سب آدمی غائب ہو گئے۔ا س کے بعد مسلمان قلعے کی فصیل پر چڑھ گئے،اور ہر ایک نے اپنے پاس کے دشمنوں کو قتل کر نا شروع کردیا۔اور بے شمار آدمی قتل ہوئے،اور تمام پادری اور راہب چلا اُٹھے کہ اے محلات والو!ہمارے قتل کا باعث تم ہو۔محلات والے چلا ئے کہ اے اہل عرب !ہم تین چیزوںمیں سے ایک کو قبول کرتے ہیں،ہمیں چھوڑ دو،اور ہمارے قتل سے باز آجاو¿،اور ہمیں خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ) کے پاس پہنچا دو۔
حیرہ کے نمائندے
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے کے خیمے باہر تشریف فرما تھے،جب حیرہ کے نمائندے قلعوں سے اُتر کر آئے ۔قبیصہ بن ایاس اور اُسکا بھائی حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔اور عدی بن عدی اور زید بن عدی ،حضرت ضرار بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔عمرو بن عبد المسیح، حضرت ضرار بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا۔اور ابن اکال ،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا۔اِن کمانڈروں نے اِن سب کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا ،اور خود اپنے اپنے لشکر کے ساتھ ڈٹے رہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اِن سے الگ الگ ملاقات کی۔سب سے پہلے عدی کے وفد سے ملے،اور اُن سے فرمایا:”تم کون ہو؟اگر تم عرب ہو تو عربوں سے عداوت کیوں ہے؟اور اگر عجمی ہو تو عدل و انصاف سے تمہیں دشمنی کیوں ہے؟“عدی نے جواب دیا :”ہم عرب عاربہ ہیں،اور دوسرے لوگ عرب مستعربہ ہیں۔اور ہمارے قول کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ ہم عربی کے علاوہ کوئی زبان نہیں جانتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم ٹھیک کہتے ہو،اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ اسلام قبول کر لو،ہمارے برابر ہو جاؤ گے۔یا پھر جزیہ دو،یا پھر مقابلے کے لئے تیار ہو جاو¿۔“اُن لوگوں نے کہا:”ہم جزیہ دینا منظور کرتے ہیں۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”افسوس ہے تم پر۔“اور پھر ان سے ایک لاکھ نوے ہزار سالانہ جزیہ پر معاہدہ کر لیا۔اسی طرح دوسرے وفود نے بھی اُن کی تقلید میں جزیہ دینا منظور کر لیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے پوری رقم اور بہت سے تحائف دے کرحضرت ہذیل کابلی کے ذریعے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔خلیفہ اول نے یہ سب لے لیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اب تم بقیہ رقم کو اپنے لشکر کی تقویت کے لئے کام میں لاؤ ۔
اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے تمام قلعوں کے وفود سے ملاقات کی۔جب عمرو بن عبد المسیح آپ رضی اﷲ عنہ سے ملنے آیا تو اُس کے پاس یا اُسکے غلام کے پاس ایک تھیلی میں زہر کی پڑیا تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ابن بقیلہ(عمرو بن عبد المسیح)کے ساتھ اُس کا ایک خادم تھا،جسکی کمر سے ایک تھیلی لٹکی ہوئی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے وہ تھیلی لے لی،اور اُس میں جو کچھ تھا ،اُسے اپنی ہتھیلی پر اُلٹ کرپوچھا:”اے عمرو !یہ کیا ہے؟“اُس نے کہا ،اﷲ کی امانت کی قسم!یہ زہرِ قاتل ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے پوچھا :”یہ ساتھ لئے کیوں پھرتے ہو؟“اُس نے کہا ،مجھے اندیشہ ہے کہ شاید تم لوگ ہمارے ساتھ کوئی توہین آمیز سلوک کرو،اور میں اپنی قوم اور اہل وطن کی توہین کے مقابلے میں موت کو ترجیح دینا پسند کرتا ہوں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کوئی بھی اپنی موت سے پہلے نہیں مر سکتا،“اوریہ دعا پڑھی۔”اُس اﷲ کے نام سے،جس کے تمام نام بہترین ہیں،جو زمین و آسمان کا رب ہے،جس کے نام کی برکت سے ہم کو کوئی بھی بیماری مضرت نہیں پہنچا سکتی،جو رحمن ہے ،اور رحیم ہے۔“یہ دیکھ کر مسلمان جلدی سے جھپٹے کہ انہیں روک لیں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے جلدی سے وہ زہر اپنے منہ میں ڈال لیا،اور نگل گئے۔عمرو بن عبد المسیح یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا،اور بولا۔اے عربو!اﷲ کی قسم ،تم جس چیز کے چاہو مالک بن سکتے ہو۔اس کے باوجود وہ بد بخت ایمان نہیں لایا۔اور اپنی قوم میں گیا تو بولا،اقبال کی کھلی نشانی جیسی میں نے آج دیکھی ہے،اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔(طبری)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُس کے پاس ایک تھیلی دیکھی،اور فرمایا:”اِس میں کیا ہے؟“اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے کھولا، اور اُس میں کوئی چیز پائی۔ابن بقیلہ نے کہا،یہ فوراً ہلاک کر دینے والا زہر ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم نے اسے اپنے پاس کیوں رکھا ہے؟“اُس نے کہا،جب میں اپنی قوم کی بری حالت دیکھوں گا تو اسے کھالوں گا،اور موت مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا،اور فرمایا:”ہر جان اپنے مقررہ وقت پر ہی مرے گی۔“پھر فرمایا:”بسم اﷲ ،خیر الاسمائ،رب الارض والسمائ،الذی لیس یضرمع اسمہ ،و الرحمن الرحیم۔“اور مسلمان امراءآپ رضی اﷲ عنہ کو روکنے کے لئے آگے بڑھے ،لیکن اس سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے نگل لیا۔اور جب ابن بقیلہ نے یہ بات دیکھی تو کہنے لگا۔اے گروہِ عرب!اﷲ کی قسم،جب تک تم میں ایک آدمی بھی ایسا موجود ہے،تب تک تم ضرور اُس چیز پر قبضہ کر لو گے،جس پر قبضہ کرنا چاہو گے۔پھر اہل حیرہ کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔میں نے آج تک اس سے واضح برتری نہیں دیکھی۔(ابن کثیر)علامہ عبد الرحمن ابن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ فرما کر کہ”جب تک موت نہیں آتی،اُس وقت تک کوئی شخص مر نہیں سکتا“۔اور ”بسم اﷲ لا یضر مع اسمہ شیئ....آخر تک)پڑھ کر اُس کو کھا گئے۔تھوڑے عرصہ بے ہو شی کے عالم میں پڑے رہے،اور پھر اُٹھ کر بیٹھ گئے۔اور اچھی طرح باتیں کرنے لگے۔ابن عبد المسیح نے یہ ماجرا دیکھ کرکہا۔اﷲ کی قسم!جب تک تم میں ایک بھی ایسا آدمی موجود رہے گا،تب تک تم جو چاہو گے ،حاصل کر لو گے۔(ابن خلدون)اہل حیرہ کی اطاعت
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے اہل حیرہ نے مسلمانوںاور اسلامی حکومت کی اطاعت کا معاہد ہ کیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حسب ذیل معاہدہ لکھ کر دیا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ معاہدہ خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) نے عدی کے دونوں بیٹوں عمر اور عدی سے،اور عمرو بن عبد المسیح سے،اور ایاس بن قبیصہ سے،اور حیری بن اکال سے کیا ہے۔یہ لوگ اہل حیرہ کے نقتب ہیں۔انہوں نے ان لوگوں کو اس معاہدے کی تکمیل کے لئے مجاز گردانا ہے،اور وہ اس معاہدے پر رضامند ہیں۔معاہدہ اس بات پر ہے کہ اہل حیرہ سے اور ان کے پادریوں اور راہبوں سے سالانہ ایک لاکھ نوے ہزار درہم جزیہ وصول کیا جائے گا۔مگر تارک الدنیا راہب اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔اس معاوضے کے بدلے میں ہم(مسلمان)ان کے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔اور جب حفاظت نہیں کر سکیں گے ،تو جزیہ نہیں لیا جائے گا۔اگر ان لوگوں نے اپنے کسی قول یا فعل سے اس کی خلاف ورزی کی تو یہ معاہدہ فسخ ہو جائے گا۔اور ہم ان کی حفاظت کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے۔“المرقوم ماہ ربیع الاول ۲۱ ھجری۔یہ تحریر اہل حیرہ کے حوالے کر دی گئی۔لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بعد اس علاقے کے لوگوں نے اس معاہدہ کو پھاڑ ڈالا۔ اور فار سیوں سے معاہدہ کر لیا۔جب حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیجا ،تو ان لوگوں نے اس معاہدے کا ذکر کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وہ معاہدہ مانگا تو وہ پیش نہیں کر سکے۔اِس کا ذکر انشا ءاﷲ آگے آئے گا۔اس کے بعد صلوبا بن نسطونا نے سالانہ دس ہزر دینار اور کسری کے موتی کے جزیہ پر با نقیا اور باسما کی بستیوں کے بارے میں معاہد ہ لکھ کر دیا۔اور اہل حیرہ کے آس پاس کے قبائل اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیں کون میدان مارتا ہے۔جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان ہر جگہ حاوی ہو گئے ہیں تو انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کرجزیہ دینا منظور کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سالانہ بیس لاکھ درہم جزیہ پر معاہدہ لکھ کر دیا۔حیرہ کی فتح پر شکرانہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ کی فتح سے فارغ ہوگئے،اور تمام علاقہ مسلمانوں کے دست نگر آگیا۔ تو آپ رضی اﷲ عنہ نے شکرانے کی نماز پڑھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حیرہ فتح ہو گیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے شکرانے کی نماز پڑھی،جس میں آٹھ رکعتیں ایک سلام سے ادا کیں۔اُس سے فارغ ہوئے تو فرمایا:”جنگ موتہ(رومی لشکر سے) میں جب میں لڑا تھا تو اُس وقت میرے ہاتھوں نو (۹)تلواریں ٹوٹی تھیں۔میںنے اہل فارس سے زیادہ بہادر قوم نہیں دیکھی ہے۔اور اِن میں بھی اہل اُلیس کو سب سے بڑھ کر بہادر پایا ہے۔ایک دوسری روایت میں یہی واقعہ مذکور ہے ،مگر اُس میں رکعتوں کا ذکر نہیں ہے۔قیس بن حازم جریر کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تھے۔اُن کا بیان ہے کہ ہم جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ اُس وقت وہ ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں،جسے انہوں نے اپنی گردن پر باندھ رکھا تھا،اورتنہا نماز پڑھ رہے تھے۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے:”جنگ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو(۹)تلواریں ٹوٹی تھیں،صرف ایک یمنی تلوار میرے ہاتھ ایسی چڑھی کہ آج تک کام دے رہی ہے۔مفتوحہ علاقوں پر عاملوں(گورنروں)اور فوجی افسروں کا تقرر
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد صوبہ داروں (گورنروں) اور فوجی چوکیوں کے افسروں کا تقرر کیا۔فلالیج کے بالائی علاقے پر حضرت عبد اﷲ بن وثیمہ نصری کو بھیجا کہ وہ وہاں کے باشندوں کی حفاظت کریں،اور جزیہ وصول کرتے رہیں۔با نقیا اور باد سما پر حضرت جریر بن عبداﷲ کو مقرر کیا۔نہرین پر حضرت بشیر بن خصاصیہ کو مامور کیا،انہوں نے بانبورا میں کویفہ کو اپنا مستقر بنایا۔حضیر کی طرف حضرت سوید بن مقرن کو بھیجا،انہوں نے عقر میں قیام کیا،جو آج تک ”عقر سوید“کے نام سے مشہور ہے۔روذمستان کی طرف حضرت اط بن ابی اط کو بھیجا،انہوں نے نہر کو اپنا مستقر بنایا۔آج تک یہ نہر ”نہر اط “کے نام سے مشہور ہے۔یہ سب عامل (گورنر)تھے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سرحدی چوکیوں پر حضرت ضرار بن ازور،حضرت ضرار بن خطاب،حضرت مثنیٰ بن حارثہ،حضرت ضرار بن مقرن،حضرت قعقاع بن عمرو،حضرت بسر بن ابی رہم اور حضرت عتیبہ بن نہاس کو دستے دیکر متعین کیا۔آپ رضی ا ﷲعنہ نے حکم دیا کہ دشمن پر یورش کرتے رہنا،اور چین لینے نہیں دینا۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی سرحد سے آگے دجلہ کے کنارے تک تمام علاقہ دشمنوں سے چھین لیا تھا۔جس کا ذکر انشاءاﷲ آگے آئے گا۔فارسیوں کے نام خطوط
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے مطمئن ہو گئے۔تب آپ رضی اﷲ عنہ نے دو خط تحریر کروائے،ایک خط سلطنت فارس کے مرکز کی طرف روانہ کیا،اور دوسرا خط الگ الگ علاقوں کے سرداروں یا حکمرانوں کی طرف روانہ کیا۔اس دوران سلطنت فارس کے مرکز میں ایرانیوں(فارسیوں )میں آپس میں اختلافات ہو گئے تھے۔اور کسریٰ ارد شیر اور اس کے بیٹے شیری کواُس کے خاندانی دشمنوں نے قتل کر دیا تھا۔اور ہر کوئی سلطنت فارس کی حکومت اپنے ہاتھ میں لینے سے ڈر رہا تھا،کہ کہیں میرا بھی قتل نہ ہو جائے۔اس لئے بڑے بڑے علاقوں کے گورنر (حکمراں)اس وقت مر کز میں جمع تھے۔اُن کے پاس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا قاصد خط لیکر پہنچا۔جس میں لکھا تھا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ)کی طرف سے فارس کے بادشاہوں کے نام۔اما بعد۔اُس اﷲ کا شکر ہے کہ جس نے تمہارا نظام ابتر کر دیا ہے،جس نے تمہاری مکاری ناکام کر دی ہے۔جس نے تم میں اختلافات پیدا کر دیئے ہیں۔اگر اﷲ ایسا نہیں کرتا تو تمہارا نقصان تھا،لہٰذا تم ہماری حکومت قبول کر لو،اور ہم تم کو تمہاری سرزمین پر چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں گے۔ورنہ تم ایسی قوم کے ہاتھوں مغلوب ہو گے،جو موت کو اس سے بھی زیادہ پسند کرتی ہے،جتنا تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔“دوسرا خط جو آپ رضی اﷲ عنہ نے سلطنت فارس کی عوام اور چھوٹے سرداروں یا حکمرانوں کی طرف بھیجا تھا۔اس میں لکھا تھا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ) کی طرف سے سرداران ِ فارس (اور عوام )کے نام۔امابعد۔تم لوگ اسلام قبول کر لو ،سلامت رہو گے،یا جزیہ ادا کرو،اور ہمارے ذمی بن جاو¿۔ورنہ یاد رکھو کہ میں تم پر ایسی قوم چڑھا لایا ہوں،جو موت کو اتنا ہی پسند کرتی ہے،جتنا تم شراب کو پسند کرتے ہو۔“سلطنت فارس کے شاہی خاندان میں ناچاقی
حضرت خالد بن ولید ادھر مختلف علاقوں کو فتح کرتے جا رہے تھے،اور ادھر سلطنت فارس کے شاہی خاندان آپس میں لڑ رہے تھے۔شیری بن کسریٰ(اردشیر)نے کسریٰ بن قباذ کے خاندان کے ہر شخص کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔یہاں تک کہ بہرام گور تک کی اولاد کو بھی قتل کر دیا تھا۔اور کسریٰ بن قباذ کے ہمدرد سرداروں نے اُسے اور اس کے خاندان والوں کو قتل کردیا تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملتا تھا ،جس کو با الاتفاق اپنا بادشاہ بنا سکیں۔سلطنت فارس کے بڑے بڑے سردار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے لڑنے میں مختلف الرائے تھے۔اور لڑائی کو ایک دوسرے پر ٹالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ہاں ان سب نے ملکر اتنا کیا تھا کہ بہمن جازویہ کو ایک لشکر دیکر مسلمانوں کی طرف روانہ کر دیا تھا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ کا خط سلطنت فارس کے مرکز پہنچا تو شاہی خاندان کی عورتوں نے ملکر یہ فیصلہ کیا کہ جب تک تمام لوگوں کا ایک بادشاہ پر اتفاق نہیں ہو گا،تب تک کے لئے فرخ زاد کو سلطنت فارس کا نگران بادشاہ بنا دیا۔اس طر ح عارضی طور سے یہ مسئلہ حل ہو گیا۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے احکامات
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ تم عراق کے زیریں حصے داخل ہوں۔اُسی وقت حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ عراق کے بالائی حصے سے داخل ہوں۔اور دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مسلسل آگے بڑھتے ہوئے حیرہ تک پہنچیں،اور آپس میں مل جائیں۔جو پہلے حیرہ پہنچے گاوہ اس کا حاکم ہو گا۔اور جب تم دونوں اﷲ کے حکم سے حیرہ میں اکٹھا ہو جاو¿ تو ملک عرب اور ملک عراق کی درمیانی چوکیوں کو توڑ دینا۔اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے کہ اب مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ نہیں ہو گا،تو تب تک تم میں سے ایک حیرہ میں قیام کرے ۔اور دوسرا دشمن کے علاقے میں گھس کر اس کے ملک پر بزور ِ شمشیرقبضہ کرتا چلا جائے۔اور اﷲ تعالیٰ سے ہر وقت مدد چاہتے رہو،اور اُس سے ڈرتے رہو۔آخرت کے معاملے کو دنیا پر ترجیح دو،تمہیں دونوں مل جائیں گی۔اور دنیا کو آخرت پر کبھی ترجیح نہ دینا،ورنہ دونوں ہاتھ سے جاتے رہیں گے۔جن چیزوں سے اﷲ نے ڈرایا ہے،اُن سے ڈرتے رہو۔گناہوں سے بچتے رہو،اور توبہ میں جلدی کرنا۔گناہوں پر اصرارنہ کرنا ،اور توبہ کرنے میں تاخیر نہ کرنا۔اسی حکم کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ پہنچ گئے،اور فلالیج سے سواد اسفل تک کا تمام علاقہ اُن کے زیر حکومت آگیا۔تو انہوں نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے تمام مفتوحہ علاقوں پر گورنر اور فوجی افسر مقرر کر کے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کی طرف بڑھے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کی تعمیل
حضرت عیاض بن غنیم جب بالائی عراق میں داخل ہوئے تو آگے بڑھتے ہوئے دومة الجندل میں آپ رضی اﷲ عنہ کا سر بری طرح زخمی ہو گیا تھا،اس کی وجہ سے آپ رضی ا ﷲ عنہ کی آگے بڑھنے کی رفتار بہت دھیمی ہو گئی ۔اہل فارس کی ایک سرحدی چوکی العین میں،دوسری انبار میں،اور تیسری فراض میں تھی،اور تینوں میں ایک ایک لشکر تھے۔حضرت عیاض بن غنم انہیں کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے،اور آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ سے فارغ ہو گئے تو خلیفہ اول کے حکم کی تعمیل کے لئے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے سرحدی علاقوں کو فتح کرتے ہوئے دجلہ کے کنارے آگے بڑھے۔راستے میں آپ رضی اﷲ عنہ کا کربلا میں چند روز قیام ہوا ،تو حضرت عبد اﷲ بن وثیمہ نے مکھیوں کی شکایت کی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ذرا صبر کرو ،میں چاہتا ہوں کہ وہ تمام چوکیاں جن کے متعلق حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا گیا تھا، وہ دشمنوں سے خالی کرا لوں ۔تاکہ ہم ان میں مسلمانوں کو متعین کر دیں،اور مسلمانوں کے لشکر کو پیچھے سے دشمن کے حملہ آوار ہونے کا خطرہ نہ رہے،اور مسلمانوں کی آمدو رفت اطمینان سے ہو سکے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے،اور ان کی رائے اُمت کی فلاح و بہود کے لئے ہوتی ہے۔“اب ہم اِن حالات کو قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔انبار کا محاصرہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲعنہ نے لشکر کے ”مقدمة الجیش“(اگلے حصے ) کے طور پر حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ کو لشکر کا ایک حصہ دیکر روانہ کیا۔اورخود پورا لشکر لیکر دوسرے دن روانہ ہوئے۔حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ نے انبار سے ایک منزل کے فاصلے پر قیام کیا تو وہاں اونٹینوں کے بچے پیدا ہو گئے۔جن کی وجہ سے آگے بڑھنا مشکل ہو گیا تھا،اور انبار وقت پر پہنچنا ضروری تھا۔ اسلئے یہ ترکیب نکالی کہ جن بچوں کو چلنے کی طاقت نہیں تھی،انہیں اُن کی ماو¿ں پر لاد دیا گیا۔اور اسی طرح لادے لادے انبار پہنچے۔انبا ر والے پہلے ہی قلعہ بند ہو گئے تھے،قلعے کے اطراف خندق کھدی ہوئی تھی،اور وہ قلعے کی فصیل سے جھانک جھانک کر دیکھ رہے تھے۔اُن کا سپہ سالار ساباط کا رئیس شیر زاذ تھا،وہ اپنے زمانے میں بڑا عقلمند ،معزز اور عرب و عجم میں ہر دلعزیز عجمی تھا۔انبار کے لوگوں نے فصیل پر سے چلا کر کہا :”آج کی صبح انبار کے حق میں بہت بری ہے،اونٹوں پر اُن کے بچے لدے ہوئے ہیں،جن کو وہ دودھ پلاتی ہیں۔“شیرزاذ نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟لوگوں نے اُس کو اس کا مطلب سمجھایا،تو شیرزاذ نے کہا:”میں قسم کھا کر کہتا ہوںکہ اگر خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) یہاں سے کہیں اور طرف نہیں گئے تو میں اُن سے صلح کر لوں گا۔“حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ نے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔جنگ ذات العیون
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲعنہ جب انبار پہنچے ،اور دیکھا کہ انبار کے لوگ قلعہ بند ہو گئے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے خندق کے اطراف ایک چکر لگایا ،اور جنگ شروع کردی۔اُن کی یہ عادت تھی کہ جہاں کہیں بھی کوئی موقع انہیں جنگ کرنے کا نظر آتا تھایا سن پاتے تھے تو ضبط نہیں کر پاتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے تیر اندازوں کے پاس گئے،اور فرمایا:”میں سمجھتا ہو کہ یہ لوگ اصول جنگ سے بالکل نا آشنا ہیں،تم لوگ صرف اُن کی آنکھوں کو نشانہ بناو¿،اور اُس کے سوا کہیں بھی تیر نہیں مارنا۔“اس کے بعد خندق کے سامنے مٹی کی دیوار بنائی ،جس کے پیچھے چھپ کر تیر اندازوں نے قلعے کی فصیل پر تعینا ت سپاہیوں کی آنکھوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔کیونکہ اُن لوگوں کی صرف لوہے کی ٹوپیاں ہی دکھائی دے رہی تھیں،باقی جسم قلعے کی فصیل کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔جیسے ہی وہ نیچے جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرتے تھے،ویسے ہی میدان میں مٹی کے پیچھے چھپے مسلمان اُس کی آنکھ پر تیر مار دیتے تھے۔مسلمان دن بھر تیر کی باڑھ مارتے رہے،اور جب شام ہوئی تو دشمنوں نے دیکھا کہ اُن کے ایک ہزارسے زیادہ سپاہیوںکی آنکھیں پھوٹ چکی ہیں۔یہ دیکھ کر دشمنوں میں شور مچ گیا کہ اہل انبار کی آنکیں جاتی رہیں۔اسی لئے اِس جنگ کا نام ”ذات العیون“پڑ گیا۔شیر زاذ نے جب اپنے سپاہیوں کا یہ حال دیکھا تو کہا کہ اب میں خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) سے صلح کروں گا۔اور اس کے لئے اپنے قاصد بھیجے ،لیکن ایسی شرائط پیش کیں،جنہیں آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول نہیں کیا،اور قاصدوں کو واپس بھیج دیا۔خندق پر جانوروں کا پل
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اس کے بعد خندق کے اطراف چکر لگانے لگے،اور خندق پار کرنے کا راستہ تلاش کرنے لگے۔ایک جگہ خندق کچھ کم چوڑی نظر آئی،لیکن پھر بھی اتنی چوڑی تھی کہ گھوڑے چھلانگ لگا کر اُسے نہیں پارکر سکتے تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ لشکر میں آگئے،اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر غور کرنے لگے کہ کس طرح خندق پار کی جائے۔آخر کار آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ لشکر کے بوڑھے اور بے کار اونٹوں کو جمع کرو،یہ کئی سو تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ ان سب کو اُس جگہ لائے ،جہاںخندق کم چوڑی تھی،اور حکم دیا کہ انہیں زبح کر کے خندق میں پھینکتے جاو¿۔فارسی سپاہی حیرت سے مسلمانوں کی اِس کاروائی کو فصیل کے اوپر سے کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے۔جب تک اُنہیں اِس کاروائی کا مطلب سمجھ میں آتا ،تب تک مسلمان اونٹوں کو زبح کر کے خندق کو بھر چکے تھے۔اور مزبوحہ جانوروں کا ایک پل تیار ہو گیا تھا۔یہ دیکھ کر فارسی سپاہیوں نے فصیل پر سے تیر اندازی شروع کر دی ،تاکہ مسلمان جانوروں کے پل کا استعمال کر کے خندق پار کر کے قلعے کی فصیل تک نہ پہنچ سکیں۔ادھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جانوروں کے پل کے پاس مٹی کی دیوار بنا کر تیر اندازوں کو بٹھا دیا۔اور حکم دیا کہ مسلسل تیر چلائیں،اور باقی لشکر کو حکم دیا کہ میرے پیچھے آو¿۔اس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ جانوروں کے پل پر تلوار لیکر آگے بڑھنے لگے۔دونوں اطراف سے تیر اندازی ہو رہی تھی،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے آس پاس سے تیر جا رہے تھے۔دشمنوں کی طرف سے آنے والے تیروں کو اپنی تلوار سے کاٹتے ہوئے آپ رضی اﷲ عنہ نے جانوروں کا پل پار کرلیا۔پیچھے مسلمان بھی آرہے تھے۔یہاں تک کہ اچھے خاصے مسلمان فصیل تک پہنچ گئے ،اور دروازہ توڑنے کی تیاری کرنے لگے۔شیر زاذ نے پھر پیغام بیھجا کہ مجھے ایک دستے کے ساتھ نکل جانے دیں،آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے منظور کر لیا۔اور شیر زاذقلعہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔یہ دیکھ کر سب لوگوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔اہل انبار اور آس پاس کے علاقوں سے صلح
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے اہل انبار نے قلعے کا دروازہ کھول دیا،کیونکہ اُن کا سربراہ اپنی جان بچا کر بھاگ گیا تھا۔انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کی جاں بخشی کر دی۔آپ رضی ا ﷲعنہ نے دیکھا کہ یہ لوگ عربی بولتے ،لکھتے اور پڑھتے ہیں تو دریافت کیا کہ تم لوگ عربی ہو یا فارسی ہو؟تو انہوں نے بتایا کہ بخت نصر نے جب عربوں پر حملہ کیا تھا تو وہ لوگ یہاں آکر آباد ہو گئے تھے۔اس کے بعد انبار کے لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی۔اور انبار کے آس پاس آباد لوگوں نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر صلح کر لی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ان تمام علاقوں پر اپنے گورنر اور فوجی افسروں کو مقرر کردیا۔اور جزیہ کی رقم اور فتح کی خوش خبری حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دی۔جنگ عن التمر
حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ کو جب انبار کی طرف سے اطمینا ن ہو گیا،اور وہ مکمل طور سے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت زبر قان بن بدر کو اپنا نائب بنایا ،اور خود عن التمرکی طرف لشکر لیکر روانہ ہوئے۔وہاں مہران بن بہرام عجمیوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ مقیم تھا۔اور عقہ بن ابی عقہ اپنے قبیلے کے ساتھ تھا،اس کے علاوہ بنو نمبر،بنو تغلب،اور بنو ایاد کے قبائل بھی اُس کے ساتھ تھے۔جب اِن لوگوں کو آپ رضی ا ﷲ عنہ کے آنے کی اطلاع ملی تو عقہ نے مہران سے کہا کہ ہم عرب ،عربوں سے لڑنے کا فن خوب جانتے ہیں،اس لئے تم کچھ نہ کرو،خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ) سے ہم نمٹ لیں گے۔مہران نے کہا کہ ٹھیک ہے ،تم ہی لڑو۔اگر ضرورت ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔جب عقہ میدان میں اپنا لشکر لیکر چلا گیاتو عجمیوں نے مہران سے کہاکہ تم نے اِس کتے سے ایسی بات کیوں کہی؟مہران نے کہا میں نے جو ارادہ کیا ہے تمہارا اِس میں فائدہ ہے،اور اُن کا نقصان ہے۔کیونکہ اِس وقت تمہارے مقابلے کے لئے ایک ایسا شخص آ رہا ہے،جس نے تمہارے سلاطین کو قتل کر دیا ہے۔اور تمہاری سطوت و شوکت کا خاتمہ کر دیا ہے۔اگر یہ عرب خالدبن ولید(رضی اﷲعنہ) کے مقابلے میں کامیاب ہو گئے تو تمہیں ایک بہت بڑے دشمن سے نجات مل جائے گی،اور اگر یہ ہار گئے تو دشمن اپنی طاقت کھو کر تمھارے پاس آئے گا،اور ہم طاقتور ہوں گے۔عقہ وہاں سے چلکر ایک دن کی مسافت کے فاصلے پرآیا،اور پڑاو¿ ڈال دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲجب وہاں پہنچے تو وہ اپنے لشکر کی صفیں مرتب کر رہا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے دیکھتے ہی اپنے لشکر سے فرمایا:”میں اُس پر حملہ کرتا ہوں ،تم اُس کے لشکر کو سنبھالنا۔“اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھے،اور عقہ کو گرفتار کر کے اُس کے ہاتھ پاو¿ں باندھ دیئے۔یہ دیکھ کر اُس کے لشکر کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ بھاگنے لگے تو مسلمانوں نے اُن کا قتل عام شروع کردیا۔مہران کو مسلمانوں کی فتح کی خبر ملی تو وہ اپنے لشکر کو لیکر فرار ہو گیا،اور پورا قلعہ کھلا ہو پڑا تھا۔عقہ کے لشکر کے لوگ بھاگ کر آئے تو دیکھا کہ قلعہ کھلا ہے ،اور مہران اپنے لشکر کو لیکر بھاگ گیا ہے،تو اُن لوگوں نے قلعے میں پناہ لی ،اور دروازہ بند کر دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ آئے،اور قلعے کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔اُن کے ساتھ عقہ اور عمرو بن صعق قید میں تھے۔قلعے کے اندر کے لوگوں نے مسلمانوں کو دوسرے لٹیروں کی طرح سمجھ لیا تھا،لیکن جب یہ دیکھا کہ یہ لوگ پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں تو امان طلب کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تمہیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے،اور قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کو غلام اور لونڈی بنا لیا،اور عقہ اور عمرو بن صعق کو اُن کے سامنے قتل کر دیا۔دومتہ الجندل کی طرف روانگی
حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں مال غنیمت اور جزیہ لیکر ولید بن عقبہ حاضر ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے اُن کے پاس بھیج دیا۔جب وہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ دشمنوں نے حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ کا راستہ روک رکھا ہے،تو اُس نے کہا کہ کبھی کبھی فوج کی کثرت کی تعداد کے مقابلے میں ایک عقل کی بات زیادہ کار گر ہوتی ہے۔اور میری تو رائے یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ قاصد کو بھیج کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے مدد طلب کییجیئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ایسا ہی کیا۔اور جب قاصد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا تو عن التمر فتح ہو چکا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ کو جواب بھیجا کہ میں بہت جلدتمہارے پاس آتا ہوں۔ اور آپ رضی اﷲ عنہ نے عن التمر میں حضرت عویم بن کاہل کو اپنا نائب بنایا۔اور حالانکہ لشکر مسلسل جنگ اور سفر سے تھک چکا تھا،لیکن مسلمانوں میں ابھی بھی اسلامی خون کا جوش ویسا ہی تھا۔اسی لئے فوراً حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل پڑا۔جنگ دومتہ الجندل
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر لیکر آنے کی خبر جب دومتہ الجندل کے لوگوں کو ملی تو انہوں نے بنو بہراء،بنو کلب،بنو غسان، بنو تنوخ،اور بنو ضجاعم کے قبیلوں سے لشکر طلب کئے۔سب سے پہلے ودیعہ بنو کلب اور بنو بہراءکے لشکر لیکر آیا،پھر بقیہ قبائل بھی لشکر لیکر آئے۔اُن لاگوں کے دو سردار اکیدر بن عبد الملک اور جادی بن ربیعہ تھے۔ان دونوں میں اختلاف ہو گیا۔اکیدر کہنے لگا کہ میں خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ ) کو اچھی طرح جانتا ہوں،جنگ میں اُس سے زیادہ خوش قسمت شخص کوئی نہیں ہے۔اور نہ خود اُس سے زیادہ خوش قسمت کوئی ہے۔اور جس قوم نے بھی خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) کا چہرہ دیکھاہے،چاہے وہ تھوڑی ہو یا زیادہ،اُس نے شکست کھائی ہے۔پس میری بات مان لو ،اور ان لوگوں سے صلح کر لو۔مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔اُس نے کہا کہ میں خالد (رضی اﷲ عنہ) سے جنگ کرنے میں تمہاری ہر گز مدد نہیں کرو ں گا۔اور وہ اُن سے الگ ہو گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ راستے میں ہی تھے کہ اکیدر کے بارے میں اطلاع ملی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو کو اُس کا راستہ روکنے کے لئے بھیجا۔ایک روایت کے مطابق فریقین میں مقابلہ ہوا ،اور اکیدر مارا گیا۔اور دوسری روایت کے مطابق اسے گرفتار کر کے لایا گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے دومتہ الجندل کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔اب دونوں طرف اسلامی لشکر تھے،اور درمیان میں اہل دومتہ الجندل اور اعرابیوں(دیہا تیوں) کا لشکر تھا۔جودی نے اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کیا ۔اور دونوں سے جنگ شروع کر دی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے سامنے والے لشکر پر ،اور حضرت عیاض بن غنم نے اپنے سامنے والے لشکر پر حملہ کر دیا۔اور دشمنوں کو رگیدنے لگے۔انہوں نے بھی جم کر مقابلہ کیا،بڑی شدید جنگ ہوئی اور گھمسان کا رن پڑا۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔اور دشمن شکست کھا کر قلعے کی طرف بھاگے۔اسی دوران حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جودی کو اور حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ نے ودیعہ کو گرفتار کر لیا۔باقی لوگ قلعے میں جاکر گھس گئے،اور جب قلعہ بھر گیا تو دروازہ بند کر دیا۔کافی لوگ باہر رہ گئے،اور پریشانی کے عالم میں جان بچانے ے لئے بھاگنے لگے۔ایسے وقت میں حضرت عاصم بن عمرو نے مسلمانوں میں سے بنو تمیم سے کہا۔اے بنو تمیم!اپنے حلیف بنو کلب کی مدد کرو۔اور بنو تمیم نے بنو کلب کو اپنی پناہ میں لے لیا۔ادھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھاگنے والوں کا پیچھا کر رہے تھے،اور اتنے آدمیوں کو قتل کیا کہ اُن کی لاشوں سے قلعے کا راستہ مسدود ہو گیا۔پھرقلعہ والوں سے کہا کہ دروازہ کھول دو۔ انہوں نے انکار کر دیا توجودی کو بلا کر اس کو اُن کے رو بروقلعے کے سامنے قتل کردیا،اور تمام قیدیوں کو بھی قتل کردیا۔صرف بنو کلب کے لوگ زندہ بچ سکے ،کیونکہ حضرت عاصم ،حضرت اقرع اور بنو تمیم کے لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ ہم نے ان کو امان دے دی ہے۔حضرت خالد بن ولید نے اُن سے فرمایا:”تم کو کیا ہو گیا ہے کہ جاہلیت کے کاموں کی حفاظت کرتے ہو ،اور اسلام کے کام کو ضائع کرتے ہو؟“حضرت عاصم نے کہا:”آپ رضی اﷲ عنہ ان لوگوں کی عافیت پر حسد نہ کریں،شیطان ان کو اب نہیں ورغلائے گا۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ قلعے کے دروازے پر پہنچے ،اور اُس کے پیچھے ایسے پڑے کہ اُس کو توڑ کر ہی دم لیا۔مسلمان قلعے میں گھس گئے،اور لڑنے والوں کو قتل کیا ،باقی کو غلام اور لونڈی بنا لیا۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ دومتہ الجندل میں ٹھہر گئے،اور حضرت اقرع بن حابس کو انبار واپس بھیج دیا۔حیرہ سے دومتہ الجندل صرف ایک رات کی مسافت پر تھا۔فارسیوں کے لشکر
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ دومتہ الجندل میں اپنے لشکر کے ساتھ کچھ دنوںکے لئے آرام کر رہے تھے۔اسی دوران فارسیوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اُٹھا کر حیرہ پر قبضہ کر لینا آسان کام سمجھ لیا تھا۔اور اپنے لشکر کو منظم کرنا شروع کر دیا تھا۔حیرہ کے عربوں نے عقہ کے قتل سے برہم ہو کر مسلمانوں کے خلاف ان کو ابھارا۔جزیرہ کے عربوں نے عجمیوں سے خط وکتابت اور ساز باز کر لی تھی۔اسی مقصد سے بغداد سے زر مہر اور اُس کے ساتھ روزبہ انبار کی طرف روانہ ہوئے،اور دونوں نے حصید اور خنافس پر ملنے کا وعدہ کیا۔حضرت زبر قان جو انبار کے گورنر تھے،انہوں نے اس کی اطلا ع حضرت قعقاع کو دی ،جو اُس وقت حیرہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے نائب تھے۔حضرت قعقاع نے اعبد بن فدکی سعدی کو لشکر دے کر حصید کی طرف روانہ کیا،اور عروہ بن جور کو خنافس کی طرف روانہ کیا۔اور دونوں کو ہدایت کی کہ اگر تمہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے تو بڑھ جانا۔یہ دونوں وہاں پہنچ کر درمیان میں ایسے مقام پر ٹھہرے کہ حصید اور خنافس کا ریف سے تعلق منقطع ہو گیا،اور اُن کے راستے مسدود ہو گئے۔زرمہر اور روزبہ مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ربیعہ کے اُن لوگوں کا انتظار کر رہے تھے،جن سے وعدے وعید ہو چکے تھے۔جنگ حصید
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ دومتہ الجندل سے حضرت عیاض بن غنم کے لشکر اور اپنے لشکر کو ساتھ لیکر حیرہ آئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کا اردہ حضرت عیاض بن غنم کو مفتوحہ علاقے سونپ کر مدائن پر حملہ کرنے کا تھا۔مگر جب حیرہ پہنچ کر انہیں تمام واقعات کا علم ہوا تو انہوں نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے خلاف کام کرنا مناسب نہیں سمجھا۔اور فوراً حضرت قعقاع بن عمرو اورحضرت ابو لیلیٰ کو روزبہ اور زرمہر کے مقابلے پر بھیج دیا۔یہ دونوں آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے وہاں پہنچ گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس امرالقیس کلبی کا خط آیا کہ ہزیل بن عمرو نے مصیح میں ،ربیعہ بن بجیر نے ثنیٰ اور بشر میں فوجیں جمع کی ہیں۔یہ لوگ عقہ کے انتقام کے جوش میں زرمہر اورروزبہ کی طرف جا رہے ہیں۔یہ معلوم ہوتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حیرہ پر حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔اور خود لشکر لیکر روانہ ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کے ”مقدمة الجیش“کے کمانڈر حضرت اقرع بن حابس تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے بھی خنافس جانے کے لئے وہی راستہ اختیار کیا،جس سے حضرت قعقاع اور حضرت ابو لیلیٰ گئے تھے۔مقام”عین“میں آکر آپ رضی اﷲ عنہ اِن دونوں سے مل گئے۔یہاں آکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت قعقاع کو ایک لشکر دے کر حصید روانہ کیا۔اور حضرت ابو لیلیٰ کو خنافس بھیجا،اور حکم دیا کہ دشمنوں کو اور ان کو بھڑکانے والوں کو گھیر کر ایک جگہ جمع کرو۔اور اگر وہ جمع نہ ہوں تو اُسی حالت میں اُن پر حملہ کر دو،مگر وہاں پہنچ کر انہوں نے توقف سے کام لیا۔حضرت قعقاع نے جب دیکھا کہ زرمہر ،اور روزبہ اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں ہیں،وہ روزبہ کی طرف روانہ ہوئے،جو حصید میں اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا۔روزبہ کو جب اطلاع ملی تو وہ گھبرا گیا ،اور زرمہر سے مدد طلب کی،اُس نے اپنی فوج پر مہوزان کو نائب بنایا،اور خود ایک دستہ لیکر روزبہ کی مدد کو آگیا۔حصید میں فریقین کا مقابلہ ہوا ،بڑی شدت کی جنگ ہوئی۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ،اور انہوں نے عجمیوں کو بہت بڑی تعداد میں قتل کیا۔اور بہت سے عجمی بھاگ کر خنافس میں جاکر جمع ہو گئے۔ اِس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ بے شمار مال غنیمت آیا۔مصیخ میں کامیابی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو لیلیٰ کو خنافس کی طرف روانہ کیا تھا،انہوں نے حملہ کرنے میں کچھ دیر کی،تب تک حصید سے بھاگے ہوئے لوگ مہوازن کے پاس پہنچ چکے تھے۔یہ دیکھکر حضرت ابو لیلیٰ لشکر لیکر آگے بڑھے تو مہوازن لڑنے کے بجائے لشکر لیکر مصیخ بھاگ گیا۔وہاں کا افسر ہزیل بن عمران تھا۔خنافس کی فتح کے لئے حضرت ابو لیلیٰ کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔اِن تمام فتوحات کی اطلاع حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو دی گئی۔آپ رضی اﷲ عنہ کو جب حصید کی فتح اور اہل خنافس کے بھاگنے کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے تمام لشکروں کو ایک مخصوص رات میں مصیخ پہنچنے کا حکم دیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ بھی اپنے لشکر کو لیکر ”عین “سے مصیخ کی طرف روانہ ہو گئے۔مقررہ رات کو طے شدہ وقت پر تمام اسلامی لشکر جمع ہوا ۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے آتے ہی مصیخ میں جمع عجمیوں کے لشکر پر اچانک حملہ کر دیا۔ہذیل اور اُس کی فوج ،اور تمام بھاگے ہوئے فوجی سب پڑے سو رہے تھے۔مسلمانوں نے اچانک تین طرف سے گھیر کر حملہ کر دیا ،اور فارسیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ہذیل اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔باقی تمام لوگ قتل کردیئے گئے،لاشوں سے پورا میدان اِس طرح پٹ گیا،جیسے بکریاں ذبح کی ہوئی پڑی ہیں۔مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت آیا۔ثنیٰ اور زمیل میں کامیابی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مصیخ کی فتح کے بعد حضرت قعقاع اور حضرت ابو لیلیٰ کو حکم دیا کہ اپنے اپنے لشکر لیکر روانہ ہو جاو¿،اور فلاں رات کو ثنیٰ میں ملو،جہاں ربیعہ بن بجیر اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہے۔اس کے بعد تینوں لشکر روانہ ہو گئے۔اُدھر عقہ کے انتقام کے جوش میں ربیعہ نے فوج تو جمع کرلی،لیکن زرمہر،اور زوابہ کا انجام دیکھکر اُس کی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔اور وہ ثنیٰ میں ہی قیام پذیر تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مصیخ سے چل کر حودان،پھر انق،پھر حماة پہنچے۔پھر زمیل آئے،اِس کا نام بشر بھی ہے،اور یہ ثنیٰ سے ملحق ہے۔یہاں تینوں اسلامی لشکر آکر مخصوص رات کو مل گئے،اور تینوں نے تین طرف سے ربیعہ کی فوج پر ،اور اُن لوگوں پر جو بڑی شان سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔اُن پر شب خون مارا ،اور تلواریں سونت کر ایسا صفایا کیا کہ کوئی بھی بھاگ کر کہیں خبر بھی نہیں دے سکا۔بیت المال کے لئے مال غنیمت کا خمس حضرت نعمان بن عوف کے زریعے خلیفہ اول کی خدمت میں بھی دیا گیا۔اس کے بعد تینوں اسلامی لشکر زمیل کی طرف بڑھے۔یہاں مصیخ سے بھاگ کر ہذیل نے آ کر عتاب کی پناہ لی تھی۔عتاب ایک عظیم الشان لشکر کے ساتھ بشر(زمیل) میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔اس سے پہلے کہ ربیعہ اور اس کے لشکر کے خاتمے کی خبر اُس تک پہنچے،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُس پر تین طرف سے شب خون مار دیا۔اور اتنے فارسیوں کا قتل کیا کہ اس پہلے کبھی اتنا قتل نہیں ہوا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ بنو تغلب کو اُن کے گھر میں گھس کر قتل کروں گا،یہ قسم اس وقت پوری ہو گئی۔بے حساب مال غنیمت حاصل ہوا ،آپ رضی اﷲ عنہ نے خمس نکال کر خلیفہ اول کی خدمت میں حضرت صباح بن فلان مزنی کے زریعے بھیج دیا۔اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کر دیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲعنہ رضاب کی طرف بڑھے، وہاں کا افسر ہلا ل بن عقبہ تھا۔اُس کی فوج کو جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ ہلال سے منحرف ہو گئی۔مجبورا!ہلال وہاں سے بھاگ گیا،اور رضاب بغیر کسی مقابلے کے فتح ہو گیا۔جنگ فراض
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ محرم ۲۱ ھجری میں عراق میں داخل ہوئے تھے،اور مسلسل گیارہ مہینے سے عراق میں حالت ِ جنگ میں تھے۔بنو تغلب کے لشکرکو اچانک ختم کر کے اور رضاب پر قبضہ کر کے آپ رضی اﷲ عنہ ذی القعدہ ۲۱ ھجری میں ”فراض“پہنچے۔فراض پر ملک شام،ملک عراق اور جزیرہ کے راستے آ کر ملتے ہیں۔فراض میں مسلمانوں کا لشکر دیکھ کراہل روم کو یہ ڈر پیدا ہو کہ کہیں یہ لشکر اُن کے علاقے میں نہ گھس آئے۔انہوں نے اپنے قریب کی اہل فارس کی چوکیوںاور بنو تغلب ،بنو ایاد،اور بنو نمر سے امداد طلب کی۔اِن سب نے رومیوں کی مدد کی،اور ایک بہت بڑا لشکر جر ار تیار ہو گیا۔اس کے بعد یہ لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے لڑنے کے لئے آگے بڑھے۔جب دریائے فرات بیچ میں رہ گیا تو انہوں نے آپ رضی اﷲعنہ سے پوچھا کہ دریا پار کر کے تم اِس طرف آو¿گے؟یا ہم اُس طرف آئیں؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم ہی پار کر کے آجاو¿۔“اُنہوں نے کہا کہ اچھا تم سامنے سے ہٹ جاو¿۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ نہیں ہو سکتا (لشکر کے لئے پانی بہت ضروری ہو تا ہے)البتہ تم ذرا آگے سے دریا پار کر لو۔“یہ واقعہ پندرہ ذی القعدہ ۲۱ ھجری کا ہے۔رومیوں اور فارسیوں میںدریا پار کرنے پر اختلاف ہو گیا۔ان میں سے بعض کی رائے یہ تھی کہ ہم کو اپنے ہی ملک میں رہ کر لڑنا چاہیئے،کیونکہ یہ شخص ملک اور حکومت کے نہیں بلکہ اپنے دین کی حمایت کے لئے لڑ رہا ہے۔وہ بڑا دانشمنداور صاحب ِ علم ہے،اﷲ کی قسم !وہ کامیاب ہو گا،اور ہم ناکام ہو کر ذلت اُٹھائیں گے۔مگر اِس رائے پر اُن لوگوں نے عمل نہیں کیا،اور تھوڑا آگے بڑھ کر دریا پار کیا۔جب سب لوگ پار ہو گئے تو رومیوں نے فارسیوں سے کہا کہ اب الگ الگ ہو جاو¿،تاکہ معلوم ہو جائے کہ اچھا یا برا نتیجہ کس کے سر ہے؟اس طرح یہ لوگ الگ الگ ہو گئے۔ایک طرف رومیوں،فارسیوں،اور اعرابی قبائل کا ایک لاکھ سے زیادہ ٹھاٹھیں مارتا انسانوں کا سمندر تھا۔اور دوسری طرف بیس سے پچیس ہزار مسلمان تھے،جن کا سپہ سالار سوائے اﷲ تعالیٰ کے کسی سے نہیں ڈرتا تھا۔اور جنگ کے دوران ایسے ایسے حربے استعمال کرتا تھا کہ سامنے والے حیران رہ جاتے تھے۔دونوں لشکروں میں جنگ شروع ہوئی ،اور بہت دیر تک شدید خون ریزی ہوتی رہی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ چھلاوہ بنے ہوئے تھے،کبھی فارسیوں کے لشکر پر شیر بن کر گرجتے ،تو کبھی رومیوں پر قہر بن کر ٹوٹتے تھے،تو کبھی اعرابیوں پر باز کی طرح جھپٹتے تھے۔اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔آپ رضی اﷲ کو دیکھکر مسلمانوں میں نیا جوش بھر جاتا تھا۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی،اور دشمن میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو بلند آواز سے حکم دیا کہ دشمنوں کو مہلت بالکل مت دو،اور مسلسل قتل عام کرو۔اس حکم کے بعد ایک ایک رسالدار اپنے دستے کے تیروں سے دشمن کے بڑے بڑے گروہ کو گھیرتا تھا ،اور تلوار سے انہیں موت کے گھاٹ اتارتا تھا۔فراض کی جنگ میں عین لڑائی میں میدان میں اور پھر تعاقب میں ایک لاکھ آدمی قتل ہوئے۔چپکے سے حج کی ادائیگی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فراض میں جنگ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے لشکر کے ساتھ دس دنوں تک قیام پذیر رہے۔اور پھر پچیس(۵۲)ذی القعدہ ۲۱ ھجری کو لشکر کو حضرت عاصم بن عمرو کی سرکردگی میں حیرہ واپس چلنے کا حکم دیا ۔لشکر کے ساقہ کا کمانڈر حضرت شجرہ بن اغر کو متعین کیا،اور خود بظاہر ساقہ میں رہ کر سفر کرنے لگے۔پچیس ذی القعدہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے چند ساتھیوں کو لیکر چپکے سے حج کے لئے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔یہ راستہ اہل جزیرہ کے راستوں میں سے ایک تھا،اور اس قدر دشوار گذار اور عجیب راستہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے چند جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ تیزی سے سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے،اور حج کر کے تیزی سے واپس آگئے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی اپنے لشکر سے غیر حاضری صرف اتنی رہی کہ ابھی لشکر کا آخری حصہ حیرہ میں نہیں پہنچا تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ حج سے فارغ ہو کر اپنے بنائے ہوئے ساقہ سے آملے،اور اس کے ساتھ حیرہ میں داخل ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ اور چند ساتھی سر منڈائے ہوئے تھے۔ساقہ کے چند لوگوں کے سوا کسی کو بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے حج کی مطلق خبر نہیں ہوئی۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی اس کی اطلاع بعد میں ہوئی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ پر عتاب یہ کیا کہ اُن کو ملک شام کی طرف جنگ کے لئے بھیج دیا۔(طبری)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی اُس وقت پتہ چلا ،جب مدینہ منورہ کے حاجی حج کے اجتماع سے واپس آئے ،اور انہوں نے بتایا۔خلیفہ اول نے فوج سے الگ ہونے پر آپ رضی اﷲ عنہ کو عتاب نامہ بھیجا۔اور یہ سزا دی کہ ملک عراق میں سلطنت فارس کے محاذ کو چھو ڑ کرملک شام میں سلطنت روم سے مقابلہ کرنے کے لئے جانے کا حکم دیا۔( اُس وقت ملک شام میںحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی زیادہ ضرورت تھی ،اسی لئے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اُس طرف بھیجا تھا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔)اور آپ رضی اﷲعنہ کو خط میں یہ لکھا :”بے شک فوجیں اﷲ کی مدد سے تمہارے غمگین ہونے سے غمگین نہیں ہوں گی۔اے ابو سلیمان!(حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)تم کو نیت اور نصیبہ مبارک ہو،اپنا کام پورا کرو،اﷲ تعالیٰ تمہارے کام کی تکمیل کر دے گا۔تمہارے دل میں فخر و عجب پیدا نہ ہو،ورنہ ناکام و نامراد ہو جاو¿ گے۔اور کسی کام پر فخر کرنے سے اجتناب اختیار کرو،بے شک اﷲ احسان کرنے والا ہے،اور وہی جزا دینے والا ہے۔“(ابن کثیر)حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ملک شام جانے کا حکم
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کی مہم پر جانے کا حکم دیا۔اس کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا سفر ِ حج تمام شہروں کو چھوڑتے ہوئے سیدھے مکہ مکرمہ کی طرف ہواتھا۔یہ راستہ اِس طرح گیا ہے کہ فراض سے ماءالعنبری کو ،پھر ثقب کو پھر ذات عرق کو ،اور وہاں سے مشرق کی طرف مُڑ کر عرفات پہنچا دیتا ہے۔یہ راستہ العبد کے نام سے موسوم ہے۔حج سے فارغ ہو کر آپ رضی اﷲ عنہ حیرہ جا رہے تھے کہ راستے میں اُن کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا حکم ملا کہ حیرہ سے دور اور ملک شام سے قریب ہوتے چلے جاو¿۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے اپنے خط میں حکم دیا کہ تم یہاں سے روانہ ہو کر یرموک میں مسلمانوں کے لشکر سے مل جاو¿،کیونکہ وہاں وہ دشمن کے نرغے میں گھِر گئے ہیں۔اور تم نے جو یہ حرکت کی ہے،آئندہ کبھی تم سے سرزد نہ ہو۔یہ اﷲ کا فضل ہے کہ تمہارے سامنے دشمن کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں،اور تم مسلمانوں کو دشمن کے نرغے میں سے صاف بچا لاتے ہو۔اے ابو سلیمان!میں تم کو تمہارے خلوص اور خوش قسمتی پر مبارک باد دیتا ہوں۔اِس مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچاو¿،اﷲ تمہاری مدد کرے گا۔تمہارے دل میں فخر نہیں ہونا چاہیئے،کیونکہ فخر کا انجام خسارہ اور رسوائی ہے۔اور نہ اپنے کسی فعل پر نازاں ہونا۔کیونکہ فضل وکرم کرنے والا صرف اﷲ تعالیٰ ہی ہے،اور وہی اعمال کا صلہ دیتا ہے۔“(تاریخ طبری)21 ھجری کے چند خاص واقعات
21 ھجری کا سال مکمل ہوا،اب ہم اس سال پیش آنے والے چند اہم واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس سال حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو قرآن پاک ایک صحیفے پر جمع کرنے کا حکم دیا۔اور انہوں نے بڑی عرق ریزی سے یہ کام مکمل کیا۔اس سے پہلے قرآن پاک کھجور کی ٹہنیوں،کپڑوں،درخت کی چھالوں اور انسان کے سینوں تک ہی محدود تھا۔اس سال حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے غلام اسلم کو خریدا،پھر وہ تابعین کے سادات میں سے ہو گئے۔اور اُن کے بیٹے حضرت زید بن اسلم بلند مقام ثقات میں سے تھے۔اس سال خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو حج کروایا،اور مدینہ منورہ میں اپنا نائب حضرت عثمان غنی بن عفان رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت میں حج نہیں کروایا ہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔حضرت بشیر بن سعد بن ثعلبہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت بشیر بن سعد رضی اﷲ عنہ بیعت عقبہ ثانیہ اور غزوہ بدر اور اس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انصار میں سب سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا۔اور سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار میں سے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲعنہ خلافت پر بیعت کی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے،اور جنگ عن التمر میں شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہ کے والد ہیں۔حضرت ابو مرثد غنوی رضی اﷲ عنہ کا انتقال
آپ رضی اﷲ عنہ کا نام معاذ بن حصین ہے۔ابو مرثد کنیت ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے بیٹے حضرت مرثد رضی اﷲ عنہ کے ساتھ غزوہ بدر میں شامل تھے۔اور اِن دونوں کے علاوہ کوئی بھی باپ بیٹے کی جوڑی اس غزوہ میں نہیں تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے نے ”رجیع کے درد ناک واقعہ“میں شہادت پائی۔آپ رضی اﷲ عنہ کے پوتے حضرت انیس بن مرثد رضی اﷲ عنہ بھی صحابی تھے۔جو فتح مکہ اور غزوہ حنین میں شامل تھے۔ ۲۱ ھجری میں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اﷲ عنہ کا انتقال
حضرت ابو العاص بن ربیع بن عبد العزیٰ بن عبد شمس بن عبد مناف ،یہاں آ کر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مل گیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سب سے بڑے داماد ہیں،اور سب سے بڑی بیٹی سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کے شوہر ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہاکے بھانجے ہیں۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام ہالة بنت خویلد،اور ہند بنت خویلد بتایا جاتا ہے۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو قریش نے آپ رضی اﷲ عنہ کو طلاق دینے کا مشورہ دیا تھا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا تھا۔غزوہ بدر میں قید ہوئے تو مکہ مکرمہ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا نے اپنی امی کا دیا ہوا ہار فدیہ کے طور پر بھیجا تو ہار دیکھ کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آنکھ میں آنسو آگئے۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں اس شرط پر آزاد کر دیا کہ مکہ مکرمہ جا کر سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کو مدینہ منورہ پہنچا دیں گے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وعدہ پورا کیا۔صلح حدیبیہ سے پہلے تجارتی قافلہ لیکر جار ہے تھے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے تمام مال پر قبضہ کر لیا،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنی جان بچا کر مدینہ منورہ پہنچے ،اور سیدہ زینب رضی عنہا نے انہیں پناہ دے دی۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کی پناہ کو جائز قرار دیا،اور قافلے کا تمام مال انہیں عطا فرما دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ تمام مال لیکر قریش کے پاس آئے ،اور ان کا سارا مال دیکر ان کے سامنے اسلام کا اظہار کیا۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔
ملک شام کی طرف لشکروں کی روانگی(اوائل 21 ھجری)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں پوری دنیا میں سب سے بڑی دو سوپر پاور سلطنت روم اور سلطنت فارس تھی۔(یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت امریکہ اور آسٹریلیا دریافت نہیں ہوئے تھے،اور دنیا صرف ایشیاء،افریقہ،اور یورپ پر مشتمل تھی)سلطنت فارس میں تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک سال سے زلزلے پیدا کر رہے تھے،اور اُس کی بنیادوں کو ہلا رہے تھے۔اور ۲۱ ھجری کی آخری جنگ فراض میں تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے دونوں سوپر پاورکے سپاہیوں اور عرب کے اعرابیوں کا قتل عام کر ڈالا تھا۔اسی لئے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ اب سلطنت روم کی طرف متوجہ ہوئے،اور ملک شام کی طرف لشکر بھیجنے کی تیاری کرنے لگے۔اور ایک دن تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کو جمع کر کے تقریر فرمائی۔”امابعد۔اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں پر رحم فرمائے،آپ اس بات کو یاد رکھیں کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اسلام جیسی نعمت عطا فرمائی ہے،اُمت محمد بنایاہے۔آپ کے ایمان اور یقین کو زیادہ کیا،اور کامل فتح بخشی۔اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:”میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کیا،اور تم پر اپنی تمام نعمتیں پوری کیں،اور اسلام کو تمہارے لئے میں نے دین پسند کیا۔“اور آپ لوگ سمجھ لیں کہ ہمارے آقا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک شام میں جہاد کرنے کا ارادہ فرما لیا تھا،اور چاہا تھا کہ وہاں کوشش اور ہمت سے کام لیا جائے۔مگر اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے اپنے پاس جگہ تجویز کر دی۔اب آپ لوگوں پر واضح رہنا چاہیئے کہ میں ارادہ کر چکا ہوںکہ مسلمانوں کا ایک لشکر ملک شام کی طرف بھیج دوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وصال سے پہلے اِس بات کی خبر دے چکے تھے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجھے زمین دکھلائی گئی ،اور میں نے مشرق اور مغرب کو دیکھا۔سو جو زمین مجھے دکھلائی گئی ہے،عنقریب وہ میری اُمت کی ملکیت میں آجائے گی۔“اب تم سب متفق ہو کر مجھے مشورہ دو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے متفق ہو کرجواب دیا:”یا خلیفہ رسول اﷲ !ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم کے تابع ہیں،جیسا بھی ارشاد فرمائیں،جہاں جانے کا حکم دیں،ہم اس کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔(فتوح الشام)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ اس سال حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ واپس آکر ملک شام کی طرف لشکر روانہ کئے۔محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ۲۱ ھجری میں حج سے واپس آکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کی طرف فوجیں بھیجنے کا انتظام کیا۔اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین (جو اُس وقت ملک شام میں تھا)کی جانب روانہ کیا۔انہوں نے معرقہ کا راستہ اختیار کیا،جو ایلہ پر سے گذرتا ہے۔اور حضرت یزید بن سفیان،حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کے بالائی حصے کی طرف راونہ کیا،اور حکم دیا کہ ملک شام کے بالائی علاقہ بلقاپر گذرتے ہوئے تبوکیہ چلے جاو¿۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ کو امدادی لشکر دے کر اُن کے پیچھے بھیجا۔اور ۳۱ ھجری کی ابتدا میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کو فوجیں روانہ کیں،سب سے پہلے شخص حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ ہیں،مگر ان کے روانہ ہونے سے پہلے انہیں معزول کر کے یزید بن سفیان کو سپہ سالار بنا دیا۔اور ملک شام کی طرف روانہ ہونے والے سب سے پہلے سپہ سالار حضرت یزید بن سفیان ہیں۔یہ لوگ سات ہزار مجاہدین لیکر ملک شام گئے۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ تیما میں
آپ کو یاد ہوگاکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے،اُن میں سے ایک لشکر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو دیکر ملک شام کے سرحدی علاقے تیما کی طرف روانہ کیا تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں تیما جانے کا حکم دیا تھا ،اور فرمایا کہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹنا،اور اطراف کے مسلمانوں کو (جو مرتد نہیں ہوئے)اپنے لشکر میں بھرتی کرنا،اور جب تک میری طرف سے اگلا حکم نہ ملے ،جنگ کا آغاز نہیں کرنا۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ تیما پہنچ کر مقیم ہو گئے،اور اطراف کے مسلمان آپ رضی اﷲ عنہ سے آکر ملنے لگے،اور اچھا خاصا لشکر جمع ہو گیا۔(اِس دوران حضرت خالد بن ولیدرضی ا ﷲعنہ بزاخہ اور یمامہ وغیرہ میں،اورحضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲعنہ بحرین اور یمن وغیرہ میں مرتدوں سے جنگ میں مصروف تھے۔)رومیوں کو مسلمانوں کے اس عظیم الشان لشکر کی خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے زیر اثر عربوں سے ملک شام کی طرف سے جنگ کرنے کے لئے فوجیں طلب کیں۔قبیلہ بنو بہرائ،بنو کلب ،بنو سلیح،بنو تنوخ،بنو لخم،بنو جزام،اور بنو غسانکی فوجیں”زیزائ“کے قریب مقام ”ثلث“میں جمع ہو گئیں۔جیش البدال(لشکروں کی تبدیلی)
حضرت خالد بن سعید رضی اﷲعنہ نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رومیوں کے عرب نژاد لشکر کے اجتماع کی خبر دی۔خلیفہ اول نے حکم دیا کہ تم آگے بڑھو،اور ذرا بھی مت گھبراو¿،اور اﷲ سے مدد طلب کرو ۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ یہ جواب ملتے ہی لشکر لیکر آگے بڑھے،مگر جب قریب پہنچے تو دشمن پر کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ سب اپنی جگہ چھوڑ کر اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے،اور بھاگ گئے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ دشمن کے مقام پر قابض ہو گئے،اور اکثر لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔اِس کامیابی کی خبر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کو دی تو انہوں نے حکم دیا کہ تم آگے بڑھو،لیکن اتنا آگے نہ بڑھ جانا کہ پیچھے سے دشمن کو تم پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر اور تیماءسے ملے ہوئے لوگوں کو لیکر اُس مقام پر پہنچ کر پڑاو¿ ڈال دیا جو آبل،زیزائ،اور تسطل کے درمیان واقع ہے۔یہاں ایک رومی ہابان نامی پادری ،عیسایﺅں کا لشکر لیکر جنگ کرنے آیا۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے اسے زبردست شکست دی ،اور پادری کے ساتھ ساتھ اُس کے پورے لشکر کو قتل کر دیا۔اِس فتح کی اطلاع خلیفہ اول کو دی ،اور مزید کمک طلب کی۔اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس ذوالکلاع وغیرہ قبائل کے لشکر آئے ہوئے تھے،اور حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ بھی تہامہ ،عمان ،بحرین سے جنگ میں کامیاب ہو کر آئے ہوئے تھے۔اور ان کے ساتھ ان علاقوں کے لوگوں کا اچھا خاصا لشکر تھا۔ان سب کے متعلق حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ جو لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں ،انہیں بدل دو،اور ان کی جگہ تازہ دم سپاہیوں کو متعین کر دو۔اسی لئے وہاں کے تمام لو گو ں کو بدلا گیا،اور اس فوج کانام ”جیش البدال“پڑ گیا۔ان فوجوں کو خلیفہ اول نے حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔حضرت خالد بن سعیدکی جلد بازی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص کو ایک لشکر دیکر فلسطین کی طرف بھیجا۔اور ولید بن عقبہ کو ایک لشکر دیکر اردن کی طرف بھیجا۔اور یزید بن سفیان کو ایک بڑا لشکر دیکر بھیجا،اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو بھی ایک لشکر دے کر بھیجا۔اِن میں سے ولید بن عقبہ سب سے پہلے لشکر لیکر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے،اور مسلمانوں کی امداد کے لئے وہ فوج بھی آگئی جو ”جیش البدال“کے نام سے موسوم ہوئی تھی۔ولید بن عقبہ نے یہ بھی بتایا کہ اور بھی لشکر آرہے ہیں۔یہ خبر سن کر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے جلد بازی میں آگے بڑھ کر بقیہ لشکروں کے آنے سے پہلے رومیوں پر حملہ کر دیا،اور اپنی پشت خالی چھوڑ دی۔باہان اپنے لشکر کے ساتھ اُن کے سامنے سے ہٹ کر دمشق کی طرف پسپا ہو گیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ دشمن کی فوج میں آگے تک گھستے چلے گئے۔اور مرج الصفر(جو واقوصہ اور دمشق کے درمیان واقع ہے)تک پہنچ گئے۔اُس وقت اُن کے ہمراہ ذولاکلاع ،عکرمہ اور ولید بھی تھے۔باہان کی فوجی چوکیوں نے ایک ساتھ ملکر مسلمانوں کے لشکر کو محصور کر لیا۔اور حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت سعید بن خالد کو شہید کردیا۔اب انہیں اپنی غلطی کا اندازہ ہوا،اور وہ پیچھے ہٹ گئے،لیکن حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ اپنی جگہ ڈٹے رہے ،اور مسلمانوں کی مدد کرتے رہے۔یہاں حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ ہزیمت اُٹھا رہے تھے،اور ملک عراق میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فراض میں رومیوں،فارسیوں اور اعرابیوں کو شکست دیکر قتل کر رہے تھے۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ ذوالمرہ تک پیچھے ہٹ چکے تھے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے انہیں واپس بلا لیا۔ہرقل کی جنگی تیاری
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام سپہ سالار اپنے لشکر لیکر مقررہ مقامات تک پہنچ گئے۔سلطنت روم کے حکمراںقیصر ہرقل کو جب مسلمانوں کے لشکروں کی آمد کی اطلاع ملی،تو اُس نے غیر معمولی جنگی تیاری شروع کردی۔اور وہ خود چل کر ”حمص“میں آیا۔اور رومیوں کا ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا۔اُس کے پاس فوج کافی تھی،بلکہ بے اندازہ فوج تھی۔اس لئے اُس نے مسلمانوں کے ہر لشکر سے لڑنے کے لئے الگ الگ لشکر تیار کر کے روانہ کئے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کے لئے اپنے حقیقی بھائی تذارق کونوے ہزار(90,000)کا لشکر دیکر بھیجا۔اور اُس کے پیچھے ایک افسر کو ساقہ پر متعین کیا۔اُس کو بالائی فلسطین میں”ثنیتہ جلق“پر متعین کیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت فلسطین،لبنان ،اور اردن ،ملک شام کا حصہ تھے۔)اور حضرت یزید بن سفیان کے مقابلے پر جرجہ بن توزرا کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ کے مقابلے پر دراقص کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر فیطار بن نسطورا کو ساٹھ ہزار کا لشکر دیکر بھیجا۔یہ دیکھکر تمام سپہ سالاروں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو تمام حالات لکھ بھیجے،اور اگلی ہدایت کا انتظار کرنے لگے۔تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایت کے آنے کے درمیان میں تمام سپہ سالار ایکدوسرے سے خط و کتابت کے ذریعے صلاح مشورہ کر رہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے سب کو یہ مشورہ دیا کہ ایک جگہ جمع ہو جائیں،تو ہمارے لئے زیادہ بہتر رہے گا۔کیونکہ دشمنوں نے ہر سپہ سالار پر بڑے بڑے لشکر مسلط کر دیئے ہیں۔تمام سپہ سالار اِس بات پر متفق ہو گئے کہ ایک جگہ جمع ہوا جائے،لیکن یہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ کہاں جمع ہوا جائے۔اسی دوران خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کاجواب بھی آ گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تمام لشکر جمع ہو کر ایک لشکر ہو جائیں،اور ملکر دشمنوں سے جنگ کریں۔تم اﷲ کے سپاہی ہو،اﷲ تمہارا مدد گار ہے۔اﷲ اُس کو ذلیل کرتا ہے،جو اُس کا انکار کرتا ہے۔تم جیسے(اﷲ کو ماننے والے)لوگ تعداد کی قلت کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتے۔دس ہزار بلکہ اُس سے بھی کہیں زیادہ، اگرگناہوں کے طرفدار بن کر اُٹھیں گے تو وہ دس ہزار سے ضرور مغلوب ہوں جائیں گے۔لہٰذا تم گناہوں سے احتراز کرو ،اور یرموک میں مل کرجنگ کرنے کے لئے جمع ہو جاو¿ ۔تم میں سے ہر سپہ سالار اپنے اپنے لشکر کی امامت کرے ،اور نماز پڑھائے۔رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مسلمانوں کے تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر یرموک میں آکر جمع ہونے لگے۔ہر قل کو جب مسلمان لشکروں کے اجتماع کی خبر ملی تو اُس نے اپنے پادریوں کو حکم دیا کہ تم بھی رومیوں کے ہر لشکر کوایک ایسی جگہ مسلمانوں کے سامنے جمع کرو۔جہاں کافی گنجائش اور وسعت ہو،اور بھاگنے والوں کے لئے راستہ تنگ ہو۔تمہاری فوج کا سپہ سالار تذارق کو مقرر کیا جاتا ہے۔مقدمة الجیش پر جرجہ کو،اور میمنہ اور میسرہ پر دراقص کو متعین کیا جائے،اور سپہ سالار اعظم فیقار کو بنایا جائے۔ میں تمہیں خوش خبری دیتا ہوں کہ باہان تمہارے عقب میں تمہاری مدد کے لئے موجود ہے۔پادریوں نے ہرقل کے حکم کی تعمیل کی،اور یرموک کے قریب ایک بہت بڑی اور وسیع وادی ”واقوصہ “میں تمام روم کے تمام لشکروں کو جمع کردیا۔رومیوں کے لشکر کے سامنے کی وادی نے اُن کے لئے خندق کا کام دیا۔جس کی وجہ سے وہ ایک ناقابل تسخیر وادی بن گئی۔باہان اور اُس کے ساتھیوں کی خواہش تھی کہ رومیوں کے دلوں سے مسلمانوں کی دہشت نکل جائے۔اور وہ اُن کو ہوا سمجھنا چھوڑ دیں۔رومیوں سے طویل جنگ
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام مسلمان سپہ سالار اپنے لشکروں کے ساتھ یرموک میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔جب تمام رومی لشکروں کے سپہ سالار جب اپنے اپنے لشکر لیکر واقوصہ میں پہنچ گئے،تو مسلمان آگے بڑھ کر رومیوں کے لشکر کے مد مقابل پہنچ گئے۔رومیوں کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بول اُٹھے۔مسلمانو!مبارک ہو،اﷲ کی قسم!رومی محصور ہو گئے ہیں،اب ان سے کچھ بن آنا مشکل ہے۔رومیوں کے پیچھے واقوصہ کی گھاٹی تھی،اور سامنے خندق نما گھاٹی تھی،جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت پریشانی ہو تی تھی۔ ماہ صفر المظفر ۳۱ ھجری میں دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے آئے۔دونوں کے درمیان خندق نما گھاٹی تھی،روز جنگ ہوتی ،لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔یہاں تک کہ ماہ ربیع الاول آگیا۔اور یہ پورا مہینہ بھی گذر گیا ،اور جنگ کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔مسلمان سپہ سالاروں نے تمام حالات لکھ کر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجے،اورمزید کمک طلب کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراًحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ حیرہ میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو آدھا لشکر دے کرچھوڑ دو،اور آدھا لشکر لیکر تم جلد سے جلد ملک شام پہنچو۔وہاں تمہاری شدید ضرورت ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا جذبۂ جہاد
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کا حکم ملتے ہی آدھا لشکر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو دیا۔اور آدھا لشکر لیکر ملک شام جانے کی تیاری کرنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ کون ہے جو ہمیں مختصر راستے سے ملک شام پہنچا دے۔حضرت رافع بن عمیرہ طائی آگے بڑھے،اور کہا کہ میں ایسا مختصر راستہ جانتا ہوں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ اتنے بڑے لشکر و اسباب کو لیکر اس راستے کو طے نہیں کر سکیں گے۔اﷲ کی قسم!تنہا سوار بھی اس مشکل اور تکلیف دہ راستے کو طے کرنے کی ہمت نہیں کرتا ہے،کیونکہ اس راستے پر پانچ دن و رات تک کسی مقام پر آپ رضی اﷲ عنہ کو پانی نہیں ملے گا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھ کو یہ راستہ طے کرنا بہت ضروری ہے،کیونکہ خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مجھے جلد سے جلد مسلمانوں کی مدد کے لئے ملک شام پہنچنا ہے۔اور تیرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اُن کی مدد کو نہیں جاو¿ں؟میں نے جان اﷲ کی راہ میں وقف کر دی ہے۔اور اب تُم مجھے اِس راستے سے لیکر جاو¿ گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تمام مجاہدین سے کہہ دو کہ پانچ دنوں کا پانی اپنے ساتھ لیکر چلیں۔اِس کے علاوہ اپنے اونٹوں کو بار بار پانی پلائیں(اونٹ کا ایک معدہ ایسا ہو تا ہے کہ بالکل صاف ستھرا پانی اُس میں محفوظ رہتا ہے،جسے پانی نہ ملنے کی صورت میں وہ استعمال میں لاتا ہے)تمام مسلمانوں نے چھاگلوں،مشکیزوںاور دوسرے برتنوں میں پانی بھر لیا۔اور اونٹوں کو وقفہ وقفہ سے بار بار پانی پلایا،اور اُن کے پاو¿ں پر کپڑے لپیٹ دیئے،تاکہ روزآنہ کے مسلسل سفر سے اُن کے پیر پھٹنے سے محفوظ رہیں۔اور کئی سو زائد اونٹ ساتھ لے لئے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر اِس دشوار گذار سفر پر نکل پڑے۔اور مسلسل چار دنوں کے سفر کے بعدپانچویں روز علمین کے قریب پہنچے تو حضرت رافع نے لوگوں سے کہا:”ذرا دیکھو تو کہیں عوسج کا درخت نظر آرہاہے یا نہیں؟“لوگوں نے دیکھا تو ہر طرف صحراءاور ریت کے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔جب عوسج کا درخت کہیں دکھائی نہیں دیا تو حضرت رافع نے انا ﷲوانا الیہ راجعون پڑھ کر کہا۔”افسوس تم بھی ہلاک ہوئے ،اور مجھے بھی ہلاک کیا۔،میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ راستہ بہت دشوار گذار ہے۔“سب لو گ پیاس سے بے حال ہو رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے جو زائد اونٹ ساتھ لئے ہیں ،انہیں ذبح کرو ،اور ان کے گوشت کھانے کے لئے،اور اُن کے معدوں کے اندر کا پانی پینے کے استعمال میں لاو¿۔سب نے ایسا ہی کیا ،اور گھوڑوں کو بھی پانی پلایا۔اس کے بعد جب اور آگے چلے تو لشکر کے آگے والے مسلمانوں کو عوسج کا درخت نظر آیا،اور انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔حضرت رافع کے کہنے پر اس کی جڑ کے پاس کھودا گیا تو نیچے ایک پانی کا چشمہ تھا۔تمام لشکریوں نے سیر ہو کر پانی پیا ،اور اونٹوں کو بھی پلایا،اور چھاگلوںاور مشکیزوں کو بھی بھر لیا۔اس کے بعد وہ ”سویٰ“ پہنچ گئے۔یہی بنو بہراءکے رہنے کا مقام تھا۔یہ لوگ غفلت میں بیٹھے شراب پی رہے تھے،اور اُن کا ایک مغنی(گانے والا)گا رہا تھا۔مسلمانوں نے ان پر چھاپہ مارا اور ان کے سردار حرقوص بن نعمان بہرائی کو قتل کر کے ان کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔اور اس کے بعد سفر کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر ماہ ربیع الثانی کے آخری دنوں میں مسلمانوں کے لشکر میں یرموک پہنچے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان میں جنگ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب یرموک پہنچے،تو اُسی وقت باہان بھی اپنا لشکر لیکر رومیوں کی مدد کے لئے آیا۔اُس نے اپنی فوج کے آگے آگے آفتاب پرستوں،راہبوں،اور پادریوں کو متعین کیا تھا،کہ وہ لوگ فوج کو جنگ کے لئے اکسائیں،اور ان کے دلوں میں جوش پیدا کریں۔اتفاق سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان کی آمد بیک وقت ہوئی،اور باہان اِس انداز میں آگے بڑھا جیسے میدان اُسی کا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ باہان سے لڑنے لگے،اور دوسرے سپہ سالار اپنے اپنے مقابلے کے رومیوں سے لڑنے لگے۔باہان نے شکست کھائی ،اور رومیوں نے یکے بعد دیگرے ہزیمت اُٹھائی اور اپنی خندق میں گھس گئے۔رومیوں نے باہان کی آمد کو نیک فال تصور کیا تھا،اور مسلمانوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے خوشی ہوئی تھی،اور مسلمان خوب جوش سے لڑے،اوررومی بھی خوب جوش سے لڑے۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے تمام مسلمانوں اور اُن کے سپہ سالاروں کے حوصلے بہت بلند ہو گئے تھے۔ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ مدینہ منورہ میں جمادی الاول میں بیمار پڑ گئے،اور لگ بھگ پندرہ دن بیمار رہنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کا یرموک کی فتح سے دس دن پہلے وصال ہو گیا۔اس لئے اِس جنگ کا ذکر ہم یہیں روک دیتے ہیں،اور انشا ءاﷲخلیفہ دوم حضرت عُمرفاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں جنگ یرموک کے حالات تفصیل سے پیش کریں گے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بارے میں اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں۔کہ والد محترم کی بیماری کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے (۷)سات جمادی الآخر بروزغسل فرمایا،اُس روز بہت سردی تھی۔پس آپ رضی اﷲ عنہ کو بخار آگیا ،اور پندر ہ تک آپ رضی اﷲ بیمار رہے ۔اس عرصہ میں نماز کے لئے بھی باہر تشریف نہیں لاسکے۔آخر کا ر اسی بخار کی وجہ سے (۲۲)جمادی الآخر ۳۱ ھجری میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال ہو گیا۔(تاریخ الخلفائ)حضرت ابو بکر صدیق ایک قسم کے شہید
خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بارے میں امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی موت کا اصل سبب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال تھا۔اُس صدمے سے آپ رضی اﷲ عنہ کا جسم گھلنے لگا ،اور یہی آپ رضی اﷲ عنہ کے وصال کا باعث ہوا۔جلیل القدر تابعی ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ (حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی موت کا ظاہری سبب یہ ہے کہ)آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس کسی نے تحفے کے طور پر خزیرہ(قیمہ جس میں دال ڈالی ہو)بھیجا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اور حضرت حارث بن کلدہ رضی اﷲ عنہ دونوں کھانے میں شریک تھے۔(کھانا کھانے کے دوران)حضرت حارث رضی اﷲ عنہ نے کہا:”اے خلیفة الر سول !ہاتھ روک لیجیئے ،(یعنی اسے نہ کھائیں)اِس میں زہر ہے،اور یہ وہ زہر ہے جس کا اثر ایک سال میں ظاہر ہوتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ دیکھ لیجیئے گا کہ ایک سال کے اندر اندر میرا اور آپ رضی اﷲ عنہ کاانتقال ایک ہی دن ہوگا۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے کھانے سے ہاتھ روک لیا،لیکن زہر اپنا کام کر چکا تھا۔اور یہ دونوںاُسی دن سے بیمار رہنے لگے،اور ایک سال گذرنے کے بعد (اسی زہر کے اثر سے)ایک ہی دن میں دونوں انتقال کر گئے۔(تاریخ الخلفائ)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ مقرر کر دیا تھا
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے وصال کے وقت ایک وصیت لکھوا کر مُہر لگا کر دے دی تھی کہ اسے میرے وصال کے بعد کھولنا۔اور اس میں اپنے بعد کے خلیفہ کے بارے میں وصیت کردی تھی۔اس کے بارے میں ہم تفصیل سے انشاءاﷲ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میںبتائیں گے۔ یہاں مختصراًپیش ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی بیماری کے دوران دریچہ سے سر نکال کر لوگوں سے فرمایا:”اے لو گو!میں نے ایک شخص کو تم پر(خلیفہ)مقرر کیا ہے،کیا تم اِس انتخاب سے راضی ہو؟لوگوں نے بالاتفاق کہا:”اے خلیفة الرسول!ہم بالکل راضی ہیں۔“حضرت علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر کھڑے ہوئے ،اور فرمایا:”یا خلیفة الرسول!وہ شخص اگر حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”بے شک وہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہی ہیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا کفن دفن
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا جس روز وصال ہوا ،اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایاکہ آج کون سا دن ہے؟لوگوں نے عرض کیا:پیر کا دن ہے؛آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: اگر آج رات میرا وصال ہو جائے تو میرے دفن میں کل تک کی تاخیر نہ کرنا۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس جتنی جلدی پہنچ جاو¿ں،اُتنا اچھا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے آخری وقت میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا:”اے بیٹی !میرے اِن دونوں استعمال شدہ کپڑوں کو دھو کر مجھے اِن میں کفن دے دینا،تمہارا باپ کوئی انوکھا شخص نہیں ہے۔اور اچھا یا خراب کفن دینے سے عزت و ذلت وابستہ نہیں ہے۔“وصال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک اور منبر کے درمیان نماز جنازہ پڑھائی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو وصیت فرمائی تھی کہ انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے۔اسی کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلوئے مبارک میں دفن کیا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے سر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے شانے کے برابر رکھا گیا۔(تاریخ الخلفائ)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ دو سال سات مہینے خلافت کے منصب پر فائز رہے۔مسلمانوں میں سب سے زیادہ فہم قرآن
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ قرآن پاک کا علم اور سمجھ عطا فرمائی تھی۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سب سے زیادہ قرآن پاک کا علم رکھتے تھے۔اِسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو نماز میں صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کا ”امام“بنایا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قوم کا امام قرآن پاک کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہونا چاہیئے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس قوم میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ موجود ہوں،اُن کے علاوہ دوسرا امامت نہیں کر سکتا۔اِسی کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ثابت ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ احکام ِ رسالت سے آگاہ تھے۔اِسی لئے بار بار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے اُمور ِ سنت کے معاملے میں آپ رضی اﷲ عنہ سے رجوع کیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ ایسی صورتوں میں ہمیشہ اُن کے سامنے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث پیش فرماتے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کو بکثرت احادیث یاد تھیں ،جنہیں آپ رضی اﷲ عنہ ضرورت کے وقت بیان فرمادیا کرتے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ احادیث کا حافظ اور کون ہو سکتا تھا کہ آغاز رسالت سے وصال مبارک تک آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔اس کے علاوہ آپ رضی اﷲ عنہ کا حافظہ بہت ہی قوی تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ ذکی اور ذی فہم تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ احادیث مروی نہیں ہونے کا ایک سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ بہت کم تابعی حضرات کی آپ رضی اﷲ عنہ سے ملاقات ہو سکی ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے لگ بھگ ڈھائی سال تک ہی آپ رضی اﷲ عنہ زندہ رہے۔قرآن اور احادیث کی طرف رجوع
خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کسی بھی معاملے میں سب سے پہلے قرآن پاک اور پھر احادیث کی طرف رجوع کرتے تھے۔امام بغوی لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے سامنے کوئی معاملہ یا مقدمہ پیش ہوتا تھا تو آپ رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے اس کا حل قرآن پاک میں تلاش فرماتے تھے۔اور قرآن پاک کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔اگر وہاں کوئی صراحت سے نہیں ملتا تھا تواُن احادیث کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے،جو انہیں یاد تھیں۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس معاملے کی حدیث یاد نہیں ہوتی تھی تو صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو جمع فرماتے اور اُن سے حدیث دریافت فرماتے تھے۔اگر کسی صحابی رضی اﷲ عنہ کو اِس مسئلہ کے بارے میں حدیث یاد ہوتی تھی تو وہ بیان فرما دیتے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے مطابق فیصلہ کر دیا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے،اﷲ کا شکر ہے کہ ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں،جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد رکھتے ہیں۔اور اگر اِس مسئلے کے متعلق کوئی صحابی رضی اﷲ عنہ بھی حدیث پیش نہیں کر پاتے تھے، تو آپ رضی اﷲ عنہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کرتے،اور جس فیصلہ پر اتفاق ِ رائے ہوجاتا تھا،اُسی کے مطابق فیصلہ کر دیتے تھے۔جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ”عشرہ¿ مبشرہ“میں سے ہیں۔یعنی وہ دس صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے ہیں،جنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی فرما دیا تھا کہ تم جنتی ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛”جو شخص کسی چیز کا جوڑا اﷲ کے لئے خرچ کرے گانوہ جنت کے دروازوں سے اس طرح پکارا جائے گا۔اے اﷲ کے بندے اِس دروازے سے داخل ہوجا،یہ دروازہ اچھا ہے۔اِسی طرح نمازی شخص نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا۔مجاہد شخص اہل جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا۔صاحب ِ صدقہ شخص صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا۔روزہ دار شخص روزے کے دروازے جس کا نام”ریان“ہے پکارا جائے گا۔“یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !وہ شخص کتنا خوش نصیب ہو گا،جو اِن تمام دروازوں سے پکارا جائے گا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”یقینا!اور اے ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ !مجھے پوری اُمید ہے کہ تم ایسے ہی لوگوں میں سے ہو گے۔“ اگلی کتاب
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ذکر مکمل ہوا۔اب ان شاءاﷲ آپ کی خدمت میں ہم خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ذکر پیش کریں گے ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں