حقوق العباد
مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
حقوق مسلم، سات حقوق دوران حیات، سات حقوق بعد ازوفات، والدین کے ایصال ثواب کی دعا، پڑوسیوں کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، اہل وعیال پر خرچ بھی موجبِ ثواب ہے، رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا ثواب، ناراض رشتہ دار پرخرچ کی فضیلت، مال دار عورت کا غریب شوہر اور بچوں پر خرچ کرنا ، والدین پر شفقت کی نظر ڈالنے کا عظیم ثواب، والدین کے دوستوں سے تعلقات اچھے رکھنا
حقوق مسلم
جو چیز اپنے لئے پسند کرے وہی دوسروں کےلئے بھی پسند کرے[ مشکوٰۃ ۴۲۲]
تواضع سے پیش آئے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۳]
بڑوں کا ادب چھوٹوں پر شفقت کرے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۳]
علماء دین کی قدر کرے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۳]
ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۷]
دو جھگڑنے والوں میں صلح کرائے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۸]
نہ چغلی کرے نہ چغلخور کی بات کا اعتبار کرے
کسی دُنیاوی زنجش کی بنا پر تین دن سے زیادہ قطع تعلق نہ کرے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۷]
کسی کا عیب تلاش نہ کرے۔ [ متفق علیہ]
تہمت کی جگہ سے بچے
سلام میں سبقت کرے۔ [ ابوداؤد ۷۰۶]
مسلمانوں کی حاجت روائی میں کوشش کرے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کے اہل وعیال کی مدد کرے۔ [ اصلاحی نصاب ۴۳۶]
جب کوئی مسلمان بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]
مسلمانوں کے سلام کا جواب دے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]
جب وہ پکارے تو جواب دے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]
جب دعوت دے تو قبول کرے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]
جب وہ چھینکے اور الحمدللہ کہے تو یرحمک اللہ کہے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]
جب وہ مرجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]
جب وہ مشورہ طلب کرے تو اچھا مشورہ۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]
خالہ کا حق بھی ماں کے حق کی طرح ہے۔ [ ترمذی ۲/ ۱۲]
چا کا حق مثل باپ کے ہے۔ [ اصلاحی نصاب ۴۳۲]
بڑے بھائی کا حق مثل باپ کے ہے۔ [ اصلاحی نصاب ۴۳۳]
اولاد کا حق یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے علم دین ولیاقت سکھلائے جب جوان ہوجائے تو اس کا نکاح کردے۔ [ مجمع الزوائد ۸/ ۱۴۹ اصلاحی نصاب ۴۳۳]
اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچانا یہ اپنی ذات کا حق ہے۔
سات حقوق دوران حیات
عظمت:—— ان کا احترام۔ [ الدرالمنثور ۴/ ۱۷۲]
محبت:—— ان سے الفت واُنسیت رکھنا۔ [ الدرالمنثور ۴/ ۱۷۲]
اطاعت:—— ان کی فرماں برداری کرنا۔ [ الدرالمنثور ۴/ ۱۷۱]
خدمت:—— ان کا کام کرنا ان کے کام آنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۱]
فکرِراحت:—— ان کو آرام پہنچانا۔ [ مشکوٰۃ ۴۱۹]
رفع حاجت:—— ان کی ضروریات کو پورا کرنا۔ [ ترغیب ۳/ ۳۱۶]
گاہے گاہے ملاقات وزیارت۔ [ الدرالمنثور ۴/ ۱۷۳]
سات حقوق بعد ازوفات
دعائے مغفرت:—— ان کےلئے اللہ سے معافی اور رحمت کی درخواست کرنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۰]
ایصال ثواب:—— ان کو ایصال ثواب کرنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۰]
اکرام اعزاء واحباب واہل قرابت:—— ان کے رشتہ دار دوست واحباب کی عزت کرنا۔ [ ادب المفرد ۳۱ رقم ۴۱ الدرالمنثور ۴/ ۱۷۴]
اعانت اعزاء احباب واہل قرابت:—— ان کے رشتہ دار دوست احباب کی جس قدر ہوسکے مدد کرنا۔ [ ترمذی ۲/ ۱۲]
ادائے دین وامانت:—— ان کی امانت وقرض ادا کرنا۔ [ الدرالمنثور ۴/ ۱۷۴]
تنفیذ جائز وصیت:—— ان کی جائز وصیت کو نافذ کرنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۰]
گاہ گاہ ان کے قبر کی زیارت کرنا۔ [ الدرالمنثور ۴/ ۱۷۴]
والدین کے ایصال ثواب کی دعا
علامہ عینیؒ نے شرحِ بخاری میں ایک حدیث نقل کی ہے جوشخص ایک مرتبہ یہ دعا پڑھے ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَا لَمِينَ رَبِّ ٱلسَّمَٰوٰتِ وَرَبِّ ٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَلَهُ ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلسَّمَٰوٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ لِلّٰهِ ٱلْحَمْدُ رَبِّ ٱلسَّمَٰوٰتِ وَرَبِّ ٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَلَهُ الْمَظْمَةُ فِیْ ٱلسَّمَٰوٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَلَهُ النُّوْرُ فِیْ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ
اس کے بعد یہ دعا کرے یا اللہ اس کا ثواب میرے والدین کو پہنچادے اس نے والدین کا حق ادا کردیا۔ [ فضائل صدقات ۲۰۶]
پڑوسیوں کے حقوق
امام غزالیؒ نے اربعین میں یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جانتے بھی ہوکہ پڑوسی کا حق کیا ہے۔
اگر وہ پڑوسی تم سے مدد چاہے تو تم اس کی مدد کرو
اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو
اگر وہ محتاج ومفلس ہو تو اس کو کچھ دو
اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو
اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ
اگر اس کو کوئی خوشی حاصل ہو تو اس کو مبارک باد دو
اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کو تسلی دو مثلاً اس کے ہاں کوئی موت ہوجائے تو اس کے گھر جا کر تعزیت کرو
اس کے مکان کے پاس اونچا مکان نہ بناؤ کہ اس کی ہوا وغیرہ رک جائے مگر یہ اس کی اجازت سے ہو
اگر تم پھل وغیرہ خرید وتو تحفہ کے طور پر اس کے یہاں بھی بھجوا دو اور ممکن نہ ہو سکے تو پھر تم اس (پھل وغیرہ) کو گھر میں پوشیدہ طور پر لے آؤ اور اپنے بچوں کو بھی تاکید کرو اس کو لےکر گھر سے باہر نہ نکلیں تاکہ تمہارے پڑوسی کے بچے رنج وافسوس نہ کریں
اور تم اپنی ہانڈی (چولھے) کے دھوئیں سے اس کو تکلیف نہ پہنچاؤ
اور یہ کہ اس ہانڈی میں سے کچھ اس کے یہاں بھی بھجواؤ اور کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اپنے پڑوسی کا حق وہی شخص پہچانتا ہے جس پر اللہ تعالٰی کی رحمت ہوتی ہے۔ [ مظاہرحق ۵/ ۱۱۳]
جب تم گوشت خریدو یا سالن کی ہانڈی پکاؤ تو شور بہ بڑھا دیا کرو اور اس میں سے کچھ نکال کر اپنے پڑوسی کو دے دیا کرو۔ [ کنزل العمال ۱۵/ ۲۸۱]
وہ شخص کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔ [ الترغیب عن الطبرانی ۳/ ۳۵۸]
اگر وہ تمہاری دعوت کرے تو اسے قبول کرو۔ [ کنز۹/ ۲۵۴]
کوئی پڑوسن اپنے پڑوسن کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کے کھر کا ایک ٹکڑاہی کیوں نہ ہو۔ [ بخاری ۲/ ۸۸۹]
اگر وہ ننگا ہو تو اسے کپڑا پہنائے اس کے گھر کا راستہ تنگ نہ کرے اس کے صحن میں نالہ یا کچرا ڈال کر ایذاء نہ دے دیوار یا چھت سے اس کے مکان میں نہ جھانکے اس کی بیوی اور خادمہ سے نگاہیں نیچی رکھے اس کے بچوں کے ساتھ مہربانی شفقت کا معاملہ کرے اور اگر وہ کسی دنیوی یا دینی نقصان کی طرف قدم بڑھا رہا ہو تو اسے روک دے اور صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کرے۔ [ احیاءالعلوم ۲/ ۳۳۷]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اس کے ساتھ اچھا کیا تو یقیناً تم نے اچھا کیا اور جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے برا کیا تو یقیناً تم نے بُرا کیا۔ [ منتخب احادیث ۵۶۷]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے حق کے بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔ [ بخاری ۲/ ۸۸۹]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندوں کے حقوق میں سب سے پہلا معاملہ پڑوسیوں کا پیش ہوگا۔ [ الترغیب ۳/ ۳۵۵]
وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوسکے گا جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ [ مسلم ۱/ ۵۰]
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دے کر بھیجا کہ وہ مسجد کے دروازے پر یہ اعلان کردے کہ چالیس گھر پڑوسی ہیں۔ [ ترغیب ۳/ ۳۵۳]
امام زہریؒ نے چالیس کی تشریح کی ہے کہ صرف ایک ہی جانب کی چالیس گھر مراد نہیں بلکہ چاروں طرف کے چالیس چالیس گھر مراد ہیں۔[ احیاءالعلوم ۲/ ۳۳۶]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں ایک کا دروازہ میرے گھر کے قریب ہے اور دوسرے کا گھر ذرا فاصلہ پر واقع ہے بعض اوقات میرے پاس کوئی چیز ہوتی ہے لیکن اتنی نہیں ہوتی کہ دونوں کےلئے کافی ہو آپ کے نزدیک ان دونوں میں سے کون زیادہ حق دارہے فرمایا وہ شخص جس کا دروازہ تمہارے گھر کے قریب ہے۔ [ بخاری ۲/ ۸۹۰]
کہتے ہیں کہ قیامت کے دن مفلس پڑوسی اپنے مالدار پڑوسی کا داممن پکڑ کر باری تعالٰی سے عرض کرےگا یاللہ اس سے پوچھئے کہ اس نے مجھے اپنے حسن سکوک سے کیوں محروم رکھا۔ [ الترغیب ۳/ ۳۵۹]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پڑوسی تین طرح کے ہیں
ایک وہ جس کا صرف ایک حق ہے
دوسرا وہ جس کے دو حق ہیں
تیسرا وہ جس کے تین حقوق ہیں
مسلمان رشتہ دار پڑوسی کے تین حقوق ہیں پڑوسی کا حق اسلام کا رشتہ رشتہ داری کا حق
مسلمان پڑوسی کے صرف دو حق ہیں حق اسلام اور حق جوار
کافر پڑوسی کا صرف ایک حق ہے حق جوار یعنی پڑوسی ہونے کا حق
[ احیاءالعلوم بحوالۂ بزارب۲/ ۳۳۵]
بُرے پڑوسی سے پناہ مانگنے کی دعا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ جَارِ السُّوٓءِ فِیْ دَارِ الْمُقَامَةِ فَاِنَّ جَارَالْبَادِيَةَ يَتَحَوَّلُ
ترجمہ:—— اے اللہ میں گھر کے بُرے پڑوسی سے پناہ مانگتاہوں۔[ ترغیب ۳/ ۳۵۵]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پاک مسلمان صالح پڑوسی کی وجہ سے سوگھروں کی مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔[ ترغیب ۳/ ۳۶۳]
رشتہ داروں کے حقوق
تیسری ہدایت یہ کی گئی ہے کہ: ”انسان اپنے عزیز واقارت کی مالی مدد کرتا رہے“، یہ بات اگرچہ ” احسان“ کے عمومی مفہوم میں داخل تھی؛ لیکن اہمیت کے پیش نظر اسے الگ سے ذکر کرنا مناسب سمجھا گیا۔ اسلام کی اخلاقی اور معاشرتی تعلیمات میں رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی بڑی تاکید کی گئی ہے، خود قرآن کریم میں متعدد جگہ اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ نصرت وحمایت کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے: وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ
اور رشتہ داروں کو اس کا حق دو۔
گوکہ آیت بالا میں ” حق“ عام ہے، جس میں ہر طرح کے حقوق شامل ہیں؛ لیکن مالی حقوق کی اس باب میں خاص اہمیت ہے؛ اسی لئے اللہ تعالٰی نے جہاں نیکی کے خصوصی اعمال شمار کرائے، تو ان میں رشتہ داروں پر مال خرچ کرنے کو خصوصیت سے ذکر فرمایا، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی۔ [ سورۃ البقرۃ ۱۷۷]
صرف یہی نیکی نہیں کہ اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف کرو؛ لیکن بڑی نیکی تویہ ہے کہ جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور مال کی محبت کے باوجود اسے رشتہ داروں پر خرچ کرے۔
اسی طرح کئی جگہ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے والدین کے بعد متصلاً اہل قرابت کے ساتھا اچھا برتاؤ کرنے کی تاکیدکی گئی، اور ان پر خرچ کرنے کو مال کا ِبہترین مصرف قرار دیا گیا۔
ایک جگہ ارشاد ہوا قُلۡ مَآ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ [ سورۃ البقرۃ ۲۱۵]
آپ فرما دیجئے جو کچھ تم مال خرچ کرو سو ماں باپ کےلئے اور قرابت والوں کےلئے اور مسکین، یتیم اورمسافر کےلئے، اور جو بھی تم نیکی کرتے ہو اللہ تعالٰی کو اس کا علم ہے۔
یہی نہیں؛ بلکہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی سابقہ آسمانی مذاہب میں بھی تاکید کی جاتی رہی ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی کیا گیا، سورۂ بقرہ میں آیت نازل ہوئی
اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ ۟ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ ذِی الۡقُرۡبٰی [ سورۃ البقرۃ ۸۳]
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے یہ قرار لیا کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرنا اور ماں باپ اور کنبہ والوں کے ساتھ احسان کرنا۔
مال خرچ کرنے کی نبوی ترتیب
صحیح حدیث میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ قبیلہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر بنا دیا (یعنی کسی شرط پر اس کی آزادی کو معلق کردیا جائے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی خبر ملی تو آپ نے ان صاحب کو بلاکر پوچھا کہ کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کچھ مال ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”نہیں“ تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مدبر (مقید) غلام کی نیلامی کا اعلان فرمادیا۔ چنانچہ ایک دوسرے صحابی حضرت نعیم ابن عبداللہ العدوی نے اسے ۸۰۰/ درہم میں خرید لیا، اس کے بعد یہ رقم پیغمبر علیہ السلام نے مالک کو دیتے ہوئے ہدایت فرمائی: إِبْدَأَبِنَفْسِكَ فَإِنْ فَضُلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضُلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِيْ قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهٰكَذَا وَهٰكَذا، يَقُوْلُ: فَبَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِيْنِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ [ مسلم ۱/ ۱۲۲ رقم: ۹۹۷]
سب سے پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو، پھر اگر بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرو، پھر جو مال بچے تو رشتہ داروں پر خرچ کرو، اور رشتہ داروں پر خرچ کے بعد جو بچ جائے تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے سامنے اور دائیں بائیں خرچ کرنے کا حکم دیا۔ (یعنی دیگر جائز ضرورتوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرو)
اس واضح روایت سے معلوم ہوگیا کہ مال کے خرچ میں کیا ترتیب رہنی چاہئے؟ لیکن یہ یاد رہے کہ اپنی ذات یا گھر والوں پر خرچ میں کفایت شعاری پسندیدہ ہے، اور اسراف وفضول خرچی اور تعیش شریعت میں پسند نہیں ہے۔ خود حدیث بالا کی پر داز یہ بتلا رہی ہے کہ آدمی کو قناعت پسند ہونا چاہئے؛ کیوں کہ اگر قناعت پسندی نہ ہوگی تو مال کتناہی زائد ہو وہ دوسروں کےلئے بچ ہی نہیں پائے گا، اور ہمیشہ آدمی چٹور پن اور تفریحات کی ادھیڑبن ہی لگا رہے گا۔
اہل وعیال پر خرچ بھی موجبِ ثواب ہے
انسان کے مال کے اولین مستحق اس کے گھر والے ہیں، ان پر خرچ کا ثواب بھی صدقہ کے برابر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ المُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقُ عَلیٰ أَهْلِهٖ نَفْقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهٗ صَدَقَةٌ [ مسلم ۱/ ۳۲۴ رقم: ۱۰۰۲]
لہذا بچوں پر خرچ کرتے ہوئے یہ نیت رہنی چاہئے کہ اللہ تعالٰی نے ہم پر جو ذمہ داری عائد کی ہے اس کو ادا کررہے ہیں تو یقیناً اس خرچ پر صدقہ کا ثواب ملے گا۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اَفْضَلُ دِيْنَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهٗ عَلیٰ عَيَالِهٖ وَ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهٗ عَلیٰ دَابَّتِهٖ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهٗ عَلیٰ أَصْحَابِهٖ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ مسلم ۱/ ۳۲۲ رقم: ۹۹۴]
خرچ میں سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے بچوں پر خرچ کرتاہے اور وہ دینار ہے جو جہاد میں اپنی سواری پر خرچ کرتاہے، اور وہ دینار ہے جو سفر جہاد میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتاہے۔
اس روایت کے راوی حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ پیغمبر علیہ السلام نے بچوں پر خرچ کو سب سے ذکر فرمایا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ ثواب کا مستحق کون ہوگا جو چھوٹے بچوں کی ضرورتوں پر خرچ کرے؛ تاکہ انہیں سوال کی ذلت سے بچائے یا اللہ تعالٰی اس کے ذریعہ ان بچوں کو نفع پہنچائے یا مستغنی فرما دے۔ [ مسلم شریف ۱/ ۳۲۲ حدیث: ۹۹۴، المتجر الرابح ۳۵]
مطلب یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی ضرورتوں کو اگر باپ پورا نہیں کرے گا تو اور کون کرےگا؟ اگر باپ توجہ نہ دے تو ظاہر ہے کہ بچے بھیک مانگنے پر مجبور ہوں گے یا بھوکے ختم ہوجائیں گے، اس لئے شرعاً باپ پر یہ فرض ہے کہ وہ ان بچوں کی خبر گیری کرے، اور فرض کا ثواب یقیناً نفلی عطایا سے زیادہ ہی ہوتاہے، اسی بنا پر پیغمبر علیہ والسلام نے ایک روایت میں متعدد مصارف خیر ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: أَعْظَمُهَا أَجْراً الَّذِیْ أَنْفَقْتَهٗ عَلیٰ أَهْلِهٖ [ مسلم شریف ۱/ ۳۲۲ رقم: ۹۹۵]
سب سے زیادہ ثواب اس خرچ میں ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا۔
اور ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد عالی منقول ہے: أَوَّلُ مَايُوْضَعُ فِيْ مِيْزَانِ الْعَيْدِ نَفْقَتُهٗ عَلیٰ أَهْلِهٖ [ الطبرانی فی الاوسط الترغیب والترھیب ۲/ ۶۸۹ رقم: ۳۰۴۳]
آخرت میں نیکیوں کے پلے میں سب سے پہلے انسان کے اپنے گھر والوں پر خرچ کے عمل کو رکھا جائے گا۔
رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا ثواب
عام طور پر یہ سمجھا جاتاہے کہ مسجد، مدرسہ یا دیگر لوگوں پر صدقہ کرنا ہی کارِ ثواب ہے، حالانکہ قرآن وحدیث سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اپنے قریبی اعزاء پر ضرورت کے وقت خرچ کرنا بھی صدقہ کا ثواب رکھتاہے، بلکہ اس کا ثواب عام صدقات سے دو گنا ملتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلیٰ ذِیْ قَرَابَةٍ يُضَعِّفُ أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ [ الطبرانی ۸/ ۲۰۶، المتجرالرابح ۳۴۸]
رشتہ دار پر صدقہ اس کے ثواب کو دو گنا کر دیتا ہے۔
اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَلصَّدَقَةُ عَلَی الْمِسْكِيْنِ صَدَقَةٌ وَعَلیٰ ذِیْ الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ [ المتجرالربح ۳۴۸]
غیر رشتہ دار مسکین پر صدقہ ایک صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین پر صدقہ ڈبل صدقہ ہے، ایک عام صدقہ دوسرے صلہ رحمی۔
حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے دورِ نبوت میں ایک باندی کو آزاد کیا تھا، جب اس بات کا تذکرہ پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لَوْأَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ [ بخاری ۱/ ۳۵۳ رقم ۲۵۹۲، مسلم ۱/ ۳۲۳ رقم: ۹۹۹]
اگر تم اپنے ماموؤں کو یہ باندی دے دیتی تو اس میں تمہارے لئے ثواب زیادہ ہوتا۔
خادم رسول سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ کے بڑے مال دار شخص تھے، اور ان کا سب سے پسندیدہ مال ”بیرحاء“ (کھجور کا ایک بڑا باغ) تھا، یہ مسجد نبوی کے بالکل قریب تھا اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کبھی کبھی وہاں شریف لے جاتے اور اس کنویں کا بہترین پانی نوش جان فرماتے تھے، جب یہ آیت: لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ [ سورۂ آل عمران ۹۲] (یعنی اس وقت تک تم نیکی میں کمال حاصل نہیں کرسکتے، جب تک کہ اپنے پسندیدہ مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو) نازل ہوئی، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور میرا سب سے پسندیدہ مال یہ باغ (بیرحاء) ہے، میں اسے ثواب کی امید پر اللہ کےلئے صدقہ کرنا چاہتاہوں، آپ اسے قبول فرمالیں اور جہاں مناسب ہو صرف فرمائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے بہت مسرت کا اظہار فرمایا اور حضرت ابوطلحہ کو مبارک با دویتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ”واہ واہ! بہت نفع کا سودا ہے، بہت نفع کا سوداہے“۔ پھر فرمایا کہ میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فوراً حکم کی تعمیل فرمائی اور وہ پورا باغ اپنے چچا زاد بھائیوں اور دیگر قریبی عزیزوں میں تقسیم فرمادیا۔ [ بخاری ۱/ ۱۹۷ حدیث ۱۴۶۱]
اس سے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں پر خرچ کرنا بسا اوقات عام صدقہ سے بھی افضل ہوتاہے، اسی لئے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس کا مشورہ دیا، جس کی آں موصوف نے فوراً تعمیل فرمائی، فَجَزَاهُمُ اللّٰهُ تَعَالیٰ خَيْرَالْجَزَاءِ۔
ناراض رشتہ دار پرخرچ کی فضیلت
خاص طور پر ایسا صدقہ جو کسی ایسے رشتہ دار پر کیا جائے جس سے دل نہ ملتا ہو؛ بلکہ وہ رشتہ دار برابر درپئے آزار رہتا ہو، پھر بھی محض رشتہ داری کی بنیاد پر اسے عطا کیا جائے اور اس پر نوازش جاری رکھی جائے، تو اس صدقہ کو صدقہ کو حدیث میں ”افضل ترین صدقہ“ کہا گیا ہے۔
ارشاد نبوی ہے: أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ: اَلصَّدَقَةُ عَلیٰ ذِيْ الرَّحِمِ الْكَاشِحِ [ الطبرانی ۳۵/ ۸۰، وغیرہ، المتجرالرابح ۳۴۸]
سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو دل میں کدورت والے رشتہ پر کیا جائے۔
احادیث وسیر کی کتابوں میں مذکورہے کہ جب ”واقعۂ افک“ پیش آیا اور رام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر منافقین نے طوفان بدتمیزی مچایا، تو ایک سادہ لوح مہاجر بدری صحابی حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ بھی پیروپیگنڈہ سے متأثر ہوگئے، یہ ایک غریب صحابی تھے، اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے، اس رشتہ کی بنا پرحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ان کی گاہے گاہے مالی مدد فرماتے رہتے تھے، جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ علم ہوا وہ بھی افک میں دلچسپی لینے والوں میں ہیں، تو آپ کو شدید ناگواری ہوئی اور ان کی مالی مدد کا سلسلہ بند فرما دیا، اور قسم کھائی کہ اب ان پر کچھ خرچ نہ کروں گا، تو اس پر قرآن کریم یہ آیت تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی: وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡکُمۡ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤۡتُوۡۤا اُولِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۪ۖ وَ لۡیَعۡفُوۡا وَ لۡیَصۡفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ [ سورۃ النور ۲۲]
اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
جب یہ آیت اتری تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بلاتامل فوراً بول اٹھے: ”اللہ کی قسم اے ہمارے رب! ہم یہی چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں بخش دیں“ اور پھر حضرت مسطح کا وظیفہ نہ صرف یہ کہ جاری کیا؛ بلکہ پہلے سے دو گنا کردیا۔ (روح المعانی ۱۸/ ۱۸۵) رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
◆☜ اس سے معلوم ہواکہ معمولی کشیدگیوں کی بنا پر رشتہ داریوں میں ہدیہ کا لین دین بند نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ اس سلسلہ کو بہر حال جاری رکھنا چاہئے۔
مال دار عورت کا غریب شوہر اور بچوں پر خرچ کرنا
اسی طرح اگر کسی عورت کے پاس مال ہو اور اس کا شوہر اور بچے غریب ہوں تو ایسی عورت کے صدقہ کا بہترین مصرف اس کا شوہر اور بچے ہی ہوتے ہیں۔
صحیح روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں میں وعظ فرمایا اور انہیں صدقہ خیرات کی ترغیب دی، جس سے متأثر ہوکر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پیغمبر علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس زیورات ہیں اور میں انہیں اللہ کے تاستہ میں صدقہ کرنا چاہتی ہوں، اور میرے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (جو ایک غریب شخص ہیں) کہتے ہیں کہ تمہارے صدقہ کے ہم زیادہ مستحق ہیں، تو میں کیا کروں؟ تو پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا: صَدَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ زَوْجُكَ وَوَلَدُكَ اَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهٖ عَلَيْهِمْ [ بخاری ۱/ ۱۹۷ رقم: ۱۴۶۲]
ابن مسعود نے سچ کہا تمہارے صدقہ کے سب سے زیادہ مستحق تمہارے شوہر اور بچے ہیں۔
تنبیہ:—— اس صدقہ سے فرض زکوٰۃ مراد نہیں؛ بلکہ نفلی صدقہ مراد ہے؛ کیوں کہ فرض زکوٰۃ شوہر یا بچوں کو دینے سے ادانہیں ہوتی۔ [ حاشیہ بخاری شریف ۱/ ۱۹۷]
اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی میں خاص حکمت یہ ہے کہ اسی میں ساری دنیا کا امن وامان منحصر ہے، اگر رشتہ داروں میں باہم میل ملاپ اور انسیت ومحبت کے جذبات بر قرار رہیں تو فتنہ وفساد جڑ نہیں پکڑ سکتا، عموماً فتنوں کے پھیلاؤ میں اہل قرابت کی باہمی رنجشیں بڑا بھیانک کردار ادا کرتی ہیں؛ اس لئے اسلام نے اس فتنہ کو جڑ سے مٹانے کی تلقین فرمائی ہے، جو اسلام کے دین فطرت اور انسانیت نواز مذہب ہونے کی کھلی دلیل ہے۔
صلہ رحمی کا حکم
رحم مادر... سارے رشتوں کی اصل بنیاد ہے، اس لئے اس بنیاد کو صحیح سالم رکھنا انسانیت کی عظیم خدمت ہے۔ اسی وجہ سے قرآن وحدیث میں ”صلہ رحمی“ کو ایک قابل تعریف اور باعت فضیلت صفت کی حیثیت سے متعارف کرایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں قابل رشک جنتی لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا: وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَ يَخَافُوۡنَ سُوۡۤءَ الۡحِسَابِ [ سورۃ الرعد ۲۱]
اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں، اور اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں۔
اور احادیث شریفہ میں بکثرت صلہ رحمی کے فضائل وترغیبات وارد ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُّبْسَطَ لَهٗ فِيْ رِزْقِهٖ وَأَنْ يُّنْسَأَلَهٗ فِیْ أَجَلِهٖ فَلِيَصِلْ رَحِمَه ٗ [ بخاری ۱/ ۲۷۷ رقم: ۲۰۶۷، ومسلم: ۲/ ۳۱۵ رقم: ۲۵۵۷]
جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اسے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے۔
صلہ رحمی کرنے پر جن دو بشارتوں کا حدیث میں ذکر ہواہے یہ دونوں باتیں فطری طور پر انسان کو پسند ہوتی ہیں، آدمی یہ چاہتاہے کہ اسے روزی میں وسعت ملے، اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی عمر میں برکت ہو، تو ان مقاصد کے حصول کےلئے ”صلہ رحمی “ کی شرط کو پورا کرنے کا اہتمام ضروری ہے، ورنہ محض نری تمنا سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔
ایک دوسری روایت میں پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے مزیدوضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا: تَعَلَّمُوْا أَنْسَابَكُمْ مَاتَصِلُوْنَ بِهٖ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِيْ الأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِيْ الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِيْ الْأَثَرِ [ سنن الترمذی ۲/ ۱۹]
اپنے نسبی تعلقات کے بارے میں معلومات رکھو، تاکہ اس کے ذریعہ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرسکو؛ کیوں کہ صلہ رحمی خاندانوں میں محبت کا، مال میں اضافہ کا اور عمر میں برکت کا سبب ہے۔
اس روایت میں عمر اور رزق میں برکت کے ساتھ خاندانوں میں محبت کا بھی وعدہ کیا گیا ہے، جو بجائے خود ایک عظیم سعادت ہے، اور پر سکون زندگی کی ضمانت ہے، اور صلہ رحمی سے عمر میں برکت کی جو بات فرمائی گئی اس کی وضاحت رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے میں یہ ہے کہ ہر انسان کےلئے دو مدتیں ہوتی ہیں، ایک پیدائش سے موت تک، دوسرے موت سے لے کر قیامت تک (پس اگر انسان صلہ رحمی کرنے والا ہوتاہے تو اس کی دنیوی زندگی بڑھادی جاتی ہے، اور برزخی زندگی میں اس کے بقدر کمی کردی جاتی ہے، اور) اگر قطع رحمی کرنے والا فاجر ہوتاہے تو اس کی دنیوی عمر تو گھٹ جاتی ہے، جب کہ برزخی عمر بڑھادی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ [ الترغیب والترہیب للیافعی ۱۱۳]
اور برکت کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس کی عمر فضول کاموں میں ضائع نہیں ہوتی؛ بلکہ کم عمری کے باوجود اس سے ایسے ایسے کام انجام پاتے ہیں جس کےلئے عموماً بڑی بڑی عمریں درکار ہوتی ہیں، تو یہ بھی برکت کی ہی ایک صورت ہے۔
علاوہ ازیں پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے صلہ رحمی کو بہترین اور افضل اعمال میں شمار فرمایا ہے، چنانچہ ایک صحابیہ دُرّۃ بنت ابی لہبؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ: مَنْ خَيْرُالنَّاسِ؟ (یعنی سب سے اچھا آدمی کون ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَتْقَاهُمْ لِلّٰهِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ وَاٰمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ [ الترغیب للیافعی ۱۱۴، مسنداحمد ۶/ ۴۳۲]
سب سے اچھا انسان وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور ان میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا اور سب سے زیادہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والا ہو۔
نیز ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی کو جنت سے قریب کرنے والے اور جہنم سے دور کرنے والے مبارک اعمال میں شامل فرمایا ہے۔
اور ایک ضعیف روایت کے الفاظ یہ ہیں: اَلْبِرُّ وَالصِّلَةُ وَحُسْنُ الْجِوَارِ عِمَارَ ةٌ فِی الدُّنْيَا وَزِيَادَةٌ فِيْ الأَعْمَارِ [ مکارم الأخلاق:۱۵۹]
حسن سلوک، صلہ رحمی اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ دنیا کی آبادی اور عمروں میں اضافہ کا سبب ہیں۔
اور بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ صلہ رحمی من جملہ ان اعمال میں سے ہے جن سے انسان بری موت سے محفوظ رہتا ہے، چنانچہ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يُّمَدَّلَهٗ فِيْ عُمْرِهٖ وَيُوَسَّعَ لَهٗ فِيْ رِزْقِهٖ وَيُدْفَعَ عَنْهُ مِيْتَةَ السُّوْءِ فَلِيَتَّقِ اللّٰهَ وَلِيَصِلْ رَحِمَهٗ [ مسندالبزار والحاکم ۴/ ۱۶۰ بحوالہ الترغیب والترھیب مکمل ۵۴۰ رقم: ۳۸۲۱]
جو اس بات سے خوش ہوکہ اس کی عمر میں اضافہ اور رزق میں وسعت ہو اور وہ بری موت سے محفوظ رہے، تو اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرتا رہے اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرے۔
صحیح روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سفر میں اونٹنی پر تشریف لے جارہے تھے، اچانک ایک دیہاتی شخص سامنے آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑلی اور سوال کرنے لگاکہ ”اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے ایسی باتیں بتائیے جو مجھے جنت قریب اور جہنم سے دور کردیں“، اس کایہ اندازِ گفتگو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ: ”اس شخص کو خاص توفیق عطا ہوئی ہے“ (کہ اس نے اتنا معقول سوال کیا) پھر آپ نے اس دیہاتی سے کہا کہ اپنا سوال دہراؤ، چنانچہ اس نے پھر وہی درخواست دہرائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھیراؤ
نماز قائم کرو
زکوٰۃ ادا کرو
صلہ رحمی کرو۔
یہی وہ اعمال ہیں جو جنت سے قریب اور جہنم سے دور کرنے والے ہیں پھر فرمایا: ” اچھا! اب اونٹنی کی لگام چھوڑ دو “ جب وہ دیہاتی وہاں سے چلا گیا تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ سے فرمایا کہ: إِنْ تَمَسَّكَ بِمَا أَمَرْتُهٗ بِهٖ دَخَلَ الْجَنَّةَ [ البخاری ۲/ ۸۸۵ رقم: ۵۹۸۳، مسلم ۲/ ۳۱۵ رقم: ۱۸، الترغیب: ۵۴۱، المتجرالرابح ۳۴۳]
اگر یہ شخص میرے بتائے ہوئے حکم پر مضبوطی سے عامل رہا تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔
والدین پر شفقت کی نظر ڈالنے کا عظیم ثواب
بعض ضعیف روایات میں سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَامِنْ رَخُلٍ بَارٍّيَنْظُرُ وَالِدَيْهِ أَوْ وَالِدَتَهٗ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلاَّ كَتَبَ اللّٰهُ تِلْكَ النَّظْرَةَ حَجَّةً مُتَقَبَّلَةً مَبْرُوْرَةً جو فرماں بردار شخص اپنے والدین یا اپنی والدہ پر شفقت کی ایک نظر ڈالتا ہے تو اللہ تعالٰی اس نظر کے عوض اس کےلئے ایک حج مقبول ومبرور کا ثواب لکھ دیتے ہیں۔
یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ: ”اے اللہ کے رسول! کیا اگر وہ لڑکا ایک دن میں سو مرتبہ والدین پر نظر ڈالے تب بھی یہ ثواب ملےگا“ ؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ أَكْبَرُ مِنْ ذٰلِكَ۔یعنی اللہ تعالٰی اس سے زیادہ ثواب دینے پر قادر ہے۔[ مکارم الأخلاق ۱۶۲]
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”جو باپ بیٹے پر نظر ڈالے اور بیٹا اپنے عمل سے اس کے دل کو خوش کردے تو بیٹے کو باپ کی ہر نظر کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملےگا، چاہے دن میں تین سو ساٹھ مرتبہ یہ بات پیش آئے“۔
[ مکارم الاخلاق ۱۶۳]
والدین کی قبر کی زیارت کا ثواب
ایک ضعیف روایت میں یہ بھی واردہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ زَارَ قَبْرَوَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً غُفِرَلَهٗ وَكُتِبَ بَرًّا [ مجمع الزوائد ۳/ ۵۹، مکارم الأخلاق ۱۷۹]
اس لئے انسان کو نہ صرف زندگی میں والدین کو خوش رکھنا چاہئے اور ان کی خدمت کرنی چاہئے؛ بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی ایصال ثواب اور ان کی قبروں کی زیارت کا اہتمام رکھنا چاہئے؛ کیوں کہ بعض روایات سے ثابت ہے کہ جب کوئی عزیز قریب میت کی قبر پر جاتاہے تو اس میت کو اس کی آمد سے ایسی ہی مسرت ہوتی ہے جیسے زندگی میں ملاقات سے خوشی ہوتی ہے۔ [ مستفاد: تفسیرابن کثیرمکمل ۱۰۳۳، درتفسیرآیت:اِنَّكَ لَاتُسْمِعُ الْمَوْتٰی، الروم ۵۳]
والدین کے دوستوں سے تعلقات اچھے رکھنا
صلہ رحمی کا ایک جزویہ بھی ہے کہ والدین کی وفات کے بعد ان کے ملنے جلنے والوں سے تعلقات اچھے رکھے جائیں۔ حضرت مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ:”اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسی نیکی باقی ہے جسے میں والدین کی وفات کے بعد ان کے حق میں اختیار کروں“ تو نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: نَعَمْ الصَّلاَةُ عَلَيْهِمَا وَالاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْقَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيْقِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِيْ لأَتُوْصَلُ إِلاَّبِهِمَا [ ابوداؤد ۲/ ۶۹۹حدیث: ۵۱۴۲، الترغیب والترھیب للیافعی ۱۰۸ الاحادیث المنتخبۃ ۲۸۴، رقم: ۱۰۷۲]
جی ہاں! ان کی وفات کے بعد درج ذیل نیکیاں کی جاسکتی ہیں
اُن کےلئے دعاء خیر کرنا
ان کےلئے مغفرت طلب کرنا
انہوں نے اگر کوئی عہد کر رکھا ہے تو ان کی وفات کے بعد اسے پورا کرنا
ان کے دوستوں کا اکرام کرنا
اور صلہ رحمی کرنا جوان کے تو سط کے بغیر نہیں ہوسکتی۔
اور ایک روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ أَنْ يَّصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّأَبِيْهِ [ مسلم ۲/ ۳۱۴ رقم: ۲۵۵۲، ترمذی ۲/ ۱۲]
نیکی پر نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے ملنے جلنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مکہ معظّمہ جارہے تھے راستہ میں ایک دیہاتی شخص سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے اس کا بہت اکرام فرمایا اور اسے اپنا عمامہ اتار کر پہنا دیا، اور ساتھ میں حمار کی سواری اسے ہدیہ کردی، تو آپ کے بعض رفقاء سفر نے عرض کیا کہ یہ دیہاتی لوگ ہیں، تھوڑے بہت ہدیہ پر بھی راضی ہوجاتے ہیں، آپ نے اسے نہ صرف عمامہ عطا کیا؛ بلکہ اپنی وہ سواری بھی دے دی جس پر سوار ہوکر آپ دل بہلاتے تھے، تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس دیہاتی شخص کا باپ میرے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دوستوں میں سے تھا، اور میں نے نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ سنا ہے کہ: ”بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے“۔ [ مسلم شریف ۲/ ۳۱۴]
نیز ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا إِحْفَظْ وُدَّأَبِيْكَ وَلاَ تَقْطَعْهُ فَيُطْفِئُ اللّٰهُ نُوْرَكَ [ رواہ الطبرانی باسناد حسن، مجمع الزوائد ۸/ ۱۴۷]
اپنے والد کے دوستوں سے تعلقات بنائے رکھو اور ان سے مت بگاڑو، ورنہ اللہ تعالٰی تمہارے نور کو بجھادیں گے۔
درج بالا روایات سے معلوم ہواکہ کہ جن لوگوں سے خاندانی روابط آباء واجداد کے زمانہ سے چلے آتے ہیں، بچوں کو نہ صرف ان سے واقفیت رہنی چاہئے؛ بلکہ ان روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہئے، یہ بھی آباء واجداد کے ساتھ صلہ رحمی میں داخل ہے۔
رشتہ داروں کی زیارت وملاقات
شریعت کا ایک اہم حکم یہ بھی ہے کہ آدمی موقع بموقع رشتہ داروں سے ملاقات کا قصداً اہتمام رکھے۔ نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے: صِلُوْا أَرْحَامَكُمْ وَلَوْ بِالسَّلاَمِ [ الترغیب والترھیب للیافعی ۱۰۹]
اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو اگرچہ ان کو سلام کر کے ہی کیوں نہ ہو؟
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: مَامِنْ خُطْوَةٍ أَحَبَّ إِلَی اللّٰهِ مِنْ خُطْوَةٍ إِلٰی صَلاَةٍ أَوْ فَرِيْضَةٍ وَخُطْوَةٍ إِلٰی ذِيْ الْقَرَابَةِ [ الترغیب والترھیب للیافعی ۱۱۴]
کوئی بھی قدم اللہ تعالٰی کو اس قدم سے زیادہ پسند نہیں جو نماز یا کسی فرض کی ادائیگی یا رشتہ دار کی ملاقات کےلئے اٹھا یا جائے۔
اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اسلام میں رشتہ داری کے تعلق کو مضبوط رکھنے پر کس قدرت زور دیا گیا ہے؛ اور مضبوطی ملنے جلنے اور آنے جانے کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی؛ لہٰذا بالخصوص آج کل کے دور میں گاہے بگاہے غمی یا خوشی کے موقع پر محض اس نیت سے شرکت کرنی چاہئے کہ اعزہ سے یکجا ملاقات کا موقع مل جائے گا، یہ بھی ایک ثواب کا کام ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کار خیر میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِين۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں