39 سیرت سید الانبیاء ﷺ
وصال مبارک۔ قسط نمبر 2
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
آخری خطبہ، انصار کا خیال رکھنا، یہود و نصاریٰ نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا، آخری امامت، پیر کے دن صبح، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مطمئن ہو ئے، آخری وقت مسواک، مدینہ منورہ میں قیامت صغریٰ، اللہ تعالیٰ بے انتہا محبت کرتا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر قیامت گزر گئی، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ، غسل اور تجہیز و تکفین کے بارے میں وصیت، سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل، تدفین
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریر نہیں لکھوائی لیکن اشارہ فرمایا تھا کہ میرے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ ہوں گے۔ پہلا اشارہ نماز پڑھانے کا حکم دینا تھا۔ اس کے علاوہ صحیحین ( صحیح بخاری اور مسلم بخاری) کی حدیث بالکل واضح اشارہ ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس بیماری کی حالت میں جس میں وصال ہوا یہ فرمایا کہ میرا ارادہ یہ ہوا تھا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے ( حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ) کو بلانے کے لئے کسی کو بھیج دوں اور اُن کو اپنا جانشین بنا دوں تا کہ کہنے والے کچھ نہ کہہ سکیںاور تمنا کرنے والے تمنا نہ کر سکیں۔ لیکن پھر میں نے ارادہ بد ل دیا۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وصیت کی کیا ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی یہ نہیں چاہے گا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی خلیفہ ہو اور اہل ایمان بھی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور کی خلافت قبول نہیں کریں گے۔ ‘‘اور ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ’’اللہ کی پناہ !کہ لوگ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اختلاف کریں۔‘‘ امام بخاری نے کتاب الاحکام میں لکھا با استخلاف اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشارہ خلافت کی طرف ہے۔
آخری خطبہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے لگ بھگ تین دنوں پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آخری خطبہ دیا۔ احادیث کی کتابوں میں اور سیرت کی کتابوں میں بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی خطبے مذکور ہیں۔ لیکن ان میں تسلسل نہیںہے۔ اور کون سا خطبہ کب دیا گیا یہ نہیں بتایا گیا ہے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر نے بڑی عرق ریزی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ تحریر کیا ہے اور تسلسل بھی قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کی خدمت میں ہم اسے پیش کر رہے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض کی شدت میں کمی محسوس ہوئی اور کچھ آرام محسوس ہوا تو ارشاد فرمایا : ’’ سات مشکیں پانی میرے سر پر ڈالو۔ شاید کچھ سکون محسوس ہو اور میں لوگوں میں وصیت کر سکوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سات مشکیں پانی ڈالا گیا۔ اس طرح غسل سے کچھ سکون محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سہارے مسجد نبوی میں تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ تھا۔ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔ اور صحیح مسلم میں ہے کہ یہ خطبہ وصال سے پانچ رات پہلے دیا تھا۔ یعنی چار دن پہلے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اس حساب سے یہ خطبہ جمعرات کے روز ارشاد فرمایا۔
انصار کا خیال رکھنا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے بعد منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمہ تن گوش تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا فرمائی اس کے بعد اصحابِ اُحد کا ذکر فرمایا اور ان کے لئے دعا ئے مغفرت فرمائی۔ پھر فرمایا : ’’مہاجرین بڑھیں گے اور انصار وہیں رہیں گے۔‘‘ ( اس کا معنی کچھ علمائے کرام نے مالی حالت کا لیا ہے اور کچھ علمائے کرام نے تعداد کا لیا ہے) اس کے بعد مہاجرین سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’دیکھو !انصار نے مجھے ٹھکانہ دیا ہے اُن میں کا جو محسن اور نیک ہو اس کے ساتھ احسان کرنا اور ان میں جو غلطی کر گزرے تو تم در گزر کرنا۔‘‘
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے احسانات کاصلہ صرف اللہ تعالیٰ دے سکتا ہے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اختیار دیا کہ وہ دنیا کی نعمتوں کو اختیار کرے یا اللہ تعالیٰ کے پاس جو نعمتیں ہیں یعنی آخرت کو اختیار کرے تو اُس بندہ نے اللہ تعالیٰ کے پاس کی نعمتوں یعنی آخرت کو اختیار کر لیا۔ ‘‘حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ چونکہ سب سے زیادہ علم والے تھے۔ اس لئے سمجھ گئے کہ اس بند ہ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو بکرصد یق رضی اللہ عنہ! اپنے آپ پر قابو رکھو۔‘‘ اس کے بعد فرمایا: ’’مسجد کی طرف کھلنے والے سب دروازوں کو بند کر دو۔ صرف ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رہنے دو۔ جان و مال ، محبت و رفاقت کے اعتبار سے سب سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے بڑھ کر میر اکوئی محسن نہیں ہے۔ جس جس نے بھی میرے ساتھ کوئی احسان کیا ہے۔ میں نے اس صلہ چکا دیا ہے۔سوائے ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے۔اُن کے احسانات کا صلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے جو وہ قیامت کے دن دے گا۔ اگر میں کسی کو اپنا خلیل ( دوست) بناتا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ لیکن اُن سے اسلامی اخوت ہے جس میںوہ سب سے افضل اور برتر ہیں۔‘‘
حضرت اسامہ اور ان کے والد سرداری کے اہل ہیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ لشکر اُسامہ کو جلدی روانہ کر دو اور مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ ( امام بن سعد طبقات ابن سعد میں لکھتے ہیں یہ منافقین تھے) اسامہ رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری ( امارت) اور سرداری پر اعتراض کر رہے ہیںکہ تجربہ کاروں کے ہوتے ہوئے نوجوان کو یہ منصب کیوں دیا گیا؟ آگاہ ہو جائو! ان ہی لوگوں نے اس سے پہلے اس کے والد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی امارت اور سرداری پر بھی اعتراض کیا تھا۔ اللہ کی قسم! اس کا باپ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی سرداری کا اہل تھا اور بیٹا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی سرداری کا اہل ہے اور میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔ ‘‘ا
یہود و نصاریٰ نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے یہود و نصاریٰ( بنی اسرائیل اور عیسائیوں ) کے بارے میں فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر ! انہوں نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اپنی امت کو آگاہ کرنا تھا اور خبر دار کرنا تھا کہ یہود و نصاریٰ کس طرح گمراہ ہو ئے تھے۔ اسی لئے تم اس سے بچنے کی کوشش کرنا۔
ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے لوگو!مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم لوگ اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے خوف زدہ ہو۔ کیا کوئی نبی علیہ السلام مجھ سے پہلے ہمیشہ اپنی امت میں رہے ہیں جو میں ہمیشہ رہوں گا؟ آگاہ ہو جائو کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا ہوں اور آگاہ ہو جائو۔ تم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے ہو اور ہر ایک کو اللہ کے پاس لوٹنا ہے۔ میں تمام مسلمانوں کو وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین اولین کے ساتھ خیر اور بھلائی کا معاملہ کریںاور مہاجرین اولین کو وصیت کرتا ہوں کہ تقویٰ اور عملِ صالح پر قائم رہیں اور اے مسلمانو!میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ خیر اور حسن سلوک کا معاملہ کرنا ۔ انصار نے اسلام کو ٹھکانہ دیا اور مکانوں ، زمینوں ، باغوں اور پھلوں میں تم کو اپنا شریک بنایا اور فقر و فاقہ کے باوجود تم کو اپنے نفسوں ( جانوں ) پر ترجیح دی ۔‘‘اور سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آگاہ ہو جائو! میں تم سے پہلے جا رہا ہوں اور تم بھی مجھ سے آکر ملو گے۔ حوضِ کوثر پر ملنے کا وعدہ ہے۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترآئے اور حجرۂ عائشہ میں تشریف لے گئے۔
آخری امامت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کوشش کے باوجود اس کے بعد نماز پڑھانے نہ آسکے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ نماز پڑھائیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔ درمیان میںحضور صلی اللہ علیہ وسلم سنیچر یا اتوار کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سہارے مسجد میں تشریف لائے ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے بائیں جانب بیٹھ گئے اور جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تلاوت رکی تھی وہیں سے شروع کی اور باقی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو پڑھائی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے لگے اور باقی نماز ی اُن کی اقتدا ء کرنے لگے۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لئے دعا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد مسجد نبوی میں نماز پڑھنے نہیں آسکے اور بستر سے لگ گئے۔ اتوار کے دن طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو مقامِ جرف پر لشکر جمع کر رہے تھے ، خبر ملتے ہی تیزی سے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ طبیعت اتنی زیادہ خراب ہو چکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جھک کر پیشانی مبارک کو بوسہ دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے پھر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’میں سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرما رہے ہیں۔‘‘ اس کے بعد حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ مقامِ جرف پر واپس آگئے۔
پیر کے دن صبح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غمزدہ اور بجھے بجھے تھے۔ مدینہ منورہ میں جیسے سناٹا چھایا ہو اتھا۔ لوگوں نے ہنسنا مسکرانا قہقہے لگانا اور زور سے بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ہر کوئی ملاقات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے بارے میں پوچھتا تھا۔ سب لوگ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے آتے تھے اور امید بھری نظروں سے حجرہ عائشہ کے دروازے کے پردے کو تکتے رہتے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دلوں کے چین صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے باہر آجائیں ۔ پھر نماز کا وقت ہو جاتا اور نماز پڑھنے لگتے اور پھر اگلی نماز سے پہلے امید بھری نظروں سے حجرہ عائشہ کے دروازے کو تکنے لگتے۔ اس طرح تیسرے دن پیر کی صبح ہوئی اور فجر کی نماز سے پہلے سب کی امید بھری نظریں اسی طرف اٹھ رہی تھیں جس طرف سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تھے۔ آخر کار فجر کی نماز کا وقت ہو گیا او ر صفیں لگنے لگیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانی شروع کی کہ اچانک ان کی اورتمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی امیدیں پوری ہو گئیں اور جس روشن اور چمکتے ہوئے چہرہ مبارک کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں تھیں نماز کے دوران وہ اچانک سامنے آگیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ عائشہ کا پردہ ہٹایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز کا مشاہدہ فرمانے لگے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جب ہم مسلمان حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیر کے دن صبح فجر کی نماز ادا کر رہے تھے تو اچانک ہم سب چونک اٹھے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ عائشہ کا پردہ اٹھا کر مسلمانوں کا مشاہدہ فرما رہے تھے۔ جب کہ وہ نماز کی صفوں میں تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور تبسم کی حد تک ہنسے۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تا کہ صف میں جا ملیں ۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاید نماز کے لئے آنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں اپنی نماز توڑنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز جاری رکھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں چلے گئے اور پردہ لٹکا دیا۔‘‘ صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اتنا حسین اور اتنا روشن اور چمک دار دکھائی دے رہا تھا جیسے مصحف شریف کا ورق ہو۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مطمئن ہو ئے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کو سکون اور اطمینان دیا اور وہ مطمئن ہو گئے اور خوش ہوئے کہ پچھلے کئی دنوں کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت آج اچھی محسوس ہو رہی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فجر کی نماز سے فارغ ہو نے کے بعد سیدھے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اپنی بیٹی اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( پچھلے کئی دنوں کے مقابلے میں ) اب سکون ہے اور جو کرب اور بے چینی دکھائی دیتی تھی وہ نہیں ہے۔ چونکہ یہ دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دو بیویوں میں اس بیوی کی باری کا دن تھا جو مدینہ منورہ سے ایک کوس کے فاصلے پر مقامِ’’ سخ ‘‘میں رہتی تھی۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل سے اچھی حالت میں صبح کی ہے۔ اور آج میری ایک بیوی حبیبہ بنت خارجہ کی باری کا دن ہے جو سنح میں رہتی ہے۔ اگر اجازت ہو تو وہاں ہو آئوں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہا ں چلے جائو۔‘‘ اجازت لے کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ باہر آئے تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم منتظر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت فی الحال اچھی ہے اور میں سنح جا رہا ہوں۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مطمئن ہو گئے اور اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔
آخری وقت مسواک
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت اچھی لگ رہی تھی یہ دیکھ کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مطمئن ہو کر اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گود میں رکھا ہوا تھا اور آپ رضی اللہ عنہا معوذ تین ( سورہ فلق اور سور ناس) پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں کہ اسی درمیان میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں میں تازی مسواک لے کر آئے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کے مجھ پر انعامات میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے حجرے ( کمرے یا گھر) میںمیری باری کے دن اور اس حالت میں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ (یوں سمجھ لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لعاب ِ دہن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب ِ دہن سے ملا دیا تھا۔ ہو ا یوں کہ میرے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے ۔ ان کے ہاتھ میں تازی مسواک تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے لے لوں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں میں سر ِ مبارک ہلایا۔ پھر میں نے عرض کیا: ’’کیا اسے نرم کر دوں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ہاں میں سرِ مبارک ہلایا۔ پس میں نے اسے چبا کر نرم کر دیا۔ ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو انہوں نے مسواک کی) صحیح بخاری کی یہ حدیث ابھی جاری ہے۔ صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب اچھی طرح مسواک کی۔
مدینہ منورہ میں قیامت صغریٰ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گود میں سر رکھے لیٹے ہوئے تھے ۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت اچھی دیکھی تو مطمئن ہو کر اپنے اپنے گھر چلے گئے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک کوس دور سنح میں اپنے گھر گئے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب اچھی طرح مسواک کی تھی اور لیٹے ہوئے تھے۔ چاشت کا وقت گزر رہا تھا اور زوال کی آمد آمد تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پھر بہت تیزی سے خراب ہونے لگی۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو آگے بڑھاتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’( مسواک کرنے کے کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبعیت خراب ہونے لگی اور ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنا دستِ مبارک ڈال کرپانی میں بھگوتے تھے اور اپنے چہرہ مبارک پر پھیر لیتے تھے اور فرماتے تھے : ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور موت کی تکلیف بہت سخت ہے۔‘‘ اور دستِ مبارک اوپر اٹھا کر فرماتے اللھم الرفیق الاعلیٰ ۔‘‘ ( صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں ہے اُم المومنین فرماتی ہیں) میں معوذ تین پڑھ پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پھونکنے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک پانی میں بھگا کر چہرہ مبارک پر پھیرتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور موت کی تکلیف بہت سخت ہے۔اللھم الرفیق الاعلیٰ ‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک نیچے گر گیا اور گردن دُھلک گئی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، تمام انسانوں کے سردار، تمام انبیاء کے سردار، تمام مخلوقات کے رسول ، اللہ تعالیٰ کے محبوب اپنے خالق اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ رحمت میں لوٹ گئے۔ بے شک ہم اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ بے شک ہم سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ بے شک ہم سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ صبح تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سکون اور اطمینان کا سانس لیا تھا۔ لیکن انہیں نہیں معلوم تھا کہ چند گھنٹوں پر اُن پر قیامت صغریٰ آنے والی ہے او ر قیامت صغریٰ آگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
اللہ تعالیٰ بے انتہا محبت کرتا ہے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ بے انتہا محبت کرتا ہے ،بے انتہا محبت کرتا ہے، بے انتہا محبت کرتا ہے۔ اتنی محبت کرتا ہے کہ اس کائنات میں کسی نے کسی سے اتنی محبت نہیں کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اپنی محبت کا اظہار فرما ئے۔ اس کے لئے دنیا تخلیق فرمائی اور اس میں انسان کو بسایا اور اس کے لئے زندگی کی ہر چیز مہیا فرمائی اور ہزاروں برسوں انسانوں کو اپنے نبیوں اور رسولوں اور کتابوں کے ذریعے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتا رہا اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار فرماتا رہا۔ ہزاروں برسوں تک انسانوں کو بتاتا رہا کہ میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے پاس بھیجنے والا ہوں اور میں اس سے اتنی اور اتنی اور اتنی محبت کرتا ہوں ۔ اور اس کے ذریعے میں اپنے دین اسلام کو مکمل کروں گا۔ آخر کار ہزاروں برسوں بعد بہترین انسانوں ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) کے درمیان بھیجا اور اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی پہچان کرائی اور تیئس 23برسوں تک اللہ تعالیٰ ( قرآن پاک کے ذریعے) انسانوں کو بتاتا رہا کہ وہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پہچان کراتے رہے۔ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کام بہت ہی خوبی سے مکمل کر لیااور اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو بتا دیا کہ وہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتا ہے تو ترسٹھ63برسوں کی جدائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر قیامت گزر گئی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں بلا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں چلے گئے۔ یہ خبر بجلی کی طرح اچانک پورے مدینہ منورہ میں پھیل گئی۔ مدینہ منورہ میں’’ قیامت صغریٰ‘‘ آگئی۔ جو بھی سنتا تھا ہکا بکا رہ جاتا تھا۔ پھر روتا ہوا حجرہ عائشہ کی طرف بھاگ پڑتا تھا۔ ہر کسی کا رخ مسجد نبوی( مسجد نبوی سے متصل حجرۂ عائشہ تھا جہاں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں وہی حجرہ عائشہ تھا) کی طرف تھا۔ کسی کو کچھ ہوش نہیں تھا۔ عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تو جو گزر رہی تھی وہ گزر رہی تھی ۔ خود بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر قیامت گزررہی تھی۔ حضرت عثمان غنی ذی النورین کا یہ حال تھا کہ شدت ِ غم کی وجہ سے سکتہ ہو گیا تھا۔ نہ کسی سے کچھ بات کر رہے تھے اور نہ ہی کسی کو کوئی جواب دے رہے تھے۔ بس دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ایک ٹک ایک طرف دیکھے جا رہے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ حال تھا کہ زارو قطار روتے جا رہے تھے ۔ روتے روتے بے ہوش ہو جا تے اور جب ہوش آتا پھر رونے لگتے اور روتے روتے پھر بے ہوش ہو جاتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کیفیت بہت ہی خطر ناک تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر حجرۂ عائشہ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ فرما رہے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ بلند آواز سے فرما رہے تھے : ’’ منافقین کا گما ن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرگز انتقال نہیں ہوا ہے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کے پاس گئے ہیں۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر اللہ تعالیٰ کے پاس گئے تھے اور واپس آگئے تھے۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ضرور واپس آئیں گے اور منافقوں کا قلع قمع کریں گے۔ خبر دار اگر کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے تو اس کی گردن اڑا دوں گا۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت غصے میں تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کے چہر ہ پر بہت جلال تھا۔ کسی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو کچھ کہے اور اندر حجرۂ عائشہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام امہات المومنین اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی بغیر آواز کے رو رہی تھیں۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہوش و حواس اڑ گئے تھے اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا ہر کوئی حیران اور پریشان تھا۔ وصال کی خبر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ملی تو آپ رضی اللہ عنہ فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر مدینہ منورہ تیزی سے پہنچے اور مسجد نبوی کے باہر گھوڑے سے اتر کر تیزی سے حجرہ ٔ عائشہ میں داخل ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترِ مبارک کے اطراف امہات المومنین اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ سوائے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سب نے منہ ڈھک لیا اور پردہ کر لیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے چادر ہٹائی اور پیشانی مبارک پر بوسہ لیا۔ آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا: ’’ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں۔ اللہ کی قسم !اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ موت کا مزہ نہیں چکھائے گا۔ جو موت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لکھی گئی تھی وہ آچکی ہے‘‘ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ حجرۂ عائشہ سے باہر آئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کاندھوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: ’’ عمر ہوش میں آئو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں تھوڑا بدلائو ہوا انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تو کچھ نہیں کہا لیکن تلوار تانے اسی طرح کھڑے رہے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے رہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بارے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں یہ تبدیلی ہوئی کہ آپ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ لیکن چہرے پر جلال ویسا ہی رہا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ منبر کے پاس آئے اور بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی تو سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس کے بعد فرمایا: ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو وہ جان لے کہ بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اسے موت نہیں آسکتی اور اگر کوئی شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آچکی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (ترجمہ) ’’ اور نہیں ہیں محمد مگر اللہ کے ایک رسول ۔ جن سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آجائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو جائیں تو کیا تم دین اسلام سے واپس پھر جائو گے اور جو شخص اسلام سے پھرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کو ذرّہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچاپائے گا اور اللہ تعالیٰ جلد ہی شکر کرنے والوں کو انعام دے گا۔‘‘ ( سورہ آل عمران آیت نمبر 144) اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آنے والی ہے اور سب لوگ بھی مرنیوالے ہیں۔ سب چیز فنا ہو نے والی ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات باقی رہے گی۔ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ قیامت کے دن سب کو ان کے اعمال کا پورا پورا اجر دیا جائے گا۔‘‘ اس کے بعد آگے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر دراز کی اور ان کو باقی رکھا۔ یہاں تک کہ اللہ کے دین ( اسلام ) کو قائم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم ( قرآن پاک) کو نافذ کر دیا اور اللہ کے حکم کو ظاہر کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے لئے جہاد کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک سیدھے اور صاف راستہ پر چھوڑ کر گئے ہیں۔ اب جو ہلاک اور گمراہ ہو گا وہ حق واضح ہونے کے بعد گمراہ ہو گا۔ پس اللہ تعالیٰ جس کا رب ہے تو وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آسکتی اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تووہ جان لے کہ انہیں موت آ چکی ہے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک اللہ کا دین قائم و دائم رہے گا اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس شخص کا مدد گار ہے جواس کے دین کی مدد کرے اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کو عزت اور غلبہ دینے والا ہے۔ اللہ کی کتاب ہمارے درمیان موجود ہے اور وہی نورِ ہدایت اور دنوں کی شفا ہے۔ اسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راستہ بتلایا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حلال اور حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے۔ اللہ کی قسم !ہمیں اس کی قطعی پرواہ نہیں ہے جو ہم پر لشکر لے کر حملہ کرے۔ بے شک! ابھی بھی تلواریں ہمارے ہاتھوںمیں ہیں اور وہ اللہ کے دشمنوں پر تنی ہوئی ہیں اور اللہ کی قسم !ہم اللہ کے دشمنوں سے اب بھی اسی طرح جہاد کریں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ مل کر کیا کرتے تھے۔ پس دشمن خوب سمجھ لے اور اپنی جان پر ظلم نہ کرے۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوش و حواس میں واپس آئے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے ایک دھماکہ ثابت ہوئی۔ جس سے ان کے اعصاب منتشر ہو گئے تھے اور وہ ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔ کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا ایسے کٹھن اور صبر آزما لمحات میں صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی واحد ہستی تھی جو ہوش و حواس میں تھے اور ثابت قدم رہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (حجرہ عائشہ سے ) باہر نکلے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ لوگوں سے کچھ فرما رہے تھے۔ انہوںنے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ !بیٹھ جائو۔‘‘ لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ( بیٹھنے ) سے انکار کر دیا توحضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ منبر کی طرف گئے اور لوگ انہیں چھوڑ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ جو تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ یہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آچکی ہے اور جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو وہ یہ جان لے اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (ترجمہ)’’ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے ایک رسول ہیں۔ اُن سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں تو اگر اُن کو موت آجائے یا شہید ہو جائیں توکیا تم اسلام سے الٹے پھر جائو گے اور جو اسلام سے الٹے پھر جائے گا تو وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور جلد ہی اللہ تعالیٰ شکر اداکرنے والوں کو ثواب عطا فرمائے گا۔ ‘‘(سورہ آل عمران آیت نمبر144) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم! ایسا لگتا تھا جیسے ہملوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو آپ رضی اللہ عنہ سے سیکھ کر سب لوگ اس آیت کی تلاوت کرنے لگے اور کوئی شخص ایسا نہ رہا جو اس آیت کی تلاوت نہ کر رہا ہو۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں : ’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم !مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اس آیت کو پہلے سنا ہی نہیں تھا۔ ( جب کہ اکثر تلاوت کرتے تھے) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا تو میں ڈر گیا اور میری دونوں ٹانگیں کانپنے لگیں یہاں تک کہ دھڑام سے زمین پر گر گیا اور مجھے یقین آگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔‘‘
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ثابت قدم رہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنی خوبی سے سمجھایا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حقیقت کا ادراک ہو گیا اور ہر کوئی آپ رضی اللہ عنہ کا احسان ماننے لگا۔ جب ہر کسی کو یقین ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں جا چکے ہیں تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ مشورہ کرنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب کسے بنایا جائے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو کسی نہ کسی کو اپنا نائب ضرور بناکر جاتے تھے۔ کافی غور و خوض کرنے کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے متفق ہو کر یہ فیصلہ کیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا یا جائے۔ سب کا اس پر اتفاق ہو گیا تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا لیا۔ اس بیعت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ شامل نہ ہو سکے۔ کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے میں مصروف تھے۔ بہر حال کچھ عرصہ بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔
غسل اور تجہیز و تکفین کے بارے میں وصیت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے پہلے ہی غسل اور تجہیز و تکفین کے بارے میں وصیت فرما دی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے شدت اختیار کی تو ہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون غسل دے گا؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میرے اہل بیت کے قریب ترین مرد مجھے غسل دیں گے۔ ان کے ساتھ بہت زیادہ تعداد میں وہ فرشتے ہوں گے جو تم کو دیکھتے ہوں گے ۔ مگر تم ان کو نہیں دیکھتے ہوں گے۔ وہ بھی غسل دیں گے۔ ‘‘پھر ہم نے دریافت کیا: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے ہوگی؟یا کون نماز پڑھائے گا؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب تم غسل دے کر فارغ ہو جانااور خوشبو لگا کر کفن پہنا دینا اور میرے تخت پر لٹا کر میری قبرکے کنارے رکھ دینا ۔ پھر تم سب کچھ دیر کے لئے باہر چلے جانا ۔کیوں کہ سب سے پہلے جبرئیل علیہ السلام نماز پڑھیں گے ۔ پھر میکائیل علیہ السلام ، پھر اسرافیل علیہ السلام اور پھر ملک الموت فرشتوں کے لشکر کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ اس کے بعد تم سب ٹولیاں بنا کر آنا اور تنہا تنہا نماز پڑھنا۔‘‘ پھر ہم نے دریافت کیا: ’’ کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارے گا ؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اہل بیت اتاریں گے اور ان کے ساتھ فرشتے ہوں گے۔ ‘‘
سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی تیاری اہلِ بیت حضرات کر رہے تھے ۔ اس سلسلے میں وہ آپس میں مشورہ کر نے لگے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح غسل دیا جائے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے : ’’ اللہ کی قسم !ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اتار کر غسل دیں یا نہیں کپڑوں میں غسل دیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب پر غنودگی طاری کر دی اور ہر شخص اپنی تھوڑی کو اپنے سینے پر ڈالے ہوئے تھا۔ اس کے بعد حجرے کے کونے سے کسی نے کہا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے؟ اس نے کہا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہی کپڑوں میں غسل دو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر موجود ہیں۔‘‘ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے لگے تو منادی نے ان کے اندر سے پکارا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں کے ساتھ غسل دو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا۔‘‘ اور فرمایا: ’’میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصال سے پہلے بھی پاکیزہ تھے اور وصال کے بعد بھی پاکیزہ رہے۔‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ غسل دے رہے تھے اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں بیٹے حضرت فضل بن عباس اور حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہم کروٹیں بدلتے تھے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ( لشکر لے کر واپس آگئے تھے) اور حضرت شقران رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے۔
قبر ِ مبارک کی کھدائی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے بعد تین کپڑوں کا کفن پہنایا گیا۔ جس میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔ دفن کرنے کے بارے میں سوال پیدا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں دفن کیا جائے۔ مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مختلف رائے دینے لگے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ انبیائے کرام علیہم السلام کو وہیں دفن کیا جاتا ہے جہاں اُن کی روح قبض ہوتی ہے۔‘‘ اس لئے جس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر تھا اسی جگہ قبر کھودنا طئے ہوا۔ پھر یہ سوال اٹھا کہ قبر کیسی کھودی جائے۔ مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم نے مکہ مکرمہ کے دستور کے مطابق’’ بغلی قبر‘‘ کا مشورہ دیا اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ منورہ کے دستور کے مطابق ’’لحد‘‘ کھودنے کا مشورہ دیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بغلی قبر کھودتے تھے اور حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ لحد کھودتے تھے۔ یہ طے ہوا کہ دونوں کو بلایا جائے جو پہلے آئے گا وہ قبر کھودے گا۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ پہلے آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لحد والی قبر کھودی گئی۔ بعد میں مٹی ڈالنے کے بعد کوہان کی شکل دی گئی۔
نمازِ جنازہ بغیر امام کے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے کنارے رکھ دیا گیا۔ لوگوں نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نماز جنازہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ لوگوں کا ایک ایک گروہ جائے اور تکبیر کہے پھر درود پڑھے اور دعا پڑھ کر باہر آجائے۔ پھر دوسرا گروہ جائے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ کفن دینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے کنارے رکھ دیا گیا۔ ایک ایک گروہ حجرۂ عائشہ میں آتا تھا اور تنہا تنہا نماز پڑھ کر باہر واپس چلا جاتا تھا۔ کوئی امامت نہیں کرتا تھا اور الگ الگ بغیر امام کے نماز پڑھ کر واپس آجاتے تھے۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو مردوں کو پہلے حکم دیا گیا اور انہوں نے بغیر امام کے ٹولیاں بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی۔ ا سکے بعد عورتوں اور بچوں نے نماز پڑھی اور نماز پڑھنے کے لئے کوئی امام نہیں تھا۔
رسول اللہ ﷺ پر درودا ور سلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ بغیر امام کے پڑھی گئی۔ قاضی عیاض مالکی اندلسی اپنی کتاب الشفا میں لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی گئی ہے اور یہی اکثر علمائے کرام کا مسلک ہے اور امام شافعی نے بھی اپنی کتاب ’’ الام ‘‘میں لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پرھی گئی ہے۔ لیکن کچھ علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی ہے اور لوگ گروہ در گروہ حجرۂ عائشہ میں داخل ہوتے تھے اور درو د اورسلام اور دعا پڑھ کر واپس آجاتے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تخت پر لٹا دیا گیا تو کہا گیا کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت نماز میں نہ کرے۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وصال سے پہلے بھی اور وصال کے بعد بھی تم سب کے امام ہیں۔ اسی لئے لوگ جماعت در جماعت بن کر داخل ہو تے تھے اور صف در صف ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام پڑھتے تھے اور ان کا تکبیر کہنے والا کوئی امام نہیں ہوتا تھا۔ امام محمد بن سعد آگے لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک جماعت کے ساتھ حجرہ ٔ عائشہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر یہ پڑھا: ‘‘سلام ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔ اے اللہ تعالیٰ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب کچھ پورا پورا ہم تک پہنچا دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اُمت کی خیر خواہی کی ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کر دیا اور اسلام کا بول بالا ہوا۔ اے اللہ تعالیٰ! ہم کو اُن لوگوں میں سے بنا جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کا اتباع کیا اور ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( میدان محشر اور جنت میں ) جمع کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو پہچانیں اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں پر بڑے مہربان ہیں۔ اس درود اور سلام اور دعا پر سب آمین آمین کہتے تھے۔
تدفین
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ اور درود اور سلام پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں اتارا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ، ان کے دونوں بیٹے حضرت فضل بن عباس اور حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبرمیں اتارا اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ حجرہ میں سے پھاوڑے سے مٹی سرکانے کی آواز سے ہم نے اندازہ لگا یا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا جا رہا ہے۔ ‘‘حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ( لگ بھگ دس سال کی عمر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم بنے اور لگ بھگ گیارہ سال تک ساتھ رہے اور خدمت کرتے رہے ) فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض نے شدت اختیار کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو گئے اور جب ہوش میں آئے تو سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ہائے میرے ابا جان کی تکلیف !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارے اباجان کو آج کے بعد تکلیف نہیں ہوگی۔‘‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ اے ابا جان! رب ِ کریم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول فرمائی۔ ابا جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو جنت الفردوس میں قیام پذیر ہیں۔ ابا جان !میں اس غم کی خبر جبرئیل علیہ السلام کو سناتی ہوں۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا جا چکا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ( حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا: ’’ تمہارے دلوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالنا کیسے برداشت کیا۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر احسان
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک کے حالات مکمل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر تو اتنا وسیع ہے کہ ہم لاکھوں صفحات بھر کر بھی ذکر کریں تو مکمل نہیں ہوگا۔ بلکہ ادھورا پن محسوس ہوگا۔ اس لئے وصال تک کے حالات کا ذکر کر کے ہم یہیں پر ختم کر تے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب خاتم النبیّن صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا اور ایمان کی دولت سے نوازا اور’’ امت ِ وسط ‘‘میں پیدا فرما یا اوراللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ہم تک اسلام کو پہنچانے کے لئے بہت سی تکلیفیں اٹھائیں اس کے باوجود اپنی جدو جہد اور کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو نافذ کر دیا۔ اپنے آخری وقت تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسی کوشش اور فکر میں رہے کہ دنیا کے تمام انسان دوزخ سے بچ جائیں اور جنت میں چلے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر استغفار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور فرمایاکہ کچھ رات عبادت کریں اور کچھ رات آرام بھی کریں۔ اب ہم اُمتیوں کا فرض ہے کہ ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں اور اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق گزاریں۔ ہم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر کام میں اتباع ( پیروی ، نقل) کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک عمل کو سمجھیں اور اس پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کوشش میں کامیاب کرے۔ اے اللہ تعالیٰ ! تُوسب کا مالک اور حاکم ہے۔ ہماری پیشانیوں کے بال پکڑ کر ہمیں برائی سے روک دے اور نیکی کے راستے پر چلا ۔ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ آمین
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال تک کے حالات مکمل ہوئے ،لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر مکمل نہیں ہوا ہے ۔سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر شروع سے ہو رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا ۔اِس دنیا میں انسان کے آنے کے ساتھ ہی اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر بھی آیا ۔انسان اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہا اور اﷲ تعالیٰ اپنے ’’آخری رسول‘‘ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے کرتا رہا ۔اُن پر نازل ہوئی کتابوں میں سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے اوصاف بیان فرماتا رہااور انہیں حکم دیتا رہا کہ اپنی اپنی اُمتوں کے سامنے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر کرتے رہیں اور اوصاف بیان کرتے رہیں۔ہر نبی علیہ السلام نے اپنی اپنی اُمت کے سامنے ’’خاتم النبین ‘‘صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اوصاف اتنے زیادہ بیان فرمائے کہ اُن کی اُمتیں ’’وہ آخری نبی ‘‘ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی اولاد سے زیادہ پہچاننے لگیں ۔یہاں تک کہ ’’ آخری رسول‘‘جو تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے ’’سردار‘‘ ہیں وہ اِس دنیا میں تشریف لائے ۔اُن پر اﷲ تعالیٰ نے اپنی ’’سب سے عظیم الشان ‘‘کتاب ’’قرآن پاک ‘‘نازل فرمائی اور اس کتاب میں بھی جگہ جگہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر فرمایا۔اِس کے ساتھ ساتھ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا بھی ذکر فرمایا اور اُن کے حالات بھی بیان فرمائے۔ساتھ ہی ساتھ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو وہ خصوصیات عطا فرمائیں جو تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو نہیں عطا ہوئیں تھیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں