38 سیرت سید الانبیاء ﷺ
وصال مبارک۔ قسط نمبر 1
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
خطبہ غدیر خم، وصال کی طرف اشارہ، اللہ تعالیٰ سے ملنے کی تیاری، ماہِ رمضان میں ہی اندازہ ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اختیار دیا، اﷲ تعالیٰ کا فرمان :’’ہم راضی کر لیں گے ‘‘، ملک الموت اجازت لے کر حاضر ہوئے، اللہ تعالیٰ ملاقات کا مشتاق ہے، مرض ( بیماری ) کی شروعات، بیماری میں خطبہ، دنیا کی محبت کا ڈر، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں
خطبہ غدیر خم
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں حج مکمل کر کے مدینہ منورہ کے لئے واپس روانہ ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ساتھ میں تھے۔ راستے میں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو یمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھے۔ ان کی شکایت سامنے آئی۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم’’ غدیر خم‘‘ کے تالاب پر پہنچ چکے تھے اور پڑائو ڈالنے کا حکم دے دیا تھا ۔ اس مقام پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا۔ جو ’’خطبہ غدیر خم ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ۔ اس کے بعد فرمایا: ’’ اے لوگو! میں بھی ایک انسان ہوں اور ممکن ہے اللہ کا فرشتہ ( ملک الموت) جلد آجائے اور مجھے اس کا پیغام قبول کرنا پڑے۔ میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ ایک اللہ کی کتاب جس میں ہدایت اور روشنی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں۔ میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘ امام مسلم نے یہ خطبہ مختصر میں ذکر کیا ہے۔ لیکن علامہ ابن کثیر نے تفصیل سے پیش کیا ہے۔ حضر ت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے واپس لوٹے تو غدیر خم پر اترے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہاں ایک سائبان لگایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد اور بھی بہت سی باتیں فرمائیں۔ پھر فرمایا: ’’ مجھے ( حضرت علی کے بارے میں ) یوں بتایا گیا ہے اور میں نے جواب دیا ہے۔ میں تم میں دو گراں قدر چیزیں ایک اللہ کتاب( قرآن پاک) اور دوسرے میرے اہل ِ بیت چھوڑے جا رہا ہوں۔ پس دیکھو تم ان دونوں کے بارے میں میری کیسے نیابت کرتے ہو اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گی۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر آجائیں گے۔ ‘‘پھر فرمایا: ’’ اللہ میرا مولی ہے اور میں ہر مومن کا ولی ہوں۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’جسے میں محبوب ہوں ، یہ اس کا ولی ہے۔ اے اللہ !جو اس سے محبت کرے تُو اس سے محبت کر اور جو اس سے عداوت رکھے تُو اس سے عداوت رکھ۔ ‘‘
مدینہ منورہ واپسی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے انصار اور مہاجرین کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے اور دوسرے قبائل کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ ذی الحجہ 10 ھجری کے آخری دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے اور ذو الحلفیہ میں پڑائو ڈال دیا اور رات وہیں گزاری۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہونا پسند نہیں فرماتے تھے۔ صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ جب مدینہ منورہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مبارک پڑی تو فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ حکومت اور تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے پروردگار کے لئے سجدہ کرتے ہوئے اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد اور نصرت کی اور سب گروہوں کو اس نے تنہا شکست دی۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت معرّ س کے راستے سے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔
وصال کی طرف اشارہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے دوران ہی اپنے وصال کی طرف اشارہ کر دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ النصر کے نزول سے اشارہ مل گیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ سورہ اذا جآئَ نصر اللہ والفتح ‘‘( حج کے دوران) ایامِ تشریق میں نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ یہ حج الوداعی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناقہ قصوا کو لانے کا حکم دیا۔ جسے کجاوہ ڈال کر لایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس میں یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہار ادین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔ ( سورہ المائدہ آیت نمبر3) تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روپڑے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : ’’ آپ رضی اللہ عنہ کیوں رو رہے ہیں؟ ‘‘ انہوں نے فرمایا : ’’ ہر کمال کے بعد کمی ہوتی ہے۔‘‘ گویا آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا احساس ہو گیا تھا اور اسی حج کے دوران آگے چل کر منیٰ میں رمی جمارکے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے وصال کی طرف اشارہ کر دیا تھا اور فرمایا تھا : ’’مجھ سے حج کے مناسک سیکھ لو ۔ شاید میں اس سال کے بعد حج نہ کرسکوں۔‘‘
اللہ تعالیٰ سے ملنے کی تیاری
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے ذی الحجہ 10 ہجری کے آخری دنوں میں مدینہ منورہ واپس آئے اور چند دنوں بعد محرم الحرام 11 ہجری شروع ہو گیا۔ حجتہ الوداع سے واپسی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت ، تسبیح، تمحید اور امت کے لئے توبہ اور استغفار میں گزرنے لگا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ النصر میں اپنی ملاقات کی طرف اشارہ دے دیا تھا : ( ترجمہ) ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آجائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھیں کہ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو اب اللہ کی تسبیح ، تمحید اور ( امت کے لئے ) استغفار میں مشغول ہو جائو۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑی توجہ فرمانے والا ہے۔‘‘ ( سورہ النصر مکمل سورہ ) یعنی جب فتح و نصرت آچکی جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا اور کفر اور شرک کا سر کچل دیا گیا اور اسلام و توحید کو سر بلندی حاصل ہو گئی اور حق کو باطل کے مقابلہ میں فتح مبین حاصل ہو گئی اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام دنیا والوں تک پہنچا دیا گیا اور دین مکمل ہو گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجنے کا جو مقصد تھا وہ پورا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کام خوب اچھی طرح سے مکمل کر دیا ہے تو اب اللہ تعالیٰ سے ملنے کی تیاری کریں۔ اللہ کے گھر کی زیارت توکر چکے اب اللہ تعالیٰ کی زیارت کی تیاری کریں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اذا جآئَ نصر اللہ والفتح ( سورہ النصر) کے بارے میں دریافت فرمایا تو میں نے عرض کیا : ’’ یہ ( سورہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ہے۔‘‘ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم! جتنا تم نے بتایا میں بھی وہی جانتا ہوں۔ ‘‘
رسول اللہ ﷺ کو ماہِ رمضان میں ہی اندازہ ہو گیا تھا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم محرم الحرام 11 ہجری میں اسی لئے اپنا زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تمحید اور امت کے لئے توبہ و استغفار میں گزارنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہِ رمضان المبارک 10 ہجری میں ہی اندازہ ہو گیا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال ماہِ رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے۔ مگر جب وہ سال آیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اس ماہ رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس 20دنوں کا اعتکاف فرمایا اور جبرئیل علیہ السلام ہر ماہ رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن پاک کا ایک دور کرتے تھے۔ مگر جب وہ سال آیا جس میں وصال ہوا تو دو مرتبہ قرآن پاک کا دور کرایا۔‘‘ ( صحیح بخاری) اُم المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ ان سے سیدہ فاطمہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے راز کی باتیں فرمائیں اور فرمایا: ’’ جبرئیل علیہ السلام میرے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن پاک کا دو رکرتے تھے مگر اس سال دو مرتبہ میرے ساتھ دور کیا۔ اس سے مجھے اندازہ ہو ا کہ میرے وصال کا وقت قریب آگیا ہے۔ ( یہ حدیث انشاء اللہ آگے ہم تفصیل سے پیش کریں گے)
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اختیار دیا تھا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال کا اندازہ ہو چکا تھا۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا ماہِ محرم الحرام 11 ہجری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم و تربیت اور اللہ کی تسبیح و تمحید اور امت کے لئے توبہ وا ستغفار میں گزارتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی اختیار دے دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو دنیا میں رہیں اور امت کی فتوحات دیکھیں اور چاہیں تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات یعنی وصال کو اختیار کر یں۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صحت کی حالت( یعنی تندرستی کے وقت میں ) فرمایا کرتے تھے: ’’ کوئی نبی علیہ السلام کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی گئی ہے جب تک کہ اس نبی علیہ السلام کو جنت میں ان کا مقام نہیں دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو آخرت کو اختیار کر ے۔ ‘‘اُم المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کا نزول ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک میری گود میں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری تھی۔ جب افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ مبارک حجرے ( کمرے ) کی چھت کی طرف جمائی اور فرمایا: ’’ اللھم الرفیق الاعلیٰ۔‘‘ اس وقت میں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ وہی بات ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے صحت کی حالت یعنی تندرستی کے وقت میں فرمایا کرتے تھے۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار نہ دیا جائے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہو ئے جس میں وصال ہوا تو اس وقت میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ( ترجمہ )’’ جن پر اللہ نے فضل کیا ، یعنی انبیاء، صدیقین ، شہدا ء اور صالحین اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔‘‘ تو میں نے اندازہ کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا ہے۔
اﷲ تعالیٰ کا فرمان :’’ہم راضی کر لیں گے ‘‘
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ بے انتہا محبت کرتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصال کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام فرما یا ہے اور اپنی رحمت بھیجی ہے اور فرما رہا ہے ۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں ( اللہ تعالیٰ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاء ( تندرستی یعنی بیماری سے اچھا کردوں) دے دوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفایت کروںیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں ( اللہ تعالیٰ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال دے دوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ( امت کی ) مغفرت کر وں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ اختیار میرے رب ( اللہ تعالیٰ ) کو ہی ہے کہ وہ جو چاہے میرے ساتھ کرے۔ ‘‘حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کو ابھی تین دن باقی تھے کہ جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز و اکرام اور خاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات دریافت فرما رہا ہے ۔ جس کو وہ اچھی طرح جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو کیسا محسوس کر رہے ہیں یا کیسا پاتے ہیں؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں خود کو ( اپنی امت کے لئے ) مغموم پاتا ہوں یا مغموم پا رہا ہوں۔‘‘صحیح مسلم میں حدیث قدسی میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا : ’’ اے جبرئیل ! (علیہ السلام ) محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہو : ہم آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے متعلق راضی کر لیں گے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ناراض نہیں کریں گے ۔‘‘ ( صحیح مسلم ، کتاب الایمان )
ملک الموت اجازت لے کر حاضر ہوئے
دوسرے دن پھر جبرئیل علیہ السلام آئے اور وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ تیسرے دن پھر جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے ۔ ان کے ساتھ ملک الموت تھے۔ ( لیکن وہ دروازے پر رک گئے تھے) جبرئیل علیہ السلام نے پھر وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا کہ میں اپنے آپ کو ( امت کے لئے ) مغموم پا رہا ہوں۔ اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ملک الموت آئے ہیں اور حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی انسان کے پاس جانے سے پہلے انہوں نے کبھی اجازت نہیں لی ہے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص سے اجازت چاہیں گے۔ (یعنی بغیر اجازت اس کے پاس پہنچ جائیں گے) ۔
اللہ تعالیٰ ملاقات کا مشتاق ہے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ان کو اجازت دے دو۔ ‘‘ملک الموت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جو حکم دیں میں اس پر عمل کروں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی روح قبض کرنے کا حکم دیں گے تو میں اسے قبض کروں گااور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی روح کو چھوڑنے کا حکم دیں گے تو میں چھوڑ دوں گا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ملک الموت !کیا تم یہ کرو گے؟ ‘‘ملک الموت نے عرض کیا: ’’ہاں !مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ اس وقت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’لقا ‘‘( ملاقات ) کا مشتاق ہے۔ ‘‘یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ملک الموت !جس بات کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو۔‘‘
مرض ( بیماری ) کی شروعات
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم الحرام کا پور ا مہینہ گزارا اور صفر المظفر 11 ہجری کے درمیانی یا آخری دنوں میں اس مرض ( بیماری) کی شروعات ہوئی جس میں وصال ہوا۔ حضرت ابو مو یھبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے ۔انہوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مجھے جگا کر فرمایا: ’’ اے ابو مویھبہ رضی اللہ عنہ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بقیع والوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے استغفار کروں ۔ ‘‘میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع قبرستان میں تشریف لائے اور دستِ مبارک اٹھا کر اُن کیلئے استغفار فرمائی۔ اس کے بعد فرمایا ’’تمہیں مبارک ہو جس امن کی حالت میں تم نے صبح کی اور جس امن کی حالت میں لوگوں نے صبح کی۔ اب وقت آگیا ہے اور اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے برپا ہوں گے اور ہر فتنہ اپنے سے پہلے والے فتنے سے بڑا ہوگا۔ اے ابو مویھبہ رضی اللہ عنہ ، مجھے دنیا کے خزانوں اور اس میں ( دنیا میں ) ہمیشہ رہنے کی کنجیاں دی گئیں۔ اس کے بعد جنت اور اس کے بعد اپنے لقاء رب ( اللہ تعالیٰ سے ملاقات ) کے درمیان مجھے اختیا ر دیا گیا تو میں نے لقا ء رب کو قبول کر لیا۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔ اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تکلیف کی شروعات ہوئی جس میں وصال ہوا۔ امام ابن سعد نے اسی مضمون کی حدیث سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
ازواجِ مطہرات سے اجازت لے کر حجرۂ عائشہ میں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ جنت البقیع سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے میرے پاس آئے۔ میرے سر میں درد تھا۔ اور میں کراہ رہی تھی اور کہہ رہی تھی’’ ہائے سر کا درد۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم سے زیادہ شدید سر کا درد مجھے ہے۔ ‘‘پھر فرمایا: ’’ اے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ! اگر تم مجھے سے پہلے انتقال کر جائو گی تو تمہار ا کوئی حرج نہیں ہوگا۔ میں تم کو کفن دوں گا اور نماز پڑھوں گا اور تم کو اپنے ہاتھوں سے دفن کر وں گا۔‘‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاق میں عورتوں والے ناز سے کہا: ’’ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری بیویوں کے ساتھ آرام سے رہنے لگیں گے۔‘‘ میری بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور مسکرانے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درد بڑھتا چلا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باری باری امہات المومنین کے یہاں ایک ایک شب گزارتے تھے۔ جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں درد کی شدت بہت زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب ازواج مطہرات کو جمع کر کے ان سے بیماری کی حالت میں میرے حجرے میں رہنے کی اجازت لی۔ سب ازواج مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تشریف لے آئے۔ ‘‘
بیماری میں خطبہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حجرۂ عائشہ رضی اللہ عنہا میں قیام پذیر ہو گئے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام ازواج مطہرات سے اجازت لے کر جب میرے حجرے میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان کے دو آدمیوں کے سہارے اُن کے کاندھے پر ہاتھ رکھے آرہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمِ مبارک صرف زمین کو چھو رہے تھے۔ (یعنی زیادہ وزن ان دو آدمیوں کے کاندھوں پر ڈالا ہوا تھا) اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تشریف لائے۔ اُن دو آدمیوں میں سے ایک حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے ایک شخص تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ وہ دوسرے شخص حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے۔‘‘ جب ذرا طبیعت سنبھلی تو مسجد نبوی میں خطبہ دیا۔ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں سخت درد ہے اور اسی وجہ سے پٹی باندھ رکھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اے فضل رضی اللہ عنہ !میرا ہاتھ تھامو۔‘‘ میں نے ہاتھ تھام لیااور سہار اد یتا ہوا لے کر چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں منبر پر آکر بیٹھے اور فرمایا سب کو بلا لائو۔ سب جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے لوگو!میں تمہارے سامنے اُس اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سواکوئی معبود نہیں ہے۔ تم لوگوں کے میرے ذمے بہت سے حقوق ہوں گے۔ لہٰذا جس کی پیٹھ پر میں نے کوڑے مارے ہوں اس کے لئے میری پیٹھ حاضر ہے۔ وہ اپنا بدلہ لے لے اور جس کسی کو میں نے برا کہا ہو میں موجود ہوں وہ مجھے برا کہہ لے۔ کینہ پروری میری سر شت میں نہیں ہے اور نہ ہی میری عادت میں ہے۔ میں تم میں سے اُس شخص کو زیادہ پسند کروں گا جو اپنا حق ابھی مجھ سے لے لے یا معاف کر دے۔ تا کہ میں اپنے رب سے بالکل پاک نفس ہو کر ملوں ۔‘‘ اتنا فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر آئے اور ظہر کی نماز پڑھی۔
حق اُس طرف ہو گا جس طرف عمر فاروق ہوں گے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اپنے خطبے کو آگے بڑھایا۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے تین درہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض ہیں۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ! اسے تین درہم ادا کر دو۔ ‘‘میں نے ادائیگی کے لئے کہا تو وہ شخص بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے لوگو! جس کے پاس میرا کچھ ہو وہ دے دو اور اس کو دنیا کی رسوائی نہ سمجھے کیوں کہ دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے بہت معمولی ہے۔‘‘ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے اوپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین درہم قرض ہیں۔ میں نے وہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کئے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیوں نہیں کئے؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ مجھے ان کی ضرورت تھی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اے فضل رضی اللہ عنہ ! یہ رقم ان سے لے لو۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے لوگو! تم میں سے جس کو اپنی بد اعمالی کی وجہ سے ( آخرت میں ) اندیشہ ہو ، وہ کھڑا ہو کر بیان کر دے ۔ تا کہ میں اس کے لئے دعا کروں۔‘‘ اس پر ایک شخص کھڑ اہوا اور کہا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں کذاب ہوں۔ بد کار ہوںاور ہر وقت سوتا رہتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ !اسے سچا بنا اور ایمان عطا فرما اور یہ جب چاہے اس کی نیند دور ہو جایا کرے۔‘‘ اس کے بعد ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں کذاب ہوں اور منافق ہوں اور ایسی کوئی برائی نہیں ہے جو میں نے نہیں کی ہے۔ ‘‘یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے شخص تونے اپنے آپ کو رسوا کر لیا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ !اس دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے اچھی ہے۔ اے اللہ تعالیٰ ! تُو اس شخص کو سچا بنا ۔ ایمان عطا فرما اور نیک کردار بنا۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: ’’ اب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرو۔‘‘ اس جملے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور پھر فرمایا: ’’ عمر فاروق میرے ساتھ ہے اور میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوں اور میرے بعد حق اسی طرف ہو گا جس طرف عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہوں گے۔‘‘
اگر میں کسی خلیل ( دوست) بنانا تو ابو بکر صدیق کو بنانا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران خطبہ دیا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ’’ ایک بندہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ جو کچھ دنیا میں ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لے تو اُس بندے نے اس کو اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ ہم سب نے ان کے رونے کو حیرت سے دیکھا ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندے کی خبر دے رہے ہیں کہ اُس نے جو اختیار کیا ہے ۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ اختیار کرنے والے بندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ !تم روئو نہیں ۔ تمام لوگوں میں اپنی رفاقت اور مال خرچ کرنے میں سب سے زیادہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے محسن ہیں۔ اگر میں کسی کو خلیل ( دوست ) بناتا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ لیکن میرے اور ان کے درمیان اسلامی اخوت کا رشتہ ہے اور مسجد میں کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کر دیا جائے۔ لیکن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دروازے کو بند نہ کیا جائے۔‘‘
لشکر اُسامہ بن زید روانہ کرنا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت نا ساز چل رہی تھی۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغام اسلام کو دنیا والوں تک پہنچانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ اسی کو شش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں صفر المظفر 11 ہجری ختم ہونے میں چار روز رہ گئے تھے تو رومیوں کی طرف ایک لشکر روانہ کر نے کا اعلان فرمایا اور اگلے دن حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ’’اس مقام تک تیزی سے جانا جہاں تمہارے والد شہید ہو ئے تھے اور جاسوسوں کی اطلاعات سے پہلے دشمن کے سر پر پہنچ جائو۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطا فرمائے تو ان لوگوں میں زیادہ نہ ٹھہرنا ۔‘‘ اگلے روز سر کے درد میں شدت پیدا ہو گئی اور بخار بھی ہو گیا۔ اس تکلیف کے باوجود جمعرات کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو جھنڈا باندھ کر دیا اور فرمایا:’’ اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے جائو اور جنہوں نے کفر کیا اُن سے جنگ کرو۔‘‘
لشکر اسامہ کے بارے میں خطبہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنایا۔ ان کی عمر سترہ یا اٹھارہ یا بیس سال تھی۔ کچھ لوگوں کو نوجوان سپہ سالار پر اعتراض ہو ا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض کی خبر ہوئی تو اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ ٔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے باہر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور بدن پر چادر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کر کے فرمایا: ’’ اے لوگو! یہ کیسی باتیں ہی جو میرے اسامہ بن زیاد کو امیر بنا دینے پر تم لوگوں کی طرف سے مجھ تک پہنچی ہیں۔ اس سے پہلے ایک بار جب میں نے اسامہ کے والد زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا تھا تو طعن کیا گیا تھا۔ جب کہ اللہ کی قسم ! زید بن حارثہ سپہ سالاری کے لئے موزوں تھے اور ان کے بیٹے اسامہ بن زید سپہ سالاری کے لئے موزوں ہیں اور یہ میرے نزدیک محبو ب ہیں۔ اس لئے اسامہ کے بارے میں خیر کا گمان رکھوکیوں کہ وہ تم میں سے بہترین لوگوں میں سے ہے۔‘‘
دنیا کی محبت کا ڈر
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری وقت میں بھی اُمت کی فکر تھی۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ( ہمارے درمیان) تشریف لائے اور فرمایا: ’’ میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تمہارا گواہ ہوں۔ اللہ کی قسم !میں اپنے حوض( کوثر) کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم ! مجھے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے ۔ لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جائوگے اور اسے حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے۔‘‘
لشکرِ اسامہ کا مقامِ جرف پر جمع ہونا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جھنڈا لے کر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ باہر آئے اور حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا اور مہاجرین اور انصار کے ساتھ روانہ ہوئے اورمقام ’’جرف‘‘ پر پہنچ کر پڑائو ڈال اور باقی لوگوں کے جمع ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ کیوں کہ آس پاس کے قبائل کے لوگ بھی اعلان سن کر لشکر میں شامل ہونے کے لئے آرہے تھے۔ تمام جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے اجازت لے کر مدینہ منورہ آئے کہ جب بھی لشکر روانہ ہو نے لگے تو ہمیں حکم کرنا ہم حاضر ہو جائیں گے۔ مقامِ جرف مدینہ منورہ سے لگ بھگ ایک کوس کے فاصلہ پر ہے۔
سید ہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو بشارت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو بلوایا۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو اس تکلیف کے دوران بلوایا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا اور ان سے راز کی کوئی بات کی تو وہ رونے لگیں۔ اس کے بعد پھر اُن سے راز کی کوئی بات کی تو وہ ہنسنے لگیں۔ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس بیماری یا تکلیف میں ہی میرا وصال ہو جائے گا۔‘‘ یہ سن کر میں رونے لگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ میں اُن کے اہل بیت ( گھر والوں ) میں سے سب سے پہلے آکر اُن سے ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کو امام طبرانی اور امام بیہقی نے بھی پیش کیا ہے اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سید ہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ جبرئیل علیہ السلام ہر سال ماہِ رمضان المبارک میں ایک مرتبہ قرآن پاک کا دور کراتے تھے اور اس سال انہوں نے دو مرتبہ قرآن پاک کا دور کرایا ہے جو وصال کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ یہ سن کرمیں رونے لگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے بیٹی !مسلمان عورتوں میں سے کوئی عورت مصیبت میں تم سے اعظم نہیں ہے تو تم صبر میں ادنی عورت نہ ہونا۔ پھر فرمایا : ’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت میں سے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملوں گی اور فرمایا تم جنت کی عورتوں کی سردار ہو۔ بجز اس کے جو مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا سے تعلق رکھتیہوں۔‘‘
اُمت کی عورتوں کی سردار
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حجرۂ عائشہ میں قیام پذیر تھے اور بیماری کا عالم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات کا زیادہ تر وقت حجرۂ عائشہ میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے ہوئے گزرتا تھا۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ تمام ازواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھی ہو گئیں اور ان میں سے کوئی بیوی پیچھے نہ رہی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا آتی ہوئی دکھائی دیں اور ان کی چال اپنے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا: ’’ اے میری بیٹی ! آئو خوش آمدید! ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دائیں یا بائیں طرف بٹھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سر گوشی میں کوئی بات فرمائی تو وہ رونے لگیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دوبارہ سر گوشی میںکوئی بات فرمائی تو وہ مسکرانے لگیں۔ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ( اکیلے میں ) دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں کیا فرمایا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو فاش نہیںکر سکتی۔‘‘ اس کے بعد جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ’’ میرا جو حق آپ رضی اللہ عنہا پر ہے میں اس کا واسطہ دے کر پوچھتی ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہا مجھے کب بتائیں گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر گوشی میں کیا فرمایا تھا؟ ‘‘ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ ابھی بتائے دیتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار مجھ سے جو سر گوشی کی تھی اس میں فرمایا تھا کہ جبرئیل علیہ السلام ہر سال مجھے قرآن پاک کا ایک دور کرایا کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دو دور کرایا ہے اور میرے خیال میں یہ اس وجہ سے ہے کہ میرے وصال کا وقت قریب آگیا ہے۔ پس ( تم ) اللہ پر بھروسہ رکھنا اور صبر کرنا۔ میں تمہارا بہترین سلف ہوں۔‘‘ یہ سن کر میں رونے لگی تھی۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ سر گوشی میں مجھ سے فرمایا تھا : ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم عالمین کی عورتوں یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟ ‘‘ تو میں مسکرانے لگی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ فرمایا : ’’ تم سب سے پہلے مجھ سے آکر ملو گی۔ ‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد ہی سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا بھی وصال ہو گیا اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ’’ تم جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہو گی۔‘‘
خیبر میں دیئے گئے زہر کا اثر
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت کے ساتھ ساتھ شہادت کی فضیلت بھی بخشی ہے۔ اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں نو مرتبہ اس بات کی قسم کھائوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے ہیں اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں ایک مرتبہ بھی اس بات کی قسم کھائوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہید نہیں ہوئے ہیں۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت اور رسالت کے ساتھ ساتھ شہادت سے بھی سر فراز فرمایا ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال جس تکلیف یا بیماری میں ہوا ہے اس تکلیف کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’ میں اس لقمہ کی تکلیف ہمیشہ محسوس کرتا رہا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور اب ( تو یہ حالت ہے کہ ) اس زہر کی وجہ سے رگ جان کٹ رہی ہے۔‘‘ سیدہ اُم بشر رضی اللہ عنہا ( اُن صحابی رضی اللہ عنہ کی والدہ جو خیبر میں زہر کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے) فرماتی ہیں: ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے کہا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربا ن ہوں ۔ اپنی جان کے بارے میں کیا محسوس کر رہے ہیں۔ میں تو اپنے بیٹے کی جان کے بارے میں وہ کھانا محسوس کرتی ہوں جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں بھی یہی محسوس کررہا ہوں اور اس کی وجہ سے میری رگ جاں کٹ رہی ہے۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آئیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا۔ انہوں نے چھو کر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جتنا بخار میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا اتنا بخار میں نے کسی کا نہیں پایا۔‘‘ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمارے لئے اجر بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے جتنی زیادہ تکلیف ہمیں ہوتی ہے اور بات یہ ہے کہ جو لقمہ میں نے تمہارے بیٹے کے ساتھ خیبر میں کھایا تھا اس کی تکلیف میں ہمیشہ محسوس کرتا رہا ہوں۔ یہاں تک کہ اس وقت اسی وجہ سے رگِ جاں منقطع ہو رہی ہے۔‘‘
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں جب تک طاقت رہی تب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں آکر نماز پڑھاتے رہے۔ جب بیماری بہت زیادہ بڑھ گئی اور کمزوری غالب آگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض نے شدت اختیار کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ رقیق القلب ( بہت نرم دل) آدمی ہیں۔ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہو ں گے تو اتنی استطاعت نہیں رہے گی کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا سکیں۔‘‘ ( تمام ازواج مطہرات وہیں جمع تھیں)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:’’ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ‘‘ پھر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے وہی جواب عرض کیا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو بکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں اور فرمایا: ’’ تم تو وہی عورتیں ہوجنہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے مکر کیا تھا۔ ‘‘آخر کار مسجد نبوی میں خبر دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔
قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران کی کیفیات بیان کرتے ہوئے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جس مرض میں وصال ہوا اس بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت فرمائی۔ کیوں کہ انہوں نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں : ’’ بیماری کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مبارک چادر میں چھپا لیتے تھے اور جب دل گھبراتا تھا تو چادر ہٹا دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے تھے : ’’ یہودیوں اور عیسائیوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ جنہوں نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔‘‘ اور ان کی اس حرکت سے بچنے کی تلقین فرماتے۔
حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو بکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’ وہ رقیق القلب ہیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ امامت کے لئے کھڑے ہو ں گے تو ان سے کھڑا نہ ہوا جائے گا۔‘‘ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا تو میں نے بھی وہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم تو یوسف والیاں ہو۔ ابو بکر سے کہو نماز پڑھائیں۔‘‘ اس کے بعد خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے آہستہ آہستہ اور لڑکھڑاتے ہوئے مسجد میں آگئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچے۔ وہ پیچھے ہٹنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے ان کو اپنی جگہ کھڑے رہنے کا حکم دیااور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پہلو میں بیٹھ گئے اور نماز پڑھی۔ اس طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی اور لوگوں نے نماز میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء کی۔
سترہ نمازوں کی امامت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت بڑھتی جا رہی تھی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کتنی نمازیں پڑھائیں اکثر علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سترہ نمازیں پڑھائیں ہیں۔ حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں تین دن نماز پڑھائی۔ امام و اقدی کہتے ہیں کہ میں نے ابو سبرہ سے پوچھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کتنی نمازیں پڑھائیں تو انہوں نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سترہ نمازیں پڑھائی ہیں۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کا وقت قریب آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس میں ڈبوتے اور چہرۂ مبارک کا مسح فرماتے تھے اور یہ فرماتے تھے: ’’ اے اللہ تعالیٰ !موت کی تکلیف میں مدد فرما۔‘‘
تحریر لکھوانے کا ارادہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض کے دوران تحریر لکھوانے کا ارادہ فرمایا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کافی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع تھے اور اس وقت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میرے نزدیک آجائو۔ میں تمہیں ایک تحریر لکھوا دیتا ہوںتا کہ میرے بعد تم گمراہی سے بچے رہو۔‘‘ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض کی شدت کی وجہ سے ایسا فرما رہے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن پاک موجو د ہے اور اللہ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے اور کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ ہم تحریر لکھوا لیں تا کہ آگے آسانی ہو۔ اس طرح آپس میں بحث ہونے لگی اور لوگوں کی آوازیں بلند ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کھڑے ہو جائو۔‘‘ ( اور چلے جائو) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس طرح آپسی بحث تحریر لکھوانے کے درمیان حائل ہو گئی۔ امام بخاری اپنی صحیح میں ایک اور حدیث پیش کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہائے جمعرات !اور جمعرات کا روز کیا ہے؟ اُ س روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لکھنے کی چیزیں لائو تا کہ میں تمہیں ایسی تحریر لکھوا دوں کہ میرے بعد گمراہ نہیں ہو گے۔ اس پر لوگ بحث کرنے لگے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بحث کرنا مناسب نہیں تھا۔ بعض حضرات کہنے لگے۔ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی وجہ سے ایسا فرما رہے ہوں۔ پس لوگوں نے دوبارہ آکر دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس بات کو جانے دو۔ میں جس حالت میں ہوں وہ اُس حالت سے بہتر ہے جس کی طرف تم بلا رہے ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ پہلی یہ کہ مشرکیں کو جزیرہ ٔ عرب سے نکال دینا۔ دوسری یہ کہ سفیروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور تیسری وصیت سے وہ خاموش ہو گئے یا پھر میں بھو ل گیا ہوں۔ بعض کہتے ہیں کہ تیسری بات یہ تھی کہ قرآن پاک پر عمل کرنایا لشکر اُسامہ کو روانہ کرنا یا میرے بعد میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا یا یہ کہ نماز پابندی سے ادا کرنا اور غلاموں کا خیال رکھنا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں