36 سیرت سید الانبیاء ﷺ
سنہ الوفود (وفود کی آمد کا سال) قسط نمبر 2
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
وفد عُذرہ کی آمد، وفد بَلّی کی آمد، وفد بنو اسد کی آمد، وفد بنو حنیفہ کی آمد، دو کِذّابوں ( جھوٹوں) کے بارے میں خواب، وفد بنو صحارب کی آمد، وفد بنو کندہ کی آمد، وفد بنو تُجیب کی آمد، وفد بنو ھُذیم کی آمد، وفد بنو خولان کی آمد، وفد بنو طی اور وفد بنو سلامان کی آمد
وفد بنو صد آء کی آمد اور قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم 8 ہجری میں جعرانہ سے واپس آکر حضر ت مہاجر بن اُمیہ رضی اللہ عنہ کو صنعا ء کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کو حضرِ موت کی طرف روانہ فرمایا اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہ خزرجی رضی اللہ عنہ کو چار سو 400سواروں کے ساتھ قناۃ کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ یمن کے علاوہ قبیلہ صدا ٓء کی طرف بھی ضرور جائیں۔ حضرت زیاد بن حارث صُدآئی رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا تو وہ خود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میںحاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں اپنی قوم اور اپنے قبیلے کے اسلام کا کفیل اور ذمہ دار ہوں۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کو واپس بلا لیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو واپس بلالیا۔ حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے پندرہ افراد کا وفد لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سب نے اسلام قبول کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا: ’’ اے زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ !تیری قوم تیری بہت مطیع اور فرماں بردار ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مجھ پر احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ان کو ہدایت عطا فرمائی۔‘‘ یہ وفد واپس آیا اور اسلام کی تبلیغ کی تو پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا ۔ اس قبلے کے 100لوگ حجتہ الوداع میں شریک ہوئے۔
وفد عُذرہ کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عُذرہ کا ایک وفد9 ہجری میں حاضر ہوا۔ اس وفد میں بارہ افراد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید فرمایا۔ اس وفد کے لوگوں نے دریافت کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ اکیلا معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے او ر صرف اسی کی عبادت کرو اور گواہی دوکہ میں ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کا بندہ اور رسول تمام لوگوں کی طرف ( یعنی کائنات کی تمام مخلوق کی طرف) بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اسلام کے فرائض اور تعلیمات کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ سب اطمینان بخش طریقے سے بتایا۔ اس کے بعد اس وفد کے تمام ارکان نے اسلام قبول کر لیا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسلام کی دعوت دی۔ وہ ہم نے قبول کی۔ ہم دل و جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعوان اور انصار او ر مدد گا ر ہیں ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تجارت کے لئے ملک شام جاتے ہیں۔ جہاں ہرقل رہتا ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شام عنقریب فتح ہو جائے گا اور ہرقل وہاں سے بھاگ جائے گا۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ہدایت دی : ’’ کاہنوں سے سوال نہ کرنا اور نہ ہی ان کا ذبیحہ کھانا اور تم اللہ کے لئے ہی قربانی کرنا۔‘‘ اس کے بعد یہ وفد اپنے علاقے کی طرف واپسی کے لئے ٍروانہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایا اور تحفے عطا فرمائے۔
وفد بَلّی کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں 9 ہجری میں قبیلہ بنو بَلّی کا ایک وفد حاضر ہوا اور وفد کے تمام ارکان نے اسلام قبول کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد سے فرمایا: ’’ تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے تمہیں ہدایت بخشی اور اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔ بے شک اگر تمہیں اس حالت میں موت آجاتی کہ تم اسلام قبول نہیں کرتے تو آگ میں داخل کئے جاتے۔‘‘ اس کے بعد وفد کے سربراہ حضرت ابو الضبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھ کو مہمان نوازی کا بہت شوق ہے۔ کیا اس میں میرے لئے کوئی اجر ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اس میں اجر ہے اور غنی یا فقیر جس پر بھی تم احسان کرو گے اس میں بھی اجر ہے اور یہ سب صدقہ ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مہمان نوازی کی مدت کتنی ہے؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مہمان نوازی کی مدت تین دن ہے۔ اس کے بعد صدقہ ہے اور مہمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ میزبان کو تنگی میں ڈالے ۔‘‘ اس کے بعد یہ وفد اپنے قبیلے میں واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ذادِ راہ عطا فرمایا۔
وفد بنو اسد کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں 9 ہجری میں قبیلہ بنو اسد کا وفد حاضر ہوا۔ اس وفد میں دس افراد تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے۔ اس وفد نے حاضر ہو کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیںاور ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر بلائے خود بخود حاضر ہو گئے ہیں۔ ‘‘اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ( ترجمہ) ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے اسلام قبول کرنے کا احسان جتلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیں کہ مجھ پر اپنے اسلام قبول کرنے کا احسان مت جتلائو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا ہے کہ تم کو ایمان کی توفیق دی۔ اگر تم سچے ہو۔‘‘ ( سورہ الحجرات آیت نمبر17) اس کے بعد اس وفد کے لوگوں نے کہا ۔ نت اور رمل کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا۔
حضرت فروۃ بن عمرو جذامی رضی اللہ عنہ کی شہادت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حکمرانوں کو خطوط بھیجے اور اسلام کی دعوت دی۔ ان میں حضرت فروۃ بن عمرو جذامی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہیںسلطنت روم کے حکمراںنے معان اور آس پاس کے علاقے کا گورنر یا حکمراں بنایا تھا۔ جب ان کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ملا تو اسے پڑھ کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ایک قاصد کو کچھ ہدایات دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ رومیوں کو جب حضرت فروۃ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی خبر ہوئی تو فوراً انہیں معزول کر دیا اور دوسرے کوحکمراںبنا دیا۔ اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کوپھانسی پر لٹکا یا جانے لگا تو یہ فرمایا: ’’ مسلمانوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دو کہ میں مسلمان ہوں اور میر ی ہڈیاں اور جائے قیام سب اللہ کی اطاعت گزار ( مطیع) ہیں۔‘‘
وفد بنو حنیفہ کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میںیمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کا وفد 9 ہجری میں حاضر ہوا۔ اس وفد میںمشہور چالاک فتنہ باز مسیلمہ کذاب (مسیلمہ جھوٹا) بھی تھا۔ پورے وفد کے تمام ارکان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔لیکن وہ بد بخت کِذّاب گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے نہیںآیا او ر اونٹوں اور سامان کے پاس بیٹھا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بد بخت کے بارے میں معلوم ہوا تو اس کی دلجوئی کے خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے۔ ساتھ میں حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے۔ اُس بد بخت جھوٹے مسیلمہ کذاب نے کہا: ’’ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنی خلافت عطا فرما ئیں اور اپنے بعد مجھ کو اپنا قائم مقام مقرر کر یں تو میں بیعت کرنے کیلئے تیار ہوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں اس وقت کھجور کی چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر تو یہ چھڑی بھی مانگے گا تو میں نہیں دوں گا اور اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے جتنا مقدر فرما دیا ہے ۔ اتنا ہی تجھے ملے گا اور غالباً تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا اور یہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تجھ کو جواب دیں گے۔‘‘ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔
دو کِذّابوں ( جھوٹوں) کے بارے میں خواب
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس جھوٹے بد بخت مسیلمہ کذاب کے پاس سے تشریف لے آئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیاکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا خواب دکھایا گیا تھا؟ انہوںنے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں دو سونے کے کنگن لا کر رکھے گئے۔ جس سے میں گھبرا گیا۔ خواب میںہی مجھے کہا گیا کہ ان پر پھونک مارو۔ میں نے پھونک ماری تو وہ فوراً اڑ گئے۔ جس کی تعبیر یہ ہے کہ دو کِذّاب ( جھوٹے) ظاہر ہوں گے۔ ‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ ان دو میں سے ایک کذاب مسیلمہ ہوا اور دوسرا اسود عنسی ہوا۔ اسود عنسی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے ہی قتل ہوا اور مسیلمہ خلیفہ ٔ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جنگ کرتے ہوئے قتل ہوا۔
مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بنو حنیفہ کا وفد واپس چلا گیا ۔ امام عبدالملک بن ہشام لکھتے ہیں ۔ یہاں سے واپس جانے کے بعد ( یمامہ) میںمسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیااور اپنے قبیلے کے لوگوں سے یہ جھوٹ بولا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ( نبوت میں ) اپنا شریک بنا لیا ہے۔ اس کے بعد 10 ہجری میں بد بخت مسیلمہ کذاب نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا تھا۔ مسیلمہ ( نعوذ باللہ ) اللہ کے رسول کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف !پس میں تمہارے کام ( نبوت ) میں شریک کر دیا گیا ہوں۔ اس لئے آدھی زمین ہمارے لئے ہے اور آدھی زمین قریش کے لئے ہے۔ مگر قریش انصاف نہیں کرتے ہیں۔ والسلام ۔ اس بد بخت جھوٹے کے خط کے جواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوا کر بھیجا’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب ( جھوٹے ) کی طرف ! سلام ہو ا س پر جو ہدایت ( اسلام ) کی اتباع کرے! بے شک زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اچھا انجام اللہ سے ڈرنے والوں کا ہے۔‘‘ یہ واقعہ ’’حجتہ الوداع ‘‘سے واپسی کے بعد کا ہے۔
وفد ازد کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں قبیلہ بنو ازد کا وفد حاضر ہوا۔ اس میں پندرہ افراد تھے۔ ان میں حضرت صرد بن عبداللہ ازدی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اس وفد کے تمام ارکان نے اسلام قبول کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صرد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ان کا سربراہ بنایااور حکم دیا کہ آس پاس کے مشرکین سے جہاد کرو۔ حضرت صرد رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے کے مسلمانوں کا ایک لشکر لے کر قبیلہ بنوجرش کا محاصرہ کیا۔ ایک مہینہ تک محاصرہ جاری رکھنے کے بعد کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو آپ رضی اللہ عنہ نے محاصرہ اٹھا لیا اور لشکر کی واپسی کا حکم دیا۔ قبیلہ بنوجرش والوں نے مسلمانوں کا تعاقب کیا۔ حضرت صرد بن عبداللہ ازدی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں کو ’’جبل ِ شکر‘‘ تک پیچھے آنے دیا اور وہاں پہنچ کر مسلمانوں کو حکم دیا کہ پلٹ کر حملہ کردو۔ اس حملے میں قبیلہ بنو جرش والوںکو شکست ہو گئی۔ اس سے پہلے قبیلہ بنوجرش والوں نے معلومات حاصل کرنے کے لئے اپنے دو آدمیوں کو مدینہ منورہ بھیجا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن ان دونوں آدمیوں کو فرمایا کہ قبیلہ بنو ازد والوں نے’’ جبل ِ شکر‘‘ کے پاس تمہارے قبیلہ والوں کو شکست دے دی ہے اور جنگ کی پوری تفصیل بیان فرمائی۔ ان دونوں آدمیوں نے قبیلہ بنو جرش والوں کو واپس جا کر تمام تفصیل سنائی تو پورے قبیلہ بنو جرش نے اسلام قبول کر لیا اور ایک وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔
وفد بنو صحارب کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو صحارب کا وفد حاضر ہوا ۔ اس وفد میں حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ وفد بنو صحارب کی حاضری کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ میں بازارذی المجاز میں تھا تو دیکھا کہ ایک شخص لوگوں سے کہتا جا رہا ہے: ’’ اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہو۔ فلاح ( کامیابی ) پائو گے۔‘‘ اور ایک دوسرا شخص اس شخص کے پیچھے سے پتھر مارتا جا رہا ہے اور یہ کہتا جا رہا ہے : ’’ اے لوگو!یہ ( نعوذ باللہ ) جھوٹا ہے۔ اس کی تصدیق مت کرنا۔ ‘‘( یعنی اس کی بات مت ماننا) میں نے پوچھا : ’’یہ آگے والا شخص کون ہے؟ ‘‘لوگوں نے مجھے بتایا : ’’یہ بنو ہاشم کا محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ اللہ کا رسول ہے اور یہ پیچھے سے پتھر مارنے والا شخص اس کا سگا چچا ابو لہب ہے۔‘‘ حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب لوگ اسلام میں داخل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو گئے تو ہم مدینہ منورہ کی کھجوریں خریدنے کے لئے زبدہ سے چلے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر ایک باغ میں اترنے کا ارادہ کر رہے تھے کہ ایک شخص دوپرانی چادریں اوڑھے ہوئے ہمارے پاس آیا اور سلام کیا اور ہم سے دریافت کیا : ’’ ہم کہاں سے آرہے ہیں؟ ‘‘ ہم نے بتایا : ’’ زبدہ سے آرہے ہیں اور مدینہ منورہ کی کھجوریں خریدنے آئے ہیں۔‘‘ ہمارے پاس سرخ اونٹوں میں سے ایک سرخ اونٹ اس شخص نے پسند کیا اور پوچھا : ’’اس سرخ اونٹ کو کتنی کھجوروں کے معاوضے میں بیچتے ہو؟‘‘ ہم نے کہا: ’’ اتنی کھجوریں اس کے معاوضہ میں لیں گے۔‘‘ اس شخص نے اسی قیمت کو منظور کر لیا اور قیمت کم نہیں کروائی اور اونٹ لے کر چلا گیا۔ ہم آپس میں باتیں کرنے لگے کہ’’ ہم تو اس شخص کو پہچانتے بھی نہیں ہیں اور بغیر قیمت لئے اونٹ اس کے حوالے کر دیا۔‘‘ ہم میں سے ایک ھودج نشین عورت نے کہا: ’’میں نے اس شخص کے چہرہ کو دیکھا ہے۔ اللہ کی قسم! اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ تم گھبرائو نہیں اس کی قیمت کی میں ذمہ دار ہوں۔ ‘‘یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ ایک شخص آیا اور کہا: ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں۔ انہوں نے یہ کھجوریں بھیجی ہیں اور فرمایا ہے کہ ان میں سے سیر ہو کر کھائو اور پھر ماپ لو۔‘‘ ہم نے وہ کھجوریں خوب سیر ہو کر ( پیٹ بھر کر ) کھائیں اور پھر مانپا تو اونٹ کی قیمت کے برابر پائی۔‘‘ اگلے روز ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور ہم نے یہ کلمات سنے ۔ ’’صدقہ اور خیرات کرو۔ اونچا ہاتھ ( اوپر والا ہاتھ) نیچے ہاتھ سے بہتر ہے۔ ماں ، باپ ، بھائی ، بہن اور قریبی رشتہ داروں کا زیادہ خیال رکھو۔‘‘
وفد بنو کندہ کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بنو کندہ کا وفد حاضر ہوا ۔ اس وفد کے سردار اشعث بن قیس تھے۔ قبیلہ بنو کندہ یمن کے اطراف میں آباد تھے۔ 10 ہجری میں 80سواروں پر مشتمل یہ وفد مدینہ منورہ میں داخل ہو ا تو ان کے بڑے ٹھاٹ باٹ تھے۔ بالوں میں خوب کنگھی کئے ہوئے تھے اور ریشمی گوٹ لگے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ہتھیار اپنے بدن پر سجائے ہوئے تھے۔ جب یہ وفد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پھر تم لوگوں نے یہ ریشمی جُبّے کیوں پہن رکھے ہیں؟‘‘ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنے لباس پر لگی ریشمی گوٹ کو پھاڑ کر نکال دیا۔
وفد بنو تُجیب کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں قبیلہ بنو تُجیب کا وفد حاضر ہوا۔ قبیلہ بنو تجیب یمن میں قبیلہ بنو کندہ کی ایک شاخ ہے۔ اس وفد میں تیرہ افراد تھے اور یہ لوگ صدقات کا مال لے کر حاضر ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ’’ تم اپنے صدقات اور زکوٰۃ کا مال لے جائو اور اپنے غریبوں اور فقیروں میں تقسیم کر دو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ہمارے غریبوں اور محتاجوں کو دینے کے بعد بچ گیا ہے۔‘‘ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مال لے لیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !تجیب جیسا وفد آج تک کوئی نہیں آیا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا سینہ ایمان کے لئے کھول دیتا ہے۔‘‘ان لوگوں نے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے متعدد سوالات کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جوابات دیئے جو انہوں نے لکھ کر رکھ لئے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے تاکید فرمائی کہ ان کی اچھی مہمان نوازی کرنا ۔ چند دنوں بعد اس وفد نے واپسی کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جلدی کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !دل تو یہ چاہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار پر نور اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ہمیشہ رہیں۔ لیکن اسلام کی تعلیمات اپنی قوم تک پہچا نا ہم پر فرض ہے۔ اس لئے واپسی کی اجازت دیں۔‘‘
میرے لئے غنا کی دعا کردیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ وفد رخصت ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انعام و اکرام سے نوازا اور فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی باقی تو نہیں رہ گیا ہے؟ ‘‘وفد کے ارکان نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان لڑکا رہ گیا ہے۔ اسے ہم نے سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیا تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے بلائو۔ ‘‘وہ نوجوان حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے قبیلے والوں کی حاجتیں پوری کی ہیں۔ میری بھی ایک حاجت ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ حاجت کیا ہے؟‘‘ اس نوجوان نے کہا: ’’ میں صرف اس لئے اپنے گھر سے نکلا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمائے اور مجھ پر رحم فرمائے اور میرے دل کو غنی(دنیا کی ہر شئے سے بے پرواہی) فرما دے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مسرت اور خوشی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اس کے دل میں استغنا پید فرمادے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو بھی انعام و اکرام دے کر رخصت فرمایا۔ 10 ہجری میں قبیلہ بنو تجیب کے لوگ حج کرنے آئے اور منیٰ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کا حال دریافت فرمایا: ’’ لوگوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے زہد و قناعت کا یہ حال ہے کہ کتنا ہی مال و دولت اس کے سامنے تقسیم ہوتا ہے مگر وہ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب اہلِ یمن میں ارتداد پھیلنے لگا تو اس نوجوان نے مسلسل محنت کر کے لوگوں تک پہنچ کر انہیں سمجھایا اور وہ اسلام پر قائم رہے اور کوئی شخص مرتد نہیں ہوا۔ خلیفہ ٔ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یمن کے گورنر کو اس نوجوان کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیا۔
وفد بنو ھُذیم کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں قبیلہ بنو ھُذیم کا وفد حاضر ہوا ۔ جس وقت یہ وفد مسجد نبوی میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی نماز جنازہ پڑھا رہے تھے۔ یہ لوگ الگ بیٹھ گئے اور نماز مکمل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ نماز سے فارغ ہو کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کو بلوایا اور فرمایا: ’’ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پھر اپنے بھائی کی نماز جنازہ میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے یہ گمان کیا کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہ کرلیں۔ اس وقت تک نماز جنازہ میں شرکت کرنا ہمارے لئے جائز نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم جہاں بھی ہو ، جیسے بھی ہو، مسلمان ہو۔‘‘ اس کے بعد اس وفد کے ارکان نے بیعت کی ۔ ایک نوجوان کو سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیا تھا ۔ ایک شخص نے جا کر اسے بھیجا تا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کر لے۔ وہ نوجوان آیا اور بیعت کی تو وفد کے ایک بزرگ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہم میں سب سے چھوٹا ہے اور ہمارا خدمت گار ہے۔ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قوم میں کا چھوٹا اپنے بزرگوں کا خدمت گار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ پر اپنی برکتیں نازل فرمائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے طفیل وہ نوجوان قرآن پاک کا بہت بڑا عالم بنا ۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو اس کی قوم کا سردار بنادیا اور امام مقرر کر دیا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس وفد کے ارکان کو انعام و اکرام سے نوازیں۔ اس وفد نے اپنے قبیلے میں پہنچ کر اسلام کی دعوت دی تو پورا قبیلہ بنو ھُذیم مسلمان ہو گیا۔
وفد بنو خولان کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں 10 ہجری میں یمن سے قبیلہ بنو خولان کا وفد حاضر ہوا۔ اس وفد میں دس افراد تھے۔ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے ۔ ہم لوگ اتنی دور دراز سے سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے شوق میں حاضر ہوئے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارا سفر ضائع نہیں ہوا ہے اور ہر قدم پر تمہارے لئے ایک نیکی ہے اور جو شخص میری زیارت کے لئے مدینہ منورہ حاضر ہو گا وہ قیامت کے دن میری پناہ اور امان میں ہوگا۔‘‘ اس کے بعد قبیلہ بنو خولان کے بت کے متعلق دریافت فرمایا تو اس وفد نے عرض کیا: ’’ الحمد للّٰلہ !آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور تعلیم پر پورا قبیلہ بنو خولان عمل کر رہا ہے۔ صرف چند بوڑھے مرد اور عورتیں اس بُت کی پوجا کر رہے ہیں۔ انشاء اللہ یہاں سے جانے کے بعد ہم اس بت کا نام و نشان مٹا دیں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد والوںکو اسلام کی تعلیمات سکھائیں اور نصیحت فرمائی : ’’ عہد اور وعدہ کو پورا کرنا ۔ امانت ادا کرنا۔ پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور کسی پر ظلم نہ کرنا ‘‘ اور رخصت کرتے وقت بارہ اوقیہ چاندی ان کو عطا فرمائی ۔ اس وفد نے واپسی کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ قبیلہ خولان کے بُت کو منہدم کر دیا۔
وفد بنو طی اور وفد بنو سلامان کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں قبیلہ بنو طی کا وفد حاضر ہوا۔ ( آپ کو یاد ہو گا ۔ قبیلہ بنو طی کا سردارحاتم طائی تھا اور اس کے بیٹے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے اور بیٹی سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس کا ذکر تفصیل سے ہم کر چکے ہیں) اس وفد میں پندرہ ارکان تھے۔ ان کا سربراہ حضرت زید الخیل رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور سب نے خوشی خوشی اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید الخیل کا نام بد کر حضرت زید الخیر رضی اللہ عنہ رکھ دیااور فرمایا: ’’عرب میں سے جس شخص کی بھی تعریف میں نے سنی اس کو اس تعریف سے کم پایا ہے۔ لیکن تمہاری جتنی تعریف سنی ہے تمہیں اس سے زیادہ پایا ہے۔‘‘ 10 ہجری میں قبیلہ بنو سلامان کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وفد میں سات افراد تھے ۔ ان سب نے اسلام قبول کیا اور بتایا : ’’ ہمارے علاقے میں قحط نے بہت زبردست تباہی مچائی ہے اور قبیلہ بنو سلامان بد حالی کا شکار ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے اور بارش کے لئے دعا فرمائی۔ اس کے بعد زادِ راہ دے کر اس وفد کو رخصت کیا۔ اپنے قبیلے میں پہنچ کر اس وفد کے ارکان کو معلوم ہوا کہ جس روز اور جس وقت سیدالانبیاء نے دعا فرمائی تھی۔ اسی وقت قبیلہ سلامان پر بارش ہوئی تھی۔ وفد کے ارکان نے قبیلے بنو سلامان والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں بتایا تو پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا۔
وفد بنو عبس کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں قبیلہ بنو عبس کا وفد حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے مبلغین نے ہمیں بتایا کہ جو ہجرت نہیں کرے گا اس کا اسلام مقبول نہیں ہوگا۔ اسی لئے ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ اپنا سارا مال و متاع اور مویشی بیچ کر ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے آئیں۔ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم لوگوں کے لئے ہجرت ضروری نہیں ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ تم جہاں بھی رہو۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور اسلام پر عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے اجر میں کمی نہیں کرے گا۔‘‘
وفد بنو حارث کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 ہجری میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو نجران کے ایک معزز قبیلہ بنو حارث کی طرف بھیجا اور فرمایا: ’’ تین دنوں تک انہیں اسلام کی دعوت دینا اگر اس کے بعد بھی اسلام قبول نہ کریں تو ان سے جنگ کرنا۔‘‘ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنو حارث میں پہنچ کر اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اطراف و جوانب میں بھی مبلغین اسلام بھیجے ۔ انہوں نے اسلام کی دعوت دی تو ہر جگہ اسلام قبول کیا گیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ خوش خبری لکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھو ا کر بھیجا کہ ان کا ایک وفد لے کر یہاں آئو۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو حارث کا ایک وفد لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اس وفد میں حضر ت قیس بن حصین ، حضرت یزید بن مجمل اور حضرت شداد بن عبداللہ رضی اللہ عنہم تھے۔ جب یہ وفد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ یہ کون لوگ ہیں؟ ایسا لگتا ہے ہندوستان کے آدمی ہیں۔‘‘(یا ہندوستان کے رہنے والوں کی طرح ہیں)
اتحاد کی برکت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیلہ بنو حارث کے وفد نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم قبیلہ بنو حارث سے ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ ‘‘یہ لوگ بڑے بہادر تھے۔ اس لئے اپنے مقابل پر ہمیشہ غالب رہتے تھے۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم لوگ کس وجہ سے لوگوں پر غالب رہتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ہمیشہ متحد اور متفق رہتے ہیں اور آ پس میں اختلاف نہیں کرتے اور آپس میں حسد بھی نہیں کرتے اور کسی پر خود سے ظلم نہیں کرتے اور سختی اور تنگی میں مل جل کر صبر کرتے ہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم سچ کہتے ہو۔ بے شک اتحاد میں برکت ہے ۔‘‘اور حضرت قیس بن حصین رضی اللہ عنہ کو ان کا سربراہ مقرر فرمایا اور اس وفد کی واپسی کے بعد حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو اسلام کی تعلیمات دے کر صدقات وصول کرنے کے لئے ان کی طرف روانہ فرمایا اور ’’کتاب الصدقات ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھوا کر ان کو دی۔ اس میں صدقات اور زکوٰۃ کے احکام تھے۔ یہ وفد ماہ ِ شوال یا ماہ ذی القعدہ 10 ہجری میں واپس ہوا اور لگ بھگ چار مہینے بعد ماہِ ربیع الاول 11 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔
کچھ اور وفود کے نام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بے شمار وفود حاضر ہوئے۔ اگر تمام وفود کے حالات بیان کرنے لگیں گے تو ایک بہت موٹی کتاب بن جائے گی۔ چونکہ ہم مختصرا ً سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کر رہے ہیں۔ اس لئے کچھ وفود کا ذکر ہم نے کر دیا ہے اور کچھ وفود کے نام پیش کر رہے ہیں۔آپ اگر وفود کے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں تو سیرت کی مستند کتابوں کی طرف رجوع کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے چند وفود کے نام یہ ہیں 1) وفد بنو عامر بن معصعہ 2) وفد بنو ہمدان 3) وفد بنو بہرآئَ 4) وفد بنع صحارب 5) وفد بنو غسّان 6) وفد بنو غامد 7) وفد بنو المنتفق 8) وفد بنو نخع 9) وفد بنو البکّاء 10) وفد بنو کنانہ 11) وفد بنو ہلال 12) وفد بنو دارم ۔ یہ کچھ وفود کے نام ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے وفود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
درندوں کا وفد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بھیڑیا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر بھونکا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تمہاری طرف درندوں کے وفد کا نمائندہ بنا کر آیا ہے۔ اگر تم پسند کرو تو اس کے لئے کچھ مقرر کر دو اور اسے کسی دوسرے کی طرف نہ بھیجو اور اگر تم چاہو تو اسے چھوڑ دو اور اس سے احتیاط کرو۔ پس جو وہ ( درندے) لے لیں گے۔ وہ ان کا رزق ہو گا۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارا دل اس کے لئے کسی چیز کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ یعنی ان کو اچک سکتے ہو۔ وہ بھیڑیا یہ اشارہ دیکھنے کے بعد خوشی کا اظہار کرتا ہوا چلا گیا۔ ایک بھیڑیے نے ریوڑ میں کی ایک بکری کو پکڑ لیا۔ چرواہے نے دیکھا تو پیچھا کر کے اس سے بکری چھین لی۔ بھیڑیا اپنے پچھلے دونوں پیروں پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : ’’ کیا تو اللہ سے نہیں ڈرتا ہے اور مجھ سے میرا رزق چھینتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔‘‘ اس چرواہے نے کہا: ’’یہ تو عجیب بات ہے کہ ایک بھیڑیا اپنے پچھلے پیروں پر بیٹھ کر انسانوں کی طرح گفتگو کر رہا ہے۔ ‘‘بھیڑیے نے کہا: ’’میں تمہیں اس سے عجیب بات بتاتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ’’ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ یثرب ( مدینہ منورہ) میں لوگوں کو پچھلی اور اگلی باتوں کی خبر دیتے ہیں۔ وہ چرواہا بکریوں کو لے کر مدینہ منورہ آیا اور بکریوں کو ایک جگہ باندھ کر سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کروادیا۔ سب لوگ جمع ہو گئے تو اس بدّو ( دیہاتی ) چرواہے سیفرمایا : ’’انہیں بھی اپنا واقعہ سنائو۔‘‘ اس نے تمام واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اس نے سچ کہا ہے اور قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے گفتگو نہیں کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا سِرا (نوک) بات کریگا اور اسکی جوتی کا تسمہ اس سے گفتگو کر ے گا اور جو کچھ اس کے اہل وعیال اس کے پیچھے ( اس کے باہر جانے کے بعد گھر میں ) کرتے رہے ہوں گے ۔ اس کی ران اس کے متعلق خبر دے گی۔ ‘‘
جِنّات کے وفد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں جنات کا پہلا وفد اس وقت حاضر ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دینے طائف گئے تھے تو طائف والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھروں کی بارش کر کے طائف سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ( اس کی پوری تفصیل ہم نے اِس سے پہلے پیش کر چکے ہیں ) طائف سے مکہ مکرمہ واپسی کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ’’ نخلہ ‘‘میں رات میں با آواز بلند تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے تو سات جنات وہاں سے گزرے ۔ وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پر اثر تلاوت سن کر ٹھٹھک گئے اور ایک دوسرے کو خاموش کر کے پوری توجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین تلاوت سننے لگے اور ایسا کھوئے کہ انہیں اپنا ہوش بھی نہیں رہا۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو یہ جنات ہوش میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔ اس کے بعد وہ اپنے علاقے میں گئے اور اسلام کی تبلیغ کی اور ان کی قوم کے بہت سے جنات نے اسلام قبول کیا۔ ان سب کو لے کر یہ ساتوں جنات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ِ مبارک پر بیعت کی۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ احقاف کی آیت نمبر29سے 34تک میں کیا ہے۔
جنات کی دعوت پر حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا اور بتایا کہ میں ایک کاہن تھا۔ (کاہن کے قبضہ میں جن ہوتے ہیں۔ یا ان کے دوست ہوتے ہیںجو انہیں مختلف خبریں لا کر دیتے ہیں تو وہ لوگوں کو بتاتے ہیں) ایک رات میر اجن میرے پاس آیا اور کہنے لگا : ’’ کیا تو نے جنات اور ان کے غم کو نہیں دیکھا؟ کیا تو نے دین سے ان کی مایوسی کا مشاہدہ نہیں کیا؟ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ کنوئوں اور جنگلات میں کس طرح بھاگ گئے؟ ‘‘در اصل میرا جن نیک تھا اور اس نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں ’’ہاشمی خاندان‘‘ کے ایک شخص’’ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘نے’’ اعلان ِ نبوت ‘‘ کیا ہے اور تمام بُرے جنات مایوس ہو کر کنوئوں اور جنگلات میں چھپ گئے ہیں۔ حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ آگے بتاتے ہیں: ’’ پھر میرا نیک جن مجھے بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دیتا رہا۔ ایک رات وہ میرے پاس آیا اور بولا: ’’ اے سواد بن قارب ! اٹھو اور میری بات غور سے سنو! اگر صاحبِ دانش ہو تو اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ لوئی بن غالب سے مبعوث ہو چکے ہیں۔ (لوئی بن غالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد میں سے ہیں) اور وہ اللہ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔
جنات کے وفود کی مسلسل آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ اپنے نیک جن کے بارے میں بتا رہے تھے اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دم بخود بیٹھے ان کی داستان سن رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے آگے بتایاکہ میرے جن نے بار بار آکر مجھے خبر دی کہ جنات کے وفود مسلسل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں اور اسلام قبول کررہے ہیں۔ ایک رات میرا جن میرے پاس آیا اور بولا : ’’ مجھے ( نیک) جنات اور ان کی جستجو پر تعجب ہو رہا ہے اور مجھے ان کے اونٹوں پر کجاوے کسنے پر تعجب ہو رہا ہے۔ وہ (نیک جنات ) ہدایت کی جستجو میں مکہ مکرمہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ وہ سچے ( نیک) جنات ہیں اور جھوٹے جناتوں کی طرح نہیں ہیں۔ اے سواد! تو بھی بنو ہاشم کے برگزیدہ شخص ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سفر کر۔ جن کا مستقبل ان کے ماضی سے کہیں زیادہ درخشاں ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ وہ جن مجھ سے بار بار درخواست کرتا رہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلوں۔‘‘
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں