34 سیرت سید الانبیاء ﷺ
غزوۂ تبوک۔ قسط نمبر 2
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
سید الانبیاء ﷺ کا رعب، غزوہ تبوک کے اثرات، رومی لشکر ڈر کر بھاگ گیا، عیسائیوں نے صلح کی اور جزیہ دینا منظو ر کر لیا، مسجد ضِرار ( منافقوں کی مسجد)، غزوہ تبوک کا ملک عرب پر اثر، اسلام کو پوری دنیا میں پہنچانا ہے
تبوک میں پڑاؤ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بالآخر تیس ہزار کا لشکر لے کر تبوک پہنچ گئے اور پڑائو ڈال دیا۔ تبوک ایک مشہور مقام ہے اور یہ ملک شام کی سرحد پر واقع ہے اور دمشق اور مدینہ منورہ کے آدھے راستے پر ہے۔ اس وقت وہاں ایک پانی کا چشمہ ہو اکرتا تھا۔ جس کانام ’’تبوک‘‘ تھا۔ آج وہاں اچھا خاصا بڑا شہر آباد ہے۔ تبوک کا چشمہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ تیس ہزار کے لشکر کے لئے کافی ہوتا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ہی فرما دیا تھا : ’’ کل تم لوگ انشا ء اللہ تبوک کے چشمہ پر پہنچ جائوگے۔ اس لئے جو شخص بھی چشمہ کے پاس پہنچے وہ میرے وہاں پہنچنے تک پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تو حکم کی پابندی کی اور پیاس کی شدت کو برداشت کرتے رہے۔ لیکن منافقین نے پانی لینا شروع کر دیا۔ ( یاد رہے کہ اکثر منافقین تو ثینتہ الوداع سے عبداللہ بن ابیّ کے ساتھ واپس ہو گئے تھے۔ لیکن تیس ہزار کے اسلامی لشکر میں کچھ منافقین بھی تبوک تک آئے تھے اور یہ کچھ منافقین کئی سو بھی ہو سکتے ہیں) جس کی وجہ سے ایسا ہوا کہ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے چشمے پر پہنچے تو پانی لگ بھگ ختم ہو چکا تھا اور پانی قطرہ قطرہ کر کے رس رہا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پانی نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قطرہ قطرہ پانی کو جمع کرنے کا حکم دیا۔ جب اتنا پانی جمع ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو بنا سکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور پانی کی کلّی چشمہ میں کر دی۔ تھوڑی دیر بعد اس چشمے سے پانی نکلنے لگا اور اتنا پانی نکلا کہ تیس ہزار کا لشکر بیس 20دنوں تک کھل کر اس پانی کو استعمال کرتا رہا۔ اس کے باوجود پانی ویسے ہی جاری رہا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ! اگر تمہاری عمر نے وفا کی تو تم دیکھو گے کہ یہ علاقہ سر سبز اور ہرا بھرا باغ و بہار بن جائے گا۔‘‘
سید الانبیاء ﷺ کا رعب
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور سے جنگ کرنے کے لئے ’’تبوک ‘‘ کے مقام پر پہنچے ۔یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ملک عرب میں تو اسلام پھیل چکا تھا۔اس کے بعد بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی جد وجہد جاری رکھی تھی اور لگ بھگ ساٹھ (60)یا اکسٹھ(61)سال کی عمر میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت سے ٹکرانے کے لئے اتنا خطرناک سفر کیاجس سفر کو کرنے سے نوجوان بھی گھبراتے تھے۔اس سفر سے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ ہمیں بھی آخری وقت تک اﷲ کے دین کو قائم کرنے کی جد و جہد کرتے رہنا چاہیئے۔سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم لگ بھگ تیس ہزار (30,000)کا لشکر لیکر تبوک کی طرف روانہ ہوئے۔مدینہ منورہ سے روانہ ہونے والا اب تک کا یہ سب سے بڑا لشکر تھا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ رومیوں سے اُن کے ہی علاقے میں مقابلہ کیا جائے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے چھ (6)ایسی چیزیں عطا فرمائیں ،جو کسی نبی علیہ السلام کو ایک ساتھ نہیں ملیں۔اِن میں سے ایک چیز یہ تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ایسا رعب عطا فرمایا تھا کہ ایک مہینے کی مسافت کی دوری پر ہی کافروں پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہیبت طاری ہو جاتی تھی اور غزوہ تبوک اس کی سب سے بہترین مثال ہے۔رومیوں کو جب یہ پتہ چلا کہ سید الانبیا ء صلی اﷲ علیہ وسلم تیس ہزار(30,000) ہزار کا لشکر لیکر آرہے ہیں تو اُن پر بہت زیادہ ہیبت طاری ہو گئی۔صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا خیال تھا کہ تبوک میں ایک بہت بڑے لشکر سے سامنا ہو گالیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔رومیوں کا جو لشکر تبوک میں جمع تھا اُسے جب معلوم ہوا کہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ بہ نفس نفیس تشریف لا رہے ہیںتو بہت بُری طرح لرز گئے اور اِس ڈر کا شکار ہو گئے کہ پچھلی مرتبہ مسلمانوں کے ایک معمولی لشکر نے اپنے سے تیس(30) گُنی زیادہ لشکر کو بکھیر کر رکھ دیا تھا۔جب اُس کا یہ عالم تھا تو اب تو اُن کے آقا صلی اﷲ علیہ وسلم بذات ِ خود تشریف لا رہے ہیںتو اُن کا کیا عالم ہو گا؟رومیوں پر اتنی ہیبت طاری ہوئی کہ وہ مسلمانوں کے بار بار للکارنے اور مقابلے کی دعوت دینے کے باوجود بغیر لڑے بھاگ کھڑے ہوئے۔لگ بھگ بیس(20)دنوں تک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم تبوک میں قیام پذیر رہے۔اس دوران دنیا کی سب سے بڑی طاقت سلطنت روم اور اُسکے ماتحت قبائل پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوںکاایسا رعب طاری ہوا کہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت تسلیم کر لیااور کئی قبائل نے سلطنت روم سے اپنے معاہدے توڑ دیئے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے معاہدے کئے۔
غزوہ تبوک کے اثرات
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں ایک مرکز مل گیا۔اس کے بعد اسلام اور مسلمان ایک بڑی طاقت کے طور پر اُبھرنے لگے اورا ُن کا سب سے پہلے ٹکراؤ قریش سے ہوا۔قبیلہ قریش کا ملک عرب میں ایک بہت بڑا مقام تھااور تمام عرب کی نگاہیں قریش اور مسلمانوں پر لگی ہوئی تھیں۔جب مکہ مکرمہ فتح ہوا اور تمام قریش نے اسلام قبول کر لیا تو تمام عرب قبائل نے سمجھ لیا کہ اب اسلام اور مسلمان عرب کی سب سے بڑی طاقت بن چکے ہیں ۔اس کے باوجود کچھ قبیلوں نیمقابلہ کرنے کی کوشش کی،جس کے نتیجے میں غزوہ حنین اور غزوہ طائف ہوئے۔اس کے بعد سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم عرب قبائل سے آگے بڑھکر اُس وقت کی سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم سے مقابلے کے لئے اُن کے سرحدی مقام تبوک تک پہنچے اور وہاں لگ بھگ بیس(20) دنوں تک رومی لشکر کا انتظار کیا،لیکن رومی مقابلے کے لئے نہیں آئے اور تمام عرب کے ساتھ ساتھ تمام دنیا پر بھی سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمانوں کا دبدبہ قائم ہو گیا۔غزوہ تبوک دراصل مسلمانوں کے لئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کاایک اشارہ تھا کہ اسلام کو صرف ملک عرب تک ہی محدود نہیں رکھنا ہے۔بلکہ اسے ساری دنیا تک پہنچانا ہے اور پوری دنیا پر نافذ کرنا ہے اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے اس عمل کے لئے اپنی پوری زندگیاں وقف کردیں۔
رومی لشکر ڈر کر بھاگ گیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لئے ملک شام اور حجاز کی سرحد پر رومیوں کا ایک لشکر جمع ہوا تھا۔ قیصر روم ہرقل نے بھی چالیس ہزار کا لشکر بھیجا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کے لشکر کے جمع ہونے کی خبر سن کر رومیوں سے مقابلے کے لئے تیس ہزار کا لشکر لے کر چلے۔ ادھر رومیوں کو اسلامی لشکر کے روانہ ہونے کی اطلاع ملی تو ان پر ہیبت طاری ہو گئی۔ در اصل وہ جنگ موتہ کو نہیں بھول پائے تھے۔ جس میں لگ بھگ ڈھائی لاکھ کے رومی لشکر کو صر ف تین ہزار کے اسلامی لشکر نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں زمین چٹا دی تھی۔ رومی یہ سوچ رہے تھے کہ مسلمانوں کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس دس گنا بڑے لشکر کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں ۔ ان پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا رعب طاری ہو اکہ وہ تبوک سے بھاگ گئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچے تو مقابلے کے لئے کوئی نہیں تھا۔
عیسائیوں نے صلح کی اور جزیہ دینا منظو ر کر لیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دنوں تک تبوک میں قیام فرمایا۔ اس دوران دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم اور اس کے ماتحت قبائل پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ایسا رعب طاری ہو ا کہ انہوں نے مسلمانوں کو سلطنت روم سے بڑی طاقت تسلیم کر لیا۔ اور سلطنت روم سے معاہدے توڑ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر صلح کے معاہدے کرنے لگے اور جزیہ دینا منظور کر لیا۔ ایلہ کا بادشاہ یوحنا بن روبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ( یہ عیسائی بادشاہ تھا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول کی اور صلح کر کے جزیہ دینا منظور کیا۔ اس کے بعد جرباء اور اذرح کے عیسائی بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اطاعت قبول کر کے جزیہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان نامہ لکھ کر دیا۔ جس کی رو سے وہ لوگ مسلمانوں کی حفاظت میں ہوں گے اور اپنے گرد و پیش کے سمندر سے ہر قسم کا فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ یو حنا نے ایک سفید خچر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی چادرِ مبارک عطا فرمائی۔
دومتہ الجندل کے حاکم کی گرفتاری اور امان
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک میں بیس دن کے قیام کے دوران مختلف قبائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے اور صلح کرتے رہے۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو چار سو سے کچھ زیادہ کا لشکر دے کر دومتہ الجندل کی طرف روانہ فرمایا اور فرمایا : ’’ دومتہ الجندل کا حکمراں اکیدر تمہیں شکار کھیلتا ہوا ملے گا۔ اسے گرفتار کر کے میرے پاس لے آئو اور اگر وہ انکار کر دے تو اسے قتل کر دینا۔ سلطنت روم کے قیصر ہر قل نے اکیدر کو دمتہ الجندل کا حکمراں اور فرماں روا بنایا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چاندنی رات میں دومتہ الجندل پہنچے ۔ اکیدر اپنے بھائی حسان اور ساتھیوں کے ساتھ شکار کر رہا تھا۔ حسان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کر دیا اور مار ا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اکیدر سے کہا: ’’ میں تمہاری جان بخش سکتا ہوں۔ شرط یہ ہے کہ تم میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو نا منظور کر و۔‘‘ اکیدر نے منظور کر لیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اکیدر نے دو ہزار اونٹ، آٹھ سو گھوڑے ، چار سو زرہیں اورچا ر سو نیزے دے کر صلح کر لی اور اطاعت قبول کر لی۔
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنت میں ہیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اکیدر کو لانے سے پہلے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کی قبا بھیج دی تھی۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب اکیدر کی قبا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگے اور اس کی خوش نمائی اور ملائمت پر تعجب کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ’’تم اتنی سی شئے پر تعجب کر رہے ہو!قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے !وہ مندیلیں جو اس وقت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ پہنے ہوئے ہیں وہ اس قبا سے کہیں زیادہ اعلیٰ اور خوش نما اور ملائم ہیں۔‘‘
مسجد ضِرار ( منافقوں کی مسجد)
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیس20دنوں تک تبوک میں قیام کرنے کے بعد مدینہ منورہ واپس آئے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ’’ ذی آوان‘‘ پر پہنچے یہاں سے مدینہ منورہ ایک گھنٹے کے راستہ پر رہ جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن دخشم رضی اللہ عنہ اور حضرت معن بن عدی رضی اللہ عنہ کو مسجد ضرار کے منہدم کرنے اور جلانے کے لئے آگے بھیجا۔ یہ مسجد منافقین نے اس لئے بنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اس میں بیٹھ کر مشورے کریں۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جا رہے تھے اس وقت منافقین نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ ہم نے بیماروں اور معذوروں کے لئے ایک مسجد بنائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر ایک مرتبہ اس میں نماز پڑھا دیں تا کہ وہ مقبول اور متبرک ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس وقت تو میں تبوک جا رہا ہوں واپسی کے بعد دیکھا جائے گا۔‘‘ غزوہ تبوک سے واپسی کے دوران یہ آیات نازل ہوئیں:( ترجمہ)’’ اور جن لوگوں نے ایک مسجد بنائی مسلمانوں کو ضرر ( نقصان ، تکلیف) پہنچانے کے لئے اور کفر کرنے کے لئے اور ( سازشوں کے لئے ) قیام گاہ بنانے کے لئے اور اس شخص کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سے ہی لڑ رہاہے اور قسمیں کھائیں گے کہ ہماری نیت بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد میں جا کر کبھی کھڑے بھی نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے یعنی مسجد قبا ۔ وہ واقعی اس لائق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں جا کر کھڑے ہوں اس میں ایسے مرد ہیں کہ جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ‘‘( سورہ توبہ آیت نمبر107اور 108) ان آیات کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اس مسجد کو منہدم کر دیں اور جلا دیں۔ سیرت النبی ابن ہشام میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سویلم یہودی کے مکان کو بھی جلانے کا حکم دیا۔ جس میں منافقین جمع ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جا کر اس مکان کو بھی جلا دیا۔
سید الانبیاء ﷺ کی مدینہ منورہ آمد اور منافقین کا عذر پیش کرنا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے آخری دنوںیا ماہ رمضان کے شروع کے دنوں میں 9 ہجری میں غزوہ تبوک سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے۔ مدینہ منورہ والوں کو اسلامی لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو تمام عورتیں اور بچے استقبال کے لئے نکل پڑے اور لڑکیاں اور لڑکے یہ اشعار گا رہے تھے۔’’ طلع البدر و علینا ۔ من ثنیات الوداع ، وجب الشکر علینا۔ مادعا للّٰلہِ داع ، ایھا المبعوث فینا جئت بالامرالمطاع۔ ‘‘جب مدینہ منورہ کے مکانات نظر آنے لگے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ھٰذہِ طابہ‘‘ ’’ یہ مدینہ طیبہ ہے۔‘‘ اور احد پہاڑ پر نظر پڑی تو فرمایا: ’’ یہ پہاڑ ہم کو محبوب رکھتا ہے اور ہم اس کو محبوب رکھتے ہیں۔‘‘ اس طرح جلوس کی شکل میں سب لوگ مسجد نبوی میں پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوئے۔ منافقین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مختلف بہانے بنانے لگے اور عذر پیش کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری طور پر منافقین نے عذر پیش کیا وہ قبول کیا اور ان کے دلوں کے حال کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا۔ غزوہ تبوک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ ہے۔
حضرت کعب بن مالک کی زبانی توبہ کا واقعہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے تو ہم نے پہلے ہی آپ کو بتا یا تھا کہ تین صحابہ رضی اللہ عنہم پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، حضرت مرارہ بن ربعی رضی اللہ عنہ اور حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ، صحیح بخاری میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ بہت تفصیل سے بیان فرمایا ہے ۔ یوں تو یہ واقعہ سیرت کی لگ بھگ سبھی کتابوں میں بیان ہوا ہے۔ لیکن ہم صرف صحیح بخاری میں بیان کیا ہوا واقعہ پیش کر رہے ہیں۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں غزوہ تبوک میں شرکت نہ کر سکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں ہر غزوہ میں شریک رہا۔ صرف غزوہ بدر اور غزوہ تبوک میں شرکت نہ کر سکا۔ غزوہ بدر میں شامل نہ ہونے والوں میں سے کسی پر اللہ تعالیٰ نے عتاب نہیں فرمایا تھا۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قافلہ قریش کے ارادے سے نکلے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نیفریقین کو ایک جگہ جمع کر کے بغیر کسی ارادے کے ان کا ٹکرائو کروادیا تھا۔ میں ’’بیعت ِ عقبہ ‘‘میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ ہم نے اسلام پر ثابت قدم رہنے کا عہد کیا تھا۔ بیعتِ عقبہ کی شمولت کے برابر مجھے غزوہ بدر کی شمولیت بھی پیاری نہیں ہے۔ حالانکہ لوگوں میں اس کا بہت چرچا ہے۔ رہی غزوہ تبوک میں بچھڑنے کی بات تو اس سے پہلے میں اتنا طاقتور اور مال دار پہلے کبھی نہیںتھا جتنا اُس وقت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ معمول تھا کہ کسی غزوہ پر جاتے وقت منزل مقصود کی صاف نشاندہی نہیں فرماتے تھے بلکہ راز میں رکھتے تھے۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شامل نہ ہو سکے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ صاف بتا دیا تھا کہ تبوک تک سفر کرنا ہے۔ اس لئے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ مطمئن تھے کہ وہ وقت پرتیاری کر لیں گے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں۔ غزوہ تبوک کے وقت شدید جھلسا دینے والی گرمی تھی۔ دور دراز راستے کا سفر تھا۔ غیر آباد جنگل اور قدم قدم پر دشمن موجود تھے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف بتا دیا تھا ۔ تا کہ تمام لوگ اسی کے مطابق تیاریاں کر لیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کثیر تعداد میں مسلمان تھے۔ لیکن کسی رجسٹر پر ان کے نام لکھے ہوئے نہیں تھے۔ اس کے باوجود ہر مسلمان جنگ میں شریک ہوتا تھا۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ جنگ میں شامل نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیں گے۔ غزوہ تبوک کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت حکم دیا۔ جب پھل تیار ہو چکے تھے اور شدید گرمی کی وجہ سے لوگ سائے میں رہنا پسند کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے تیاری مکمل کر لی اور میں روزآنہ یہی کہتا رہا کہ میں ان کے ساتھ تیاری کر لوں گا۔ اس طرح دن گزرتے رہے اور میں نے کچھ نہیں کیا۔ پھر میں نے سوچا کہ میں فوراً تیاری کرنے پر قادر ہوں۔ اسی سوچ بچار میں باقی دن بھی گزر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کیساتھ تبوک کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب کہ میں نے ذرا بھی تیاری نہیں کی تھی۔ پھر میں نے سوچا کہ میںایک دو دنوں میں تیاری کر کے لشکر سے جا ملوں گا۔ اس طرح کئی دن گزر گئے اور لشکر کافی دور نکل گیا۔ میں نے ارادہ کیا کہ فوراً تیاری کر کے ان سے جاملوں ۔ کاش میں نے ایسا کیا ہوتا ۔ لیکن یہ بات میری تقدیر میں نہیں تھی اور میں غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گیا۔ ( شامل نہ ہو سکا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں گھر سے باہر نکلتا تو مدینہ منورہ میں صرف منافقوں اور معذوروں کو دیکھتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تبوک پہنچنے تک یاد نہیں کیا۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سچ کہا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچ کر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت فرمایا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما ہوئے تو فرمایا: ’’کعب بن مالک ( رضی اللہ عنہ ) کہاں ہیں؟‘‘ بنو سلمہ کے ایک شخص نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لگتا ہے انہیں حسن و جمال کے ناز نے روک لیا ہے۔‘‘ حضر ت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں اچھی بات نہیں کہی ہے۔ اللہ کی قسم !ہم توا نہیں بہت اچھا آدمی مانتے ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا اور خاموش رہے۔ مجھے غزوہ تبوک پر نہیں جانے کا بہت غم ہو رہا تھا۔ پھر جب مجھے خبرملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ واپس آرہے ہیں تو میرے غم میں اضافہ ہونے لگا۔ جھوٹے خیالات دل میں آنے لگے کہ اسلامی لشکر میں شامل نہ ہونے کی یہ وجہ اور یہ وجہ بیان کروں گا۔ جس کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہو جائے گا ۔ اس بارے میں گھر کے سمجھد ار لوگوں سے مشورہ بھی کیا۔ لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب آگئے ہیں تو تمام جھوٹے خیالات دماغ سے نکل گئے اور میںنے سچ بولنے کی ٹھان لی۔ اگلی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب بھی سفر سے لوٹتے تھے تو مسجد نبوی میں ضرور تشریف لے جاتے تھے اور دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد کچھ دیر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خاطر بیٹھ جاتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوئے تو پیچھے رہ جانے والے ( منافقین) حاضر ہو کر عذربیان کرنے لگے اور قسمیں کھانے لگے۔ ایسے افراد اسّی(80) سے زیادہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عذر قبول فرما لئے اور ان کی بیعت کو قبول فرمالیا۔ اور ان کے دلوں کے حال کو اللہ تعالیٰ کے سپر د کر دیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ میں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر مجھے دیکھنے لگے۔ لیکن اس مسکراہٹ میں غصہ کا تاثر تھا اور فرمایا: ’’ادھر آئو۔‘‘ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم پیچھے کیوں رہے؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں جانتا ہوں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتا اور اگر میں جھوٹ بول کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کر لوں گا تو اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو جائے گا اور ساتھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھ سے ناراض ہو جائیں گے۔ لیکن اگر میں سچ کہوں گا تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دے گا۔ اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا مال و دولت عطا فرمایا ہے کہ میں غزوہ تبوک پر جا سکتا تھا اس کے باوجود میں پیچھے رہ گیا۔‘‘
تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بائیکاٹ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سچ بات بتا دی۔ آپ رضی اللہ عنہ آگے فرما تے ہیں: ’’میری بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے چونکہ سچ بات کہہ دی ہے۔ اس لئے کھڑے ہو جائو اورا پنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرو ۔‘‘ میں اٹھ کر باہر آیا تو بنو سلمہ کے کچھ لوگ میرے پیچھے آئے اور کہنے لگے: ’’ کیا آپ رضی اللہ عنہ دوسرے لوگوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عذر پیش نہیں کر سکتے تھے؟ ‘‘ وہ لوگ برابر مجھے مجبور کرتے رہے کہ میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عذر پیش کروں۔ میں نے ان سے پوچھا : ’’ کیا میری طرح کسی اور نے بھی سچ کہا ہے ؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ ہاں دو صحابہ رضی اللہ عنہم نے تمہاری طرح سچ کہا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’ وہ کون ہیں؟‘‘ انہوں نے بتایا : ’’ وہ حضرت مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ اور حضرت ہلال بن اُمیہ رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘ انہوں نے دو ایسے نیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نام لئے جو’’ غزوہ بدر‘‘ میں شرکت فرما چکے تھے۔ مجھے ان دونوں کی اقتداء کرنا اچھا لگا اور میں نے طے کر لیا کہ میں ان دونوں کی اتباع میں سچ پر ہی قائم رہوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں سے فرمایا : ’’ جب تک اللہ تعالیٰ ان تینوں کے متعلق کوئی حکم نہیں دے گا ۔ تب ان تینوں سے کوئی بات نہ کرے۔ ‘‘یعنی ہمارا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا۔
تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زمین تنگ ہو گئی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بات کرنے کو منع فرما دیا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اس کے بعد لوگوں نے ہم سے بات کرنا بند کر دی اور لوگ اس طرح بدل گئے۔ جیسے ہمیں پچانتے ہی نہیں ہیں۔ ایسا لگ رہا تھا ساری کائنات ہی بدل گئی ہے۔ پچاس روز ( دنوں ) تک ہماری ایسی ہی حالت رہی۔ میرے دونوں ساتھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے تھے اور ہر وقت روتے رہتے تھے۔ لیکن میں کچھ سخت جان تھا۔ لہٰذا ہمت سے کام لیتا رہا۔ اسی لئے میں گھر سے باہر نکلتا اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرتا تھا اور بازاروں میں بھی جاتا تھا۔ حالانکہ کوئی بھی مجھ سے بات نہیں کرتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر سلام عرض کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان اس وقت تشریف فرما ہوتے تھے۔ میں خاموشی سے سب سے پیچھے بیٹھ جاتا تھا اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتا تھا کہ میرے سلام کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹوں نے حرکت کی ہے یا نہیں۔میں جب نماز پڑھتا تھاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس درمیان میری طرف دیکھتے رہتے تھے۔ اور جب میں سلام پھیر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک مجھ سے پھیر لیتے تھے۔ اس حال میں لگ بھگ ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کئی صدیاں گزر گئی ہوں اور لوگوں کے اس سلوک سے میں تنگ آگیا تھا۔ آخر ایک دن میں اپنے چچا زاد بھائی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچا وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ میں نے ان سے کہا: ’’ اے پیارے بھائی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں؟‘‘ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہے۔ میں نے دوسری مرتبہ قسم دے کر اپنی بات دہرائی۔ وہ خاموش رہے۔ جب میں نے تیسری مرتبہ قسم دے کر یہ بات پوچھی تو انہوں نے صرف اتنا کہا : ’’ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں روتا ہوا وہاں سے اٹھ کر اپنے گھر واپس آگیا۔ مجھے ایسا لگنے لگا کہ یہ کائنات اتنی وسیع ہونے کے باوجود بہت چھوٹی ہو گئی ہے اور زمین مجھ پر تنگ ہو گئی ہے۔ ‘‘
خوش خبری ( بشارت) ملی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر پابندی جاری تھی۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’جب چالیس 40روز ( دن ) گزر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے ذریعے پیغام بھیجا : ’’ اب اپنی بیوی سے الگ ہوجائو۔‘‘ میں نے دریافت کیا: ’’ طلاق دے دوں یا پھر صرف کنارہ کشی اختیار کر لوں؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا : ’’ طلاق مت دو۔ بلکہ اس سے دور رہو۔ ‘‘یعنی نزدیک مت جائو۔ یہی پیغام میرے دونوں ساتھیوں کو بھی بھیجا گیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: ’’ تم اپنے میکے چلی جائو اور اس وقت تک وہاں رہو جب تک اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فر مادیتا ۔‘‘ وہ اپنے میکے چلی گئی۔ ادھر حضرت ہلا ل بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے شوہر بہت بوڑھے ہیں اور ان کا کوئی خاد م بھی نہیں ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض نہ ہوں تو میں ان کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ٹھیک ہے خدمت کرو۔ لیکن وہ تمہارے نزدیک نہ آنے پائیں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ جب سے ان کا بائیکاٹ کیا گیا ہے ان کے دن رات صرف روتے ہوئے گزررہے ہیں اور انہوں نے تب سے میری طرف توجہ نہیں کی ہے۔‘‘ انہیں اجازت مل گئی۔ مجھ سے بھی لوگوں نے کہا کہ میں بھی ان کی طرح اجازت لے لوں۔لیکن میں نے کہا: ’’ میں اس بات کی اجازت نہیں لوں گا۔ کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ اس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کو اور بڑھا دوں گا۔ ویسے بھی میں جوان آدمی ہوں۔ اپنا کام خود کر سکتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد دس بہت بڑے طویل دن اور گزر گئے۔ پچاسویں دن میں نے فجر کی نماز پڑھی اور اپنے گھر کی چھت پر ( آج کل ٹیرس یا بالکنی کہتے ہیں) بیٹھا ہوا تھا اور مجھ پر بہت غمگین حالت طاری تھی میری حالت یہ ہو گئی تھی کہ جینا دو بھر ہو گیا تھا اورزمین مجھ پر تنگ ہو چکی تھی۔ اچانک سلع پہاڑ پر سے کسی نے آواز لگائی: ’’ اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ !تمہیں بشارت ہو تمہارے لئے خوش خبری ہے۔ ‘‘میں فوراً سجدے میں گر پڑا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگا اور میں نے جان لیا کہ اب خوش ہونے کا وقت آگیا ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مبارکباد دینے لگے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خوش خبری ( بشارت ) دی کہ اللہ تعالیٰ ان تینوں سے راضی اور خوش ہو گیا ہے اور یہ خوش خبری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سنائی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مبارکباد دینے کے لئے ان تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف دوڑ پڑے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’فجر کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم تینوں کو معاف کر دیا ہے۔ یہ سنتے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہم تینوں کو مبارکباد دینے کے لئے دوڑ پڑے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہو کر تیزی سے دوڑاتے ہوئے میرے پاس آئے اور بنو اسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہو کر آنے والے سے پہلے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ گئے انہوں نے آواز لگائی اور ان کی آواز پہلے مجھ تک پہنچ گئی۔ جب گھوڑے سوار صحابی رضی اللہ عنہ نے آکر مجھے خوش خبری اور مبارکباد تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر انہیں دے دیئے۔ میرے پاس اس وقت وہی دو کپڑے تھے ۔ میں نے ادھار دو کپڑے لے کر پہنے اور مسجد نبوی کی طرف چل پڑا ۔ راستے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فوج درفوج کی طرح ملے اور تمام لوگ مجھے مبارکباد دے رہے تھے اور کہتے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی قبولیت کا انعام مبارک ہو۔ آخر کار میں مسجد نبوی میں داخل ہو گیا۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اطراف میں بیٹھے تھے۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے میری طرف لپکے ۔ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی ۔ میں ان کا یہ احسان کبھی نہیں بھلا سکتا۔‘‘
سید الانبیاء ﷺ کا چہرہ مبارک جگمگا رہا تھا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ حاضرہوئے اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر مبارکباد دی۔ آپ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’میں آگے بڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو خوشی اور مسرت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس طرح جگمگا رہا تھا جیسے چاند چمک رہا ہو۔ میں نے فوراً سلام عرض کیا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ’’ اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ !آج کا دن تمہیں مبارک ہو۔ تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک تمہارے لئے ایسی خبر اور خوبی والا دن نہیں گزرا ہوگا ۔ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ معافی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ میری بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ’’یہ معافی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک جگمگانے لگتا تھا۔ گویا وہ چاند ہے اور اس سے ہم اندازہ لگا لیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہیں۔ اس کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم ! اس خوشی میں اپنا سارا مال میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمام مال صدقہ نہ کرو بلکہ کچھ اپنے لئے رکھ لو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ میں خیبر والا مال رکھتا ہوں اور باقی اللہ کی راہ میں صدقہ کر تا ہوں۔‘‘ پھر میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی وجہ سے مجھ پر اپنی مہربانی فرمائی ہے۔ اللہ کی قسم ! میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس پر اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کے باعث ایسی مہربانی کی ہو جیسی مجھ پر فرمائی ہے۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے میری بات سن رہے تھے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا فرمان
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شدید جھلسا دینے والی گرمی میں غزوہ تبوک پر نکلے۔ تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیچھے رہ گئے۔ ان سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی توجہ فرمائی۔ جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل پیدا ہو گیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق اور مہربان ہے۔ اور تین شخصوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ زمین وسیع ہونے کے باوجود ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔ سوائے اس کے کہ اللہ کی طرف ہی رجوع کیا جائے۔ پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی تا کہ وہ آئندہ بھی توبہ کر سکیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ( سورہ توبہ آیت نمبر117اور 118)
غزوہ تبوک کا ملک عرب پر اثر
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تیس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر لے کر غزوہ تبوک پر روانہ ہوئے اور سلطنت روم کی سرحد پر جا کر پڑائو ڈال دیا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور کے لئے کھلا چیلنج تھا ۔ تمام دنیا حیرانی سے آنکھیں پھاڑے دیکھتی رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ رومیوں کا لشکر لے کر قیصر روم ہر قل آئے گا اور مسلمانوںکا نام و نشان مٹا دے گا۔ لیکن سلطنت روم کی افواج دُم دبائے بیٹھی رہی اور جو چالیس ہزار کی رومی فوج سلطنت روم کی سرحد پر جمع تھی وہ اسلامی لشکر کے تبوک پہنچنے سے پہلے بھاگ گئی۔ اس طرح تمام عرب اورتمام دنیا کے لوگوں نے سمجھ لیا کہ مسلمانوں سے مقابلے کی ہمت کسی میں نہیں ہے۔ اس غزوہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ تمام دنیا نے مسلمانوں کو ایک بہت بڑی طاقت تسلیم کر لیا۔ خاص طور سے عرب قبائل نے یہ تسلیم کر لیا اور لگ بھگ ہر قبیلے کے وفد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو نے لگے۔
اسلام کو پوری دنیا میں پہنچانا ہے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں ایک مرکز مل گیا تھا۔ اس کے بعد اسلام اور مسلمان ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر نے لگے اور ان کا سب سے بڑاٹکرائو قریش سے ہوا۔ قبیلہ قریش کا عرب میں ایک مقام تھا اور تمام عرب کی نگاہیں قریش اور مسلمانوں کے مقابلوں پر لگی ہوئی تھیں ۔ جب مکہ فتح ہوا اور لگ بھگ تمام قریش نے اسلام قبول کر لیا تو تمام عرب قبائل نے سمجھ لیا کہ اب اسلام اور مسلمان عرب کی سب سے بڑی طاقت بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود کچھ قبیلوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجے میں غزوہ ٔ حنین اور غزوۂ طائف پیش آئے۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب قبائل سے آگے بڑھ کر اس وقت کی سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم سے مقابلے کے لئے ان کے سرحدی مقام تبوک تک پہنچے اور وہاں لگ بھگ بیس دنوں تک رومی لشکر کا انتظار کیا۔ لیکن رومی مقابلے کے لئے نہیں آئے اور تمام عرب کے ساتھ ساتھ تمام دنیا پر بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمانوں کا دبدبہ قائم ہو گیا۔ غزوۂ تبوک کے بعد تمام عرب قبائل نے اسلام اور مسلمانوں کو ایک بڑی طاقت کے طور پر تسلیم کر لیا اور گروہ در گروہ اور فوج د ر فوج کی شکل میں عرب قبائل کے وفود ( وفد کی جمع) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔ غزوہ تبوک در اصل مسلمانوں کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اشارہ تھا کہ اسلام کو صرف عرب تک محدود نہیں رکھنا ہے۔ بلکہ اسے ساری دنیا تک پہنچانا ہے او ر پوری دنیا میں اسلام کو نافذ کرنا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر عمل کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں