اتوار، 2 جولائی، 2023

33 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


33 سیرت سید الانبیاء ﷺ

غزوۂ تبوک۔ قسط نمبر 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


غزوہ تبوک کا سبب، غزوہ تبوک کی تیاری، منافقین کی بہانے بازی اور انکار، دو انصاری صحابی رضی اللہ عنہم کا جذبہ، حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ کا جذبہ، حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ کی محبت،قومِ ثمود پر عذاب کی جگہ ( مقامِ حجر)، 

غزوہ تبوک

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ ،غزوہ حنین ، غزوہ طائف اور جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے اور ذی الحجہ ۸ ؁ ہجری سے لے کر رجب المرجب ۹؁ ہجری تک مدینہ منورہ میں ہی تشریف فرما رہے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی معاشرہ کو مستحکم کرتے رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم و تربیت کرنے کے ساتھ اسلامی حدود کو نافذ کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے تحصیل دار بھیجتے رہے اور مختلف علاقو ں میں سرایا بھی بھیجتے رہے۔ فتح مکہ کے بعد تمام عرب قبائل نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی اور اسلام کی برتری کو تسلیم کر لیا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب قبائل کے وفود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔ ان کا ذکر ہم غزوہ تبوک کے بعد کریں گے ۔ انشاء اللہ ۔ اسلام اور مسلمان عرب علاقوں کی سب سے بڑی طاقت بن چکے تھے۔ اس وقت پوری دنیا میں دو بڑی سوپر پاور ( بڑی طاقت) تھیں۔ پہلی’’ سلطنت روم‘‘ تھی جس کی حکومت پورے یورپ کے علاوہ ملک شام ( یہ یاد رکھیں کہ اس وقت ملک شام بہت بڑا تھا اور فلسطین ،لبنان، اردن بھی اسی میں شامل تھے اور عرب علاقے میں تبوک تک سرحد تھی) پر تھی۔ اس کے علاوہ ملک مصر بھی سلطنت روم کا ماتحت تھا۔سلطنت روم کے حکمراں کا لقب ’’قیصر‘‘تھا۔ دوسری سوپر پاور’’سلطنت فارس‘‘ تھی اس کی حکومت ایران عراق کے آس پاس ہونے کیساتھ ساتھ افغانستان اور مشرقی ایشاء کوچک یعنی سمر قند اور نجارا تک تھی اور روس کے سرحدی علاقے بھی شامل تھے۔ سلطنت فارس کے حکمراں کا لقب ’’کسریٰ‘‘ تھا اور وہاں خاندانی جھگڑے کی بنا پر حکمرانوں کو قتل کیا جا رہا تھا۔ اسی لئے ان کی توجہ اسلام اور مسلمانوں پر نہیں تھی۔ لیکن سلطنت روم بہت مستحکم تھی اور اس کے حکمراں قیصر ہر قل کو اندیشہ تھا کہ اگر اسلام اور مسلمان اگر ایک بڑی طاقت بن گئے تو یقینا سلطنت روم کے لئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو ںگے۔

غزوہ تبوک کا سبب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمان عرب میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر رہے تھے اور ان کے حوصلے اتنے بلند تھے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت سے بھی ٹکرا نے میں ہچکچانہیں رہے تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جنگ موتہ تھی۔ جس میں مسلمان صرف تین ہزار کی تعدادمیں ہوتے ہوئے بھی لگ بھگ ڈھائی لاکھ کے سلطنت روم کے لشکر سے ٹکرا گئے تھے اور پوری دنیا نے حیرت سے اس جنگ کو دیکھا۔ کیوں کہ مسلمان کے شہداء کی تعداد پندرہ سے بھی کم تھی اور رومی لشکر کے بے شمار سپاہی قتل ہو ئے تھے اور ان کے قدم اکھڑ گئے تھے۔ یہ سلطنت روم جیسی سوپر پاور کے لئے بے حد شرم کی بات تھی کہ ان کا اتنا بڑا لشکر جرار مسلمانوں کے مٹھی بھر لشکر کو شکست نہیں دے سکا تھا۔ اس کی وجہ سے ان کی پوری دنیا میں بڑی بدنامی ہورہی تھی۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت امریکہ دریافت نہیں ہوا تھا اور پوری دنیا صرف ایشاء افریقہ اور یورپ تھی) اسی لئے قیصر روم ہرقل نے شام کے سرحدی علاقے تبوک میں لشکر جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ تاکہ مسلمانوں پر ایک فیصلہ کن حملہ کر کے انہیں شکست دے کر اس بدنامی کے داغ کو دھو سکے جو سلطنت روم پر موتہ میں لگا تھا۔

غزوہ تبوک کی تیاری

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل عرب کی طرف سے اطمینان ہو گیا تھا۔ اس لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کی سوپر پاورہ سلطنت روم کی طرف متوجہ ہوئے اور برابر اس کی نقل و حرکت کے بارے میں اپنے جاسوسوں سے رپورٹ لیتے رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ رومیوںکا ایک بہت بڑا لشکر جرّار مسلمانوں سے مقابلے کے آرہا ہے اور اس کا ’’مقدمتہ الجیش ‘‘ (یعنی ہر اول دستہ یا لشکر کاا گلا حصہ )’’بلقاء ‘‘کے مقام تک آچکا ہے ۔ یہ سنتے ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں غزوہ تبوک پر جانے کے لئے اعلان کر وادیا۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو دشمنوں کے نام کا اعلان نہیں فرماتے تھے کہ کہیں دشمن چوکنا نہ ہو جائیں۔ لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور’’ سلطنت روم ‘‘سے جنگ کے لئے ہمیں نکلنا ہے اور اسی کے مطابق اپنی اپنیتیاریاں کر لو۔ چونکہ اس وقت گرمیوں کا موسم چل رہا تھا اور پھل فروٹ اور کھجور وغیرہ کی فصلیں بھی تیار ہو چکی تھیں اور انہیں اگر مناسب وقت پر توڑا نہیں گیا تو فصلیں خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔ اسی لئے اس بے انتہا گرم موسم میں عام طور سے تمام عرب کے لوگ اور خاص طور سے مدینہ منورہ کے لوگ سفر نہیں کرتے تھے۔ اسی لئے غزوہ تبوک ایک آزمائشی جنگ بھی بن گئی۔ اس آزمائش میں مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامیاب ہوگئے اور منافقین ناکام ہو گئے۔

منافقین کی بہانے بازی اور انکار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری کا حکم دیا اور مدینہ منورہ میں اعلان کروا دیا کہ رومیوں سے مقابلہ کے لئے سلطنت روم کے سر حدی علاقے ( جو ملک شام کا بھی علاقہ ہے) تبوک پر پہنچنا ہے۔ یہ اعلان سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خلوص دل سے سفر کی تیاری کر نے لگے۔ لیکن منافقین کے ہوش اڑ گئے۔ کیوں کہ سخت جھلسا دینے والی گرمی پڑ رہی تھی اور ا س غزوہ کے لئے نکلنا بڑی مشقت اور تکلیف کا کام تھا۔ منافقوں کے لئے یہ بڑا صبر آزما مرحلہ تھا۔ اِن لوگوں نے دل سے اسلام قبول نہیں کیا تھا بلکہ دکھاوے کے لئے اور اپنے مفادات کے لئے اسلام قبول کر لیا تھا اور مسلمانوں کی صف میں شامل ہو گئے تھے۔ ورنہ حقیقت میں یہ لوگ دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی انہیں اسلام یا مسلمانوں سے کوئی دلچسپی تھی۔ یہ لوگ اپنے نقاق کو چھپائے رکھتے تھے۔ لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک غزوہ تبوک کے لئے تیاری کا حکم دیا تو منافقو ں کے لئے اپنا نفاق چھپانا بہت مشکل ہو گیا۔ کیوں کہ اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے اس غزوہ پر جانا ضروری تھا اور اگر ساتھ نہ جائیں گے تو ان کا پول کھل جائے گا۔ آخر کار منافقوں نے غزہ تبوک پر نہ جانے کا فیصلہ کیا اور گرمی اور فصل کا بہانہ کر کے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ منافقین کا گروہ مسلمانوں کیساتھ دکھاوے کے لئے اسلامی لشکر کے ساتھ روانہ ہوا۔ لیکن ثنیتہ الوداع میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبیّ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ الگ پڑائو ڈالا اور یہیں سے بہانے بازی کر کے یہ سب منافقین مدینہ منورہ واپس آگئے۔

منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت جھلسا دینے والی گرمی میں غزوہ تبوک کے لئے سفر کرنے کا اعلان فرمایا تو منافقین کا نقاق کھل کر سامنے آگیا۔ ایک منافق جذ بن قیس سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اے جذ!تم بھی رومیوں سے مقابلے کے لئے چلو گے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم)مجھے معاف فرمائیں اور فتنہ میں نہ ڈالیں۔ میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بہت رسیا ہوں۔ اگر میں نے رومی عورتوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکوں گا۔ ‘‘یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: (ترجمہ) ’’منافقوں میں سے ایک وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مجھے معاف کر دیں اور فتنہ میں نہ ڈالیں۔ خبر دار یہ لوگ ہی فتنہ میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی یہ جو رومی عورتوں کے فتنہ میں پڑنے کی بات کر رہا ہے یہ تو اس سے بڑے فتنہ میں پڑ چکا ہے اور وہ فتنہ یہ ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے سے انکار کر رہا ہے اور بے شک دوزخ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے اور منافقوں نے آپس میں بات کی کہ تم گرمی کے سخت جھلسا دینے والے موسم میں سفر کر کے اپنے آپ کو کیوں تکلیف دے رہے ہو؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( ترجمہ )’’ اور منافقوں نے کہا کہ اس گرمی کے موسم میں جہاد پر نہ جائو۔ ان سے کہہ دو ۔ دوزخ کی آگ کی گرمی بہت سخت ہے۔ اگر وہ اس کا شعور رکھتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ اپنے کاموں پر جو وہ کرتے ہیں۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور ایثار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کا اعلان فرما دیا اور آس پاس کے قبائل میں بھی اعلان کروادیا۔ معاملہ چونکہ سوپر پاور سلطنت روم سے ٹکرانے کا تھا اور ان دنوں پریشانی کا وقت چل رہا تھا۔ اس کے باوجود لگ بھگ تیس ہزار کا لشکر جمع ہو گیا ۔ اب اتنے بڑے لشکر کے لئے سواریوں اور سامانِ جنگ اور کھانے پینے کا انتظام کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ کیوں کہ ان دنوں قحط پڑا ہوا تھا اور لوگ انتہائی مفلوک الحال اور عُسرت ( تنگی) کا شکار تھے۔ ایسے حالات میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور ایثار کے بہت سے مظاہرے سامنے آئے۔ یہاں تک کہ خواتین صحابیات نے اپنی چوڑیاں اور زیورات تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ منافقین یہ سب دیکھ کر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے کہ خود تو فقیری کی حالت میں ہیں اور چلے ہیں سوپر پاور سلطنت روم سے مقابلہ کرنے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نیکی میں سبقت کی حِرص

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لشکر کے لئے مال جمع کرنے کی ترغیب دی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لینے لگے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں دیکھا کرتا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اکثر نیکیوں میں مجھ پر سبقت لے جایا کرتے تھے۔ میں نے سوچا کہ آج انشاء اللہ میں ان پر ضرور سبقت لے جائوں گا۔ میں نے اپنے تمام مال کے دو حصے کئے۔ ایک حصہ گھر میں چھوڑ دیا اور دوسرا حصہ لے کر خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا سارامال دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ! بہت سارا مال لے آئے ہو گھر پر بھی کچھ چھوڑا ہے یا نہیں ؟ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آدھا مال گھر پر چھوڑ آیا ہوں اور آدھا لے آیا ہوں۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہوئے اور تمام مال لے کر رکھ لیا۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت سارا مال لے کر آتے دکھائی دیئے۔ قریب آکر آپ رضی اللہ عنہ نے تمام مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ! سارا مال لے آئے ہو یا گھر پر بھی کچھ چھوڑا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !سارا مال لے آیا ہوں اور گھر پر صرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام چھوڑ ا ہے ۔‘‘ یہ سن کر میں نے سوچا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آج بھی مجھ پر سبقت لے گئے۔‘‘

اے اللہ ! تُو عثمان ( غنی) رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو لشکر کے لئے مال جمع کرنے کی ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لشکر کے لئے سو اونٹ ہتھیار اور کھانے کے سامان سمیت دینے کا اعلان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعا ئے خیر دی۔ اور پھر ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اور سو اونٹ دینے کا اعلان کیا۔ اس طرح کرتے کرتے آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ سواری کے لئے اور ستر 70گھوڑے سواری کے لئے دیئے۔ ایک روایت میں ہے کہ ہر اونٹ ہتھیار اور کھانے کے سامان اور لباس کے ساتھ تھا۔ یہاں تک کہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی آپ رضی اللہ عنہ نے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ!تُو عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا کیوں کہ میں اس سے خوش ہو گیا ہوں۔‘‘ اس کے علاوہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار دینا ر( سونے کی اشرفیاں) بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیناروں کو الٹ پلٹ کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: ’’ آج کے بعد کوئی عمل عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ‘‘

دو انصاری صحابی رضی اللہ عنہم کا جذبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ترغیب دینے پر تمام مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دل کھول کر لشکر کے لئے مال جمع کیا۔ جس کی جتنی طاقت تھی اتنی اس نے مدد کی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، چالیس ہزار درہم لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سارا مال لائے ہو یا کچھ گھر پر بھی چھوڑا ہے؟‘‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !گھر میں چالیس ہزار درہم چھوڑ آیا ہوں اور چالیس ہزار درہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لایا ہوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اس مال میں بھی برکت عطا فرمائے جو تم لے کر آئے ہواور اس مال میں بھی برکت عطا فرمائے جو تم گھر چھوڑ آئے ہو۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بہت مالد ار ہو گئے۔ حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ یا کھیت تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نوے 90وسق یعنی ساڑھے تیرہ ہزار کلو کھجوریں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسرت اور خوشی سے اسے قبول کیا اور حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے لئے دعائے خیر کی۔

حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ کا جذبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ترغیب دینے پر ہر صحابی رضی اللہ عنہم اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ پیش کر رہے تھے۔ ان میں ایک مفلس صحابی حضرت ابو عقیل رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ نہیں تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھروں والوں سے کہا: ’’ہر کوئی کچھ نہ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر رہا ہے ، میں بھی اس نیک کام میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے کہا: ’’ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ تو معذور ہیں ۔ ‘‘ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے باہر آئے اور ایک یہودی کے پاس گئے۔ اس یہودی نے کہا : ’’ تم میرے کھجوروں کے باغ میں پانی دو اور ہر ڈول (بالٹی) پر تمہیں ایک کھجور دوں گا۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے کنویں سے پانی کھینچنااور باغ میں ڈالنا شروع کیا۔ ایک ہاتھ سے ڈول کھینچتے تھے اور دوسرا ہاتھ نہ ہونے کی وجہ سے دانت سے رسی کو پکڑتے تھے۔ اس کوشش میں آپ رضی اللہ عنہ کے دانت گرنے لگے۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ ساری رات پانی نکالتے رہے۔ اس طرح رات بھر پانی کھینچنے پر اس یہودی نے آپ رضی اللہ عنہ کو دو صاع کھجوریں دیں۔ ایک صاع آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں کو دیا اور ایک صاع کھجور لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تم نے کہاں سے لائے؟ ‘‘ جواب دینے کے لئے حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ نے منہ کھولا تو منہ سے خون نکل آیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جذبہ دیکھ کر انہیں گلے سے لگایا اور دعائے خیر دی اور ان کی ایک صاع کھجور کو تمام مال کے اوپر رکھ دیا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جذبہ جہاد اور غم

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( تبوک کے سفر کے لئے) ان کے لئے سواریوں کا سوال کروں۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے میرے ساتھیوں نے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سواریاں عنایت فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس وقت تو میرے پاس تمہیں دینے کے کوئی سواری نہیں ہے ۔‘‘ میں غمگین ہو کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور انہیں تمام بات بتائی۔ ہمیں غم اس بات کا تھا کہ ہمیں سواریاں نہیں مل سکیں اور ساتھ ہی اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ناراض نہ ہو گئے ہوں۔ اسی غم میں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ تھوڑی دیر بعد میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی۔ وہ زور سے پکار رہے تھے: ’’ حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کانام ہے) کہاں ہیں؟‘‘ میں فوراً اٹھ کر ان کے پاس پہنچا۔ انہوں نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں یاد کر رہے ہیں۔ ‘‘ میں جلدی جلدی ان کے ساتھ چلتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ یہ دو اونٹ اور دو اونٹنیاں میں نے ابھی ا بھی چھ اونٹوں کے ساتھ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدے ہیں۔ انہیں اپنے ساتھیوں کے لئے لے جائو اور کہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر سوار کیا ہے۔‘‘

غمگین صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے علاوہ کچھ اور مفلس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے۔ امام قسطلانی نے ان کی تعداد اٹھارہ 18بیان کی ہے۔ یہ تعداد کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک پر چلنے کے لئے سواریاں مانگی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میرے پاس اس وقت تمہیں دینے کے لئے سواری کے جانور نہیں ہیں۔‘‘ یہ سن کر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ اسی حال میں واپس چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں قرآن پاک میں سورہ توبہ میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ اور وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ انہیں دُکھ اس بات کا تھا کہ ان کے پاس ( اللہ کے لئے ) خرچ کے لئے کچھ نہیں تھا۔‘‘ ( سورہ توبہ آیت نمبر92) یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی حال میں روتے ہوئے واپس جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں حضرت یامین بن عمرو نضری رضی اللہ عنہ ملے۔ انہوں نے رونے کا سبب دریافت کیا توانہوں نے بتایا : ’’ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور ہیں اور نہ ہی ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم سواریوں اور سفرکے سامان کا انتظام کر سکیں۔ اسی لئے ہمیں غم ہے کہ ہم غزوہ تبوک میں شرکت نہیں کر پا رہے ہیں۔ ‘‘حضرت یامین رضی اللہ عنہ کا دل بھر آیا اور انہوںنے اسی وقت ان کے لئے سواری اور سفر کے سامان کا انتظام کر کے دیا۔

اسلامی لشکر کی روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس 30ہزار کا اسلامی لشکر تیار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت کے مطابق حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ امام عبدالملک بن ہشام نے دونوں کے نا م کو لکھا ہے۔ اس کے علاوہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اہل بیت کی حفاظت اور دیکھ ریکھ کے لئے مدینہ منورہ چھوڑ دیا اور اسلامی لشکر کو لے کر’’ ثنیتہ الوداع‘‘ پر پہنچ کر پڑائو ڈال دیا۔ کچھ علمائے کرام لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو حاکم بنایا اور حضرت سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو کوتوال بنایا۔ ’’ثنیتہ الوداع ‘‘میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی ّ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ الگ پڑائو ڈالا اور جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہوئے تو وہ اپنے منافق ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گیا اور اسلامی لشکر کے ساتھ نہیں گیا۔

تمہاری حیثیت حضرت ہارون علیہ السلام جیسی ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کومدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تا کہ اہل بیت کی دیکھ ریکھ ہو سکے اور غزوہ تبوک کے لئے اسلامی لشکر لے کرروانہ ہوگئے۔ ادھر مدینہ منورہ میں منافقین نے افواہ اڑائی کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بن گئے ہیں۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ یہ افواہیں سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بدن پر ہتھیار سجائے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تیزی سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقامِ’’ جرف ‘‘پر جا کر ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عورتوں اور بچوں کے درمیان چھوڑ کر آگئے اور منافقین اس طرح کی افواہیں مدینہ منورہ میں پھیلا رہے ہیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ لوگ جھوٹے ہیں اور تم میرے لئے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام تھے۔ ( ہاں اتنا ضرور ہے کہ ) میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ کی محبت   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر لے کر تبوک کی طرف روانہ ہو گئے اور مدینہ منورہ میں صرف منافقین رہ گئے۔ ان پیچھے رہ جانے والوں میں چار صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ ان کے نام یہ ہیں (1) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ (2) حضرت مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ (3) حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ (4) حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ ۔ سیرت النبی عیون الثر میں پانچ صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام ہیں اور پانچواں نام حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ (لیکن دوسری روایات سے معلوم ہوا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے تھے لیکن ان کا اونٹ کمزور تھا اس لئے پیچھے رہ گئے تھے۔ آخر کار پیدل ہی سفر کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے تھے) ادھر مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک کی طرف روانہ ہونے کے کئی دن بعد ایک دن حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے ۔ اس دن بہت سخت گرمی پڑ رہی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیویوں نے باغ کے سائبانوں میں خوب اچھی طرح پانی چھڑک کر اسے ٹھنڈا کر رکھا تھا۔ ( حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ تھا اور گھر اسی میں تھا) اور دونوں کھانا تیار کر کے انتظار میں بیٹھی تھیں آپ رضی اللہ عنہ سخت گرمی سے پریشان تھے لیکن ٹھنڈے سائبان میں آکر بہت راحت محسوس ہوئی۔ گرمی اور راحت کا یہ احساس کر کے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اتنی شدید گرمی میں سفر کر رہے ہیں اور ابو خثیمہ یہاں ٹھنڈے سائبان میں پانی کی فراوانی اور عورتوں کے ساتھ کا لطف اٹھا رہا ہے۔ یہ ہرگز انصاف کی بات نہیں ہے۔‘‘ اور اسی وقت سفر کے لئے سواری اور کھانے کا انتظام کر کے ہتھیار لے کر روانہ ہو گئے اور تبوک میں جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ لشکر کے قریب پہنچے تو مسلمانوں نے کسی سوار کو دور سے آتے دیکھ کر کہا: ’’ کوئی سوار آرہا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یقینا ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ ہوں گے۔‘‘ جب وہ قریب آئے تو مسلمانوں نے پہچان لیا اور کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ابوخثیمہ رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔‘‘ انہوں نے اونٹنی کو بٹھایا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا اور تما م واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ’’تمہارے لئے یہی زیادہ بہتر تھا۔‘‘ اور دعائے خیر دی۔

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا شوقِ جہاد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کو لے کر تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ کا اونٹ بہت کمزور تھا۔ اس لئے وہ پورے سفر میں آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہ دے سکا اور اس کی رفتار لشکر کے مقابلے میں دھیمی ہوتی جا رہی تھی۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر سے کافی پیچھے رہ گئے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ اونٹ نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت کوشش کی۔ لیکن اونٹ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ مجبورا ً آپ رضی اللہ عنہ نے اونٹ کو وہیں چھوڑ دیا اور تمام سامان اپنے اوپر لاد کر پیدل ہی اسلامی لشکر کی طرف روانہ ہوئے اور تبوک میں جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچے تو مسلمانوں نے کہا: ’’کوئی پیدل شخص اکیلے ہی آرہا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ یہ ابو ذر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔‘‘ قریب آنے پر مسلمانوں نیپہچان لیا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ یہ آج اکیلے چل رہے ہیں اورانتقال کے وقت بھی اکیلے ہوں گے اور اکیلے ہی اٹھائے جائیں گے۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ربذہ میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو بسا دیا ۔ وہاں ان کے ساتھ صرف ان کی بیوی اور غلام تھے۔ وہیں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ جب میر اانتقال ہو جائے تو مجھے غسل دے کے اور کفن پہنا کر راستے پر رکھ دینا اور جو بھی قافلہ گذرے اس سے کہنا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ لہٰذا انہیں دفن کرنے میں ہماری مدد کرو۔‘‘ اور ایسا ہی ہوا۔ جو قافلہ گزرا اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی لاش کو دیکھ کر فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا۔‘‘ او روہیں دفن کر دیا۔

قومِ ثمود پر عذاب کی جگہ ( مقامِ حجر)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ تبوک جا رہے تھے کہ راستے میں مقام حجر سے گزرے ۔ مقامِ حجر وہی جگہ ہے جہاں قومِ ثمود پر عذاب آیا تھا۔ اس مقام پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرۂ مبارک پر کپڑا ڈال لیا تھا اور اپنی سواری کو تیز چلانے لگے اور فرمایا: ’’ ان لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہونا۔ جنہوں نے ( یعنی قوم ثمود نے ) اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور اگر مجبوراً داخل ہونا پڑے تو روتے ہوئے داخل ہونا اور اس بات سے ڈرنا کہ کہیں تمہیں وہ عذاب نہ پہنچے جو ان لوگوں کو پہنچا ہے۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ رات میں تم پر سخت آندھی چلے گی۔ اس لئے کوئی بھی نہ اٹھے اور اپنے اپنے جانوروں کی رسیاں مضبوطی سے باندھ دیں۔ ‘‘رات میں آندھی آئی۔ اس وقت ایک شخص وادی میں تھا تو ہوا نے اسے اڑا کر قبیلہ بنو طی کے دو پہاڑوں کے درمیان ڈال دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا : ’’ اس علاقے کا پانی بالکل مت پینا اور جن لوگوں نے یہاں کے پانی سے آٹا گوندھ لیا ہے وہ اپنے جانوروں کو وہ آٹا کھلا دیں اور کہیں بھی دو آدمی ساتھ میں جانا اور اکیلے مت جانا۔‘‘ بنو ساعدہ کا ایک آدمی اپنے اونٹ کی تلاش میں اکیلا نکل گیا اور دوسر ا آدمی رفع حاجت ( سنڈاس) کے لئے اکیلا چلا گیا۔ اسے رفع حاجت کی جگہ گلا دبا کر بے ہوش کر دیا گیا اور اونٹ کی تلاش کرنے والے کو قبیلہ بنو طی کے دو پہاڑوں کے درمیان پھینک دیا گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بے ہوش آدمی تو لایا گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے تم لوگوں کو منع کیا تھا۔‘‘ پھر اس کے لئے دعا مانگی تو وہ ہوش میں آگیا اور دوسرے آدمی کو قبیلہ طے والوں نے اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے تھے۔

ایک منافق کی گستاخی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف سفر فرمارہے تھے کہ راستے میں ایک مقام پر پڑائو ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اونٹنی کو تلاش کر نے کا حکم دیا تو ایک منافق زید بن صلت نے کہا: ’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )تو اپنے آپ کو نبی بتاتے ہیں اور تمہیں آسمان کی خبریں دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو یہ بھی ( نعوذ باللہ ) معلوم نہیں ہے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منافق کی بات بتائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک شخص ایسا کہہ رہا ہے۔ ‘‘پھر اس کی گفتگو ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ’’ میں وہی بات جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے بتاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ میری اونٹنی فلاں گھاٹی میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کی مہار ایک پیڑیا جھاڑی میں پھنس گئی ہے۔جس کی وجہ سے وہ یہاں تک نہیں آسکتی ہے۔ جائو وہاں سے اسے لے کر آئو۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فوراً وہاں گئے اور اونٹنی کو لے کر آئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں