33 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 33
فتح کرمان، فتح سجستان یا سیستان، فتح مکران، فتح بیروذ، قاتل کی دھمکی، قاتلانہ حملہ، نماز کی فکر، مجلس شوریٰ(انتخابی مجلس) کا تقرر، خلیفۂ سوم رضی اﷲ عنہ کے لئے ہدایات، رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کی درخواست، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی تدفین، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے انتظامات، نظام خلافت، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وزیر، حاکموں(گورنروں) کے لئے سخت ہدایات، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی سادگی
فتح کرمان
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے سلطنت فارس کے مختلف علاقوں میں الگ الگ لشکر بھیجے تھے،اُن میں سے ایک لشکر حضرت سہیل بن عدی کو دیکر ”کرمان“کی طرف بھیجا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔کرمان کی طرف بھیجے لشکر کے سپہ سالار حضرت سہیل بن عدی تھے،اور وہ ایک لشکر لیکرکرمان پہنچے۔ اس کے ہراول (مقدمة الجیش)کے سپہ سالار بشیر بن عُمر عجلی تھے۔پیچھے سے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان بھی لشکر لیکر پہنچ گئے۔کرمان والوں نے ”فقض“وغیرہ سے مدد طلب کر کے مقابلہ کیا۔مسلمانوں نے چاروں طرف سے گھیر کر جنگ شروع کردی،دوران جنگ کرمان کا حاکم ”مر زبان“حضرت بشیر بن عُمر عجلی کے ہاتھوں مارا گیا۔جس کی وجہ سے دشمنوں میں بھگڈر مچ گئی،اور میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا۔حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ اور حضرت بشیر بن عُمر نے ”جے رفت“اور ”سیر ذاد“تک دشمنوں کا تعاقب کیا،اور مارتے چلے گئے۔بے شمار اونٹ اور بکریاں مال غنیمت کے طور پر ہاتھ آئیں۔
فتح سجستان یا سیستان
حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو سجستان یا سیستان کی طرف لشکر لیکر روانہ ہونے کا حکم دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔”سجستان“کو ”سیستان“بھی کہتے ہیں۔یہ ملک حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں فتح ہوا۔جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت عبد اﷲ بن عُمیر آگئے تھے۔یہاں کے رہنے والے سیستان سے باہر نکل کر ایک خفیف جنگ لڑ کر بھاگے۔حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ برابر بڑھتے گئے،اور ”زرنج“پہنچ کر محاصرہ کرلیا۔یہ سجستان کا ایک اور اہم مقام ہے،۔چند دنوں کے محاصرہ کے بعد محصورین نے صلح کی درخواست کی،جو مسلمانوں نے منظور کر لی۔سجستان ملک خراسان سے بھی بڑا ہے،اور اس کی سرحدیںدور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔اِس ملک پر قبضہ کرنے سے قندھار سے لیکر ممالک ترک تک اور دوسری قوموں کے ممالک کی فتح کی کنجی ہاتھ آگئی،اور وقتاً فوقتاً اُن پر مسلمان حملے بھی کرتے رہے۔
فتح مکران
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بھیجے ہوئے تمام سپہ سالار اپنے اپنے علاقے میں فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اسلامی لشکروں کے سپہ سالاروں میں سے حضرت حکم بن عمرو تغلبی نے ۳۲ ہجری میں ”مکران“کا قصد کیا۔اُن کے بعد حضرت شہاب بن مخارق،حضرت سہیل بن عدی،اور حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان بھی اپنے اپنے لشکر لیکر روانہ ہوئے۔سب نے ”دوین“پہنچ کر لشکروں کو مرتب کیا،اور مکران کا حاکم ”راسل“بھی اپنی فوج لیکر مسلمانوں کے سامنے آگیا۔اُس کی امداد کے لئے ”سندھ“(حالیہ پاکستان)سے بھی ایک بڑا لشکر ساتھ میں تھا۔جنگ شروع ہوئی ،اور مسلمانوں نے ایک بہت بڑی جنگ کے بعد راسل کو شکست دیکر مکران پر قبضہ کر لیا۔حضرت حکم بن عمرو تغلبی نے فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس دربار خلافت میں روانہ کیا۔قاصد حضرت صحار عبدی مدینہ منورہ آئے،اور تمام حالات تفصیل سے بیان کئے۔امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سہیل بن عدی اور حضرت عاصم بن عمرورضی اﷲ عنہ کو لکھ کر حکم دیا کہ مسلمان جہاں تک پہنچے ہیں،وہیں رک جائیں۔اور جو بلاد اس وقت تک فتح ہو چکے ہیں،انہیں پر اکتفا کی جائے۔
فتح بیروذ
امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے سلطنت فارس کے مختلف علاقوں میں الگ الگ لشکر روانہ فرمائے تھے۔اُس وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو اُن کی مدد کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے جس وقت سپہ سالاروں کو ایک ایک لشکر دے کرمقررہ سمتوں کی طرف روانگی کا حکم دیا تو یہ لوگ حکم پاتے ہی بلاد فارس(ایران)کی طرف بڑھے۔اسی زمانہ میں حفاظت کی غرض سے یہ انتظام کر دیا تھاکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو کثیر لشکر کا سپہ سالار بنا کر حدود ِ بصرہ پر قیام کرنے کا حکم دیا تھا۔”نہر تیری“اور ”مناور“کے درمیان مقام”بیروز“میں اہل اہواز کی مشہور قوم ”کرد“سالمی فتوحات کے سیلاب کی روک تھام کی غرض سے جمع ہوئی تھی۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو اس کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے لشکر کے ساتھ ”بیروذ“پر حملہ کر دیا۔فریقین نے جی توڑ کر مقابلہ کیا،حضرت مہاجر بن زیاد اِس جنگ میں شہید ہوگئے۔ایک بہت بڑی خونریز جنگ کے بعد مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی۔کردوں نے بھاگ کر قالعہ میں پناہ لی،اور قلعہ بند ہوکر لڑائی جاری رکھی۔اس کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر پر اپنے بھائی حضرت ربیع بن زیاد کو نائب مقرر کر کے چند دستہ لشکر لیکر اصفہان گئے،اور محاصرہ کر لیا۔جب وہ فتح ہو گیا تو بصرہ واپس آئے۔اور اِس عرصہ میں حضرت ربیع بن زیاد نے بیروذ کو فتح کر لیا تھا،اور مال غنیمت جمع کر کے اس کا خمس نکال کر مجاہدین میں تقسیم کردیا۔اور مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوش خبری دربارِ خلافت میں روانہ کر دیا۔
قاتل کی دھمکی
مسلمانوں نے جب نہاوند میں فتح حاصل کی،تو اُس جنگ میں بہت سے فارسیوں یعنی مجوسیوں کو قید کر لیا گیا تھا۔اِن قیدیوں میں بد بخت فیروز بھی تھا،اس کی کنیت ابولوالواةتھی۔اِسے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے قید کیا تھا یا خرید لیا تھا،اور مدینہ¿ منورہ لیکر آگئے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب نہاوند کے قیدی لائے گئے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کا غلام ابو لوالواةفیروز جب کسی بچے کو دیکھتا تھاتو اُس کے سر پر ہاتھ پھرتا تھااور روتا تھا،اور کہتا تھا؛”حضرت عُمر(رضی اﷲ عنہ ) نے میرا کلیجہ کھا لیا ہے۔“ایک دن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بازار میں گشت کر رہے تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو ابو لوالواةملا،وہ عیسائی تھا،وہ بولا؛”اے امیر المومنین (رضی اﷲ عنہ)!آپ میرے مالک مغیرہ بن شعبہ(رضی اﷲ عنہ ) سے میری سفارش کر دیں،کیونکہ وہ مجھ سے میری طاقت سے زیادہ خراج لیتے ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم پر کتنا خراج ہے؟“وہ بولا؛”روزآنہ دو درہم۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے پوچھا؛”تمہارا پیشہ کیا ہے؟“وہ بولا؛”بڑھئی(مستری)ہوں،اور نقاش اور لوہار بھی ہوں۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”چونکہ تم کئی کام کرتے ہو،اِس لئے تمہارا خراج زیادہ نہیں ہے۔اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ایسی چکی بنا سکتے ہو،جو ہوا سے چلے اور اناج پیس دے؟“اُس نے کہا؛”ہاں !میں بنا سکتا ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”پھر تم میرے لئے ایسی چکی بنادو۔“وہ بولا؛”اگر میں زندہ رہاتو آپ کے لئے ایسی چکی بناو¿ں گا،جس کا چرچا مشرق و مغرب میں رہے گا۔“یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس غلام نے مجھے دھمکی دی ہے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ واپس آگئے۔
حضرت کعب احبار کی پیشن گوئی
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں دوسرے دن حضرت کعب احبار حاضر ہوئے،اور پیشن گوئی کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب دوسرا دن ہوا تو حضرت کعب احبار نے آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !میرا خیال ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا تین دن میںانتقال ہو جائے گا۔“(حضرت کعب احبار بہت بڑے یہودی عالم تھے،اور چند سال پہلے اسلام قبول کیا تھا)امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تمہیں کیسے معلوم ہوا؟“وہ بولے؛”مجھے اﷲ بزرگ وبرتر کی کتاب توریت میں یہ بات لکھی نظر آئی ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا تمہیں عُمر بن خطاب کا نام بھی توریت میں ملا ہے؟“وہ بولے؛”آپ رضی اﷲ عنہ کا نام تو نہیں ہے،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کا حلیہ اور صفت ضرور موجود ہے۔اور اِس بات کا پتہ چلا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔“ راوی کا بیان ہے کہ اُس وقت حضرت عُمر فاروق رضی عنہ کو کوئی بیماری اور تکلیف نہیں تھی۔دوسرے دن حضرت کعب آئے،اور بولے؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !ایک دن گذر گیا ہے،اور دو دن باقی ہیں۔“پھر اگلے دن آکر بولے؛”دودن گذر گئے،اور صرف ایک دن باقی ہے،اب آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی صبح تک ہے۔“
قاتلانہ حملہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے فیروز ابولوالواةبہت شدید دشمنی رکھتا تھا،اورپہلے سے آپ رضی ا ﷲ عنہ کے خلاف کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا،تیسرے دن فجر کی نماز کے وقت وہ مسجد میں چھپ گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اگلی صبح ہوئی تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فجر کی نماز کے لئے نکلے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے صف بندی کے لئے آدمی مقرر کر رکھے تھے۔جب صف بندی ہو گئی،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے تکبیر کہہ کر نماز پڑھانی شروع کر دی۔تب اُس وقت ابو لوالواة نمازیوں کی صفوں میں گھس گیا،اُس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔اُس کے دونوں طرف تیز دھاروں کے پھل تھے،اس کا دستہ درمیان میں تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نماز پڑھا رہے تھے،اُس بد بخت نے آپ رضی اﷲ عنہ پر خنجر سے وار کیا،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔ اُس نے دوسرا وار کیا،لیکن جب دیکھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھا رہے ہیںتو مسلسل وار کرتا چلا گیا۔اُس بد بخت نے آپ رضی اﷲ عنہ پر چھ وار کئے،تب تک آپ رضی اﷲ عنہ کا خون زیادہ بہہ چکا تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ چکرا کر گرنے لگے،تو فرمایا؛”حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نماز پڑھائیں۔“اور گر گئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے باقی کی نماز مکمل کی۔نماز پوری ہونے تک وہ بد بخت ابولوالواة مسجد سے باہر نکلنے کے لئے تیرہ (۳۱) نمازیوں کو زخمی کر چکا تھا۔لیکن مسجد سے باہر نہیں نکل پایاتھا،نماز مکمل ہونے کے بعد اُسے گرفتار کر لیا گیا،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اُٹھا کر گھر پر لایا گیا۔اِس دوران زخمی حضرت کلیب بن ابی بکیر لیثی شہید ہو چکے تھے۔اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بے ہوش تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے فوراًحضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو پیچھے سے کھینچ کر اپنی جگہ کھڑا کر دیا،اور خود صدمہ¿ زخم سے بے ہوش ہو کر گر پڑے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے اِس حالت میں نماز پڑھائی کہ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ مسجد کے فرش پر تڑپ رہے تھے۔ابو لوالواةمسجد سے نکلنے کے لئے کئی نمازیوں کو زخمی کر چکا تھا،اور حضرت کلیب بن ابی بکیر لیثی رضی اﷲ عنہ کو شہید کر چکا تھا۔بالآخر وہ گرفتار کر لیا گیاتو اُس نے خود کشی کرلی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور عجمی کافر خنجر لیکرواپس نکلنے لگا،اور وہ جس نمازی کے پاس سے گذرتا ،اُس پر وار کردیتا تھا۔حتیٰ کہ اُس نے تیرہ نمازیوں پر وار کئے،جن میں سے چھ نمازی شہید ہو گئے۔نماز مکمل ہونے کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے اُس پر اپنا کوٹ اُتار کر پھینکا تو اُس نے خود کشی کر لی۔اﷲ اُس بد بخت پر لعنت کرے۔
نماز کی فکر
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بے ہوشی کے عالم میں اُٹھا کر گھر لایا گیا۔جب ہوش آیا تو حملہ آور کے بارے میں دریافت فرمایا۔جب بتایا گیا کہ ایک عیسائی یا مجوسی نے حملہ کیا،تو اﷲ کا شکر ادا کیا کہ حملہ آور مسلمان نہیں ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اُٹھا کر اُن کے گھر لایا گیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے زخموں سے خون جاری تھا،اور یہ واقعہ سورج نکلنے سے پہلے کا ہے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ کو ہوش آتا پھر آپ رضی اﷲ عنہ بے ہوش ہو جاتے۔پھر لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس نماز کا ذکر کرتے تو آپ رضی اﷲ عنہ ہوش میں آجاتے،اور فرماتے ؛”بہت اچھا!اور اُس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے،جو نماز نہیں پڑھتا ہے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ اُسی وقت نماز پڑھتے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حملہ آور کے بارے میں دریافت فرمایاکہ وہ کون ہے۔لوگوں نے بتایا کہ ابو لوالواة ہے،یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اُس اﷲ کا شکر ہے ،جس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں کروائی جو ایمان کا دعویدار ہے،بلکہ اس کے ہاتھوں ہوئی جس نے اﷲ کو ایک سجدہ بھی نہیں کیا۔“
مجلس شوریٰ(انتخابی مجلس) کا تقرر
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی یہ کیفیت تھی کہ ہوش میں آتے ،کچھ دیر ہوش میں رہنے کے بعد خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے غنودگی طاری ہو جاتی یا غشی آجاتی یا بے ہوش ہو جاتے تھے۔لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس کیفیت میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کا خیال تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر مسلمان آپ رضی اﷲ عنہ کا اُٹھا کر گھر لے آئے،جہاں آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو بلوایا،اور فرمایا؛”میں آپ رضی اﷲ عنہ سے ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں۔“انہوں نے عرض کیا؛”اے امیر المومنین !کیاآپ رضی اﷲ عنہ اس(خلیفہ نامزد کرنے )کی طرف اشارہ کر رہے ہیں؟“(خلیفہ¿ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی جگہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ نامزد کر دیا تھا)آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”نہیں۔(بلکہ میں چھ لوگوں کو نامزد کروں گا،اُن میں سے کسی ایک کو چُن لینا)“حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !اﷲ کی قسم میں اس میں شامل نہیں ہوں گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ ذرا صبر کریں،یہاں تک کہ میں اُن لوگوں سے مشورہ کرلوں ،جن سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ساری زندگی خوش رہے۔“پھر فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ حضرت علی بن ابی طالب،حضرت عثمان بن عفان،حضرت زبیر بن عوام،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہم کو بلا لایئے۔“جب یہ سب لوگ آگئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہم اپنے بھائی حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کاتین دن انتظار کرنا(غالباً وہ کسی سفر پر گئے ہوئے تھے)اگر وہ آجائیں(تو انہیں مشورے میں شامل کر لینا)ورنہ اپنے معاملے(خلیفہ چننے )کا خود فیصلہ کر لینا۔“علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے وصیت کی کہ آپ رضی اﷲ عنہ کے بعد خلافت کا مسئلہ اُن چھ آدمیوں کے مشورے سے طے پائے گا،جن سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وصال کے وقت راضی تھے۔اور وہ چھ آدمی یہ تھے،حضرت علی بن ابی طالب،حضرت عثمان بن عفان،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ ،حضرت عبد الرحمن بن عوف،حضرت زبیر بن عوام،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہم ۔
خلیفۂ سوم رضی اﷲ عنہ کے لئے ہدایات
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے چھ بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی مجلس ِشوریٰ بنادی۔اور اُن چھ لوگوں کو حکم دیا کہ تین دن کے اندر اندر تم لوگ آپس میں مشورہ کر کے کسی ایک کو خلیفہ چُن لینا۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ سوم کو ہدایات دیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مجلس شوریٰ کے ارکان سے فرمایا؛”اے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ !میں تمہیں اﷲ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر تم خلیفہ بن جاو¿ تو بنو ہاشم کو لوگوں کے سروں پر مسلط نہیں کردینا۔اے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ !میں تمہیں اﷲ کو واسطہ دیتا ہوں کہ اگر تم خلیفہ بن جاو¿ تو بنو ابو معیط کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہیں کر دینا۔اے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ !اگر تم خلیفہ بنادیئے جاو¿ تو تم اپنے رشتہ داروں کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہیں کرنا۔اب تم سب کھڑے ہو جاو¿،اور آپس میں مشورہ کر کے اپنے معاملے کا تصفیہ کر لو۔اُس وقت تک مسلمانوں کو حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ نماز پڑھائیں گے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ کو بلوایا،اور فرمایا؛”تم اِن کے دروازے پر کھڑے ہو جانا،اور کسی کو ان کے پاس جانے نہیں دینا۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”میں اپنے بعد کے آنے والے خلیفہ کو یہ ہدایت دیتا ہوں کہ وہ انصارکے ساتھ حسن سلوک کرے،جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور اسلام کی ہر طرح سے مدد کی۔اُن کے نیکوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے،اور بُروں سے در گذر کیا جائے۔“اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو عربوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ چونکہ وہ اسلام کی بنیاد ہیں،اِس لئے اُن کے صدقات میں سے اُن کا حق وصول کر کے اُن کے غریبوں کو دیا جائے۔اورمیں اپنے بعد کے خلیفہ سے وصیت کرتا ہوں کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذمیوں کے معاہدات کو پورا کریں۔اے اﷲ تعالیٰ!میں نے اپنا پیغام پہنچا دیاہے ،اور میں نے آنے والے خلیفہ کو صاف ستھرے حالات میں چھوڑا ہے۔“
رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کی درخواست
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی تمنا تھی کہ انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے۔اِس کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی ۔(کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ”حجرہ¿ عائشہ“میں دفن ہیں۔)انہوں نے فرمایا؛”یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی،لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مجھ سے زیادہ اِس جگہ کے حقدار ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا؛”اے بیٹے عبداﷲ (بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ)!مجھ پر کس نے حملہ کیا ہے؟“انہوں نے عرض کیا؛”اے ابوجان!آپ رضی اﷲ عنہ پرحضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کے غلام نے حملہ کیا ہے۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛” اﷲ کا شکر ہے کہ میری موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہورہی ہے،جس نے ایک بھی سجدہ کیا ہو۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے بیٹے عبداﷲ (بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ)!تم اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے پاس جاو¿۔اور اُن سے درخواست کرو کہ مجھے اجازت دیں کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پہلو میں دفن ہوجاو¿ں۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”اے بیٹے عبداﷲ (بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ)!اگر یہ لوگ(مجلس شوریٰ کے چھ ارکان)اختلاف کریںتو تم اکثریت کے ساتھ رہنااور دونوں طرف برابر یعنی تین تین ہوںتو تم اُن کے ساتھ رہنا،جس میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ ہوں۔
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی تدفین
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اگلے خلیفہ کا انتظام کردیا،تب عام لوگوں کو ملنے کی اجازت دی گئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے بیٹے عبداﷲ(بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ)اب تم لوگوں کو آنے کی اجازت دے دو۔“اجازت ملتے ہی مہاجرین اور انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم داضل ہوئے،اور سلام کرنے لگے۔اور لوگوں نے عرض کیا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !کسی طبیب(ڈاکٹر) کو بلوا لیں۔“حضرت حارث بن کعب طبیب رضی اﷲ عنہ کو لایا گیا۔انہوں نے دوا پلائی تو وہ ذخموں کے راستے نکل گئی۔پھر آپ رضی ا ﷲ عنہ کو دودھ پلایا گیا تو وہ بھی سفید رنگ کی حالت میں زخموں سے نکل گیا۔طبیب نے کہا؛”یہ اِن زخموں سے شہید ہو جائیں گے۔“لوگوں نے عرض کیا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ!(خلافت کے بارے میں)وصیت کردیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں فارغ ہو چکا ہوں۔“ رات میں آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے،اور صبح آپ رضی اﷲ عنہ کا جنازہ اُٹھایا گیا۔حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔اور ”حجرہ¿ عائشہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔اور ارکان شوریٰ کے پانچ ممبران نے قبر میں اُتارا۔چھٹے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ موجود نہیں تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی مدت خلافت دس سال پانچ مہینے یا چھے مہینے رہی۔اورآپ رضی اﷲ عنہ ذی الحجہ ۳۲ ہجری کے آخری دنوں میں یا ایک محرم الحرام ۴۲ ہجری میں شہید ہوئے۔
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے انتظامات
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں اﷲ کے قانون کو ہر طرح سے نافذ فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں،جنہیں ”امیر المومنین “کہا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی اسلامی تا ریخ ہجری کی شروعات کی،اور مسلمانوں کو تراویح پر جمع کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں ،جنہوں نے رات کو مدینہ¿ منورہ میں پاسبانی کی،اور درہ اُٹھایا۔اور اس سے تادیب کی،اور شراب نوشی کی سزا میں اسی(۰۸)کوڑے لگائے۔اور روزینے جاری کئے،اور شہر تعمیر کئے،اور فوجوں کو منظم کیا،اور ٹیکس ساقط کیا۔اور رجسٹر بنائے،اور عطیات پیش کئے،اور قاضی مقرر کئے،اور ضلعے بنائے۔جیسے کہ سواد،اہواز،جبال،اور فارس وغیرہ۔اور پورا ملک شام ،الجزیرہ،موصل،میا فارقین،آمد،آرمینیہ،ملک مصر اور اسکندریہ فتح کیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے وقت مسلمانوں کے لشکر ”بلادرے“پر چڑھائی کئے ہوئے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں ملک شام میں ”سلطنت روم“ میںیرموک، بصریٰ، دمشق، اردن،بیسان،طبریہ،جابیہ،فلسطین،رملہ،عسقلان،غزہ،سواحل اور ”بیت المقدس“کو فتح ہوا۔اور الجزیرہ اور”سلطنت فارس“ میں، حران، رہا، رقہ، نصیبن ،راس عین،شمشاط،عین وردہ،دیار بکرربیعہ، بصرہ،بلاد موصل،اور تمام آرمینیہ فتح ہوا۔اس کے علاوہ سلطنت فارس میں ملک عراق میں قادسیہ،حیرہ،دریائے سیر،ساباط، مدائن،فرات،دجلہ،ابلہ،اہواز،نہاوند،ہمدان ، رے ، قومس ، خراسان، اصطخر،اصبہان یا اصفہان، سوس، مرو، نیشاپور، جرجان، اور آذربائیجان وغیرہ فتح ہوا۔
نظام خلافت
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں فتوحات بہت زیادہ ہوئیں،اور مملکت اسلامیہ بہت وسیع ہوگئی۔اِس کا حدودِاربعہ مکہ¿ مکرمہ سے شمال کی طرف ایک ہزار چھتیس (۶۳۰۱)میل تھا۔مکہ¿ مکرمہ کے مشرق میں ایک ہزار ستاسی(۷۸۰۱)میل تھا۔جنوب میں چار سو تراسی(۳۸۴) میل تھا۔اور مغرب میںجدہ تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مملکت اسلامیہ میں صوبے اور ضلع بنا کر بہترین انتظامات کئے۔ملک عرب میںمکہ¿ مکرمہ ،مدینہ¿ منورہ، طائف، یمن اور بحرین کو صوبے یا ضلع بنائے۔ملک شام میں دمشق،حمص،ایلیاہ(بیت المقدس) رملہ،اور فلسطین کو صوبے یا ضلع بنائے۔ملک مصر میں زیریں حصہ میں پندرہ ضلع بنائے،اور بالائی حصہ میں اٹھائیس ضلع بنائے۔ملک عراق میں الجزیرہ،بصرہ ،کوفہ اور دوآبہ کو صوبے یا ضلع بنائے۔ملک ایران میں مدائن ،خراسان،آذربائیجان ،فارس،آرمینیہ،خوزستان اور کرمان کو صوبے یا ضلع بنائے۔ ہر صوبہ یا ضلع میں گورنر(حاکم) مقرر فرمائے،جن پرملکی نظم و نسق قائم رکھنے کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ہر صوبہ یا ضلع میں سات عہدے دار یا ذمہ دار ہوتے تھے۔(1) گورنر،جو صوبہ یا ضلع کا حاکم ہوتا تھا(2)کاتب یعنی حکومت کے تمام معاملات لکھنے والا۔(3) کاتب دیوان(4)خراج یا جزیہ وصول کرنے والا(5)صاحب احداث یعنی پولیس کا اعلیٰ افسر(6)صاحب بیت المال یعنی خزانچی(7)قاضی یعنی سپریم کورٹ کا جج۔اِن سب کا تقرر خود حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کرتے تھے۔اور ہر کسی کو یہ احساس دلاتے تھے کہ اُسے اﷲ تعالیٰ کو جواب دینا ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وزیر
خلیفۂ دوم حضرت عُمر رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کئی اعزازات عطا فرمائے ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وزیر ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ” میری اُمت میں اﷲ کے دین کے بارے میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سب سے سخت گیر ہیں۔“اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہیں،اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہیں۔آسمان والوں میں سے جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام ہیں۔اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ہیں۔اور یہ دونوں بطور سمع و بصر کے ہیں۔“اور اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”بے شک شیطان حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ڈرتا ہے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میری اُمت کے سب سے ”رحیم “انسان حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہیں۔اور اﷲ کے دین کے بارے میں سب سے زیادہ”سخت گیر“انسان حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہیں۔“
حاکموں(گورنروں) کے لئے سخت ہدایات
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اﷲ کے دین کے معاملے میں بہت سخت تھے،اور ایسی اُمید وہ اپنے گورنروں(حاکموں) سے بھی رکھتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب کسی کو گورنر(حکم) مقرر کرتے تھے تو اُس کے لئے ”عبد “ لکھتے تھے۔اور اِس پر مہاجر صحابہ کے ایک گروہ کی گواہی دلواتے تھے،اور یہ شرط عائد کرتے تھے کہ وہ ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہو گا۔اور بہت ہی نفیس کھانے نہیںکھائے گا،اور باریک لباس نہیں پہنے گا۔اور ضرورت مندوں کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے گا،اور اگر اُس نے اِن میں سے کسی بھی ہدایت کی خلاف ورزی کی تواُس پر سزا واجب ہو جائے گی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔گورنروں کی تقرری کے وقت یہ عہد ضرور لیا جاتا تھا۔(۱)ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہونا۔(۲)باریک کپڑے نہیں پہننا ۔ (۳) چھنا ہوا آٹا نہیں کھانا۔(۴)دروازے پر دربان نہیں رکھنا (۵) اہل حاجت کے لئے ہمیشہ دروازے کو کھلا رکھنا۔گرونروں کو تمام فرائض سے تفصیل سے واقف کرایا جاتا تھا۔ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ عنہ نے خطبے میں گورنروں سے فرمایا؛”آگاہ ہو جاو¿کہ میں نے تمہیں حکمراں اور سخت گیر مقرر کر کے نہیں بھیجا ہے،بلکہ امام بنا کر بھیجا ہے کہ لوگ تم سے ہدایت پائیں۔تم لوگ عام مسلمانوں کے حقوق ادا کرواور ان کو ذدو کوب نہ کروکہ وہ ذلت محسوس کریں،اور نہ ہی اُن کی بے جا تعریف کرو،کہ وہ غلطی میں پڑیں۔اور نہ اُن کے لئے اپنے دروازوں کو بند کرو کہ زبردست کمزور کو ستائیں۔اور نہ ہی اُن سے کسی بات میں اپنے آپ کو ترجیح دو کہ یہ اُن پر ظلم کرنا ہے۔تمام گورنروں کو حج کے دنوں میں حاضر ہونے کا حکم تھا۔اور زمانہ¿ حج میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ عوام سے یہ دریافت کرتے کہ اگر انہیں اپنے گورنر(حاکم )سے کوئی شکایت ہو تو بتائے۔
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی سادگی
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ انتہائی سادہ زندگی گذارتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کپڑے پر دونوں کندھوں کے درمیان چار پیوند لگے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی تہبند میں چمڑے کے پیوند لگے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی چادر میں بارہ پیوند لگے ہوئے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے حج میں سولہ دینار خرچ کئے،اور اپنے بیٹے سے فرمایا؛”ہم نے فضول خرچی کی ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ کسی چیز کا سایہ نہیں لیتے تھے،ہاں اپنی چادر کو درخت پر ڈال کر اس کے نیچے سایہ لیتے تھے۔،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس کوئی خیمہ نہیں تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کا فرش مینڈھے کی اون کا تھا،اور جب اترتے تھے تو وہی آپ رضی اﷲ عنہ کا بچھونا ہوتا تھا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ چھال سے بھرا ہوا ایک تھیلہ رکھتے تھے،اور وہی آپ رضی اﷲ عنہ کا تکیہ ہوتا ہے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس ایک چادرکھردرے کپڑے کی تھی،جو بوسیدہ ہو چکی تھی۔
بچوں کا خیال
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ عوام کی خدمت کے لئے ہمہ وقت حاضر رہتے تھے،اور کوشش کرتے تھے کہ عوام کو ہر طرح کی سہولت ملے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔مدینہ¿ منورہ میں تاجروں کا ایک قافلہ آیا،اُس میں عورتیں اور بچے بھی تھے۔انہوں نے نماز پڑھنے کی جگہ کے قریب قیام کیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”کیاآپ رضی اﷲ عنہ رات کو ان کی حفاظت کر سکتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا؛”ہاں“پس دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم نے اُن کی حفاظت کرتے اور نماز پڑھتے رات گزاری۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس کی طرف گئے۔اور اُس کی ماں سے فرمایا؛”اﷲ سے ڈر ،اور اپنے بچے سے حسن سلوک کر۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ اپنی جگہ واپس آگئے۔کچھ دیر بعد پھر بچے کے رونے کی آواز سنی تو دوبارہ گئے،اور سمجھا کر آگئے۔لیکن پھر کچھ دیر بعد بچہ رونے لگاتو آپ رضی ا ﷲعنہ اُس عورت کے پاس گئے،اور فرمایا؛”تم بہت بُری ماں ہو،میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بچے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔“اُس عورت نے کہا؛”اے اﷲ کے بندے!میں اِس کا دودھ چھڑا رہی ہوں ،اسی لئے یہ رو رہا ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیوں؟“اُس عورت نے کہا؛”وہ اِس لئے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا قاعدہ ہے کہ جب بچے کا دودھ چھڑا دیا جائے تواُس کا روزینہ(وظیفہ)جاری کیا جائے۔میں بہت غریب عورت ہوں،وظیفے سے میری کچھ مدد ہو جائے گی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے پوچھا؛”بچہ کتنا بڑا ہے؟“اُس عورت نے بتایا کہ اتنے ماہ کا ہے۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم اسے اس کی مدت پوری ہونے تک دودھ نہ چھڑاو¿۔“اور جب صبح آپ رضی اﷲ عنہ نے فجر کی نماز پڑھائی تو رونے کے باعث واضح قرا¿ت نہیں کر سکے۔نماز مکمل کرنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”عُمر (رضی اﷲ عنہ) کی شدت نے مسلمانوں کے نہ جانے کتنے بچوں کو تکلیف میں مبتلا کیا ہوگا۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے منادی کو اعلان کرنے کا حکم دیا کہ اپنے بچوں کا دودھ چھڑانے میں جلدی نہ کرو،امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے بچہ پیدا ہوتے ہی اُس کا روزینہ مقرر کر دیا ہے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ بات لکھ کر تمام گورنروں کو بھی بھیج دی۔
احساس ذمہ داری
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ اُن کے دورِخلافت میں عوام کو ہر طرح سکون آرام اور سہولت میسر ہو۔ورنہ کہیں ایسانہ ہو کہ اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ناراض ہوجائیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام حضرت اسلم فرماتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اکثر راتوں میں اُٹھ کر گشت کرتے تھے،اور یہ دیکھتے تھے کہ کہیں کوئی تکلیف یا پریشانی میں تو نہیں ہے۔ایک دن ہم گشت پر تھے،کہ ہم نے دیکھا کہ ایک نسبتاً اونچے مقام پر آگ جلنے کی روشنی دکھائی دی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اسلم ! مجھے لگتا ہے کہ کوئی قافلہ آکر وہاں پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ تحقیق کے لئے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ خیمے لگے ہیں،اور لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔اور ایک کنارے خیمے کے باہر ایک عورت چولہے پر آگ جلائے کچھ پکا رہی ہے،اور اُس کے بچے رو رہے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اسلام علیکم !اے روشنی والو۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے ”اصحاب النار“(آگ والو) نہیں فرمایا۔اُس عورت نے سلام کا جواب دیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیاہم قریب آسکتے ہیں؟“وہ عورت بولی؛”اگر شرافت کے ساتھ آنا چاہتے ہو تو آجاو¿۔“اُس کے قریب آکر فرمایا؛”کیاحال ہے؟“اُس نے کہا ”بہت برا حال ہے،رات اور سردی کی وجہ سے ہمیں یہاں پڑاو¿ ڈالنا پڑا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟“اُس عورت نے کہا؛”یہ بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں،اور میرے پاس اِن کو کھانے کے لئے دینے کو کچھ نہیں ہے۔میں یونہی ہینڈیا چڑھائے ہوئے ہوں کہ بچوں کو تسلی رہے کہ کچھ پک رہاہے۔اور اِسی اُمید میں انہیں نیند آجائے۔بہر حال اﷲہی ہمارے اور امیر المومنین کے درمیان فیصلہ کرے گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ تم پر رحم فرمائے،عُمر کو تمہاری حالت کیسے معلوم ہو سکتی ہے؟“وہ بولی؛”وہ ہم پر حکومت کرتے ہیں،اور ہم سے غافل ہیں۔“اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم ذرا انتظار کرو۔“اور مجھے ساتھ لیکرتیزی سے ”بیت المال “میں آئے،اور وہاں سے ایک آٹے کی بوری نکالی،اور ایک تیل کی کپی لی،اور مجھ سے فرمایا؛”اے اسلم !اسے میری پیٹھ پر لاد دو۔“میں نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !اسے میں اُٹھا لیتا ہوں۔“اور جب میں نے اُٹھانے پر بار بار اصرار کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اسلم! کیا قیامت کے دن تم میرے گناہوں کا بوجھ بھی اُٹھاو¿ گے؟یہ بوجھ مجھے ہی اُٹھانے دو،ورنہ جب اﷲ تعالیٰ عُمر (رضی اﷲ عنہ)کی پیشانی کے بال پکڑ کر پوچھے گا، تو عُمر کیا جواب دے گا؟“لہٰذا وہ بوری میںنے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی پیٹھ پر لاد دی،اور ہم اُس عورت کے پاس پہنچے۔آپ رضی اﷲ عنہ آٹا نکال کر گوندھنے لگے،اُس عورت نے کہاکہ میں کرتی ہوں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ فرمایا؛”نہیں مجھے کرنے دو۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے روٹی پکائی ،اور چولہے میں پھونکے مارتے تھے،تو دھواں آپ رضی اﷲ عنہ کی گھنی داڑھی میں سے نکلتا تھا۔اور جب شوربہ بھی بن گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے عورت اور بچوں کو کھانا دیا،اور انہیں پیٹ بھر کر کھانا کھلایا۔اُس عورت نے آپ رضی اﷲ عنہ کو دعائیں دیں،اور بولی؛”اﷲ تعالیٰ آپ (رضی اﷲ عنہ) کا بھلا کرے۔امیرالمومنین رضی اﷲ عنہ سے زیادہ تو آپ اِس کام(خلافت) کے حقدار ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اچھی بات کہنا،جب تم امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے پاس آو¿ گی تو انشاءاﷲ مجھے وہاں موجود پاو¿ گی۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ کچھ دور جا کر بیٹھ گئے۔میں آپ رضی اﷲ عنہ سے بات کر رہا تھا،لیکن وہ بالکل خاموش بیٹھے تھے۔پھر جب انہوں نے دیکھا کہ بچے کھیل رہے ہیں،اور ہنس رہے ہیں،تو مسکرانے لگے۔پھر جب وہ سو گئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اﷲ کا شکر ادا کیا،اور کھڑے ہوئے،اور مجھے چلنے کا اشارہ کیا۔واپسی میں آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اسلم!وہ بھوک کی وجہ سے رو رہے تھے،اور جاگ رہے تھے۔“
ہر وقت عوام کی خدمت کے لئے تیار
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہر وقت عوام کی خدمت کے لئے تیار رہتے تھے۔اور ضرورت پڑنے پر عوام کی خدمت بھی کرتے تھے،جبکہ عوام کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ میری مدد کرنے والے ”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ“ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام حضرت اسلم فرماتے ہیں۔ایک رات میں امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ گشت پر تھا،اور ہم مدینہ منورہ کے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک قافلہ اپنا پڑاو¿ ڈال رہا ہے۔اور ایک خیمے کے اندر سے ایک عورت کے کراہنے کی آواز آ رہی تھی،اور خیمے کے باہر ایک شخص پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا ہے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اُس شخص سے خیریت دریافت کی تو اُس نے کہا کہ ہم مسافر ہیں،اور میری بیوی درد زہ میں مبتلا ہے۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم ذرا انتظار کرو۔“اور دوڑتے ہوئے گھر آئے،اور اپنی بیوی سیدہ اُم کلثوم بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہا سے فرمایا؛”کیا آپ رضی اﷲ عنہا کو اُس اجر میں دلچسپی ہے؟جسے اﷲ تعالیٰ آپ رضی اﷲ عنہا کے پاس لایا ہے۔“اور انہیں سارا واقعہ سنایا۔انہوں نے فرمایا؛”میں ضرور آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چلوں گی۔“پھر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کھانے پینے کا سامان لیا،اور سیدہ اُم کلثوم بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہا نے ولادت کے مناسب حال سامان لیا،اور دونوں جلدی سے پڑاو¿ میں آئے۔سیدہ اُم کلثوم رضی اﷲ عنہا تو خیمے میں چلی گئیں،اور ہم باہر اُس شخص کے پاس بیٹھ گئے،اور باتیں کرنے لگے۔جب اُس عور ت کے یہاں ولادت ہوئی تو سیدہ اُم کلثوم بن علی رضی اﷲ عنہا نے خیمے کا پردہ اُٹھا کر آواز لگائی؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ!اپنے ساتھی کوبچے کی بشارت دیجیئے۔“جب اُس شخص نے ”امیر المومنین “کا لفظ سناتو آپ رضی اﷲ عنہ کو پہچان گیا ،اور معذرت کرنے لگا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ارے کوئی ہرج نہیں۔“ اُن کی تمام ضروریات پوری کر کے واپس آگئے۔
اولیات ِ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اﷲ تعالیٰ نے دین کی بہت اچھی سمجھ عطا فرمائی تھی۔اِدھر زمین پر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اپنی رائے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ ِ اقدس میں عرض کرتے تھے۔اور اُدھر آسمان سے اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں آپ رضی اﷲ عنہ کی تائید میں آیات ناز ل فرماتے تھے۔صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ تین مقامات پر اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی تائید میں آیات نازل فرمائیں۔اور صحیح مسلم کی روایت میں چار مقامات کا ذکر ہے۔ایک روایت میں سترہ(17)مقامات کا ذکر ہے،اور ایک روایت میں تو اکیس(21) مقامات کا ذکر ہے۔ہم یہاں اُن باتوں کو پیش کر رہے ہیں،جو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جاری کیں۔(1)آپ رضی اﷲ عنہ ہی وہ پہلے شخص ہیں،جنہوں نے تاریخ و سال ھجری جاری فرمایا۔ (2)بیت المال قائم کیا۔(3)ماہِ رمضان میں تراویح کی نماز با جماعت جاری فرمائی۔(4) عوام کے حالات معلوم کرنے کے لئے راتوں میں گشت کیا۔(5)ہجو(مذمت)کرنے والے لوگوں پر حد جاری فرمائی یعنی سزائیں دیں۔(6)شراب پینے والے کو اسی(80) کوڑے لگوائے۔(7) مُتعہ کی حرمت کو عام کیا،اور اسے کسی فرد کے لئے بھی جائز نہیں کیا۔(8)جن لونڈیوں سے اولاد ہو جائے،اُن کی خرید و فروخت ممنوع قرار دی۔(9)نماز جنازہ میں چار تکبیریں پڑھنے کا حکم دیا۔(10) دفاتر قائم کئے،وزارتیں متعین و مقرر فرمائیں۔(11)سب سے زیادہ فتوحات حاصل کیں۔(12) ملک مصر سے سجر ِاَیلہ کے راستے مدینہ¿ منورہ غلہ پہنچانے کا بندوبست فرمایا۔(13)ترکہ اور وراثت کے مقررہ حصوں کا نفاذ فرمایا۔(14)گھوڑوں پر ذکوٰة وصول کی۔(15)سب سے پہلے ”دُرّہ“ایجاد کیا۔(تاریخ الخلفاءامام جلال الدین سیوطی)
اگلی کتاب
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ابھی بھی بہت سی باقی ہیں۔لیکن ہم اتنے پر ہی بس کرتے ہیں۔اور اب انشاءاﷲ آپ کی خدمت میں ہم خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حالات پیش کریں گے۔
ختم شد

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں