اتوار، 2 جولائی، 2023

32 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


32 سیرت سید الانبیاء ﷺ

جعرانہ سے عمرہ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

مالک بن عوف کا قبول اسلام، حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام، مسجد نبوی میں منبر رکھاگیا، استن حنانہ (کھجور کے سوکھے تنے) کا رونا، حاتم طائی کے بیٹے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام، زکوٰۃ کی وصولی

قبیلہ بنو ہوازن کے لوگوں کی حاضری

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ دس دن تک قبیلہ بنو ہوازن کے لوگوں کا انتظار فرمایا۔ ادھر نو مسلموں اور ساتھی قبیلوں نے بھی مال غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم کے لئے دبائو ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم فرما دی۔ اس کے کئی دنوں بعد قبیلہ بنو ہوازن کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر احسان کریںاور قبیلہ ہوازن کی شاخ یا خاندان بنو سعد بن بکر ( سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ) کے ایک شخص زہیر بن صرد نے کھڑے ہو کر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیدیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھیاں ، خالائیں اور وہ دایائیں ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کیا کرتی تھیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے تمہارا کافی انتظار کیا ۔ اس کے بعد قیدیوں اور مالِ غنیمت کی تقسیم فرمائی۔ اب تم دو میں سے ایک چیز لے لو۔ یا تو مالِ غنیمت لے لو یا قیدیوں کو واپس لے لو۔ ‘‘قبیلہ بنو ہوازن کے لوگوں نے عرض کیا: ’’ ہمارے رشتہ دار ہمیں واپس دے دیں اور مال دو دولت رکھ لیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کی واپسی کا حکم دیا تو بنو ہاشم اور بنو مطلب اور مہاجرین اور انصار نے تمام قیدیوں کو واپس کر دیا اور نو مسلموں اور دوسرے قبائل کو جیسے جیسے معلوم ہوتا گیا وہ قیدیوں کو لا کر واپس دیتے رہے۔ جن لوگوں نے قیدیوں کی واپسی کو منظور نہیں کیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کے خمس میں سے ان قیدیوں کو فدیہ ادا کر کے انہیں قبیلہ بنو ہوازن کے حوالے کر دیا۔

مالک بن عوف کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قیدیوں کو قبیلہ ہوازن کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد ان سے دریافت کیا : ’’ مالک بن عوف کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے بتایا : ’’ وہ بنو ثقیف کے ساتھ طائف میں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مالک سے کہہ دو کہ اگر وہ آکر میرے پاس اسلام قبول کر لے تو میں اس کے گھر والوں کو اور اس کے مال کو اسے واپس دے دوں گا اور سو اونٹ بھی دوں گا۔‘‘ مالک بن عوف کو اس کی اطلاع دی گئی تو اس نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ لیکن اسے بنو ثقیف سے اندیشہ تھا کہ اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کا علم ہو گیا تو اسے روک لیں گے۔ اس لئے اس نے ایک خاص مقام پر اپنی سواری تیار رکھنے کا حکم دیا اور گھوڑ ے کو طائف میں طلب کیا اور رات میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر تیزی سے وہاں سے نکل آیا اور اپنی سواری پر سوار ہو کر جعرانہ یا مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے گھر والے اور مال و دولت اور سو اونٹ عطا فرمائے اور طائف کے آس پاس کے قبائل ہوازن ، ثمالہ ، سلمہ ، اور فہم کا گورنر بنا دیا۔ ان سب نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ بعد میں حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ سچے مسلمان بنے اور قبیلہ بنوثقیف سے لڑنے لگے۔

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام جعرانہ میں ہی تھا کہ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے ساتھ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ہجرت کے سفر کے دوران حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاقب کیا تھا اور وہ جب بالکل قریب پہنچ گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گھوڑے کی ٹانگوں کو زمین میں دھنسا دیا تھا اور انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کی درخواست کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے آزادی ملی اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے امان کی تحریر لکھ کر دے دیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عامر بن فہیرہ یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک نے امان کی تحریرلکھ کر دے دی۔ جعرانہ میں حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اسلامی لشکر کے درمیان سے گزرتے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے امان نامے کو ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا۔ اور زور زور سے پکارتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کے قبیلے والے بھی چل رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے: ’’ میں سراقہ ہوں اور یہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’امان نامہ ‘‘ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سن کر فرمایا۔: ’’آج وفا اور محبت کا دن ہے اور وعدے پورے کرنے کا دن ہے۔ اس کو میرے قریب لائو۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کو حاضر کیا انہوں نے اپنے قبیلے والوں کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے قرآن پاک اور اسلام کی تعلیم حاصل کی۔

جعرانہ سے عمرہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ تیرہ (13)دن جعرانہ میں قیام فرمایا اور پھر وہاں سے عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے۔ پہلا عمرہ حدیبیہ کا ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں احرام اتار کر اور حلق ( سر منڈوا کر) وہیں سے واپس آگئے تھے ۔ ( اکثر علمائے کرام کا کہنا ہے کہ حدیبیہ کا مقام بھی حرم میں شامل ہے) دوسرا عمرہ دوسرے سال کیا اور مکہ مکرمہ میں تین دن قیام فرمایا۔ اسے ’’عمرہ قضا‘‘ یا ’’عمرہ تامہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی پچھلے سال کا حدیبیہ کے ادھورے عمرہ کو مکمل فرمایا۔ اس لئے اسے’’ عمرہ تامہ‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ عمرہ پچھلے سال کے حدیبیہ والے عمرہ کی قضا ہے۔ اس لئے اسے ’’عمرہ قضا ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ تیسرا عمرہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے کیا اور چوتھا عمرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ ادا فرمایا۔ جعرانہ ایک مقام ہے جو مکہ مکرمہ سے لگ بھگ ایک برید یعنی بارہ میل کے فاصلہ پر ہے اور دوسری روایت کے مطابق دیڑھ برید یعنی اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے۔

حضرت عتاب بن اُسید رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے گورنر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ میں آئے اور عمرہ سے فارغ ہو کر حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ کا گورنر مقرر فرمایا اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو قریش کی تعلیم و تربیت کے لئے چھوڑ دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتاب بن اُسید رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ کا حاکم بنا نے کے بعد ایک درہم روزانہ ان کی تنخواہ مقرر فرمائی۔ انہوں نے لوگوں کو جمع کر کے خطبہ دیا اور بیان کیا : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مکہ مکرمہ کا حاکم مقرر فرمایا ہے اور ایک درہم روزانہ میری تنخواہ مقرر کی ہے۔ اے لوگو!جس کو ایک درہم روز ملے اور پھر بھی وہ بھوکا رہے تو اللہ تعالیٰ کبھی اس کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ اس لئے اب مجھ کو کسی سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد لگ بھگ دو مہینے اور سولہ دن بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ آئے تو ذی القعدہ کی چھ راتیں باقی تھیںاور ۸؁ ہجری کا سال تھا۔ اس سال حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حج کر ایا۔

8 ؁ ہجری کے کچھ خاص واقعات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 8ہجری کا بقیہ وقت مدینہ منورہ میں گزرا ۔اس سال سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ ان کے شوہر کا نام حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ ہے ۔ اسی سال مدینہ منورہ میں اناج بہت مہنگا ہو گیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اناج کا بھائو مقرر کر دیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ ہی بھائو مقرر کرنے والا ہے۔ وہی روزی کو تنگ کرنے والا ہے اور کشادہ کرنے والا ہے اور لوگوں کی روزی عطا فرمانے والا ہے۔ ‘‘اسی سال ذی الحجہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کانام سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال دیڑھ برس کی عمر میں ہوگیا۔

مسجد نبوی میں منبر رکھاگیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اسی سال 8 ؁ ہجری میں مسجد نبوی میںمنبر رکھا گیا۔ کچھ روایات میں ہے کہ منبر 8 ؁ہجری میں رکھا گیا اور کچھ روایات میں ہے کہ 7 ؁ہجری میں رکھا گیا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ جب مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی تب سے لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے سوکھے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ ایک انصاری خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہا کا بیٹا بڑھئی ( مستری جو لکڑی کی کرسی اور میز وغیرہ بناتے ہیں) تھا۔ اس انصاری خاتون نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اجازت دیں تو میرا بیٹا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک منبر بنا دے ۔ جس پر بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیا کریں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور ایک لکڑی کا منبر بنا کر مسجد نبوی رکھا گیا۔ یہ منبر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چاروں خلفائے راشدین کے دورِ خلافت میں بھی اسی طرح رکھا رہا۔ ان کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ حکومت کے دوران یہ چاہا کہ میں اس منبر کو تبّر کا ’’ملک شام لے جاوں مگر انہوں نے جب اس منبر کو اس کی جگہ سے ہٹا یا تو اچانک سارے شہر میں ایسا اندھیرا چھا گیا کہ دن میں تارے نظر آنے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بہت شرمندہ ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے معذرت کی اور انہوں نے اس منبر کے نیچے تین سیڑھیوں کا اضافہ کر دیا۔ جس سے منبر نبوی کی تین پرانی سیڑھیاں اوپر ہو گئیں۔ تا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین جن سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تھے اب دوسرا کوئی خطیب ان پر قدم نہ رکھے۔ جب یہ منبر بہت زیادہ پرانا ہو کر انتہائی کمزور ہو گیا تو عباسیہ خاندان کے حکمرانوں نے اس کی مرمت کروائی۔

استن حنانہ (کھجور کے سوکھے تنے) کا رونا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جب منبر بنا کر رکھ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دینے کے لئے منبر کی طرف تشریف لے جانے لگے تو کھجور کا وہ سوکھا تنہ جو مسجد کی چھت کو سنبھالنے کے لئے لگایا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ٹیک لگا کر خطبہ فرمایا کرتے تھے وہ زور زور سے رونے لگا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ کھجور کا تنہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دیتے وقت) ٹیک لگایا کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے منبر بنایا گیا تو ہم نے کھجور کے اس ستون سے ایسی فریاد کی آواز سنی جیسی فریاد حاملہ اونٹنی بوجھ لادنے کے وقت کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اپنا دست مبارک اس کے اوپر رکھا تو وہ خاموش ہوا۔ (صحیح بخاری) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے منبر رکھا ۔ جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لئے ) منبر پر تشریف لے جانے لگے تو اس وقت وہ ستون بچوں کی طرح رونے کی مانند فریاد کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اسے سینے سے لگایا اور وہ ستون روتے روتے اس طرح ٹھہر گیا جیسے کوئی بچہ روتے روتے چپ ہو تا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ ستون اس لئے رو رہا تھا کہ اس کے پاس جو ذکر ہو تا تھا وہ اسے سنا کرتا تھا۔

حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام اور شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ طائف سے واپس جعرانہ آئے اور جعرانہ سے عمرہ کیا اور عمرہ کے بعد مدینہ منورہ تشریف لا رہے تھے کہ راستے میں حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ آکر ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں طائف میں جا کر اپنے قبیلے بنو ثقیف کو اسلام کی دعوت دوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے محاصرے کے دوران بنو ثقیف کی سختی کے بارے میں اندازہ لگالیا تھا۔ اسی لئے ان سے فرمایا: ’’ وہ لوگ تمہاری بات نہیں مانیں گے۔‘‘ حضرت عرو ہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میری قوم ( یا قبیلے) والے مجھے بہت پسند کرتے ہیں اور میری بات مانتے ہیں۔‘‘ اور یہ حقیقت بھی تھی کہ بنو ثقیف انہیں بہت چاہتے تھے۔ حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ طائف آئے۔ ان کا خیال تھا کہ چونکہ ان کے قبیلے والے ان کی بہت عزت اور اکرام کرتے ہیں ۔اس لئے ان کی دعوت پر اسلام قبول کر لیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ اسی مقصد کے لئے اپنے مکان کی چھت( کوٹھے) پر چڑھے اور اپنی قوم یا قبیلے والوں کو آواز لگائی۔ تمام لوگ جمع ہو گئے تو انہیں بتایا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور انہیں بھی اسلام کی دعوت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی قوم نے چاروں طرف سے تیروں کی بارش کر دی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ شہیدہو گئے۔ مرتے وقت کسی نے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اپنی موت کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ’’ یہ میرے لئے بڑی عزت اور اکرام والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شہادت سے سرفراز فرمایا۔ میری وصیت ہے کہ مجھے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دفن کیاجائے جو طائف کے محاصرے کے وقت شہید ہو ئے تھے اور انہیں اسی جگہ دفن کر دیا گیا تھا۔‘‘ ان کی وصیت کے مطابق انہیں مسلمان شہداء کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کی مثال ان کی قوم میں ویسی ہی ہے جیسی ان صاحب کی ہے جن کے بارے میں سورہ یاسین میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ان کی قوم نے انہیں شہید کر دیا تھا۔‘‘

قبیلہ طی کا بُت توڑنا   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ذی القعدہ 8 ہجری میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ واپس تشریف لائے اور ماہِ رجب المرجب تک مدینہ منورہ میں ہی تشریف فرما رہے۔ ان سات مہینوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی اور جزیہ کی وصولی کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمایا۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قیادت میں مختلف سرایا بھی بھیجے۔ ان تمام سرایا میں کامیابی حاصل ہوئی۔ ان سرایا میں سے ایک سریہ ایسا ہے جس کا ذکر کرنا ضروری ہے اور وہ قبیلہ بنو طی کے بت کو توڑنے والا سریہ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاخر یا ربیع الثانی 9 ہجری میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ڈیڑھ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو طی پہنچے اور وہاں کے بت فلس ( کچھ روایات میں قلس بھی آیا ہے) تو ڑ دیا اور قیدیوں کو گرفتار کر کے مدینہ منورہ لے آئے۔ ان قیدیوں میں حاتم طائی کی بیٹی سفانہ بھی تھی۔ یہ حاتم طائی مشہور سخی ہے۔ اس کا انتقال ہو چکا تھا۔ چو نکہ وہ قبیلہ بنو طی کا حکمراں یا سردار تھا۔ اسی لئے اس کے نام حاتم کے ساتھ طائی لگا ہو اہے۔ حاتم طائی کا بیٹا عدی بن حاتم ان دنوں قبیلہ بنو طی کا حکمراں یا سردار تھا۔ جب اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کے آنے کی خبر سنی تو اپنی بیوی اور بچوں کو لے کرملک شام بھاگ گیا تھا۔ بعد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور صحابی ہونے کا درجہ حاصل کیا۔ ان کے قبول اسلام کا واقعہ ہم آگے انہیں کی زبانی بیان کریں گے۔ انشاء اللہ ۔

حاتم طائی کی بیٹی سفانہ رضی اللہ عنہا کا قبول اسلام اور رہائی   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے تمام قیدیوں کو پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو مسجد نبوی کے دروازے کے پاس والے کمرے میں رکھنے کا حکم دیا۔ جہاں قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے وہاں سے گزرے تو سفانہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میر ے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور جس سے امید تھی ( یعنی حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ) وہ غائب ہو چکا ہے۔ اس لئے مجھ پر احسان فرمائیے ۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان فرمائے گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تجھے کس سے امید تھی؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ میرے بھائی عدی بن حاتم سے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اچھا اس اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بھاگنے والے سے امید تھی۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے آگے بڑھ گئے۔ دوسرے دن بھی سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا نے یہی کہا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی فرمایا اور آگے بڑھ گئے۔ تیسرے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے لیکن وہ مایوس ہو چکی تھیں اس لئے سوچا کہ آج میں خاموش رہوں گی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے والے ایک شخص نے اشارے سے کہاکہ پھر کہو تو انہوں نے پھر اپنے الفاظ دہرائے۔: ’’ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر احسان فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان فرمائے گا ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے تم پر احسان کیا۔ تم اس وقت جانے کی جلد ی نہ کرو۔ جب تک تمہیں ایسا قابل اعتماد شخص نہ مل جائے جو تمہیں تمہارے علاقے تک پہنچا دے۔ جب مل جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔‘‘ سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا نے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اشارہ کیا تھا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس کے بعد سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا۔ جب سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا کو قابل اعتماد لوگ مل گئے تو انہوں نے پیسے دیئے اور وہ اپنے بھائی کے پاس شام آگئیں۔

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حاتم طائی کی بیٹی سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا پر احسان فرمایا اور انہیں اپنے بھائی کے پاس بھیج دیا۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عربوں سے سنا تو مجھے ان سے بہت نفرت محسوس ہوئی ۔ میں ایک عزت دار آدمی تھا اور نصرانی تھا۔( ایک روایت میں آیا ہے کہ رکو سی تھا) اور اپنی قوم سے چوتھا حصہ لیا کرتا تھا۔ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ( فتح مکہ) کے بارے میں سنا تو اپنے غلام کو حکم دیا کہ میرے اور میرے بیو ی بچوں کے لئے موٹے تازے اونٹ تیار رکھو۔ ایک دن مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر قبیلہ بنو طی کی طرف آرہا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی میں نے اپنے بیو ی بچوں کو موٹے تازے اونٹوں پر سوار کرایا اور انہیں لے کر ملک شام کی طرف روانہ ہو گیا اور اپنی بہن کو وہیں چھوڑ دیا۔ میں ملک شام میں آکر وہیں رہنے لگا۔ ادھر مجھے خبر ملی کہ میری بہن کو میرے قبیلہ والوں کے ساتھ گرفتار کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا ہے۔ کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت پالکی میں سوار ہمارے گھر کی طرف آرہی ہے۔ قریب آکر وہ عورت پالکی کے باہر آئی تو وہ میری بہن سفانہ تھی۔ اس نے میرے پاس آکر کہا : ’’ ارے ظالم اور رشتہ توڑنے والے! تُو اپنے بیوی بچوں کو لے کر یہاں آگیا ہے اور اپنے باپ حاتم طائی کی اولاد اور شرم کو چھوڑ کر آگیا۔’’ میں نے کہا: ’’ اے میری بہن !مجھے اس طرح ذلیل مت کرو۔ اللہ کی قسم !میں تمہارے سامنے کوئی عذر پیش نہیں کروں گا۔ بلکہ اپنا جرم تسلیم کرتا ہوں۔ میری بہن نے مجھے معاف کر دیا اور میرے گھر میں رہنے لگی۔ میں نے اپنی بہن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی کیا رائے ہے؟ میری بہن نے کہا: ’’ بھائی !میری تو رائے یہ ہے کہ تم جلد سے جلد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا ئو۔ کیوں کہ اگر وہ نبی ہیں تو ان کی طرف سبقت کرنے والے کے لئے فضیلت ہے اور اگر بادشاہ ہیں تو تم اپنے قبیلے کی حکمرانی یا سرداری کو نہیں بچا پائو گے۔ باقی تم جانو اور تمہارا کام۔‘‘ میں نے کہا: ’’ میری بھی یہی رائے ہے۔‘‘ اس کے بعد میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنی بہن سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ آگے آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے۔ میں نے سلام عرض کیا تو فرمایا: ’’ تم کون ہو؟ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’ عدی بن حاتم ہوں ۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور مجھے اپنے گھر لے گئے۔ اللہ کی قسم !جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر لے جا رہے تھے تو راستے میں ایک بڑی عمر کی ضعیف عورت ملی۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا اور اپنی ضروریات کی متعلق گفتگو کرنے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک کھڑے ہو کر اس کے سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ میں نے سوچا’’ اللہ کی قسم !یہ بادشاہ نہیں ہیں۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر اپنے گھر میں آئے اور بیٹھنے کے لئے ایک چمڑے کا تکیہ جس میں خشک گھاس بھری ہوئی تھی پیش کیا۔ میں بیٹھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے۔ میں نے سوچا ’’ اللہ کی قسم !یہ تو بادشاہوں والا کام نہیں ہے۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عدی بن حاتم !کیا تم رکوسی( عیسائیوں اور صابیوں کے بین بین ایک دین کا نام ) نہیں ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’بیشک ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا تم اپنی قوم سے چوتھا حصہ نہیں لیتے ہو؟ ‘‘میں نے کہا : ’’بے شک لیتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ اور یہ تمہارے دین کی رو سے تمہارے لئے جائز نہیں ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا: ’’بے شک جائز نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عدی بن حاتم !شاید تم اس لئے اسلام قبول نہیں کر رہے ہو کہ تم مسلمانوں کو محتاج اور غریب دیکھ رہے ہو۔ اللہ کی قسم !تم دیکھو گے کہ بہت جلد مسلمانوں کے پاس اتنا مال ہو گا کہ اسے لینے والا کوئی نہیں ہوگا یا پھر تمہیں مسلمانوں کے دشمن کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت اسلام قبول کرنے سے روک رہی ہے۔ اللہ کی قسم! تم بہت جلد ایک عور ت کے متعلق سنو گے جو قادسیہ ( ملک عراق کا ایک علاقہ ) سے اپنے اونٹ پر اکیلی چلے گی اور بے خوف سفر کر کے خانہ کعبہ کی زیارت کر ے گی ( یعنی قادسیہ تک اسلامی حکومت تم دیکھو گے) اور شاید تمہیں اسلام قبول کرنے سے یہ بات روک رہی ہے کہ تم اقتدار اور حکومت دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھ رہے ہو۔ اللہ کی قسم !بہت جلد تم دیکھو گے کہ بابل کے سفید محلات مسلمانوں کے لئے مفتوح ہو جائیں گے۔ ‘‘حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ پھر میں نے اسلام قبول کر لیا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو باتیں تو پوری ہو گئی ہیں اور تیسری رہ گئی ہے اور اللہ کی قسم! وہ بھی ضرور پوری ہو گی۔ میں نے بابل کے سفید محلات کو مفتوح دیکھ لیا ہے اور قادسیہ سے عورت کو اونٹ پر چلتے اور بے خوف ہو کر بیت اللہ ( خانہ کعبہ) کا طوا ف کرتے دیکھا ہے اور اب اللہ کی قسم تیسری بات بھی پوری ہو گی اور مسلمانوں کے پاس مال اتنا زیادہ ہو گا کہ اسے لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کے مقرر کئے ہوئے تحصیل دار ِ زکوٰۃ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۹؁ہجری میں زکوٰۃ کی وصولی کے لئے اپنے تحصیل دار مقرر کئے اور انہیں الگ الگ علاقوں کی طرف روانہ فرمایا۔ چونکہ اسلامی حکومت منظم اور مستحکم ہوتی جا رہی تھی اور عرب کے زیادہ تر قبائل اسلام قبول کرتے جا رہے تھے ۔ اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو زکوٰ ۃ اور جزیہ کی وصولی کے لئے تحصیل دار بنا کر بھیجا۔ یہ تحصیل دار ( زکوٰۃ اور جزیہ وصول کرنے والے) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کرتے تھے۔ اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کرتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۹ ؁ہجری میں اپنے تحصیل دار بھیجے۔ اس کے علاوہ اپنے وصال تک تحصیل دار بھیجتے رہے۔ ہم نے یہاں کوشش کی ہے کہ جتنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ اور جزیہ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا ان سب کے نام آجائیں ۔ پھر بھی ہو سکتا ہے کچھ نام رہ گئے ہوں۔ (1) حضرت عینیہ بن حصن رضی اللہ عنہ کو بنو تیمم کی طرف بھیجا (2) حضرت یزید بن حصین رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو اسلم اور بنو غفار کی طرف بھیجا (3) حضرت عباد بن بشر اشہلی رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو سلیم اور قبیلہ بنو مزینہ کی طرف بھیجا (4) حضرت رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ کو قبیلہ جہینہ کی طرف بھیجا (5) حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو فزارہ کی طرف بھیجا(6) حضرت ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ کو بنو کلاب کی طرف بھیجا (7) حضرت بشیر بن سفیان رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو کعب کی طرف بھیجا (8) حضرت ابن تسبیہ ازدی رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو ذبیان کی طرف بھیجا (9) حضرت مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کو شہر صنعا کی طرف بھیجا (10) حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کو علاقہ حضر موت کی طرف بھیجا (11) حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو طی اور قبیلہ بنو اسد کی طرف بھیجا (12) حضرت مالک بن نویرہ رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو حنظلہ کی طرف بھیجا(13) حضرت زبر قان بن بدر رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو سعد کی ایک شاخ کے پاس بھیجا (14) حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو سعد کی طرف بھیجا (15) حضرت علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا (16) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو نجران کی طرف بھیجا ۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ان میں سے بعض حضرات کو کافی تاخیر سے بھیجا گیا۔ بہر حال تحصیل دار زکوٰۃ ( زکوۃ وصول کرنے ) والوں کا سلسلہ محرم الحرام 9 ہجری سے شروع ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک جاری رہا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں