ہفتہ، 29 جولائی، 2023

32 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


32 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 32

پہاڑوں کی مہمات، ترکوں سے جنگ، کسریٰ یزد گرد کی بوکھلاہٹ، خراسان کی طرف پیش قدمی، مرو شاہ جہاں کی فتح، بلخ کی فتح، کسریٰ کی یلغار، مسلمان مجاہد کا مشورہ، حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی بہادری، کسریٰ کا فرار، سلطنت فارس کاخاتمہ، 22 ھجری کے متفرق واقعات، فتح توج، فتح اصطخر، شہرک کی بغاوت، جنگ”فسا“اور”درابجرد“، اﷲ نے میدان جنگ سامنے کر دیا، سینکڑوں کلو میٹر دور آواز سنی، 

پہاڑوں کی مہمات

حضرت سراقہ بن عمرو نے اِس کے بعد آس پاس کے پہاڑوں کی طرف لشکر روانہ کئے،تاکہ پورا علاقہ محفوظ ہو جائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سراقہ بن عمرو نے کئی سپہ سالاروں کو لشکر دیکر اُن پہاڑوں کے باشندوں کی طرف بھیجا،جو آرمینیہ کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔حضرت بکیر بن عبداﷲ کو ”موقان “کی طرف بھیجا۔حضرت حبیب بن مسلمہ کو ”تفلیس“کی طرف بھیجا۔حضرت حذیفہ بن اسد کو اُن لوگوں کی مخالف سمت بھیجا۔اور حضرت سلیمان بن ربیعہ کو ”کوہِ لان “کی طرف بھیجا۔حضرت سراقہ بن عمرو نے فتح کا حال اور پہاڑوں میں بھیجے گئے لشکر کے حالات لکھ کر امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجے۔انہوں نے ہدایت کی کہ یہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہے،کیونکہ پہاڑی سرحدیں بہت بڑی ہیں۔اِس لئے تم وہیں رکو اور لشکروں کے آنے کا انتظار کرو۔پہاڑوں میں بھیجے گئے تمام لشکر واپس آگئے،اور اُن میں سے صرف حضرت بکیر بن عبد اﷲ نے موقان کا علاقہ فتح کیا،اور باقی لشکر ایسے ہی واپس آگئے۔اِسی دوران حضرت سراقہ بن عمرو کا انتقال ہو گیا۔اور امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے اُن کی جگہ حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کو سپہ سالار بنا دیا۔

ترکوں سے جنگ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کو سپہ سالار بنا کر حکم دیا کہ وہ ترکوں سے جنگ کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو حضرت سراقہ بن عمرو کے انتقال کی خبر ملی،تو انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کو مسلمانوں کا سپہ سالار بنایا۔اور انہیں حکم دیا کہ وہ ترکوں سے جنگ کریں۔حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ مسلمانوں کو لیکر روانہ ہوئے،تو شہر براز نے پوچھا؛”آپ کہاں جانا چاہ رہے ہیں؟“انہوں نے فرمایا؛”ہم بلخ جر جانا چاہتے ہیں۔“اُس نے کہا ؛”ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے گھر کے قریب جنگ کریں۔“حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ نے فرمایا؛”اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے گھر میں اُن سے جنگ کریں۔اﷲ کی قسم !ہمارے ساتھ وہ لوگ ہیںکہ اگر امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ہمیں آگے بڑھنے کی اجازت دیں،تو میں انہیں لیکر ”روم“تک پہنچ جاؤں گا۔“اُس نے پوچھا ؛”وہ کون لوگ ہیں؟ “ حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ نے فرمایا؛”یہ وہ لوگ ہیں،جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں۔اور وہ خلوص نیت سے مسلمان ہوئے ہیں۔ وہ عہد جاہلیت میں بھی حیادار اور شریف تھے،اور اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی شرافت اور حیا میں اور اضافہ ہو گیا۔اِس لئے فتح ہمیشہ اِن کے ساتھ رہے گی،یہاں تک کہ مفتوح اقوام انہیں تبدیل نہ کر دیں،اور انہیں اپنے رنگ میں نہ رنگ لیں۔“اس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ اپنے لشکر کو لیکر بلخ جر تک گئے،بلکہ اس کے آگے دو سو فرسخ کے فاصلے تک گئے۔ترکوں پر مسلمانوں کا رعب چھا گیا۔اور انہوں نے آپس میں کہا؛”مسلمانوں نے ہم پر حملہ کرنے کی جرأت اِس لئے کی کہ اُن پر فرشتوں کا سایہ ہے،جو انہیں موت سے بچاتے ہیں“وہ قلعہ بند ہو گئے،اور پھر بھاگ گئے،اور حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ مال غنیمت اور فتح و نصرت لیکر واپس آگئے،یہ واقعہ حضرت عِمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کا ہے۔

کسریٰ یزد گرد کی بوکھلاہٹ

مسلمان مسلسل سلطنت فارس میں پیش قدمی کر رہے تھے،اور کسریٰ مسلسل اپنی جان بچاتا بھاگ رہا تھا۔اور اُس کی گھبراہٹ کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے کسی محل میں نہیں رہ پارہا تھا۔حالانکہ سلطنت فارس میں کسریٰ کے بہت زیادہ محل تھے،لیکن وہ جس محل میں بھی جاتاتھا،وہاں مسلمان پہنچ جاتے تھے۔کسریٰ کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ وہ اونٹ کے اوپر ہودج میں سوتا تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت سعد بن ا بی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کا دارالحکومت ایوان سلطنت،بساط مشاورت”مدائن “فتح کیا،اور اُس کے ذخائر چھین لئے۔تب کسریٰ یزد گرد حلوان بھاگ گیا،پھر مسلمان حلوان کا محاصرہ کرنے آئے تو وہ رے بھاگ گیا۔جب مسلمان رے کی طرف بڑھے تو کسریٰ اصفہان یا اصبہان بھاگ گیا۔اس کے جب مسلمانوں کے اصفہان آنے کی خبر ملی تو وہ کرمان بھاگ گیا۔اور جب مسلمان کرمان کی طرف بڑھے تو کسریٰ خراسان بھاگ گیا،اور وہاں فروکش ہو گیا۔اِس سب کے باوجود وہ آگ جسے وہ پوجتا تھا،اُسے اپنے ساتھ ساتھ ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا تھا۔اور ہر شہر میں ایک آتش کدہ بناتا تھا،اور دستور کے مطابق اس میں آگ جلاتا تھا۔اور وہ اکژ رات میں اونٹ پر سوار ہو کر سفر کرتا تھا،جس پر اُس کا ہودج تھا۔وہ اس میں سویاکرتا تھا۔

خراسان کی طرف پیش قدمی

مسلمانوں کے ڈر سے کسریٰ بھاگتا رہا،اور سب سے آخر میں خراسان میں جا کر رُکا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔کسریٰ کرمان کی طرف روانہ ہوا،جب وہ کرمان پہنچا تو اُس کی مقدس آگ اُس کے ساتھ تھی۔پھر اُس نے وہاں سے خراسان منتقل ہونے کا ارادہ کیا،اور ”مروشاہ جہاں “میں آکر مقیم ہو گیا۔اُس نے اُس کی مقدس آگ کو بھی وہیں منتقل کر لیا،اور ایک بہت بڑا آتش کدہ تعمیر کرایا،اور باغ لگایا۔وہ باغ ”مرو شاہ جہاں“سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا،یہاں آکر وہ امن سے رہنے لگا،اور جن علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ نہیں ہوا تھا۔اُن سے خط و کتابت کر کے مسلمانوں کے خلاف اُکسانے لگا۔اِس کی خبر مسلمانوں کو ملی تو خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا،اور حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کا لشکر دیکر خراسان کی طرف روانہ کیا۔انہوں نے ”مہرجان“پر قبضہ کر لیا،پھر وہ اصفہان کی طرف روانہ ہوئے۔اُس وقت کوفہ اور بصرہ کے مسلمان ”جی“کا محاصر ہ کئے ہوئے تھے،اِس لئے آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ”طبین “کے راستے خراسان میں داخل ہوئے۔

مرو شاہ جہاں کی فتح

مسلمانوں نے کسریٰ یزد گرد کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ایک طرف سے کرمان اور آذربائیجان کی طرف سے اُس کی طرف بڑھ رہے تھے۔اور دوسری طرف سے حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر خراسان پہنچ چکے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت احنف بن قیس رضی ا ﷲ عنہ لشکر لیکر خراسان میں داخل ہوئے،اور ”ہرات“پر قبضہ کر لیا،اور وہاں حضرت صحار عبدی کو اپنا نائب بناکر ”مرو شاہ جہاں“کی طرف بڑھے۔درمیان میں کوئی جنگ نہیں ہوئی،اِس لئے” نیشا پور“ کی طرف حضرت مطرف بن عبداﷲ بن شخیر کو ایک لشکر دیکر بھیجا۔اور ”سرخس“کی طرف حضرت وارث بن حسان کو لشکر دیکر روانہ کیا۔جب حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر مرو شاہجہاں پہنچے تو کسریٰ یزد گرد ”مرو روز“چلاگیا،اور وہیں رہنے لگا۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ مرو شاہ جہاں میں ہی پڑاو¿ ڈال دیا۔اُدھر کسریٰ نے ”مو روز“پہنچنے کے بعد خاموش نہیں بیٹھا،اور اُس نے مسلمانوں کے خلاف ”خاقان “سے امداد کی درخواست کی۔اور شاہ صغد کو بھی تحریر کیا کہ وہ بھی فوج کے ذریعے مدد مسلمانوں کے خلاف کسریٰ کی امداد کرے۔

بلخ کی فتح

حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مرو شاجہان میں خیمہ زن تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے مرو شاہ جہاں میں حضرت حارثہ بن نعمان باہلی کو اپنا نائب بنایا،اور آگے بڑھنے کی تیاری کر رہے تھے کہ اہل کوفہ کے چار سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر پہنچ گئے۔اِن کے نام حضرت علقمہ بن نضر نضری،حضرت ربعی بن عامر تمیمی،حضرت عبدا ﷲ بن عقیل ثقفی اور حضرت ابن اُم غزال ہمدانی ہیں۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر”مرو روز“کی طرف روانہ ہوئے۔اور اہل کوفہ کے چاروں سپہ سالاروں کو اُن کے لشکر لیکر سیدھے ”بلخ“پہنچنے کا حکم دیا۔جب کسریٰ کو مسلمانوں کی روانگی کی خبر ملی،تو وہ ”بلخ “کی طرف روانہ ہو گیا۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مرو روز میں رک گئے،اور اہل کوفہ کے سپہ سالار اپنے لشکروں کے ساتھ بلخ پہنچ گئے۔مروروز میں تمام انتظامات کرنے کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ بلخ روانہ ہو گئے۔بلخ میں اہل کوفہ کے لشکروں اور کسریٰ یزد گرد کی فوج کا مقابلہ ہوا،اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ،اور انہیں فتح حاصل ہوئی۔کسریٰ شکست کھا کر فارسیوں کو لیکردریا کی طرف بھاگا،اور دریا پار کر کے بھاگ گیا۔اِسی دوران حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے۔اِس کے بعد اہل خراسان جو بھاگ گئے تھے،یا قلعہ بند ہو گئے تھے۔وہ سب مسلمانوں کے پاس صلح کے لئے آنے لگے۔اِن میں شاہ فارس کی مملکت میں سے ”نیشا پور “سے لیکر” طخارستان “تک کے علاقے کے جتنے باشندے تھے،وہ سب شامل تھے۔مسلمانوں نے اُن سب سے صلح کرلی۔اِس طرح پورا خراسان فتح ہو گیا۔

امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی ہدایات

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے فتح کی خبر اور مال غنیمت کا خمس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔فتح کی خبر سن کر امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”احنف رضی اﷲ عنہ مشرق کے سردار ہیں۔“اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو لکھا؛”تم دریا پار نہیں کرنا،بلکہ اُس کے پہلے کے علاقے میں مقیم رہنا۔تمہیں معلوم ہے کہ تم کن خصوصیات کے ساتھ خراسان میں داخل ہوئے تھے۔اِس لئے آئندہ بھی ان عادات پر قائم رہنا۔اِس طرح تمہیں ہمیشہ اﷲ کی مدد اور فتح حاصل ہوتی رہے گی۔تم دریا کو پار کرنے سے پرہیز کرو،ورنہ نقصان اُٹھاو¿ گے۔“امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے اِس حکم کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ ”مرو روز “واپس چلے گئے،اور وہیں رہنے لگے۔انہوں نے طخارستان کے علاقے پر حضرت ربعی بن عامر کو اپنا نائب بنایا۔

کسریٰ کی یلغار

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو دریا کے اِس پار رہنے کا حکم دیا تھا۔اُدھر کسریٰ کے دونوں قاصد خاقان اور غوزک کے پاس پہنچے،تو وہ دونوں اُس وقت تو کسریٰ کی فوجی امداد نہیں کر سکے تھے۔یہاں تک کہ وہ شکست کھا کر دریا پار کر کے خود اُن دونوں کے پاس پہنچ گیا۔اُس وقت اُس کی فوجی امداد کی تکمیل ہوئی،ترک اور اہل فخانہ اور اہل صغد اُس کی مدد کے لئے جمع ہو گئے۔کیونکہ وہ سلاطین کی امداد کو ضروری سمجھتے تھے۔کسریٰ امدادی لشکر لیکر خراسان کی طرف روانہ ہوا۔خاقان بھی اپنی ترک فوج کے ساتھ خراسان روانہ ہوا۔اور اُن دونوں لشکروں نے دریا عبور کیا،اور بلخ پہنچ گئے۔اُس وقت اہل کوفہ کے لشکر اور اُن کے سپہ سالار مروروز میں حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچ گئے۔اِس لئے مشرکین کا لشکر بھی کوچ کر کے مرو روز پہنچ گیا،اور پڑاو¿ ڈال دیا۔

مسلمان مجاہد کا مشورہ

مسلمانوں کو کسریٰ کی یلغار کی خبر پہلے ہی مل چکی تھی،اور وہ پہلے سے ہی تیاری کرنے لگے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو یہ خبر ملی کہ خاقان اور صغد نے کسریٰ کے ساتھ بلخ کے دریا کو عبور کر لیا ہے،اور وہ لوگ جنگ کرنے کے لئے آرہے ہیں۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ جاننے کے لئے رات میں مسلمان مجاہدین کے درمیان گشت کیا کہ اُن کے خیالات کیا ہیں۔اِسی دوران وہ دو مجاہدین کے پاس سے گذرے ،جو چارہ صاف کر رہے تھے،وہ چارہ یا بھوسا تھا یا جو تھے۔ان دونوں میں سے ایک مجاہد دوسرے سے کہہ رہا تھا؛”اگر ہمارے سپہ سالار ہمیں اس پہاڑ کے پاس لے آئے تو یہ دریا ہمارے اور دشمنوں کے درمیان خندق کا کام دے گا۔اس وقت یہ پہاڑ ہماری پشت پر ہو گا،اس وجہ سے ہمارے پیچھے کی طرف سے کوئی حملہ آور نہیں ہو گا،اور ہماری جنگ صرف ایک طرف سے ہو گی۔پھر یہ توقع کی جا سکے گی کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں فتح و نصرت عطا کرے گا۔“یہ بات سن کر آپ رضی اﷲ عنہ لوٹ آئے،اور چونکہ رات تھی ،اِس لئے یہی مشورہ اُن کے لئے کافی ثابت ہوا۔جب صبح ہوئی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمان مجاہدین کو جمع کیا،اور فرمایا؛”تمہاری تعداد کم ہے،اور تمہارے دشمن کی تعداد زیادہ ہے۔مگر تمہیں اِس بات سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے،کیونکہ اﷲ کے حکم سے ایک چھوٹی جماعت اکثر بڑی تعداد کی جماعت پر غالب آجاتی ہے۔اور اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔تم اس مقام سے کوچ کرو،اور اس پہاڑ کا سہارا حاصل کرو،یہ پہاڑ تمہاری پشت پر ہونا چاہیئے۔اور یہ دریا تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان رہے،اور تم صرف ایک سمت سے جنگ کرو۔“

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی بہادری

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق مسلمانوں نے پہاڑ کے دامن میں پڑاؤ ڈال دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے اُن کی ہدایات پر عمل کیا،اور مناسب طریقے سے جنگ کی تیاری کر لی۔بصرہ کے لشکر کی تعداد دس ہزار تھی،اور کوفہ کی فوج بھی تقریباً اتنی ہی تھی۔ترک سپاہیوں نے مسلمانوں پر حملہ کردیا،اور مسلمان بھی اُن کا جم کر مقابلہ کرنے لگے۔شام تک جنگ ہوتی رہی ،اور رات کو ترک اپنے پڑاو¿ میں واپس چلے گئے۔اِس طرح یہ جنگ کئی دنوں تک چلتی رہی۔اِدھر مروزور میں ترک مسلمانوں سے مقابلہ کر رہے تھے،اور ادھرکسریٰ اُن سے الگ ہو کرمرو شاہ جہاں گیا،کیونکہ وہاں اُس کا خاندانی خزانہ دفن تھا،اور مسلمانوں کامحاصرہ کر لیا۔وہاں حضرت حارث بن نعمان اُس سے مقابلہ کر رہے تھے۔ادھر مرو زور میںحضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ اِس تاک میں تھے کہ ترکوں کی کوئی کمزوری اُن کے ہاتھ آجائے۔اِسی سلسلے میں ایک رات وہ خبر رسانی کے لئے نکلے،اور جب وہ ترکوں کے لشکر کے قریب پہنچے،تو وہیں ٹھہر گئے۔جب صبح کا وقت آیاتو ایک ترک سوار اپنا طوق لیکر نکلا،اور وہ طبلہ بجانے لگا،پھر وہ اپنے لشکر کے ایک مقررہ مقام پر جا کر ٹھہر گیا۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے اُس پر نیزے سے حملہ کیا،دونوں نے ایک دوسرے پر نیزے سے وار کئے۔اور آخرکا رآپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے مار دیا۔پھر اُس ترکی سوار کا لباس پہن کر اُس کے مقام پر کھڑے ہو گئے،اور اُس کے بگل پر قبضہ کر لیا۔پھر دوسرا تک سوار نکلا،اُس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا،اور اُسے قتل کر کے اُسکی جگہ کھڑے ہو گئے،اور اُسکا بھی بگل لے لیا۔اور اس کے بعد جب تیسرا سوار نکلا،تو اُسے بھی قتل کر دیا۔ترکوں کا یہ قاعدہ تھا کہ وہ اُسوقت تک جنگ کے لئے نہیں نکلتے تھے،جب تک کہ یہ تینوں سوار بگل نہیں بجاتے تھے۔ترکی لشکر جب نکلے،اور انہوں نے اپنے تینوں سواروں کو قتل ہوا دیکھا،تو خاقان نے اِس سے بد شگونی لی،اور بولا؛”ہمارا یہاں قیام طویل ہو گیا ہے،اور یہ سوار ایسے مقام پر مارے گئے ہیں،جہاں کبھی انہیں نقصان نہیں پہنچا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا،اِس لئے ہمیں لوٹ جانا چاہیئے۔“اِس کے بعد ترکی فوج واپس چلی گئی۔

کسریٰ کا فرار

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی چالاکی سے ترکی فوج واپس چلی گئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب دن چڑھا تو مسلمانوں نے دیکھا کہ ترکی لشکر پڑاو¿ اُٹھا کر واپس جا رہا ہے تو انہیں بہت حیرت ہوئی۔مسلمانوں نے ترکوں کا تعاقب کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے انہیں منع کر دیا۔خاقان واپس آکر اپنے لشکر کے ساتھ بلخ میں مقیم ہو گیا تھا۔کسریٰ یزد گرد نے ترکوں کو مروزور میں چھوڑا ،اور خود لشکر لیکر مرو شاہ جہاں پہنچ کر حضرت حارث بن نعمان اور مسلمانوں کامحاصرہ کرلیا۔اور اِس دوران اپنا خاندانی خزانہ نکلواتا رہا۔جب کسریٰ نے پورا خزانہ نکلوا لیا،تو اُسے معلوم ہوا کہ خاقان ترکوں کے ساتھ واپس بلخ میں آگیا ہے۔اِسی لئے وہ بھی خزانہ لیکر ترکوں کے پاس جانے کی تیاری کرنے لگا۔فارسیوں نے اُس سے پوچھا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟اُس نے کہا؛”میں ترکوں کے پاس چلا جاو¿ں گا،اور وہیں رہوں گا،یا پھر چین چلاجاو¿ں گا۔“فارسی (ایرانی) عوام نے اُس سے کہا؛”آپ ٹھہر جایئے ،یہ بری تجویز ہے۔اِس طرح آپ دوسری قوم کے پاس چلے جائیں گے،اور اپنی قوم اور اپنے وطن کو چھوڑ دیں گے؟اِس سے تو بہتر یہ تھا کہ آپ ہمیں مسلمانوں کے پاس لے جائیں۔وہ با وفا اور دین دار قوم ہے،اور یہ ہمارے ملک کے قریب رہتے ہیں۔ایسا دشمن جو ہمارے ملک کے قریب رہتا ہو،ہمیں اُس دشمن سے زیادہ محبوب ہے،جو دور کے ملک میں رہتا ہو۔اور جس کا کوئی دین اور ایمان نہ ہو،اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہو کہ وہ کتنے باوفا ہیں۔جب کسریٰ نے اُن کی بات نہیں مانی تو انہوں نے کہا؛”آپ ہمارے خزانے چھوڑ جائیں،تاکہ وہ ہمارے ملک میں رہے،آپ اسے نکال کر دوسرے ملک نہیں لے جاسکتے۔“جب فارسیوں نے دیکھا کہ کسریٰ نہیں مان رہا ہے،تو اُنہوں نے مسلمانوں کو خبر کردی،اور مسلمانوں کے ساتھ ملکر اُس کے لشکر پر حملہ کردیا۔کسریٰ کے محافظ دستے نے اُس کی حفاظت کی،اور وہ خزانہ چھوڑ کر فرارہو کر دریا عبور کر کے فرغانہ چلا گیا،اور وہیں ترکوں کے ساتھ رہنے لگا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت میں وہ وہیں رہا۔اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں واپس آیا۔انشاءاﷲ ہم وہاںاِس کا ذکر کریں گے۔ادھر فارسیوں نے تمام خزانے پر قبضہ کر لیا،اور حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو لاکر سب دے دیا۔مسلمانوں نے فارسیوں کو امان دے دی،اور فارسی امن و سکون سے رہنے لگے۔اور وہ سلاطین فارس دورِحکومت سے زیادہ خوش حال اور فارغ البال ہو گئے،کیونکہ مسلمانوں نے اُن کے ساتھ عدل و انصاف کا سلوک کیا،اور اُن کا ہر طرح سے خیال رکھا۔

سلطنت فارس کاخاتمہ

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے ترکوں کے حاصل ہوئی فتح کی تفصیل اور مال غنیمت کا خمس خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔کسریٰ یزد گرد کے چلے جانے کے بعد اُس کے اراکین سلطنت حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور تمام خزانہ دیکر صلح کرلی۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے خمس نکال کر باقی مسلمانوں میں تقسیم کر دیا،مال ِغنیمت میں سے ہر مسلمان کو اتنا ہی حصہ ملا،جتنا جنگ قادسیہ میں ملا تھا۔اِس کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ بلخ آئے،اور سرحد پر فوجی چوکیوں کی تعیناتی کر کے خود مرو روز میں قیام کیا،اور فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کو بشارت نامہ لکھ کر خمس کے ساتھ بھیجا۔امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ نے مسلمانوں جمع کر کے فتح کی خبر سنائی،اور ایک پُر اثر تقریر کی،جس سے سامعین کے دل دہل گئے۔آخر میں آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”آگاہ ہو جاو¿!بے شک آج مجوسیوں(فارسیوں،ایرانیوں،آگ کی پوجا کرنے والوں)کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔پس وہ اپنے ملک میں بالشت بھرزمین کے بھی مالک نہیں رہے،جس سے مسلمانوں کو ضرر پہنچا سکیں۔آگاہ رہو کہ اﷲ تعالیٰ نے تم کو اُن کی زمین،اُن کے ملک،اُن کے اموال اور اُن کے لڑکوں کا وارث و مالک تمہارے اعمال کو جانچنے کی غرض سے بنایا ہے۔پس تم لوگ اپنی حالت تبدیل نہیں کرنا،ورنہ اﷲ تعالیٰ تم سے حکومت چھین کر دوسروں کو دےدے گا۔مجھ کو اِس اُمت پر اِسی کا خوف ہے کہ اُن پر بھی وہی حالت طاری نہ ہو جائے،جو اُن سے پہلے والوں پر طاری ہوئی تھی۔اور اُن کاحشر بہت برا ہوا تھا۔“

22 ھجری کے متفرق واقعات

اِس سال خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ایک روایت کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال اِسی سال ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ اِس سال ۲۲ ہجری میں یزید بن معاویہ پیدا ہوا،جس کے دورِ حکومت میں حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ اپنے مع اہل و عیال کے شہید کئے گئے۔اور عبد الملک بن مروان پیدا ہوا،جس کے دورِ حکومت میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ شہید کئے گئے۔

23 ھجری

23 ھجری کا سال اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کے لئے بہت ہی اہمیت کا سال ہے۔کیونکہ اِس سال خلیفۂ دوم امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ دنیا میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،قبر میں بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پڑوس میں ہیں،میدان حشر میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ میں رہیں گے۔اور جنت میں بھی سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے پڑوس میں رہیں گے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ کے دور خلافت میں سب سے زیادہ فتوحات ہوئی ہیں،اور اسلام بہت تیزی سے پھیلا ہے۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کی شہادت کا واقعہ انشاءاﷲ ہم آگے تفصیل سے بیان کریں گے۔

فتح توج

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے فرمان کے مطابق سلطنت فارس کا خاتمہ ہو چکا تھا،اور اب وہ سلطنت اتنی برُی طرح سے ٹوٹ پھوٹ چکی تھی کہ پھر کبھی کھڑی نہیں ہوسکی۔لیکن ابھی بھی کچھ علاقے ایسے تھے،جو مسلمانوں کے قبضے میں نہیں آئے تھے۔اُن علاقوں کی طرف خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے کئی اطراف میں لشکروں کو روانہ فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔بصرہ کے سپہ سالاروں کوختم ہوتی ہوئی سلطنت فارس کے مختلف علاقوں کی طرف جنگی مہم کے لئے روانہ کیا گیا۔اِن میں حضرت ساریہ بن زنیم بھی شامل تھے۔وہ لوگ اپنے لشکر لیکر مقررہ علاقوں کی طرف روانہ ہوئے۔اہل فارس ”توج“کے مقام پر اکٹھے ہو گئے تھے،مگر مسلمان سپہ سالاروں نے اُن کی طرف توجہ نہیں کی،اور ہر مسلمان سپہ سالار اُس مقام کی طرف روانہ ہوا،جو اُس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔جب فارسیوں کو اِس بات کا علم ہوا تو وہ اپنے اپنے علاقے کی مدافعت کے لئے منتشر ہو گئے،اور اُن کا اتحاد ٹوٹ گیا۔حضرت مجاشع بن مسعود اپنے لشکر کے ساتھ سابور اور ارد شیر خرہ کے مقامات پر پہنچے،پھر توج پہنچے تو وہاں مسلمانوں کا فارسیوں سے مقابلہ ہوا،جب تک اﷲ نے چاہا جنگ کرتے رہے،پھر اﷲ بزرگ و برتر نے مسلمانوں کے مقابلے میں اہل فارس کو شکست دی،اور مسلمانوں کو اُن پر مسلط کر دیا۔انہوں نے فارسیوں کا صفایا کر دیا ،اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا۔

فتح اصطخر

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان بن ابی العاص کو لشکر دیکر ”اصطخر“کی طرف بھیجا۔اُن کا اہل اصطخر سے مقام”جور“پر سامنا ہوا،فریقین میں زبردست جنگ ہوئی ۔ اور جب تک اﷲ نے چاہاجنگ ہوتی رہی ،پھر اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرما دی۔اہل اصطخر شکست کھا کر بھاگنے لگے،اور مسلمانوں نے جیسے چاہا اُن کا قتل عام کیا۔پھر بھی بہت سے لوگ بھاگ نکلے۔پھر حضرت عثمان بن ابوالعاص نے اہل اصطخر کو دعوت دی کہ وہ اگر چاہیں تو جزیہ ادا کر کے امان حاصل کر سکتے ہیں،اور ذمی بن کر سکون سے رہ سکتے ہیں۔اُن کے حاکم ”ہربز“نے مسلمانوں سے صلح کرلی،اور اہل اصطخر جزیہ دیکر رہنے لگے۔

شہرک کی بغاوت

مسلمانوں نے اصطخر فتح کر لیاتھا،لیکن خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت کے آخری دنوں میں انہوں نے بغاوت کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری دنوں میں شہرک نے بغاوت کی ۔اور اُس نے اہل فارس کا بھڑکایا،اور عہد شکنی کی دعوت دی تو حضرت عثمان بن ابی العاص کو پھر سے بھیجا گیا۔اور ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا دردناک واقعہ پیش آگیا۔اِس لئے اِس جنگ کو ہم یہیں روک دیتے ہیں۔اور انشاءاﷲ خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں یہیں سے شروع کریں گے۔

جنگ”فسا“اور”درابجرد“

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جن لشکروں کو سلطنت فارس کے مختلف علاقوں میں بھیجا تھا،اُن میں سے ایک حضرت ساریہ بن زنیم کو ”فسا“اور درابجرد“کی طرف بھیجا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ساریہ بن زنیم مسلمان مجاہدین کا لیکر ”فسا“اور ”بجرد“پہنچے تو وہاں اہل فارس کا ایک بڑا لشکر موجود تھا،دونوں لشکروں میں جنگ شروع ہوئی ،اور زبردست مقابلہ ہو نے لگا۔کئی دن جنگ چلنے کے بعد” کردستان “سے اور کمک آگئی،اور ”کردوں“کا ایک بڑا لشکر اہل فارس کی امداد کے لئے آگیا۔اِس وجہ سے مسلمانوں کو بہت زیادہ پریشانی پیش آگئی،لیکن حضرت ساریہ بن زنیم بڑی چالاکی سے مسلمانوں کو لڑا رہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ساریہ بن زنیم کے مقابلے میں فارسیوں(ایرانیوں) اور کردوں کی عظیم افواج جمع ہو گئیں۔اور مسلمانوں کو ایک عظیم جنگ اور بہت سے فوج کا اچانک سامنا کرنا پڑا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رات میں خواب دیکھا کہ حضرت ساریہ بن زنیم مسلمانوں کے ساتھ ایک صحراءمیں ہیں۔ اور دشمنوں سے جنگ کر رہے ہیں ،اور دشمن صحراءمیں مسلمانوں کوگھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور مسلمانوں کے پیچھے کچھ دور پر پہاڑ ہے،اور اگر مسلمان اُس پہاڑکے دامن میں آجائیں،تو وہ دشمنوں کے گھیرے میں نہیں آئیں گے۔

اﷲ نے میدان جنگ سامنے کر دیا

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خواب دیکھاتو آپ رضی اﷲ عنہ اﷲ کا اشارہ سمجھ گئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔دوسرے دن آپ رضی اﷲ عنہ نے ”الصلاة الجامعة“کا اعلان کر وایا۔حتیٰ کہ وہ وقت بھی آگیا،جب آپ رضی اﷲ عنہ نے میدان جنگ کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا،اُس وقت آپ رضی ا ﷲ عنہ منبر پر کھڑے خطاب فرما رہے تھے،اچانک آپ رضی اﷲ عنہ نے بلند آواز سے تین مرتبہ فرمایا؛”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“پھر سامعین سے فرمایا؛”بے شک اﷲ کے بہت سے لشکر ہیں،شاید کوئی لشکر انہیں یہ بات پہنچا دے۔“راوی بیان کرتے ہیںحضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے الفاظ حضرت ساریہ تک پہنچا دیئے گئے۔اور انہوں نے اُس پر عمل کیا اور اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں پر فتح عطا فرمائی۔ایک اور روایت میں ہے کہ جمعہ کے روز حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک آپ رضی اﷲ عنہ نے بلند آواز سے تین مرتبہ فرمایا؛”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“پس مسلمانوں نے پہاڑ کی آڑ لے لی،اور دشمن اُن پر ایک ہی طرف سے حملہ کر سکے،اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی،اور بہت سارا مال غنیمت حاصل ہوا۔حضرت ساریہ بن زنیم نے فتح کی خوش خبری اور ملا غنیمت کا خمس حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔اور اُس میں ایک جوہرات بھری ہوئی ٹوکری خاص طور سے آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے بھیجی۔

امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی سادگی اور قناعت

حضرت ساریہ بن زنیم کا ایلچی فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس لیکر مدینۂ منورہ آیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب ایلچی فتح کی خوش خبری لیکر آیا تو دیکھا کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہاتھ میں عصا پکڑے ہوئے مسلمانوں کو صفوں میں کھانا کھلاتے ہوئے پایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”بیٹھ جاو¿“اور اسے نہیں پہچانا۔اُس شخص نے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔اور جب آپ رضی اﷲ عنہ فارغ ہو گئے تو اپنے گھر کی طرف چلدیئے۔اور وہ شخص بھی پیچھے پیچھے چل دیا،آپ رضی ا ﷲ عنہ نے سمجھا کہ شاید ابھی اور بھوکا ہے۔اور اسے اپنے گھر لے آئے،اور کھانا منگایا،ایلچی نے دیکھا کہ وہ کھاناروٹی،تیل اور نمک ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کھاو¿“اور خود بھی کھانے لگے۔ایلچی نے کہا؛”میں حضرت ساریہ بن زنیم کا ایلچی ہوں ،اور فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کاخمس لایا ہوں۔“اور جوہرات سے بھری ٹوکری پیش کی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ واپس لے جاو¿،اور ساریہ سے کہنا کہ خمس نکال کر بھیج دیں ،اور باقی مجاہدین میں تقسیم کردیں۔

سینکڑوں کلو میٹر دور آواز سنی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ میں مسجد میں سے حضرت ساریہ بن زنیم کو حکم دیا تھا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی آواز سینکڑوں کلومیٹر دور میدان جنگ میں حضرت ساریہ اور مسلمانوں نے سنی۔آج انسان نے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ ایجاد کیا ہے،جو سینکڑوں کلومیٹر دور کی تصویر اور آواز ہمیں سنا دیتے ہیں۔جب انسانوں کا حال ہے تو اﷲ تعالیٰ کیا کر سکتا ہے؟۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور جب اہل مدینہ نے حضرت ساریہ بن زنیم کے ایلچی سے فتح کے متعلق پوچھا تو اُس نے فتح کی تفصیل بتائی۔پھر انہوں نے کہا؛”کیا تم نے جنگ کے دوران کوئی آواز سنی تھی؟“اُس نے جواب دیا؛”ہاں !ہم نے ایک آواز کو یہ تین بار کہتے سنا؛”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“اور اُس وقت ہم دشمنوں کے نرغے میں تھے۔لیکن حضرت ساریہ بن زنیم نے فوراًہمیں پہاڑ کی طرف پیش قدمی کرنے کا حکم دیا۔اور ہم نے پہاڑ کے دامن میں جمع ہو کر جنگ کی تو اﷲ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرما دی۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ساریہ بن زنیم کو ایک لشکر دیکر روانہ کیا۔پھر ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے تین مرتبہ ”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“فرمایا۔لشکر کا ایلچی آیا اور اُس نے فتح کی خوش خبری دی،اور کہا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !ہم شکست کے قریب تھے کہ ہم نے ایک پکارنے والے کی آواز تین مرتبہ سنی”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“تم ہم نے اپنی پشتیں پہاڑ کے ساتھ لگا لیں،اورشدید حملہ کیا تو اﷲ نے دشمنوں کو شکست دے دی۔“پھر ایلچی بولا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !کیا آپ رضی اﷲ عنہ ہی یہ آواز دے رہے تھے؟“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......؟


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں