اتوار، 2 جولائی، 2023

31 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


31 سیرت سید الانبیاء ﷺ

غزوۂ طائف اور جعرانہ میں انصار سے خطاب

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

 جعرانہ میں مال غنیمت کی تقسیم، مال غنیمت کی تقسیم اور تالیف قلب، انصار پر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احسانات، لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے جاؤ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، میں انصار کے ساتھ چلنا پسند کروں گا

غزوہ ٔ طائف

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین میں فتح حاصل ہونے کے بعد طائف کی طرف روانہ ہوئے۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حنین میں بنو ثقیف کے شکست خوردہ لوگوں نے وہاں سے طائف کا رخ کیا اور اس شہر میں گویا اپنے نزدیک مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیا۔ انہوں نیوہاں ایسے اسلحہ جنگ بھی تیار کر لئے جن کے متعلق عروہ بن مسعود اور غیلان بن سلمہ کہتے ہیں کہ اس سے قبل حنین یا طائف میں ان کی نظر سے نہیں گزرے۔ مثلاً منجنیق ، دبابے اور قلعہ کی دیواروں تک پہنچنے کے آلات وغیرہ ۔ ( منجنیق ایک بہت بڑی غلیل کی طرح ہوتا ہے جس میں بڑے بڑے پتھر ڈال کر پھینکا جاتا تھا۔ جس سے قلعہ کی دیوار ٹوٹ جاتی تھی اور دبابہ یوں سمجھ لیں آج کے زمانے کا ٹینک تھا۔ اس کے اندر کئی آدمی اسے اٹھا کر قلعے کی دیوار تک لاتے تھے اور دیوار توڑتے تھے) بنو ثقیف کی طائف میں ان تیاریوں کا حال سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اور دوسرے مجاہدین کو ساتھ لے کر طائف کی طرف روانہ ہو ئے۔

طائف کی طرف روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف روانہ ہوئے۔ محمد بن اسحاق آگے لکھتے ہیں کہ حنین سے طائف کی طرف سفر کرتے ہہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نخلہ یمانیہ پہنچے ۔ وہاں سے آگے قرن پہنچے پھر ملیح اور پھر وہاں سے آگے بڑھ کر لیحہ کے بحر الرغا میں قیام فرمایا۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد کی بنیاد ڈال کر وہیں نماز ادا فرمائی اور وہیں قتل کے ایک مقدمہ کا فیصلہ فرمایا ۔ ہوا یہ تھا کہ بنو لیث کے ایک شخص نے بنو ہذیل کے ایک شخص کا قتل کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے قتل کا حکم دیا۔ اس کے آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیقہ کے راستے پر آگے چلے۔ اور پھر لخب سے آگے بڑھ کر ایک درخت کے سایہ میں قیام فرمایا۔ جسے صادرہ کہا جاتا ہے۔ یہ درخت اور آس پاس کی زمین بنو ثقیف کے ایک شخص کی تھی۔

قوم ثمود کا ایک شخص

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ طائف کی طرف سفر فرما رہے تھے کہ راستے میں ایک قبر کے پاس گزرے۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جب ہم حنین سے طائف کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے تو راستے میں ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں کسی کی قبر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: ’’ یہ قبر بنو ثقیف کے ایک شخص ابو رغال کی ہے جو پہلے قوم ثمود کے ساتھ رہتا تھا۔ جب قوم ثمود پر اللہ کا عذاب آیا تھا تو وہ بھاگ کر مکہ مکرمہ میں آگیا تھا اور یہیں اپنے قیام گاہ تعمیر کر لی تھی۔ ‘‘علامہ علی بن برہان الدین حلبی لکھتے ہیں ( طائف کے سفر کے دوران) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ قبر ابو رغال کی ہے۔ یہ ابو رغال ثقیف کا باپ تھا اور حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود میں سے تھا۔ یہ شخص بھی آسمانی عذاب میں گرفتار ہو گیا تھاجو اس کی قوم ثمو د کے اوپر آیا تھا او ریہیں ہلاک ہو کر دفن ہو گیا۔ اس آسمانی عذاب کے وقت یہ شخص حرم میں یعنی مکہ مکرمہ میں گیا ہوا تھا۔ اس لئے عذاب سے محفوظ رہا۔ مگر جیسے ہی یہ شخص حرم سے نکل کر آیا تو یہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہو اور اسے یہاں موت آئی تو یہیں دفن کر دیا گیا۔ ‘‘

طائف کا محاصرہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کی روانگی کے وقت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالار ی میں ایک دستے کو آگے روانہ فرما دیا تھا۔ یہ سو گھوڑے سواروں کا دستہ تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لشکر کے ہر اول دستے’’مقدمۃ الجیش‘‘ کے طور پر بھیجا تھا۔ طائف خود ایک بہت ہی محفوظ شہر تھا۔ جس کے چاروں طرف شہر پناہ ( فصیل ) کی دیوار بنی ہوئی تھی اور یہاں ایک مضبوط قلعہ بھی تھا۔ یہاں کا سردار عمرو بن مسعود ثقفی تھا جو ابو سفیان کا داماد تھا۔ کافروں کی تمام فوجیں سال بھر کا راشن لے کر طائف میں پناہ گزیں ہو گئی تھیں۔ اسلامی افواج نے طائف پہنچ کر شہر کا محاصرہ کر لیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی للکار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کر لیا۔ جب مسلمان فصیل کے قریب جانے کی کوشش کرتے تو ان پر فصیل کے اوپر سے تیروں کی بارش کی جاتی اور مسلمانو ں کو پیچھے ہٹنا پڑتا تھا۔ اسی دوران ایک دن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر سے آگے بڑھے اور بلند آواز سے دشمنوں کو للکارا: ’’ کوئی ہے جو میرے مقابلے پر آئے۔‘‘ مگر وہاں سے کوئی نہیں آیا۔ دشمن کے سپاہی قلعہ بند ہو کر بیٹھے رہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی للکار کے جواب میں فصیل کے اوپر عبد یا لیل آیا اور بولا : ’’ہم میں سے کوئی بھی شخص قلعہ سے اتر کر تمہارے پاس نہیں آئے گا ۔ ہم قلعہ بند رہیں گے۔ ہمارے اتنا زیادہ رسد ( کھانے پینے کا سامان) ہے جو ہمارے لئے برسوں کافی ہو سکتا ہے۔ اس لئے اگر تم لوگ اتنے دنوں تک ٹھہر سکو کہ ہماری رسد اور کھانے پینے کا سامان ختم ہو جائے تو ضرور ہم اپنی تلوار یں سنبھال کر نکل آئیں گے اور اس وقت تک لڑیں گے جب تک ہمارا آخری آدمی بھی ختم نہ ہو جائے۔

منجنیق اور دبابے کا استعمال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے محاصرے کے دوران اس جگہ اپنا خیمہ لگوایا جہاں آج ’’مسجد طائف‘‘ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس غزوے میں دو ام المومنین رضی اللہ عنہا ساتھ تھیں۔ ایک اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا تھی اور دوسری اُم المومنین سید زینب رضی اللہ عنہا تھیں۔ ان دونوں کے لئے دو خیمے نصب کئے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محاصرے کے دوران دونوں خیموں کے درمیان نماز ادا کرتے تھے۔ بعد میں جب طائف کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو اسی جگہ مسجد بنائی جو’’ مسجد طائف ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔ محاصرے کے دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار منجنیق کا استعمال فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ منجنیق حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ ذو الکفین کے بت کو جلانے کے بعد لے کر آئے تھے ۔دوسری روایت میں ہے کہ غزوہ خیبر کے دوران جو منجنیق مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھی اس کا استعمال کیا۔ تیسری روایت میں ہے کہ یہ منجنیق حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بنائی تھی۔ اس کے علاوہ غزوہ طائف میں دبابوں کا استعمال بھی کیا گیا۔ دبابہ لکڑی پر چمڑے کا بنایا ہو ا گھر ہوتا تھا اور کبھی کبھی لوہے کی چادر بھی چڑھا دی جاتی تھی۔ اس میں نیچے پہیئے لگے ہوتے تھے اور اس میں بیس سے لے کر پچاس آدمی آتے تھے۔ جو دبابے کو کھینچ کر قلعے کی دیوار تک لے جاتے تھے اور دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتے تھے) جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو دبابوں میں داخل ہو کر فصیل تک پہنچے۔ تو بنو ثقیف نے اوپر سے ان پر گرم گرم جلتی ہوئی لوہے کی سلاخیں پھینکی مجبوراً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دبابوں سے نکلنا پڑا۔ ان کے نکلتے ہی اوپر سے تیروں کی بارش کر دی گئی۔ جس کی وجہ سے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے۔

اللہ کے لئے آزاد کر دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرے کے دوران اعلان کیا کہ جو غلام قلعہ سے اتر کر ہمارے پاس آجائے گاوہ ( اللہ کے لئے ) آزاد کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان سن کر 23آدمی قلعہ سے نکل کر مسلمانوں سے آکر ملے۔ ان میں حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ وہ قلعہ کی دیوار پر سے ایک چرخی یا گراری کی مدد سے لٹک کر نیچے آئے تھے۔ عربی میں چرخی یا گراری( جس سے کنویں سے پانی کھینچا جاتا ہے) کو ’’بکرہ ‘‘کہا جاتا ہے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابو بکرہ رکھ دی اور حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے اس لقب سے اتنی خوشی ہوتی تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو ہمیشہ اسی لقب سے کہلوانا پسند کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو آزاد کر دیا اور ہر ایک کو ایک مسلمان کے حوالے کیا کہ وہ مسلمان اس کی مدد کرے۔ اس سے طائف والوں کو بہت صدمہ ہوا۔ بعد میں جب بنو ثقیف نے اسلام قبول کیا تو ان غلاموں کو واپس مانگا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس دینے سے منع فرما دیا۔ اب یہ تو اللہ کے لئے آزاد ہو چکے ہیں۔

غزوہ طائف سے واپسی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ اٹھارہ یا بیس روز طائف کا محاصرہ جاری رکھا۔ صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محاصرہ چالیس دن تک جاری رہا۔ لیکن اکثر سیرت لکھنے والوں نے بیس دن کے محاصرے کا ذکر کیا ہے۔ بعض نے دس دن بتائی۔ بعض نے پندرہ دن بتائی اور بعض نے اٹھارہ دن بتائی۔ جب محاصرہ لمبی مدت تک کھنچ گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نوفل بن معاویہ ویلمی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، لومڑی اپنے بھٹ میں گھس گئی ہے۔ اگر کوشش جاری رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم محاصرے پر ڈٹے رہے تو پکڑ لیں گے اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر چلے گئے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ ختم کر نے کا فیصلہ کیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اسلامی لشکر میں واپسی کا اعلان کر دیں۔ انہوں نے واپسی کا اعلان کیا تو کچھ نوجوان جو شیلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اصرار کیا کہ ہم کوشش کر کے فتح حاصل کریں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ’’ ٹھیک ہے کل صبح کوشش کر لینا۔‘‘ دوسرے دن مسلمانوں نے حملہ کیا اور بہت خوں ریز مقابلہ ہوا اور اس مقابلے میں بہت سے مسلمان زخمی ہوئے لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ شام کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ انشاء اللہ کل ہم واپس جائیں گے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ سن کر خوش ہو گئے۔ ( اور وہ جو شیلے نوجوان صحابہ رضی اللہ عنہم بھی واپسی کی تیاری کرنے لگے) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو واپسی کی تیاری کرتے دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔

جعرانہ کی طرف روانگی   

غزوہ ٔطائف میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی دنوں تک طائف کا محاصرہ جاریرکھا۔اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو واپسی کا حکم دیا۔کیو نکہ طائف کی شہر پناہ (فصیل)کے اندر اتنا زیادہ رسد اور کھانے پینے کا سامان تھا کہ طائف والے ایک سال تک آرام سے اسکو استعمال کر سکتے۔یعنی اگر ایک سال تک طائف کا محاصرہ جاری رکھا جاتا تھا۔تب بھی طائف والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا حکم دیا اور اسلامی لشکر طائف سے جعرانہ کی طرف روانہ ہوئے۔جہاں مالِ غنیمت جمع تھا۔ غزؤہ طائف میں بارہ مسلمان شہید ہوئے تھے۔ ان میں سات قریشی تھے۔ ایک بنو لیث کے اورچار انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔طائف سے روانگی کے وقت سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ اسکاوعدہ سچا ہے۔اس نے اپنے (رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم) کی مدد فرمائی اور اس اکیلے نے (یعنی اللہ تعا لیٰ نے)تما م کا فروں کے لشکر کو شکست دی۔‘‘اس کے بعد جب روانہ ہو کر آگے بڑھے تو فرمایا: ’’ہم لوٹنے والے ہیں،تو بہ کر نے والے ہیں اوراپنے رب (اللہ تعالیٰ) کی عبادت کرنے والے ہیںاور اس کی تعر یفیں بیان کر نے والے ہیں۔‘‘ راستے میں کچھ لوگوں نے سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم !طا ئف کے بنو ثقیف کے لیے بد دعا فر مائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک اٹھا ئے اور فرمایا: ’’اے اللہ بنو ثقیف کے لوگوں کو ہدا یت عطا فرما اور انھیں اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمااور انیھیںہما رے پاس بھیج دے۔‘‘

جعرانہ میں مال غنیمت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ طائف سے واپس جعرانہ میں تشریف لائے ۔ کیونکہ غزوئہ حنین میں بے شمار مال و دولت اور قیدی حاصل ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام مال غنیمت ان میں 6چھ ہزار قیدی تھے۔ اونٹ 24چوبیس ہزار تھے ۔ بکریاں اور بھیڑیں چالیس 40ہزار سے زیادہ تھیں اور لگ بھگ چار ہزار اوقیہ چاندی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ دس دنوں تک بنو ہوازن کا انتظار فرمایا۔ اسکے بعد قیدیوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔

قیدیوں میں رضاعی بہن شیما

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دس دنوں تک قبیلہ بنو ہوازن کے لوگوں کا انتظار کرنے کے بعد قیدیوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔ تمام قیدی حاضر کئے گئے۔ ان قیدیو ں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن شیما بھی تھی۔ ( شیما کے بارے میں جاننے کیلئے ہماری کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن پڑھیں) انھوں نے آگے بڑھ کر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ میں تمھاری رضاعی ( دودھ شریک ) بہن شیما ہوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سعد بن بکر کی سیدہ حلیمہ سعدیہ کا دودھ پیا تھا اور بچپن قبیلہ بنو سعد ہی میں گذرا تھا۔ اس وقت شیما اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گود میں لیتی تھیں اور پیٹھ پر لاد کر بھی چلتی تھیں۔ جب انھو ں نے آگے بڑھ کر عرض کیا کہ میں تمھاری رضاعی بہن شیما ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہچان نہیں سکے ۔ کیونکہ ان کی شکل لگ بھگ بدل چکی تھی۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ تم ہی شیما ہو؟‘‘

سید ہ شیما رضی اللہ عنہا کا قبول اسلام    

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ شیما رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ تم ہی میری رضاعی بہن شیما ہو تو انھوں نے بتایا کہ بچپن میں ایک مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پیٹھ پر لاد کر لے جارہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیٹھ پر دانت کاٹ لیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کیا کہ یہ بات صرف میری رضاعی بہن شیما اور میں ہی جانتے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے دانت کاٹنے کے نشان بتائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عزت و تکریم کیلئے فوراً اپنی چادر بچھا دی اور بیٹھنے کیلئے فرمایا۔ کچھ دیر تک دونوں بھائی بہن باتیں کرتے رہے پھر سیدہ شیماہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کرلیا۔ اسکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے میری پیاری بہن !اگر تم میرے رہنا چاہو گی تو میں بہت محبت اور عزت سے تم کو رکھوں گا اور اگر گھر جانا چاہتی ہو تو تمھیں واپس بھیجنے کا بندوبست کردوں گا۔ انھوں نے کہا بھائی میں گھر واپس جانا چاہتی ہوں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حفاظت سے گھر بھیجنے کا انتظام فرمایا اور کچھ اونٹ اور بکریاں اور تین غلام اور ایک کنیز بھی عطا فرمائی ۔ تاریخ طبری میں ایک غلام اور ایک کنیز کا ذکر ہے۔

مالِ غنیمت کی تقسیم کرنے پر اصرار

سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم اس انتظار میں تھے کہ ہوسکتا ہے کہ قبیلہ بنو ہوازن کے جو لوگ غزوئہ حنین میں شکست کھاکر بھاگے تھے۔ وہ واپس آئیں کیونکہ ان کی بیوی بچے مسلمانوں کی قید میں تھے۔ لیکن لگ بھگ دس دن انتظار کرنے کے باوجود قبیلہ بنو ہوازن کے لوگ نہیں آئے۔ ادھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو نو مسلم (نئے مسلمان) اور اعرابی (دیہاتی) تھے۔ ان کا اصرار بڑھتا جارہا تھا کہ مال غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم کی جائے۔ ایک دن اُن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا اور مالِ غنیمت کی تقسیم پر اصرار کرنے لگے اور دبائو ڈالنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں سمجھاتے ہوئے پیچھے ہٹتے جارہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مباک ایک جھاڑی میں الجھ کر چھوٹ گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے لوگو! میری چادر تو مجھے دے دو۔ اللہ کی قسم! اگر میرے پاس اتنے اونٹ بھی ہوں گے ۔ جتنے تہامہ میں درخت ہیں تو میں ان سب کو تم میں تقسیم کر دوں گااور تم مجھے بخیل ،بز دل اور جھو ٹا نہیں پاو گے۔‘‘اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس آئے ـاور اسکے کو ہا ن میں سے ایک مٹھی بال پکڑ ے اور فر مایا: ’’ اے لو گو!تمھا ر ی غنیمت میں سے یہ بال میرا پانچواں حصہ ہے۔میں وہ بھی تم لوگوں پر خر چ کر تا ہوں۔‘‘(یعنی سارااونٹ اگر مالــ غنیمت ہے تو جتنے بال مٹھی میں ہیں و ہی سیدالانبیا ء کا حصہ ہے۔یعنی خمس ہے۔)قا عدہ یہ تھا کہ مال غنیمت کے پانچ حصے کیے جا تے تھے ۔چار حصے مجا ہدوں میں بانٹ دئے جا تے تھے اور خمس یعنی پانچواں حصہ’’ بیت المال‘‘ میں جمع کر دیا جاتا تھا۔سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفئہ اول حضر ت ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ کے ز مانے میں خمس یعنی پانچواں حصہ بھی تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ لیکن خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میںاتنا زیادہ مال غنیمت آیا کہ تمام مسلما نوں کو دیکر بھی بچ جاتا تھاتو انھوں نے بیت المال قائم کر دیا۔

مال غنیمت کی تقسیم اور تالیف قلب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد مال غنیمت کی تقسیم فرمانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے اسلام قبول کرنے والوں اور جنگ میں شریک ساتھی قبائل کو بہت زیادہ مال غنیمت عطا فرمایا اور جلیل القدر مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کونہیں عطا فرمایا۔ نئے مسلمان اور دوسروں کو’’ تالیف قلب ‘‘کے لئے عطا فرمایا۔ ابو سفیان بن حرب کو سو اونٹ اور چالیس اوقیہ چاندی عطا فرمایا۔ ابو سفیان بن حرب نے کہا : ’’ میرے بیٹے یزید بن ابو سفیان کو بھی کچھ عطا فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی سو اونٹ اور چالیس اوقیہ چاندی عطا فرمائی پھر ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ میرا دوسرا بیٹا معاویہ بن ابو سفیان بھی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ بن ابو سفیان کو بھی سو اونٹ اور چالیس اوقیہ چاندی عطا فرمائی۔ اس کے بعد ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ یا رسول اللہ !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ اورامن( یعنی دشمنی اور دوستی) دونوں حالتوںمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شریف ہیں۔‘‘ اسی طرح حکیم بن حزام کو بھی سو اونٹ عطا فرمائے۔ انہوں نے مزید درخواست کی تو سو اونٹ اور عطا فرمائے کتا ب امتاع میں یوں ہے کہ تیسری مرتبہ بھی درخواست کی تو سو اونٹ اور عطا فرما دیئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ اوپر والا ہاتھ ( دینے والا) نیچے والے ہاتھ ( لینے والے) سے بہتر ہے۔‘‘ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے دو سو اونٹ واپس کر دیئے اور صرف وہی سو اونٹ رکھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سے عطا فرمائے تھے اور پھر ساری زندگی کسی سے کچھ نہیں لیا۔ اسی طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع بن حابس اور عینہ بن حصن کو بھی سو سو اونٹ عطا فرمائے اور عباس بن مرداس کو چالیس اونٹ عطا فرمائے۔ انہوں نے شکایت کی تو انہیں بھی سو اونٹ عطافرمائے۔ صفوان بن امیہ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا اسے اتنا مال غنیمت عطا فرمایا کہ اس نے خوش ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اسی طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مالِ غنیت تقسیم فر مادیئے اور حضرت جعیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں عطا فرمایا۔ کسی نے شکایت کی: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع بن حابس اور عینہ بن حصن کو عطا فرمایا۔ جب کہ وہ دونوں شریرہیں اور جعیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں عطا فرمایا۔ جب کہ وہ غریب ہیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ قسم ہے اس ذات کی ( اللہ تعالیٰ کی ) جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ جعیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ میرے لئے ان دونوں سے بہتر ہیں۔ مگر بات یہ ہے کہ میں نے ان دونوں کی’’ تالیف ِ قلوب‘‘کے لئے کی ہے کہ اس طرح وہ دونوں اسلام قبول کر لیں اور حضرت جعیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ تو پہلے سے ہی اسلام کی دولت سے مالا مال ہیں۔

’’ تالیف قلب‘‘ کا مقصد اور قِسمیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بہت عطا فرمایا اور کسی کو کچھ نہیں عطا فرمایا۔ اس سے ہم کم عقلوں کو غلط فہمی پید ا ہو سکتی ہے۔ در اصل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی’’ نگاہ ِ نبوت‘‘ جو دیکھ رہی تھی وہ دوسرے انسان نہیں دیکھ سکتے۔ ایک حدیث میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنے ایک محبوب شخص کو چھوڑ کر کسی دوسرے شخص کو مال دیدیتا ہوں۔ جو صرف اس ڈر سے کہ وہ دوسرا آدمی دوزخ میں الٹے منہ پھینک نہ دیا جائے۔ ( سیرت حلبیہ) یعنی جسے دیتا ہوں اس کا ایمانکمزور ہے اور مال سے اس کی مدد کر کے ایمان مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور جسے نہیں دیتا ہوں اس کا پہلے سے ہی ایمان مضبوط ہے اور جہاں تک’’ تالیف قلب‘‘ یا ’’مولفتہ القلوب‘‘ کا تعلق ہے تو اس کی تین قسم ہے۔ پہلی قسم کے وہ لوگ ہیں جن کی دلداری اور مالی امداد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے فرمائی تاکہ وہ لوگ اسلام قبول کر لیں۔ جیسے صفوان بن امیہ ، دوسری قسم کے وہ ہیں جن کی دلداری اور مالی امداد اس لئے کی گئی کہ ان کے شر (برائی) سے محفوظ رہیں۔ جیسے عینہ بن حصن، اقرع بن حابس اورعباس بن مرداس وغیرہ ۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا ہے اور ابھی بھی ایمان مضبوطی سے قلب( دل) میں جما نہیں ہے۔ جیسے ابو سفیان بن حرب وغیرہ ۔

ایک گستاخ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مالِ غنیمت کی تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک گستاخ آکر سامنے کھڑا ہو گیا۔ ابو القاسم ( عبداللہ بن حارث کے مولیٰ)بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور تلید بن کلاب لیشی حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے۔ وہ اس وقت اپنے جوتے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے بیت اللہ کی خدمت اقدس میں حاضرتھے۔ ہم نے ان سے پوچھا : ’’آپ رضی اللہ عنہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے؟ جب حنین میں تمیمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عطاکے متعلق گفتگو کی تھی۔‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ ہاں بنو تمیم کا ایک شخص ذو الخو یصرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر کھڑ اہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو ( مال غنیمت ) عطا فرما رہے تھے۔ اس نے کہا: ’’ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آج جو کچھ تم نے کیا ہے میں نے اسے دیکھا ۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پھر کیا دیکھا؟‘‘ اس (بد بخت ) نے ( بد تمیزی ) سے کہا: ’’ ( نعوذ باللہ) تم نے عدل نہیں کیا ۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے اللہ کے بندے! عدل اگر میرے یہاں نہیں ہوگا تو کہا ں ہوگا؟ ‘‘ ( ایک دوسری روایت میں ذرا اور تفصیل سے ہے۔ اس بد بخت گستاخ نے کہا: ’’ اللہ سے ڈریے ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تجھے اللہ سے ڈرنا کس نے سکھایا؟‘‘ اس کے بعد وہ بد بخت گستاخ منہ پھیر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیٹھ کر کے جانے لگا۔ (جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف سے کبھی منہ نہیں پھیرتے تھے) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اجازت دیں کہ میں اس کو قتل کردوں۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بھی یہی الفاظ دہرائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں! اسے چھوڑ دو۔ ممکن ہے اس کی طرح اور لوگ بھی ہوں گے اور وہ اس طرح دین ( اسلام) میں نکتہ چینی کریں گے اور برگشتہ ہو جائیں گے اور دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔‘‘ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے بھی یہ واقعہ اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے بھی اس بد بخت گستاخ کا نام ذوا لخو بصیرہ بیان کیا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات ذو الخو یصرہ نے اس مال کی تقسیم کے وقت کی تھی جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں یمن سے بھیجا تھا۔

انصار کے نوجوانوں کا تردّد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کی جعرانہ میں تقسیم فرمائی اور نئے مسلمانوں کی تالیف قلب کے لئے انہیںعطا فرمایا اور انصار کو نہیں دیا تو ان کے نوجوانوں کو تردد ہو ااور انہوں نے آپس میں کہا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو اس قدر عطا فرما رہے ہیں اور ہم لوگوں کا کچھ بھی خیال نہیں فرما رہے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے۔‘‘ اور کچھ نوجوانوں نے یہ بھی کہا: ’’ جب شدید جنگ کا موقعہ ہوتا ہے تو ہم انصار کو پکارا جاتا ہے اور غنیمت دوسروں کو دی جا رہی ہے۔ ‘‘جب بہت قیل و قال ہوئی تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں تو اس بات میں ان کا شریک نہیں ہوں۔ مگر میری قوم کی یہ گفتگو ہے ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم جا کر انصار کو ایک خطیرہ میں جمع کرو۔ ‘‘حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے جا کر سب انصار کو ایک خطیرہ میں جمع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔

انصار پر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احسانات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے درمیان تشریف فرما ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے سوا کسی کو نہیں بلایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے دریافت فرمایا : ’’ مجھے ایسی اطلاع ملی ہے کہ تم ایسا اور ایسا کہہ رہے ہو؟‘‘ انصار کے سمجھ دار افراد نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے عمر رسیدہ ( یعنی بڑی عمر ) کے لوگوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی ۔ ہاں بعض نو عمر لڑکوں نے ایسی بات کہی ہے۔ ‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار !کیا تم لوگ گمراہ نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہاری ہدایت فرمائی؟‘‘ انصار نے عرض کیا: ’’ بے شک ہم پر اللہ تعالیٰ کا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ احسان ہے ۔ ‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار !کیا تم بکھرے ہوئے نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے تمہیں متحد فرمایااور الفت پیدا فرمائی۔ ‘‘ انصار نے عرض کیا : ’’بے شک یہ اللہ تعالیٰ کا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر احسان ہے ۔ ‘‘ اس کے بعد تیسری مرتبہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار!کیا تم تنگ دست اور غریب نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے تمہیں غنی فرما دیا۔‘‘ انصار نے عرض کیا: ’’بے شک !یہ بھی ہم پر اللہ تعالیٰ کا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہے۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول ﷺ کے ’’انصار‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار! تم میری بات کا جواب دو۔‘‘ انصار نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم کیا جواب دیں؟ ہم تو بس صرف یہی کہتے ہیں کہ ہم پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا احسان اور فضل ہوا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے گروہ ِ انصار!اگر تم چاہو تو یہ جواب دے سکتے ہو اور اس جواب میں تم سچے ہو گے اور میں بھی تمہارے جواب کی تصدیق کروں گا۔ تم مجھے یہ جواب دے سکتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دوسروں نے جھٹلایا اور انکار کیا ۔ اس وقت ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور ایمان لائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب نے چھوڑ دیا۔ تب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔ (یہ سن کر تمام انصار رونے لگے) تم یہ کہہ سکتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکال دیئے گئے تھے اور تم یہ بھی کہہ سکتے ہو اور یہ سچ ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت مند تھے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعانت کی اور ٹھکانہ دیا۔ (اب انصار باقاعدہ زور زور سے رونے لگے تھے) تمام انصار نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اتنا ہی عرض کیا : ’’ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا یہ ہم پر بڑا احسان اور فضل ہوا کہ انہوں نے ہمیں ’’انصار ‘‘(مدد گار) بنایا۔ ‘‘

لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے جاؤ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ اور الفاظ نے انصار پر اتنا گہرا ثر کیا کہ وہ باقاعدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے گروہِ انصار !دنیا کی ایک حقیر شئے ( مال و دولت) کے لئے تم مجھ سے کبیدہ خاطر ہو گئے اور وسوسوں کا شکار ہو کر تردد میں پڑ گئے۔ میں نے اس مال و دولت ( بکریاں اور اونٹوں) سے بعض لوگوں کی’’ تالیف قلب ‘‘کرنا چاہی تا کہ وہ مسلمان ہو جائیں اور تم کو میں نے تمہارے اسلام کے سپرد ( حوالے ) کر دیا ہے۔ اے گروہِ انصار کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ ( یعنی مال ودولت ) لے کر جائیں اور تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے کر جائو؟ ‘‘ انصار روتے رہے اور کہا : ’’ ہمیں مال و دولت کی نہیں بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہے اور ہم اس بات پر راضی اور خوش ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ ہیں۔ ‘‘

اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کا یہ محبت بھرا جواب سن کر فرمایا: ’’ اللہ کی قسم ! جو چیز تم لے کر جائو گے( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لوگ لے کر جائیں گے ۔ قسم ہے اس ذات پاک ( اللہ تعالیٰ کی) جس کے قبصے میںمیری جان ہے۔ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں انصار میں پیدا ہونا پسند کرتا اور انصار کا ایک فرد ہوتا۔ اے اللہ تعالیٰ! انصار پر رحم فرمااور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما اور ان کی اولاد پر اور ان کی اولاد پر اور ان کی اولاد پر بھی اپنی رحمت نازل فرما۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا پر تمام انصار دھاڑیں مار کر رونے لگے۔

میں انصار کے ساتھ چلنا پسند کروں گا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے لئے دعا فرما رہے تھے اور تمام انصار کے صبر و ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا اور وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار! اگر (تمام دنیا کے ) لوگ ایک میدان یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسرے میدان یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کے ساتھ چلنا پسند کروں گا۔ انصار’’ استر‘‘ ہیں اور دوسرے لوگ ’’ابرا ‘‘ہیں۔ میرے بعد تم لوگ ( یعنی انصار ) دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی تو صبر سے کام لینا۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو۔‘‘ صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’ میرے بعد تم ( انصار) اپنے ساتھ بڑی ناانصافی دیکھو گے تو اس پر صبر کرنا۔ یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملو اور میں حوضِ کوثر پر ملوں گا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سن کر انصار اتنا روئے کہ ان کی داڑھیاں آنسوسے تر ہو گئیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں