31 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 31
22 ھجری، فتح ہمدان، فتح وادیٔ حراج روذ، فتح کی خوش خبری، رے کی طرف پیش قدمی، فتح رے، اہل رے سے معاہدہ، اہل دینا وند سے معاہدہ، فتح قومس، فتح جرجان، فتح طبرستان، آذربائیجان کی پہلی فتح، آذربائیجان کی دوسری فتح، آذربائیجان کا معاہدہ، فتح باب، معاہدہ آرمینیہ
22 ھجری
اس سال 22 ھجری میں خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مملکت اسلامیہ کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے بہت کام کئے۔اِس کے علاوہ سلطنت فارس میں فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔حالانکہ 12 ہجری میں حضرت نعمان بن مقرن،حضرت طلیحہ بن خویلد،حضرت عمرو بن معدی کرب رضی اﷲ عنہم جیسے بڑے بڑے مجاہدین اسلام شہید ہو گئے تھے۔اور حضرت خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ اور حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ جیسے جلیل القدر سپہ سالاروں کا انتقال ہوا تھا۔ اِس کے باوجود مسلمانوں کی پیش قدمی جاری مسلسل جاری رہی۔
فتح ہمدان
مسلمانوں سے ہمدان کے خسرو شنوم نے صلح کر لی تھی،لیکن بعد میں اہل ہمدان نے صلح توڑ دی۔خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس کی اطلاع ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو آگے بڑھ کر ہمدان پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا،اور تحریر فرمایا؛”تم روانہ ہو کر ہمدان پہنچو،تم اپنے ہر اول دستے (مقدمة الجیش)پر حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو بھیجو۔اور میمنہ (دائیں بازو)پر حضرت ربعی بن عامر طائی کو اور میسرہ (بائیں بازو) پر حضرت مہلہل بن زید تمیمی کو کمانڈر مقرر کرو۔“اِس حکم کے مطابق حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر ”ثنیة العسل“کے درّے سے گذر کر ہمدان کے قریب پہنچے۔اہل ہمدان کو مسلمانوں کے آنے کی خبر مل چکی تھی،اِس لئے وہ شہر میں قلعہ بند ہو گئے۔اور ”شہر پناہ “کے دروازوں کو بند کر لیا۔مسلمانوں نے اُن کا محاصرہ کرلیا۔محاصرہ کئی دن تک چلا،اِس دوران مسلمانوں نے ہمدان اور جرنیدان کے درمیان کا علاقہ فتح کرلیا۔اور ہمدان کے آس پاس کے تمام علاقے پر قبضہ کر لیا۔جب اہل ہمدان نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے صلح کی درخواست پیش کی۔جسے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا۔اور دستبی پراہل کوفہ کے چند افسران کو مقرر کردیا۔اِن کے نام حضرت عصمة بن عبداﷲ ضبی،حضرت مہلہل بن زید طائی،حضرت سماک بن عبید عبسی،حضرت سماک بن محرمة اسدی،اور حضرت سماک بن خرشہ انصاری رضی اﷲ عنہ ہے۔
سیرت سید الانبیاء ﷺ قسط نمبر 1 پڑھنے کے لئے کلک کریں
فتح وادیٔ حراج روذ
ہمدان کی فتح کے بعد مسلمان مجاہدین ابھی وہیں تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ دشمنوں کا ایک بڑا لشکر وادیٔ حراج روذ میں جمع ہو رہا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ ہمدان میں بارہ ہزار مجاہدین کے ساتھ مقیم تھے،تو اہل دیلم،اہل رے،اور اہل آذربائیجان نے آپس میں خط و کتابت کی،اور اپنے اپنے لشکر لیکر مسلمانوں سے مقابلے کے لئے نکلے۔اہل دیلم کے لشکر کا سپہ سالار ”موتا“تھا۔اہل رے کے لشکر کا سپہ سالار ”ابوالقرخان زینبی“تھا۔اور اہل آذربائیجان کے لشکر کا سپہ سالار رستم کا بھائی اسفند یار تھا۔یہ تینوں لشکر اپنے اپنے علاقے سے نکلے،اور وادی¿ حراج روذ میں جمع ہو گئے۔ دستبی کے فوجی مرکزوں کے مسلمان افسر قلعہ بند ہو گئے،اور انہوں نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو اطلاع دی۔انہوں نے ہمدان میں حضرت یزید بن قیس کو اپنا نائب بنایا،اور لشکر لیکر روانہ ہوئے،اور وادی¿ حراج روذ میں پہنچ گئے۔دونوں لشکر صف آرا ہوئے،اور گھمسان کی جنگ ہوئی،جو نہاوند کے برابر کی جنگ تھی۔اور کسی طرح اُس سے کم نہیں تھی۔اِس جنگ میں دشمنوں کے بہت زیادہ سپاہی قتل ہوئے،اتنے کہ شمار نہیں کرسکتے تھے۔آخر کار مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔اور بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا۔حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر باقی لشکر میں تقسیم کر دیا۔اور مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوش خبری مدینہ¿ منورہ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔
فتح کی خوش خبری
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دشمنوں کے بہت بڑے اجتماع کی خبر مل چکی تھی،اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ بے چینی سے کسی خوشخبری کا انتظار کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دشمنوں کے اجتماع کی خبر دے دی تھی،اور وہ اِس کی وجہ سے پریشان تھے۔اِسی لئے انہیں جنگ کی فکر لاحق تھی،اور وہ اس کے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے۔اچانک ایک قاصد اُن کے پاس فتح ونصرت کی بشارت لیکر آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے پوچھا؛”کیا تم بشیر(خوشخبری کی بشارت دینے والے)ہو؟“وہ بولا؛”نہیں،میں عُروہ ہوں۔“جب آپ رضی اﷲ عنہ نے دوبارہ فرمایا؛”کیاتم بشیر ہو؟“تو وہ صحیح بات سمجھ گیا،اور بولا؛”ہاں میں بشیر ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا تم حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے قاصد ہو؟“وہ بولا؛”ہاں،میں اُنہی کا قاصد ہوں۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا خبر ہے؟“وہ بولا؛”اﷲ تعالیٰ کاشکر ہے کہ فتح و نصرت کی بشارت ہے۔“پھر اُس نے تمام واقعہ بڑی تفصیل سے سنایا۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے اﷲ تعا لیٰ کا شکر ادا کیا،اور تعریف بیان کی۔اور پھر خط پڑھنے کا حکم دیا،جب مسلمانوں نے خط کو سنا،تو سب نے اﷲ کی حمد و ثناءبیان کی۔پھر حضرت سماک بن محرمہ،حضرت سماک بن عبید،اور حضرت سماک بن خرشہ (تینوں کے نام سماک ہیں)مال غنیمت کا خمس لیکر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے۔اور سب نے اپنا نام سماک بتایا،تو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ تمہیں مبارک کرے،اے اﷲ !تُو اِن کے ذریعے اسلام کو مستحکم کر،اور اِن کے ذریعے اسلامی کی مدد فرما۔“
حضرت ابو بکر صدیق قسط نمبر 1 پڑھنے کے لئے کلک کریں
رے کی طرف پیش قدمی
حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ ہمدان اوردستبی اور آس پاس کے علاقوں کا انتظام کر رہے تھے،اور ساتھ ہی امیر امومنین رضی اﷲ عنہ کے اگلے حکم کا انتظار کر رہے تھے۔اِسی دوران ”رے “کا بادشاہ”سیاہ و خش“نے مسلمانوں سے مقابلے کے لئے لشکر جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔دستبی اور اُس کے فوجی مراکز ہمدان کے تابع ہو گئے،پھرحضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے پاس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا خط لیکر ایلچی آیا،اُس میں لکھا تھا؛”تم ہمدان پر اپنا نائب مقرر کرو،اور حضرت بکیر بن عبداﷲ سے حضرت سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ کے ذریعے امدا دفراہم کرو۔پھر وہاں سے کوچ کر کے ”رے“آو¿،وہاں دشمن کی فوج سے مقابلہ کرو۔کیونکہ یہ شہر ملک فارس(ایران)کے تمام شہروں کے درمیان ہے،اور اِن سب پر حاوی ہے۔اور عین ہمارے مقصد کے مطابق ہے۔“یہ حکم ملنے کے بعد حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے حضرت یزید بن قیس ہمدانی کو ہمدان میں اپنا نائب بنایا۔اور مسلمان مجاہدین کو لیکر ”رے“کی طرف روانہ ہوئے۔”رے “میں دشمن کی فوجیں اکٹھا ہو رہی تھیں۔راستے میں ابوالقرخان زینبی اپنا بھگوڑا لشکر لیکر آیا۔اُس نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کی،اور صلح کی درخواست کی،جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا۔زینبی ”رے“کے بادشاہ سیاہ وخش کا مخالف تھا،اور مسلمانوں کے کارناموں کا مشاہدہ کر چکا تھا۔اور سیاہ وخش کے خاندان سے دشمنی کی وجہ سے اُس نے درخواست کی کہ اُسے بھی اُس کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر میں شامل کرلیا جائے۔حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُسے اپنے ساتھ شامل کر لیا۔
فتح رے
حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ مسلمان مجاہدین کولیکر ”رے“کی طرف بڑھ رہے تھے۔اور ”رے“کا بادشاہ بھی مسلمانوں سے مقابلے کے لئے مسلسل تیاری کر رہا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اُس وقت ”رے“کا بادشاہ سیاہ و خش بن مہران بن بہرام چوبین تھا۔اُس نے دیناوند،طبرستان،قومس،اور جرجان سے فوجی امداد طلب کی،اور کہا؛”تمہیں معلوم ہے کہ یہ لوگ ”رے“تک پہنچ رہے ہیں۔اب تمہارے لئے کوئی مقام نہیں ہے،اِس لئے تم متحد ہو جاو¿۔“مسلمان مجاہدین نے ”رے “کے پہلو میں ایک پہاڑ کے دامن میں پڑاو¿ ڈال دیا۔سیاہ و خش اپنا لشکر لیکر میدان میں نکلا،اور فریقین میں زبردست جنگ ہونے لگی۔دن بھر جنگ چلتی رہی،اور شام کے وقت سیاہ وخش اپنالشکر لیکراور اپنے مقتولوں کو میدان جنگ میں چھو ڑکر شہر ”رے“میں چلا گیا۔کئی دن کی جنگ میں دشمن کے کافی فوجی قتل ہوئے۔پھر زینبی نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے کہا؛”دشمنوں کی تعداد زیادہ ہے،اور ہماری تعداد کم ہے۔تم میرے ساتھ گھڑسواروں کا ایک دستہ بھیجو،تاکہ میں انہیں لیکرشہر کے ایک ایسے پوشیدہ راستے سے داخل کراو¿ں،جس کا انہیں کوئی علم نہیں ہے۔اِس دوران آپ لوگ اُن سے مقابلہ کرتے رہنا۔پھر جب ہم دشمن پر پیچھے سے حملہ کریں گے،تو اُن کے پیر اُکھڑ جائیں گے۔“حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے رات کے وقت اپنے بھتیجے منذر بن عمرو کی سرکردگی میں گھڑ سواروں کا ایک دستہ روانہ کر دیا۔زینبی نے انہیں شہر میں داخل کر دیا،جس کا دشمنوں کو علم نہیں ہو سکا۔پھر حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے شہر پر شبخون مارا،اور اچانک صبح صادق کے وقت حملہ کردیا۔شہر والے ابھی تک نیند میں تھے،اِس لئے انتظام نہیں کر سکے،اور ہنگامی حالت میں جسے جو بنا وہ لیکر مسلمانوں کے مقابلے پر آگیا۔اور جنگ کرنے لگے،لیکن کچھ دیر بعد جب انہوں نے پیچھے سے نعرہ¿ تکبیر کی آواز سنی ،تو اُن کے حوصلے ٹوٹ گئے۔اور شکست کھا کر بھاگے،اور بری طرح قتل ہوئے۔سیاہ وخش قتل ہوا یا بھاگ گیا،اور شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔
اہل رے سے معاہدہ
مسلمانوں کا ”رے“پر قبضہ ہو گیا،اور حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے ”رے“کا حکمراں زینبی کو بنا دیا۔اُس سے اہل رے نے صلح کرنے کی درخواست کی،جو اُس نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے کی،اور انہوں نے منظور کر لی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ”رے“میں مدائن کے برابر مال غنیمت عطا فرمایا۔زینبی نے اہل رے کی طرف سے صلح کی،اِسی لئے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُسے وہاں کا نگران حاکم بنا دیا۔اور ایک صلح نامہ لکھ کر دیا۔”بسمہ ا ﷲ الرحمن الرحیم۔نعیم بن مقرن نے زینبی بن قولہ کو یہ صلح نامہ لکھ کر دی ؛ ”میں اہل رے کو اور جو اُن کے ساتھ ہیں پناہ دیتا ہوں،بشرطیکہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں۔جو ہر بالغ اپنی حیثیت کے مطابق ہر سال ادا کرے گا۔انہیں چاہیئے کہ وہ وفادار اور خیر خواہ ثابت ہوں،راستہ بتائیں،چوری نہ کریں،اور مسلمانوں کو ایک رات اور دن کھانا کھلائیں۔اور اُن کی عزت کریں،اور جو کوئی مسلمان کو گالی دے گا،یا اُس کی بے عزتی کرے گا،وہ سزا کا مستحق ہو گا۔اور جو کوئی مسلمانوں کو ذدو کوب کرے گا،تو وہ قتل کر دیا جائے گا۔اور جو کوئی مسلمانوں کی مخالفت کرے گا،تو سمجھو کہ اُس نے تمہاری جماعت کو بد ل دیا۔اور مسلمانوں پر اُس کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں رہے گی۔“حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اِس معاہدے کو لکھا،اور گواہی کے دستخط کئے۔
اہل دینا وند سے معاہدہ
حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اہل رے کو امان دے دی،اور امان نامہ لکھ کر دیا۔یہ دیکھ کر ”دیناوند“ کے بادشاہ نے بھی صلح کی درخواست کی ،اور اہل رے کی شراط پر ہی امان نامہ چاہا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔عصمنان نے بھی اُن سے خط و کتابت کی،تاکہ فدیہ دیکر اُن سے صلح کر لے۔اُس نے معاونت اور حفاظت کی درخواست نہیں کی تھی،اُس کی درخواست منظور کر لی گئی۔اور اُس کے لئے ایک معاہدہ لکھ دیا گیا،جس کا مضمون یہ تھا؛”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم۔نعیم بن مقرن کی طرف سے مردان شاہ،عصمنان دیناوند اور اہل نہاوند،اخوارالارز اور شرانک کے لئے یہ معاہدہ ہے۔میں تمہیںاور تمہارے ساتھ جو اِس معاہدے میں شریک ہوں،پناہ دیتا ہوں۔بشرطیکہ تم اپنے لوگوں کو لڑائی سے باز رکھو۔اور جو سرحد کے حاکم ہوں،اُن کو دولاکھ درہم سالانہ ادا کرو۔تم پر حملہ نہیں کیا جائے گا،اور جب تک تم اِس معاہدے پر قائم رہو گے،تو تمہارے علاقے میں کوئی داخل نہیں ہو گا۔اور اگر تم میں سے کسی نے اِس معاہدے کی خلاف ورزی کی،تو معاہدہ برقرار نہیں رہے گا۔“
فتح قومس
حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس اور فتح کے تما م حالات خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیئے،اور اگلے حکم کا انتظار کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے حضرت مضارب عجلی کے ہاتھ ”رے“کی فتح کی خبر بھجوائی،اور مال غنیمت کاخمس بھی بھیجا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں تحریر فرمایا؛”تم حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ”قومس“بھیجو،اُن کے ہراول(مقدمة الجیش) کا سپہ سالار حضرت سماک بن محرمہ کو بناو¿،اور میمنہ (دائیں بازو) پر حضرت عتبہ بن نہاس کو مقرر کرو،اور میسرہ (بائیں بازو) پر حضرت ہند بن عمرو جملی کو مقررکرو۔“اِس حکم کے مطابق حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر قومس روانہ ہوئے۔وہاں کوئی بھی مسلمانوں کے مقابلے پر نہیں آیا،شہر کے لوگ جنگلوں میں اور طبرستان بھاگ گئے تھے۔مسلمانوں نے وہیں پڑاو¿ ڈال دیا۔جب مجاہدین نے دریا کا پانی پیا جس کا نام ”ملاذ“تھا،تو اس کی وجہ سے اُن میں بیماری پھیلی۔اِس پر حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تم اپنا پانی تبدیل کر لو،ورنہ یہاں کے باشندوں کی طرح ہو جاو¿ گے۔انہوں نے پانی تبدیل کیا تو انہیں خوش گوار معلوم ہوا۔جو لوگ جنگلوں میں اور طبرستان کی طرف بھاگ گئے تھے،انہوں نے مسلمانوں سے خط وکتابت کی،اور صلح کی درخواست کی۔
اہل قومس سے معاہدہ
قومس کے لوگ اپنے شہر میں واپس آنا چاہتے تھے،اور اِس کے لئے مسلمانوں سے خط و کتابت کی ،اورانہیں کامیابی ملی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُن سے صلح کا معاہدہ کر لیا،جس کا مضمون یہ تھا؛”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم۔سوید بن مقرن کی طرف سے اہل قومس کے لئے۔سوید بن مقرن نے اہل قومس اور اُس کے ساتھیوں کو اُن کے جان و مال اور مذہب کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔بشرطیکہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں۔جسے ہر بالغ اپنی حیثیت اور طاقت کے مطابق ادا کرے گا۔اُن کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے خیر خواہ رہیں،اور فریب نہ دیں۔اور راستہ بتائیں ،اور مسلمانوں ایک رات اور دن کا کھانا کھلائیں۔اگر انہوں نے اِس کی خلاف ورزی کی،یا معاہدہ کی پابندی نہیں کی۔تو ہم ان کی حفاظت سے بری الذمہ ہوں گے۔“
فتح جرجان
حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ اِس کے بعد ”جرجان“کی طرف بڑھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے بسطام میں پڑاو¿ ڈالا۔جرجان کے بادشاہ نے وہیں پر اپنا قاصد بھیجا،اور خط و کتابت کی۔اور جب آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر جرجان کے قریب پہنچے ،تو جرجان کے بادشاہ”رزبان صول“نے قاصد کے ذریعے صلح کر لی،اور جزیہ دینے کا وعدہ کیا۔اِس طرح اُس نے جرجان کو جنگ سے بچا لیا۔حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے صلح کی درخواست منظور کرلی،اور امان دے دی۔جب آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر جرجان کے قریب پہنچے تو رزبان صول خود مسلمانوں کا استقبال کرنے شہر کے باہر آیا،اور حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ساتھ میں لیکرمسلمانوں کے ساتھ شہر میں داخل ہوا۔حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے وہاں ایک دستہ چھوڑ دیا،جو اُن کی سرحدوں کو مستحکم کرتا تھا،اور سرحد کی حفاظت کرتا تھا۔
فتح طبرستان
حضرت نعیم بن سوید رضی ا ﷲ عنہ لشکر لیکر جرجان سے آگے بڑھے،اور طبرستان کی طرف کوچ کیا۔طبرستان کے بادشاہ ”اصبہبذ“نے جرجان کے بادشاہ کی طرح پہلے ہی قاصد بھیج کر صلح کی درخواست کردی ۔جو حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے منظور کر لی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اصبہبذ نے بھی حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے صلح کے بارے میں خط وکتابت کی کہ فریقین صلح کرلیں،اور ایکدوسرے سے اقرار کر کے جزیہ دے گا۔حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے یہ بات منظور کر لی۔اور ایک تحریری معاہدہ بھی لکھ کر دیا،جس کامضمون یہ تھا؛”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ تحریر سوید بن مقرن نے فرحان اصبہبذ کو لکھ کر دی ہے۔تم اﷲ بزرگ وبرتر کی امان میں ہو،اِس شرط پر کہ تم ہمارے خلاف بغاوت نہیں کرو گے۔اور جو تمہارے سرحدی علاقے پر ہمارا حاکم ہو گا،اُسے ملک کے سکے کے حساب سے پانچ لاکھ درہم سالانہ ادا کرو گے۔اگر تم ایسا کرو گے تو ہم میں سے کوئی تم پر حملہ نہیں کرے گا۔اور نہ ہی تمہاری اجازت کے بغیر کوئی تمہارے علاقے میں داخل ہوگا۔ہمارا طریقہ تمہارے ساتھ با اجازت ہوگا،اور تمہارا رویہ یہ ہوگا کہ تم ہمارے باغیوں کو پناہ نہیں دو گے۔اور ہمارے دشمن کی حمایت نہیں کرو گے،اور خیانت و غداری کروگے۔اور اگر تم ایسا کرو گے تو ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں رہے گا۔“
آذربائیجان کی پہلی فتح
اوپر ہم ذکر کر چکے ہیں کہ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے حضرت بکیر بن عبداﷲ کی امداد کے حضرت سماک بن خرشہ انصاری رضی ا ﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیج دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت بکیر بن عبداﷲ روانہ ہو کر جرمیذان کے سامنے پہنچے،وہاں وادی¿ حراج ردذسے شکست کھا یا اسفند یاربھاگ کر چھپاہوا تھا۔وہ لشکر لیکر مسلمانوں کے مقابلے پر آگیا،اور آذربائیجان کی سب سے پہلی جنگ مسلمانوں نے اسفند یار کے خلاف لڑی۔دونوں لشکروں میں زبردست مقابلہ ہوا،اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔حضرت بکیر بن عبداﷲ نے اسفندیار کو گرفتار کرکے قیدی بنا لیا۔اسفند یار نے اُن سے پوچھا؛”آپ کو جنگ زیادہ پسند ہے یا صلح؟“انہوں نے جوان دیا؛”مجھے صلح زیادہ پسند ہے۔“اِس پر وہ بولا؛”آپ مجھے اپنے ساتھ رکھیئے،کیونکہ اہل آذربائیجان اُس وقت تک آپ کے پاس نہیں آئیں گے،جب تک کہ میں اُن کی طرف سے صلح نہ کروں،یا اُن کے پاس نہ جاو¿ں۔“اہل آذربائیجان آس پاس کے پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔اور جوقج اور رومیوںکے تھے،وہاںوہ قلعہ بند ہو گئے۔بہر حال آس پاس کے علاقوںپر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا،اور اسفند یار بدستور قید میں رہا۔اُس وقت حضرت سماک بن خرشہ انصاری رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر پہنچ گئے۔
آذربائیجان کی دوسری فتح
حضرت بکیر بن عبداﷲ کے ساتھ حضرت عتبہ بن فرقد بھی اپنے لشکر کے ساتھ تھے،اور جب حضرت سماک بن خرشہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے،تو انہوں نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت بکیر بن عبداﷲ نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ انہیں آذربائیجان کی مہم سے سبکدوش کر دیا جائے۔ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ آذربائیجان میں اپنا نائب کسی کو بنائیں،پھر اپنا لشکر لیکر”باب“کے علاقے کی طرف پیش قدمی کریں۔حضرت بکیر بن عبداﷲ نے حضرت عتبہ بن فرقد کو پورے آذربائیجان کا سپہ سالار بنایا،اور اسفند یار کو اُن کے حوالے کر کے ”باب“کے علاقے کی طرف اپنا لشکر لیکر رونہ ہو گئے۔ادھر بہرام (اسفند یار کا بھائی)لشکر لیکر آیا ،اور مسلمانوں کا راستہ روک لیا۔حضرت عتبہ بن فرقدنے صف بندی کرلی،اور فریقین میں جنگ شروع ہوگئی۔مسلمانوں نے ایک ساتھ اتنا زبردست حملہ کیا کہ دشمنوں کو شکست ہو گئی۔بہت سے قتل ہوئے،اور بہت سے بھاگ گئے۔بہرام بھی اپنی جان بچا کر بھاگ گیا۔جب اسفند یار کو بہرام کی شکست اور فرار کی خبر ملی تو اُس نے کہا؛”اب صلح مکمل ہو گئی ،اور جنگ کی آگ بجھ گئی۔“اِس کے بعد اُس نے حضرت عتبہ بن فرقد سے اجازت لیکراہل آذربائیجان سے بات کی،اور دونوں فریقین صلح پر راضی ہو گئے۔اور صلح کا معاہد لکھا گیا۔
آذربائیجان کا معاہدہ
حضرت عتبہ بن فرقد سے اہل آذربائیجان نے صلح کرلی،اور امان نامہ اور معاہدہ لکھا گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت عتبہ بن فرقد سے پہلے حضرت بکیر بن عبداﷲ آذربائیجان کے علاقوں کو فتح کر چکے تھے۔مگر صلح اُس وقت مکمل ہوئی ،جب حضرت عتبہ بن فرقد نے بہرام کوشکست دی۔اُس وقت جو معاہدہ لکھا گیا،اُس کی تحریر یہ تھی؛”یہ معاہدہ امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حاکم عتبہ بن فرقد کی طرف سے اہل آذربائیجان کے لئے ہے۔اُن کے تمام میدانوں، پہاڑوں، مضافات اور تمام اقوام کے لئے ہے۔اُن کے جان و مال ،مذہب و ملت اور رسوم وقانون کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے۔بشرطیکہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق جزیہ ادا کرتے رہیں۔یہ جزیہ بچوں،عورتوںاور ایسے مفلس و اپاہج پر عائد نہیں ہوگا ،جس کے پاس دنیاوی مال و متاع کی کوئی چیز نہیںہو۔اور ایسے راہب اور مذہبی رہنما پر بھی عائد نہیں ہوگا،جس کے پاس دنیاوی مال و متاع نہیںہو۔اور جو اُن کے ساتھ رہتے ہیں،اُن کے لئے بھی یہی حکم ہے۔مگر عوام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلامی لشکر کے کسی شخص کی ایک دن اور ایک رات مہمان داری کریں۔اور اُسے راستہ بتائیں،اور جو قحط سالی کا شکار ہو گا،تو اُس سے اِس سال کا جزیہ نہیں لیا جائے گا۔جو کوئی یہاں آکر رہے گاتو اُس کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں گے،جو اس سے پہلے کے باشندوں کو حاصل ہوں گے۔اور جو یہاں سے نکلنا چائے گا،اُسے مسلمان اُس وقت تک پناہ دیں گے ،جب تک کہ وہ محفوظ مقام پر پہنچ نہیں جائے گا۔“
فتح باب
حضرت بکیر بن عبداﷲ اپنے لشکر کو لیکر ”باب“کی طرف روانہ ہوئے۔بحیرہ خزر کے پاس ایک بہت بڑا شہر آباد تھا،جو طبرستان کے قریب تھا،اس کا نام”باب“تھا۔یہ نام اس لئے تھا کہ یہ شہر سمندر میں آنے جانے کا دروازہ تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِدھر حضرت بکیر بن عبداﷲ کو روانہ ہونے کا حکم دیا،اور اُدھر بصرہ سے حضرت سراقہ بن عمرو کو لشکر لیکر روانہ ہونے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوحکم دیا کہ وہ بصرہ جا کر حضرت سراقہ بن عمرو کو لشکر دیکر ”باب “کی طرف بھیجیں۔اور اِس کے ہراول (مقدمة الجیش) پر حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کو سپہ سالار بنائیں۔اور میمنہ پر حضرت حذیفہ بن اُسید غِفاری کو ،اور میسرہ پر حضرت بکیر بن عبداﷲ کو سپہ سالار مقرر کریں،جو ”باب“پہنچ رہے ہیں۔حضرت سراقہ بن عمرو لشکر لیکر روانہ ہوئے،اور ہر اول کے سپہ سالار حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ ”باب“پہنچ گئے،اور وہاں پر پڑاو¿ ڈالے حضرت بکیر بن عبداﷲ کے لشکر کے ساتھ مل گئے۔اِسی دوران امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے الجزیرہ کے گورنر حضرت حبیب بن مسلمہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ حضرت زیاد بن حنظلہ کو گورنر بنا کر لشکر لیکر ”باب“کے لئے روانہ ہو جائیں۔”باب“کے بادشاہ ”شہربراز“کو مسلمانوں کے لشکر کے جمع ہو نے کی اطلاع ملی ،تو اُس نے حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ سے پناہ طلب کی،اور ملاقات کرنے آیا،اور بولا؛”میں آپ لوگوں سے دوستی کرنا چاہتا ہوں،میری یہ درخواست ہے کہ آپ لوگ مجھ پر جزیہ عائد نہ کریں ،بلکہ ہمارا جزیہ ہم اِس طرح ادا کریں گے کہ ہم آپ کی جنگی امداد کریں گے۔“حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ نے فرمایا؛”اِس کے لئے تمہیں ہمارے سپہ سالار حضرت سراقہ بن عمرو کے پاس جان پڑے گا۔“وہ حضرت سراقہ بن عمرو کے پاس آیا،اور اپنی درخواست دہرائی،تو انہوں نے منظور کر لی،اور فرمایا؛”میں نے یہ بات تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لئے منظور کرلی،بشرطیکہ وہ اِس پر قائم رہیں۔مگر جو ہمارے ساتھ جنگ میں دشمن کے خلاف شریک نہیں ہوگا،اُسے جزیہ دینا ہوگا۔“اُس نے یہ بات تسلیم کر لی،اور اسکے بعد یہی رواج ہو گیا۔حضرت سراقہ بن عمرو نے یہ معاملہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں لکھ بھیجا،توآپ رضی اﷲ عنہ نے اِسے پسند فرمایا۔اور اِس تجویز کو مستحسن قرار دیا۔
معاہدہ آرمینیہ
باب کی فتح کے بعد حضرت سراقہ بن عمروآرمینیہ کی طرف بڑھے۔یہ پہاڑی علاقہ تھا،اور یہاں لاقانونیت تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس علاقہ کے پہاڑوں میں آبادی نہیں تھی،اور یہاں کے آرمینی باشندے گرد ونواح کے مقامات میں رہتے تھے۔مسلسل غارت گری کی وجہ سے اِس کی آبادی ویران ہو گئی تھی،اور یہاں کے لوگ دوسرے مقامات کی طرف چلے گئے تھے۔اِس لئے یہاں صرف فوج رہتی تھی،یا وہ لوگ مقیم تھے جو اُن کے مدد گار تھے،اور اُن کے ساتھ کاروبار کرتے تھے۔اُن لوگوں نے مسلمانوں سے معاہدہ کیا،جس کی تحریر یہ تھی؛”امیر المومنین حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے حاکم سراقہ بن عمرو کی طرف سے شہر براز اور باشندگان ِآرمینیہ کو پناہ دی جاتی ہے۔اُن کے جان و مال اور مذہب و ملت کی حفاظت کی جائے گی،اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔اِس کے بدلے میں یہ لوگ مسلمانوں کی جنگ میں مدد کریں گے،اور ہر اہم و غیر اہم مہم کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کے لئے تیار رہیں گے۔جو لوگ جنگ میں مدد دیں گے،اُن کاجزیہ معاف کردیاجائے گا،اور جو گھر بیٹھا رہے گا،اُسے آذربائیجان والوں کی طرح جزیہ دینا ہو گا۔اور مسلمانوں کو راستہ بتائے گا،اور ایک دن اُن کی مہمان داری کرے گا۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں