30 سیرت سید الانبیاء ﷺ
غزوۂ حنین
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
مشرکین کا چھپا ہوا لشکر، مسلمانوں پر اچانک حملہ، سید الانبیاء ﷺ کی ثابت قدمی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت، کافر کمانڈر کا قتل اور مسلمانوں کی فتح، سریہ اوطاس، سریہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ
غزوۂ حنین
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں ہی تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ حُنین کے مقام پر قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف مل کر لشکر جمع کر رہے ہیں۔ حنین ذوالمجاز کے قریب ایک وادی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک چشمہ ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے تین راتوں کی مسافت کے فاصلے پر ہے اور طائف کے قریب ہے۔ اس غزوہ کو غزوۂ حنین کے علاوہ غزوۂ ہوازن بھی کہا جاتا ہے۔
غزوۂ حُنین کے اسباب مختلف قبائل کا اجتماع
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مسلسل کا میابیاں حاصل ہو رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر عرب کے دوسرے قبائل چوکنے ہو گئے تھے اور ایک دوسرے کے اختلافات بھلا کر آپس میں راہ و رسم بڑھا رہے تھے۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کی طرف دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ روانہ ہوئے تو قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف ( طائف کا قبیلہ) مل کر تیاری کرنے لگے اور ان لوگوں نے یہ سمجھ لیاکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد ہم پر حملہ کریں گے۔ قبیلہ ہوازن کے مالک بن عوف کے پاس قبیلہ جثم ، قبیلہ بنو سعد بن بکر ، قبیلہ بنو ہلالی اور قبیلہ بنو ثقیف کے سرداران جمع ہوئے اور لشکر جمع کرنا شروع کیا۔ اس میںقبیلہ ہوازن کی شاخ کعب اور کلاب کے لوگ شامل نہیں ہوئے۔ جس وقت یہ لشکر اوطاس میں پہنچا تو ورید بن صمتہ نے ملاک بن عوف کو بہت سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ نہیں مانا اور لشکر لے کر آگے بڑھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ اور اس کے معاملات کی درستگی سے فارغ ہوئے اور قریش کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا تو قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف کے سرداران ایک دوسرے سے ملے اور مسلمانوں سے لڑنے کیلئے لشکر جمع کیا اور ان کاسپہ سالار مالک بن عوف نصری کو بنایا۔
سید الانبیاء ﷺ کے جاسوس
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قبیلہ بنو ہوازن اور قبیلہ بنو ثقیف کے لشکر کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن ابی حدود اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم جا کر ہواز ن اور ثقیف کے لشکر کی خبر لائو۔ آپ رضی اللہ عنہ دشمنوں کے لشکر میں گئے اور مکمل معلومات حاصل کر کے آئے اور تمام تفصیلات آکربتائیں ۔ اس دوران ایک شخص سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو دیکھا کہ بنو ہوازن کا پورا قبیلہ جمع ہے اور ان کے ساتھ عورتیں بچے، مال و دولت اور نوجوان سب حنین میں جمع ہیں۔ ( در اصل قبیلہ ہوازن کا سردار مالک بن عوف لشکر کے ساتھ قبیلے کی عورتوںکو بھی لے آیا تھا۔ تا کہ لشکر کے جوان اپنی مائوں ، بہنوں اور بیویوں کی عزت بچانے کے لئے لڑیں) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لشکر تیار کرنے لگے تو کسی نے کہا: ’’ صفوان بن امیہ کے پاس زرہیں کافی تعداد میں ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ’’ وہ زرہیں اسلامی لشکر کے لئے دے۔ تا کہ وہ دشمن سے ان کے ذریعے جنگ کریں۔‘‘ صفوان بن امیہ نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اس نے کہا: ’’ آپ میرا مال ضبط کرنا چاہتے ہیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں !میں تم سے امانت کے طور پر مانگ رہا ہوں۔ جنگ ختم ہونے کے بعد تم کو واپس دے دیں گے۔‘‘ صفوان بن امیہ نے سو زرہیں تمام ہتھیاروں سمیت دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ چار سو زرہیں تمام ہتھیاروں کے ساتھ دیں۔
اسلامی لشکر کی روانگی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر تیار فرمایا۔ اس لشکر میں دس ہزار تو وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ مدینہ منورہ سے آئے تھے اور دو ہزار قریش میں سے تھے۔ جنہوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے علاوہ قریش کے 80کافر بھی ساتھ تھے۔ ( یعنی ابھی تک انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ان میں صفوان بن امیہ بھی تھا۔ مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتاب بن اُسید رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ نائب مقرر فرمایا اور شوال کی چھ تاریخ 8 ہجری کو حنین کے لئے روانہ ہوئے۔ دس شوال المکرم کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ حنین پہنچے۔
مشرکین کا چھپا ہوا لشکر
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دس شوال المکرم کی صبح حنین پہنچے اس سے کئی دن پہلے سے قبیلہ ہوازن اور ثقیف کا لشکر حنین پہنچ گیا تھا۔ مشرکین کے لشکر کا سپہ سالار مالک بن عوف تھا اور اس کا مشیر خاص ایک بہت بزرگ عمر دراز درید بن صمہ تھا۔ اس نے مالک بن عوف سے کہا کہ اپنا لشکر میدان میں رکھنے کی بجائے آس پاس کے پہاڑوں اور گڑھوں میں چھپا دو اور تھوڑا سا لشکر میدان میں رکھو تا کہ مسلمان دھوکہ کھا جائیں۔ جب مسلمان تمہارے میدا ن والے لشکر کے مقابلے پر آئیں توتمہارا پہاڑوں اور گڑہیوں میں چھپا ہوا لشکر ان کے دائیں بائیں اور پیچھے سے حملہ آور ہو جائے گا اور اسی وقت تم میدان والے لشکر کے ساتھ آگے بڑھ کر مسلمانوں پر حملہ کر دینا اور اگر پہلا حملہ تم کرو گے تو مسلمانوں کو بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ کیوں کہ تمہارے ساتھی پیچھے سے نکل کر ان کا راستہ روک دیں گے اور اس طرح تمہارے پورے لشکر کا متحدہ حملہ مسلمانوں کو شکست دے گا۔ مالک بن عوف کے پاس 20ہزار کا لشکر تھا۔ اس نے پانچ ہزار کا لشکر میدانمیں رکھا اور پندرہ ہزار کا لشکر آپ پاس کی پہاڑیوں اور گھڑہیوں میں چھپا دیا اور مسلمانوں پر اچانک حملے کے لئے تیار ہو گئے۔
مسلمانوں پر اچانک حملہ
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دس شوال 8 ہجری کی صبح تڑکے وادیٔ حنین میں پہنچے ۔ میدان میں پانچ ہزار کا مشرکین کا لشکر نظر آرہا تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ جب ہم وادی حنین کے سامنے آئے تو تہامہ کی وادیوں میں سے ایک نہایت گہری وادی میں اترے۔ اتار اس قدر سیدھا تھا کہ ہم خود بخود بلا اختیار اس میں اترتے چلے گئے۔ یہ صبح تڑکے کا وقت تھا۔ دشمن ہم سے پہلے ہی اس وادی میں آکر اس کے پر پیچ و خم نشیبوں اور موڑوںمیں ہماری گھات لگائے بیٹھا ہوا تھا اور جنگ کے لئے پوری طرح مسلح ہتھیار لئے تیار بیٹھا تھا اور حملہ کے لئے آمادہ تھا۔ ہم بے خبر وادی میں اتر رہے تھے کہ اچانک دشمن کی فوجو ںنے اپنی کمین گاہوں سے بر آمد ہو کر ایک ساتھ ہم پر حملہ کر دیا۔ مسلمان ابھی پوری طرح پڑائو بھی نہیں ڈال سکے تھے اور صف بندی بھی نہیں کر سکے تھے۔ اس اچانک حملے سے مسلمان سراسیمگی کا شکار ہو گئے اور نئے نئے مسلمان ہوئے لوگ بھاگنے کی کوشش کرنے لگے ۔ لیکن بھاگنے کا راستہ بھی بند ہو چکا تھا۔
سید الانبیاء ﷺ کی ثابت قدمی
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان ابھی پوری طرح وادی حنین میں اتر کر سکون کاسانس بھی نہیں لے پائے تھے کہ دشمنوں نے اچانک ہر طرف سے حملہ کر دیا۔ جس کی وجہ سے مسلمان افراتفری کا شکار ہو گئے۔ پوری وادی انسانوں سے بھر گئی اور جگہ اتنی کم ہو گئی کہ اونٹ پلٹانے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ اب جو جہاں جس پوزیشن میں تھا وہیں اسے دشمن سے لڑنا پڑ رہا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت وادی کے داہنی سمت تھے اور خچر دلدل پر سوار تھے۔ دوزرہیں اور لوہے کی ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف چچا زاد بھائی حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری دلدل کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے۔ اس افراتفری کے عالم میں بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ثابت قد م رہے اور لگاتار آگے بڑھتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو آگے بڑھاتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : ’’ میں اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، میں محمد بن عبداللہ ہوں، میں اللہ کا بندہ ہوں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ اے مسلمانو!میں یہاں ہوں، میرے پاس آو ۔‘‘
سید الانبیاء ﷺ کے قریب
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پکارا تو اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو سفیان بن حارث ، حضرت عباس بن عبدالمطلب، حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم بالکل قریب تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا بنا لیا۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کیوں کہ مجھے خوف تھا کہ کہیں دشمن کے درمیان نہ پہنچ جائیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دشمن کی جانب پیش قدمی کئے جا رہے تھے اور حضڑت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سواری کی رکاب تھامے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پکارا تو قریب کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو آگئے لیکن جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو ر تھے اُن تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچ سکی۔ میری آواز بہت بھاری ہے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’چچا جان! آپ آواز لگائیں۔‘‘ میں نے زور سے آواز لگائی تو تمام اسلامی لشکر نے سنا اور چونک کر جواب دیا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلانے کے لئے آواز لگانے کے لئے فرمایا۔ اچانک دشمن کے حملے کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو صفیں مرتب کرنے کا موقع بھی نہیں ملا ۔ بلکہ جو جہاں تھا وہیں وہ اپنے سامنے والے دشمن سے بھڑ گیا اور دست بدست جنگ چل رہی تھی۔ اچانک حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی گونج دار آواز وادی ٔ حنین میں گونجی: ’’ اے گروہ ِ انصار! تمام انصار صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: ’’ لبیک ‘‘( ہم حاضر ہیں) حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی آواز پھر گونجی : ’’ اے بیعت ِ رضوان والو! اے سورہ بقرہ والو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہیں۔‘‘ اب حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مسلسل پکار رہے تھے اور ان کی آواز مسلسل گونج رہی تھی۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کی آواز سن کر اس طرف متوجہ ہوئے اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔ جیسے ایک ماں اپنے بچے کی طرف تیزی سے دوڑتی ہے۔ ہر صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان پر یہی تھا۔’’ لبیک لبیک‘‘ ( ہم حاضر ہیں ، ہم حاضر ہیں) تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔ جگہ کی کمی کی وجہ سے جو صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے اونٹوں کو نہیں موڑ سکتے تھے تو وہ اس سے کود کر نیچے اترے اور بھاگتے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے جو صحابی رضی اللہ عنہم پہونچ جاتے تھے ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرے میں شامل ہوجاتے تھے۔ بہت کم وقت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دشمن کا گھیرا توڑ کر سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہونچ گئے اور تیزی سے صفیں لگا لیں ۔ اب دونوں دشمن آمنے سامنے تھے اور مسلمان اچانک حملے سے تھوڑا سا نقصان اٹھا کر سنبھل چکے تھے۔
اب جنگ شباب پر آئی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صفیں لگا لیں۔ غزوئہ حنین پر روانہ ہونے سے پہلے کچھ لوگوں نے اتنے بڑے لشکر پر فخر کا اظہار کیا تھا۔ جسے سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا محسوس نہیں ہوا تھا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ توبہ کی آیت نمبر 25؎ میں فرمایا :ترجمہ ’’ اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ (کثرت ) تمھارے کچھ کام نہیں آئی اور زمین اتنی وسیع ہوکر بھی تم پر اتنی تنگ ہوگئی تھی کہ تم پیٹھ دکھا کر پھیرنے لگے۔‘‘ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صفیں لگالیں تو سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اب حملہ کرو اور ہمت سے کام لو۔ ‘‘ حکم سنتے ہی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور انھیں کاٹنے اور قتل کرنے لگے اور دشمنوں پر برا وقت آگیا اور وہ گھبراہٹ کا شکار ہونے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اب تنور گرم ہوگیا ہے۔‘‘ (تنور میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ اور جب وہ خوب اچھا گرم ہوتا ہے تو روٹیاں جلدی جلدی اور اچھی پکتی ہیں۔) یعنی اب جنگ اپنے شباب پر آئی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کنکریاں یا مٹی اٹھائی۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وہ صحرائی علاقہ تھا اور وہاں ریت تھی۔ جسے ہم بالو کہتے ہیں۔ اسلئے وہ کنکریاں بھی تھیں اور بالو بھی تھی) اور دشمنوںکی طرف پھینکی۔
شاہت الوجوہ -چہرے بگڑ جائیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکر یا مٹی اٹھا کر دشمنوں کے لشکر پر پھینکی اور فرمایا:’’ شاہۃ الوجوہ ۔ ‘‘(چہرے بگڑ جائیں ) کافروں کے لشکر کے ہر کافر کی آنکھوں میں وہ کنکر یا مٹی گھس گئی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مدد تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر کافر کی آنکھوں میں اس کنکر یا مٹی کو ڈال دیا۔ حضرت ابو عبدالرحمن فہری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب مسلمان ( اچانک حملے کی وجہ سے ) پیٹھ پھیر گئے جیسا کہ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اس کے بعد ( جب تمام صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔‘‘ اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور کافروں کے مونہوں پر ماری اور فرمایا: ’’ شاہۃ الوجوہ‘‘ چہرے بگڑ جائیں ۔ اسی کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خچر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک طرف جھک گیا تو اس کی زین بھی ایک طرف ہو گئی۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلندی عطا فرمائے، اوپر ہو جائیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجھے ایک مٹھی مٹی دو۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی کافروں کے مونہوں پر دے ماری تو تمام کافروں کی آنکھوں میں وہ مٹی بھر گئی اور مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسلسل اپنی تلواروں سے وار کر رہے تھے۔ ( اور وہ اس طرح بار بار چمک رہی تھیں) گویا وہ ( تلواریں) شہابِ ثاقب ہیں۔ پس مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔‘‘
کافر کمانڈر کا قتل اور مسلمانوں کی فتح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری یا مٹی کافروں کی طرف پھینکی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ اب حملہ کرو۔‘‘ اسی دوران کافروں کی صفوں کے آگے سرخ اونٹ پر سوار ایک شخص تھا۔ اس کے ہاتھ میں سیاہ ( کالا) جھنڈا تھا۔ یہ جھنڈا اس نے ایک بہت لمبے نیزے میں باندھا ہواتھا۔ بنو ہوازن کے لوگ اس کے پیچھے تھے۔ اگر کوئی مسلمان اس کی زد میں آجاتا تھا تو وہ اسے نیزہ مار کر شہید کر دیتا تھااور اگر وہ نیزے کی زد سے بچ جاتا تو وہ اپنے پیچھے والوں کے لئے نیزہ اٹھا کر اشارہ کر تاتھا اور وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ ( اور اس سرخ اونٹ والے کے پیچھے پیچھے رہتے) یہ شخص اسی طرح حملے کرتا پھر رہا تھا کہ اچانک حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور دونوں ایک ساتھ آگے بڑھے اور اس سرخ اونٹ والے پر حملہ کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وار کیا تو اس کا اونٹ الٹے منہ گر گیا۔ ( اور وہ شخص بھی اونٹ سے نیچے گر پڑا) اسی وقت انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے اس پر چھلانگ لگائی اور ایسا سخت وار کیا کہ اسکی ٹانگ آدھی پنڈلی سے کٹ گئی۔ اسی وقت مسلمانوں ے ایک ساتھ کافروں پر حملہ کر دیا اور یہ حملہ اتنا سخت تھا کہ کافروں کے پیر اکھڑ گئے اور وہ بھاگنے لگے تو مسلمان ان کا پیچھا کر کے انہیں قتل کرنے لگے۔حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ غزوہ حنین میں،میں نے ایک مسلمان اور ایک مشرک کو لڑتے ہوئے دیکھا۔ اچانک اس مشرک نے ایک دوسرے مشرک کو مدد کے لئے بلایا تا کہ دونوں مل کر مسلمان کو شہید کر دیں۔ میں نے یہ صورتِ حال دیکھی تو فوراً اس مسلمان کی مدد کو پہنچ گیا اور جاتے ہی اس مشرک کے ہاتھ پر تلوار ماری تو اس کا ہاتھ کٹ کر گر گیا۔ اس مشرک نے فوراً دوسرا ہاتھ میری گردن میں ڈال کر میری گردن دبانے لگا۔ میرا دم گھٹنے لگا۔ میں بھر پور کوشش کی لیکن اس کے ہاتھ سے اپنی گردن کو نہیں چھڑا سکا۔ آخر کار خون زیادہ نکلنے کی وجہ سے وہ بے دم ہو کر گر پڑا تو میری گردن اس کے ہاتھ سے آزاد ہوئی تو میں نے اسے قتل کر دیا۔‘‘
فتح کے بعد لشکر کا جائزہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ کافروں کے پیر اکھڑ گئے اور وہ بھاگ پڑے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کا تعاقب کر کے انہیں قتل کرنے لگے۔ کافروں کا پیچھا مسلمانوں نے وادی حنین کے باہر تک کیا۔ جو پیدل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے وہ فتح حاصل ہونے کے بعد وادی حنین میں ہی رک گئے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے۔ انہوں نے کافروں کا تعاقب کر کے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم زخمی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جائزہ لے رہے تھے۔ حضرت عائد بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ غزوہ حنین میں ایک تیر میر ی پیشانی پر آکر لگا اور میرے چہرے اور سینے پر خون بہنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری پیشانی( چہرے ) اور سینے سے پیٹ تک پھیرا۔ جس کی وجہ سے اسی وقت خون بند ہو گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے دعا فرمائی۔ اسی طرح غزوہ حنین میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی زخمی ہو گئے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے غزوہ حنین میں کافروں کو شکست دے دی اور مسلمان ان کا پیچھا کر کے قتل کر نے لگے اور گرفتار کرنے لگے۔ جب ہم لوگ پڑائو میں واپس آئے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے درمیان گھوم رہے تھے اور فرما رہے تھے : ’’ کوئی ہے جو مجھے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے تک پہنچا دے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں پہنچا دیا گیا۔ ( میں بھی ساتھ میں تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کجاوے کے پچھلے حصے سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور شدید زخمی ہیں اور زخموں کی وجہ سے بے حد کمزور ہو گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے زخموں پر اپنا لعاب دہن لگا دیا۔ جس کی وجہ سے زخم اچھے ہو گئے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پھر سے طاقت محسوس کرنے لگے اور اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ( سیرت حلبیہ )
مالِ غنیمت اور قیدیوں کی روانگی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل زخمیوں کے درمیان گھوم رہے تھے اور ان کا علاج کر رہے تھے کیوں کہ اس جنگ میں شہید تو بہت کم مسلمان ہوئے تھے ( ایک روایت کے مطابق صرف چار مسلمان شہید ہوئے تھے) لیکن زخمی بہت زیادہ ہوئے تھے۔ جب کہ کافروں کو شکست ہوئی اور ستر70کافر شہید ہوئے تھے۔ جب کہ قیدی بے شمار ہاتھ لگے۔ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بے شمار لوگوں کو گرفتار کیا۔ ان میں عورتوں اور بچوں کی تعداد زیادہ تھی۔ کیوں کہ قبیلہ بنو ہواز ن والے اپنے بیوی بچوں سمیت جنگ کرنے آئے تھے اور جب شکست ہوئی تو انہیں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان میں سے بہت سے طائف بھاگ گئے۔ ان کے ساتھ ان کا سپہ سالار مالک بن عوف بھی تھا اور بہت سے اوطاس بھاگ گئے اور بہت سے نخلہ بھاگ گئے۔ ان میں قبیلہ بنو ثقیف کے لوگ تھے۔ مالِ غنیمت میں ہتھیاروں اور زرہوں کے علاوہ بے شمار اونٹ ، بھیڑیں، اور بکریاں ملیں۔ قیدیوں کی تعداد چھ ہزار تھی ، چوبیس ہزار اونٹ تھے۔ چالیس ہزار بکریاں تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قیدیوں اور تمام مالِ غنیمت کو جعرانہ کے مقام پر بھیج دیا۔ تما م قیدی اور مال غنیمت اس وقت تک جعرانہ کے مقام پر رکھے گئے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ فائف سے فارغ ہو کر نہیں آگئے۔ وہاں سے واپس آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کی تقسیم فرمائی۔ قیدیوں میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن شیما بھی تھی۔ ( شیما کا ذکر،’سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن‘ نام کی کتاب میں آیا ہے)یہ شیما قبیلہ بنو سعد کی دائی حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں۔
سریہ اوطاس
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وادیٔ حنین میں ہی تشریف فرما تھے۔ تمام قیدیوں اور مال غنیمت کو مقامِ جعرانہ پر بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ان کافروں کی طرف مسلمانوں کا لشکر بھیجا جو اوطاس کی طرف بھاگ گئے تھے۔ حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ مشہور صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ چچا نہیں ہیں۔ بلکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ اوطاس ایک وادی ہے۔ جو ہوازن کے قریب ہے۔ حضرت ابو عامررضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوطاس میں پہنچے تو بھگوڑے کا فرو وہاں جمع تھے۔ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی لیکن ان لوگوں نے اسلام قبول کر نے کی بجائے جنگ کرنا قبول کیا۔ قاعدے کے مطابق جنگ کی شروعات میں انفرادی مقابلے کے لئے حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ ایک شخص مقابلے کے لئے آیا۔ اسے آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی دعوت دی۔ جواب میں اس نے تلوار سے حملہ کیا۔ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے اللہ تو گواہ رہنااور ایک ہی وار میں اس کی گردن اڑا دی۔ پھر اس کا دوسر ابھائی آیا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک لگاتار نو بھائی آئے اور ہر ایک کو آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی دعوت دی اور ہر بار فرماتے تھے: ’’ اے اللہ ! تو گواہ رہنا۔‘‘ جب دسواں بھائی آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے بھی اسلام کی دعوت دی اور فرمایا: ’’ اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ ‘‘ اس نے جواب میں کہا: ’’ اے اللہ! تو مجھ پر گواہ نہ ہونا۔ ‘‘یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ رک گئے اور وہ بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے اسلام قبول کیا اور ایک اچھا مسلمان ثابت ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اسے دیکھتے تو فرماتے تھے: ’’ یہ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ کا بھگایا ہوا ہے۔‘‘ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ کو حارث کے دو بیٹوں علاء اور اوفی نے اسی دوران دھوکے سے تیر مارا۔ ایک کا تیر دل میں جا کر لگا اور دوسرے کا گھٹنے میں لگا۔ حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ سپہ سالار بنا دیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اتنی تیزی سے حملہ کیا کہ کافروں نے گھبرا کر ہتھیار ڈال دیئے اور مسلمانوں کو فتح ہوئی او ر سب کو گرفتار کر کے لے آئے۔
سریہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی حنین سے ہی حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر دے کر ذو الکفین کا بت جلانے کے لئے بھیجا ۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ آپ کو یاد ہو ں گے۔ انہوں نے کافروں کے بہکاوے میں آکر کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیات انہیں سنوادی تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور برسوں اپنے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دیتے رہے اور غزوہ ٔ خیبر میں اپنے قبیلے کے مسلمانوں کو لے کر حاضر ہوئے تھے۔ ان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جن سے سب سے زیادہ احادیث مروی ہیں۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ذوالکفین کا بت جلانے کے لئے بھیجنے لگے تو فرمایا : ’’ ہم لوگ طائف کی طرف روانہ ہو رہے ہیں اور تم اس بت کو تباہ کر کے ہم سے طائف میں آکر ملو۔‘‘ حضرت طفیل بن عمر ودوسی رضی اللہ عنہ تیزی سے ذو الکفین کا بت تباہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ لکڑی کا ایک بت تھا اور بنو عمر و بن جحمہ کا بت تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس بت کو گرا دیا اور اس کے منہ میں آگ ڈالتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : ’’ اے ذوالکفین !میں تیرے پجاریوں میں سے نہیں ہوںاور ہماری ( انسانوں کی ) پیدائش تیری بناوٹ سے پہلے سے ہے اور میں نے تیرے دل میں آگ بھر دی ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے چار سو افراد کے ساتھ تیزی سے روانہ ہوئے اور طائف میں آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار دن پہلے ہی طائف پہنچ چکے تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں