اتوار، 2 جولائی، 2023

29 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


29 سیرت سید الانبیاء ﷺ

فتح مکہ ۔ قسط 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


سید الانبیاء ﷺ کا مکہ مکرمہ میں فاتح کی حیثیت سے داخلہ، فاتح کی حالت میں بھی تواضع اور انکساری، خانہ کعبہ کے اندر نماز، آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ۔ سب آزاد ہو، خانہ ٔ کعبہ کی چھت پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان


فتح مکہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے اور مقام ذی طویٰ میں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی ترتیب فرمائی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دائیں بازوپر رکھا اور حکم دیا : ’’ مکہ مکرمہ کے زیریں حصے ( نچلے حصے) سے داخل ہوں اور خود سے کسی پر حملہ نہ کرنا۔ ہاں اگر تم پر کوئی حملہ کرے تو اس سے لڑنا اور صفا پہاڑی کے پاس پہنچ کر میرا انتظار کرنا۔‘‘ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو بائیں بازو پر رکھا اور حکم دیا : ’’ مکہ مکرمہ بالائی حصے ( اوپری حصے) سے داخل ہوں اور حجون میں جھنڈا گاڑ کر وہیں میرا انتظار کرنا۔‘‘ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو لشکر کے درمیانی حصہ اور پیدل دستہ پر رکھا اور حکم دیا : ’’ مکہ مکرمہ کے درمیانی راستے داخل ہوں۔‘‘ بقیہ تمام راستوں پر تو کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ لیکن مکہ مکرمہ کے زیریں علاقے ( نچلے علاقے) میں سہیل بن عمرو، عکرمہ بن ابو جہل اور صفوان بن امیہ نے قبیلہ بنو بکر اور قریش کے اوباشوں کے ساتھ مقام’’ خندمہ ‘]میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لشکر پر اچانک تیروں سے حملہ کر دیا ۔ جس کی وجہ سے ایک روایت کے مطابق دو صحابہ رضی اللہ عنہم اور دوسری روایت کے مطابق تین صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے۔ یہ دیکھ کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اتنا زبر دست حملہ کیا کہ قریش کے کافروں کے قدم اکھڑ گئے اور بھاگ گئے۔ اس جنگ میں بنو بکر کے بیس افراد اور بنو ہذیل کے تین یا چار افراد قتل ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم کیوں لڑے جب کہ میں نے تمہیں منع فرمایا تھا۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں نے لڑائی شروع کی تھی اور جہاں تک مجھ سے ممکن ہوا میں نے اپنا ہاتھ روکا۔‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ بہتر ہے۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کا مکہ مکرمہ میں فاتح کی حیثیت سے داخلہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی تیزی سے ابو سفیان بن حرب اپنی سواری کو دوڑاتے ہوئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ا ور بلند آواز سے پکارتے جا رہے تھے: ’’ اے قریش !محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں اور ایسا لشکر ان کے ساتھ ہے ۔ جس کے مقابلے کی تم طاقت نہیں رکھتے۔ سنو!جو میرے گھر میں داخل ہوا وہ امان میں ہے۔ جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا وہ امان میں ہے۔ جو مسجد حرام میں داخل ہوا وہ امان میں ہے۔ ‘‘یہ سنتے ہی سب لوگ اپنے گھروں کی طرف بھاگے اور مسجد حرام کی طرف بھی بھاگے۔ اسلامی لشکر مکہ مکرمہ میں ہر سمت سے داخل ہوا اور ہر طرف مسلمان پھیل گئے۔ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور’’ مقام کدا ‘‘سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ کے بالائی جانب سے داخل ہوئے۔ ( مقام کدا وہ مقام ہے جہاں کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تمام انسانوں کو حج کے لئے پکارا تھا) تمام مسلمان راستے کے دونوں جانب کھڑے تھے اور قریش اپنے گھروں میں سے دیکھ رہے تھے کہ جس ’’رحمت اللعالمین ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے لگ بھگ آٹھ برس پہلے بے سرو سامانی کے عالم میں مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا آج وہی ’’انبیاء کے سردار‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے تھے۔

فاتح کی حالت میں بھی تواضع اور انکساری

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش نے لگ بھگ آٹھ برس پہلے ہجرت کرنے پر مجبور کیا تھا۔ آج وہی تمام انسانوں اور تمام انبیائے کرام کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے تھے اور قریش اپنے گھروں میں دُبکے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو داخل ہوتے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ آج محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فاتح کی حیثیت سے آرہے ہیں اور نہ جانے ہمارے ساتھ کیسا سلوک کریں گے۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے’’ تمام جہانوں کے لئے رحمت ‘‘بنا یا ہے۔ انہوں نے طائف والوں کو معاف کر دیا۔ جن پر اللہ تعالیٰ قیامت صغریٰ برپا کرنے والے تھے۔ طائف والوں کو معلوم بھی نہیں تھا کہ جن کے اوپر انہوں نے پتھروں کی بارش کی تھی وہ ان لوگوں کے لئے ’’رحمت‘‘ ثابت ہونے والے تھے۔ مکہ مکرمہ میں داخلے کے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا بھی فخر کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ مکہ مکرمہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتے ہوئے’’ انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا سرِ مبارک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ فتح مکہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناقہ ( اونٹنی) پر سوار ہیں اور خوش الحانی کے ساتھ سورہ’’ انا فتحنا‘‘ کی تلاوت فرما رہے ہیں۔ اس عظیم الشان فتح کے وقت مسرت اور نشاط اور خوشی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہو رہی تھی اور عاجزی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک اور گردن مبارک اتنے جھکے ہوئے تھے کہ داڑھی مبارک کجا وہ کی لکڑی کو چھو رہی تھی۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اونٹنی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے تو تمام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے۔ لیکن عاجزی اور انکساری کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر جھکائے ہوئے تھے۔‘‘ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ وہ فتح ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔‘‘ اور پھر سورہ’’ اذا جآ نصر اللہ والفتح‘‘ تلاوت فرمائی۔‘‘

اُم ہانی کے گھر

سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار تھے اور سیاہ ( کالے ) رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر ِ مبارک پر ’’مغفر ‘‘ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف میں حضرت ابو بکر صدیق ، حضر ت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت اسید بن حضیر اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے اپنی چچا زاد بہن سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ یہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سگی بہن ہیں۔ سید الانبیائصلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ۔ سیدہ اُم ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا کی قسمت جاگ گئی اور انہوں نے دوڑ کر بے حد خوشی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اور دوڑ دوڑ کر خدمت کرنے لگیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایااور پھر آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی۔ یہ چاشت کا وقت تھا۔ یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر ادا فرمائی۔ لیکن رکوع اور سجدے وغیرہ مکمل طور پر ادا فرماتے رہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’ گھر میں کچھ کھانا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے ہیں۔ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے میں مجھے شرم آرہی ہے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لائو۔‘‘ پھر اپنے دست ِ مبارک سے ان سوکھی روٹی کے ٹکڑو ں کو پانی میں بھگو کر نرم کیا اور سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا نے سالن کے طور پر نمک پیش کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا گھر میں کوئی سالن نہیں ہے؟ ‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ میرے گھر میں سرکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سرکہ لے آئو۔‘‘ اور روٹی کو سرکہ میں لگا کر نوش فرمایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر اد ا کیا پھر فرمایا: ’’سرکہ بہترین سالن ہے اور جس گھر میں سرکہ ہو گا اس گھر میں محتاجی نہیں ہوں گی۔ ( یہ تھا تمام کائنات کی مخلوق کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کا فتح حاصل کرنے کے بعد کا کھانا۔ دنیا کے تمام امیروں اور بادشاہوں کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وہ لوگ ذرا سی خوشی پر ہزاروں روپے دعوت اور کھانے پر فضول خرچ کر کے خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور تمام کائنات کی مخلوقات کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم اتنی زبردست اور عظیم الشان فتح حاصل کر کے کتنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کر رہے ہیں)

جسے تم نے امان دی اسے ہم نے بھی امان دی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت سید ہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے گھر میں نماز ادا فرما رہے تھے۔ اس وقت حارث بن ہشام (ابو جہل کا بھائی) اور زہیر بن امیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جان بچانے کے لئے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے گھر میں گھس آئے تھے۔سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ’’ یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے شوہر کے دو رشتہ داروں نے میرے گھر میں پناہ لی ہے اور میرے بھائی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان دونوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ (در اصل سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ان گیارہ لو گوں میں یہ دونوں بھی تھے۔اس لئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کر نے کے لئے حضرت علی مر تضیٰ رضی اللہ عنہ ان دو نوں کو قتل کر نا چاہتے تھے )سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس کو تم نے امان (پناہ) دی ہے ۔اسے ہم نے بھی امان دی۔جائو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ دو کہ ان دو نوں کو قتل نہ کریں۔‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے صحا بہ لرام رضوان علیہم اجمعین نے ایک دن پہلے ہی سے دریافت کر لیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں کہاں قیام فرمائیں گے ۔رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جہاں قریش اور کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو قید کیا تھا۔ (یعنی شعب ابی طالب میں)اس سے پہلے ہم آپ کی خد مت میں واقعہ تفصیل سے پیش کر چکے ہیں یہاں مختصراََ ذکر کر دیتے ہے۔مکہ مکرمہ میں جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کیا تھا توقریش کے کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو بہت اذیت دینے لگے تھے۔ نبوت کے ساتویں سال تمام قریش اور کنانہ نے ایک لکھا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نعوذ باللہ قتل کرنے کے لئے جب تک ہمارے حوالے نہیں کریں گے تب تک انہیں شعب ابی طالب میں قید کر دیا جائے اور کوئی بھی ان سے تعلقات نہیں رکھے گا۔ تین برس تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو طالب اور ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور تما م بنو ہاشم اور بنو مطلب شعب ابی طالب میں قید رہے۔ تین برس بعد اس معاہدے کو دیمک نے کھا لیا اور معاہدہ خود بخود ختم ہو گیا اور بنو ہاشم اور بنو مطلب کو رہائی ملی۔ شعب ابی طالب میں ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خیمہ لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوران وہیں قیام فرمایا۔ بعد میں یہاں ایک مسجد بنا دی گئی جس کا نام ’’ مسجد الفتح‘‘ رکھا گیا۔

بیت اللہ ( خانہ کعبہ کے اندر داخلہ)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہوئے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مستعد اور تیار کھڑے تھے کہ کہیں قریش کوئی شرارت نہ کریں۔ لیکن تمام قریش اپنے گھروں میں دبکے کھڑکیوں سے دیکھ رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار حرم شریف میں تشریف لائے اور خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ طواف کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک ( ہاتھ مبارک) میں ایک چھڑی تھی جس سے ہر چکر میں حجر اسود کو استلام کر تے تھے۔ سات چکر پورا ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور عثمان بن طلحہ کو بلایا۔ ( اس کے پاس خانہ کعبہ کی چابی تھی) اور اس سے چابی طلب کی اور خانہ کعبہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے۔

تمام بُت گرتے جا رہے تھے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے۔ اندر لگ بھگ تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی بتوں کو لگاتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے۔’’ جآئَ الحَقّ وَزھَقَ البَا طِل ۔ اِنّ الباَطِلَ کَانَ زَھُوقاً ۔ ‘‘( سورہ بنی اسرائیل) ترجمہ ۔ ’’ حق آگیا اور باطل چلا گیا اور باطل جانے والی چیز ہے یا باطل جانے کے لئے ہے۔ ‘‘ یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس بت کو بھی چھڑی لگاتے تھے وہ گر جاتا تھا۔ ایک روایت میں تو یہاں تک ہے کہ چھڑی لگاتے ہی وہ بت ٹوٹ پھوٹ جاتا تھا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ خانہ کعبہ کے اندر تصویریں بنی تھیں۔ ان میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بھی تصویریں تھیں۔ جو فال گیری کا تیر لئے کھڑے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تصویروں کو دیکھ کر فرمایا۔ اللہ مشرکین کو ہلاک کرے۔ اللہ کی قسم !ان دونوں پاک انبیائے کرام علیہم السلام نے کبھی بھی فال کے تیر استعمال نہیں کئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تمام تصویروں کو مٹا دیا گیا اور تمام بت خانہ کعبہ سے نکال دیئے گئے اور بیت اللہ کو پاک کر دیا گیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا فرمائی۔

خانہ کعبہ کے اندر نماز

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تمام تصویروں کو مٹا دیا گیا اور تمام بتوں سے پاک کر دیا گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی خانہ کعبہ کے اندر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کے سامنے والی دیوار کی طرف رخ کیا اور آگے بڑھنے لگے۔ جب دیوار تین ہاتھ رہ گئی تو وہیں رک گئے۔ دو کھمبے ( ستون) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب تھے۔ ایک کھمبا( ستون) دائیں جانب تھا اور تین ستون ( کھمبے) پیچھے تھے۔ ان دنوں خانہ کعبہ میں چھ کھمبے ( ستون) تھے۔ پھر وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد بیت اللہ ( خانہ کعبہ) کے اندر چکر لگایا اور ہر کونے پر جا کر تکبیر اور توحید کے کلمات ادا فرمائے۔ ادھر خانہ کعبہ کے باہر دروازے کے پاس حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اور لوگوں کوآگے آنے سے روک رہے تھے۔ تمام قریش بھی اپنے اپنے گھروں سے نکل آئے تھے اور خانہ کعبہ کے اطراف جمع ہو گئے تھے اور دیکھ رہے تھے۔ اندر ہر کونے میں تکبیر اور توحید کے کلمات ادا کرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دروازہ کھول دیا اور باہر تشریف لے آئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو میں بالکل دروازے کے قریب کھڑ اتھا۔ جیسے ہی دروازہ کھول کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھی ؟ ‘‘ا نہوں نے جواب دیا: ’’ ہاں۔ ‘‘ میں نے پوچھا : ’’ کہاں پڑھی ؟ ‘‘ انہوں نے اشارے سے بتایا: ’’ ان دونوں کھمبوں کے درمیان ۔ ‘‘لیکن میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ کتنی رکعت پڑھی۔‘‘

خانہ کعبہ ( بیت اللہ ) کے دروازے پر خطبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے باہر تشریف لائے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تمام قریش خانہ کعبہ کے چاروں طرف منتظر کھڑے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے اور با آواز بلند فرمایا: ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اس نے اپنے بندے ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد کی اور ( کافروں کے ) تمام لشکر کو شکست دی۔ تمام پرانے خون بہا اور جاہلیت کی رسمیں سب میرے پیروں تلے ہے۔ ( یعنی جاہلیت کی تمام رسمیں اور قانون آج سے ختم کرتا ہوں) صرف خانہ کعبہ کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانا،یہ دو اعزاز اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ اے قوم ِ قریش! اب جاہلیت کا فخر و غرور اور خاندانوں پر فخر کرنا یہ سب اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا ہے۔ تما م لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ اے لوگو!ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا فرمایا اور تمہارے لئے قبیلے اور خاندان بنا دیئے ۔ تا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سیزیادہ شریف اور عزت دار وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ ( گناہوں سے بچنے ) والا ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ سب جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ۔ سب آزاد ہو

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کرلیاتھا اور فاتح کی حیثیت سے خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ فرما رہے تھے۔ تمام مہاجرین اور انصار اور تمام صحابہ کرام ہمہ تن گوش ہو کر پوری توجہ سے سن رہے تھے ۔ تمام قریش بھی سن رہے تھے۔ ان قریش میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت ظلم کیا تھا اور بہت زیادہ اذیتیں دی تھیں۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے شہید کر دیا تھااور ان کے ناک کان کاٹ کر ہار بنا ئے تھے اور دل نکال کر چبانے کی کوشش کی تھی۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو غزوہ خندق میں مدینہ منورہ پر بہت بڑ الشکر جرار لے کر چڑھ دوڑے تھے۔ آج ہر کوئی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کوسن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آج فاتح کی حیثیت سے ہمارے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ جانے کون سا سلوک کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے اور قریش ڈر اور خوف سے کانپ رہے تھے کہ نہ جانے کب ہمارے قتل کا فرمان جاری ہو جائے۔ اچانک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’ اے گروہ قریش !تمہیں کچھ معلوم ہے؟ آج میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟‘‘ اس سوال پر قریش بہت زیادہ گھبرا گئے لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج اور کردار کو جانتے تھے اور رحم کی امید رکھتے تھے۔ اس لئے صرف اتنا ان کی زبان سے نکلا: ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کرم کرنے والے بھائی ہیں اور کرم کرنے والے باپ کے بیٹے ہیں۔‘‘ اتنا کہہ تمام قریش امید بھری نظروں سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے گہری نظروں سے ہر طرف چہرہ مبارک گھما کر قریش کو دیکھ رہے تھے ۔ ہزاروں آدمیوں کا مجمع بالکل خاموش کھڑا تھا اور سب کی نظریں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگی ہوئی تھیں۔ اچانک سناٹے میں ’’رحمت اللعالمین ‘‘کی میٹھی اور سریلی آواز گونجی۔ ’’ آج تم پر کوئی الزام نہیں ہے۔ جائو تم سب آزاد ہو۔‘‘ اس میٹھی اور سریلی آواز اور الفاظ نے قریش کے کانوں میں رس گھول دیا۔ ایک جملے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو معاف کر دینے کا اعلان کر دیا۔ اچانک ہزاروں آدمیوں کے مجمعے میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند آواز سے تعریف بیان کر رہے تھے اور قریش کا یہ عالم تھا کہ خوشی کے مارے رونے لگے تھے۔ کتنے قریش نے بلند آواز سے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور مسکراتے ہوئے چاروں طرف کا جائزہ لے رہے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور قریش کو مل جل کر باتیں کرتے دیکھ رہے تھے اور چہر ہ مبارک پر مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ اطمینان کا اظہار ہو رہا تھا۔

خانہ کعبہ ( بیت اللہ ) کی چابی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان فرما دیا اورپورے مکہ مکرمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم شریف میں تشریف فرما ہوئے اور خانہ کعبہ کی چابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں تھی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو ہاشم کے پاس سقایہ ( حاجیوں کو پانی پلانے کا ) کا محکمہ ہے۔ براہِ کرم یہ چابی بنو ہاشم کو عنایت فرما کر حجابہ ( یعنی خانہ کعبہ اور مسجد حرام کی صاف صفائی ) کا محکمہ بھی دے دیں۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ چونکہ حضرت عباس بن عبدالمطلب ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور حضر ت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے چچا) پہلے سے سقایہ کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ اس لئے وہ بھی آگے بڑھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ خانہ کعبہ کی چابی ہمیں عنایت فرمائیں ۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟‘‘ انہیں بلایا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چابی انہیں عنایت فرمائی اور فرمایا: ’’ یہ لو اپنی چابی !آج نیکی اور وفاداری کا دن ہے۔ ‘‘طبقات ابن سعد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے ہمیشہ کے لئے لے لو ( یعنی یہ چابی تمہاری نسل میں رہے گی) اور تم لوگوں سے اس چابی کو وہی چھینے گا جو ظالم ہوگا۔ اے عثمان رضی اللہ عنہ ! اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عشق

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد چاہِ زمزم کے کنویں پر تشریف لے گئے ۔ اس میں جھانک کر فرمایا: ’’ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بنو عبدالمطلب مغلوب ہو جائیں گے تو میں اس کنویں سے ایک ڈول پانی ضرور نکالتا۔‘‘ ( یعنی اگر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک ڈول پانی نکال لیتے تویہ سنت بن جاتی اور دوسرے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کے لئے ایک ڈول پانی ضرور نکالنے کی کوشش کرتے ۔ جب کہ چاہِ زمزم سے پانی نکال کر پلانے کا اعزاز صرف ’’بنو عبدالمطلب ‘‘کو حاصل ہے )اس کے بعد حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے ایک ڈول زمزم کا پانی کھینچ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پانی نوش فرمایا اور پھر وضو کرنے لگے۔ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا اور جھپٹ جھپٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کا استعمال شدہ پانی لے رہے تھے اور زمین پر گرنے نہیں دے رہے تھے۔ جس کے ہاتھ میں زیادہ پانی آرہا تھا وہ پی لیتا تھا اور جس کے ہاتھ میں کم پانی آتا تھا تو وہ اپنے چہرے پر مل لیتا تھااور جسے پانی مل جاتا تھا وہ پیچھے ہٹ جاتا تھا اور دوسرا آگے بڑھتا تھا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی صحابی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ پا رہے تھے تو وہ اپنے ساتھی کے گیلے ہاتھ کو ہی اپنے چہرے پر مل رہے تھے۔ قریش حیرانی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم نے آج تک نہ دیکھا ہے اور نہ ہی سنا ہے کہ کوئی بادشاہ اس درجہ تک پہنچا ہو کہ اس کی عوام اس سے اتنا عشق کرے۔

خانہ ٔ کعبہ کی چھت پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما چکے تو نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کی چھت پر جب اذان دینی شروع کی تو پورے مکہ مکرمہ پر ایک ایمان افروز روح پرور سماں طاری ہو گیا ا ور قریش کے سردار حیران و پریشان ہو گئے۔ ابو سفیان بن حرب ، عتاب بن اسید اور حارث بن ہشام خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔ اذان سن کر عتاب بن اسید نے کہا : ’’ اللہ تعالیٰ نے میرے باپ کی عزت رکھ لی اور اس آواز کو سننے سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیا۔ ‘‘حارث بن ہشام نے کہا: ’’ اللہ کی قسم! اگر مجھ کو یقین ہو جاتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) حق پر ہیں تو ضرور میں ان کی اطاعت کرتا۔‘‘ ابو سفیان بن حرب نے کہا : ’’میں اس بارے میں کچھ نہیں کہوں گاکیوں کہ اگر میں نے کچھ کہا تو یہ سنگریز ے ( کنکریاں ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خبر دے دیں گی۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کی گفتگو کی اطلاع دے دی۔ نماز کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گزرے تو ان کی گفتگو دہرا دی۔ یہ سن کر عتاب اور حارث نے کہا’’ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوال کوئی معبود نہیں ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس لئے کہ ہم میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس گفتگو کے بارے میں نہیں بتایا۔‘‘ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا گورنر بنا دیا۔

میر ی زندگی اور وفات تمہارے ساتھ ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد صفا پہاڑی پر تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ مبارک اٹھا کر دعا مانگ رہے تھے تو اس وقت انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ کھٹکا پید ا ہوا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب اپنی قوم قریش کے پاس مکہ مکرمہ میں ہی نہ رک جائیں تو انصار نے ایک دوسرے سے کہا : ’’ تمہار ا کیا خیال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے شہر اور زمین کی فتح عطا فرمائی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب یہیں رہنے لگ جائیں گے اور ہمیں چھوڑ دیں گے۔‘‘ اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر کھڑے دعا مانگ رہے تھے۔ دعا سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارسے فرمایا: ’’ تم آپس میں کیا بات کر رہے تھے؟ ‘‘انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ایسی کوئی اہم بات نہیں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل دریافت فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ انصار نے اپنے دل کا شک بتا دیا۔ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ میری زندگی اور وفات تمہارے ساتھ ہے۔‘‘ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ خوش خبری سن کر انصار کی آنکھوں میں خوشی کے مارے آنسو آگئے اور تمام انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم لوگوں نے جو کچھ سوچا اور جو کچھ کہا اس کی وجہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت ہے۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کا تصور ہی ہمارے لئے نا قابل برداشت ہو رہا تھا۔ ‘‘

بیعت ِ اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد صفا پہاڑی پر ہی بیٹھ گئے اور قریش کے مردوں اور عورتوں سے اسلام کی بیعت لینے لگے۔ مردوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک پر ان کا ہاتھ رکھوا کر بیعت لے رہے تھے اور عورتوں سے زبانی بیعت لے رہے تھے۔ قریش کے لوگ آ کر اسلام قبول کرتے جا رہتے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے جا رہے تھے۔ انمیں حضرت امیر معاویہ بن ابو سفیان بھی تھے اور ان کے والد ابو سفیان بن حرب اور والدہ ہندہ بنت عتبہ بھی تھیں۔ مردوں سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور جہاد پر بیعت لی اور عورتوں سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر بیعت لی۔ عورتوں سے بیعت کی ایک روایت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے کا ایک کونہ پکڑتے تھے اور دوسرا کونہ بیعت لینے والی خاتون پکڑتی تھی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیالے میں اپنی انگلیاں ڈال کر نکال لیتے تھے۔ پھر بیعت لینے والی خاتون پیالے میں انگلیاں ڈال کر تر کر لیتی تھی اس طرح بیعت پختہ ہو جاتی تھی۔

فتح مکہ کے بعد دوسرا خطبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن خطبہ عام دیا۔ لگ بھگ تمام قریش اسلام قبول کر چکے تھے اور اس خطبے کے وقت کوئی مشرک نہیں تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہوئے ا ور حرم کعبہ کے احکام و آداب کی تعلیم دی کہ حرم میں خون بہا نا، جانوروں کا شکار کرنا، درخت کاٹنا، اذخر گھاس کے سوا کوئی بھی گھاس کاٹنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گھڑی بھر کے لئے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو حرم ( مکہ مکرمہ) میں جنگ کرنے کی اجازت دی تھی ۔ پھر قیامت تک کے لئے حرم میں جنگ کرنا حرام کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر مکہ مکرمہ کو حرم بنا دیا ہے نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس شہر میں خون ریزی حلال تھی اور نہ میرے بعد قیات تک کسی کے لئے حلال کی جائیگی ۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عزیٰ بت کو توڑ دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر دے کر مقام نخلہ پر عزیٰ بت کو توڑنے کے لئے بھیجا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تیس سواروں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اس وقت ماہِ رمضان المبارک کی پانچ راتیں باقی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر اس بت کو توڑ دیا اور واپس مکہ مکرمہ آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے وہاں کوئی چیز دیکھی؟ ‘‘ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ نہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ٍ تم نے پھر عزی کا بت نہیں توڑا ۔ دوبارہ جائو اور اسے توڑو۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ دوبارہ گئے اور اس بت کے نیچے ( تہہ خانے میں ) ایک بت تھا ( اوپر کا بت پہلے توڑا تھا) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی اور اس بت کو توڑنے لگے تو دیکھا کہ ایک کالی عورت جس کے بال بکھرے ہوئے اور وہ برہنہ تھی۔ وہ باہر نکلی اور چیخ رہی تھی اور اس کا پجاری بھی چیخ رہا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے تلوار مار کر اس کالی عورت کے دوٹکڑے کر دیئے اور بت کو توڑ ڈالا اور واپس آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام واقعہ بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں یہ عزیٰ تھی اور وہ اس بات سے مایوس ہو گئی تھی کہ اب اس شہر میں کبھی بھی اس کی پوجا نہیں ہوگی۔ ‘‘

حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے سواعِ بت توڑ دیا   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو قبیلہ ہذیل کے بت سواع کو توڑنے کے بھیجا ۔ یہ مکہ مکرمہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے۔ انہیں بھی ماہِ رمضان المبارک میں بھیجا گیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں وہاں پہنچا تو مندر کے پجاری نے پوچھا : ’’ کس لئے آئے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بت کو توڑنے کے لئے بھیجا ہے۔‘‘ اس نے کہا: ’’ تم ایسا انہیں کر سکتے۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’ کیوں ؟ کون روکے گا مجھے ؟ ‘‘اس پجاری نے جواب دیا: ’’یہ بت روکے گا۔ ‘‘میں نے کہا: ’’تجھ پر افسوس ہے۔‘‘ اور آگے بڑھ کر بت کو توڑنے لگا۔ جب پورا بت ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گیا تو میں نے اس پجاری سے کہا: ’’ تم نے دیکھ لیا کہ یہ بت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکا ۔‘‘ اس پجاری نے کہا: ’’ میں اللہ تعالیٰ کے لئے اسلام قبول کرتا ہوں۔‘‘

حضرت سعد بن زید اشہلی نے مناۃ بت توڑا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان میں ہی حضرت سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ کو مناۃ بُت کوتوڑنے کیلئے بھیجا۔ یہ مثلل کے مقام پر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ بیس سواروں کے ساتھ وہاں پہنچے تو مندر کے پجاری نے کہا: ’’ کیا ارادہ ہے؟ ‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناۃ کو توڑنے کے لئے بھیجا ہے۔‘‘ اس نے کہاـ: ’’ آپ کو اختیار ہے۔‘‘ حضرت سعد بن زید رضی اللہ عنہ بت کو توڑنے لگے تو ایک کالی بکھرے بالوں والی عورت نکلی۔ وہ کہہ رہی تھی ہائے خرابی اور سینہ پیٹ رہی تھی۔ حضرت سعد بن زید رضی اللہ عنہ نے تلوار کی ایک ضرب لگاکر اسے ہلاک کر دیا اور پھر بت کو توڑ دیا اور مکہ مکرمہ واپس آگئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں