28 سیرت سید الانبیاء ﷺ
فتح مکہ ۔ قسط 1
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
سریہ سیف الجریا سریہ خبط، بنو خزاعہ اور بنوبکر کی دشمنی، قریش اور بنو بکر نے معاہدہ توڑ دیا، بنو خزاعہ مدد مانگنے مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے، یہ پاک بستر کافر کے لئے نہیں ہے، تمہارے بھتیجے کی سلطنت زبردست ہو گئی ہے
سریہ ذات السلاسل
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الثانی یا جمادی الآخر 8 ھجری میں حضرت عمرو بن عاص کی سپہ سالاری میں تین سو مجاہدین کا لشکر قبیلہ بنو قضاعہ اور قبیلہ بنو بلی کی طرف بھیجا۔ جنگ موتہ جمادی الاول 8 ہجری میں ہوئی اور ا سکے ایک مہینے بعد ہی سریہ ذات السلاسل ہوا۔ اس سریہ کا سبب یہ ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ شام کی سرحد پر بنو بلی اور بنو قضاعہ کے علاقے میں ایک لشکر جمع ہو رہا ہے اور اس کا ارادہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنیکا ہے۔ ان دونوں قبائل میں سے بنو بلی قبیلہ کی خاتون حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی دادی ہیں۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سپہ سالار بنایا اور حکم دیا کہ اپنی دادی کے قبیلے والوں کو سمجھانے کی کوشش کرنا اور نہ مانیں تو جنگ کرنا۔ اس سریہ کا نام ذات السلاسل اس لئے پڑ ا کہ جہاں یہ جنگ ہوئی اس جگہ کا نام ذات السلاسل تھا۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ لشکر ایک چشمے پر اترا جس کا نام سلسل تھا۔ اسی لئے یہ نام پڑا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس جنگ میں دشمنوںنے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا۔ اس لئے ذات السلاسل پڑا۔
آپس میں اختلاف نہ کرنا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تین سو مجاہدین کو روانہ فرمایا اور لشکر کے لئے سفید جھنڈا باندھا۔ جب یہ لشکر ذات السلاسل پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج کر مدد مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دو سو مجاہدین کو روانہ فرمایا۔ ان میں شیخین یعنی حضر ت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ ’’ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے جا کر ملو اور آپس میں متفق رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔‘‘ جب حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ وہاںپہنچے اور اپنے لشکر کو نماز پڑھانا چاہی تو حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا ؛ ’’ لشکر کا سپہ سالار میں ہوں اور تم میری مدد کے لئے آئے ہو۔‘‘ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپس میں اختلاف نہ کرنا۔ اس لئے میں تمہاری اطاعت کروں گا۔‘‘ ا سکے بعد سب نے مل کر بنو قضاعہ کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ تمام کافر مرعوب ہو کر بھاگ گئے۔ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے کچھ روز وہاں پر قیام کیا ور اطراف و جوانب میں سوار بھیجتے رہے۔ اس کے بعد مدینہ منورہ واپس چلے آئے۔
سریہ سیف الجریا سریہ خبط
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب 8 ہجری میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں تین سومجاہدین کے ساتھ سیف البحر ( سمندر کے ساحل) کی طرف قبیلہ جُھینہ کی طرف روانہ فرمایا۔ اس لشکر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ لشکر کے روانہ ہوتے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کاایک تھیلہ عنایت فرمایا۔ راستے میں لشکر ایسے علاقے میں پہنچا جہاں خوراک کی کمی تھی تو لشکر میں کھجوریں بانٹی گئیں۔ یہاں تک کہ کھجورووں کی گھٹلیاں بھی پانی میں بھگا کر چوس کرگزارہ کرتے رہے اور جب یہ بھی نہ رہی تودرختوں کے پتے توڑ کر پانی میں بھگا کر کھانے لگے۔ اسی وجہ سے اس سریہ کو ’’سریہ خبط ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ ’’خبط ‘‘کے معنی درختوں ے پتے توڑنا ہے۔ آخر کار لشکر جب سمندر کے ساحل ( سیف البحر) پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ مدد فرمائی اور سمندر سے اتنی بڑی مچھلی نکال دی کہ تمام لشکر نے اٹھارہ دنوںتک اس کا گوشت کھایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں؛ ’’ اسے کھا کر ہمارے جسم توانا اور تندرست ہو گئے۔ اس مچھلی کا نام’’ عنبر‘‘ تھا۔ بعد میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس مچھلی کی دو ہڈیوں کو کمان کی طرح گاڑا اورلشکر کا سب سے لمباآدمی چن کر اسے اونٹ پروار کر کے اس کے نیچے سے گزرا تو وہ آسانی سے گزر گیا اور اسکا سر ہڈی کو نہیں لگا۔ جب یہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اور اس مچھلی کا تذکرہ کیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے تمہارے لئے بھیجا تھا۔ اگر اس کا گوشت بچا ہو تومجھے بھی دو۔‘‘ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مچھلی کا گوشت سکھا کر رکھ لیا تھا۔ ) وہ گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا گیااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا۔ اس سریہ میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔
بنو خزاعہ اور بنوبکر کی دشمنی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے صلح حدیبیہ کی تھی۔ ( اس کا تفصیلی ذکر ہم کر چکے ہیں) اس صلح میںیہ شرط تھی کہ دونوں فریقین کی طرف سے عرب کے قبائل بھی اس صلح میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اس معاہدے میں قریش کی طرف سے بنو بکر شریک ہوئے تھے اور مسلمانوں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو خزاعہ شریک ہوئے تھے۔ اس طرح بنو خزاعہ اور بنو بکر میں بھی صلح ہو گئی تھی۔ ان دونوں قبائل میں زمانہ ٔ جاہلیت سے ہی دشمنی چلی آرہی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ بنو بکر کے تاجر تجارت کی غرض سے بنو خزاعہ کے بازار میں آئے ۔ خرید و فروخت کے دوران ایک تاجر کا بنو خزاعہ کے ایک آدمی سے تنازعہ ہو گیا۔ جو اتنا بڑھا کہ بنو بکر کے تاجر کا قتل ہو گیا۔ اس کے بعدبنو بکر والوں نے بنو خزاعہ کے ایک شخص کو موقع پا کر قتل کر دیا۔ اس طرح دونوں قبائل میں شدید دشمنی ہو گئی اور دونوں قبائل ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے رہتے تھے۔ لیکن صلح حدیبیہ میں شرکت کرنے کے بعد ان دونوں کے درمیان امن قائم ہو گیا ۔
قریش اور بنو بکر نے معاہدہ توڑ دیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش سے صلح حدیبیہ کی تو بنو خزاعہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ذمہ داری عائد ہو گئی کہ جب بھی بنو خزاعہ مدد کے لئے پکاریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر لے کر مدد کے لئے پہنچنا پڑے گا اور یہی ذمہ داری بنو خزاعہ پر بھی عائد ہوئی۔ صلح حدیبیہ میں بنو بکر نے قریش کا ساتھ دیا تھا۔ بنو بکر اور بنو خزاعہ مکہ مکرمہ کے قریب ہی آباد تھے۔ صلح کا معاہدہ ہو جانے کے بعد بنو خزاعہ تو مطمئن ہو گئے لیکن بنو بکر پرانی دشمنی کو بھولے نہیں تھے اور موقعہ کی تلاش میں تھے۔ ان کا گمان تھا کہ ہمارے ساتھی قریش قریب میں ہیں اور بنو خزاعہ کے ساتھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تو تین سو کلو میٹر دور ہیں۔ اس لئے قریش ہماری مدد کو جلدی پہنچ جائیں گے۔ بنو بکر نے قریش کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا اور ایک رات بنو خزاعہ کے لوگ ایک چشمہ جس کا نام ’’وتیرہ ‘‘ہے اس چشمے کے پاس سو رہے تھے کہ اچانک بنو بکر نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں منہ پر کپڑا باندھ کر قریش کے سرداران صفوان بن امیہ ، شیبہ بن عثمان، سہیل بن عمرو، حویطب بن عبد العزیٰ اور مکر ز بن حفص بھی شامل تھے اور بنو خزاعہ کے سوئے ہوئے لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ بنو خزاعہ کے لوگ جان بچانے کے لئے مکہ مکرمہ میں حرم شریف میں آئے لیکن بنو بکر اور قریش کے سرداروں نے وہاں بھی انھیں قتل کر دیا۔ بنو خزاعہ کے کچھ لوگ بدیل بن ورقا کے گھر میں گھس گئے تھے۔ وہاں گھس کر بھی ان لوگوں کو قتل کردیا گیا۔ جب صبح ہوئی تو قریش کو احساس ہوا کہ انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے کیا ہوا صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا ہے۔
بنو خزاعہ کی پکار کا سید الانبیاء ﷺ نے جواب دیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس رات اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف فرما تھے۔ جس رات بنو بکر نے قریش کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ پر شب خون مارا تھا۔ بنو خزاعہ کے لوگوں نے اسی وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو وہیں سے مدد کے لئے پکارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے اور وضو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ’’لبیک ۔‘‘ ( میں حاضر ہوں) اور تین مرتبہ فرمایا: ’’ نصرت۔‘‘( میں نے مدد کی ) میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کس سے بات کر رہے تھے؟ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بنو کعب ( بنو خزاعہ کا ایک خاندان یا شاخ) کا ایک رجز پڑھنے والا مجھ سے مدد مانگ رہا تھا۔ اس کا خیال ہے کہ قریش نے ان کے خلاف ( بنو خزاعہ کے خلاف) بنو بکر کی مدد کی ہے۔‘‘
بنو خزاعہ مدد مانگنے مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ا سکے بعد اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف لائے اور فرمایا : ’’سفر کی تیاری کرو اور کسی کو نہیں بتانا۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ ( سفر کی تیاری کے دوران) میر ے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: ’’ بیٹی یہ کیسی تیاری ہو رہی ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کیا : ’’مجھے خود بھی معلوم نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم !یہ بنو اصغر ( رومیوں کو بنو اصغر کہا جاتا تھا کیوں کہ ان کے جدّ امجد روم بن عیص بن اسحاق بن ابراہیم نے حبشہ کے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کی تھی تو اس سے جو اولاد ہوئی اس کا رنگ سیاہ اور سفید تھا)سے جنگ کا زمانہ بھی نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدھر جانیکی تیاری کر رہے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’ مجھے خود بھی نہیں معلوم ۔‘‘ اس کے بعد اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ اس کے بعد تیسرے دن فجر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تو میںنے ایک آواز سنی ۔ کوئی مسجد نبوی کے دروازے پر بلند آواز سے کہہ رہا تھا: ’’ اے میرے رب! میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو انکے باپ اور ان کے باپ ( حضرت عبدالمطلب کی بنو خزاعہ سے دوستی اور عہد تھا) کی پرانی آپس کی دوستی اور عہد یاد دلاتا ہوں۔ بے شک قریش نے وعدہ خلافی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہد ( صلح حدیبیہ کا معاہدہ ) توڑ دیا ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (ہماری مدد کے لئے ) کسی کو نہیںبلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری دائمی ( ہمیشہ کی) اور مضبوط مدد فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندوںکو بلائیں ( یعنی مسلمانوں کو) کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ہماری) مدد کو آئیں اور جنگ کے لئے پوری طرح تیار ہوں۔ ‘‘محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ۔’’ انہوں نے ہم پر حملہ’’ وتیرہ ‘‘کے مقام پر کیا۔ جب ہم سوئے ہوئے تھے اور ہمیں رکوع او ر سجدہ کی حالت میں قتل کیا۔ ان کا خیال تھا کہ میں کسی فریاد سننے والے کو نہیں بلائوں گا اور وہ نہایت ذلیل اور تعداد میں بھی کم ہیں۔‘‘ یہ عمرو بن سالم خزاعی تھا جو فریاد کر رہا تھا۔ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عمرو بن سالم تمہیں مدد دی جائے گی۔ ‘‘
قریش نے معاہدہ حدیبیہ ختم کر دیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دینے کے بعد قریش کو احساس ہوا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ مدینہ منورہ میںسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن سالم سے دریافت فرمایا: ’’ کیا تمام بنو بکر حملے میں شامل تھے؟ ‘‘ اس نے بتایا : ’’ نہیں !بلکہ بنو بکر کے ایک خاندان یا شاخ ’’بنو نفاثہ‘‘ اور اس کے سردار نوفل نے حملہ کیا تھا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن سالم اور اس کے ساتھیوں سے فرمایا : ’’ بہت جلد ہم تمہاری مدد کو آرہے ہیں۔‘‘ تو وہ لوگ واپس چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک قاصد قریش کے پاس روانہ فرمایا اور قریش کو اختیار دیا کہ تین باتوںمیں سے ایک بات قبول کرلیں (1) بنو خزاعہ کے مقتولین کی دیت ادا کی جائے (2) بنو نفاثہ سے تعلقات توڑ لیں (3) معاہدہ حدیبیہ کو ختم کر دیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد نے جب قریش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا تو قرطہ بن عمرو جو ش میں آکر کھڑا ہوا اور قریش کی طرف سے جواب دیا : ’’ ہم بنو خزاعہ کے مقتولین کی دیت اد انہیں کریں گے اور بنو نفاثہ سے تعلقات بھی نہیں توڑیں گے۔ ہاں صلح حدیبیہ کا معاہدہ ختم کرنے پر ہم راضی ہیں۔ ‘‘لیکن قاصد کے مدینہ منورہ جانے کے بعد قریش کو احساس ہوا کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ابو سفیان کو مدینہ منورہ روانہ کیا کہ وہ پھر سے معاہدہ کی مدت صلح کو آگے بڑھانے کیلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرے۔
ابو سفیان مدینہ منورہ میں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے تجدید صلح کے لئے ابو سفیان مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانہ ہوا۔ ادھر مدینہ منورہ میں قاصد نے آکر اطلاع دی کہ قریش نے معاہدہ حدیبیہ ختم کر دیا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خبر دی کہ قریش صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ختم کر کے شرمندہ ہیں اور ابو سفیان صلح کی مدت بڑھانے اور معاہدہ کو مضبوط کرنے کے لئے آرہا ہے۔ ادھر ابو سفیان جب عسفان کے مقام پر پہنچا تو اس کی ملاقات بدیل بن ورقا خزاعی سے ہوئی۔ اس نے پوچھا : ’’ کہاں سے آرہے ہو؟ ‘‘ بدیل نے کہا: ’’ قریب کی وادی سے آرہا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ ابو سفیان کو خیال آیا کہ یہ ضرور مدینہ منورہ سے آرہا ہوگا۔اس نے اس جگہ جا کر دیکھا جہاں بدیل بن ورقا نے اونٹ باندھا تھا۔ اونٹ کی مینگنی توڑی تو کھجور کی گھٹلی نکلی۔ یہ دیکھ کر ابو سفیان نے کہا: ’’ یہ ضرور مدینہ منورہ سے آرہا ہے کیوں کہ یہ گٹھلیاں مدینہ منورہ کی کھجوروں کی ہے۔‘‘ بہر حال ابو سفیان خاموشی سے مدینہ منورہ میں داخل ہوا اور اپنی بیٹی اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں آیا۔
یہ پاک بستر کافر کے لئے نہیں ہے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے تجدید معاہدہ کے لئے ابو سفیان مدینہ منورہ آیا تو اس نے سوچا کہ میری بیٹی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ( بیوی) ہے اور وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے میں میری مدد ضرور کرے گی۔ اس لئے ابو سفیان اپنی بیٹی اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں آیا۔ وہاں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر بچھا ہوا تھا۔ ابو سفیان اس پر بیٹھنے لگا تو اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جلدی سے بستر لپیٹ دیا۔ ابو سفیان حیران ہو گیا اور کہا: ’’اے بیٹی! تُو نے بستر لپیٹ دیا۔کیا بسترکو میرے قابل نہیں سمجھا یا پھر مجھے بستر کے قابل نہیں سمجھا۔‘‘ اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ ابو جان !یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک بستر ہے اور آپ کافر ہیں اور کافر ناپاک ہوتا ہے۔ اسی لئے اس پاک بستر پر ایک کافر جو شرک کی نجاست میں مبتلا ہو وہ نہیں بیٹھ سکتا۔‘‘ ابو سفیان نے جِھلّا کر کہا: ’’ اے بیٹی! اللہ کی قسم ! تُو میرے بعد شر ( برائی) میں مبتلا ہو گئی ہے۔‘‘ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ شر میں مبتلا نہیں ہوئی ہوں بلکہ کفر اورشرک کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کے نور کی روشنی میں آگئی ہوںاور آپ پر تعجب ہوتا ہے کہ آپ سردار ہو کر پتھروں کی پوجا کر تے ہیںجو نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔‘‘ ابو سفیان جھلا کر وہاں سے نکل گیا۔
ابو سفیان کی ناکام کوشش
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ٔمطہرہ اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے اٹھ کر ابو سفیان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور معاہدہ حدیبیہ کیتجدید کی درخواست کی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیااور چہرہ مبارک پھیر لیا۔ ابو سفیان نے پھر کوشش کی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہاں ناکام ہونے کے بعد وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا : ’’ آپ ( رضی اللہ عنہ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے میری سفارش کر دیں۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : ’’ ا ٓپ ( رضی اللہ عنہ ) محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے میری سفارش کر دیں ۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں ! اور تیری سفارش کروں؟اللہ کی قسم !اگرمیرے ہاتھ میں صرف ایک تِنکا رہے گا تو میں اس تنکے سے تم کافروں سے جنگ کروں گا۔‘‘ یہ جواب سن کر ابو سفیان خاموشی سے وہاں سے اٹھ گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ وہاںسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم، آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ابو سفیان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ اے علی ابن ابو طالب! ( رضی اللہ عنہ) تم رشتہ داری میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب ہو اور میں ایک ضرورت مند بن کر تمہارے پاس آیا ہوں اور میں رسوا ہو کر واپس نہیں جائوں گا۔ تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے میری سفارش کر دو۔‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں کوئی بھی تمہاری سفارش نہیں کر سکتا۔‘‘
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا مشورہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے ناکام ہو کر ابو سفیان چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے پاس گیا۔ لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے یہ جواب سننے کے بعد ابو سفیان نے خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے عرض کیا : ’’ آپ رضی اللہ عنہا اپنے والد سے سفارش کردیں ۔‘‘ انہوں نے فرمایا؛ ’’ میں بھی یہ نہیں کر سکتی۔ ‘‘یہ سن کر ابو سفیان نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم کی طرف اشارہ کر کے کہا؛ ’’ انہیں ہی کہہ دو کہ یہ اپنے نانا سے ہم قریش کی سفارش کر دیں۔‘‘ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا؛ ’’ یہ بچوں کا معاملہ نہیں ہے اور آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ ابو سفیان نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا؛ ’’ معاملہ بہت بگڑ چکا ہے۔ آپ ( رضی اللہ عنہ) ہی کوئی تدبیر بتائیں۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میرا تو یہی مشورہ ہے کہ اگر تم اسے اپنے لئے فائدے مند سمجھو تو مسجد نبوی میں جا کر اعلان کر دو کہ میں معاہدہ حدیبیہ کی مدت بڑھاتا ہوں‘‘ اور یہ کہہ کر تم اپنے شہر واپس چلے جائو۔ ابو سفیان وہاں سے اٹھا اور مسجد نبوی میں آیا اور بلند آواز سے کہا؛ ’’ میں معاہدہ حدیبیہ کی مدت بڑھاتا ہوں‘‘ اور مکہ مکرمہ واپس آگیا۔ قریش نے جب پوچھا تو اس نے تمام واقعہ بیان کر دیا۔ قریش نے پوچھا ؛ ’’ جب تم نے اعلان کیا تو کسی نے کوئی جواب دیا تھا۔ ‘‘ ابو سفیان نے کہا : ’’ نہیں ۔‘‘قریش نے کہا : ’’یہ تو کچھ بھی نہیں ہوا اور علی بن ابی طالب ( رضی اللہ عنہ ) نے تم سے مذاق کیا ہے اور تم نے نہ تو صلح کی خبر لائی کہ اطمینان ہو جائے اور نہ ہی جنگ کی خبر لائی کہ جنگ کی تیاری کی جائے۔‘‘
اسلامی لشکر کی تیاری اور حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا خط
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دیا کہ راز داری سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو نے کی تیاری کریں۔ اور آس پاس کے دوست قبائل میں بھی راز داری سے خبر بھیج دی کہ مکہ مکرمہ کے سفر کی تیاری کریں۔ اس طرح دھیرے دھیرے قبائل مدینہ منورہ آنے لگے۔ان میں بنو اسلم ، بنو غفار، بنو مزینہ، اور بنو جہینہ قابل ذکر ہیں۔ اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! قریش کے مخبروں اور جاسوسوں کو روک دے تا کہ ہم انکے علاقے میں اچانک جا پہنچیں ۔ ادھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی اور راز داری سے مکہ مکرمہ کے سفر کی تیاری فرما رہے تھے اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ( قریشی) رضی اللہ عنہ نے قریش کے تین سرداروں سہیل بن عمرو، صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابو جہل کے نام ایک خط لکھا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ خط ایک عورت کو دیا کہ وہ اسے قریش تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خط کی خبر دے دی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو فرمایا۔ تم لوگ تیزی سے سفر کر کے مقام ’’فاخ ‘‘پر جائو۔ وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے۔ اس سے وہ خط لے کر میرے پاس لائو۔ تینوںحضرات رضی اللہ عنہم تیزی سے روانہ ہوئے اور اس عورت کو جا کر پکڑلیا او ر اس سے خط مانگا تو اس نے کہا : ’’ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات برحق ہے۔ اگر تم وہ خط ہمارے حوالے نہیں کروگی تو ہم تمہاری تلاشی لیں گے۔‘‘ یہ سن کر اس عورت نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے وہ خط نکال کر دیا۔ اسے لے کر یہ تینوں حضرات رضی اللہ عنہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے اور خط پیش کر دیا۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو معاف کر دیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں تینوں حضرات رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے اور خط پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور خط دکھا کر فرمایا: ’’ اے حاطب رضی اللہ عنہ ! تم نے یہ کیا کیا؟ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے معاملے میں جلدی نہ کریں۔ در اصل میرے گھر والے مکہ مکرمہ میں ہیں اور ان کا کوئی مدد گار قبیلہ نہیں ہے۔ جب کہ دوسرے مہاجرین کے مدد گار قبائل ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے گھر والے محفوظ ہیں۔ اس لئے میں نے چاہا کہ قریش پر احسان کر دوں۔ جس کے صلہ میں وہ میرے گھر والوں کی حفاظت کریں۔ اللہ کی قسم !میں نے مرتد ہو کر یا کفر پر راضی ہو کر یہ کام نہیں کیا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ’’ یہ سچ کہہ رہا ہے۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اجازت دیں کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بے شک حاطب رضی اللہ عنہ غزوئہ بدر میں شریک ہوا ہے اور اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ !اللہ تعالیٰ نے’’ اہل بدر ‘‘کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان سے مواخذہ نہیں ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ غزوہ بدر میں جو صحابہ رضی اللہ عنہم شریک ہو ئے وہ منافق نہیں ہو سکتے) اور آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔‘‘
مکہ مکرمہ کی طرف روانگی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے راز داری سے تیاری کا حکم دے دیا تھا۔ آخر کار تمام تیاریاں مکمل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا اعلان کیا۔ مدینہ منورہ میںحضرت ابودہم کلثوم بن حصین بن عتبہ غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ لگ بھگ تمام سیرت کی کتابوں میںیہی نام مذکور ہے۔ صرف طبقات ابن سعد میں حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کا نام مذکو ر ہے۔ مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد لگ بھگ دس ہزار تھی۔ اس کے بعد جیسے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھتے گئے مختلف قبائل آکر ملتے گئے اور تعداد بارہ ہزارہو گئی۔ تمام مہاجرین اور تمام انصار صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور کوئی بھی پیچھے نہیں رہا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان میںمدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اس پر تمام علمائے کرام متفق ہیں۔ لیکن تاریخ کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں ماہِ رمضان کی تین تاریخ ہے۔ دس تاریخ بھی ہے۔ سولہ تاریخ بھی ہے اور اٹھارہ تاریخ بھی ہے۔ لیکن اکثر علمائے کرام نے دس رمضان المبارک بیان فرمائی ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روانگی کے وقت روزہ رکھے ہوئے تھے۔ جب’’ کدید ‘‘کے چشمہ پر پہنچے تووہاں افطار فرمایا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتا کر روزہ افطار فرمایا اور پھرمہینے کے آخر تک روزہ نہیں رکھا۔ ( کیوں کہ سفر میں تھے) کدید کا چشمہ مقام عسفان اورمقام قدید کے درمیان واقع ہے۔ ان میں مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد سات سو 700تھی۔ ان کے ساتھ تین سو 300گھوڑے تھے۔ انصار کی تعداد چار ہزار 4000تھی۔ ان کے ساتھ پانچ سو 500گھوڑے تھے۔ بنو مزنیہ کی تعداد ایک ہزار تھی۔ ان کے ساتھ سو گھوڑے تھے۔ ایک روایت کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد تھی۔
حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام ’’جحفہ ‘‘پر پہنچے تو حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ اپنے گھر والوں کے ساتھ آکر ملے۔ آپ رضی اللہ عنہ ، ہجرت کر کے مدینہ منورہ آرہے تھے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ بدر کے بعد حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور حج کے دوران سقایا( حاجیوں کو پانی پلانے) کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں ہی مقیم رہے اور وقتا فوقتاً قریش کی سرگرمیوں کی خبر بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے رہتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’چچا جان آپ مکہ مکرمہ میں رکیں اللہ تعالیٰ آپ پر ہجرت کو ختم فرمائے گا۔ جس طرح مجھ پر نبوت کو ختم فرمایا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچارضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ گھر والوں کو مدینہ منورہ روانہ کر دیجئے اور آپ رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ چلیں۔
حضرت ابو سفیان بن حارث اور ان کے بیٹے اور حضرت عبداللہ بن امیہ کی ملاقات
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب سقیا اور عرج کے درمیان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے جعفر بن ابو سفیان اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی عاتکہ بن عبدا لمطلب کے بیٹے حضرت عبداللہ بن امیہ رضی اللہ عنہ ملے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ مقام ابو اء پر آکر ملے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت ابو سفیان بن حارث وہ ابو سفیان نہیں ہیں جن کا ذکر ہم ابھی تک پڑھتے ہیں۔ ابو سفیان بن حرب کا ذکر آگے آئے گا انشاء اللہ۔ حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے چچا حارث بن عبدا لمطلب کے بیٹے ہیں۔ چاہِ زمزم جب حضرت عبدالمطلب کھود رہے تھے تو صرف حارث ہی ساتھ میں تھے کیونکہ کہ اس وقت حضرت عبدالمطلب کے دوسرے بیٹے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اسی حارث کے بیٹے حضرت ابو سفیان ہیں۔ انہوں نے سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں پرورش پائی تھی اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ دودھ شریک بھائی بھی ہیں۔ جب اِن تینوں حضرات نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما دیا ۔
آج تم پر کوئی الزام اور ملامت نہیں اور اللہ تمہیں معاف فرمائے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سفیان بن حارث اور حضرت عبداللہ بن ابی امیہ سے ملاقات نہیں کی۔ اعلان ِ نبوت سے پہلے ابو سفیان بن حارث آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرتے تھے۔ لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو وہ دشمن بن گئے اور دشمنی کرنے لگے اور عبداللہ بن امیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر تم سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائو اور چار فرشتے تمہارے ساتھ آکر تمہاری گواہی دیں تب بھی میں اسلام قبول نہیں کروں گا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ دونوں حضرات اپنے دوسرے بھائی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : ’’اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں معاف نہیں فرمائیں گے تو ہم جنگلوں میں اپنے گھر والوں کو لے کر چلے جائیں گے اور اپنی جان دے دیں گے۔‘‘ حضر علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی بات کہو جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہی تھی۔‘‘ ادھر ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس سفر میں ساتھ تھیں۔ انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ’’ ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا بیٹا ہے اور دوسر اپھوپھی کا بیٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو’’ رحمت اللعالمین‘‘ بنایا ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بھائیوں کے لئے بھی ’’رحمت ‘‘ ثابت ہوں گے۔ صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو ملاقات کی اجازت دی تو دونوں نے عرض کیا: ’’اللہ کی قسم ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم پر فضیلت دی ہے اور بے شک ہم قصور وار ہیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آج کے دن تم پر کوئی الزام اور ملامت نہیںہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ وہ سب رحم کرنے والوں میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اور دونوں بھائیوں کو گلے سے لگا لیا۔ دونوں حضرات نے اسلام قبول کیا۔
آپ میرے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی جگہ ہیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بھائیوں کو معاف فرما دیا اور گلے سے لگا لیا۔ دونوں حضرات نے سچے دل سے توبہ کر لی اور اسلام قبول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام سے بے پناہ محبت بھر دی اور دونوں حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا ادب کرتے تھے کہ ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نظریں نیچی کئے رہتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’میری تمنا ہے کہ آپ میرے چچا حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کے جانشین ثابت ہوں کیوں کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو ان کی جگہ دیتا ہوں ‘‘اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’ اے میرے چچا زاد بھائی! ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ !تمہاری مثال ایسی ہے جیسی عربی میں کہاوت ہے کہ بڑی حاجت پوری ہو جانے کے بعد آدمی چھوٹی حاجتوں کی پرواہ نہیں کرتا اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اسے نبھایااور غزوہ حنین میں سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی سوار ی کی رسی تھامے رہے اور ساتھ نہیں چھوڑا اس کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا۔
مرا الظہرا ن میں پڑاؤ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید میں اسلامی لشکر کے لئے جھنڈے باندھے اور آگے بڑھے اور مسلسل سفر کرتے ہوئے عشاء کے وقت ’’مرا لظہران ‘‘پہنچے اور وہیں پڑائو ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ قریش کوہمارے آنے کی اطلاع نہ ہوسکے۔ وہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور مرا لظہران پہنچنے تک قریش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔حالانکہ مکہ مکرمہ کے قریش مسلسل اسی کوشش میں تھے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا ہے تو اس کا کیا رد عمل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ اس کی ہمیں خبر مل جائے اور اس کے لئے قریش کے مختلف سردار مکہ مکرمہ کے آس پاس مسلسل گشت کرتے رہتے تھے۔ جس شام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مرا لظہران میں پڑائو ڈالا اس رات کو ابو سفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقا مکہ مکرمہ کے اطراف میں گشت کیلئے نکلے تو انہیں کافی دور آسمان میں مدینہ منورہ کی سمت آگ کا عکس نظر آیا تو تینوں تیزی سے گھوڑے دوڑاتے ہوئے اس طرف بڑھے ۔ادھر مر الظہران میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کو ہزار ہزار کی تعدا د میں تقسیم کر دیا تھا اور وہ سب آگ جلائے ہوئے تھے۔ جب یہ تینوں وہاں پہنچے اور اتنی بڑی تعدا دمیں آگ جلی ہوئی دیکھی تو وہ گھبرا گئے۔ ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ اللہ کی قسم! جتنے آگے کے لاوے ( مسلمانوں نے کھانا پکانے کے لئے جلائے تھے) آج میں دیکھ رہا ہوں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔‘‘ بدیل بن ورقا نے کہا: ’’ یہ بنو خزاعہ کے آگ کے لاوے ہوں گے۔‘‘ ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ بنو خزاعہ اتنی تعداد میں نہیں ہیں کہ اتنے زیادہ چولہے جلا سکیں۔‘‘
سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں ابو سفیان بن حرب
سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مر الظہران میں پڑاؤ ڈال دیا تھا۔ حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرا لظہران میں قیام فرمایا تو میں سوچنے لگا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچانک مکہ مکرمہ پر حملہ کریں گے تو ہو سکتا ہے بہت سے قریش مارے جائیں تو کیوں نہ میں ایسا کروں کہ کسی بھی طریقے سے قریش کو اطلاع کر دوں اور کہہ دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حملہ کرنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی جان کی امان مانگ لو۔ اس طرح قریش مارے نہیں جائیں گے۔ یہ سوچ کر میں ایک سفید خچر پر سوار ہو کر اسلامی لشکر سے باہر آیا اور اندھیرے میں کچھ دور آگیا تو ابو سفیان بن حرب اور بدیل بن ورقا کی باتیں کرنے کی آواز سنائی دی۔ بدیل نے کہا: ’’ یہ ضرور بنو خزاعہ کا لشکر ہے۔ ‘‘ اس کے جواب میں ابو سفیان بن حرب کی آواز سنائی دی: ’’ بنو خزاعہ کے پاس اتنا بڑا لشکر کہاں ہے جو اتنی روشنی ان کے لشکر کی ہوتی۔ ‘‘ میں نے پکار کر کہا: ’’ اے ابو سفیان ! یہ بنو خزاعہ کا لشکر نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑائو ڈالے ہوئے ہیں۔‘‘ ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’یہ ابوالفضل ( حضرت عباس بن عبدالمطلب کی کنیت ہے) کی آواز لگتی ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’ ہاں میں ہی ہوں۔‘‘ وہ تینوں سامنے آگئے۔ ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ اس مصیبت سے بچنے کا کوئی راستہ ہے؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’ اگر مسلمانوں نے تمہیں دیکھ لیا تو قتل کر دیں گے۔تم ایسا کرو میرے پیچھے خچر پر سوار ہو جائو۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلتا ہوں۔ وہ تمہیں میری پناہ میں دے دیں گے اور تم دونوں واپس جا کر قریش سے کہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی جان کی امان طلب کریں تو امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں معاف فرما دیں گے۔‘‘ اس کے بعد وہ دونوں واپس چلے گئے اور ابو سفیان میرے ساتھ سوار ہو گیا۔ میں اسے لے کر اسلامی لشکر میں آیا جس خیمے کے پاس سے گزرتا تھا تو وہ لوگ پوچھتے کون ہے؟ اور مجھے دیکھ کر کہتے : ’’ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں‘‘ اور آگے جانے دیتے تھے۔ جب میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خیمے کے پاس سے گزرا تو وہ کھڑ ے ہو گئے اور میرے پیچھے ابو سفیان کو بیٹھا دیکھ کر فرمایا : ’’ یہ تو اللہ کا دشمن ابو سفیان ہے۔‘‘ میں نے فوراً کہا: ’’ میں نے اسے پناہ دی ہے۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں تو اسے ضرور قتل کروں گا۔‘‘ یہ دیکھ کر میں نے خچر تیزی سے دوڑایا اور تیزی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ پیچھے پیچھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھاگتے آرہے تھے۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ابو سفیان بن حرب میری پناہ میں ہے۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اجازت دیں کہ میں اس اللہ کے دشمن ابو سفیان بن حرب کی گردن اڑا دوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سمجھایا اور مجھ سے فرمایا: ’’ آج رات تم اسے اپنی پناہ میں رکھو اور کل صبح لے کر آنا۔‘‘
ابو سفیان بن حرب کا قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان بن حرب کو حضرت عباس بن عبدالمطلب کی پناہ میں دے دیا تھا۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ میں نے ابو سفیانبن حرب کو رات بھر اپنے ساتھ رکھا اور صبح اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھتے ہی فرمایا: ’’ اے ابو سفیان ! کیا ابھی بھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانو۔‘‘ ابو سفیان نے کہا: ’’ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے زیادہ صبر کرنے والے، در گزر کرنے والے ، کرم کرنے والے اور رشتہ جوڑنے والے ہیں۔ بے شک مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معبود ہوتا تو وہ ضرور مجھے کچھ فائدہ پہنچاتا کیوں کہ میں اس کی پوجا کرتا تھا۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ افسوس ہے تم پر اے ابوسفیان! کیا تمہارے واسطے ابھی وقت نہیں آیا ہے کہ تم میری رسالت کو تسلیم کر و اور اقرار کرو۔‘‘ اس نے کہا: ’’ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر حکمت والے، کرم کرنے والے اور رشتہ کا خیال کرنے والے ہیں۔ اللہ کی قسم ! اس وقت میرے دل میں کچھ ہے ۔‘‘میں نے کہا: ’’ اے ابو سفیان بن حرب اسلام قبول کر لے۔ اس سے پہلے کہ تمہاری گردن اڑا دی جائے۔ ‘‘ ابو سفیان نے کہا : ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ اور اسلام قبول کر لیا۔
تمہارے بھتیجے کی سلطنت زبردست ہو گئی ہے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ابو سفیان بن حرب نے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اس کے بعد میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابو سفیان فخر کو پسند کرتا ہے ۔ اس کے لئے کوئی ایسا حکم دیں جس پر فخر کرے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوا اسے امان ہے۔ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امان ہے اور جو مسجد حرام میں ہو گا اسے بھی امان ہے۔‘‘ اس کے آگے حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب ابو سفیان جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ چچاجان !اس کور استے کے ایک ٹیلہ پر کھڑ اکر کے اسلامی لشکر کے گزرنے کی سیر کرائو۔ ‘‘یہ سن کر میں ابو سفیان بن حرب کو لے کر ایک ٹیلے پر کھڑ اہو گیااور قبیلوں کی فوجیں ایک ایک کر گزرنے لگیں۔ جب کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا : ’’یہ کون سا قبیلہ ہے؟‘‘ میں اسے بتاتا : ’’ یہ فلاں قبیلہ اور اس کی فوج ہے۔ یہ فلاں قبیلہ اور یہ فلاں قبیلہ کی فوج ہے۔‘‘ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’سبز لشکر ‘‘کے ساتھ گزرے اور اس لشکر کو سبز اس لئے کہا گیا کہ تمام لوگ لوہے میں غرق تھے۔ یعنی زرہ بکتر اور خود ( لوہے کی ٹوپی) اور ہتھیاروں سے اس قدر مسلح اور مکمل تھے کہ صرف ان کی آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ ابو سفیان نے پوچھا’’ یہ کون لوگ ہیں؟ ‘‘ میں نے اسے بتایا : ’’ یہ مہاجرین اور انصار کا لشکر ہے اور ان کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کے اطراف حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت خالد بن ولید اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم ہیں۔‘‘ ابو سفیان بن حرب نے یہ سن کر کہا: ’’ سبحان اللہ !اے عباس بن عبدالمطلب !بھلا ان لوگوں سے مقابلہ کرنے کی کس میں طاقت اور تاب ہے؟ اللہ کی قسم !اے ابوالفضل !تمہارے بھتیجے کی سلطنت اب بڑی زبردست ہو گئی ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’ یہ سلطنت نہیں ہے بلکہ یہ نبوت ہے ۔‘‘ ابو سفیان نے کہا : ’’ ہاں بے شک یہ نبوت ہے۔ ‘‘
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں