اتوار، 2 جولائی، 2023

27 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


27 سیرت سید الانبیاء ﷺ

جنگ موتہ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


جنگ موتہ کا سبب، رومیوں کا لاکھوں کا لشکر، حضرت خالد بن ولید کی نئی جنگی چال، اللہ کی تلوار نے نو تلواریں توڑیں، جنگ موتہ کے عالمی اثرات، سوپر پاور سلطنت روم کی ہزیمت


سریہ یا غزوہ ٔ موتہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ 7 ؁ہجری میں عمرہ قضا ادا کیا اور تین دن مکہ مکرمہ میں رہ کر واپس مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ اس کے بعد ذی الحجہ 7 ؁ہجری کا مہینہ او رجمادی الاخر 8 ؁ہجری تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی اور خطوط لے کر اپنے قاصدوں کو مختلف بادشاہوں کے پاس بھیجا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کچھ سرایا پر بھی بھیجا۔ جس میں وہ کامیابی حاصل کر کے آئے۔ جمادی الاخر 8 ؁ہجر ی میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں موتہ کی طرف سریہ بھیجا۔ اس دوران میں حضرت خالد بن ولید ، حضرت عثمان بن طلحہ اور حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہم اسلام قبول کر چکے تھے۔ اس جنگ کو سریہ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس جنگ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت نہیں کی اور صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی گئے تھے۔ اس جنگ کو غزوہ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں بیٹھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ کا آنکھوں دیکھا حال سنا رہے تھے۔ گو یا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آنکھوں سے جنگ کو دیکھ رہے ہوں۔

سریہ یا غزوہ ٔ موتہ کا سبب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنا قاصد بنا کر اپنے خطوط دے کر بادشاہوں کے پا س بھیجاتھا اور ان میں سے ایک قاصد کا قتل اِس جنگ کا سبب بنا ۔’’موتہ ‘‘کامقام آج کے’’ اُردن ‘‘میں ’’بلقاء ‘‘ کے قریب واقع ہے۔یہ مقام ’’بیت المقدس ‘‘ سے دو دن کی مسافت ( اس زمانے کے سفر کے حساب سے) پر واقع ہے۔ اس وقت یہ جگہ ( موتہ) ’’دمشق ‘‘کے قریب بلقا شہر کی عملداری میں آتا تھا۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت اُردن اور فلسطین ایک الگ ملک کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ ملک شام کا ہی ایک حصہ تھے اور ملک شام کے علاقے کہلاتے تھے۔ بعد میں یہودیوں اور عیسائیوں نے انہیں شام سے الگ کر کے علحیدہ ملک کی حیثیت دے دی) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن عمری ازدی رضی اللہ عنہ کو اپنا قاصد بنا کر بصری کے حاکم کے پاس بھیجا۔ راستے میں آپ رضی اللہ عنہ نے ’’ موتہ ‘‘ کے مقام پر قیام کیا۔ وہاں کے گورنر( سلطنت روم کا حاکم قیصر ہر علاقے میں اپنے گورنر مقرر کر دیتا تھا) شرجیل بن عمرو غسانی کوجب معلوم ہو اکہ حضرت حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد یا سفیر ہیں تو اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ قاصد یا سفیر کا قتل ہر زمانے میں ایک بہت بڑا بد ترین جرم مانا جاتا ہے۔ ایک طرح سے یہ’’ اعلان جنگ ‘‘ہوتا ہے۔ اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حضرت حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ پر حملہ کی تیاری شروع کر دی۔ ‘‘

اسلامی لشکرکی موتہ روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سریہ موتہ کے لئے اعلان کر وا دیا۔ لگ بھگ تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر تیار ہوا۔ اب تک کا یہ سب سے بڑا لشکر تھاجو مدینہ منورہ سے باہر روانہ ہو رہا تھا۔ اس لشکر میں حضر ت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی ایک عام سپاہی کی حیثیت سے شامل تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سپہ سالار بنایا اور فرمایا: ’’ اگر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا لینا اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا نا اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو تم لوگ ( یعنی لشکر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) اپنے میں سے کسی ایک شخص پر راضی ہو جانا اور اسے اپنا سپہ سالار بنا لینا۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے لئے سفید جھنڈا بنایا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا اور وصیت کی کہ موتہ کے مقام پر جہاں حضرت حارثہ بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے ہیں وہاں جا کر ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا اگر وہ اسلام کی دعوت قبول کر لیں تو ٹھیک ہے ( اور ان سے مت لڑنا) لیکن اگر وہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو صبر سے ان کا مقابلہ کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے ساتھ چل کر ثنیتہ الوداع کی پہاڑیوں تک آئے اور وہاں سے اسلامی لشکر کو رخصت کیا۔

رومیوں کا دو لاکھ کا لشکر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تین ہزار صحابہ کرام کا لشکر موتہ کی طر ف روانہ فرمایا۔ موتہ اس وقت ملک شام میں آتا تھا اور ملک شام پر ’’سلطنت روم ‘‘ کی حکومت تھی۔ اس وقت پوری دنیا میں ( امریکہ اس وقت دریافت نہیں ہوا تھا) دو سوپر پاور تھیں۔ ایک ’’سلطنت روم ‘‘ اور دوسری ’’سلطنت فارس ‘‘تھی۔ سلطنت فارس ایران اور آس پاس کے علاقوں پر تھی اور سلطنت روم شام ، مصر ، ترکی، اسپین اور پورے یورپ میں تھی۔ شرجیل بن عمرو غسانی بھی برابر معلومات لیتا رہتا تھا۔ اس نے قیصر روم سے مدد طلب کی تو اس نے ایک لاکھ کا لشکر اس کی مدد کے لئے بھیج دیا۔ اسلامی لشکر شام کے ایک مقام معان میں پہنچا تو وہیں پڑائو ڈال دیا اور شرجیل بن عمرو غسانی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے جاسوس روانہ کئے۔ وہ واپس آئے تو خبر دی کہ رومیوں کا دو لاکھ سے زیادہ کا لشکر بلقا کے مقام پر خیمہ زن یعنی پڑائو ڈالے ہوئے ہے۔حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ وہاں دو راتیں گزاری اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیاتو اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ رائے ہوئی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام حالات کی اطلاع بھیجیں اور پھر جیسا حکم آئے اس پر عمل کریں۔ ‘‘

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا جوش

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرنے کے بارے میں مشورہ ہو رہا تھا کہ اچانک حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ’’ اے لوگو!, اللہ کی قسم !اب آپ لوگ اُس مقصد سے دامن بچا رہے ہو جس کے لئے اپنے وطن سے نکلے ہو اور وہ ہے اللہ کے لئے شہید ہونا۔ آپ لوگ شہادت کی تلاش میں نکلے ہو۔ اپنے دشمنوں کے خلاف ہم نہ تو تعداد کے بل پر لڑتے ہیں اور نہ ہی قوت او رکثرت کے بل پر جنگ کر تے ہیں۔ ہم صرف اس دین اسلام کے بل پر لڑتے ہیں اور اس کی اشاعت کے لئے لڑتے ہیں۔ جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بزرگی سے سرفراز فرمایا ہے اور شہادت ہماری آرزو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہمارا انتطار کر رہی ہے۔ یا تو ہم شہید ہو کر جنت میں جائیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ ہمیںفتح سے سرفراز فرمائے گا۔ پس’’ بسم اللہ‘‘ کر کے آگے قدم بڑھائو اور دو میں سے ایک کامیابی ضرور تمہیں حاصل ہوگی۔ ‘‘تمام لشکر نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر کہا: ’’ اے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ! بے شک تم سچ کہہ رہے ہو۔‘‘ اس کے بعد اسلامی لشکر آگے روانہ ہوا اور رومیوں کے لشکر کے سامنے پڑائو ڈال دیا اور موتہ کے مقام پر دونوں لشکر وں نے صف بندی کر لی۔ ‘‘

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سلطنت روم سے مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا۔ موتہ کے گورنر شرجیل بن عمرو غسانی نے ایک لاکھ کا لشکر پہلے سے ہی جمع کر لیا تھااور قیصر روم ہر قل کو بھی مدد کے لئے فوج بھیجنے کی درخواست کی تو ہرقل خود ایک لاکھ کی فوج لے کر آگیا۔ اس طرح رومیوں کا لشکر دو لاکھ ہو گیا ۔ اس کے علاوہ قبائل لخم، جذام، بہراء، قین اور بلی کے لوگ بھی رومیوں کے لشکر سے آکر مل گئے۔ ان کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اس طرح ڈھائی لاکھ کا لشکر ہو گیا۔ موتہ کے مقام پر دونوں لشکر آمنے سامنے صف آرا ہوئے۔ ایک طرف صرف تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور دوسری طرف ڈھائی لاکھ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے میمنہ پر حضرت قطبہ بن وذرہ رضی اللہ عنہ کو کمانڈر بنایا۔ ( میمنہ یعنی لشکر کا دایاں حصہ) اورمیسرہ ( لشکر کا بایاں حصہ ) پر حضرت عبا بر بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کو کمانڈر بنایا اور لشکر کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں رکھا۔ جنگ شروع ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جوش و خروش سے حملہ کیااور مسلسل حملے کرتے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو لگاتار تیر لگ رہے تھے۔ پھر بھی مقابلہ کرتے جا رہے تھے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو شہادت کے مرتبہ پر فائز فرمایا۔

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت

اسلامی لشکر اور رومیوں کے لشکر میں گھمسان کی جنگ ہو رہی تھی ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھا لیااور رومیوں پر زبردست حملہ کیا اور رومیوں کو مسلسل قتل کر رہے تھے۔ رومی بھی آپ رضی اللہ عنہ پر مسلسل وار کر رہے تھے اور ساتھ ہی آپ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر بھی وار کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا گھوڑا زخموں کی وجہ سے لڑکھڑانے لگا توآپ رضی اللہ عنہ گھوڑے سے اتر پڑے اور اسے ذبح کر دیا۔ ( یہ ایک طرح سے گھوڑے کو تکلیف سے نجات بھی تھا اور یہ اشارہ بھی تھا کہ اب فتح یا شہادت کے لئے لڑوں گا) اور پیدل ہی رومیوں پر حملہ کر دیا۔ رومی بھی مسلسل وار کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں بازو کو کاٹ دیا جس میں جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بائیں ہاتھ میں جھنڈا سنبھال لیا۔ لیکن رومیوں نے بایاں بازو بھی کاٹ دیا۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو 90سے زیادہ زخم لگے تھے اور سب کے سب سینے پر آگے تھے۔

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بہادر ، دلیر اور شیر دل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہو چکے تھے اور گھمسان کی جنگ چل رہی تھی۔ اب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھا لیا اور آگے بڑھنے لگے کہ ان کے چچا زاد بھائی نے ایک گوشت کی بوٹی دی کہ بھائی اسے کھا لو تم کئی دنوں سے فاقے سے ہو۔ انہوں نے گوشت لے کر تھوڑا کھایا پھر پھینک کریا واپس دے کر کہا: ’’ اے ( عبدللہ بن رواحہ کے ) نفس !لوگ جہاد کر رہے ہیں اور تو دنیا میں مشغول ہے۔‘‘ اور جھنڈا لے کر آگے بڑھے اور رومیوں پر اتنی شدت سے حملہ کیا کہ رومیوں کو کاٹتے ہوئے مسلسل آگے تک چلے گئے اور رومیوں میں گھر گئے۔ اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ مسلسل حملہ کر کے دشمنوں کو قتل کر تے رہے۔ آخر کار اللہ کے لئے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔

حضر ت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے سپہ سالار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو روانہ کرتے وقت فرمایا تھا کہ اگر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو جائیں تو تمام مسلمان مل کر اپنے میں سے کسی ایک کو سپہ سالار بنا لیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جھنڈا نیچے گر گیا تو حضرت ثابت بن اقرم انصاری رضی اللہ عنہ نے تیزی سے آگے بڑھ کر جھنڈا اٹھا لیا اور بلند آواز سے پکارا: ’’ مسلمانو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ تینوں سپہ سالار شہید ہو چکے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق جلد سے جلد اپنا سپہ سالار مقر ر کر لو۔‘‘ مسلمانوں نے کہا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ ہی ہمارے سپہ سالار ہیں۔‘‘ حضرت ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں اپنے آپ کو اس لائقنہیں سمجھتا اور میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار ( اپنی جگہ) مقرر کرتا ہوں۔‘‘ اور جھنڈا ان کو دینے لگے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ آپ رضی اﷲ عنہ سپہ سالاری کے لائق ہیں اور میرے مقابلے میں آپ رضی اللہ عنہ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں۔ ‘‘حضرت ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہ نے زبردستی انہیں جھنڈا تھماتے ہوئے فرمایا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ جنگ کے اصول اور فن میں مجھ سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔ اس لئے سپہ سالاری کے آپ رضی اللہ عنہ ہی لائق ہیں۔‘‘ تمام مسلمانوں نے بھی اصرار کیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا دیا۔

جھنڈا’’ اللہ کی تلوار ‘‘نے سنبھال لیا۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق موتہ میں مسلمانوں نے اپنے میں سے ایک شخص ( حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ) کو سپہ سالار بنا لیا۔ ادھر موتہ میں گھمسان کی جنگ چل رہی تھی اور ادھر مدینہ منورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے سب پردے ہٹا دیے اور میدان جنگ کو سامنے کر دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ کا آنکھوں دیکھا حال بیان فرما رہے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آنے سے پہلے ہی ہمیں ان کے شہید ہو نے کے متعلق بتا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جھنڈا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سنبھالا ہوا ہے لیکن وہ شہید ہو گئے۔ اب جھنڈا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سنبھالا تو وہ بھی شہید ہو گئے۔ پھر جھنڈا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔‘‘ یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے : ’’یہاں تک کہ’’ اللہ کی تلواروں ‘‘میں سے ’’ایک تلوار ‘‘نے جھنڈا سنبھال لیا ہے اور اس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ نے فتح مرحمت فرما دی۔ ‘‘

’’سیف اللہ‘‘ کا لقب

سید الابنیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ موتہ کا حال بیان فرما رہے تھے ۔ صحیح بخاری کی حدیث مختصر ہے۔ سیرت کی کتابوں میں دوسری روایت میں تفصیل بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف اسلامی لشکر روانہ فرمایا۔ لشکر کو گئے ایک عرصہ ہو گیا اس کے بعد ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اذان کا حکم دیا۔ جب سب صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ’’لوگو! خیر کا دروازہ ! خیر کا دروازہ !خیر کا دروازہ کھل گیا ہے۔ میں تمہیں تمہارے لشکر کے متعلق بتاتا ہوں۔ ان نمازیوں کے متعلق ۔ وہ لوگ یہاں سے رخصت ہو کر چلے یہاں تک کہ دشمن سے ان کا ٹکرائو ہوا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بہادری سے لڑے اور شہید ہو گئے۔ ان کے لئے مغفرت کی دعا مانگو۔ پھر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لے لیا اور دشمن پر زبردست حملہ کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ ان کے لئے بھی مغفرت کی دعا کرو۔ اب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھالیا ہے اور نہایت ثابت قدمی سے لڑے۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ ان کے لئے بھی مغفرت کی دعا کرو۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھا لیاہے۔ وہ لشکر کے امیر نہیں تھے بلکہ خود اپنی ذات کے امیر تھے۔ مگر وہ’’ اللہ کی تلواروں ‘‘میں سے’’ ایک تلوار‘‘ ( سیف اللہ) ہیں۔‘‘ ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر جھنڈا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اٹھا لیا ہے۔ جو اللہ کے بہترین بندے ہیں۔ اپنے خاندانی بھائی ہیں اور’’ اللہ کی تلواروں ‘‘میں سے’’ ایک تلوار ‘‘( سیف اللہ ) ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں اور منافقوں پر سونت( تان) دیا ہے۔ انہوں نے امیر بنے بغیر جھنڈا سنبھالا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دشمن پر فتح عطا فرمائی۔‘‘ ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا؛ ’’ اے اللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تُو ا س کی مدد فرما۔‘‘ اسی دن سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا لقب ’’سیف اللہ ‘‘پڑ گیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انہیں’’ سیف اللہ‘‘ کہنے لگے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا زبردست حملہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں جنگ موتہ کا حال بیان فرما رہے تھے اور موتہ میں گھمسان کی جنگ چل رہی تھی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سپہ سالار بنتے ہی سب پہلا کام یہ کیا کہ اسلامی لشکر کے لگ بھگ تین سو سواروں کو حکم دے دیا کہ وہ اسلامی لشکر کے پیچھے اپنے گھوڑے ادھر ادھر تیزی سے دوڑایں اور باقی تمام اسلامی لشکر کوحکم دیا کہ جیسے ہی میں آگے بڑھوں اسی وقت تم سب بھی میرے ساتھ آگے بڑھ کر بہت تیزی سے حملہ کردینا۔ کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کونسی حکمت عملی ہے؟ بہر حال اسلامی لشکر کے پیچھے تین سو سواروں نے جب تیزی سے گھوڑے دوڑائے تو گردوغبار کا بادل اٹھا جس نے اسلامی لشکر کو ڈھانپ لیا۔ ادھر رومی لشکر کے لوگ حیرانی سے اسلامی لشکر کے پیچھے گرد و غبار کا بادل دیکھ رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ پیچھے سے اسلامی لشکر کی مدد کرنے کیلئے ایک بہت بڑا لشکر آگیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا اسلامی لشکر گردغبار کے بادل میں چھپ گیا۔ ایسے وقت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے زوردار نعرئہ تکبیر بلند کیا اور اپنے گھوڑے کو تیزی سے ایڑھ لگائی ۔ گھوڑا تیزی سے رومیوں کے لشکر کی طرف بڑھا اور ساتھ میں اسلامی لشکر بھی زور دار آواز میں نعرئہ تکبیر بلند کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ رومی لشکر کے سپاہی حیرانی سے گردو غبار کے بادل کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک گردوغبار کا بادل پھٹا اور اس میں سے اسلامی لشکر نے نکل کر شدید تیزی سے حملہ کردیا۔ اس اچانک حملے سے رومیوں میں بہت زیادہ گھبراہٹ پھیل گئی اور وہ سمجھے کے ایک بہت بڑے اسلامی لشکر نے حملہ کردیا ہے اور ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اسی افراتفری کا فائدہ اٹھا کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ مسلسل حملہ کرتے اور رومیوں کو قتل کرتے ہوئے آگے بڑھے اور رومیوں کی گھبراہٹ کا فائدہ اٹھا کر بے شمار رومیوں کو قتل کردیا۔ اس سے پہلے کہ رومی سنبھلتے وہ اسلامی لشکر کو لیکر واپس گردغبارکے بادل میں جا چکے تھے۔ اسی دوران وہ تین سو سوار مسلسل گھوڑے دوڑا رہے تھے اور گرد غبار اڑا رہے تھے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پہلے حملے میں رومیوں کے لشکر کے ایک حصہ پر حملہ کیا تھا۔ اسکے بعد گرد غبار میں چلتے ہوئے اسلامی لشکر کے ساتھ رومیوں کے لشکر کے دوسرے حصے کے سامنے اچانک گردوغبار سے نمودار ہوئے اور شدید حملہ کردیا۔ اس سے پہلے کہ اس حصہ کے رومی سنبھلتے آپ رضی اللہ عنہ نے بے شمار رومیوں کو قتل کر کے واپس گرد و غبار میں اسلامی لشکر کے ساتھ چلے گئے۔ اسطرح شام تک رومی لشکر پر مسلسل حملہ کرتے رہے۔ جب شام ہوئی دونوں لشکر اپنے اپنے پڑائو میں واپس چلے گئے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تین ہزار جانبازوں رضی اللہ عنہم کو رومیوں سے مقابلہ کے لئے موتہ بھیجا۔ سامنے دولاکھ سے زیادہ کا لشکر تھا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بہت چالاکی سے نفسیاتی جنگ لڑی۔ پورا دن نکل گیا اور رومی لشکر ان کی چالاکی کو نہیں سمجھ سکا اور دفاعی پوزیشن پر آگیا۔ دوسرے دن صبح جنگ شروع ہونے سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلامی لشکر کو صف آرا کیاتو ایک اورنفسیاتی چال چلی اور لشکر کے دائیں حصے کو بائیں جانب اور بائیں حصے کو دائیں جانب متعین کردیا اور پورے لشکر کی ترتیب بدل دی۔ جب رومیوں سے سامنا ہوا تو انھیںہر طرف نئے چہرے نظر آئے ۔ جسکی وجہ سے انھیں یقین ہوگیا کہ مسلمانوں کی مدد کیلئے کمک پہونچ گئی ہے۔ یعنی اور دوسرا نیا لشکر بھی آگیا ہے۔ اس سے ان پر اتنا رعب اور خوف طاری ہوا کہ وہ پھر کہ وہ آخر تک حملے کی پوزیشن میں نہیں آسکے اور صرف اپنی دفاع کرنے کی فکر میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ انھیں شکست ہوئی۔ امام محمد بن سعد لکھتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا تو انھوں نے دشمن پر ایک زبردست حملہ کیا۔ جسکے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے دشمن کو بد ترین شکست دی۔ (اور جنگ کا پانسہ اسطرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاتھ میں آگیا کہ) مسلمان جسکو اور جسطرح چاہتے تھے اپنی تلواروں سے قتل کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔

نو تلواریں ٹوٹیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ’’سیف اللہ ‘‘ یعنی ’’اللہ کی تلوار ‘‘کے لقب سے نوازااور اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو اس لقب کے لائق ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی بھی عطا فرمائی۔ جنگ موتہ آپ رضی اللہ عنہ کی اسلام کی طرف سے کافروں کے خلاف پہلی جنگ تھی اور اس جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ مسلسل حملے کرتے رہے اور رومیوں کو قتل کرتے رہے۔ گردن کاٹتے کاٹتے تلوار کی دھار ٹوٹ جاتی تھی تو دشمنوں سے ہی ان کی تلوار چھین کر اس سے کاٹنا شروع کر دیتے تھے۔ اس طرح یہ جنگ لگ بھگ سات دنوں تک چلی اور اس دوران آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں نو ( 9) تلواریں ٹوٹی تھیں۔ صحیح بخاری میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں اور میرے ہاتھ میں ایک بڑی سی یمنی تلوار ہی صحیح و سالم رہ سکی تھی۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ صرف ایک بڑی سی یمنی تلوار ہی میرے ہاتھ میں باقی رہ سکی تھی۔

موتہ میں فتح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار جانبازوںرضی اللہ عنہم نے رومیوں کے لشکر جرار کا زبردست مقابلہ کیا او ر دو لاکھ سے زیادہ رومیوں کا لشکر مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکا تھا۔ اس جنگ میں صرف 12مسلمان شہید ہوئے تھے اور بے شمار لا تعداد رومی قتل ہوئے تھے۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ جنگ میں کسی کو فتح ہوئی اور نہ ہی کسی کو شکست ہوئی۔ اس بارے میں علامہ علی بن برہان الدین حلبی لکھتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کو کامیابی ملی۔ اس کو فتح اور کامیابی کہنا ایک واضح بات ہے۔ کیوں کہ دشمنوں کی تعداد اتنی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو تقریباً گھیر لیا تھا۔ رومیوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی۔ جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف تین ہزار تھے۔ ( اسی لئے ظاہر ہے ایسے مقابلہ میں دشمن کو روک دینا اور اس کی پیش قدمی بندکر دینا اور اسے دفاع کرنے پر مجبور کردینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے) قاعدے کے مطابق اور عادت کے لحاظ سے تو ایک بھی مسلمان بچنا نہیں چاہیے تھا جب کہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( اور ان کے لشکر ) نے بے شمار رومیوں کو قتل کیا تھا اور زبردست مقدارمیں مالِ غنیمت حاصل کیا۔

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو’’ طیار‘‘ کا لقب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس خود جنگ موتہ سے واپس آنے والے لشکر کے استقبال کیلئے مدینہ منورہ سے باہر آئے اور واپس آنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملاقات فرمائی۔ مدینہ منورہ میں داخلے کے وقت بچوں نے گیت گا کر انہیں خوش آمدید کہا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار لوگوںکے ساتھ تشریف لا رہے تھے۔ بچوں کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ان بچوں کو اٹھا کر سواریوں پر بٹھا لو اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو مجھے دے دو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آگے سواری پر بٹھا لیا۔ خود حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ خوش ہو جائو! تمہارے والد فرشتوں کے ساتھ اڑتے پھرتے ہیں۔‘‘ ایک روایت میں یوں ہے کہ’’ جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام کے ساتھ اڑتے پھررہے ہیں۔ ان کے دو پنکھ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے دونوں بازوئوں کے بدلے میں عطا فرمائے ہیں۔‘‘ عربی میں اڑنے کو اور پرندوں کو’’ طیر‘‘ کہا جاتا ہے اور اڑنے والی چیز کو’’ طیارہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان روایات کی وجہ سے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ’’جعفر طیار ‘‘کہا جانے لگاکہ وہ فرشتوں کے ساتھ جنت میں اڑتے پھرتے ہیں۔

جنگ موتہ کے عالمی اثرات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت’’ اعلانِ نبوت ‘‘فرمایا ۔ اس وقت پوری دنیا میں دو سوپر پاور تھیں۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت تک امریکہ دریافت نہیں ہوا تھا) ایک تو سلطنت روم یا تھی جو یورپ سے لیکر شام اور مصر تک تھی اور دوسری سوپر پاور سلطنت فارس تھی جو حالیہ ایران ، عراق اور اسکے آس پاس کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم سے ٹکرانے کیلئے اپنے تین ہزار جانبازوں کو بھیجا تو مقابلہ لگ بھگ سوکے مقابلے میں ایک 100=1کا تھا ۔ کیونکہ تین ہزار کے مقابلے میں لگ بھگ ڈھائی لاکھ سے زیادہ رومی تھے اور یہ تمام دنیا کی تاریخ کا حیرت ناک واقعہ ہے کہ تین ہزار کے معمولی لشکر نے ڈٹ کر سات دنوں تک ڈھائی لاکھ کے رومی لشکر کا زبردست مقابلہ کیا اور اسکے صرف 12جانباز شہید ہوئے اور یہ سلطنت روم کے لئے انتہائی شرم ناک بات ہے کہ بیشمار سپاہیوں کو قتل کروانے اور اتنی تعداد ہونے کے باوجود وہ لوگ تمام مسلمانوں کو شہید نہیں کر سکے۔ بلکہ رومی لشکر صرف اپنی دفاع کرتا رہ گیا اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس جنگ نے مسلمانوں کی شہرت اور ساکھ میں بہت زبر دست اضافہ کیا۔ اسکی وجہ سے تمام عرب نے اپنے دانتوں میں انگلیاں دبالیں اور حیرت اور رعب کا شکار ہوگئے۔ کیونکہ رومی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھے اور عرب سمجھتے تھے کہ رومیوں سے ٹکرانا خود کشی کرنے کے برابر ہے۔ اسکے بعد تمام عرب قبائل کو یقین ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اللہ کی مد د ہر وقت مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے عرب قبائل نے اس جنگ کے بعد اسلام قبول کر لیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں