25 سیرت سید الانبیاء ﷺ
فتح خیبر ۔ قسط 2
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قلعہ صعب کی فتح، قلعہ قُلّہ ( زبیر) کی فتح، یہودیوں کی وعدہ خلافی، فتح خیبر کے ساتھ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی آمد کی خوشی، سید الانبیاء ﷺ کو زہر دیا گیا، یہودیوں کا جھوٹ اور سینہ زوری،
قلعہ صعب کا محاصرہ اور یہودی مخبر
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ ناعم اور قلعہ قموص کی فتح کے بعد قلعہ صعب بن معاذ کا محاصرہ کرلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر میں سے دستے متعین کر دیئے تھے۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ رات میں ان میں سے ایک دستہ گشت کرتا رہتا تھا اور اسلامی لشکر اور یہودیوں کی نگرانی کرتا رہتا تھا۔ محاصرے کی چھٹی رات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دستے کو گشت پر متعین فرمایا۔ گشت کے دوران آدھی رات کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی کو پکڑا اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ اس یہودی نے فوراً کہا: ’’ مجھے اپنے نبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس لے چلو۔ میں ان سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ ‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس یہودی کو لے کر حاضر ہوئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نمازادا فرمارہے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آواز سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر کر نماز مکمل کی اور انہیں( خیمے) کے اندر بلایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے قلعہ کے اندر کے حالات دریافت فرمائے تو اس نے جان کی امان چاہی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمادی۔ اس نے بتا یا : ’’ یہودی نطات سے اپنے بیوی بچوں کو شق میں منتقل کر رہے ہیں۔‘‘ ( قلعہ ناعم اور قلعہ صعب اور ایک اور قلعہ قُلہ ۔ ان تینوں کو ملا کر نطات کہا جاتا ہے۔ اور قلعہ قُلّہ کو قلعہ زبیر کہا گیا اور قلعہ ابی یا قلعہ نزاء کو شق کہا جاتا تھا۔
قلعہ صعب کی فتح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد قلعہ صعب کے بارے میں یہودی سے دریافت فرمایا تو اس یہودی نے کہا: ’’ نطات کے قلعوں میں سے ایک قلعہ جس کانام صعب ہے اس میں تہہ خانہ ہے۔ اس کے اندر منجنیق ( اس سے پہلے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں منجنیق کے بارے میں تفصیل سے بتا چکے ہیں۔ یہاں مختصراً بتادیں منجنیق وہ آلہ ہے جس میں بہت بڑے بڑے پتھر رکھ کر قلعوں کی دیوار پر پھینکے جاتے ہیں جس سے دیوار ٹوٹ جاتی ہے) گوپسے ، زرہوں ار تلواروں کا ذخیرہ ہے اور اس کا پتہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بتا دیتا ہوںاور ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ منجنیق اپنے فتح شدہ قلعے پر نصب کریں اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لشکر کے لوگ دبا بوں ( دبابہ ایک ایسا جنگی ہتھیار ہے جس کے اندر لوگ داخل ہو جاتے تھے اور گھسیٹ کر قلعے کی دیوار سے ملا کر دیوار کو توڑتے ہیں اور قلعے کے اوپر سے دشمن کا کوئی بھی ہتھیار ان دبابوں پر اثر نہیں کرتا تھا۔ آسان زبان میں سمجھ لیں آج کل کاٹینک پرانے زمانے کے دبابہ کی جدید شکل ہے۔ ) کے سائے میں بیٹھ کر قلعہ کی دیوار کو توڑ دیں۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) قلعہ فتح کر لیں گے۔ اس کے بعد یہودی نے اپنے بیوی بچوں کی جان کی امان چاہی جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمادی اور اسلام کی دعوت دی تو یہودی نے چند دنوں کی مہلت مانگی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے مشورے پر عمل کیا اور قلعہ صعب فتح ہو گیا۔ اس قلعہ میں غلّہ (اناج) اور چربی اور کھانے پینے کے دوسرے بہت سے سامان ہاتھ لگے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے کھانے پینے کا مسئلہ حل ہو گیا۔ کیوں کہ ا ن دنوں کھانے کی بہت کمی ہو گئی تھی۔
قلعہ قُلّہ ( زبیر) کی فتح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ صعب فتح کیا تو یہودیوں نے بھاگ کر قلعہ قُلّہ میں جا کر پناہ لی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کے ساتھ آگے بڑھ کر قلعہ قُلّہ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ قطعہ بہت ہی مضبوط تھا ور پہاڑ کی چوٹی پر واقع تھا۔ اسی وجہ سے اس کا نام قلعہ قُلّہ تھا۔ بعد میں یہ’’ قلعہ زبیر‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ کیوں کہ مالِ غنیمت کی تقسیم میںیہ قلعہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ ابھی محاصرہ کو تین دن گذرے تھے کہ ایک یہودی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ اے ابوالقاسم !(صلی اللہ علیہ وسلم !یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے) اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مہینہ بھر بھی قلعے کا محاصرہ کئے رہیں گے تب بھی یہودیوں کو کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔ کیونکہ ان کے پاس زمین کے نیچے پانی کے چشمے ہیں اور وہ رات کو نکلتے ہیں اور پانی لے کر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر ان کا پانی بند کر دیں تو قلعہ فتح ہو سکتا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کے مشورے پر عمل کیا۔ مجبور ہو کر یہودیوں کو قلعہ کے باہر آنا پڑا۔ بہت ہی سخت جنگ اور مقابلہ ہوا۔ دس یہودی مارے گئے اور کچھ مسلمان شہید ہو ئے اور قلعہ فتح ہو گیا۔ اس کے بعد قلعہ ابی کی طرف سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بڑھے اور شدید مقابلے کے بعد یہ بھی فتح ہو گیا۔ اس طرح نطات اور شق کے تمام قلعے فتح ہو گئے۔ اب صرف کُتیبہ کے قلعے وطیح او ر سلالم رہ گئے تھے۔
قلعہ وطیح اور سلالم کی فتح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نطاۃ اور شق کے علاقوں کے تمام قلعوں کو فتح کر کے کتیبہ کے علاقے میں پہنچے۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ خیبر کی آبادی قلعوں اور حویلیوں پر مشتمل تھی۔ اور دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ پہلا حصہ نطات اورشق کے نام سے مشہور تھا۔ اس میں پانچ بڑے قلعے تھے اور باقی چھوٹی حویلیاں اور گڑھیاں تھیں۔ دوسرا حصہ کتیبہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس میں قلعہ قموص اور قلعہ وطیح اور قلعہ سلالم تھے۔ قلعہ قموص تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی فتح کر چکے تھے۔ اس لئے اب صرف وطیح اور سلالم رہ گئے تھے۔ اس لئے تمام یہودی سمٹ کر ان دونوں قلعوں میں آگئے۔ اور ان میں پہلے ہی انہوں نے عورتوں اور بچوں کو پہنچا دیا تھا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔ چودہ دنوں تک محاصرہ چلا اس کے بعد یہودیوںنے صلح کی درخواست کی۔ جسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور کر لی۔یہودیوںنے ابن ابی حقیق کو صلح کی گفتگو کرنے کے لئے بھیجا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر تمام یہودیوں کی جان بخش دی کہ تمام یہودی خیبر کوخالی کر دیں۔ یعنی جلا وطن ہو جائیں اور سونا اور چاندی اور جنگ کے تمام سامان چھوڑ جائیں اور کسی چیز کو چھپا کر نہ لے جائیں۔ اگر اس معاہدہ کے خلاف ہو اتو اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس صلح سے بری ٔ الزماں ہوں گے۔
یہودیوں کی وعدہ خلافی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے جنگ کی اور انہوں نے بھی شدید جنگ کی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قلعے فتح کر لئے۔ غزوہ خیبر میں پندرہ 15صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے اور ترانوے یہودی قتل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایک کر کے تمام قلعوں پر مسلمانوں کو فتح عطا فرما دی۔ ان قلعوں کے نام یہ ہیں۔ نطات ، صعب، ناعم ، قُلّہ یا زبیر ، شق ، ابی ، برئی، قموص ، وطیح اور سلالم ۔ اس کے بعدیہودیوں نے صلح کر لی۔ لیکن یہ بہت ہی بد بخت شاطر ، سازشی اور وعدہ خلاف قوم ہے۔ صلح کے معاہدے میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ تمام سامان زیور وغیرہ چھوڑ کر جائیں۔ لیکن بد بخت یہودیوں نے حی بن اخطب کا چمڑے کا تھیلہ غائب کر دیا۔ اس میں زیور اور اشرفیاں بھری ہوئی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کنانہ بن ربع بن حقیق کو بلا کر اس تھیلے کے بارے میںدریافت تو اس نے کہا : ’’ جنگ میں خرچ ہو گیا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’( اس تھیلے میں مال بھرے) ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے اور وہ مال بہت زیادہ ہے۔ ‘‘یہ امام محمد بن سعد کی روایت ہے۔ سنن ابو دائود کی روایت میں ہے کہ سعیدسے تھیلے کے بارے میں دریافت فرمایا۔ امام بہہقی اور امام محمد بن سعد کی دوسری روایت میں ہے کہ کنانہ بن ربیع او ر اس کے بھائی سے دریافت فرمایا اور سب نے یہی کہا کہ وہ تھیلہ خرچ ہو گیا ہے۔ ( در اصل یہودیوں نے صلح کرنے کے بعد وہ تھیلہ ایک جگہ گڑھا کھود کر دفن کر دیا تھا اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس وقت تو خالی ہاتھ چلے جائیں گے۔ لیکن بعد میں رات کے اندھیرے میں آکر خاموشی سے تھیلہ نکال کر لے جائیں گے) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر وہ تھیلہ بر آمد ہو گیا تو تمہارا قتل واجب ہو جائے گا۔‘‘ لیکن ان بدبختوں نے اقرار نہیں کیا اور کہا وہ تھیلہ نہیں ہے اور خرچ ہو گیا ہے۔ سید لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ جائو فلاں جگہ ایک درخت کی جڑ میں وہ تھیلہ دبایا گیا ہے۔‘‘ وہ صحابی رضی اللہ عنہ گئے اور درخت کی جڑ میں کھود کرتھیلہ نکال لائے ۔اس تھیلے میں جو سونا چاندی وغیرہ تھے اس کی قیمت دس ہزار دینا ر تھی۔ اس جرم میں ان جھوٹے لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ ان میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا شوہر گنانہ بن ربیع بھی تھا۔
فتح فدک
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے خیبر کے یہودیوں نے صلح کر لی۔ اس کی اطلاع فدک کے یہودیوں کو ہوئی تو انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ ہمیں بھی جان کی امان دی جائے۔ اور ہم تمام مال و اسباب چھوڑ کر جلا وطن ہو جائیں گے۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا۔ بدبخت یہودیوں کی اسلام دشمنی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے جلا وطن ہونا یعنی بے گھر اور بے در ہونا قبول کیا۔ لیکن اسلام قبول کرکے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر عزت سے جینا قبول نہیں کیا۔ صحیصتہ بن مسعد کے ذریعے فدک والوں نے گفتگو کی اورفدک خالی کر کے چلے گئے۔ چوں کہ فدک بغیر کسی حملے یا بغیر مقابلے کے فتح ہو ا۔ اس لئے اسے مال غنیمت کے طور پر تقسیم نہیں کیا گیا۔ بلکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے تصرف میں رکھا۔ اور ضرور ت کے مطابق مسلمانوں پر خرچ فرماتے تھے۔
مخابرہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے تمام خیبر فتح کر لیا اور تمام علاقے پر قبضہ ہو گیا تو یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس زمین پر رہنے دیں اور ہم زراعت کریں گے۔ ( یعنی کھجور وں کے باغات کی دیکھ ریکھ کریں گے) اور جو پیداوار ہو گی اس کا آدھا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اد اکریں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی درخواست منظور کر لی۔ اور خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی صاف کر دی کہ جب تک ہم چاہیں گے تم کو خیبر میں رہنے دیں گے اور جب چاہیں گے نکال دیں گے۔ اس طرح کا معاملہ سب سے پہلے خیبر میں ہوا اس لئے اس کا نام’’ مخابرہ ‘‘ہو گیا۔ جب فصل تیار ہو جاتی تھی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضر ت عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بھیجتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تمام پیداور کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے تھے اور یہودیوں سے کہتے تھے: ’’ اس میں سے جو حصہ تم چاہو لے لو۔ ‘‘ یہودر اس عدل و انصاف کو دیکھ کر کہتے تھے۔ ایسے ہی عدل اور انصاف کی وجہ سے زمین اور آسمان قائم ہیں۔ ( لیکن وہ بد بخت اسلام قبول نہیں کرتے تھے) ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اُن سے فرماتے : ’’ اے گروہِ یہود! تم مخلوق میں تمام لوگوں سے زیادہ میرے نزدیک مبغوض ہو۔ تم نے ہی اللہ تعالیٰ کے انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل کیا ہے۔ تم نے ہی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے ۔ لیکن تم لوگوں سے اتنا بغض بھی مجھ کو کبھی اس پر آمادہ نہیں کر سکتا کہ میں تم پر ظلم کروں۔ ‘‘امام عبد الملک بن ہشام کے مطابق فدک والوں نے بھی مخابرہ کیا تھا۔
حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ہی تھے کہ حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ حبشہ کے مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں رضی اللہ عنہم کے ساتھ خیبر پہنچ گئے۔ اس سے پہلے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت کے باب میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس خط لے کر بھیجا تھا ۔ اس خط میں نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کو اسلام کی دعوت دی تھی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو حبشہ میں ٹھکانہ دینے پر حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کا شکریہ ادا کیا تھا اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ کرام کو مدینہ منورہ بھیج دینے کی درخواست کی تھی۔ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے مبارک ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا اور کشتیوں میں بٹھا کر مدینہ منورہ روانہ کر دیا تھا۔ خواتین اور بچوں کو حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں چھوڑا اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں اور مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خود خیبر میں آکر سید الانبیاء سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے۔
فتح خیبر کے ساتھ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی آمد کی خوشی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر حبشہ کے تمام مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اشعری صحابہ رضی اللہ عنہم کا اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو بوسہ دے کر فرمایا: ’’ اللہ کی قسم !میں نہیں جانتا کہ مجھے کس بات کی زیادہ خوشی ہے۔ خیبر کی فتح کی یا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے آنے کی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ یمن میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کی اطلاع ملی تو ہم لوگ یعنی میں اور میرے دو بھائی اور ہماری قوم کے پچا س آدمی اپنے وطن سے ہجرت کر کے کشتی پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ لیکن ( راستے میں سمندری طوفان کی وجہ سے ) ہماری کشتی ملک حبشہ کے ساحل پر جا لگی۔ وہاں ہماری ملاقات حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے مہاجر ساتھیوں سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور یہیں ٹھہرے رہنے کا حکم دیا ہے۔ اس لئے آپ لوگ بھی یہیں ہمارے ساتھ رک جائیں تو ہم ان کے پاس ہی رک گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس وقت پہنچے جب خیبر فتح ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت میں ہمارا بھی حصہ لگایا۔
سید الانبیاء ﷺ کو زہر دیا گیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں پر اتنا کرم فرمایا کہ ان کی درخواست پر انھیں خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی اور انھیں جلا وطن نہیں کیالیکن بنی اسرائیل یعنی یہودی قوم بہت ہی بدبخت سازشی اور دھوکے باز ، وعدہ خلاف ، پیچھے سے وار کرنے والی اور بزدل قوم ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دھوکے بازوں پر اعتبار کرکے انھیں سدھرنے کا ایک اور موقع دیالیکن یہودی قوم بدبختی میں اتنی بڑھ چکی ہے کہ پہلے کہ بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو اس بد بخت قوم نے’’ نا حق قتل‘‘ کیا ہی تھا۔ اب نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بد بختوں پر احسان کیا تو انہوں نے زہر دے کر’’ ا’س آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شہید کر نے کی بد بختی کی جن کا ذکروہ ہزاروںسال سے اپنے اپنی کتابوں میں پڑھتے آرہے تھے اور اپنی بد نصیبی پر آخری مہر لگا لی۔ خیبر کے یہودیوں نے تمام اسلامی لشکر کی دعوت کی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بکر ی کا گوشت بھیجا اور اس میں بہت ہی خطرناک اور تیز زہر ملا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ انہوں نے ایک بوٹی کھالی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوٹی اٹھائی اور منہ میں ڈال کر چبانے لگے۔ لیکن فوراً اس بوٹی کو منہ سے نکال دیا اور حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ کو کھانے سے روک دیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ یہاں کے تمام یہودیوں کو جمع کر کے میرے پاس لائو۔‘‘
یہودیوں کا جھوٹ اور سینہ زوری
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر تمام یہودی حاضر ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں تم سے ایک بات پوچھوں گا۔ کیا تم اس کا سچ سچ جواب دو گے؟ ‘‘یہودیوں نے کہا: ’’ ہاں ! اے ابو القاسم! ( یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کُنیت ہے) ہم سچ کہیں گے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمہارا باپ ( جدِّ اعلیٰ) کون ہے؟ ‘‘ یہودیوں نے جواب دیا: ’’ فلاں ہمارا باپ ( جد اعلیٰ) ہے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم لوگوںنے جھوٹ کہا۔ تمہارا باپ ( جدِّ اعلیٰ) تو فلاں ہے۔‘‘ بد بخت یہودیوں نے کہا: ’’ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے سچ فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی کرنے والے ہیں۔‘‘ اس کے بعد سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر میں ایک بات کے بارے میں تم سے پوچھوں تو سچ سچ بتائو گے؟ ‘‘یہودیوں نے کہا : ’’ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم )اے ابو القاسم!(صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو جھوٹ معلوم ہو جائے گا۔ جیسا کہ ہمارے جدِّ اعلیٰ ( باپ ) کے بارے میں معلوم ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جہنم یعنی دوزخ والے کون لوگ ہیں؟ ‘‘ یہودیوں نے کہا: ’’ ہم تھوڑی مدت دوزخ میں رہیں گے۔ پھرآپ لوگ ہماری جگہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم ( یہود) اس میں (دوزخ میں ) ذلت کے ساتھ رہو۔ اللہ کی قسم ! ہم تمہاری جگہ کبھی نہیں جائیں گے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’ اگر میں تم سے ایک بات پوچھو ں تو سچ سچ بتائو گے؟ ‘‘ یہودیوں نے کہا: ’’جی ہاں ۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے یہ کام کیوں کیا؟‘‘ یہودیوں نے جواب دیا: ’’ ہم چاہتے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے نجات پا جائیں گے اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سچے نبی ہیں تو یہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو نقصان نہیں کرے گا۔‘‘
زہر دینے والی یہودیہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ’’ خیبر میں ایک یہودیہ ( زینب بنت حارث یہ سلام بن مشکم کی بیوی تھی) نے بھنی ہوئی بکری میں زہرملایا۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانے کے لئے تحفے کے طور پر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے لے کر کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے بھی کھایا۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اپنے ہاتھ اٹھا لو۔‘‘ ( یعنی کھانا مت کھائو)اور یہودیہ کی طرف پیغام بھیجا کہ تم نے اسمیں زہر ملایاہے؟ اس یہودیہ نے پوچھا: ’’ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو کس نے بتایا؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجھے بکری کے اس شانے ( کے گوشت ) نے بتایا جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔‘‘ اس یہودیہ نے کہا : ’’ ہاں ( میں نے زہر ملایا ہے) میں نے سوچا اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی ہیں تو یہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہرگز نقصان نہیں کرے گا اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نبی نہیں ہیں تو ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے چھٹکارہ مل جائے گا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا اور کوئی سز نہیں دی۔ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھایا تھا وہ سب انتقال کر گئے۔ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زہر کے سبب اپنے شانوں کے درمیان پپھنے لگوائے۔‘‘
یہودیہ کے ساتھ سازش میں تمام یہودی ( بنی اسرائیل) شریک تھے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دینے کی سازش میں یہودیہ کے ساتھ تمام بنی اسرائیل ( یعنی یہودی) شریک تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث پوچھنے لگی: ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بکری کا کون سا حصہ پسند ہے؟ ‘‘لوگوں نے کہا: ’’ اس کیدستی۔‘‘ ( یعنی بازو یا شانہ کا گوشت) اس نے ایک بکری کو ذبح کر کے بھونا ۔ پھر اس نے ایسے زہر کے بارے میں تحقیق کی جو جلدی اثر کرتا ہے اور فوراً ہلاک کر دیتا ہے۔ اس نے زہر کے بارے میں تمام بنی اسرائیل ( یہودیوں ) سے مشورہ کیا تو سب نے ایک خاص زہر پر اتفاق کیاکہ یہ زہر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے۔ اس یہودیہ نے بکری کے گوشت میں زہر ملا دیا اور شانے اور دونوں دستیوں میں زیادہ زہر ملادیا۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ (غالباً تمام لشکر کی یہودیوں نے دعوت کی تھی اور سب کو کھانا دیا تھا۔ لیکن زہر صرف سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں ملایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ شریک تھے) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا گوشت کھایا تو فرمایا: ’’ اپنے ہاتھ اٹھا لو۔ ‘‘( یعنی کھانا مت کھائو) لیکن اس وقت تک حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ ایک بوٹی نگل چکے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسی دستی نے مجھے بتایا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔‘‘ اس حدیث میں آگے یہ بھی ہے کہ حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ اس زہر کی وجہ سے شہید ہو گئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس یہودیہ عورت کو حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ کے وارثوں کے حوالے کر دیا اور انہوں نے اسے ( قصاص میں ) قتل کر دیا۔ اس یہودیہ کو سزا دی گئی یا نہیں اس بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ اس نے اسلام قبول کر لیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔
ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قلعہ قموص فتح کیا تھا تو قیدیوں میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ یہ یہودیوں کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خیبر پہنچینے سے پہلے ہی آپ رضی اللہ عنہا خیبر کے سردار کنانہ بن ربیع بن حقیق کی بیوی بن چکی تھیں۔ ایک رات آپ رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ آسمان سے چاند اتر کر ان کی خواب گاہ میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ خواب انہوں نے اپنے شوہر کو سنایا تو اس نے ان کے منہ پر اتنی زور سے تھپڑ یا طمانچہ مارا کہ نشان پڑ گیااور کہا : ’’ کیا تم یثرب( مدینہ منورہ) کااشتیاق اور اس کے حکمراں ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آغوش کی تمنا کر رہی ہو؟‘‘ اس کے کچھ دنوں بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا اور اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا شوہر قتل ہوا اور آپ رضی اللہ عنہا قیدی بن کر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کو حضرت وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے کنیز کے طور پر مانگا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عنایت فرما دی ۔
اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدہ صفیہ ( رضی اللہ عنہا) بنو نضیر ، بنو قریظہ کی شہزادی ہیں اور خیبر کی ملکہ ہیں۔ اس لئے مناسب یہ ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی کنیزی میںلے لیں۔ ( سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنو نضیر کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی ہیں اور حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہیں) پھر اس کے بعد دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہی بات عرض کی اور اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی واپسی پر اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: ’’ اگر تم بُرا محسوس نہ کرو تو اپنے لئے دوسری کنیز لے لو اور سیدہ صفیہ ( رضی اللہ عنہ ) کو مجھے واپس کر دو۔‘‘ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے خوشی سے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں دے دیا۔ سید لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ا نہیں اسلام کی دعوت دی تو اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کچھ مہلت مانگی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ ٹھہرادیا۔ انہوں نے ان کو سمجھایا ۔ یہا ں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت عطا فرمائی اور اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا اور ان کی آزادی کو ہی ان کا مہر قرار دیا۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیے دیا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کر دیں اور وہ اپنے رشتہ داروں کے پاس واپس چلی جائیں یا پھر اسلام قبول کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا قبول کر لیں تو اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ نہیں میں اپنے لئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب کرتی ہوں۔‘‘
ولیمہ کی د عوت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ کو اختیار دیا تھا کہ یا تو وہ بدستور یہودیہ رہیں اور یہودیوں کے ساتھ میں رہیں یا پھر اسلام قبول کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا۔ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ خیبر سے واپسی میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتی تھیں۔ جب مقام’’ صہبا‘‘ پر پہنچے اور وہاں قیام فرمایا تو اس وقت اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو چکی تھیں۔ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے انہیں سجا سنوار کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں بھیج دیا اور انہوں نے رات وہیں رات گزاری ۔اس رات میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر مار کا ہرا نشان دیکھا تواس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خواب کے بارے میں اور اپنے سابقہ شوہر کے طمانچے کے بار ے میں بتایا۔ جب صبح ہوئی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ولیمہ کی دعوت دے دو۔‘‘ ( اسی دوران سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس یعنی کھجور اور پنیر کا حلوہ ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا )جب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حاضر ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ایک چمڑے کا دستر خوان ( بچھانے کا حکم دیا اور اس پر حیس رکھا دیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیرہو کر ولیمہ کی دعوت کھائی۔ پھر جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ روانہ ہونے لگے تو اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا پردہ کرایا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری پر سوار کرایا۔ جس کی وجہ سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سمجھ گئے کہ اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ازواجِ مطہرات میں داخل ہو چکی ہیں۔‘‘
خیبر میں حضرت طفیل بن عمرو اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے تمام یہودیوں کے ساتھ احسان اور بہترین سلوک کیا۔ لیکن اس کے جواب میں بد بخت یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دے کر ( نعوذ باللہ ) قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس احسان فراموش قو م کو خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی اور ان کی جان بخش دی۔ اس کے ساتھ ساتھ فدک کے یہودیوں کی جان بخش دی اور انہیں بھی فدک میں رہنے کی اجازت دے دی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ہی تشریف فرما ء تھے کہ حضرت طفیل بن عمر و دوسی رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ دوس کے ستر 70یا 80مسلمانوں کے ساتھ خیبر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ( حضرت طفیل بن عمر ودوسی رضی اللہ عنہ کے حالات تفصیل سے ہم آپ کی خدمت میں پیش کر چکے تھے ۔ یہاں قارئین کو ادھورا پن نہ لگے اس لئے ہم مختصراً ذکر کر دیتے ہیں) ان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے مختصر حالات
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ میں اعلان نبوت کیا تھا تو مشرکین اسلام کی دعوت کو ہر ممکن طریقے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ مکہ مکرمہ میں حج یا عمرہ یا تجارت کے لئے دور کے قبیلے کے لوگ آتے تھے تو مشرکین ان کے پاس جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاتے تھے۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے دوس کے سردار تھے اور شاعر اور بہت ہی عقل مند تھے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ آئے تو قریش کے کافر سرداروں نے انہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سننے سے منع کیا اور اتنا بھڑکایا کہ آپ رضی اللہ عنہ کانوں میں روئی ٹھونس کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جاتے تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا دیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور اپنے قبیلے میں آکر اسلام کی دعوت دینے لگے۔ لیکن صرف ان کے والد اور بیوی نے اسلام قبول کیا اور قبیلے والوں نے انکار کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اوراپنے قبیلے والوں کے لئے بد دعا کرنے کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ دوس کی ہدایت کے لئے دعا کی اور حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ جائو اور صبر سے اپنے قبیلے والوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہو اور جب سنو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غلبہ عطا فرما دیا ہے تو ہمارے پاس حاضر ہوجانا۔ ‘‘
حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی اسلام کی دعوت اُن کی زبانی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے بارے میں حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں: ’’میں نے تمام قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ ان کے اس عمل سے مجھے بہت ہی صدمہ اور تکلیف ہوئی۔ میں مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلیاللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قبیلہ دوس نے اسلام قبول نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے لئے بد دعا فرمائیں۔ ‘‘میری بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا دیئے اور فرمایا: ’’ اے اللہ تعالیٰ! قبیلہ دوس کی ہدایت فرما اور انہیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔‘‘ اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ’’ اپنے قبیلے میں واپس جائو اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئو۔ ‘‘میں اپنے قبیلے میں واپس آگیا اور انہیں اسلام کی دعوت دیتا رہا۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور غزوہ ٔ بدر ، غزوہ ٔ اُحد اور غزوۂ خندق بھی ہو گئے اور میں اپنے قبیلے میں اسلام کی تبلیغ کر تا رہا۔ یہاں تک کہ جب 70یا80گھرانوں نے اسلام قبول کر لیا تو مجھے کچھ اطمینان ہوا۔ میں ان گھرانوں کو لے کر مدینہ منورہ حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں یہودیوں سے جنگ کر رہے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کو مدینہ منورہ میں چھوڑ کر ہم مرد حضرات خیبر میں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مال غنیمت میں سے عطا فرمایا۔‘‘ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام قبول کرکے آنے والوں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
خیبر سے واپسی اور وادی القریٰ میں جنگ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی فتح کے بعد واپسی میں وادی القریٰ میں لشکر کے ساتھ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی یہودیوں کی آبادی تھی۔ اور ان کیساتھ عرب کا ایک قبیلہ بھی شامل ہو گیا تھا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پڑائو ڈالنے لگے تو وہاں کے یہودیوں نے تیروں سے اسلامی لشکر کا استقبال کیا۔ وہ لوگ پہلے سے صف بندی کئے ہوئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام اونٹ کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ ایک تیر اسے آکر لگ گیا اور وہ مر گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ اس کے لئے جنت مبارک ہو۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہرگز نہیں! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ اس غلام نے خیبر کے مال غنیمت میں سے ایک چادر چرائی تھی۔ وہ آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن کر ایک شخص ایک جوتے کا تسمہ یا دو تسمے لے کر حاضر ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ( اگر تم اسے واپس نہ کرتے تو) یہ ایک تسمہ یا دوتسمے آگ کے ہوتے۔‘‘
وادی ٔ القریٰ والوں کو اسلام کی دعوت اور مخابرہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ترتیب اور صف بندی کی ۔پورے اسلامی لشکر کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیا ۔ ایک جھنڈا حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور ایک جھنڈا حضرت عبادہ بن بشر رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی القریٰ کے یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے قبول نہیں کی اور ان کا ایک آدمی میدان جنگ میں مقابلے کے لئے آیا۔ اسلامی لشکر سے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر دوسرا آدمی نکلا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے بھی قتل کر دیا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی میدان میں آیا۔ اس کے مقابلے کے لئے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نکلے اور اسے ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔ اس طرح ایک ایک کر کے ان کے گیارہ آدمی مارے گئے۔ جب ایک آدمی قتل ہوتا تھا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم باقی یہودیوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اس دن جب نماز کا وقت ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھاتے تھے۔ پھر پلٹ کر یہودیوں کے مقابلے پر جاتے اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اس طرح لڑتے لڑتے شام ہو گئی۔ دوسرے دن صبح پھر صف بندی کی گئی۔ لیکن کچھ دیر کے مقابلے کے بعد یہودیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی ٔ القریٰ کے یہودیوںنے بھی خیبر اور فدک کے یہودیوں کی طرح مخابرہ کر لیا اور اپنی پیداوار کا آدھا حصہ دینے کا معاہدہ کر کے اپنی جان بچا لی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے چار دنوں تک وادی القریٰ میں قیام فرمایا اور جو مالِ غنیمت حاصل ہوا۔ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم فرمادیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں