24 سیرت سید الانبیاء ﷺ
فتح خیبر ۔ قسط 1
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
غزوہ ٔ خیبر کا سبب، گدھے کے گوشت کی ممانعت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حملے، کل اس کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ خیبر کی فتح دے گا، تمام صحابۂ کرام کی تمنا، حضرت علی کو اعزاز
غزوہ خیبر
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ 6 ہجری میں قریش سے صلح حدیبیہ کی ۔ قریش سے صلح ہو جانے کے بعد ان کی طرف سے اطمیان ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا دائرہ وسیع کر دیا اور دنیا کے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی۔ اس کا تفصیلی ذکر ہم کر چکے ہیں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی۔ لیکن چونکہ ہم مختصراً سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کر رہے ہیں ۔ اس لئے کچھ ہی بادشاہوں کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ تفصیل کے لئے آپ سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ ذی الحجہ 6 ہججری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے خطوط بھیجے ۔ اس کے بعد غزوہ خیبر پیش آئی۔ غزوہ خیبر کب ہوئی اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ لیکن اکثر علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ غزوہ خیبر محرم الحرام 7 ہجری میں ہوئی۔ خیبر ایک بہت بڑا شہر ہے۔ جہاں اس وقت بہت سے قلعے اور کھجور کے کھیت یا باغ تھے اور یہ مدینہ منورہ سے چھیانوے 96میل کے فاصلے پر ہے ۔خیبر مدینہ منورہ سے آٹھ منزل کی دوری پر ایک شہر ہے۔ایک انگریز سیاح نے لکھا ہے کہ خیبر مدینہ منورہ سے 320تین سو بیس کلو میٹر دور ہے۔ یہ بڑا زرخیز علاقہ تھا اور یہاں عمدہ کھجوریں بکثرت پیدا ہوتی تھیں۔ عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز یہی خیبر تھا۔ یہاں کے یہودی عرب میں سب سے زیادہ مالدار اور جنگجو تھے اور ان کو اپنی مالی اور جنگی طاقتوں پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا۔ یہ اسلام اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے۔ یہاں یہودیوں نے بہت سے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے۔ جن میں سے بعض کے آثار اب تک موجو د ہیں۔ ان میں سے آٹھ قلعے بہت مشہور ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں۔ کُتیبہ ، ناعم، شق ، قموص ، نطاۃ، صعب، وطیخ اور سُلالِم۔ درحقیقت یہ آٹھوں قلعے آٹھ محلے کے برابر تھے۔ اور انہیں آٹھوں قلعوں کا مجموعہ’’ خیبر‘‘ کہلاتا تھا۔
غزوہ ٔ خیبر کا سبب
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر غزوہ خندق یا احزاب میں تمام عرب کے قبائل نے مل کر حملہ کیا تھا۔ اُن میں خیبر کے یہودی بھی شامل تھے۔ بلکہ حقیقت میں اس حملے کے بانی اور سب سے محرک یہی یہودی تھے۔ بنو نضیر کے یہودیوں کو جب جلا وطن کیا گیا تھا تو وہ خیبر چلے گئے تھے۔ ان میں یہودیوں کے سردار حی بن اخطب اور ابو رافع سلام بن حقیق نے مکہ مکرمہ جا کر قریش کے کافروں کو مدینہ منورہ پر حملہ کر نے کے لئے اکسایا اور تمام عرب میں گھوم گھوم کر قبائل کو جوش دلا کر مدینہ منورہ پر حملہ کروایا اور حملہ آوروں کی مال و دولت سے بھی مدد کی تھی اور خیبر کے یہودیوں کے ساتھ یہ دونوں سردار بھی حملہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ حی بن اخطب تو غزوہ بنو قریظہ میں قتل ہو گیا تھا اور ابو رافع سلام بن حقیق کو حضرت عبداللہ بن عتیک انصاری رضی اللہ عنہ نے اس کے محل میں داخل ہو کر قتل کر دیا تھا۔ لیکن ان سب واقعات کے بعد بھی خیبر کے یہودی خاموش نہیں بیٹھے۔ بلکہ اور زیادہ انتقام کی اور حسد کی آگ ان کے سینوں میںبھڑکنے لگی۔ اسی لئے یہ لوگ ( خیبر کے یہودی) مدینہ منورہ پر ایک دوسرا حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگے۔ قریش نے تو صلح کر لی تھی۔ اس لئے اس مرتبہ ان یہودیوں نے بنو غطفان کو تیا رکیا۔ قبیلہ غطفان کی آبادی خیبر سے بالکل لگ کر تھی اور خیبر کے یہودی خود بھی عرب کے سب سے امیر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی جنگجو اور تلوار کے دھنی تھے۔ ان دونوںکے گٹھ جو ڑسے ایک بڑی طاقتور فوج تیار ہو گئی اور ان لوگوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو تہس نہس کر دینے کا پلان بنا لیا۔
خیبر کی طرف اسلامی لشکر کی روانگی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر کے یہودیوں کی سازش کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی طرف اسلامی لشکر کی روانگی کا اعلان فرمایا۔ لیکن منافقوں کو منع فرمادیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہی تھا۔ صلح حدیبیہ سے واپسی پر سفر کے دوران اللہ تعالیٰ نے سورہ الفتح نازل فرمائی تھی اور اس میں فرمایا تھا : (ترجمہ) ’’ جب غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے بیٹھے ہوئے لوگ ( یعنی منافق) کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلئے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بد ل دیں۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرماچکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے۔ وہ اس کا جواب دیں گے کہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ ( نہیں نہیں ) بلکہ تم ( منافق) ہم سے حسد کرتے ہو۔ ( اصل بات یہ ہے کہ ) وہ لوگ ( منافق) بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔‘‘(سورہ الفتح آیت نمبر15 ) اللہ تعالیٰ کے اسی حکم کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کو منع فرمایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سولہ سو صحابہ کر ام رضی اللہ عنہم کا لشکر لے کر خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ انمیں چودہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پید ل تھے اور دو سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھوڑے پر سوار تھے۔ مدینہ منورہ میں سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ یہ امام محمد بن سعد نے ایک روایت کیا ہے اور امام عبدالملک بن ہشام روایت کرتے ہیں کہ حضرت تمیلہ بن عبداللہ لیثی کو مدینہ منورہ میںاپنا نائب مقرر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جھنڈے تیار فرمائے۔ ایک جھنڈا حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور ایک جھنڈے کا عملبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو بنایا اور خاص جھنڈا حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا اور ازواج مطہرات میں سے سید ہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لیا۔
حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کی حدی خوانی اور شہادت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم رات کے وقت سفر کر رہے تھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے ( میرے بھائی) حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ اے عامر رضی اللہ عنہ ! آپ ہمیں کچھ اشعار سنائیں۔‘‘ حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ بہت اچھے شاعر تھے۔ وہ اپنی سواری سے اتر آئے اور بلند آواز سے یہ اشعار ترنم میں پڑھنے لگے اور حدی خوانی کرنے لگے : ’’ تُو اگر ہدایت نہ فرماتا میرے پروردگار !کیسے بن سکتے تھے ہم بندے اطاعت گزار۔ زندگی بھر دین پر قربان ہوتے ہیں ہم، دشمنوں کے بالمقابل دے ہمیں صبر و قرار۔ ہم پہ ناز ل کر سکینہ اے میرے ربِ غفور۔ کافروں کے دین باطل سے رہیں ہم درکنار۔ حملہ آور ہم پہ ہو جاتے ہیں ظالم بار بار۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کی خوش الحان آواز سنی تو فرمایا: ’’ یہ حدی خوانی کرنے والا کون ہے؟ ‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔‘‘ ہم میں سے ایک شخص ( حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا: ’’ ان کے لئے ( اس جنگ میں) شہادت واجب ہو گئی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان سے اور فائدہ اٹھالینے دیتے۔ ‘‘ بہر حال ہم خیبر پہنچ گئے اور ہم نے یہودیوں کا محاصر ہ کر لیا۔ جب مسلمانوں نے صف بندی کی تو حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی۔ جنگ کے دوران انہوں نے ایک یہودی کو تلوار ماری تو اس کی پنڈلی پر لگ کر اچٹ گئی اور وار کے جھٹکے سے ان کو لگ گئی جس سے وہ شہید ہو گئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ ( غزوہ خیبر کے بعد )جب واپس لوٹنے لگے تو مجھے غمگین اوراداس دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔‘‘ بعض لوگوںکا خیال ہے کہ ( اپنے ہی ہتھیار سے مرنے کی وجہ سے) حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے اعمال ضائع ہو گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس نے بھی یہ کہا ہے اس نے غلط کہا ہے۔ حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے لئے تو دوہرا اجر ہے۔‘‘ پھر اپنی دو انگلیوں کو جمع کر کے فرمایا: وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مرد تھا اور عرب میںایسے جواں مرد کم ہیں۔ ‘‘
خیبر میں پڑائو اور گدھے کے گوشت کی ممانعت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم شروعات رات میں اسلامی لشکر کے ساتھ خیبر پہنچے اور پڑائو ڈالنے کا حکم دیا ۔ اسلامی لشکر میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر میں پڑائو ڈالنے کے بعد صبح ہوئی تو وہاں کے یہودی باشندے اپنی کلہاڑیاں ( اور کھیتی باڑی کا سامان ) وغیرہ لے کر نکلے ۔ لیکن جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر کو دیکھا تو ( زور زور سے) کہنے لگے: ’’ محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کی قسم ! یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کا لشکر ہے۔‘‘ ان یہودیوں کی باتیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ اکبر! خیبر برباد ہوا کیوں کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو وہاں کے کافروں کی قسمت پھوٹ جاتی ہے۔‘‘ ( یعنی اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے ہیں تو بربادی ان کا مقدر یا تقدیر یا قسمت بن جاتی ہے) حضرت انس رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ وہاں ہمیں صرف گدھے کا گوشت ہی مل سکا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور لشکر میں اعلان کر وایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے کیوں کہ یہ ناپاک ہے۔ ‘‘
بنو عطفان کی واپسی اور اسلامی لشکر کا خیبر میں داخلہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر سے مقابلہ کے لئے اور خیبر کے یہودیوں کی مدد کے لئے بنو عطفان اپنا لشکر آگے آئے۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل راستہ چھوڑ کر غیر معروف اور دشوار راستہ اختیار فرمایا۔ جس کی وجہ سے بنو غطفان نے اپنے علاقے اور اہل و عیال کے لئے بے چینی محسوس کی اور اپنے علاقے میں واپس چلے گئے اور خیبر کے یہودیوں کو اکیلا چھوڑ دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے لشکر کے ساتھ خیبر کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: ’’ اے اللہ تعالی! اے ساتوں آسمان اور جن پر وہ سایہ فگن ہیں ،کے رب اور اے ساتوں زمینوں اور جن کو وہ اٹھائے ہوئے ہیں ، کے رب اور شیاطین اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے کے رب۔ ہم تجھ سے اس بستی کی بھلائی اس کے باشندوں کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں اور اس بستی کے شر سے اور اس کے باشندوں کے شر سے اور اس میں جو کچھ ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں یا تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: ’’ چلو! اللہ تعالیٰ کے نام سے آگے بڑھو۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس شہر میں بھی جاتے تھے تو یہی دعا پڑھتے تھے۔
خیبر کے قلعوں کی فتح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پہنچے ۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ خیبر کی بستی قلعوں کا مجموعہ تھی اور ان میں آٹھ قلعے مشہور تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ ناعم ، شق، قموص ، نظاۃ ، صعب، وطیخ ،سلالم اور کتیبہ ۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے چل کر مقام عصر میں آئے۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسجد تیار کی گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام صھبا میں آئے۔ پھر ایک میدان ( جس کا نام رحیع ہے) میں رونق افروز ہوئے اور یہاں اترنے کی وجہ یہ ہوئی کہ بنو عطفان والوں نے خیبر کے یہودیوں کی مدد کا ارادہ کیا تھا اور اپنے شہر یا علاقے سے خیبر والوں کی مدد کے لئے چلے تھے۔ مگر پھر انہیں اپنے گھروں کی طرف سے کھٹکا محسوس ہوا تو وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر والوں کے مقابلے پر چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کر کے خیبر کے قلعوں کو فتح کرنا شروع کردیا۔ سب سے پہلے جو قلعہ فتح کیا اس کا نام حصن ( قلعہ) ناعم تھا۔ اسی قلعہ کے پاس ( یا دیوار کے نیچے) حضرت محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ یہودیوںمیں سے کسی نے قلعے کے اوپر سے ان کے سر پر چکی کا پاٹ ( پتھر ) گرا دیا تھا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حملے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قلعہ ناعم کی فتح کے بعد آگے بڑھے اور قلعہ قموص کا محاصرہ کر لیا۔ یہ قلعہ بہت مضبوط تھا۔ جب اس قلعے پر حملہ کیا گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم درد شقیقہ کی وجہ سے میدان میں تشریف نہیں لا سکے اور جھنڈا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عنایت فرما کر اسلامی لشکر کا سپہ سالار بنایا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلامی لشکر کے ساتھ زبردست حملہ کیا۔ یہودیوں نے زبردست مقابلہ کیا۔ پورا دن زبردست جنگ کی نذر ہو گیا۔ شام کو دونوں فریق واپس ہو گئے اورفیصلہ نہیں ہو سکا۔ دوسرے دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جھنڈا عنایت فرمایا اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں اسلامی لشکر آگے بڑھا اور حملہ کیا۔ دوسرے دن بھی یہودیوں نے زبردست مقابلہ کیا اور سار ا دن شدید جنگ ہوتی رہی۔ شام ہوئی تو دونوں فریقین واپس چلے گئے اور دوسرے دن بھی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ( حالانکہ شیخین یعنی حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم نے بہت بہترین کوششیں کی تھیں۔ لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا۔ )
وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخین ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) کو لشکر دے کر بھیجا تھا۔ لیکن فیصلہ کن جنگ نہیں ہو سکی تھی۔ دوسرے دن شام میں اسلامی لشکر اپنے پڑائو میں واپس آیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا: ’’ کل صبح میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں سے قلعہ فتح کرادے گا اور وہ شخس جہاد سے بھاگنے والا نہیں ہے۔ ‘‘حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے روز فرمایا: ’’ کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔
تمام صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم کی تمنا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا یسے شخص کو دوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ( قلعہ قموص) فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑی بشارت ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ لوگوں نے یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رات بڑی بے چینی کے ساتھ گزاری کہ دیکھیں صبح جھنڈا کس کو عطا فرمایا جاتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو لوگ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے۔‘‘ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ اس رات میری شدید تمنا یہ تھی کہ صبح جھنڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاتھ میں عطا فرمائیں۔ ‘‘در اصل تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس رات یہی شدید تمنا تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صبح جھنڈا ان کے ہاتھ میں عطا فرمائیں اور یہ اس وجہ سے نہیں تھی کہ فتح ان کے ہاتھ ہو بلکہ اس بشارت کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بشارت دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ یوں تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سے آگے بڑھ کر عشق کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ لیکن صبح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ خصوصی اعزاز عطا فرمانے والے تھے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شدید تمنا تھی کہ یہ اعزاز انہیں عطا ہو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اعزاز
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ تمنا لے کر صبح حاضر ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا مجھے عطا فرمائیں۔ سب لوگ حاضر ہو گئے لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ صحیح بخاری کی حدیث آگے بڑھاتے ہیں۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ ‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔‘‘ ( جس کی وجہ سے وہ حاضر نہیں ہو سکے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا۔ وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک لعاب دہن ان کی آنکھ میں لگا دیا اور ان کے لئے دعا فرمائی تو ان کی آنکھیں فوراً اچھی ہو گئیں اور ایسا لگا جیسے ان کو کبھی یہ تکلیف نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں عنایت فرما یا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں ان کے ساتھ اس وقت تک لڑوں جب تک مسلمان نہ ہو جائیں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم چپ چاپ ان کے میدان میں جا کر اترو اور پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتائو کہ اللہ کا حق ہونے کے باعث ان پر کیا واجب ہے۔ پس اللہ کی قسم ! اگر ایک آدمی کو بھی اللہ تعالیٰ نے تمہاری وجہ سے ہدایت دے دی تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ ‘‘
مرحب کا قتل
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کی قیادت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہعنہ کو دی اور آپ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر لیکر قلعہ کے صدر دروازے کے سامنے آئے اور جھنڈا گاڑ دیا اور یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے مسترد کر دی اور اپنے سردار مرحب کی قیادت میں جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ مرحب بہت ہی طاقتور اور لڑاکو تھا اور اسے ایک ہزار مردوں کے برابر مانا جاتا تھا۔ سب سے پہلے وہ آگے بڑھا اور بولا : ’’ خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار پوش، بہادر اور تجربہ کار ۔ جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہوں ۔ ‘‘حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم خیبر پہنچے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لے کر گھمنڈ سے اتراتا ہوا سامنے آیا تو اس کے مقابلے کے لئے میرے چچا ( یا بھائی) حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ’’ خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں۔ہتھیار پوش، شہ زور اور جنگجو ، ‘‘ پھر دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا۔ مرحب کی تلوار حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال پر روکی تو وہ ڈھال میں گھس گئی اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے نیچے سے وار کیا تو ان کی تلوار چھوٹی ہونے کی وجہ سے مرحب کی پنڈلیوں پر پڑ کر اُچٹ کر واپس ان کے گھٹنے پر آلگی جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو اکٹھا کر کے فرمایاکہ ان کے لئے دوہر ا اجر ہے۔ وہ بڑے جانباز مجاہد تھے اور ان جیسا کم ہی عرب کی روئے زمین پر ہوا ہوگا۔ اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ’’ میں وہ شخص ہوں کہ میری والدہ نے میرا نام حیدر ( شیر ) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح خوفناک۔ میں انہیں صاع کے بدلے نیزے کی ناپ پوری کروں گا۔‘‘ اور مرحب کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ تلوار سر کو کاٹتی ہوئی داڑھ تک پہنچ گئی اور وہ وہیں ختم ہو گیا۔
مرحب کے قتل کی ایک اور روایت
مرحب کے قتل کے بارے میں کئی روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ اس جنگ میںمرحب یہودی سامان جنگ سے آراستہ ہو کر ہتھیار لگائے اپنے قلعہ سے باہر نکل کر میدان میں آیا اور اپنی تعریف میں اشعار پڑھنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس کے مقابلے پر کون جواں مرد جائے گا؟ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے۔ کل میرا بھائی شہید ہوا تھا۔ آج میں اس کا قصاص لوں گا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ بہتر ہے۔ جائو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ ‘‘ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مرحب کے مقابلے پر آئے۔ میدان میں ایک درخت تھا۔ پہلے تو دونوں نے اس کی آڑ میں ہو کر ایک دوسرے پر وار کیا اور سپاہ گری کے ہنر بتائے اور ان کی تلوار کے واروں سے درخت کی تمام شاخیں کٹ گئیں۔ پھر دونوں آمنے سامنے ہوئے تو یہودی مرحب نے وار کیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ڈھال پر روکا تو تلوار ڈھال کو کاٹ کر اس میں پھنس گئی۔ یہودی نے زور لگایا مگر تلوار نہیں نکل سکی۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ایسا وار کیاکہ مرحب دوزخ میں پہنچ گیا۔ مرحب کے قتل کے بعد اس کا بھائی یا سر میدان میں آیا اور مقابلے کی دعوت دینے لگا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ وہ مقابلے کے لئے آگے بڑھے تو ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیامیرا بیٹا مارا جائے گا؟ ‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ انشا اللہ !تمہارا بیٹا اس ( یہودی) کو مار دے گا۔ ‘‘ اور ایسا ہی ہوا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ نے یاسر یہودوی کوایک ہی وار میں قتل کر دیا۔
قلعہ فتح ہو گیا
ا سکے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کیساتھ آگے بڑھے اور قلعہ کے صدر دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ قلعہ کے اوپر ایک یہودی نے پوچھا: ’’تم کون ہو؟‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) ہوں۔‘‘ یہودی نے کہا : ’’قسم ہے اس کتاب کی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہو ئی ہے۔ بے شک تم غالب ہو گے۔ ‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت علی المرتضیٰ کے ہاتھ پر قلعہ فتح کر دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خیبر کا قلعہ فتح کرنے بھیجا تو میںان کے ساتھ تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے پاس پہنچے اور مقابلہ اور مقاتلہ شروع ہوا تو ایک یہودی کے وار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ڈھال چھوٹ کر دو رجاگری تو آپ رضی اللہ عنہ نے قلعہ کا (صدر) دروازہ اکھاڑ لیا اور ڈھال کا کام لینے لگے اور آگے بڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ جب آپ رضی اللہ عنہ جنگ سے فارغ ہو گئے اور قلعہ فتح ہو گیا تو اس دروازے کو آپ رضی اللہ عنہ نے پھینک دیا۔‘‘ ابو رافع کہتے ہیں: ’’ وہ دروازہ اتنا بھاری تھا کہ ہم آٹھ آدمی نے اسے پلٹنا چاہا مگر پلٹا نہیں سکے۔‘‘
جنت میں صرف مومن جائیں گے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ قموص کی فتح کے لئے بھیجا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے قلعہ فتح ہو گیا۔ اس قلعے سے جو قیدی ہاتھ لگے ان میںاُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے نکاح فرمالیا اور ان کی آزادی ہی ان کا مہر قرار پائی۔ ( اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قلعہ صعب کی طرف متوجہ ہوئے۔ قلعہ قموص بیس دن کے محاصرے اور زبردست مقابلے کے بعد فتح ہوا۔ اب تک ترانوے 93یہودی قتل ہو چکے تھے اور پندرہ مسلمان شہید ہو چکے تھے۔خیبر میںجنگ کے دوران ایک واقعہ پیش آیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ ہم خیبر میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر میں سے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ’’ یہ جہنمیوں یعنی دوزخیوں میں سے ہے۔ ‘‘ جب جنگ شروع ہوئی اور لڑنے کا وقت آیا تو وہ شخص بہت بہادری سے لڑا اور اسے شدید زخم آئے ۔ اس کی بہادری دیکھ کر قریب تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رشک کا شکار ہو جاتے۔ لیکن وہ زخموں کی تکلیف برداشت نہ کر سکا اور اس نے خود کشی کر لی۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اس نے تلوار زمین پر کھڑی کر کے اس کی نوک پر اپنا سینہ رکھ کر اتنی طاقت لگائی کہ تلوار اس کے جسم سے پار ہو کر پشت سے نکل گئی اور اس طرح اپنی جان دے دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی خود کشی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات کو سچ کر دیا اور اس نے خود کشی کر لی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے بلال رضی اللہ عنہ اٹھو اور اعلان کر دو کہ مومن کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جائے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے دین ( اسلام ) کی مدد کسی فاجر سے بھی کروالتا ہے۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک شخص جنتیوں والے عمل کرتا ہے جو لوگوں کے سامنے ظاہر کرتا ہے۔ (یعنی لوگوں کو اس کا عمل دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ شخص جنتی ہے) لیکن وہ جہنمیوں یعنی دو زخیوں میں سے ہوتا ہے اور ایک شخص ظاہر ی طور پر جہنمیوں ( یعنی دوزخیوں ) والے اعمال کرتا ہے۔ لیکن وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔‘‘
حضرت اسودراعی رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام اور شہادت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ ناعم اور قلعہ قموص فتح کر لیا۔ اسی دوران حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ حبشی تھے اور خیبر کے یہودیوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ جب یہودی جنگ کی تیاری کرنے لگے تو انہوں نے پوچھا: ’’ آخر تم لوگ کس سے جنگ کی تیاری کر رہے ہو؟‘‘ یہودیوں نے کہا : ’’ آج ہم اس شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جنگ کریں گے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ ‘‘یہ سن کر حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ کے دل میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر نے کا جذبہ پیدا ہوااور آپ رضی اللہ عنہ بکریاں چرانے نکلے تو بکریاں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ اگر میں اسلام قبول کر لوں تو اللہ تعالیٰ مجھے کیا اجر و ثواب عطا فرمائے گا؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم کو جنت اور اس کی نعمتیں ملیں گی۔‘‘ حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بکریاں میرے پاس امانت ہیں۔ اب میں ان کا کیا کروں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم ان بکریوں کو قلعہ کی طرف ہانک دو اور ان کو کنکریوں سے مارو۔ یہ سب خود بخود اپنے اپنے مالک کے گھر پہنچ جائیں گی۔‘‘ انہوں نے بکریوں کو قلعہ کی طرف ہانک دیا اور وہ سب اپنے مالک کے گھر پہنچ گئیں۔
حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ کی شہادت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ ا سکے بعد یہ خوش نصیب حبشی حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ ہتھیار سے لیس ہو کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صف میں کھڑے ہو گئے اور جب جنگ ہوئی تو انتہائی جوش و خروش سے حملہ کرتے رہے اور مسلسل لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت کے مرتبے سے سرفراز فرمایا۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے شہید ہونے کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس شخص نے عمل بہت کم کیا ہے۔ اور اجرو ثواب بہت زیادہ پایا ہے۔ ‘‘پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی لاش کو اپنے خیمے میں لانے کا حکم دیا اور ان کی لاش کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ بشارت سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کالے چہرے کو حسین بنا دیا اور جسم کو خوشبو دار بنا دیا اور دو حوریں اس کوجنت میں ملیں اور اس شخص نے ایمان لانے اورجہاد کے سوا کوئی دوسرا عمل نہیں کیا۔ نہ ایک وقت کی نماز پڑھی نہ ہی ایک بھی روزہ رکھا نہ ہی حج کیا اور نہ ہی اسے زکوٰۃ دینے کا موقع ملا۔ مگر صرف ایمان لانے اور جہاد کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اتنا بلند مرتبہ عطا فرما دیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں