پیر، 3 جولائی، 2023

23 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


سیرت سید الانبیاء ﷺ 23

بادشاہوں کو اسلام کی دعوت ۔ قسط 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


دشمن کی گواہی، انبیاء ایسے ہی ہوتے ہیں، حکومت کے لالچ میں ہرقل نے اسلام قبول نہیں کیا، مصر کے باشاہ مقوقش کو اسلام کی دعوت، کسریٰ سلطنت ِ فارس کے بادشاہ کے نام خط، کسریٰ کا مبارک خط کے ٹکڑے کرنا اور بھیانک انجام


سید الانبیاء ﷺ کے بارے میں ابو سفیان کی گواہی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قیصر روم روقل دریافت کرنے لگا۔ ابو سفیان آگے کہتے ہیں : ’’ ہرقل نے مجھ سے سب سے پہلا سوال کیا کہ وہ (یعنی نبوت کا اعلان کرنے والا) تم لوگوں میں نسب کے لحاظ سے کیسا ہے؟ ‘‘میں نے کہا وہ ہم میں اونچے نسب والا ہے۔ ہرقل نے پوچھا : ’’ تمہاری قوم میں سے اس سے پہلے کبھی کسی نے ایسا دعویٰ کیا ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا : ’’ نہیں۔‘‘ اس نے پوچھا : ’’ اس شخص کے آباو اجداد میں کوئی بادشاہ گذرا ہے؟ ‘‘میں نے کہا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ہرقل نے پوچھا: ’’ اس کے پیرو کار وں میں بڑے لو گ (یعنی امیر لوگ اور سردار لوگ) زیادہ ہیں یا کمزور لوگ؟ ‘‘میں نے جواب دیا : ’’ کمزور لوگ۔ ‘‘ہرقل نے پھر پوچھا : ’’ اس کے ماننے والوںیعنی پیروکاروں کی تعدا دبڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا:’’بڑھ رہی ہے۔ ‘‘ہرقل نے پوچھا: ’’ اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کسی نے اس دین ( اسلام) کو چھوڑا ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا : ’’ نہیں ۔‘‘ اس نے پوچھا : ’’ کبھی اس شخص نے وعدہ خلافی کی ہے۔ ‘‘میں نے کہا: ’’نہیں ! ہاں البتہ آج کل اس کے ساتھ ایک معاہدہ چل رہا ہے۔ ( یعنی صلح حدیبیہ) دیکھیں وہ کیا کرتا ہے؟‘‘ ابو سفیان کہتے ہیں: ’’ مجھے ان باتوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ کچھ اور کہوں۔‘‘ ہرقل نے پوچھا: ’’ کبھی اس سے جنگ ہوئی ہے۔ ‘‘میں نے کہا: ’’ہاں ۔ ‘‘ہرقل بولا:’’ نتیجہ کیا رہا؟ ‘‘میں نے کہا :’’ ہمارے درمیان جنگ ڈول کی طرح رہتی ہے۔ کبھی وہ بھر لیتے ہیں اور کبھی ہم۔‘‘ (یعنی کبھی وہ حاوی ہوتے ہیں کبھی ہم) ہرقل نے پوچھا : ’’ وہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’ وہ ایک اللہ کی عبادت اور بندگی کرنے کو کہتے ہیں اور شرک سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شرک آمیز باتیں جو تمہارے آباو اجداد کرتے تھے انہیں چھوڑ دو ۔ وہ ہمیں نماز ، سچائی، ( گناہوں سے) پرہیز گاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ ‘‘

انبیاء ایسے ہی ہوتے ہیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہرقل نے تفصیل سے ابو سفیان سے پوچھا۔اس کے بعد آگے ابو سفیان کہتے ہیں : ’’ہر قل نے کہا : ’’ میں نے تم سے ان ( صلی اللہ علیہ وسلم)کا نسب پوچھا تو تم نے ’’شریف النسب ‘‘بتایا اور واقعی تمام انبیاء اپنی قوم میں سب سے’’ عالی نسب‘‘ ہوا کرتے ہیں۔ میں نے تم سے دریافت کیا کہ تمہاری قوم میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو تم نے کہا نہیں۔ اگر ایسا دعویٰ اُن (صلی اللہ علیہ وسلم)سے پہلے کوئی کر چکا ہوتا تو میں سمجھتا یہ اس کی نقل کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ ان کے آبائو اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے ؟تم نے کہا نہیں۔ اگر ان (صلی اللہ علیہ وسلم)کے والدین میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں کہتا کہ وہ اپنے آبائو اجداد کی سلطنت دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا کہ انہیں ’’اعلان ِ نبوت ‘‘سے پہلے کبھی جھوٹ بولتے دیکھاتو تم نے کہا۔ نہیں۔ تو مجھے یقین ہو گیا کہ جو شخص بندوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ پر جھوٹ نہیں بول سکتا۔ میں نے پوچھا اس کے پیرو کاروں میں ( اکثریت) امیر لوگوں کی ہے یا غریب لوگوں کی تو تم نے بتایا کہ کمزور لوگوں نے ان ( صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کی ہے۔ (حقیقت یہ ہے کہ ) انبیائے کرام کی اطاعت (شروع میں ) کمزور لوگ ہی کرتے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا کہ ان (صلی اللہ علیہ وسلم)کے پیرو کار بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں تو تم نے بتایا کہ روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ( حقیقت یہی ہے کہ) ایمان کے درجہ ٔ کمال تک پہنچنے کی کیفیت یہی ہوتی ہے۔ میں نے تم سے پوچھا کوئی ان(صلی اللہ علیہ وسلم)کے دین میں داخل ہونے کے بعد باہر آتا ہے کیا ؟ تو تم نے کہا ۔ نہیں۔ ایمان کی یہی صورت ہے کہ جب اس کی مسرت دل میں جذب ہو جاتی ہے تو باہر نہیں نکلتی۔ میں نے تم سے پوچھا کہ کیاوہ ( صلی اللہ علیہ وسلم)وعدہ خلافی کرتے ہیں تو تم نے جواب دیا ۔ نہیں۔ اور واقعی انبیاء کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ میں نے تم نے پوچھا وہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کیا کہتے ہیں۔ تم نے بتایا کہ وہ اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے منع کرنے کا حکم دیتے ہیں اور پرہیز گاری ( گناہوں سے بچنے) کی تعلیم دیتے ہیں۔ اگر تمہاری بتائی ہوئی باتیں سچ ہیں تو عنقریب وہ (صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اطاعت کرنے والے مسلمان) اس جگہ کے مالک ہو جائیں گے۔ جہان آج یہ میرے پائوں ہیں۔‘‘ ( یعنی جس جگہ میں بیٹھا ہوا ہوں)

ہر قل نے تسلیم کیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اتنا کہنے کے بعد ہرقل نے آگے کہا۔ ابو سفیان آگے کہتے ہیں : ’’ ہر قل نے آگے کہا : ’’مجھے سابقہ کتابوں ( توریت اور انجیل) سے معلوم ہوا ہے کہ وہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ظاہر ہونے والے ہیں۔ البتہ یہ علم نہیں تھا کہ وہ (صلی اللہ علیہ وسلم )تم میں آئیں گے۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ میں ان(صلی اللہ علیہ وسلم ) تک پہنچ سکوں گا تو میں اُن(صلی اللہ علیہ وسلم )سے ضرور ملتا اور اگر میں ان (صلی اللہ علیہ وسلم )کے پاس ہوتا تو ان کے پائوں دھو کر پیتا۔‘‘ اس کے بعد ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں امیر بصرہ کے پاس بھیجا تھا اور امیر بصرہ نے اسے ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا منگایا اور اسے پڑھوایا۔ ابو سفیان کہتے ہیں : ’’ وہ خط بلند آواز سے پڑھا گیا۔‘‘ ( صحیح بخاری کی اس حدیث میں پورا مضمون خط کا وہی لکھا ہے جو ہم اس سے پہلے آپ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں) خط مکمل ہونے کے بعد دربار میں ہلچل مچ گئی اور درباریوں اور روم کے علماء کی آوازیں بلند ہونے لگیںتو ہمیں (ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کو) دربار سے باہر نکال دیا گیا۔ (باہر آنے کے بعد) میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا:’’ ابو کیشہ کے بیٹے( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مقام تو بہت بڑھ گیا ہے کہ سلطنت روم ( اس وقت کی سوپر پاور) کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔ پس اس کے بعد سے مجھے یقین سا ہونے لگا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )ضرور غالب آئیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔‘‘ ابو سفیان کا بیان یہاں مکمل ہوا۔ لیکن صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے۔

ہر قل کی تحقیق

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہرقل نے ابو سفیان سے جو تحقیق کی وہ ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کی۔ یہاں ابو سفیان کا بیان مکمل ہو گیا ہے۔ لیکن صحیح بخاری کی اس حدیث میں امام بخاری آگے لکھتے ہیں ۔ ابن ناطور جو ایلیا کا حاکم اور ہرقل کا درباری اورملک شام کے نصاریٰ ( عیسائیوں) کا سب سے بڑا پادری(جسے آج بھی عیسائی لوگ پوپ یا فادر کہتے ہیں) تھا۔ اس کا بیان ہے کہ ہرقل جب ایلیا ( بیت المقدس) آیا تو ایک دن صبح بیدار ہوا تو بہت افسردہ تھا۔ اس کے درباریوں نے افسردگی ( اداسی) کی وجہ پوچھی۔ ابن ناطور کا کہنا ہے کہ ہرقل خود بھی کاہن اور ماہر نجوم ( ستاروں کا عالم) تھا۔ درباریوں سے اداسی کی وجہ پوچھنے پر اس نے بتایا : ’’ کل رات میں نے ستاروں پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ایک ختنہ کرنے والا بادشاہ ( تمام دنیا یا بادشاہوں پر ) غالب آگیا ہے۔ ( تم لوگ یہ پتہ لگائو کہ) اس زمانے میں ختنہ کون لوگ کرواتے ہیں؟ ‘‘ درباریوں اور عیسائی علماء نے کہا: ’’ یہ یہودیوں کا طریقہ ہے۔ لیکن یہودیوں سے آپ کوئی خطرہ محسوس نہ کریں اور سلطنت روم کے تمام بڑے شہروں میں حکم بھیج دیں کہ تمام یہودیوں کو قتل کر دیا جائے۔ ‘‘( اس وقت سلطنت روم یعنی عیسائیوں کی حکومت آدھی دنیا سے زیادہ علاقوں پر تھی۔ امریکہ اس وقت دریافت نہیں ہوا تھا اور پورے یورپ اور لگ بھگ آدھے افریقہ پر عیسائیوں کی حکومت تھی اور عیسائی حکومتیں یہودیوں کو غلام جیسا بنا کر رکھتی تھیں۔ کیوں کہ عیسائیوں کو یقین تھا کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوا یا ہے) ابھی ہر قل اور اس کے درباری سوچ بچار میں تھے کہ غسّان کے گورنر کا بھیجا ہوا قاصد آیا اور اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتایا تو ہرقل نے اپنے درباریوں سے کہا: ’’ جائو اور دیکھو کہ اُن (صلی اللہ علیہ وسلم )کی قوم کے لوگ ختنہ کرتے ہیں یا نہیں؟ ‘‘ درباریوں نے کہا :’’ وہ (صلی اللہ علیہ وسلم )عرب کے ہیں اور عرب کے لوگ ختنہ کرتے ہیں۔ ‘‘یہ سن کر ہرقل بولا: ’’ یہی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) آج کے دور کے بادشاہ ہیں جو ظاہر ہو چکے ہیں۔‘‘ صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے۔

حکومت کے لالچ میں ہرقل نے اسلام قبول نہیں کیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہرقل نے تحقیق کی اور تسلیم کر لیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ ہرقل نے یہ تمام تفصیلات اپنے ایک دوست کو لکھ کر بھیجی وہ بھی علم نجوم میں ہرقل کا ہم پلّہ تھا۔ ہرقل حمص روانہ ہو گیا۔ ابھی وہ حمص میں ہی تھا کہ اس کے دوست کا جوابی خط آگیا اور اس نے لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے سلسلہ میں ہر قل کی رائے سے متفق ہے اور یہ وہی ’’آخری نبی‘‘ ہیں۔ ہرقل نے فوراً دربار لگانے کا حکم دیااور تمام درباری اور عیسائی علماء دربار میں حاضر ہوگئے تو ہرقل نے حکم دیا کہ محل کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں ۔ تمام دروازے بند کر دیئے گئے تو ہرقل دربار میں آکر تخت پر بیٹھا اور کہا: ’’ رومیو !کیا ہدایت اور کامیابی میں تمہارا بھی کچھ حصہ ہے؟ اور تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری حکومت بھی رہے؟ اگر یہ سب تمہیں منظور ہو تو اس نبی(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیعت کر لو۔‘‘ (یعنی اسلام قبول کرلو)۔ یہ سننا تھا کہ تمام درباری اور عیسائی علماء وحشی گدھوں کی طرح دروازے کی طرف لپکے تو دروازوں کو بند پایا۔ ہرقل نے انہیں (اسلام قبول کرنے سے) اتنا متنفر پایا تو ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو کہا : ’’ انہیں پھر میرے پاس لائو ۔‘‘جب انہیں ہرقل کے پاس لایا گیا تو اس نے کہا: ’’ میں نے ابھی جو کہا تھا وہ صرف تم لوگوں کو آزمانے کے لئے کہا تھاکہ دیکھوں کہ تم لوگ اپنے عقیدے میں کتنے مضبوط ہو اور مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تم اپنے دین پر مضبوطی سے جمے ہو۔ ‘‘پس انہوں نے ہرقل کو سجدہ کیا اور اس سے راضی ہو گئے اور ہرقل کی یہ آخری حالت ہے۔

مصر کے باشاہ مقوقش کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مصر کے بادشاہ مقوقش کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے جو خط لکھوایا اس کا مضمون یہ ہے: ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول کی طرف سے مقوقش عظیم قبط کے نام! ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مصریوں کو قبطی کہا جاتا تھا۔ ) سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ (یعنی اسلام قبول کرنے والے پر سلام) ۔ میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کر لو۔ سلامت رہو گے اور اللہ تعالیٰ تم کو دوہرا اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور اس دعوت سے منہ پھیرا تو تمام قبطیوں ( یعنی مصر کی عوام) کے اسلام قبول نہیں کرنے کا گناہ تم پر ہوگا۔ اے اہل کتاب( مقوقش اور مصر کے لوگ عیسائی تھے ) آئو ایسی سیدھی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں(مشترک یا ایک جیسی) ہے۔ وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہم میں سے ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ پس اگر اس کے بعد وہ منہ پھیر لیں۔ یعنی( اسلام قبول نہ کریں) تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔ یہ خط لکھوا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مہر لگائی اور حضرت حاطب بن ابی بلتع رضی اللہ عنہ کو دے کر مصر کے بادشاہ مقوقش کے پاس روانہ فرمایا۔

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ مقوقش کے دربار میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر مصر کے بادشاہ مقوقش کے پاس بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ ملک مصر پہنچے تو معلوم ہوا کہ مقوقش اسکندریہ میں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اسکندریہ پہنچے تو دیکھا کہ بادشاہ اپنے محل کے جھروکے میں بیٹھا ہوا ہے۔ وہ محل دریا سے لگ کر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نیچے سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط بتایا تو بادشاہ مقوقش نے انہیں اندر بلانے کا حکم دیا۔ حضرت حاطب بن ابی بلتع رضی اللہ عنہ اندر پہنچے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط قریش کو پیش کیا۔ اس نے عزت اور احترام سے خط لیا اور پڑھا۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی مصر کے بادشاہ سے گفتگو

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مصر اور اسکندریہ کے بادشاہ مقوقش کی طرف بھیجا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر اس کے پاس پہنچا تو اس نے مجھے اپنے محل میں ٹھہرایا اور میں مہمان خانے میں مقیم رہا۔ پھر اس نے مجھے اپنے دربار میں بلایا۔ جہاں تمام سردار ، امراء اور علماء جمع تھے۔ مقوقش نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا: ’’ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ بات تم مجھ سے سمجھ لو۔‘‘ میں نے کہا : ’’کہیئے کیا بات ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’مجھے تم اپنے آقا(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں بتائو۔ کیا واقعی وہ نبی ہیں؟ اور اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ ‘‘ میں نے جوابدیا: ’’ وہ یقینا نبی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’ پھر اُن (صلی اللہ علیہ وسلم )کو اس وقت کیا ہوا تھا جب اُن (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ان کی قوم نے ان کے شہر ( مکہ مکرمہ) سے دوسرے شہر ( مدینہ منورہ) کی طرف جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوںنے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے بد دعا کیوں نہیں کی؟ ‘‘ میں نے جواب دیا: ’’ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔‘‘ مقوقش نے جواب دیا: ’’ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ ان کو اس وقت کیا ہوا تھا۔ جب اُن کی قوم ( بنی اسرائیل ) نے انہیں صلیب پر چڑھانا چاہا تھا۔ انہوں نے ان کے لئے بد دعا کیوں نہیں کی کہ اے اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کردے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں کی دنیا میں اپنے پاس بلا لیا۔ ‘‘یہ سن کر مقوقش نے کہا: ’’ تم عقلمند ہو اور عقلمند کے پاس سے آئے ہو۔ ‘‘

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی تقریر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد مقوقش کے دربار میں ایک تقریر کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ (اے بادشاہ) آپ کو معلوم ہی ہے کہ ایک شخص اس ملک مصر میں گزرا ہے۔ جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ ربّ اعلیٰ ہے۔ (یعنی فرعون) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو پکڑ لیا اور سزاد ی اور اسے ہلاک اور برباد کر دیا۔ تم اس سے عبرت حاصل کرو۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے تم سے عبرت حاصل کریں۔ ایک دین ہے جو تمہارے دین سے کہیں بہتر ہے۔ وہ دین اسلام ہے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایاہے کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے گا یا غلبہ عطا فرمائے گا۔ تمام ادیان ( دین کی جمع) اس کے سامنے ( یعنی اسلام کے سامنے) کمزور پڑ جائیں گے۔اللہ کے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مبعوث ہو کر لوگوں کو اس دین کی دعوت دی۔ اس بارے میں قریش سب سے سخت ثابت ہوئے۔ یہود ( بنی اسرائیل) سب سے زیادہ دشمن ثابت ہوئے اور نصاریٰ ( عیسائی) سب سے زیادہ قریب ثابت ہوئے۔ اللہ کی قسم ! حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی ہے اور ہمارا تم کو قرآن پاک کی طرف بلانا ایسا ہی ہے جیسے کہ تم اہل توریت کو انجیل کی طرف بلاتے ہو۔ ( یعنی یہودیوں کو) جو قوم جس نبی کو پائے وہ اس نبی کی امت ہے۔ ان کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اس نبی کی اطاعت کریں۔ اور اے بادشاہ !تم بھی ان لوگوں میں ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ ہم تم کو دین مسیحی سے روکتے نہیں ہیں بلکہ حکم دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا اتباع کرو ۔‘‘ ( کیوں کہ وہ بھی دینِ اسلام ہی لے کر آئے تھے۔ )

مصر کے بادشاہ کے تاثرات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی تقریر کے جواب میں مصر کے بادشاہ مقوقش نے اپنے تاثرات بیان کئے اور کہا: ’’ میں نے ان بنی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں غور و فکر کیا تو یہ پایا کہ وہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پسندیدہ باتوں اور کاموں کا حکم دیتے ہیں اور نا پسندیدہ باتوں اور کاموں سے روکتے ہیں۔ قابل نفرت چیزوں اور کاموں سے روکتے ہیں اور قابل رغبت چیزوں اور کاموں کا حکم دیتے ہیں۔ جادوگر اور گمراہ نہیں ہیں۔ کاہن اور جھوٹے نہیں ہیں۔ نبوت کی علامتیں میں ان میں پاتا ہوں۔ مثلاً ان کا غیب کی خبریں دینا۔ میں اس بارے میں غور کروں گا۔‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خط کو ہاتھی دانت کے ڈبہ میں بند کر کے اپنے خزانچی کو حکم دیا کہ اس کو حفاظت سے رکھے اور ایک کاتب کو بلا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا جواب لکھوایا۔

سید الانبیاء ﷺ کے نام مصر کے بادشاہ کا خط اور تحفے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خط کے جواب میں مصر کے بادشاہ مقوقش نے کاتب کو بلوا کر جواب لکھوایا ۔ اس کا مضمون یہ ہے۔ ’’اللہ کے نام سے یہ خط محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے نام ہے۔ مقوقش سردار قبط کی طرف سے سلام ہو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )پر اما بعد ! میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے خط کو پڑھا اور اس کے مضمون کو سمجھا اور اس چیز کو سمجھا جس کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے دعوت دی ہے۔ میں یقین سے جانتا ہوں کہ ایک نبی کا آنا باقی رہ گیا ہے۔ میرا گمان یہ تھا کہ شاید اس نبی کا ظہورملک شام سے ہوگا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے قاصد کا اکرام اور احترام کیا۔ دو باندیاں ( کنیزیں) اور کچھ کپڑے اور خچر ہدیتاً آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔ والسلام‘‘ مقوقش نے تحفے میں جو دو کنیزیں بھیجی تھی۔ ان میں سے ایک کا نام ماریہ قبطیہ ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں داخل ہوئیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضر ت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ دوسری کا نام سیرین ہے۔ سید الانبیاء صلیاللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عطا فرمادی اور خچر کا نام دُلدُل ہے۔ مقوقش نے اقرار کیا کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ لیکن اسلام قبول نہیں کیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ملک اور سلطنت کی وجہ سے اس نے اسلام قبول نہیں کیا ہے تو اس کا ملک اور سلطنت باقی نہیں رہ سکتی۔ ‘‘آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پورا ہوا اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر کو فتح کر کے اسلامی حکومت کا ایک صوبہ بنادیا۔

کسریٰ سلطنت ِ فارس کے بادشاہ کے نام خط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سلطنت فارس ( حالیہ ایران اور آس پاس کا علاقہ)کے بادشاہ کسریٰ کو خط لکھا۔ جس کا مضمون یہ ہے: ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسریٰ فارس کے بادشا ہ کے نام ۔ سلام ہے اُس شخص پر جو ہدایت کو تسلیم کرے اور اتباع کرے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ میں تم کو اللہ کے حکم کے مطابق اس دین اسلام کی دعوت دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں تمام لوگوں کی طرف ۔ تاکہ (اللہ کے عذاب سے ) ڈرائوں اس شخص کو جس کا دل زندہ ہے اور کافروں پراللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حُجّت پوری ہو۔ اسلام قبول کرلو۔ سلامت رہو گے اور اگر تم نے منہ پھیرا ( یعنی اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا) تو تمام مجوس قوم کا گناہ تم پر ہوگا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو دے کر کسریٰ کی طرف روانہ فرمایا۔

کسریٰ نے مبارک خط کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط لے کر حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سفیر بن کر کسریٰ کے دربار میں پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط اسے دیا۔ کسریٰ نے خط پڑھنا شروع کیا اور خط کے شروع میں ہی اپنے نام سے پہلے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دیکھا تو گھمنڈ کی وجہ سے اس کو بہت غصہ آیا اور اس بد بخت نے مبارک خط کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ کے پاس اپنا مبارک خط بھیجا تو جب اس نے ( اپنے نام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام) پڑھا تو اسے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجوسیوں پر ان کا ملک (سلطنت فارس) پورے طور پر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ‘‘ ابن شہاب رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک خط جب کسریٰ کے پاس بھیجا تو اس بد بخت نے اسے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کسریٰ نے اپنے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔‘‘

کسریٰ کا گھمنڈ اور اس کا قتل

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خط کے ساتھ بد بخت کسریٰ نے گستاخی کی اور اسی پر بس نہیں کیا۔ بلکہ یمن میں اپنے گورنر باذان کو خط لکھا اور حکم دیا کہ حجاز میں جو شخص ظاہر ہوا ہے۔ اس کے پاس اپنے دو بہادر آدمیوں کو روانہ کرو تاکہ وہ دونوں ان (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو میرے پاس لے کر آئیں تو باذان نے قہرمانہ اور ایک شخص کو بھیجا اور ان کے ہاتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ایک خط بھیجا اور اس میں لکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )ان دونوں کے ساتھ کسریٰ کے پاس تشریف لے جائیں۔ یہ دونوں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور باذان کا خط اور پیغام پہنچایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جائو کل صبح آنا۔‘‘ جب دوسرے دن صبح وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو قتل کرادیا ہے اور اس کے بیٹے شیرویہ کو اس پر غالب کر دیا ہے اور فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کی رات کو شیرویہ نے اپنے باپ کسریٰ کو قتل کر دیا ہے اور خود کسریٰ بن گیا ۔‘‘ ان دونوں نے کہا: ’’ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) جانتے ہیں کہ کیا فرما رہے ہیں؟ ہم یہ بات سلطنت فارس کے بادشاہ کسریٰ سے جا کر کہہ دیں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ضرور تم جا کر کہہ دینا اور میری طرف سے یہ بھی کہنا کہ میرا دین اور میری حکومت بہت جلد وہاں تک پہنچ جائے گی۔ جہاں تک کسریٰ کی حکومت ہے۔ یہی نہیں بلکہ جہاں تک گھوڑا سوار اور پیدل پہنچ سکتے ہیں۔ وہاں تک میرا دین اور میری حکومت پہنچے گی اور تم دونوں اس سے ( باذان سے) کہنا اگر تم اسلام قبول کر لو گے تو تمہاری حکومت تمہارے ہاتھ میں رہے گی۔‘‘

باذان کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک باذان کے پاس جا کر ان دونوں نے سنایا اور پورا واقعہ بیان کیا۔ یہ سن کر باذان حیرت زدہ رہ گیا اور بولا : ’’یہ کسی بادشاہ کا فرمان نہیں ہے اور جو کچھ انہوں نے ( یعنی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا ہے۔ ہم ضرور اسے آزمائیں گے کہ وہ ہوتا ہے یا نہیں۔ کچھ ہی دنوں بعد شیرویہ کا خط باذان کے پاس آیا۔ جس میں لکھا تھا : ’’ میں نے فارس کے فائدے کے لئے اپنے باپ کسریٰ کا قتل کر دیا ۔ اب اپنے عہدے داروں سے میری وفا داری کا عہد لو اور اس شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو غصہ نہ دلائو جس کے لئے کسریٰ نے تمہیں خط لکھا تھا۔‘‘ جب باذان نے یہ خط پڑھا تو کہا : ’’ بے شک !یہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی اور رسول ہے۔‘‘ اور اس نے اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھ بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ باذان نے قہر مانہ سے پوچھا : ’’ تم نے ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس شان میں دیکھا تھا؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ ان ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے گفتگو کرتے وقت ان (صلی اللہ علیہ وسلم )کا ایسا رعب مجھ پر طاری ہو ا کہ میں تھر تھر کانپ رہا تھا۔‘‘ باذان نے پوچھا : ’’ کیا اُن(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس نگہبان ( باڈی گارڈ) ہیں۔‘‘ قہرمانہ نے کہا: ’’ نہیں ۔‘‘

یمامہ کے حکمراں کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یمامہ کے حکمراں ہوذہ بن علی کے نام ایک خط لکھوایا۔ اس خط کا مضمون یہ ہے’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہوذہ بن علی کے نام ۔ سلام ہے اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے(یعنی اسلام قبول کرے) ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کا دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک گھوڑے اور اونٹ ( اور انسان) پہنچ سکتے ہیں۔ اسلام قبول کر لو۔ سلامتی میں رہو گے اور تمہارے علاقوں پر تم کو بدستور برقرار کھیں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط حضرت سُلیط بن عمرو رضی اللہ عنہ کو دے کر یمامہ کے حکمراں ہوذہ بن علی کی طرف روانہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ جب یمامہ پہنچے تو ہوذہ نے بہت عزت و احترام سے اپنے مہمان خانے میں ٹھہرایا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط لے کر پڑھا۔

یمامہ کے حکمراں کا جواب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط جب یمامہ کا حکمراں پڑھ چکا تو حضرت سُلیط بن عمر و رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے ہوذہ !تمہیں پرانی اور بوسیدہ ہڈیوں نے سردار بنا یا ہے۔ (یعنی تمہاری قوم کے بوڑھوں اور بزرگوں نے سردار بنایا ہے) اور حقیقت میں سردار وہ ہے جس نے اسلام قبول کیااور اللہ کا تقویٰ اختیار کیا۔ میں تمہیں ایک بہترین کام ( اسلام قبول کرنے) کا مشورہ دیتا ہوں اور ایک بُرے کام (بتوں کی پوجا ) سے منع کرتا ہوں۔ اگر تم اسے قبول کر و گے تو کامیاب ہو گے اور کوئی رنج و غم نہیں ہوگا۔ اگر انکار کرو گے تو قیامت کے دن رسو ا ہوگے۔‘‘ ہوذہ نے کہا : ’’ مجھے کچھ مہلت دو۔ ‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خط کا جواب لکھوایا۔ وہ جواب یہ تھا: ’’ جس چیز کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )بلا رہے ہیں وہ بہت ہی بہتر اور اچھی ہے۔ عرب میرے دبدبہ اور مرتبہ سے ڈرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )مجھے کچھ اختیار دیں تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اتباع کروں گا۔ ‘‘یہ خط اور کچھ ہدیہ اور تحفہ سلیط بن عمرو رضی اللہ عنہ کو دیا۔ مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر حضرت سلیط بن عمرو نے سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خط پڑھ کر فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! اگر ایک بالشت زمین بھی مانگے گا تو میں نہیں دے سکتا۔ وہ بھی ہلاک ہوا اور اس کا ملک بھی ہلاک ہوا۔‘‘ لگ بھگ دو برس بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے واپس ہوئے تو جبرئیل امین علیہ السلام نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوذہ کے مرنے کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مرنے کی خبر سنا کر فرمایا: ’’ یمامہ میں عنقریب ایک کذاب ظاہر ہوگا جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا(مسیلمہ کذاب یمامہ کا ہے اور اس نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سا لاری میں مسلمانوں نے اسے قتل کیا اور یمامہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔)اور میرے بعد قتل ہوگا۔ ‘‘

دمشق کے گورنرحارث غسانی کو اسلام کی عوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دمشق کے گورنر حارث غسانی کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے خط لکھوایا۔ ( دمشق پر قیصر روم ہرقل کی حکومت تھی اور یہ سلطنت روم یا رومہ کا ایک حصہ تھا۔ حارث غسانی کو ہرقل نے دمشق کا گورنر بنایا تھا) اس خط کا مضمون یہ تھا: ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حارث بن ثمر غسانی کے نام ۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ ( یعنی اسلام قبول کر ے) اور اللہ پر ایمان لائے اور اللہ کے احکام کی تصدیق کرے۔ میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم اسلام قبول کر لو اور گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گواہی دو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں۔ اگر تم ایمان لے آئے تو تمہاری حکومتباقی رہے گی۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط حضرت شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ کو دے کر دمشق بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ دمشق پہنچے تو حارث غسانی اس وقت قیصر روم ہر قل کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ اس وقت ہر قل سلطنت فارس پر فتح ملنے کی خوشی میں حمص سے پیدل چل کر بیت المقدس آیا ہوا تھا۔ حارث کے انتظار میں کئی روز گذر گئے تو حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ عنہ نے حارث کے دربان کو بتایا : ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفیر ہوں اور دمشق کے گورنر سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ دربان نے کہا: ’’ وہ ایک دو دنوں میں دربار میں آئیں گے تو ملاقات ہو جائے گی۔ دربان کا نام مُری تھا اور وہ روم کا رہنے والا تھا۔ اس نے حضرت شجاع رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات دریافت کرنا شروع کئے۔ حضرت شجاع رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بتاتے جا رہے تھے اورمُری سن کر روتا جا رہا تھا۔ تما م حالات سن کر اس نے کہا: ’’ میں نے انجیل پڑھی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں نے پڑھے ہیں۔ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہوں ۔‘‘

حارث غسانی کا گھمنڈ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ کو مُری نے اپنے گھر میں ٹھہرایا اور دل و جان سے خدمت کی۔ حارث غسانی نے جب دربار لگایا تو آپ رضی اللہ عنہ دربار میں آئے اور اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط دیا۔ اس بد بخت نے خط پڑھ کر گھمنڈ کا اظہار کیا اور پھینک دیااور غصہ سے بولا: ’’کون ہے وہ شخص جو مجھ سے میر املک چھینے گا۔ میں خود اس کی طرف ( حملہ کرنے کے لئے ) جانے والا ہوں ۔‘‘اور گھوڑوں کو تیار کرنے کا حکم دیا اور قیصر روم کو خط لکھ کر اجازت طلب کی تو قیصر روم ہر قل نے جواب دیا : ’’ ( حملہ کرنے کا) ارادہ بد ل دو۔‘‘ اس جواب کے بعد حارث غسانی نے حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور سو100مثقال سونا ہدیہ دیا اور دربان مُری نے بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ تحفے دیئے اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سلام کہنا۔ حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس کا ملک ہلاک ہوا۔‘‘ اس کے بعد حضرت شجاع رضی اللہ عنہ نے دربان مُری کا سلام پہنچایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے سنتے رہے اور پھر فرمایا: ’’ اس نے سچ کہا ہے۔ ‘‘ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں