پیر، 3 جولائی، 2023

22 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


22 سیرت سید الانبیاء ﷺ

بادشاہوں کا اسلام کی دعوت ۔ قسط 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


حبشہ کے بادشاہ نجاشی ( اصحمہ) کو اسلام کی دعوت، نجاشی کا قبول اسلام، ہر قل قیصر روم کو اسلام کی دعوت، قیصڑ روم ہرقل اور ابو سفیان کی گفتگو


حضرت ابو البصیر عتبہ بن اُسید رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ منور ہ واپس تشریف لے آئے۔ یہ ذی القعدہ 6 ؁ ہجری کا واقعہ تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال کے لئے جنگ بند کر دی گئی تھی اور دونوں فریقوں سے سکون اور اطمینا ن کا سانس لیا اور امن قائم ہو گیا۔ اب مسلمان اور قریش ایک دوسرے سے ملنے لگے اور ایک دوسرے کے یہاں آزادی سے آنے جانے لگے۔ اسی دوران حضرت ابو البصیر عتبہ بن اُسید رضی اللہ عنہ کا واقعہ پیش آیا۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کا نام عتبہ بن اُسید رضی اللہ عنہ ہے اور ابو البصیر کنیت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو ثقیف کے ہیں اور یہ قبیلہ قریش کی شاخ بنو زہرہ کا حلیف ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن قریش نے آپ رضی اللہ عنہ کو قید کررکھا تھا۔ صلح حدیبیہ کے کچھ ہی دنوں بعد قریش کی قید سے آزادی حاصل کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔بنو زہرہ کے ازہر بن عوف اور بنو ثقیف کے اخنس بن شریق نے ایک خط لکھ کر بنو عامر کے ایک شخص کو اس کے غلام کے ساتھ مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔

حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کی واپسی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور اُن کے پیچھے پیچھے بنو عامر کا شخص اپنے غلام کے ساتھ حاضر ہوا اور ازہر بن عوف اور اخنس بن شریق کا خط دیا۔ اس میں انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کو ان دونوں کے ساتھ واپس بھیج دیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خط پڑھ کر حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تمہیں ان دونوں کے ساتھ واپس جانا ہوگا۔‘‘ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں مشرکوں کے پاس واپس چلا جائوں؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہم نے ان لوگوں سے جو عہد و معاہدہ کیا ہے اس کے بارے میں تو تم جانتے ہی ہو۔ ہم اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے ساتھ مجبور مسلمانوں کیلئے ضرور کشادگی فرمائے گا۔‘‘ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ لوگ ( مشرکین) میرے دین ( اسلام) کے متعلق مجھے فتنہ میں ڈالتے ہیں۔ ( یعنی اسلام چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابو البصیر رضی اللہ عنہ ! تم ان کے ساتھ واپس مکہ مکرمہ چلے جائو۔ انشااللہ ، اللہ تعالیٰ بہت جلد تمہارے لئے راستہ پیدا فرما دے گا اور آزادی عطا فرمائے گا۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ ان دونوں مشرکوں کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے۔

حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ ساحلی علاقے میں قیام پذیر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ ان دونوں مشرکین کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ مقامِ’’ ذو الحلیفہ‘‘ پہنچ کر ان لوگوں نے پڑائو ڈال دیا اور کھانے پینے اور آرام کرنے لگے۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نے کھانے کے دوران بنو عامر کے شخص سے کہا: ’’ تمہاری تلوار تو بہت خوبصورت ہے۔ کیا میں اسے دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ اس نے میان سمیت تلوار انہیں دے دی اور کہا : ’’ لو دیکھ لو۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے میان سمیت تلوار لے لی اور دیکھنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار میان سے نکال کر بنو عامر کے شخص پر تلوار سے وار کیا اور ایک ہی وار میں اس کی گردن اڑا دی۔ یہ دیکھ کر اس کا غلام بے انتہا خوف زدہ ہو گیا اور وہاں سے اٹھ کر بھاگتا ہوا سیدھا مسجد نبوی میں آیا جہاں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ’’یہ شخص بہت گھبرایا ہوا لگ رہا ہے۔‘‘ اتنے میں وہ شخص ہانپتا کانپتا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا : ’’ تجھے کیا ہوگیا ہے؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نے میرے مالک کا قتل کر دیا ہے۔‘‘ اسی وقت حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ تلوار ہاتھ میں لئے حاضر ہوئے جس پر خون لگا ہوا تھا۔ انھوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کو پورا کیا۔ ( یعنی ان کے ساتھ واپس چلا گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایسی قوم کے حوالے کیا تھا جو مجھ کو میرے دین پر قائم نہیں رہنے دیتی۔ میں نے اپنے دین کو بچا لیا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تو بڑ ا لڑاکو اور لڑائی ( جنگ) کی آگ بھڑکانے والا ہے۔‘‘ (یعنی یہ کہ تمہارے اس عمل سے مسلمانوں اور قریش کے درمیان پھر سے جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ بھی سمجھ گئے کہ ان کی وجہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان مصیبتوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں صلح حدیبیہ کے معاہدے کو نبھائیں گے) حضرت ابوالبصیر رضی اللہ عنہ فوراً وہاں سے نکل کر مدینہ منورہ سے باہر آئے اور ایک طرف روانہ ہو گئے۔ چلتے چلتے آپ رضی اللہ عنہ مقام ’’عیص ‘‘تک پہنچے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔

قریش کی درخواست ۔ انہیں اپنے پاس بلا لو

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے وہ مشرک شخص مکہ مکرمہ میں قریش کے پاس آیا ور انہیں تمام واقعہ سنایا اور بتایا کہ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نہ جانے کہاں چلے گئے ہیں۔ ادھر حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ چلتے چلتے ایک ساحلی علاقے میں پہنچے اور وہاں مقام ’’عیص‘‘ میںرہنے لگے۔ یہ مقام’’ ذی مروہ‘‘ کے پاس ہے اور قریش کے تجارتی راستے پر واقع ہے۔ مکہ مکرمہ والوں کو ان کے وہاں قیام کرنے کی خبر ملی تو جو مسلمان مکہ مکرمہ میں مجبور اور قید میں تھے وہ مکہ مکرمہ سے بھاگ کر مقامِ ’’عیص ‘‘میں حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر آباد ہونے لگے۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ سے اکیلے نکلے تھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ’’ کاش اس کیساتھ اور آدمی ہوتے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مکہ مکرمہ کے مسلمانوں تک پہنچا تو وہ لوگ اچھی خاصی تعداد میں حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر آباد ہو گئے اور ستر 70کے قریب یا اس سے زیادہ مسلمان وہاں رہنے لگے۔ ان لوگوں نے قریش کے تجارتی قافلوں کا گزرنامشکل کر دیا اور تجارتی قافلوں پر حملے کرنے لگے۔ آخر کار قریش مجبو ر ہو گئے اور انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہوسلم سے درخواست کی کہ ہم صلح حدیبیہ کے معاہدے کی اس شرط کو ختم کر دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رشتہ داری اور رحم کا واسطہ دے کر یہ درخواست کی کہ ہم کو ان لوگوں کی کوئی ضرورت نہیںہے۔ مہربانی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے پاس بلا لیں۔ تب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس مدینہ منورہ میں بلا لیا۔اُن میں حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کا انتقال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک روایت کے مطابق قریش نے ابو سفیان کو بھیجا ۔ علامہ عبد المصطفیٰ اپنی معرکتہ آراء کتاب سیرت المصطفیٰ میں لکھتے ہیں۔ یہ بھی روایت ہے کہ قریش نے خود ابو سفیان کو مدینہ منورہ بھیجا کہ ہم صلح نامہ کی اپنی شرط سے دست بردار ہوتے ہیں اور واپس لیتے ہیں۔ براہِ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ اپنے پاس واپس بلا لیں تا کہ ہمارے تجارتی قافلے محفوظ ہو جائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوالبصیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر بھیجا: ’’ تم اپنے ساتھیوں سمیت مقام عیص سے مدینہ منورہ چلے آئو۔‘‘ مگر افسوس !کہ فرمانِ رسالت اُن کے پاس ایسے وقت پہنچا جب وہ نزع کی حالت میں تھے۔ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ) مقدس خط کو انھوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر سر اور آنکھوں پر رکھا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان کی تجہیز و تکفین کا انتظا م کیااور دفن کے بعد ان کی قبر شریف کے پاس یاد گار کے لئے ایک مسجد بنا دی ۔ پھر فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بمو جب یہ سب لوگ مدینہ منورہ میں آکر آباد ہو گئے۔ علامہ عبدالمصطفیٰ کے الفاظ مکمل ہوئے ۔ اس واقعہ کے بارے میں مولانا محمد ادریس کاندھلوی اپنی معرکتہ آراء کی کتاب سیرت المصطفیٰ میں لکھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک والا نامہ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کو لکھوا کر روانہ کیا۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا والا نامہ پہنچا اُس وقت حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا والا نامہ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کو دے دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ پڑھتے جاتے تھے اور خوش ہوتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ جاں بحق تسلیم ہو ئے اور والا نامہ ان کے سینہ پر تھا۔ اورایک روایت میں ہے کہ ہاتھ میں تھا۔ حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو البصیر رضی اللہ کی تجہیز و تکفین کی اور اسی جگہ ان کو دفن کر دیا اور قریب میں ایک مسجد بنا دی اور بعد ازاں ابو جندل اپنے تمام رفقاء کو لے کر مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔

مسلمان خواتین کو واپس نہیں کیا گیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں جو بھی مسلمان مرد مکہ مکرمہ آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے صلح حدیبیہ کے عہد نامے کے مطابق واپس کر دیتے تھے۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ بھی ان ہی میں شامل تھے۔ جن کا واقعہ ہم نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اسی واقعہ کے دوران میں سیدہ اُم کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں تو ان کے دو بھائی عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اپنی بہن ( سیدہ اُم کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ) کی واپسی کا مطالبہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ( ترجمہ)’’ اے ایمان والو!جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان کر لو۔ در اصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اگر امتحان لینے کے بعد تمہیں معلوم ہو جائے کہ واقعی میں یہ مسلمان ( یا مومنہ ) ہیں تو پھر انہیںکافروں کی طرف واپس مت لوٹائو۔ اب یہ عورتیں ان کا فروں کیلئے حلا ل نہیں ہیں اور نہ وہ کافر ان کیلئے حلال ہیں۔… آیت کے آخر تک ۔ ( سورہ الممتحنہ آیت نمبر10) اس آیت کے نزول کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سدہ اُم کلثوم بن عقبہ بن ابی معیط کو ان کے بھائیوں کے ساتھ واپس نہیں بھیجا۔

بادشاہوں کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ذی القعدہ 6 ؁ہجری میں صلح حدیبیہ کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اب چونکہ قریش کی طرف سے اطمینان ہو چکا تھا اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت کو عالمی پیمانے پر وسیع کرنے کی جدو جہد میں مصروف ہو گئے اور دنیا کے بادہشاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کا لائحہ عمل مرتب کرنے لگے۔ اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا تو انہیوں نے مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہر بنوالیں کیوں کہ بادشاہوں کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ ُمہر لگے ہوئے خطوط ہی لیتے ہیں۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کر کے مُہر بنوائی۔ یہ چاندی کی ایک انگوٹھی تھی۔ اس انگوٹھی پر’’ محمد رسول اللہ‘‘ نقش کیا گیا تھا۔ یہ نقش تین سطروں میں تھا۔ سب سے اوپر والی سطر میں’’ اللہ ‘‘لکھا ہوا تھا۔ اس کے نیچے والی سطر میں ’’رسول‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اور سب سے نیچے والی سطر میں’’ محمد‘‘ لکھا ہوا تھا۔ یہاں بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا خیال رکھا کہ اللہ تعالیٰ کا نام سب سے اوپر رکھا۔ اس انگوٹھی پر یہ نقش اس طرح تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کے نام خطوط لکھوئے اور ان پر اس انگوٹھی سے مُہر لگا کر بادشاہوں کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ( سلطنت فارس کا حکمراں) قیصر( سلطنت روم یا رومہ کا حکمراں) نجاشی( حبشہ کا حکمراں) اور تمام دنیاوی بادشاہوں کے نام خطوط روانہ فرمائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ( اسلام کی ) دعوت دی۔ یہ نجاشی حبشہ کا وہی بادشاہ ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غائبانہ) نماز جنازہ پڑھی تھی۔

سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ ذی الحجہ 6ہجری میں دنیا کے بادشاہوں کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے خطوط لکھ کر اپنے سفیروں کے ذریعے بھیجے۔ بادشاہوں کو خطوط بھیجنے کی تاریخ میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ 6 ؁ہجری میں بھیجے اور کچھ روایات میں ہے کہ 7 ؁ہجری میں بھیجے۔ اب اصل اور صحیح تاریخ کا علم تو صر ف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ یوں تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا ۔اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کون کون حضرات ان خطوط کو لے کر کن کن بادشاہوں کے دربار میں گئے۔ ان کی فہرست کافی طویل ہے۔ مگر ایک ہی دن چھ خطوط لکھوا کر اور اپنی مُہر لگا کر جن چھ قاصدوں ( سفیروں) کو جہاں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا وہ یہ ہیں(1) حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو سلطنت روم یا رومہ کے بادشاہ قیصرِ روم ہر قل کے پاس بھیجا۔(سلطنت روم کا مرکز اُس وقت ملک شا م تھا ) (2) حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو سلطنت فارس کے بادشاہ کسریٰ خسرو پرویز کے پاس بھیجا۔ (سلطنت فارس کا مرکز حالیہ ایران تھا) (3) حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا۔ (4) حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کو عزیز مصر ( مصر کے بادشاہ) مقوقش کے پاس بھیجا۔ (5) حضرت سُلیط بن عمر رضی اللہ عنہ کو یمامہ کے حکمراں ہوزہ کے پاس بھیجا۔ (6) حضرت شماع بن وہب رضی اللہ عنہ کو غسّان کے گورنر حارث غسانی کے پاس بھیجا۔

حبشہ کے بادشاہ نجاشی ( اصحمہ) کے نام خط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 6 ؁ہجری ذی الحجہ میں جس نجاشی کو خط لکھا تھا اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ( اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ حبشہ کے ہر بادشاہ کا لقب نجاشی ہو ا کرتا تھا) اس کا نام اصحمہ تھا۔ اور اس کا انتقال 9 ؁ہجری میں ہو گیا تھا اور اسی کی غائبانہ نماز جنازہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ اس کے بعدجو دوسرا نجاشی بادشاہ بنا تو اسے بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھا تھا اور اسلام کی دعوت دی تھی۔ اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں ۔ اس بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔ مشہور ہے کہ یہ دونوں مقدس خطوط اب تک حبشہ کے بادشاہوں کے پاس موجود ہیں اوروہ لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔یہ دونوں خطوط ہم آپ کی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں۔ اب ان دونوں میں سے کون سا خط پہلے نجاشی کو بھیجا اور کون سا خط بعد والے نجاشی کو بھیجا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

نجاشی کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں نجاشی کو جو دو خطوط لکھے ان دونوں خطوط کا اردو ترجمہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ان میں ایک ترجمہ یہ ہے۔’’ یہ خط ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام ! سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے اورا للہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ نہ اس کی بیوی ہے اور نہ ہی اولاد ہے اور یہ بھی گواہی دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ میں تم کو اللہ کی طرف ( یعنی اسلام کی ) دعوت دیتا ہوں۔ بے شک میں اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اسلام قبول کرلو۔ سلامتی میں رہو گے۔ اے اہل کتاب ! آئو ایک صاف اور سیدھی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے بعض ، بعض کو ( ایک دوسرے کو) رب نہ بنائیں۔ پس اگر وہ منہ پھیرلیں تو کہہ دو کہ گواہ رہنا ہم مسلمان اور اللہ کے فرماں بردا ر بندے ہیں۔ اے نجاشی اگر تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا تو تمہاری قوم کے تمام نصاریٰ ( عیسائیوں) کا گناہ تم پر ہوگا۔‘‘ ( کیوں کہ بادشاہ رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے) ایک خط کااردو ترجمہ مکمل ہوا۔ اب ہم آپ کی خدمت میں ایک اور خط کا اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔’’ یہ خط اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام ! تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہارے سامنے اس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جو بادشاہ ہے۔ ہر عیب سے پاک ہے۔ سراسر سلامتی ہے۔ امن دینے والا ہے۔ اور سب کی خبر رکھنے والا ہے اور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کلمہ ہیں جو اللہ نے پاک دامن اور طاہرہ سیدہ مریم صدیقہ کی طرف ڈالا اور وہ حاملہ ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ( بغیر باپ کے) اسی طرح پیدا فرمایا جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو ( بغیر ماں باپ کے) پیدا فرمایا۔ میں تمہیں اللہ کی طرف ( یعنی اسلام کی ) دعوت دیتا ہوں جو اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور محبت کی طرف بلاتا ہوں اور تم میری پیروی کرو اور اُس قرآن پاک پر ایمان لائو جو اللہ تعالیٰ نے مجھ نازل فرمایا ہے۔ بے شک میں اللہ تعالیٰ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میں تمہارے پاس اپنے چچا زاد بھائی جعفر کو بھیج رہا ہوں ۔ اُن کے ساتھ مسلمانوں کی ایک جماعت ہے۔ جب یہ تمہارے پاس پہنچیں تو تم ان کے سامنے اسلام قبول کر نا۔ میں تمہیں اور تمہارے لشکر کو اسلام کی دعوت دے رہا ہوں۔ میں نے تم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور نصیحت کر دی۔ پس میری نصیحت قبول کرو۔ اس پر سلامتی ہو جو ہدایت ( اسلام) کی پیروی یا اتباع کرے۔‘‘

حضرت نجاشی ( اصحمہ ) کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت عمرو بن اُمیہ رضی اللہ عنہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں پہنچے ( غالباً حضرت عمر و بن اُمیہ رضی اللہ عنہ پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے ہوں گے اور پھر وہ انہیں نجاشی کے دربار میں لے گئے ہوں گے۔ اب حقیقت کیاہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے) اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا۔ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ اپنے تخت سے نیچے اتر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر اپنی آنکھوں سے لگایا اور زمین پر بیٹھ کر حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے مبارک ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور حق کی گواہی دی۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا جواب لکھوایا۔

حضرت نجاشی کا خط سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے جواب میں حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے جو خط لکھا اس کا اردو ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔’’ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یہ خط نجاشی اصحمہ بن الحر کی طرف سے ہے! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور رحمتیں ہوں۔ اللہ کا شکر ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے کہ اس نے مجھے اسلام کی ہدایت عطا فرمائی۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط مجھے مل گیا ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے۔ اللہ کی قسم !میں اپنی رائے سے اس میں اضافہ نہیں کروں گا۔ بے شک جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ویسے ہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس شریعت کو لے کر مبعوث ہوئے ہیں اُسے میں نے پہچان لیا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ( حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھیوں کے سامنے کلمہ پڑھ لیا ہے اورمجھے یقین ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور پہلی کتابوںمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی ہے اور تصدیق بھی ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی کے واسطے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مسلمان ہو گیا ہوں۔ اب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے ارخا بن اصحمہ کو بھیج رہا ہوں۔ مجھے بجز اپنے کسی اور پر اعتماد نہیں ہے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلائیں گے تو میں خدمت ِ اقدس میں حاضر ہو جائوں گا۔ کیوں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا یقین ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے ہیں وہ بالکل حق ہے۔ سلامتی ہو آپ پر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ‘‘

ہر قل قیصر روم کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے خط لکھ کر حضرت وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو دے کر اس کے پاس بھیجا۔ اس خط کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔’’ یہ خط ہے محمد اللہ کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرقل قیصر روم کے نام! سلام ہے اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔اما بعد !میں تم کو دعوت دیتا ہوں اس کلمہ کی جو اسلام کی طرف لانے والا ہے یعنی کلمہ ٔ طیبہ کی۔ اسلام قبول کرلو سلامت رہوگے اور اللہ تعالیٰ تمہیں دوہر ا اجر دے گا۔ جیسا کہ اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ ( اُولٰٓئِکَ یُوْتُونَ اَجرَہُم مَرَّتَیْن ) ،پس اگر تم اسلام سے منہ پھیرو گے تو تمام رعایا کے اسلام قبول نہیں کرنے کا گناہ تم پر ہوگا کہ تیری اتباع کر کے انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اور اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں (مشترک) ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ ہی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں اور اللہ کے سوا ایک دوسرے کو اپنا معبود اور رب نہیں بنائیں۔ اب اگر وہ اسلام قبول نہ کرو گے تو گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خط لے کر حضرت وحید کلبی رضی اللہ عنہ قیصر روم کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ اس وقت سلطنت فارس پر فتح حاصل ہونے کا شکریہ ادا کرنے’’ حمص‘‘ سے پیدل چل کر’’ بیت المقدس‘‘ آیا ہوا تھا۔ آ پ رضی اللہ عنہ محرم 7 ؁ہجری میں بیت المقدس پہنچے اور بصریٰ کے امیر کے توسط سے قیصر روم کے دربار میں پہنچ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا۔

قیصر روم کے دربارمیں حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کی تقریر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ جب قیصر روم کے دربار میں پہنچے تو انھوں نے فرمایا: ’’ اے قیصر روم ہرقل ! جس نے مجھ کو آپ کی طرف سفیر بنا کر بھیجا ہے۔ وہ آپ سے کہیں بہتر ہے اور جس ذات ِ بابرکت نے ان ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو رسول بنا کر بھیجا ہے وہ سب ہی سے اعلیٰ اور ارفع ہے (یعنی اللہ تعالیٰ)۔ اس لئے جو کچھ میں عرض کروں گا اسے تواضع کے ساتھ سننا اور اخلاص سے جواب دینا۔‘‘ قیصر روم ہر قل نے کہا: ’’ فرمائیے۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ آپ کو معلوم ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھتے تھے؟ ‘‘ (رومی اور قیصر روم عیسائی تھے) اس نے جواب دیا : ’’ ہاں !بے شک نماز پڑھتے تھے۔‘‘ یہ سن کر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ میں آپ کو اس ذات پاک ( اللہ تعالیٰ) کی طرف بلاتا ہوں جس کے لئے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام نماز پڑھتے تھے اور جس کے سامنے پیشانی ٹیکتے تھے اور جس نے مسیح کو ان کی والدہ کے بطن میں بنایا اور جس نے تمام زمین اور آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ اس کے بعد میں آپ کو اس نبی ٔ اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتا ہوں جس کی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی۔ پھر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام نے بشارت دی اور آپ کو ان ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے بارے میں پورا علم ہے اور پوری خبر ہے۔ ( توریت اور انجیل کے ذریعے) اگر آپ اس دعوت ( اسلام )کو قبول کریں گے تو آپ کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی ہے۔ ورنہ آخرت تو آپ کی برباد ہو ہی جائے گی اور دنیا میں بھی دوسرے لوگ آپ کے شریک ہوں گے اور یقین جانیئے کہ آپ کا ایک پروردگار ہے۔ جو منکر ین کو کچل ڈالتا ہے اور اپنی نعمتوں کو بدلتا رہتا ہے۔‘‘ اتنا فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط قیصر روم ہر قل کو دیا۔ اس نے خط لے کر اپنی آنکھوں سے لگایا اور سر پر رکھا اور بوسہ دیا۔ اس کے بعد کھول کر پڑھا اور کہا: ’’ میں آپ کو سوچ کر کل جواب دوں گا۔‘‘

عیسائی عالم نے تصدیق کی اور ایمان لایا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر قیصر روم ہرقل نے دربار برخاست کر نے کا حکم دیا اور سب لوگ چلے گئے۔ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اس کے بعد اس نے مجھے بلوایا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تفصیل سے پوچھا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا حال بیان کر دیا۔ پھر قیصر روم ہرقل نے کسی کو اسقف( عیسائیوں کا سب سے بڑا عالم) کو بلانے کے لئے بھیجا۔ یہ اسقف ملک شام کا سب سے بڑا اسقف تھا اور اس کی بات اور اس کی رائے کو لوگ تسلیم کرتے تھے۔ جب اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھا تو بے ساختہ کہا : ’’ اللہ کی قسم !یہ وہی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں جن کی بشارت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں دی ہے اور ہم تو’’ اُن آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انتظار کر رہے تھے۔ قیصر روم ہرقل نے کہا: ’’ اب میرے لئے تمہارا کیا حکم ہے؟ ‘‘ اسقف نے کہا: ’’ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ۔میں ان کی ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ) تصدیق کرتا ہوں اور ان کی پیروی اختیار کرتا ہوں۔‘‘ یہ سن کر قیصر روم ہر قل نے کہا: ’’ بے شک میں بھی یہ تسلیم کرتا ہوں لیکن میں ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اگر میں نے ان آخری نبی (صلی اللہ علیہ وسلم )کی اتباع قبول کی۔ (یعنی اسلام قبول کر لیا) تو میری حکومت جاتی رہے گی اور اہل روم مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘

ابو سفیان ،قیصر روم ہر قل کے دربار میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مکمل تحقیق اور اطمینان کرنے کے بعد قیصر روم ہر قل نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ جو لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم )کی قوم کے میرے ملک میں آئے ہوئے ہیں اُن کو میرے دربار میں حاضر کیا جائے۔ تا کہ بھرے دربار میں ان سے تمام حالات معلوم کروں۔ اتفاق سے ابو سفیان قریش کی ایک جماعت کے ساتھ اس وقت تجارتی قافلہ لے کر شام آیا ہوا تھا اور غزہ میں مقیم تھا۔ قیصر کے خادموں نے غزہ سے بیت المقدس قیصر روم کے دربار میںابو سفیان کو حاضر کیا۔ قیصر روم ہرقل نے بڑی شان و شوکت سے دربار کا انعقاد کیا تھا اور تمام درباریوں اور وزیروں کے ساتھ ساتھ تمام علمائے روم قسیسین اور رہبان بھی حاضر تھے۔ قیصر روم ہرقل شاہی تاج پہن کر تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ جب ابو سفیان اور اس کے ساتھی دربار میں آگئے تو ہر قل نے شاہی محل کے دروازے بند کر دینے کا حکم دیا اور ترجمان کو بلوایا اور اس کے ذریعے گفتگو شروع کی۔

قیصڑ روم ہرقل اور ابو سفیان کی گفتگو

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مجھے ابو سفیان بن حرب نے بتایا ( ابو سفیان نے اسلام قبول کرنے کے بعد یہ واقعہ بتایا) کہ ہرقل نے میرے پاس اپنے آدمیوں کو بھیجا ۔ جب میں تاجر کی حیثیت سے قریش کے تجارتی قافلے کے ساتھ ملک شام گیا ہوا تھا۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ملک فلسطین اس وقت ملک شام کا ایک حصہ تھا) یہ بات صلح حدیبیہ کے بعد کی ہے۔ میں اور تمام مشرکین قریش ہرقل کے دربار میں حاضر ہوئے ۔اس کے دربار میں سلطنت روم کے تمام سردار ان اور علمابیٹھے ہوئے تھے۔ قیصر روم ہرقل نے ہمیں قریب بلایا اور ترجمان کو طلب کیا اور اس کے ذریعے ہم سے کہا: ’’ تمہاری قوم کے ایک شخص نے’’ اعلان ِ نبوت‘‘ کیا ہے اور ان کا ایک خط میرے پاس آیا ہے۔ تم میں سے اُن ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا سب سے قریبی رشتہ دار کون ہے؟‘‘ ابو سفیان کہتے ہیں میں نے کہا : ’’ میں اُن کا سب سے قریبی رشتہ دار ہوں۔ ‘‘ہرقل نے کہا: ’’ ابو سفیان کو آگے کر دو اور اس کے ساتھیوں کو اس کے پیچھے اس کے قریب ہی کردو۔‘‘ اس کے بعد میرے ساتھیوں سے کہا: ’’ میں ابو سفیان سے ان شخص کے بارے میں دریافت کروں گا۔ اگر یہ جھوٹ کہے یا غلط بتائے تو فوراً اسے جھٹلا دینا۔‘‘ ابو سفیان کہتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم ! اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ بعد میں مجھے جھوٹا کہیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔ ‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں