پیر، 3 جولائی، 2023

21 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


21 سیرت سید الانبیاء ﷺ

صلح حدیبیہ قسط ۔ 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سفارت، بیعتِ رضوان، موت پر بیعت، صلح کی شرائط، صلح حدیبیہ فتح مبین، صحابہ کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے محبت اور دشمنی


حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سفارت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خراش بن اُمیہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے تمام واقعہ سننے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کہ کسے سفارت کے لئے بھیجا جائے۔ تو یہ طے ہوا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھیجا جائے۔ حضرت عمر فارو ق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قریش سے میری سخت عداوت ہے۔ کیونکہ میں ان پر بہت سختی کرتا تھا۔ ( اسی لئے وہ مجھ سے بات کرنے کی بجائے سیدھا حملہ کر دیں گے) اور اس وقت میرے قبیلے بنو عدی میں سے قریش میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے بچا لے۔ اس لئے میری تو رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بھیجیں کیوں کہ تمام قریش انہیں پسند کرتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کا قبیلہ یا خاندان بنو امیہ قریش میں بہت اثر رکھتا ہے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مشورے کو پسند فرمایا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں تمام باتیں سمجھا کر قریش کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ قریش کے پاس گئے اور انہیںبار بار سمجھایا۔ لیکن قریش نے اُن کی بات نہیں مانی اور ابو سفیان اور دوسرے سرداروں نے کہا : ’’ اگر تم چاہو تو خانہ کعبہ کو طواف ( اور عمرہ ) کر لو۔ لیکن ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے ساتھیوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ ‘‘حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر تو ہرگز میں خانہ کعبہ کا طواف نہیں کروں گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کریں گے تو تب میں بھی کروں گا۔‘‘ قریش نے جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ضد دیکھی تو آپ رضی اللہ عنہ کو روک لیا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو قریش نے حرم شریف میں قید کر دیا۔ اِدھر مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو قریش نے ( نعوذ باللہ ) شہید کر دیا ہے۔

بیعتِ رضوان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنا سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا ۔ انھیں واپس آنے میں بہت دیر ہو گئی۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ ( نعوذ باللہ ) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے ۔ یہ خبر سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کا اعلان کر دیا اور حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی ا للہ عنہم تو عمرہ اور زیارت ِ خانہ کعبہ کی نیت سے آئے تھے لیکن قریش نے جنگ کو مسلط کر دیا تھا۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کا اعلان کر دیا کہ اب ہم جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور جنگ کرتے رہیں گے ۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے یا شہید ہو جائیں۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس ( مبارک ہاتھ) پر اپنا ہاتھ رکھ رک بیعت کی اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ پر دوسرے ہاتھ کر رکھ کر بیعت کی۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ( ترجمہ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ایمان والوں سے جب وہ درخت کے نیچے ( تمہارے ہاتھ پر) بیعت کر رہے تھے۔ ‘‘ ( سورہ الفتح آیت نمبر18) یزد بن ابو عبید روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : ’’ حدیبیہ کے روز آپ حضرات رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟‘‘ انھوں نے جواب میں فرمایا: ’’ موت پر ۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کس بات پر بیعت کی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے بیٹھے اور بیعت کا اعلان ہوا تو سب سے پہلے حضرت ابو سنان اسدی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم !بیعت کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کس بات پر بیعت کر رہے ہو؟ ‘‘ حضرت ابو سنان اسدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بات پر بیعت کر رہا ہوں جو میرے دل میں ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تیرے دل میں کیا بات ہے؟ ‘‘حضرت ابو سنان اسدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے دل میں یہ بات ہے کہ میں اس وقت تک تلوار چلاتا رہوں ( یعنی اللہ کے لئے لڑتا رہوں ) جب تک اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ عطا فرمائے یا پھر میں لڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لئے شہید ہو جائوں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ’’ ٹھیک ہے! اسی بات پر بیعت کرو۔‘‘ اور اپنا دست ِ مبارک آگے بڑھایا تو حضرت ابو سنان رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسی بات کی بیعت کی اور پھر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے باری باری اپنا ہاتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارت پر رکھ کر اسی بات کی بیعت کی۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔ ایک مرتبہ ابتداء میں دوسری مرتبہ درمیان میں اور تیسری مرتبہ آخر میں ۔جب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیعت کر لی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ مبارک کو دائیں ہاتھ مبارک پر رکھ کر فرمایا: ’’ یہ بیعت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے۔‘‘ داہنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تھا اور بایاں ہاتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب بھی اس واقعہ کا ذکر فرماتے تھے تو ساتھ میں یہ بھی فرمایا کرتے تھے : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بایا ں ہاتھ مبارک میرے دائیں ہاتھ سے بہت بہتر ہے ۔‘‘

صلح حدیبیہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے میدان میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت لی ۔ قریش کو جب اس بیعت کی خبر ملی تو وہ گھبرا گئے اور جلدی سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو آزاد کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیج دیا۔ اس بیعت سے قریش بہت مرعوب اور خوف زدہ ہو گئے اور فوراً صلح کے لئے مشورے کرنے لگے۔ اور آخر کار یہ طے ہوا سہیل بن عمرو کو صلح کرنے کے لئے بھیجا جائے اور ایسی اور ایسی شرائط پر صلح کی جائے۔ اسی دوران حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ واپس آئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے جنگ کا ارادہ ترک کر دیا۔ کچھ دیر بعد سہیل بن عمروآتا دکھائی دیاتو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ اب تمہارا معاملہ کچھ سہل ( آسان) ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی اب تمہیں جنگ کرنے کی تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی اور صلح ہو سکتی ہے۔

صلح کی شرائط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں قریش نے سہیل بن عمرو کو صلح کرنے کے لئے بھیجا اور تاکید کر دی کہ صلح کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ضرور ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اس سال مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہونے پائیں۔ سہیل بن عمرو، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور صلح کی گفتگو کرنے لگا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہماری پہلی شرط یہ ہے کہ قریش ہمیں مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے نہ روکیں اور ہمیں خانہ کعبہ کی زیارت اور عمرہ کرنے دیں۔ ‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا : ’’ ہم یہ طعنہ گوارہ نہیں کرسکتے کہ لوگ ہمیں یہ کہیں اور سارے عرب میں ہماری بدنامی ہو کہ ہمارے دشمن زبردستی مکہ مکرمہ میں آکر عمرہ کر کے گئے۔ ہاں اگر مسلمان اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )چاہیں تو اگلے سال آکر عمرہ کر سکتے ہیں۔‘‘ اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور سہیل بن عمرو کے درمیان تمام شرائط طے پا گئیں اور ان پر اتفاق کر لیا گیا۔ وہ شرائط یہ ہیں۔ (1) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اس سال مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہوں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہیں سے مدینہ منورہ واپس چلے جائیں اور اگلے سال عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ میں آئیں اور اپنے ساتھ صرف تلوار لے کر آئیں اور وہ بھی نیاموں یا غلافوں کے اندر ہو اور مکہ مکرمہ میں صرف تین دن رکیں گے اور عمرہ کر کے واپس چلے جائیں گے۔ (2) قریش کا کوئی بھی شخص اپنے آقا یا ولی ( ذمہ دار جیسے باپ، چچا، دادا وغیرہ ) کی اجازت کے بغیر مدینہ منورہ مسلمانوں کے پاس جائے گا تو اسے واپس کر دیا جائے گا۔چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ (3) جو شخص مسلمانوں میں سے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آئے گا اُسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ (4) دس 10سالوں تک قریش کے مشرکین اور سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے۔ (5) ان دس سالوںمیں دونوں فریقین میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر تلوار نہیں اُٹھائے گا اور نہ ہی دونوںمیںسے کوئی فریق خیانت نہیں کرے گا۔ (6) تمام عرب کے قبائل کو اختیار ہو گا کہ دونوں فریق میں سے جس کے ساتھ چاہیں مل جائیں اور اس کے ساتھ صلح کے معاہدے میں شریک ہو جائیں۔ ( اس صلح کے معاہدے میں قبیلہ بنو خزاعہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور قبیلہ بنو بکر نے قریش کا ساتھ دیا۔ اس طرح بنو خزاعہ اور بنو بکر میں بھی صلح ہو گئی۔ ان دونں قبائل کا ہم خصوصیت سے اس لئے ذکر کر رہے ہیں کیوں کہ آگے چل کر ان کا ذکر آئے گا۔)ان شرائط پر صلح حدیبیہ طے ہوئی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بے چینی   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح کی شرائط طے ہو رہی تھیں اور اسی دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو شدید بے چینی ہو رہی تھی ۔ کیوں کہ سر سری طور سے اگر صلح کی شرائط پر نظردوڑائیں تو ایسا لگتا ہے کہ ( نعوذ باللہ) مسلمان دب کر صلح کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ان شرائط کو گہرائی سے دیکھیںاور غور کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ ان شرائط سے مسلمانوںکو بہت فائدہ ہونے والا تھا۔ لیکن چونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان شرائط پر غور نہیں کیا تھا اس لئے انہیں لگ رہا تھا کہ مسلمان دب کر صلح کر رہے ہیں اور یہ آپ رضی اللہ عنہ کو برداشت نہیں تھا۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ کو بے چینی ہو رہی تھی۔ آخر کار آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول نہیں ہیں ؟ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ’’بے شک میں اللہ کا سچا رسول ہوں۔‘‘ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بے شک ہم مسلمان ہیں۔‘‘ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا وہ لوگ (قریش) مشرک اور اللہ کے دین ( اسلام) کے دشمن نہیں ہیں؟‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بے شک وہ لوگ شرک کرنے والے اور اللہ کے دین کے دشمن ہیں اور کفر اور سر کشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔‘‘ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انتہائی ادب اور تعظیم سے گزارش کی : ’’ اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے یہ بتائیے کہ جب ہم حق پر ہیں تو پھر ہم اللہ کے دین کے معاملے میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ! میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کے حکم کے خلاف نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ مجھے انشاء اللہ عزت سے سرفراز فرمائے گا۔ ‘‘ بعد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صلح کی شرائط پر غور کیا تو اس کے فائدے نظر آئے اور آپ رضی اللہ عنہ پشیمان ہوئے اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرتے رہے۔ حالانکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بے چینی صرف اللہ کی محبت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے تھی۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اعتماد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بے تابی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمایا: ’’ اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ !کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ کے سچے رسول نہیں ہیں؟‘‘ انھوں نے جواب میں فرمایا: ’’ بے شک وہ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پرنہیں ہے؟ ‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ بے شک ہم حق پر ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ تو ہم کیوں اللہ کے دین کے معاملے میں ذلت کو اختیار کریں؟ ‘‘ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ! وہ اللہ کے رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدد گار ہے۔ اسی لئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے اور حکم کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایاتھا کہ ہم خانہ کعبہ کا طواف اور عمرہ کریں گے؟‘‘حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہاں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ لیکن کیا انھوں نے تم سے یہ فرمایا تھا کہ ہم اسی سال عمرہ اور طواف کریں گے ؟ ‘‘ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ نہیں ! انھوں نے ایسا نہیں کہا تھا۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ بے شک تم عمرہ اور طواف ( اگلے سال) کرو گے۔‘‘

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی محبت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح کی تمام شرائط طے ہو گئیں تو صلح نامہ لکھوانے پر اتفاق ہو گیا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو صلح نامہ لکھنے کا حکم دیا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو: ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘یہ سن کر سہیل بن عمرو نے کہا: ’’ اللہ کی قسم !میں رحمن اور رحیم کو نہیں جانتا۔ تم یوں لکھو۔’’ بسمک اللہم ‘‘( اللہ تیرے نام سے ) جس طرح عرب لوگ لکھتے ہیں۔ ‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ’’ ہم تو بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے۔‘‘ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بسمک اللھم‘‘ لکھ دو۔‘‘ اور آگے فرمایا: ’’ ( آگے لکھو) اللہ کیرسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا: ’’ اگر ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو رسول مانتے تو عمرہ کرنے اور طواف کرنے سے کیوں روکتے؟ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے جنگ کیوں کرتے؟ اسے اس طرح لکھوائیں۔ محمد بن عبداللہ کی طرف سے ۔‘‘ ( اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ ، ’’رسول اللہ‘ ‘لکھ چکے تھے) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو کی بات سن کر فرمایا۔ اللہ کی قسم ! میں اللہ کا رسول ہوں۔ چاہے تم لوگ کتنا بھی جھٹلائو۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ رسو ل اللہ کا لفظ مٹا کر محمد بن عبداللہ لکھ دو : ’’ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں ’’رسول اللہ ‘‘کا لفظ مٹا سکوں۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجھے بتائو کہاں لکھا ہے؟ ‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے وہ جگہ بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مٹا دیا۔

صلح نامہ کی تحریر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صلح نامہ لکھا گیا۔ اس صلح نامہ کی تحریر یہ ہے۔ ’’یہ وہ صلح نامہ ہے ۔ جس پر محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو نے صلح کی۔ دونوں نے دس سال تک ہتھیاررکھ دینے کا عہد کیا۔ یہ لوگ امن سے رہیں ایک دوسرے سے تعرض نہ کریں۔ ( یعنی تکلیف نہ پہنچائیں)اس طرح سے کہ نہ خفیہ چوری ہو اور نہ خیانت ہو۔ یہ معاہدہ ہمارے درمیان ( فتنہ کو بند کرنے کے لحاظ سے) ایک بند صندوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو(شخص یا قبیلہ ) چاہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی ذمہ داری میں داخل ہو تو اسے اجازت ہے اور جو شخص ( یا قبیلہ) قریش کے عہد میں داخل ہو تو اسے اجازت ہے۔ ان ( قریش) میں سے جو شخص بغیر اپنے ولی ( ذمہ دار یا بزرگ ) کی اجازت کے بغیر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کے پاس آئے گا تو اس کو وہ اس کے ولی کے پاس واپس کر دیں گے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )کے ساتھیوں میں سے جو قریش کے پاس آئے گا تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے۔ اس سال محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )ہمارے پاس سے واپس چلے جائیں اور اگلے سال اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس طرح مکہ مکرمہ میں تین دن قیام کریں کہ ہمارے یہاں سوائے ان ہتھیاروں کے کوئی ہتھیار لے کر داخل نہ ہوں گے۔ جو مسافر کے ہتھیار ہوتے ہیں اور وہ تلواریں ہیں جو چمڑوں کے نیاموں میں رکھی ہوتی ہیں ۔‘‘ اس معاہدہ صلح نامہ پر گواہ کے طور پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ، حویطب بن عبد العزیٰ اور مکر ز بن حفص نے دستخط کئے۔

حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کی آمد اور واپسی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح نامہ لکھا جا چکا تھا۔ لیکن ابھی فریقین اور گواہوں کے دستخط نہیں ہوئے تھے کہ زنجیروں میں بندھے حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ گرتے پڑتے جیسے تیسے مکہ مکرمہ سے نومیل کا فاصلہ طے کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حدیبیہ میں حاضر ہوئے۔ ( حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تھا اور انہیں ان کے باپ سہیل بن عمرو نے زنجیروں میں باندھ کر قید کر رکھا تھا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جیسے ہی حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان کی مدد کے لئے دوڑ پڑے اور ان کی مدد کر کے لانے لگے۔ سہیل بن عمرو نے اپنے جوان بیٹے کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دیکھا تو اس نے کہا : ’’ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم) یہ اس صلح نامہ کی پہلی شرط ہے جس کا میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے یوں فیصلہ چاہتا ہوں کہ اسے میری طرف لوٹا دیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابھی صلح نامہ کی تحریر مکمل نہیں ہوئی ہے اور گواہوں کے دستخط ہونا باقی ہیں۔‘‘ اُس نے کہا : ’’ ( اگر میرے بیٹے کو واپس نہ کریں گے) اللہ کی قسم! تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے صلح نہیں کروں گا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے ( ابو جندل رضی اللہ عنہ کو) میرے حوالے کر دو۔ ‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا: ’’ میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اجازت دے دے۔‘‘ اس نے کہا: ’’ میں اجازت نہیں دوں گا۔‘‘ آخر کار حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو اس کے باپ سہیل بن عمرو کے حوالے کر دیا گیا۔ اس نے بیٹے کو طمانچہ مارا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خون کھول اٹھا اور وہ تیزی سے آگے بڑھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا۔ حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انھوں نے فرمایا: ’’ اے مسلمانوںکی جماعت ! مجھے مشرکین کی طرف لوٹا یا جا رہا ہے۔ حالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں نے کس قدر تکلیف برداشت کی ہے اور مجھے اللہ کے راستے میں سخت عذاب دیا گیا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابو جندل رضی اللہ عنہ ! چند روز صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب طلب کرو۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا اور رہائی کا راستہ پید ا فرما دے گا۔ میں مجبور ہوں کہ میں نے عہد ( صلح ) کر لیا ہے اور میں عہد کے خلاف نہیں کر سکتا۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اٹھ کر حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا: ’’ اے ابو جندل رضی اللہ عنہ !تم چند روز صبر کرو۔ یہ مشرک لوگ ہیں اور انمیں سے ہر ایک خون ایسا ہے جیسے کُتّے کا خون ۔‘‘ یہ واقعہ تھوڑا تھوڑا سیرت کی کتابوں میں مختلف الفاظ میں مذکور ہے۔ ہم نے ان الفاظ کو بہت حد تک آسان کر کے لکھا ہے اور پورے واقعہ کو ایک مربوط شکل دینے کی کوشش کی ہے۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے محبت اور دشمنی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کو نبھایا اور حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا۔ اس واقعہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت غمگین تھے۔ اس واقعہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت کرنے اور دشمنی کرنے کا بہترین نمونہ سامنے آیا ہے۔ نہ تو سہیل بن عمرو سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کوئی دشمنی تھی اور نہ ہی حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کوئی قریبی رشتہ دار تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے ان سے محبت کی اور ان کے دکھ اور تکلیف کو دیکھ کر غمگین ہو گئے۔ یہ تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سہیل بن عمرو جو کہ حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کا باپ تھا اس سے دشمنی صرف اس لئے کر رہے تھے کہ وہ مشرک تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکار کر رہا تھا۔ یہ ہے اللہ کے لئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت اور دشمنی کہ بیٹے سے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محبت کر رہے ہیں ۔ کیوں کہ وہ مسلمان ہیں اور باپ سے دشمنی کر رہے ہیں کیوں کہ وہ کافر اور مشرک ہے۔ اب ذرا ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت اور دشمنی کر رہے ہیں یا نہیں ۔یا پھر اپنے مطلب اور فائدے کی زندگی گزار رہے ہیں۔

قربانی اور سر منڈوانا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کی اصل اپنے پاس رکھی اور ایک نقل لکھوا کر سہیل بن عمرو کو دے دی اور وہ صلح نامہ کی کاپی اور اپنے بیٹے حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو لے کر واپس چلا گیا اور صلح حدیبیہ مکمل ہو گئی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : ’’ اٹھو! قربانی کرو اور سر منڈائو۔‘‘ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش بیٹھے رہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری اور تیسری مرتبہ فرمایا۔ لیکن (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اتنے غمگین تھے کہ ) کوئی نہیں اٹھا۔ ( در اصل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ امید تھی کہ ہو سکتا ہے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ارادہ بدل دیں) یہ دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تشریف لائے اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے صورت حال کا تذکرہ کیا۔ ( اس سفر میں اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں ۔ا س کا ذکر ہم اس سے پہلے کر چکے ہیں۔ ) اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے مشورہ دیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے کچھ نہ کہیں اور خاموشی سے جا کر اپنی قربانی کر دیں اور سر مونڈھنے والے کو بلا کر سر منڈا لیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے مشورے پر عمل کیا اور خاموشی سے جا کر قربانی کر دی اور حضرت خراش بن اُمیہ رضی اللہ عنہ سے سر منڈانے لگے۔ ( یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سمجھ گئے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ پر قائم رہیں گے) تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی قربانی کی اور ایک دوسرے سے سر منڈوائے۔

فتح مبین

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دس یا بیس دنوں تک حدیبیہ میں ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس روانہ ہوئے ۔ امام زہری ( جلیل القدر تابعی) فرماتے ہیں۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آرہے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان پہنچے توا للہ تعالیٰ نے سورہ فتح نازل فرمائی اور فرمایا: ترجمہ ’’ بے شک ( اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم )ہم نے تمہیں روشن اور کھلم کھلا فتح عطا فرما دی۔‘‘ ( سور ہ فتح آیت نمبر1)(اللہ تعالیٰ نے مکمل سورہ فتح نازل فرمائی تھی ۔ لیکن ہم یہاں موقع کی مناسبت سے کچھ ہی آیات ذکر کریں گے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مکمل سورہ فتح سنائی اور فرمایا کہ ’’صلح حدیبیہ ‘‘در اصل ’’فتح مبین‘‘ ہے تو انھوں نے تعجب سے دریافت کیا: ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا یہ فتح مبین ہے؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !قسم ہے اُس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ بے شک یہ ’’عظیم الشان فتح ‘‘ہے۔‘‘ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ ’’ بے شک جن لوگوں نے تم سے بیعت کی ا نھوں نے اللہ سے بیعت کی۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو اس بیعت کو توڑے گاتو اس کا وبال اس کے اوپر ہے اور جو اس عہد ( بیعت ) کو جو اس نے اللہ سے کیا ہے اسے پورا کرے گا تو بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کو اجر عظیم عنایت فرمائے گا۔‘‘ ( سورہ فتح آیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت بڑی بشارت ( خوش خبری) سنائی ہے۔ اس کے بعدا للہ تعالیٰ نے اس سے بھی بڑی بشارت دی اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے: ( ترجمہ) ’’بے شک اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہو گیا۔ جب وہ تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔ پس جان لیا اُس ( اللہ تعالیٰ ) نے وہ بات جو اُن کے دلوں میں تھی۔ پھر اُن پر اس نے چین اور اطمینا ن نازل فرمایا اور جلد ملنے والی فتح انہیں عنایت فرمائی۔‘‘ ( سورہ فتح آیت نمبر18) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ خوش خبری دی کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا ہے اور فتح مبین یعنی صلح حدیبیہ کی وجہ سے بہت جلد اللہ تعالیٰ ایک اور فتح عطا فرمائے گا اور کچھ ہی دنوں بعدا للہ تعالیٰ نے’’ خیبر کی فتح‘‘ عطا فرمائی۔

صلح حدیبیہ’’ فتح مبین‘‘ کیوں ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کو’’ فتح مبین‘‘ فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ فتح مبین سے مراد حدیبییہ کی فتح ہے یا صلح حدیبیہ ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ آپ حضرات (تابعین حضرات ) انا فتحنا لک فتحا ً مبینا ۔ (یعنی فتح مبین) سے مراد’’ فتح مکہ‘‘ کو لیتے ہیں۔ جب کہ فتح مکہ کے فتح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ لیکن حدیبیہ کے روز جو’’ بیعت رضوان‘‘ ہوئی ہم ’’فتح مبین‘‘ اس کو شمار کرتے ہیں۔ اس بارے میں امام زہری ( جلیل القدر صحابی) فرماتے ہیں کہ صلح حدیبیہ ایسی’’ عظیم الشان فتح ‘‘ہے کہ اس سے پہلے اس شان کی فتح نصیب نہیں ہوئی تھی۔ کیوں کہ جنگ کی وجہ سے ایک دوسرے سے ( مسلمان اور کافر) مل جل نہیں سکتے تھے۔ صلح کی وجہ سے لڑائی ختم ہو گئی اور امن قائم ہو گیا اور جو لو گ اسلام کو ظاہر نہیں کر سکتے تھے وہ لوگ اعلانیہ طور پر اسلام کے احکام بجا لانے لگے۔ آپس کی منافرت اور کشیدگی دور ہوئی۔ بات چیت کا موقع ملا۔ مسائل ِ اسلامیہ پر گفتگو اور مناضرہ کا موقعہ ملا۔ قرآن پاک کو سنا گیا اور سنایا گیا جس کا اثر یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ سے لے کر فتح مکہ کے درمیان اس قدر کثرت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا کہ اعلانِ نبوت سے لے کر اس وقت تک اتنے لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔

اللہ پر ایمان اور ستاروں پر ایمان

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے سفر پر 6 ؁ہجری میں نکلے تو سفر کے دوران رات کے وقت بارش ہونے لگی۔ پس صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں نماز پڑھا دی تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو کہ ایسا کیوں ہوا ؟ ‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ میرے بندے نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ مجھ پر ایمان بھی رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر بھی کرتا ہے۔ پس جو یہ کہتا ہے کہ ہم پر اللہ کی رحمت سے ، اللہ کے برسانے سے اور اللہ کے فضل و کرم سے بارش برسی وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کی تاثیر کا منکر ہے۔ لیکن جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی تو وہ ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرا منکر ( یعنی میرا انکار کرنے والا ) ہے۔ ‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں