20 سیرت سید الانبیاء ﷺ
صلح حدیبیہ قسط ۔ 1
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
رسول اللہ ﷺ کی عمرہ کے لئے روانگی، مکہ مکرمہ میں ہنگامی حالات، بد یل بن ورقہ خزاعی کی سفارت، عروہ بن مسعود کی تجویز، حضرت خراش بن اُمیہ خزاعی کی سفارت
سید الانبیاء ﷺ کا عمرہ کا خواب
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان ، ماہ رمضان اور ماہِ شوال 6 ہجری کے یہ تینوں مہینے مدینہ منورہ میں گزارے۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں امن کے ساتھ داخل ہوئے اور عمرہ کر کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے سر منڈائے اور بعض صحابہ کرام نے بال کٹوائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ خواب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سنایا تو مہاجرین صحابہ کرام کے ساتھ ساتھ انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے بے چین ہو گئے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہوتا ہے۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں اور جو چیز وہ خواب میں دیکھتے ہیں وہ حقیقت میں ضرور ہوتی ہے۔ لیکن کب یہ خواب حقیقت میں ظاہر ہوگا اس کا وقت مقرر نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اس خواب کو حقیقت کی شکل میں ظاہر فرما دیتا ہے۔جیسا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خواب حقیقت کی شکل میں اگلے سال ظاہر ہوا اور اگلے سال سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں امن سے داخل ہوئے اور عمرہ کیا اور بال کٹوائے یا سر منڈائے)
سید الانبیاء ﷺ کی عمرہ کے لئے روانگی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے جا رہے ہیں۔اس لئے جو بھی ساتھ چلنا چاہتا ہے وہ بھی عمرہ کے لئے تیاری کر لے اورساتھ چل سکتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تیاری مکمل کر کے حاضر ہو گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف لے گئے ۔ غسل فرمایا۔ دو کپڑے پہنے اور باہر تشریف لائے اور اپنی سواری ’’ قصویٰ ‘‘ پر سوار ہو کر روانہ ہو ئے۔ ذی القعدہ 6 ہجری کا پیر کا دن تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اپنا نائب حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ امام عبدالملک بن ہشام کے مطابق حضرت نمیلہ بن عبداللہ لیشی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے کہ کوئی بھی جنگی سامان ساتھ میں نہیں تھا۔ صرف تلواریں ساتھ میں تھیں وہ بھی میانوں کے اندر رکھی ہوئی تھیں اور قربانی کے اونٹ ساتھ تھے۔ اس سفر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سفر کر رہی تھیں۔
مکہ مکرمہ میں ہنگامی حالات
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ عمرہ کے لئے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تو آس پاس کے قبائل کے لوگ بھی عمرہ کے لئے ساتھ ہو لئے۔ اس طرح ایک بہت بڑا کارواں تیار ہو گیا۔ اس میں صحابہ کرام کی تعداد کے بارے میں الگ الگ روایات ہیں۔ کچھ روایات میں تیرہ سو، کچھ میں چودہ سو، کچھ میں سو ا پندرہ سو، کچھ میں سولہ سو اور کچھ روایات میں تو اٹھارہ سو کی تعداد بھی آئی ہے۔ اب اصل تعداد کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ بہر حال اتنا تو طے ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بہت بڑا لشکر تھا اور جب اتنے بڑے کارواں کی خبر مکہ مکرمہ پہنچی تو قریش کے مشرکین میں بہت زیادہ گھبراہٹ پیدا ہو گئی اور مکہ مکرمہ میں جنگ کے لئے ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا اور قریش جنگ کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ فوراً حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا) کو دو سو سواروں کا ایک لشکر دے کر’’ مقدمتہ الجیش ‘‘( لشکر کا اگلا حصہ) کے طور پر روانہ کر دیا گیا اور نائب سپہ سالار عکرمہ بن ابو جہل کوبنایا گیا۔ یہ لوگ تیزی سے سفر کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ مکہ مکرمہ کے قریش کا ارادہ تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے۔
سید الانبیاء ﷺ اور مسلمانوں کا احرام باندھنا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر اپنے ساتھیوں کے ساتھ’’ ذی الحلیفہ ‘‘میں پڑھی اور قربانی کے اونٹ منگا کر ان پر قربانی کا نشان ( جسے ھدی کا قلاوہ کہا جاتا ہے) لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی احرام باندھ لیا ۔ قربانی کے اونٹوں کی تعداد ستر70 تھی ۔ جن میں ابو جہل کا وہ اونٹ بھی تھا جو غزوہ بدر میں مال ِ غنیمت کے طور پر ملا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بشر بن سفیان خزاعی رضی اللہ عنہ کو جاسوسی کے لئے مکہ مکرمہ بھیجا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ وہ تیزی سے مکہ مکرمہ پہنچے اور قریش کی باتیں سنیں۔ ان کی رائے معلوم کی اور حالات کا جائزہ لیکر تیز ی سے واپس ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’عذیر الاشطاط ‘‘میں ملے۔ جو وادیٔ عسفان کے پیچھے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام معلومات فراہم کیں ۔ا سی دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کو لے کر پہنچ گئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے لشکر کو لے کر آگے بڑھیں اور مقابلے کے لئے تیار رہیں۔ وہ آگے بڑھے اور اپنے لشکر کو قریش کے لشکر کے سامنے صف بستہ کر دیا۔ اسی دوران ظہر کی نماز کا وقت ہو ا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو صلوٰۃ الخوف پڑھائی۔
سید الانبیاء ﷺ نے راستہ بد ل دیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت بشر بن سفیا ن رضی اللہ عنہ عسفان کے پاس آکر ملے اور بتایا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کی خبر سن کر درندوں کی کھالیں پہن لی ہیںاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے کے لئے مقام ذی طویٰ ( مکہ مکرمہ کا مضافاتی مقام) تک آکر وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبر کو سن کر فرمایا : ’’ قریش کو کیا ہو گیا ہے؟ حالانکہ جنگ اُن کو کھا گئی ہے۔ ( یعنی انھوں نے جان و مال کا بہت نقصان اٹھایا ہے) پھر بھی یہ باز نہیں آرہے ہیں اگر یہ لوگ مجھے تمام عرب کے مقابلے پر چھوڑ دیں اور خود الگ ہو جائیں تو ( ان کے لئے ) بہتر ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھے عرب پر غالب کرے گا تو ان کو اختیار ہو گا کہ چاہے اسلام قبول کریں یا جنگ کریں اور اگر میں عرب میں مغلوب ہو گیا تو ان کا مطلب انھیں مفت میں حاصل ہو جائے گا۔ پس قریش کیا خیال کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم !میں اس دین ( اسلام ) کی اشاعت کے واسطے جہاد کرتا رہوں گا۔ جس دین ( اسلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو غالب کر دے۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایسا کون شخص ہے ؟ جو ہم کو ایسا راستہ بتائے جس راستے سے قریش سے ٹکرائو نہ ہو۔‘‘ ( یعنی عام راستے سے ہٹ کر راستہ بتائے) بنو اسلم میں سے ایک شخص نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا راستہ میں جانتا ہوں۔‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ بد ل دیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کو راستہ بدلتے دیکھا تو واپس قریش کے پا س آگئے۔
حدیبیہ میں پڑائو
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ بدل دیااور اس راستے سے ہٹ گئے جس راستے پر قریش انتظار کر رہے تھے اور پہاڑوں کی گھاٹیوں کا بہت ہی دشوار گزار راستہ اختیار کیا۔ قبیلہ بنو اسلم کا شخص انھیں پہاڑوں اور گھاٹیوں کے بہت ہی تکلیف دہ اور کٹھن راستے سے گزار کر ایک نرم زمین کی طرف لایا۔ اس راستے سے گزر کر نرم زمین تک پہنچنے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت زیادہ تکلیفیں اٹھانا پڑیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نرم زمین پر پہنچ کر فرمایا: ’’ اے مسلمانو!کہو کہ ہم اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔‘‘ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ الفاظ کہہ کر دعا مانگی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارا کہنا ایسا ہے جیسے بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ لفظ’’ حِطّۃ‘‘کہو۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کہا تھا۔‘‘ ( یعنی بنی اسرائیل کو جو لفظ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا تو انھوں نے بدل کر کہا تھا۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وہی الفاظ کہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے۔ اس لئے بنی اسرائیل ناکام ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامیاب ہوئے۔) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دائیں طرف سے مقام حمض کے پیچھے سے ہو کر’’ ثنییۃ الحرار ‘‘کے راستے سے مکہ مکرمہ کے نچلے علاقے میں ’’حدیبیہ‘‘ پہنچے تو راستے میں قریش کے جاسوسوں نے دیکھا اور جا کر اطلاع دی کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )’’ثنیۃ الحرار‘‘ کے راستے سے گزر رہے ہیں اور شاید ’’حدیبیہ ‘‘کے مقام سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ ’’حدیبیہ‘‘ میں پہنچتے ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی’’ قصوا ‘‘بیٹھ گئی۔ لوگ کہنے لگے: ’’ اونٹنی تھک گئی ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تھکی نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح بیٹھ جانا اس کی عادت ہے۔ بلکہ اس کو اس نے ( یعنی اللہ تعالیٰ نے) روکا ہے۔ جس نے اصحاب ِ فیل کو روکا تھا۔ آج قریش صلہ رحمی کے جو حقوق مجھ سے طلب کریں گے میں ان کو دوں گا۔ پھر اسی جگہ پڑائو ڈالنے کا حکم دے دیا۔
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ مسلمانوں کو پڑائو ڈالنے کا حکم دیا تھا وہ وسیع میدان تھا اور وہاں ایک پانی کا چشمہ یا کنواں یا پانی کا گڑھا تھا۔ کچھ روایات کے مطابق اس چشمے یا کنویں یا گڑھے کا نام حدیبیہ ہے۔ اسی لئے اس میدان کو یا مقام کو حدیبیہ کہا جاتا ہے اور ایک روایت کیمطابق وہاں ایک درخت تھا اور اس کا نام حدیبیہ تھا اور اسی مناسبت سے اس جگہ کا نام حدیبیہ رکھا گیا۔ یہ ایک بستی ہے جو مکہ مکرمہ کے قریب ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ حرم شریف میں داخل ہے۔ حدیبیہ مکہ مکرمہ سے نومیل (9)کے فاصلے پر ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے روزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو یا اس سے بھی کہیں زیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ پس ہم نے ایک کنویں کے پاس پڑائو ڈالا۔ جب ہم اس کنویں کا سارا پانی نکال چکے (یعنی کنویں میں اتنا کم پانی تھا کہ تمام مسلمانوں کو نہیں مل سکا تھا اور ختم ہو گیا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ( اور کنویں کا پانی ختم ہونے کے بارے میں بتایا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لائے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پانی کا ایک ڈول لائو۔‘‘ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا پھر دعا فرمائی۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن منگایا ۔ وضو کیا ، کُلّی فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا فرمائی اور بچا ہو ا پانی کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر میں اتنا پانی( اس کنویں میں ) جمع ہو گیا کہ ہم اور ہماری سواریاں سیراب ہو گئیں۔ اور واپس ہونے تک ہم سب استعمال کرتے رہے۔
سید الانبیاء ﷺ کا ایک اور معجزہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے’’ سفرِ عمرہ‘‘ میں کئی معجزات پیش آئے۔ ان میں سے ایک اور معجزہ ہم پیش کر تے ہیں۔ غالباً یہ معجزہ حدیبیہ کی طرف آتے وقت یا حدیبیہ سے مدینہ منورہ واپس کے سفر میں پیش آیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ ( یہ وہی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں جنھوں نے غزوہ خندق یا احزاب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دعوت کی تھی۔ اس کا تفصیلی ذکر ہم غزوہ خندق میں کر چکے ہیں) حدیبیہ کے روز ہم سب لوگ پیاس سے بے چین ہو گئے۔ ( کیوں کہ سب کے پا س پانی ختم ہو گیا تھا صرف تھوڑا سا پانی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں پانی لے کر وضو کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا حال دریافت فرمایا تو ہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس وضو کرنے اور پینے کے لئے پانی نہیں ہے۔ بس اتنا ہی پانی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن میں ہے اور ہم نے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دیاہے۔‘‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ ( اتنا سننے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں اپنی مبارک انگلیاں ڈال دیں۔ ( اور یہ دیکھ کر ہم سب حیران رہ گئے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے نکل رہے تھے۔ ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔‘‘ ( اور تمام پانی کے برتن بھی بھر لئے ) حدیث سننے والوں میں سے کسی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ’’ اس روز آپ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد کتنی تھی؟‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی سب کے لئے کافی ہو جاتا ۔ لیکن ہم اس وقت پندرہ سو تھے۔‘‘
بد یل بن ورقہ خزاعی کی سفارت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ حدیبیہ ‘‘کے مقام پر پڑائو ڈال دیا تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ حدیبیہ کے چشمہ یا کنواں یا گڑھے میں پانی کم تھا ( جو تمام افراد کے لئے کافی نہ ہو سکا) اور ختم ہو گیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے بارے میں عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا اور فرمایا: ’’ اس تیر کو اس گڑھے میں گاڑ دو جس کا پانی ختم ہو گیا ہے۔‘‘ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وہ اس گڑھے میں گاڑ دیا۔ راوی کہتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم !اس میں اتنا پانی جوش مارنے لگا ( اور نکلنے لگا) کہ تمام مسلمان اس کا پانی استعمال کر تے رہے۔ یوں لگا جیسے گڑھے میں پانی کے کئی سوتے پھوٹ گئے تھے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں ہی قیام فرما رہے۔اسی دوران قریش کی جانب سے بدیل بن ورقا آیا ۔ یہ قبیلہ بنو خزاعہ کا سردار تھا اور اپنے قبیلے کے چند افراد کے ساتھ آیا تھا۔ اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر کہا: ’’ میں نے بنو کعب اور بنو عامر بن لوی کو حدیبیہ کے چشموں پر پڑائو ڈالے ہوئے دیکھا ہے۔ ان کے ساتھ دودھ دینے والی اونٹنیاں ہیں۔ ( یہ اشارہ ہے کہ وہ لمبی لڑائی لڑیں گے) اور وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی زیارت کرنے سے روکیں گے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہم کسی سے لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ بلکہ ہم عمرہ کرنے آئے ہیں اورقریش کو جنگ نے نقصان پہونچایا ہے اور کمزور کر دیا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں ان کے لئے ایک مدت مقرر کر دیتا ہوں کہ وہ ہمارے کاموں اور سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ ڈالیں اور ہمارے اور دوسرے عرب قبائل کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ اگر اس مدت میں ہم کامیاب اور غالب ہو جائیں تو قریش کو اختیار ہو گا کہ اسلام قبول کر کے نیک نیتی سے ہم میں شامل ہو جائیں اور اگر ہم مغلوب ہو گئے تو وہ ہم سے جنگ کئے بغیر اپنا مطلب حاصل کر لیں گے۔ اب اگر قریش نے میری یہ پیش کش ٹھکرادی اور ہم پر جنگ مسلط کر دی تو قسم ہے اس ذات ِ اعلی کی ( اللہ تعالیٰ کی ) جس کے قبصہ میں میری جان ہے۔ میں اللہ کے دین ( اسلام ) کے لئے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں گا جب تک میں زندہ ہوں۔ یا پھر اللہ کا دین ( اسلام ) غالب ہوجائے۔ اور اللہ کا حکم نافذ ہو جائے۔‘‘
عروہ بن مسعود کی تجویز
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کش سن کر بدیل بن ورقا نے کہا: ’’ ٹھیک ہے ! میں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بات قریش تک پہنچادیتا ہوں۔‘‘ اور بدیل بن ورقا نے واپس آکر قریش سے کہا: ’’ میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے ایسی اور ایسی بات کہی ۔ لیکن وہ مرعوب نہیں ہوئے۔ ہاں انھوں نے تمہارے سامنے ایک دوسری تجویز رکھی ہے۔ ‘‘ یہ سن کر قریش کے کچھ جذباتی نوجوانوں نے کہا: ’’ہمیں ان کی کسی تجویز کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن بزرگ اور سمجھ دار قریش نے انہیں ڈانٹا اور بدیل بن ورقا سے پوچھا : ’’ انھوں نے کون سی تجویز پیش کی ہے ۔ ‘‘ بدیل بن ورقہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کش اور تمام گفتگو بتادی۔ عروہ بن مسعود نے یہ پیش کش سننے کے بعد کہا: ’’ اے لائق احترام قریشیو! میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔‘‘ قریش نے کہا : ’’ تم بہت ہی سمجھ دار اور قابل اعتبار ہو۔‘‘ یہ سن کر عروہ بن مسعود نے کہا : ’’ میرے خیال میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )نے تمہیں جو پیش کش کی ہے وہ اچھی ہے۔ اسے قبول کر لو اور مجھے اجازت دو کہ میں اس بارے میں کچھ اور تفصیل سے بات کر کے آئوں۔ قریش نے کہا۔ ٹھیک ہے۔‘‘
قریش کے دو سفیر ( ایلچی)
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کش سننے کے بعد قریش نے اپنے دو سفیر ایک کے بعد ایک بھیجے اوپر ہم نے صحیح بخاری کی حدیث پیش کی اسمیں عروہ بن مسعود کا ذکر ہے۔ لیکن دوسری سیرت کی کتابوں میں عروہ بن مسعود سے پہلے قریش کے دو اور سفیروں کا ذکر ہے۔ اس لئے ان دو سفیروں کا ذکر کر کے ہم پھر انشاء اللہ صحیح بخاری کی حدیث کو آگے بڑھائیں گے۔ بدیل بن ورقہ کی بات سننے کے بعد قریش نے مکر زبن حفص عامری کو اپنا سفیر بنا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آتے دیکھا تو فرمایا: ’’ یہ شخص عذر کرنے والا ہے۔‘‘ جب یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو بدیل بن ورقا کو فرمایا تھاکہ ہم صرف خانہ کعبہ کی زیارت اور عمرہ کے لئے آئے ہیں۔ اس نے واپس آکر قریش کو وہی بات بتائی جو بدیل بن ورقا خزاعی نے بتائی تھی۔ اس کے بعد قریش نے حلیس بن علقمہ یا ابن زیان کو جو مختلف قبیلوں کی فوج کا سردا ر تھا اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔ یہ قبیلہ بنو حارث بن عبد مناۃ کا تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ کے دیہاتی علاقوں میں آباد تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے آتا دیکھا تو فرمایا: ’’ یہ ان لوگوں میں سے ہے جو اللہ کو ماننے والے ہیں ۔ اس کو قربانی کے اونٹ دکھا دو تا کہ اس کو ہماری بات کا زیادہ اعتبار ہو۔ جب اس نے قربانی کے اونٹ دیکھے تو وہیں سے قریش کے پاس واپس چلا گیا اور قریش سے سارا قصہ بیان کیا کہ یہ لوگ لڑنے نہیں آئے ہیں۔ قریش نے کہا تو ایک دیہاتی آدمی ہے تو ان باتوں کو کیا سمجھے جا اپنی جگہ پر بیٹھ جا۔ یہ بات سن کر حلیس کو غصہ آگیا اور کہا: ’’ اے قریش !ہم نے تم سے اس بات پر عہد نہیں کیا ہے کہ لوگوں کو خانہ کعبہ کی زیارت اور عمرہ کرنے سے روکیں گے۔ اللہ کی قسم !یا تو تم لوگ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو خانہ کعبہ کی زیارت اور عمرہ کرنے دو یا پھر میں اپنا تمام لشکر لے کر چلا جاتا ہوں۔‘‘ قریش نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فوراً کہا : ’’ دیکھو تم برا مت مانو۔ ہم خود اس کوشش میں ہیں کہ تم خوش ہو جائو۔‘‘
سید الانبیاء ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہو نے سے روکنے کی قریش کوشش کر رہے تھے اور اس سلسلے میں انھوں نے عروہ بن مسعود کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ (اب صحیح بخاری کی حدیث کی طرف واپس آتے ہیں) عروہ بن مسعود نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی وہی پیش کش کی جو اس سے پہلے کے تین سفیروں کو کر چکے تھے۔ عروہ بن مسعود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر کہا:’’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )!مجھے بتائیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم (قریش ) کو بالکل ہلاک کر دیں تو کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے اہل عرب میں سے کسی ایسے شخص کے بارے میں سنا ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اپنی قوم کو ہلاک کیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہوئی ( یعنی پورے عرب سے لڑنا پڑا) تو میں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم )کے لئے ایسے بااعتماد لوگ نہیں دیکھتا ۔ میں کچھ ملے جلے لوگوں ( یعنی الگ الگ قبائل کے لوگوں) کو دیکھ رہا ہوںاور ایسا لگتا ہے کہ جنگ کے وقت یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ ‘‘یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سے اس کے بُت لات (جس کی وہ پوجا کرتا تھا) کے بارے میں سخت بات کہہ کر فرمایا: ’’ کیا ( تو سمجھتا ہے کہ ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ ‘‘ عروہ نے پوچھا : ’’ یہ کون ہیں؟ ‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ’’ یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔‘‘ اس نے کہا: ’’ اللہ کی قسم ! اگر آپ (رضی اللہ عنہ)کا مجھ پر احسان نہ ہوتا جس کا میں نے ابھی تک بدلہ نہیں چکا یا ہے تو میں آپ ( رضی اللہ عنہ) کو جواب دیتا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ عروہ بن مسعود اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا اور دوران گفتگو اپنا ہاتھ بڑھا کر بار بار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی پکڑنے کی کوشش کرتا تھا اور ہر بار حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے۔ وہ عروہ بن مسعود کے ہاتھ پر اپنی تلوار کا دستہ مارتے اور داڑھی کو ہاتھ لگانے سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے : ’’ اپنے ہاتھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک سے ہٹا۔‘‘ ( علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اہل عرب کی یہ عادت تھی کہ چاپلوسی یا خوشامد کرتے وقت داڑھی کو ہاتھ لگاتے تھے ) اس لئے خوشامد کے طور پر عروہ بن مسعود جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا تھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور تعظیم کے خیال سے اسے جھڑک دیتے تھے۔ عروہ بن مسعود ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا بات کر رہا تھا ۔ جب کئی مرتبہ ایسا ہوا تو اس نے سر اٹھا کر حضرت مغیرہ بن ثعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اس وقت زرہ اور خود (لوہے کی ٹوپی) پہنے ہوئے تھے۔ اس لئے وہ پہچان نہ سکا اور پوچھا : ’’ یہ کون ہیں؟ ‘‘ اسے بتایاگیا کہ یہ حضرت مغیرہ بن ثعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ عروہ بن مسعود کے بھتیجے ہیں اور انھوں نے کئی کافروںکو قتل کر دیا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا اور ان کافروں کی دیت چچا ہونے کی حیثیت سے عروہ بن مسعود نے ادا کی تھی۔ اس نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر کہا : ’’ اوبے وفا !کیا میں نے تیری مدد نہیں کی تھی؟‘‘ اس کے بعد پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔
ایسے ساتھی اور محبت اور ادب کرنے والے کہیں نہیں دیکھے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عروہ بن مسعود نے کافی دیر گفتگو کی ۔ اسی دوران وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی جائزہ لیتا رہا اور دیکھتا رہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور بہت ہی ادب سے نظریں نیچی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی حکم دیتے تو سبھی دوڑ کر اسے پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ادب سے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے اور ادب کی وجہ سے دھیمی آواز میں بات کرتے تھے اور اپنی آواز کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی نہیں ہونے دیتے تھے۔ یہ سب دیکھنے کے بعد عروہ بن مسعود واپس قریش کے پاس آیا اور بولا: ’’ اے گروہ ِ قریش! اللہ کی قسم! میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں اللہ کی قسم ! میں نے ان میں سے کسی بادشاہ کو اس طر ح نہیں دیکھا کہ اس کے درباری اس کی اتنی تعظیم اور ادب اور محبت کرتے ہوں جتنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھی ان کی تعظیم اور ادب اورمحبت کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم !اگر وہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )تھوکتے بھی ہیں تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے ہاتھ آگے کر دیتے ہیں اور ان کا تھوک ان کے کسی نہ کسی ساتھی کے ہاتھ پر گرتا ہے اور وہ اسے اپنے چہرے پر مَل لیتا ہے۔ جب محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )ان کو کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو سب کے سب اس کی تعمیل کرنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں اور جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )وضو کرتے ہیں تو لوگ ان کے وضو کا استعمال شدہ پانی نیچے گرنے نہیں دیتے ہیں اور اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے چہروں پر مَلتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے استعمال شدہ وضو کے پانی کے لئے ایک دوسرے سے لڑ پڑتے ہیں۔ ( اور اگو کسی کو پانی نہیں مل پاتا ہے تو وہ دوسرے صحابی کے گیلے ہاتھ پر ہاتھ پھیر کر اپنے چہرے پر مَل لیتا ہے) اور جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )ان سے گفتگو کرتے ہیں تو سب کے سب انتہائی ادب سے سر جھکا کر سنتے ہیں اور جب کوئی بات انہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )سے کہنی ہوتی تو ادب اور تعظیم کی وجہ سے دھیمی آواز میں سر جھکا کر نظریں نیچی کر کے کہتے ہیں اور ادب اور تعظیم کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کا کوئی بھی ساتھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے نظریں ملا کر بات نہیں کرتا ہے۔ میری تو رائے یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )نے تمہیں بہت اچھی پیش کش کی ہے۔ اسے قبول کر لو۔‘‘
حضرت خراش بن اُمیہ خزاعی کی سفارت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سفیروں کو یہی پیش کش کی کہ وہ قریش سے ہی کہیں کہ قریش ان کے راسے سے ہٹ جائیں اور ہر سفیر نے قریش کو یہی سمجھایا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کی بات مان لولیکن قریش نے کوئی جواب نہیں دیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خراش بن اُمیہ خزاعی کو اپنا سفیر بنا کر قریش کی طرف بھیجا کہ وہ انھیں سمجھائیں۔ حضرت خراش بن امیہ خزاعی قریش کے پاس پہنچے تو قریش نے ان سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اور انہیں گرفتار کر کے ان کے اونٹ کو ذبح کر ڈالا اور ان کو بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے قبیلے کے مشرکوں ( جو قریش کے ساتھ تھے) نے درمیان میں پڑ کر ان کی جان بچائی اور حضرت خراش بن امیہ خزاعی رضی اللہ عنہ پیدل ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں واپس آئے اور تمام واقعہ بیان کیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں