پیر، 3 جولائی، 2023

19 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


19 سیرت سید الانبیاء ﷺ

مختلف سرایا۔ قسط 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


سریہ ابو عبیدہ بن جراح، سریہ حضرت زید بن حارثہ، سریہ حضرت عبدالرحمن بن عوف، سریہ حضرت علی، سریہ حضرت عبداللہ بن رواحہ، سریہ حضرت عمر و بن اُمیہ ضمری


سریہ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ربیع الآخر 6 ؁ہجری میں اطلاع ملی کہ بنو ثعلبہ ، بنو انحار اور بنو حلبمقامِ حیضہ کی چراگاہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ ہوا یہ کہ قبیلہ بنو ثعلبہ، قبیلہ انحار اور قبیلہ حلب کے تالاب خشک ہو گئے۔ اس لئے یہ تینوں قبیلے المراض کے خشک تالاب پر جمع ہوئے تو انھوں نے طے کیا کہ مدینہ منورہ سے سات میل کے فاصلے پر مسلمانوں کے مویشی حیضہ کی چراگاہ میں چرتے ہیں۔ وہاں حملہ کر کے ان مویشیوں کو لوٹ لیا جائے۔ اطلاع ملتے ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 40مجاہدین کو روانہ فرمایا۔ راتوں رات سفر کر کے صبح ہوتے وقت آپ رضی اللہ عنہ مجاہدین کے ساتھ وہاں پہنچے تو دشمن بھاگ کر پہاڑوں میں چھپ گئے۔ ایک شخص گرفتار ہوا ۔ اس نے اسلام قبول کر لیا تو اسے چھوڑ دیا اور دشمنوں کے اونٹ اور مویشی جو وہ چھوڑ کر بھاگ گئے تھے وہ لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کا خمس نکال کر تقسیم فرمادیا۔

سریہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الآخر 6 ؁ہجری میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مجاہدین کو بنو سلیم کی طرف بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ مجاہدین کے ساتھ الجموم میں پہنچے۔ یہ بطن نخل کے بائیں جانب مضافات میں ہے اور بطن نخل ، مدینہ منورہ سے چار برد ( 48میل) کے فاصلے پر ہے۔ وہاں قبیلہ مزینہ کے ایک عورت ملی۔اس نے وہاںبنو سلیم کے ٹھہرنے کے مقامات میں سے ایک مقام کی نشاندہی کی۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے وہاں حملہ کیا تو اونٹ اور بکریاں ملیں اور کچھ لوگوں کو قیدی بنا یا۔ ان قیدیوں میں اس عورت کا شوہر بھی تھا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سب کو لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے شوہر کو اس عورت کے حوالے کر دیا اور ہبہ کر دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 70ستر مجاہدین کو قریش کے قافلے کی طرف جمادی الاول 6ہجری میں روانہ فرمایا۔ اس قافلے کے ذمہ دار حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد) تھے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے قافلے کے تمام سامان پر قبضہ کر لیا اور حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دُختر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ( حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیوی) نے پناہ دی۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ( حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا تفصیل سے ذکر ہم نے غزوہ بدر میں کیا ہے) غزوہ بدر کے قیدیوں کے فدیہ میں ہم نے تفصیل سے بتایا ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے قافلے کا تمام مال حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا تھا اورآپ رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ والوں کا تمام سامان انھیں لوٹا دیا تھا اور وہیں مکہ مکرمہ میں قریش کے مشرکین کے سامنے اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور پھر مدینہ منورہ لوٹ آئے۔

سب سے بہتر اور سمجھدار مسلمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرماتھے۔ اور ان کی تعلیم و تربیت فرما رہے تھے۔ کہ ایک انصاری نوجوان مسجد نبوی میں داخل ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے اور حضرت ابو بکر صدیق ، میرے والد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی ، حضر ت علی المرتضیٰ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت حذیفہ بن یمان ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنم اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری نوجوان مسجد نبوی میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سلام کیا اور ہمارے ساتھ بیٹھ گیا۔ ( کچھ دیر بعد) اس نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !سب سے بہتر کون سا مسلمان ہے؟ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں ۔‘‘ اس کے بعد اس نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کون سا مسلمان سب سے زیادہ سب سے زیادہ ہوشیار اور سمجھدار ہے ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرنے والا ہے اور موت کے آنے سے پہلے سب سے زیادہ موت کی تیاری کرنے والا ہے۔ اس قسم کا مسلمان سب سے زیادہ سمجھدار اور ہوشیار ہے۔ ‘‘

پانچ خطرناک برائیاں

سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سن کر وہ انصاری نوجوان ساکت ہو گیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس میں بیٹھے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’ پانچ خصلتیں نہایت خطرناک ہیں (1) جس قوم میں کھلم کھلا بے حیائی پھیل جاتی ہے تو اس قوم میں طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیلتی ہیںجو پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوتی تھیں (2) جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے وہ قحط سالی اور مشقتوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور ظالم بادشاہ ان پر مسلط کر دیا جاتا ہے (3) جو قوم اپنے مال کی زکوۃ نہیں نکالتی ان سے بارش روک لی جاتی ہے۔اگر جانور نہ ہوتے تو بالکل بارش سے محروم کر دیئے جاتے (4) جو قوم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا عہد توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ اجنبی دشمنوں کو ان پر مسلط کر دیتا ہے اور وہ غیر قوم کے لوگ ان کے ہاتھوں سے سب کچھ چھین لیتے ہیں (5) اور جب پیشواء ( علمائے کرام) اور حکام اللہ کی کتاب کے خلاف فیصلہ کرنے لگیں اور متکبر اور سر کش ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان میں آپ میں پھوٹ ڈال دیتا ہے۔ ‘‘

سریہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ تم تیاری کر لو میں تمہیں ایک مہم پر آج کل میں بھیجنے والا ہوں۔ ‘‘یہ ماہ ِشعبان 6 ؁ہجری چل رہا تھا۔ اس سے پہلے رجب 6 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بنو فزارہ کی سرکوبی کے لئے وادی القریٰ میں بھیجا تھا۔ دوسرے دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اپنے سامنے بٹھا کر اپنے دست مبارک ( مبارک ہاتھوں سے ) سے ایک سیاہ عمامہ اُن کے سر پر باندھا اور چار انگشت ( انگلیوں ) کا شملہ پیچھے چھوڑا اور فرمایا: ’’ اے ابن عوف رضی اللہ عنہ! اسی طرح عمامہ باندھا کرو۔ اس طرح بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا : ’’ ایک جھنڈا لا کر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دو ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور اپنے اوپر درود پڑھا اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ یہ جھنڈا لے کر اللہ کی راہ میںجہاد کے لئے جائو۔ جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان سے قتال کرو اور نہ تو خیانت کرنا اور نہ ہی بد عہدی کرنا اور نہ کسی بچے کو قتل کرنا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات سو(700) مجاہدین کے ساتھ انھیں دومتہ الجندل میں قبیلہ’’بنو کلب‘‘ کی طرف روانہ کیا اور فرمایا : ’’ اگر وہ لوگ تمہاری دعوت کو قبول کر لیں ( یعنی اسلام قبول کر لیں) تو وہاں کے سردار کی بیٹی سے نکاح کر لینا۔ ‘‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ شعبان 6 ؁ہجری میں مجاہدین کے ساتھ دومتہ الجندل کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر تین دنوں تک مسلسل انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ تیسرے روز قبیلہ کے سردار اصبع بن عمر کلبی نے اسلام قبول کیا۔ جو مذہباً نصرانی ( عیسائی) تھااور اس کے ساتھ بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سردار کی بیٹی تُما ضِر بنت اصبع سے نکاح کر لیا اور مدینہ منورہ ساتھ لے آئے اور یہی حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن کی والدہ ہیں۔ ‘‘

سریہ حضرت علی رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ خیبر کے یہودیوں کی مدد کرنے کے لئے بنو سعد جمع ہو رہے ہیں۔ ان کی سرکوبی کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سو100مجاہدین کو روانہ کیا۔ جب یہ لوگ مقام ’’النح ‘‘پر پہنچے تو قبیلہ بنو سعد کا ایک جاسوس ملا ۔ مقام النح ایک پانی کا چشمہ ہے۔ جو خیبر اور فدک کے درمیان ہے اور فدک کا فاصلہ مدینہ منورہ سے چھ رات کا راستہ ہے۔ بنو سعد کے جاسوس نے جان کی امان کی شرط پر بنو سعد کے پڑائو کا پتہ بتایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اچانک وہاں حملہ کیا۔ لیکن بنو سعد اور ان کا سردار دبر بن علیم اسلامی لشکر کو دیکھ کر بھاگ گئے اور جاتے جاتے بار برداری کے اونٹوں کو بھی بھگا لے گئے۔ اس کے باوجود مال غنیمت کے طور پر پانچ سو 500اونٹ اور دو ہزار 2000بکریاں حاصل ہوئیں۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہ سب لے کر مدینہ منورہ واپس آئے اور جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ یہ سریہ شعبان 6 ؁ہجری میں ہوا۔

سریہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو تجارتی قافلے کا ذمہ دار بنا کر شام کی طرف روانہ کیا۔ اس قافلے میں مدینہ منورہ کے مسلمانوں کا تجارتی مال تھا۔ راستے میں وادی القریٰ میں بنو بدر کی ایک شاخ بنو قزارہ کے لوگوں نے حملہ کیا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چند مسلمان تھے انھوں نے مقابلہ کیا لیکن تجارتی قافلے کے سامان کو نہ بچا سکے اور زخمی ہو گئے اور بنو قزارہ کے لوگوں نے تمام سامان لوٹ کر لے گئے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے زخم اچھے ہو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مجاہدین کا لشکر دیا۔ اسے لے کر آپ رضی اللہ عنہ نے وادی ٔ القریٰ میں بنو قزارہ پر حملہ کیا اور تجارتی قافلے کا تمام سامان اور ساتھ میں مال غنیمت بھی لے کر مدینہ منورہ واپس آئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گلے سے لگا لیا۔ وادی القریٰ مدینہ منورہ سے سات رات کے فاصلے پر ہے۔ یہ سریہ ماہِ رمضان 6 ؁ہجری میں پیش آیا۔

 گستاخِ رسول ابو رافع کا قتل

سید لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان 6 ؁ہجری میں خیبر کی طرف گستاخ رسول ابو رافع سلام بن ابی حقیق ( اسے عبداللہ بن ابی حقیق بھی کہا جاتا تھا) کو قتل کرنے کے لئے حضرت عبداللہ بن عتیک ، حضرت عبداللہ بن انیس ، حضرت ابو قتادہ اسود بن خزاعی اور حضرت مسعود بن سنان رضی اللہ عنہم کو روانہ کیا۔ یہ لوگ خیبر پہنچ کر پوشیدہ ہو گئے۔ابو رافع سلام بن ابی حقیق کا قتل کب ہوا؟ اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں آیا کہ یہ واقعہ 3 ؁ہجری میں ہوا۔ کچھ روایات میں آیا کہ 5 ؁ ہجری میں ہوا اور کچھ روایات میں آیا کہ 6 ؁ ہجری میں ہوا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ کچھ روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ غزوہ خندق کے لئے تمام عرب کے مشرکوں کو مسلمانوں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاکر لانے والے یہودیوں میںیہ گستاخ بھی شامل تھا اور غزوہ خندق کے بعد خیبر کے یہودیوں کے پاس بھاگ گیا تھا۔صحیح بخاری میں ہے کہ ابو رافع گستاخی کرتا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتا تھااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشمنوں کی مدد کرتا تھا۔ وہ اپنے قلعے میں تھا جب یہ لوگ اس کے قریب پہنچے سورج غروب ہو گیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ’’ تم یہیں بیٹھو! میں قلعہ کے اندر جانے کی کوئی تدبیر کرتا ہوں۔ ‘‘ جب قلعہ کے صدر دروازے کے قریب پہنچا تو میں اس طرح بیٹھ گیا جیسے کوئی قضائے حاجت کرتا ہو۔ دربان نے یہ سمجھ کر ہمارا ہی کوئی آدمی ہے اور آواز دی : ’’ اللہ کے بندے اگر اندر آنا ہے تو جلدی آجائو، میں دروازہ بند کر رہا ہوں۔‘‘ میں فوراً اندر داخل ہو گیا اور ایک طرف چھپ کر بیٹھ گیا۔ یہ حدیث ابھی جاری ہے۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ

صحیح بخاری کی حدیث جاری ہے۔ حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ ابو رافع بالا خانے ( اوپری منزل) پر رہتا تھا اور رات میں قصہ گوئی ( کہانیاں سنانے ) کا پروگرام چلتا تھا۔ جب یہ پروگرام ختم ہو گیا اور لوگ اپنے گھر واپس چلے گئے تو دربان نے دروازہ بند کر کے کنجیوں کا حلقہ ایک کھونٹی میں ٹانگ دیا۔ جب سب سو گئے تو میں اٹھا اور کھونٹی سے کنجیوں کا حلقہ اتار کر دروازہ کھولتا ہوا بالا خانہ پہ پہنچا اور جو دروازہ کھولتا تھا اسے اندر سے بند کردیتا تھا۔ تا کہ لوگوں کو اگر میری خبر بھی ہو جائے تب بھی میں اپنا کام کر گزروں جب میں بالا خانے پر پہنچا تو ابو رافع اپنے گھر والوں کے ساتھ سور ہا تھا اور وہاں اندھیرا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ بد بخت کہاں سور رہا ہے؟ میں نے آواز دی: ’’ اے ابو رافع !‘‘ اس نے پوچھا : ’’ کون ہے؟ ‘‘ میں نے اندازے سے آواز کی طرف تلوار ماری مگر وار کامیاب نہیں ہوا۔ اس بد بخت نے چیخ ماری تو میں نے آواز بدل کر ہمدرانہ لہجے میں پوچھا : ’’ اے ابو رافع! یہ کیسی آواز تھی؟ ‘‘ اس نے جواب دیا : ’’ ابھی کسی نے مجھ پر تلوار سے حملہ کیا تھا۔ ‘‘ یہ سنتے ہی میں نے اس کی آواز کی طرف بھر پور حملہ کیا۔ اس بار وار کامیاب رہا۔ اس کے بعد میں نے تلوار اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنی زور سے دبائی کہ وہ اس کی پشت تک پہنچ گئی میں سمجھ گیا کہ اب میرا کام پورا ہو گیا اور تیزی سے ایک ایک دروازہ کھولتا ہو ا باہر آیا۔ جب سیڑھی سے اترنے لگا تو آخری زینے پر مجھے ایسا اندازہ ہو ا کہ سیڑھی ختم ہو گئی ہے اور زمین آگئی ہے اور اترنے میں میں گر پڑا اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ چاندنی رات تھی ، میں نے اپنا عمامہ کھول کر ٹانگ کو باندھا اور اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا : ’’ تم لوگ چلو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری سنائو میں یہیں بیٹھا ہوں اور اس کی موت اور قتل کا اعلان سن کر آئوں گا۔‘‘ جب صبح ہوئی اور مرغ نے بانگ دی تو خبر دینے والے نے قلعہ کی فصیل سے اس کی موت کا اعلان کیا تو میں وہاں سے تیزی سے روانہ ہوا اور اپنے ساتھیوں سے آملا اور کہا : ’’ تیز چلو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخ کو ہلاک کر دیا۔ ‘‘ ہم وہاں سے چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور خوش خبری دی اور پورا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ’’ اپنی ٹانگ پھیلائو۔ ‘‘ میں نے اپنی ٹانگ پھیلا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک ( مبارک ہاتھ) ٹانگ کے ٹوٹے ہوئے حصے پر پھیر ا تو ایسا لگا جیسے کبھی ٹوٹی ہی نہیں تھی۔‘‘ ( یعنی بالکل درست ہو گئی اور تمام درد ختم ہو گیا)

سریہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گستاخ ِ رسول ابو رافع سلام یا عبداللہ بن ابی حقیق کو دوزخ میں پہنچا دیا تو خیبر کے یہودیوں نے اسیر بن زارم کو اپنا سردار بنا لیا اور وہ بد بخت بھی بنو غطفان اور دوسرے عرب قبائل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے لگا اور جنگ کے لئے آمادہ کرنے لگا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خفیہ طور پر تین صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تحقیق کے لئے بھیجا ۔ ان لوگوں نے آکر خبر دی کہ اطلاع درست ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس مجاہدین کو روانہ فرمایا اور فرمایا : ’’ انہیں بلا لائو تا کہ ان سے بات کی جائے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسیر بن زارم کو جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا تو وہ تیس آدمیوں کو لے کر ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ ایک ایک اونٹ پر دو دو آدمی تھے۔ ایک یہودی اور ایک مسلمان ۔ لیکن راستے میں یہودیوں کی نیت بدل گئی اور انھوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہا تو مسلمانوں نے انہیں قتل کر دیا۔ اسیر بن زارم نے دو مرتبہ اپنے ساتھ بیٹھے حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ پر دو مرتبہ حملہ کیا جو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی اور زخمی بھی ہوئے۔ جب تمام مسلمان مدینہ منورہ آئے اور پورا واقعہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے تم کو ظالموں سے نجات دی۔‘‘ اور حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے زخم پر اپنا لعابِ مبارک لگا دیا تو وہ فوراً چھا ہو گیااور چہرہ پر ہاتھ پھرکر دعا فرمائی۔

ابو سفیان اور ایک اعرابی ( دیہاتی) کا منصوبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل جدو جہد اور کوشش سے مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرہ بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتا جا رہا تھا اورمکہ مکرمہ کے مشرکین مدینہ منورہ کی بڑھتی ہوئی اسلامی طاقت سے خوفزدہ تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم مسلمانوں کے اولین دشمن ہیں۔ اسی لئے انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ( نعوذ باللہ) قتل کی سازش کی۔ ابو سفیان بن حرب نے قریش کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا : ’’ کیا کوئی ایسا نہیں ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو (نعوذ باللہ) دھوکے سے قتل کر دے کیوں کہ وہ بازاروں میں اور ہر جگہ کھلے عام اکیلے گھومتے ہیں۔‘‘ ( اور کوئی باڈی گارڈ نہیں ہوتا ہے) ایک اعرابی آگے آیا اور اس نے کہا : ’’ میں اپنے آپ کو (اس کام کے لئے) سب سے زیادہ تیز مضبوط اور اپنے دل کو مطمئن پاتا ہوں اور اگر تو مجھے قوت دے ( یعنی مال و دولت سے میری اور میرے گھر والوں کی ذمہ داری سنبھال لے) تو میں ان کی جانب روانہ ہو جائوں گا اور دھوکہ سے قتل کر دوں گا۔ میرے پاس ایک خنجر ہے جو گِدھ کے پر کی طرح ہے۔ اس سے میں ان پر حملہ کروں گا ۔ پھر میں کسی قافلہ میں مل جائوں گا اور بھاگ کر اس جماعت سے آگے بڑھ جائوں گا کیوں کہ میں راستے سے خوب واقف ہوں اور اسے خوب جانتا ہوں۔ ‘‘

اعرابی کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اعرابی کی بات سن کر ابو سفیان نے کہا: ’’ تُو ہمارا دوست ہے اور اسے اونٹ اور خرچ دیا (ا ور گھر والوں کی ذمہ داری لی) اور کہا : ’’ اپنے کام کو پوشیدہ رکھنا ۔‘‘ و ہ رات میں روانہ ہوا اور مسلسل پانچ رات سفر کر کے چھٹی صبح ظہر الحرہ میں پہنچا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ بتا دیا گیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کے یہاں آئے ہوئے تھے اور وہاں کی مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے مسجد کے دروازے پر اپنی سواری کو باندھا اور مسجد میں داخل ہونے لگا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: ’’ اس شخص کا برا ارادہ ہے ۔ ‘‘ وہ آگے بڑھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرے اسی وقت حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ تیزی سے آگے بڑھے اور اس کی تہمند کا ابدر کا حصہ پکڑ کر کھینچا تو اتفاق سے خنجر پر ہاتھ پڑ گیا۔ وہ اعرابی گھبرا گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سختی سے اس کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ سچ بتاتُوکون ہے؟ ‘‘ اس اعرابی نے جان کی امان چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان کی امان دے دی تو اس نے پورا واقعہ بیان کر دیا کہ کس طرح ابو سفیان کے منصوبے کے مطابق آیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا اور چھوڑ دیا۔ ( وہ حیرانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کچھ دیر دیکھتا رہا) پھر اس نے اسلام قبول کر لیا۔

سریہ حضرت عمر و بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس اعرابی نے اسلام قبول کر لیا اور تمام واقعہ پوری تفصیل سے بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی کاروائی کے طور پر حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمہ بن اسلم انصاری رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا۔ دونوں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور رات کے وقت خانہ کعبہ کا طواف کرنے لگے تو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ ( انھوں نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا) نے دیکھا اور حضرت عمرو بن اُمیہ رضی اللہ عنہ کو پہچان لیا اور قریش کو خبر کر دی۔ قریش کو ان سے اندیشہ ہوا اور ان کی تلاشی لی۔ زمانہ جاہلیت میں بھی آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادر تھے۔ ( اسی لئے مکہ مکرمہ کے لوگ آپ رضی اللہ عنہ سے خوف زدہ تھے اور کوئی نقصان پہنچانے کی ہمت نہ کر سکے۔ حالانکہ ابو سفیان بار بار کہہ رہا تھا کہ یہ مجھے قتل کرنے کے ارادے سے آئے ہیں)حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے یہ حالات دیکھے تو حضرت سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ ان حالات میں ہمارا واپس جانا بہتر ہے۔‘‘ دونوں حضرات مدینہ منورہ واپسآنے لگے۔ راستے میں انہیں قریش کے دو جاسوس ملے۔ مقابلہ ہوا اور ایک جاسوس مارا گیا اور ایک کوگرفتا ر کر کے مدینہ منورہ لے آئے۔ حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ تمام گزرے حالات بیان کر رہے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے سنتے جا رہے تھے۔ آخر میں ہنس پڑے اور دعائے خیر دی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں