18 سیرت سید الانبیاء ﷺ
مختلف سرایا۔ قسط 1
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان سے نکاح، نجاشی نے نکاح پڑھایا، سریہ عکاشہ بن محسن، سریہ محمد بن مسلمہ،
غزوہ ذی قرد 6 ہجری یا غزوہ غابہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنو لحیان سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ آئے تو چند راتوں کے گزرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ عینہ بن حصن جو غزوہ بنو لحیان کے وقت اپنیگروہ کو لے کر پہاڑوں میں چھپ گیا تھا وہ وہاں سے اتر کر غابہ میں آیا ۔ یہیں پر چشمۂ ذی قرد بھی ہے۔ یہاں پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں کی چراگاہ ہے۔ عینہ بن حصن فزاری نے اس چراگاہ پر چھاپا مارا اور اونٹنیوں کو پکڑ کر لے گیا۔حضرت ابو ذر غِفاری رضی اللہ عنہ کے بیٹے اونٹنیوں کی حفاظت پر متعین تھے۔ انھوں نے مقابلہ کیا لیکن کافروں نے انہیں شہید کر دیا اور ان کی والدہ یعنی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی بیوی کو پکڑ کر لے گئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اطلاع ملتے ہی اکیلے تیزی سے اُن کے تعاقب میں روانہ ہوئے اور ایک ٹیلہ پر کھڑے ہو کر’’ یا صباحاہ‘‘ کے تین نعرے لگائے جس سے تمام مدینہ منورہ گونج اٹھا۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بہت اچھے تیر انداز تھے۔ تیزی سے پیچھا کر کے عینہ بن حصن اور اس کے ساتھیوں کو پانی کے ایک چشمہ پر پکڑا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن پر تیر برساتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ’’ میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کے دن معلوم ہو جائے گا کہ کس نے شریف عورت کا دودھ پیا ہے اور کون کمینہ ہے۔‘‘ ادھر مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ کی حفاظت کے لئے چھوڑا اور چہرے پر رومال باندھے ہوئے’’ الحدید‘‘ کی طرف روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے وہ حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ زرہ اور خود ( لوہے کی ٹوپی) پہنے ہوئے تھے اور ننگی تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے نیزے پر جھنڈا باندھ دیا اور فرمایا : ’’ جائو یہاں تک کہ تمہیں لشکر ملیں گے اور میں بھی تمہارے نقش قدم پر آرہا ہوں ۔ ‘‘ حضرت مقداد بن عمر و رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں تیزی سے آگے بڑھا اور مقابلے کی جگہ پہنچا تو دیکھا کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ دشمنوں سے مقابلہ کر رہے ہیں اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ تیر اندازی کر رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں بھی مقابلے میں شریک ہو گیا۔‘‘ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے مسعدہ کو قتل کیا ۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے اثار بن عمر و کو قتل کیا۔ حضرت مقداد بن عمر و رضی اللہ عنہ عمرو بن حبیب بن عینہ کو قتل کیا۔ مشرکین تمام اونٹنیاں اور قیدی اور اپنا سامان چھوڑ کر بھاگے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ پیدل ہی دوڑتے ہوئے اُن کا پیچھا کرتے جا رہے تھے اور تیر چلاتے جا رہے تھے۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پانچ سو یا سات سو کا لشکر لے کر وہاں پہنچ گئے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے واپس آکر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اُن کو فلاں جگہ پیاسا چھوڑ کر آیا ہوں۔ اگر سو مجاہدین مجھے مل جائیں تو میں ان سب کو گرفتار کر کے لائوں گا ۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابن اکوع رضی اللہ عنہ! جب تم اُن پر قابو پائو گے تو نرمی کرنا۔ ‘‘مشرکین شکست کھا کربھاگ گئے اور تمام اونٹنیاں اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بھی چھوڑ گئے اور ساتھ ہی اُن کی تیس یمنی چادریں مالِ غنیمت کے طور پر ملیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ایک دن اور ایک رات قیام فرمایا اور’’ صلوٰۃ الخوف ‘‘پڑھی اور پانچ دنوں بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ اس غزوہ کو غزوۂ غابہ بھی کہا جاتا ہے۔ اور غزوہ ذی قرد بھی کہا جاتا ہے۔
اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح
غزوہ غابہ یا ذی قرد ربیع الاول 6ھجری میں ہوا تھا۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔ اس نکاح کی تاریخ میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ یہ نکاح 5 ہجری میں ہوا۔ کچھ روایات میں ہے کہ 6 ہجری میں ہوا ۔ کچھ روایات میں ہے کہ 7 ہجری میں ہوا۔ اور کچھ روایات میں یہاں تک آیا ہے کہ فتح مکہ کے بعد یہ نکاح ہوا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ہم یہاں اس نکاح کا ذکر اس لئے کر رہے ہیں تاکہ تسلسل برقرار رہے کیوں کہ آگے چل کر صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ذکر آنے والا ہے اور اس وقت آپ کے ذہن میں سوال پیدا نہ ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح کب ہوا تھا۔ اسی لئے ہم یہاں اس نکاح کا ذکر کر رہے ہیں۔
اُ م المومنین سیدہ اُم حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان کی ہجرت ِ حبشہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ میں’’ اعلان نبوت‘‘ فرمایا تھا تو اس وقت جن سعادت مندوں نے اسلام قبول کیا اُن میں اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا’’ السابقون الاولون ‘‘میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا نام’’ رملہ بنت ابو سفیان‘‘ ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں۔ ہندہ بنت عتبہ والدہ ہے اور ابو سفیان بن حرب والد ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کی عمر اعلان ِ نبوت کے وقت 17سترہ برس تھی۔ آپ رضی اللہ عنہا کا شوہر عبید اللہ بن جحش تھا۔ ( یہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہا کا بھائی تھا)۔ سید اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر نے شروع میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور قریش کیمظالم سے تنگ آکر دونوں نے حبشہ کی ہجرت کی تھی۔ وہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام حبیبہ رکھا گیا۔ اسی کے نام پر آپ رضی اللہ عنہا کی کنیت ’’اُم حبیبہ ‘‘ہے۔ حبشہ جا کر عبید اللہ بن جحش عیسائی ہو گیا اور شراب پینے لگا۔ مگر سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا اسلام پر قائم رہیں آخر کا ر اسی شراب نوشی کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ حبیبہ جن کے نام پر سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کی کنیت ہے وہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں یا حبشہ میں پیدا ہوئیں اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سیدالانبیاء ﷺ کے وکیل
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ سیدہ اُم حبیبہ رضی ا للہ عنہا کے شوہر نے عیسائی مذہب قبول کر لیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہا بدستور اسلام پر قائم ہیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ سید ہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کی دلجوئی کی جائے ۔ ادھر حبشہ میں عدت کے دوران سید ہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص انھیں ’’یا اُم المومنین ‘‘کہہ رہا ہے۔ اس خواب سے آپ رضی اللہ عنہا بہت گھبرائیں اور عدت ختم ہونے کے بعد یکا یک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کا پیغام آپہنچا۔ ادھر مدینہ منورہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عَمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی ( یاد رہے کہ نجاشی اصمحہ ہے اور لقب نجاشی ہے۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ جس طرح رومیوں کے ہر بادشاہ کا لقب ’’قیصر ‘‘ہوتا تھا اور مصریوں کے ہر بادشاہ کا لقب’’ فرعون ‘‘ ہوتا تھا اور فارسیوں کے ہر بادشاہ کا لقب’’ کسریٰ ‘‘ہوتا تھا ۔ا سی طرح حبشہ کے ہر بادشاہ کا لقب ’’نجاشی‘‘ ہوتا تھا) کے پاس یہ کہلا بھیجا کہ اگر سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا مجھ سے نکاح کرنا چاہیں تو تم میری طرف سے’’ وکیل ‘‘بن کر نکاح پڑھوا کر انھیں میرے پاس بھیج دو ۔ ( خیال رہے کہ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے) حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کنیز’’ ابرہ ‘‘کو سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ میرے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا ہے۔ اگر تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کرنا منظور ہو تو اپنی طرف سے کسی کو وکیل بنا لو۔ ‘‘
حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے نکاح پڑھایا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کے ذریعے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا اس پیغام کو سن کر اتنی خوش ہوئیں کہ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کی کنیز ابرہ کو اپنے کچھ زیورات انعام کے طور پر دے دیئے اور حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ ( اُن کے ماموں کے لڑکے ہیں یعنی ماموں زاد بھائی ہیں) کو اپنے نکاح کا ’’وکیل ‘‘بنا کر حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیا۔ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے شاہی محل میں نکاح کی مجلس منعقد کی اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم کو جو اس وقت حبشہ میں موجود تھے ان سب کو اس نکاح کی مجلس میں بلایا اور خود ہی خطبہ پڑھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کر دیا اور چار سو دینار مہر اپنے پاس سے ادا کیا جو اسی وقت حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی گئی۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مجلس سے اٹھنے لگے تو حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ’’ آپ لوگ بیٹھے رہیئے انبیاء علیہم السلام کا یہ طریقہ ہے کہ نکاح کے وقت کھانا کھلایا جاتا ہے ‘‘ یہ کہہ کر حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے کھانا منگایا اور سب کی دعوت کی ۔ تمام حضرات نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔
حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کا خطبہ ٔ نکاح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے کیا۔ انھوں نے یہ خطبہ نکاح پڑھا: ’’ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تما م کائنات کا مالک ہے۔ قدوس ہے ، السلام ہے۔ غالب ہے۔ عزیز ہے اور جبّار ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم’’ وہی نبی ‘‘ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی۔ اما بعد ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو یہ تحریر فرمایا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے کردوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے چار سو دینا رمہر پر کیا۔‘‘ اس کے بعد چار سو دینا ر سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے وکیل حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیئے گئے۔ اس کے بعد حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور تقریرفرمائی: ’’ تمام تعریف اللہ کے لئے ہے میں اللہ کی حمد و ثنا کر تا ہوں اور اس سے مغفرت مانگتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیںہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تا کہ اس دین ( اسلام ) کو تمام دینوں پر غالب کردے۔ چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے اما بعد!میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو قبول کیااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا۔ اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے۔‘‘ اس کے بعد نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے دعوت کھلائی۔
سید الانبیاء ﷺ کی خدمتِ اقدس میں سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دینے کے بعد حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجنے کی تیاری شروع کر دی۔ ادھر اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو جب مہر کی رقم ملی تو انھوں نے ابرہ کو بلا کر پچاس 50دینا ر اور دیئے لیکن ابرہ نے وہ پچاس دینا ر اور پہلے کے لئے ہوئے زیورات واپس کر تے ہوئے عرض کیا: ’’ بادشاہ ( حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ ) نے مجھ کو تاکید کی ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہا سے کچھ نہ لوںاور آپ رضی اللہ عنہا یقین کریں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکی ہوں اور اسلام قبول کر چکی ہوں۔ آج بادشاہ نے اپنی تمام بیگمات کو حکم دیا ہے کہ ان کے پاس جو بھی عطر یا خوشبو ہوں۔ اس میں سے ضرور آپ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ بھیجیں۔‘‘ دوسرے دن ابرہ وہ تمام خوشبویات لے کر حاضر ہوئیں ۔ اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ (تب تک حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روانگی کی تیاری مکمل کر لی تھی اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ انھیں مدینہ منورہ روانہ کر دیا تھا) میں نے وہ تمام خوشبویا ت رکھ لی اور اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں لے کر آئی۔ خوشبویات دیتے وقت ابرہ نے مجھ سے کہا تھا : ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سلام کہنا اور عرض کردینا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی ہوںاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اختیار کر لیا ہے۔ میری روانگی تک بار بار ابرہ یہ کہتی رہی کہ دیکھو میری درخواست کو بھول نہ جانا۔ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں پہنچی تو تمام حالات اور واقعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور اپنا سرِ مبارک ہلاتے رہے۔ آخر میں جب میں نے ابرہ کا سلام عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وعلیھا السلام ورحمتہ اللہ وبر کاتہُ۔‘‘
سریہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ماہ ربیع الاول 6 ہجری میں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی قیادت میں چالیس40مجاہدین کو غمر کی طرف روانہ فرمایا۔ غمر ، مرزوق کی جانب ہے۔ جو فید سے مدینہ منورہ کے راستے میں دو رات کی مسافت پر بنو اسد کا پانی کا گھاٹ ہے۔ ان کی رفتار بہت تیز تھی لیکن ان لوگوں نے تاڑ لیا تھا اور پہاڑوں میں جا کر چھپ گئے۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے اطراف میں آدمی دوڑائے تو ایک شخص گرفتار ہوا اسے امن دیا گیا تو اس نے وہاں کا پتہ دیا جہاں اونٹ چھپائے گئے تھے۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور اونٹوں کی جگہ پر چھا پا مارا تو دو سو اونٹ ہاتھ لگے۔ یہ سب لے کر آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے اور جنگ کی نوبت نہیں آئی۔
سریہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول 6 ہجری میں ہی حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دس مجاہدین کو بنو ثعلبہ اور بنو عوال کی طرف بھیجا ۔ یہ لوگ ذی القصہ میں جمع تھے۔ ذی القصہ مدینہ منورہ سے چوبیس 24میل کے فاصلے پر الذبدیہ کے راستے پر واقع ہے۔ جب یہ مجاہدین وہاں پہنچے تو دونوں قبیلے کے سو سے زیادہ آدمی وہاں موجود تھے۔ انھوں نے ان مجاہدین کو گھیر لیا۔ دونوں طرف سے تیر اندازی ہوئی۔ جب مسلمانوں کے تیر ختم ہو گئے تو تلوار سے مقابلہ کرنے لگے۔ آس پاس کے اعرابی بھی دشمنوں کی مدد کے لئے آئے۔ بہت زبر دست مقابلے کے بعد تمام صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بھی شدید زخمی تھے اور بے ہوش ہو کر گر گئے۔ دشمنوں نے سمجھا کہ شہید ہو گئے ہیں تو وہ سب چلے گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ہو ش آیا تو اتفاق سے ایک مسلمان وہاں سے گزر رہے تھے انھوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچادیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں چالیس مجاہدین کو بھیجا کہ دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے۔ لیکن وہ بھاگ گئے تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں