پیر، 3 جولائی، 2023

15 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


15 سیرت سید الانبیاء ﷺ

واقعہ رجیع، واقعہ بیئر معونہ، غزوۂ بنو نضیر

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


سیدہ ام حفصہ سے نکاح، واقعہ رجیع، بلیع الارض ‘‘حضرت خبیب، واقعی بیئر معونہ، رسول اللہ ﷺ پر یہودیوں کا قاتلانہ حملہ، غزوۂ بنو نضیر، انصار صحابہ کا ایثار، حضرت حسین بن علی کی پیدائش


منافقوں کے سردار کی تذلیل اور ضد

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رئیس المنافقین ( منافقوںکا سردار) عبداللہ بن اُبیّ بھی غزوہ احد کے لئے مدینہ منورہ سے نکلا تھا اور میدانِ اُحد کے قریب یا میدان احد میں اپنے تین سو منافق ساتھیوں کے ساتھ الگ ہو گیا تھا۔ ( اس کا تفصیلی ذکر ہم غزوہ اُحد میں کر چکے ہیں) غزوہ بدر کے بعد اس نے ( دکھاوے کا ) اسلام قبول کیا تھا۔ تب سے اس کا معمول تھا کہ جمعہ کے دن سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم خطبہ پڑھ چکتے تو یہ کھڑا ہوتا تھا اور کہتا تھا : ’’ اے لوگو!یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اندر موجود ہیں۔ تم کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بزرگی اور عزت عنایت فرمائی ہے۔ اس لئے تم کو لازم ہے کہ ان کی مدد اور اعانت کرو‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعریف کرتا تھا۔ غزوہ احد کے بعد کے جمعہ کو جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ مکمل کر چکے تو یہ منافقوں کا سردار کھڑا ہوا تو اس کے آس پاس بیٹھے مسلمانوں نے چاروں طرف سے اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچا اور کہا: ’’ اے اللہ کے دشمن بیٹھ جا۔‘‘تُو اس بات کا اہل نہیں ہے اور جیسے کام تو نے کئے ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔‘‘ پس عبداللہ بن اُبی ذلیل ہو کر وہاں سے لوگوں کو الانگتا پھلانگتا مسجد نبوی کے باہر نکل آیا اور یہ کہتا جا رہا تھا کہ میں تو ان کے کام میں پختگی چاہتا تھااور میرا اس کے علاوہ اور کیا مطلب تھا؟ ‘‘انصار میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کو مسجد نبوی کے دروازے پر ملے اور پوچھا : ’’کیا ہوا؟ ‘‘ وہ کہنے لگا : ’’میں تو کھڑے ہو کر ان کے کام کے پختہ ہونے کے واسطے تقریر بیان کر تا تھا۔ مگر انھیں کے چند صحابیوں نے میرے کپڑے کھینچ کر مجھے روک دیا۔‘‘ اُن انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ چلو میرے ساتھ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری مغفرت کی دعا کرائوں گا۔‘‘ اس بدبخت نے کہا: ’’ مجھے اُن کی دعا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں ۔ اُحد کا دن مسلمانوں کی آزمائش اور شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے کا دن تھا۔ اس روز اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شہادت کے مرتبے سے سرفراز فرمایا اور منافقین کا نفاق ظاہر کر کے ذلیل اور رسواء کیا۔

اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۳ ؁ ہجری کے بقیہ دو مہینے ذی القعدہ اور ذی الحجہ مدینہ منورہ میں گذارے ۔ اسی دوران ۳؁ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا سے ہوا۔ غزوہ بدر کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پہلی زوجہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی سیدہ رقیّہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا اور اسی دوران سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا کہ وہ ان کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیں۔ انھوں نے کوئی جواب نہیں دیاتو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کا پیغام دیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حفصہ رضی اللہ عنہا کو عثمان رضی اللہ عنہ سے اچھا شوہر ملے گا اور عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہا سے بہتر بیوی ملے گی۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے عرض کیا : ’’میں کچھ سمجھا نہیں۔ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیتا ہوں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی صاحبزادی سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا سے کر دیتا ہوں۔‘‘ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام دیا تو وہ خاموش رہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پیغام دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ روز کی مہلت مانگی اور بعد میں فرمایا کی ابھی میرا نکاح کا ارادہ نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تمام واقعہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیتا ہوں۔ ‘‘بعد میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے واقف تھا۔ اسی لئے خاموش رہاکیوں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مشورہ فرمایا تھا۔‘‘ اسی سال ۳؁ہجری ماہ رمضان المبارک میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ پید اہوئے ۔ اسی سال ۳ ہجری میں ماہِ شوال میں شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوا۔

سریہ حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدا لاسد رضی اللہ عنہا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ خویلد کے بیٹے طلیحہ اور سلمہ اپنی قوم کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے کے لئے جمع کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدا لاسد رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 150دیڑھ سو مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ یہ سریہ قطن کی جاب ہوا۔ قطن ایک پہاڑ ہے جو فیدکے مضافات میں ہے۔ وہاں بنو اسد بن خزیمہ کا چشمہ ٔ آب ( پانی کا چشمہ) ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سریہ یکم ( ایک ) محرم الحرام ۴؁ھجری میں بھیجا اور ان سے فرمایا: ’’ جائو یہاں تک کہ بنو اسد کے علاقہ میں پہنچو اور اس سے پہلے کہ بنو اسد کی جماعتیں تم پر حملہ کر یں۔ تم ان پر حملہ کردو۔‘‘ وہ تیز رفتاری سے روانہ ہوئے اور اصل راستے کو چھوڑ کر الاخبارسے گزرتے ہوئے قطن کے قریب پہنچ کر میدان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیااور تین غلاموں کو گرفتار کر لیا اور باقی بھاگ کر بنو اسد کے لشکر کے پاس جا کر انھیں خبر دی تو وہ سب منتشر ہو کر بھاگ گئے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو تین جماعتوں میں تقسیم کر کے الگ الگ سمتوں میں بھیجا ۔ اُن تینوں جماعتوں سے کسی نے مقابلہ نہیں کیا اور وہ اچھا خاصا مال ِ غنیمت لے کر آئے۔ ان میں بہت ساری بکریاں اور اونٹ تھے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ یہ سب لے کر مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مالِ غنیمت کو خمس نکالنے کے بعد ہر ایک کے حصہ میں سات اونٹ اور سات بکریاں حاضر آئیں۔

سریہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ محرم الحرام کو یہ اطلاع ملی کہ خالد بن سفیان ہذلی ولحیانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے لئے لشکر جمع کر رہا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ انیس رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دے کر روانہ کیا کہ خالد بن سفیان کا سر لے کر آئو۔ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اس سے جا کر ملے اور موقع پا کر اسے قتل کر کے اس کا سر کاٹ لیا اور ایک غار میں جا کر چھپ گئے۔ وہاں ایک مکڑی نے جالا تان دیا۔ خالد بن سفیان کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کی تلاش میںوہاں پہنچے اور مکڑی کا جالا دیکھ کر واپس ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اس غار سے نکلے اور رات میں سفر کرتے اور دن میں چھپ جاتے تھے۔ اس طرح 23محرم الحرام کو مدینہ منورہ پہنچے اور خالد بن سفیان کا سرسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد خوشی ہوئی اور ایک عصا انعام میں دیااور یہ ارشاد فرمایا: ’’اس عصا کو پکڑ کر جنت میں چلنا اور جنت میں عصا لے کر چلنے والے بہت کم لوگ ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا :’’یہ عصا قیامت کے دن تیرے اور میرے درمیان ایک نشانی ہوگی۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ ساری زندگی اس عصا کی حفاظت فرماتے رہے اور مرتے وقت وصیت کی تھی کہ یہ عصا میرے کفن میں رکھ دینا تو ایسا ہی کیا گیا۔

واقعہ رجیع

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے بعد سے مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے اور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت فرماتے رہے۔ صفر المظفر ۴ ہجری میں قبیلہ عَضل اورقارہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا: ’’ ہمارے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس لئے ہماری تعلیم و تربیت کے لئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہمارے ساتھ بھیج دیں کہ وہ ہمیں قرآن پاک کی تعلیم دیں گے اور ہمیں قرآن پڑھائیں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ جن میں سے چند نام یہ ہیں۔ (۱) حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ (۲) حضرت مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ (۳) حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ (۴) حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ ( ۵) حضرت زید بن وثنہ رضی اللہ عنہ (۶) حضرت خالد بن بکیر رضی اللہ عنہ (۷) حضرت معتب بن عبید رضی اللہ عنہ ( یہ حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ کے علاقائی بھائی ہیں) اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عضل اورقارہ کے لوگوں پر بھروسہ کر کے ان کے ساتھ اپنے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیج دیا۔ لیکن ان غداروں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکے بازی کی اور قبیلہ بنو لحیان کے لوگوں کو خبر کر دی اور بن لحیان کے لوگ 200مسلح افراد کا لشکر لے کرا ٓئے اس لشکر میں 100تیر انداز تھے۔ جب بنو لحیان کے لوگ آئے تو قبیلہ عضل اور قارہ کے لوگ ان سے مل گئے یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے اور وہاں سے مقابلہ کر نے لگے۔ چونکہ بنو لحیان نیچے تھے اس لئے ان کے آدمی زیادہ قتل ہو رہے تھے۔ اس لئے قبیلہ بنو لحیان کے لوگوں نے کہا: ’’ تم لوگ نیچے اتر آئو ۔ ہم تمہیں پناہ دیتے ہیں۔‘‘ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں کافر کی پناہ کبھی نہیں لوں گا۔‘‘ اور یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حال کی خبر کر دے۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرمائی اور اسی وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فرشتے کے ذریعے ) خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خبر دی۔

حضرت عاصم اور سات صحابہ رضی اللہ عنہم کی شہادت اور دو کی گرفتاری

   حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کافروں کی پناہ لینے کی بجائے ان سے لڑنا اور شہید ہونا پسند فرمایا اور مقابلہ کرتے رہے۔ لیکن جب ان کے تیر ختم ہو گئے تو بنو لحیان کو ٹیلے پر چڑھنے کا موقعہ مل گیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تلوار کھینچ کے مقابلہ شروع کر دیا۔ لڑتے لڑتے حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے اور تین صحابہ حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے کافروں کی پناہ کو قبول کر لیا۔ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی : ’’ اے اللہ تعالیٰ! آج میں تیرے دین کی حفاظت کر رہا ہوں ، تُومیرے گوشت ( یعنی جسم) کی حفاظت فرمانا۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے جسم کی حفاظت فرمائی۔ وہ کافروں کو نہیں مل سکا۔ بقیہ تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہتھیار ڈال دیا تو وہ ان کے ہاتھ باندھنے لگے تو حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ پہلے ہی قدم پر بد عہدی کر رہے ہو۔ لیکن کافروں نے ان کو باندھ کر گرفتار کر لیا اور لے کر چلے۔

حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضرت زید اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہم کی فروختگی

   بنو لحیان کے کافر ان تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گرفتار کر کے مکہ مکرمہ کی طرف چلے۔ جب مرا لظہران تک پہنچے تو حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ رسی سے چھڑا لیا اور تلوار لے کر مقابلے پر ڈٹ گئے۔ لیکن ان بدبخت کافروں نے چاروں طرف سے دور سے گھر لیا اور کوئی قریب نہیں آیا۔ بلکہ دور سے چاروں طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر پتھر برسانے لگے۔ یہاں تک کہ پتھر وں کی مار سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ اس کے بعد کافر حضرت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو لے کر مکہ مکرمہ آئے اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو صفوان بن اُمیہ نے خرید لیا۔ تا کہ اپنے باپ کے قتل کے بد لہ میں انھیں شہید کرے اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو حجیر بن ابو رہاب نے اپنے بھانجے عقبہ بن حارث کے لئے خرید ا کہ وہ انھیں اس کے باپ کے بدلہ میں شہید کرے اور ان دونوں کو اشہر حرام ( وہ مہینے جن میں لوگ قتل اور جنگ حرام سمجھتے تھے) نکل جانے تک انھیں قید میں رکھا۔

حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور محبت

   حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو صفوان بن امیہ نے خریدا تھا ۔ اس نے اپنے غلام فسطاس کو حکم دیا کہ حرم کے باہر ( مکہ مکرمہ کے باہر) لے جا کر حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دے۔ وہ غلام آپ رضی اللہ عنہ کو لے کر چلا تو مکہ مکرمہ کے مشرکین بھی قتل کا تماشہ دیکھنے کے لئے پیچھے پیچھے ہو لئے۔ ان میں ابو سفیان بن حرب بھی تھا۔ جب حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا جانے لگا تو ابو سفیان آگے آیا اور بولا: ’’ اے زید! ( رضی اللہ عنہ) میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ۔ کیا تم یہ پسند کرو گے کہ ہم تم کو چھوڑ دیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تمہارے بدلہ میں قتل کر دیں اور تم آرام سے اپنے گھر میں رہو۔ ‘‘یہ سن کر حضرت زید رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے اور فرمایا: ’’ اللہ کی قسم !مجھ کر یہ بھی گوار انہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کانٹا یا پھانس چھبے اور میں اپنے گھر میںبیٹھا رہوں۔ ‘‘یہ سن کر ابو سفیان نے کہا: ’’ اللہ کی قسم !میں نے کسی کو کسی کا اتنا مخلص ، جاں نثار اور محبت کرنے والا نہیں دیکھا جتنی محبت اور خلوص اور جاں نثاری محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھیوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے واسطے دیکھی ہے۔‘‘ اس کے بعد فسطاس نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ بعد میں یہ غلام فسطاس مسلمان ہو گیاتھا۔

اس سے بہتر ( اچھا ) قیدی نہیں دیکھا

   حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے غزوہ بد رمیں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ اسی لئے اپنے باپ کے قتل کے بدلہ میں حار ث کے بیٹے آپ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ قید کے دوران حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے حارث کی بیٹی زینب سے بال صاف کرنے کے لئے استرا مانگا۔ وہ استرا دیکر اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔ ( زینب نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا) زینب بتاتی ہے کہ میں نے دیکھا کہ میرا بچہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی گود میں بیٹھا ہے اور استرا اُن کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ منظر دیکھ کر میںبے انتہا گھبرا گئی اور ڈر گئی کہ کہیں میرے بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا: ’’ کیا تجھ کو یہ اندیشہ ہو گیا کہ میں اس بچے کو قتل کردوں گا؟ ہرگز نہیں۔ انشاء اللہ مجھ سے ایسا کام کبھی نہیں ہوگا اور ہم لوگ ( مسلمان لوگ) عذر نہیں کرتے۔‘‘ زینب اکثر یہ کہا کرتی تھیں : ’’میں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر ( اچھا) کوئی قیدی نہیں دیکھا بے شک میں نے ان کو انگور کھاتے دیکھا۔ حالانکہ اس وقت مکہ مکرمہ میں انگور کا کہیں نام و نشان نہیں تھا اور وہ خود بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور کہیں جا کر لا نہیں سکتے تھے۔بے شک اُن کے پاس یہ رزق اللہ تعالیٰ کے پاس سے آتا تھا۔‘‘

حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی شہید ہونے سے پہلے دو رکعت نماز

   حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو حارث کے بیٹے قتل کے لئے مکہ مکرمہ سے باہر لے جانے لگے تو مشرکین بھی پیچھے پیچھے ہولئے۔ حضرت بُریدہ بن سفیان اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو جب حارث کے خاندان والے شہید کرنے کے لئے لے جا رہے تھے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ’’ اے رب ِ کائنات ! اے اللہ تعالیٰ !میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کسے قاصد بنائوں ؟ اور وہ میرا آخری سلام تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جائے۔ پس اے واحد و بے ہمتا! الرحم الراحمین معبود !تُو ہی اس کام کو کر دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فوراً حضرت خُبیب رضی اللہ عنہ کا سلام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں پہنچایا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ واعلیکم السلام ‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس کے سلام کا جواب عطا فرما رہے ہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے بھائی خبیب رضی اللہ عنہ کو کافر قتل کرنے کے لئے لے جا رہے ہیں اور وہ ایک آخری سلام خلوص و محبت سے کر رہے ہیں۔ ‘‘اس کے بعد حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے اپنی قتل گاہ پر پہنچ کر فرمایا: ’’مجھ کو اتنی مہلت دو کہ میں دو رکعت نماز ادا کر سکوں۔‘‘ لوگوں نے اجازت دی۔ تمام قریش کے مشرکین دیکھ رہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کرنے کے بعد فرمایا: ’’ میں نے نماز کو اس لئے طویل نہیں کیا کہ تم کہیں یہ گمان نہ کرنے لگو کہ میں موت کے ڈر سے ایسا کر رہا ہوں‘‘ اور یہ فرمایا: ’’مجھ کو ( موت کی ) کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ( بلکہ پرواہ اس بات کی ہے کہ ) میں مسلمان بن کر شہید ہوئوں اور میرا بچھڑنا اور ملنا خالص اللہ کے لئے ہو اور اللہ تعالیٰ چاہے تو میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے جوڑوں میں برکت نازل فرما سکتا ہے ۔‘‘ اس کے بعدحضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور یہ سنت قائم فر ماگئے کہ جو شخص قتل ہونے لگے وہ دو رکعت نماز پڑھے۔

’’بلیع الارض ‘‘حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا لقب

   حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کے مشرکین نے آپ رضی اللہ عنہ کی لاش کو ویسے ہی لٹکتا چھوڑ دیا تھا اور چالیس افراد دن رات پہرہ دیتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’جو شخص حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی لاش سُولی سے اتارے گا ۔ اس کے لئے جنت واجب ہے۔‘‘ یہ بشارت سن کر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے لاش کو سُولی سے اتارنے کی اجازت مانگی جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دی۔ یہ دونوں حضرت راتوں کو سفر کرتے اور دن میں چھپ کر مقامِ تنہم ( جہاں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تھے) پہنچے ۔ وہاں پہرے دار موجود تھے۔ دونوں حضرات موقع کی تلاش میں رہے اور جب پہرے دار غافل ہوئے تو لاش سولی سے اتار کر گھوڑے پر رکھی وہ ابھی بھی ویسی ہی ترو تازہ تھی ۔ جب کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو شہید ہوئے چالیس دن گزر چکے تھے۔ پہریداروں کی آنکھ کھلی تو انھوں نے لاش کو غائب پایا تو اطراف میں گھوڑسواروں کو دوڑایا اورآخر کار حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچنے لگے۔ دونوں حضرات نے جب تعاقب کرنے والوں کو دیکھا تو لڑنے کے لئے تیار ہو گئے اور لاش اتار کر زمین پر رکھ دی۔ لاش زمین پر رکھتے ہی زمین پھٹ گئی اور لاش اندر چلی گئی اور زمین برابر ہو گئی۔ دونوں حضرات نے یہ منظر دیکھا تو لڑنے کا ارادہ ترک کر کے مدینہ منورہ روانہ ہو گئے اور مشرکین خالی ہاتھ واپس گئے۔ اسی وجہ سے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ ’’ بلیع الارض ‘‘ ( جس کو زمین نگل گئی) کے لقب سے مشہور ہوئے۔

واقعہ بیرمعونہ ( قاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ )

   ابھی دردناک واقعہ رجیع تازہ ہی تھا کہ اسی ما ہ صفر المظفر ۴؁ ہجری میں دوسرا دردناک واقعہ بیئر معونہ پیش آیا اور لگ بھگ 70قاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے شہید کر دیا گیا۔ اسی مہینہ صفر المظفر میں عامر بن مالک جس کی کنیت ابو براء تھی وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہدیہ پیش کیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا او ر اسے اسلام کی دعوت دی جو اس نے قبول نہیں کی اور نہ ہی انکار کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب رضی اللہ عنہم کو اہل نجد کی طرف اسلام کی دعوت دینے کی غرض سے روانہ فرمائیں تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس دعوت کو قبول کر لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اہل نجد کی طرف سے اندیشہ ہے ( کہ کہیں وہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو نقصان نہ پہنچائیں) عامر بن مالک ابو براء نے کہا میں ان کی ضمانت لیتا ہوں۔ ( اس پر اعتبار کر کے ) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 70صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمادیا۔ یہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ’’ قراء‘‘ ( قرآن کے قاری) کہلاتے تھے اور ان کا امیر حضرت منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ کو بنایا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن مالک پر بھروسہ کر کے 70قاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا ۔ یہ نہایت مقدس اور پاک باز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت تھی۔ یہ دن میں لکڑیاں چنتے تھے اور شام کو اسے فروخت کر کے اصحاب صُفہ رضی اللہ عنہم کے لئے لئے کھانا لاتے تھے۔ ( اصحاب صُفہ کے بارے میں تفصیل سے ہم اس سے پہلے بتا چکے ہیں) اور رات کا کچھ حصہ قرآن پاک سیکھنے اور سکھانے اور درس قرآن میں گزار تے تھے اور کچھ حصہ رات میں ( نماز میں ) قیام اور تہجد ادا کرنے میں گزارتے تھے۔ یہ لوگ مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر بیئرمعونہ ( معونہ کا کنواں) کے پاس پہنچے اور وہیں قیام کر دیا۔ معونہ کا کنواں مکہ مکرمہ اور عسفان کے درمیان قبیلہ ہذیل کے علاقوں میں واقع ہے اور اس کے آس پاس بنو رعل اور بنو سلیم اور بنو ذکوان ( بنو سلیم کی ایک شاخ) کے قبائل آباد تھے اور سب سے قریب بنو عامر کا قبیلہ رہتا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عامر کے سردار عامر بن طفیل کے نام ایک خط لکھوا کر ( یہ بنو عامر کے بڑے سردار عامر بن مالک ابو براء کا بھتیجا تھا) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ماموں حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ جب یہ لوگ بیئر معونہ ( معونہ کے کنواں ) کے پاس پہنچے تو حضرت احرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو عامر بن طفیل کے پاس بھیجا ۔ انھوں نے عامر بن طفیل کو سید ا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط دیا تو اس بد بخت نے خط کھول کر پڑھنے کی بجائے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ اس نے حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے نیزہ مارا جو پار ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ـ ’’ اللہ اکبر!!قسم ہے کعبہ کے پروردگار کی !میں کامیاب ہو گیا۔‘‘ اور شہید ہو گئے۔

صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت

   حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے قتل کرنے کے بعد بد بخت عامر بن طفیل نے بنو عامر کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر حملہ کرنے کا حکم دیا تو قبیلہ بنو عامر کے لوگوں نے کہا ۔ تمہارے چچا نے ان لوگوں کو پناہ دی ہے اس لئے ہم ان پر حملہ نہیں کر سکتے اور انکار کر دیا۔ قبیلہ بنو عامر سے مایوس ہونے کے بعد اس بد بخت عامر بن طفیل نے قبیلہ بنو سلیم، قبیلہ رعل ، قبیلہ ذکوان اور قبیلہ عصیّہ سے مدد مانگی تو وہ حملے کے لئے تیار ہو گئے اور ایک بڑا لشکر لے کر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گھیر لیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ اللہ کی قسم !ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ بلکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حاجت ( قرآن پاک پڑھانے ) کے لئے بھیجا ہے۔‘‘ اس کے باوجود انھوں نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہید کر دیا۔ صرف حضرت کعب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی اس لئے انھیں مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ بعد میں یہ ہوش میں آئے اور زندہ رہے اور غزوہ خندق میں شہید ہوئے۔ دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مویشیوں کو چَرانے گئے ہوئے تھے۔ انھوں نے یکا یک آسمان کی طرف پرندے اڑتے دیکھے تو کہا ضرور کوئی بات ہے۔ جب دونوں دوڑتے ہوئے بیئر معونہ پہنچے تو ان کے ساتھی خون میں نہائے شہید ہو چکے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن اُمیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چلو مدینہ منورہ واپس چلتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتے ہیں۔ حضرت منذر بن محمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خبر ہوتی ہی رہے گی میں کیوں شہادت کا موقع چھوڑ دوں‘‘ اور تلوار نکال کر کافروں پر ٹوٹ پڑے اور کئی کافروں کو قتل کر تے ہوئے شہید ہو گئے۔ جب کہ حضرت عمر بن اُمیہ رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرلیا گیا اور عامر بن طفیل نے اُن کے سر کے بال کاٹے اور یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر مانی ہے اس لئے میں تم کو آزاد کر تا ہوں۔

حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت

   حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ آپ کو یاد ہوں گے۔ سیدا لا نبیاء صلی ا للہ علیہ وسلم کی ہجرت کے ذکر میں ہم آپ کو بتا چکے ہیںکہ غارِ ثور سے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر ؓرضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہجرت کے سفر پر روانہ ہوئے تو ساتھ میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔ یہ غلام بھی تھے۔ انھیں حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے آزاد کر دیا تھا۔ اس درد ناک واقعہ میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ بھی شامل تھے۔ جب انھیں شہید کیا گیاتو ان کی لاش آسمان کی طرف اٹھا لی گئی۔ یہ دیکھ کر عامر بن طفیل نے کہا: ’’ مسلمانوں میں وہ کون مرد ہے کہ قتل ہوا تو میں نے دیکھا کہ اسے زمین اور اور آسمان کے درمیان اٹھا لیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ آسمان نیچے رہ گیا۔‘‘صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ عامر بن طفیل نے کہامیں اس شخص( حضرت عامر بن فہیرہ ؓ) کو دیکھا کہان کی لاش آسمان کی طرف اٹھا لی گئی ہے اور زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہی اور پھر زمین پر رکھ دی گئی۔ ‘‘ جبار بن سلمیٰ نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ جب میں نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ کو نیزہ مارا تو اس وقت ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے: ’’ اللہ کی قسم! میں مراد کو پہونچا؟‘‘ اس نے حضرت ضحاک بن سفیان رضی اﷲ عنہ کی خد مت میں آکر واقعہ بتایا اور پو چھا تو انھوں نے بتایا : ’’ اس کا مطلب یہ کہ انھوں نے جنت کو پا لیا۔ ‘‘میں نے یہ سن کر اسلام قبول کر لیا۔‘‘ حضرت ضحاک بن سفیان رضی اﷲ عنہ نے یہ واقعہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کی خد مت میں لکھ کر بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ فرشتوں نے ان کے حبثہ کو چھپا لیا اور علیین میں اتا رے گئے۔‘‘ صحیح بخاری میں ہے کہ ان 70صحا بہ کرام کے ساتھ ہو ئے درد ناک واقعے کا سید ا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا شدید صدمہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیس دنوں تک نماز میں دعائے قنوت پڑھتے رہے اور دعائے قنوت کی ابتداء یہیں سے ہو ئی۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ روایت کر تے ہیں : ’’ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنا غمگین نہیں دیکھا۔جتنا بئرِ معونہ کے دردناک واقعہ پر دیکھا۔‘‘

غلط فہمی میں قتل

   اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ بنو عامر نے عامر بن طفیل کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھااور70صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی شہادت میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اسی قبیلہ بنو عامر کے دو شخص کی ملاقات حضرت عمرو بن امیہ رضی اﷲ عنہ سے ہو ئی۔ جو مدینہ منورہ واپس ہو رہے تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے ستر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا صدمہ تھا اور عامر بن طفیل کے رویہ سے بنو عامر پر بھی غصہ تھا۔ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ بنو عامر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہے ۔ انھوں نے ان دوآدمیوں کا قتل کر دیا اور سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں آکر تمام واقعہ بتا یا تو آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے فر مایا : ’’ بنو عامر سے ہمارا معاہدہ ہے اس لیئے ہمیں ان دو آدمیوں کے دیت (خوں بہا) دینا پڑے گا (یہ یاد رہے کہ دو آدمیوں کی دیت دو سو اونٹ ہے) اور میں اسے ادا کروں گا۔‘‘

یہو دیوں کا قاتلانہ حملہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان دو آدمیوں کی دیت کا انتظام کر نے لگے۔جنھیں لا علمی میں حضرعمرو بن امیہ رضی اﷲ عنہ نے قتل کر دیا تھا۔چونکہ بنو نضیر کے یہو دیوں کا بھی بنو عامر سے معا ہدہ تھا اور وہ ان کے حلیف تھے اور سید الا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی معاہدہ ہوا تھا۔ اس لیے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ حضرت ابو بکر ،حضرت عمر فاروق ،حضرت عثمان غنی ، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت عبد الر حمٰن بن عوف، حضرت سعد بن معاذ ، حضرت اسید بن حضیر اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ میں لے کر بنو نضیر کے علاقے میں پہنچے اور دیت کے سلسلہ میں بات چیت کی۔ بنو نضیر کے سرداروں نے کہا: ’’ اے ابو القاسم! ( یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )جس طرح چاہیں گے ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی مدد کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک دیوار کے سائے میں بٹھا کر مشورہ کرنے کے لئے اجازت لے کر الگ جا کر مشورہ کرنے لگے۔ ان لوگوں نے آپس میں کہا : ’’ اس سے بہتر موقع ابو القاسم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرنے کا نہیں ملے گا۔ اس وقت وہ ہمارے مکانات کی دیوار کے سائے میں ٹیک لگا ئے تشریف فرما ہیں اور ہمیں چاہیئے کہ اوپر سے بڑا پتھر گر ا کر ان سے نجات حاصل کرلیں۔‘‘ اس کام کے لئے عَمرو بن حجاش بن کعب تیار ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر گرانے کے لئے اوپر چڑھا۔ امام محمد بن سعد کی روایت میں ہے کہ سلام بن مشکم نے کہا: ’’ ایسا نہ کرو! اللہ تعالیٰ انھیں تمہارے اس ارادے کی خبر دے دے گا اور ہمارے اور ان کے درمیان جو معاہدہ ہے یہ اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ان ( یہودیوں ) نے جو ارادہ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نعوذ باللہ قتل کا ) بنایا تھا اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ( جبرئیل علیہ السلام کو بھیج کر ) دے دی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اچانک کسی حاجت کا فرما کر فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔

غزوہ ٔ بنو نضیر ۴ ؁ ہجری

   بنی اسرائیل ( یہودی) یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’ وہ آخری نبی ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کا ذکر ان کی کتاب ( توریت) میں ہے۔ لیکن حسد کی وجہ سے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے تھے۔ کھلے عام تو ان کی ہمت نہیں پڑتی تھی اس لئے در پردہ سازشیں کرتے تھے اور ان کا سب سے بڑا ساتھی منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی تھا۔ اس کے علاوہ جب ان بد بخت بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کو موقع ملتا تھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور بنو نضیر کے یہودیوں نے بھی پتھر گر اکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن عین وقت پر اللہ تعالیٰ نے خبر کر دی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر مدینہ منورہ چلے آئے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہیں بیٹھے رہے۔ یہودیوں ( بنی اسرائیل ) کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح اٹھ کر چلے جانے کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ شرمندہ ہوئے اور کنانہ بن حویئرا یہودی نے کہا : ’’تم کو معلوم نہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کیوں اٹھ کر چلے گئے؟ اللہ کی قسم! ان کو تمہاری غداری کا پتہ چل گیا ہے اور اللہ کی قسم! وہ اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں ۔‘‘ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہاں سے اٹھ کر مدینہ منورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی غداری کی اطلاع دی اور بنو نضیر پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔

بنو نضیر کی جلا وطنی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنایا اور اسلامی لشکر لے کر بنو نضیر پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا۔ بنو نضیر کے یہودیوں نے اپنے قلعوں میں گھس کر دروازے بند کر لئے۔ انھیں اپنے مضبوط قلعوں پر بہت گھمنڈ تھا اس کے علاوہ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے انھیں پیغام دیا کہ ہم ہم تمہارے ساتھ ہیں اس کے باوجود ان کی مقابلے پر آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ البتہ بنو نضیر کے یہودیوں نے ایک سازش اور کی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ آئیں اور ہمارے تین علماء سے گفتگو کریں ۔ اگر وہ ایمان لے آئیں تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے اور اپنے تینوں علماء کو ہتھیار دے کر یہ ہدایت کی کہ اپنے کپڑوں میں یہ چھپا کر لے جائو اور گفتگو کے دوران محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر حملہ کر کے انھیں ( نعوذ باللہ) قتل کر دینا۔ مگر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی مکاری اور عیاری کا پتہ چل گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ اور سخت کر دیا۔ پندرہ دنوں تک محاصرہ چلا اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا : ’’ دس دنوں کے اندر یہ علاقہ خالی کر کے چلے جائو اور جو لے جا سکتے ہو وہ لے کر جائو۔ دس دنوں بعد اس علاقے میں نظر آئے تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔‘‘ یہودیوں نے مال و دولت کے ساتھ ساتھ تمام سامان بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ یہاں تک کہ اپنے مکانوں کے دروازوں کو بھی اکھاڑ کر لے لیااور علاقہ خالی کر دیا۔ ان میں سے بہت سے ملک شام چلے گئے اور بہت سے بنو قریظہ میں جا کر آباد ہو گئے۔ ان میں اُن کا سردار حی بن اخطب، کنانہ بن ربیع اور سلام بن ابی حقیق تھے۔ یہ سب خیبر میں جا کر بنو قریظہ میں رہنے لگے۔

مالِ غنیمت کی تقسیم اور انصار کا جذبہ ٔ ایثار

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بنو نضیر کے یہودیوں ( بنی اسرائیل) کے چلے جانے کے بعد تمام مالِ غنیمت کی تقسیم کا ارادہ فرمایا تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ’’ اے گروہ انصار! اگر تم چاہو تو میں بنو نضیر کے مالِ غنیمت کو تم میں اور مہاجرین میں برابر تقسیم کر دوں اور مہاجرین حسبِ سابق تمہارے شریک حال رہیں۔( یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ مہاجرین بالکل خالی ہاتھ ہجرت کر کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئے تھے اور مدینہ منورہ کے انصار نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا تھااور انہیں اپنے گھروں میں رہنے کی جگہ دی تھی اور اپنے کاروبار اور ( کھجور کے باغات کی ) کھیتی میں شریک کر لیا تھا اور ہر ممکن طریقے سے مہاجرین کے کام آنے کی کوشش کرتے تھے) اور اگر تم چاہو تو میں یہ مالِ غنیمت صرف مہاجرین میں تقسیم کر دوں اور وہ تمہارے گھروں کو خالی کر دیں۔‘‘ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نہایت خوشی سے اس بات پر راضی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مالِ غنیمت مہاجرین میں تقسیم فرمادیں اور مہاجرین پہلے کی طرح ہمارے گھروں میں ہی رہیں اور ہمارے کھانے پینے اور کاروبار اور ( کھجور کے باغات) کی کھیتی میں بھی شریک رہیں ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ انصار نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ مالِ غنیمت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مہاجرین میں تقسیم فرمادیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے مال و دولت اور جائداد میں سے جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں مہاجرین کو عطا فرما دیں۔ ہم نہایت خوشی سے اس پر راضی ہیں۔ ‘‘انصار کا یہ ایثار اور پیار و محبت دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بے انتہا خوشی اور مسرت ہوئی۔ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بھر آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو دعا دی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! انصار پر اور انصار کی اولاد پر اپنی خاص مہربانی اور رحمت فرما۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اے گروہ انصار ! اللہ تعالیٰ تم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اللہ کی قسم !تم نے ہمارا بہت خیال رکھا اور ہماری مدد اور اعانت سے نہیں اکتائے۔ جب کہ ہماری والدہ بھی اگر تمہاری جگہ ہوتی تو شاید وہ بھی اکتا جاتی ۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مالِغنیمت مہاجرین میں تقسیم فرمادیا اور انصار میں سے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو بھی اس میں سے حصہ عطا فرمایا۔ کیوں کہ وہ دونوں بہت غریب اور تنگدست تھے۔ غزوہ بنو نضیر ربیع الاول ۴؁ ہجری میں ہوا۔

غزوہ نجدیا غزوہ ذات الرقاع

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو نضیر سے فارغ ہو کر ماہِ ربیع الاول اور ربیع الآخر اور ماہِ جمادی الاول کے کچھ دن مدینہ منورہ میں گزارے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ نجد یا غزوہ ذات الرقاع کے لئے روانہ ہوئے۔ اس غزوہ کی تاریخ کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف روایات ہیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ بنو نضیر کے غزوہ کے بعد یہ غزوہ جمادی الاول ۴ ہجری میں ہوا۔ امام ابن سعد اور امام ابن حبان کے مطابق ہجرت کے پانچویں سال کے پہلے مہینے محرم الحرام ۵ ہجری میں ہوا۔امام محمد بن اسماعیل بخاری کے مطابق غزوہ خیبر کے بعد یہ غزوہ ہوا۔ لیکن اس کے باوجود امام بخاری نے اس غزوہ کو غزوہ خیبر سے سے پہلے ذکر فرمایا۔ اب یہ غزوہ کب ہوا ؟ اس کا صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے اور یہ تمام تفصیل المواہب الدنیا میں مذکور ہے۔ امام زرقانی نے شرح علی المواہب میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔

غزوہ کا نام

   اکثر علماء کرام نے اس غزوہ کو غزوہ ذات الرقاع ہی فرمایا ہے اور کچھ علمائے کرام نے غزوہ نجد فرمایا ہے۔ امام عبدا لملک بن ہشام فرماتے ہیں کہ اس غزوہ کو غزوہ ذات الرقاع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس غزوہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے جھنڈوں میں پیوند لگا ئے تھے۔ ( یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ غزوہ ذات الرقاع کا معنی یہ ہوتا ہے ۔ چیتھڑوں یا پیوند وں والا غزوہ) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جگہ ایک درخت تھا ( جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا) اس درخت کا نام ذات الرقاع تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ جس جگہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پڑائو ڈالا تھا وہاں زمین کا ایک حصہ سفید اور ایک حصہ سیاہ تھا۔ گویا اس زمین میں مختلف پیوند لگے ہوئے تھے۔ اسی لئے اسے غزوہ ٔ ذات الرقاع کہا گیا۔ امام عبدا لرحمن بن عبداللہ سہیلی روضی الانف شرح سیرت النبی ابن ہشام میں لکھتے ہیں ۔ سب سے زیادہ صحیح وہ قول ہے جو امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہمارے درمیان ایک اونٹ تھا۔ جس پر ہم باری باری سوار ہو رہے تھے ۔ ہمارے قدم گِھس گئے ( یعی پیروں میں چھالے پر کر پھوٹ گئے اور پیر زخمی ہو گئے) اور ناخن تک جھڑ گئے ( یعنی ناخن گِھس کر ٹوٹ کر نکل گئے) ہم اپنے پائوں میں پٹیاں باندھتے تھے اسی لئے اس غزوہ کا نام غزوہ ذات الرقاع کہا گیا ۔ کیوں کہ ہم نے کپڑوں کے ٹکڑے پٹیوں کے طور پر پائوں میں باندھے تھے۔

غزوہ ٔ ذات الرقاع کی وجہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ بنو عطفان کی دو شاخیں بنو محارب اور بنو ثعلبہ نجد میں اپنی افواج ( لشکروں) کو جمع کر رہے ہیں۔ تا کہ مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کیا۔ اس کے بعد چار سو ( 400)مجاہدین کو لے کر نجد کی طرف روانہ ہو ئے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ سات سو (700) مجاہدین کے ساتھ روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ نجد میں عطفان کے علاقے میں ایک مقام نخل پر پڑائو ڈالا وہاں ایک لشکر سے سامنا ہوا اور دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے۔ لڑائی تو نہیں ہوئی یعنی جنگ کی نوبت نہیں آئی لیکن چونکہ دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اس لئے دونوں لشکر خوف کا شکار ہو گئے۔ اسی درمیان نماز کا وقت ہوا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ صلوٰۃ الخوف‘‘ پڑھائی۔ یعنی آدھے لشکر سے فرمایاکہ وہ دشمن کے سامنے ڈٹا رہے اور جب آدھا لشکر دو رکعت نماز پڑھ کر آکر ان کی جگہ پر ڈٹ جائے تو بقیہ آدھا لشکر آکر دو رکعت نماز ادا کرے۔ دو رکعت ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں ہی بیٹھے رہے اور آدھا لشکر دور کعت نماز پڑھ کر چلا گیا اور دشمنوں کے سامنے ڈٹ گیا تو بقیہ آدھے لشکر نے آکر نماز کی نیت باندھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دو رکعت نماز پڑھا کر چار رکعت نماز مکمل کی۔ اس کے بعد دشمنوں کا لشکر واپس چلا گیااور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں کچھ وقت گزار کر مجاہدین کے ساتھ واپس ہوئے۔ امام محمد بن سعد فرماتے ہیں کہ یہ پہلی صلوٰۃ الخوف تھی اور آگے یہ بھی لکھتے ہیں کہ دشمنوں کی کچھ خواتین گرفتار ہوئیں اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے اور علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک خاتون اپنے شوہر کو ڈھونڈتی ہوئی اسلامی لشکر میں آئی اور کچھ دور تک اسلامی لشکر کے پیچھے آئی اور پھر غائب ہو گئی یعنی نہ جانے کہاں چلی گئی ۔

غورث بن حارث کا قبول اسلام

   اس غزوہ سے واپسی پر ایک واقعہ پیش آیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ ہم غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے تو اسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا۔ ( اور کچھ دور پر پڑائو ڈالا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار درخت کے ساتھ لٹکا دی تھی کہ ایک مشرک اعرابی ( دیہاتی غورث بن حارث) آیا اور تلوار میان سے نکال کر تان لی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا: ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )مجھ سے ڈر رہے ہیں ؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا: ’’ نہیں ۔‘‘ اس نے کہا : ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ ۔‘‘ ابو عوانہ کے مطابق اس کی تلوار اتنا سنتے ہی گر پڑی۔ امام واقدی کے مطابق جب اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس کی کمر میں درد اٹھا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اس کے آگے امام بہیقی لکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھا لی اور فرمایا: ’’ اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )اچھے لینے والے ہو جائیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کا رسول ہوں؟‘‘ اس اعرابی نے کہا: ’’میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں لڑوں گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا ساتھ دوں گا۔‘‘ راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ اپنی قوم کے پاس آیا تو کہنے لگا : ’’ میں تمہارے پاس سب سے بہتر انسان کے پاس سے آیا ہوں۔ ‘‘ امام بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سزانہیں دی۔ امام بخاری نے ابو یمان کی روایت سے نقل فرمایا کہ اس اعرابی نے تین مرتبہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ امام بخاری نے فرمایا کہ مسدد نے ابو عوانہ سے اور انھوں نے ابو البشر سے روایت کیا کہ اس شخص کا نام غورث بن حارث تھا اور امام واقدی لکھتے ہیں کہ وہ شخص مسلمان ہو گیا اور اپنی قوم کی طرف گیا اور اس کے ذریعے بہت سے لوگوں نے ہدایت پائی۔ اسی قسم کا ایک واقعہ غزوہ غطفان ۳ ؁ ہجری میں پیش آیا تھا۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں دونوں ایک ہی واقعہ ہے اور بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز

   حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک مشرک عورت کسی مسلمان کے قبضہ میں آگئی اس وقت اس کا شوہر موجود نہیں تھا۔ ( غالباً یہ اسی عورت کا ذکر ہے جو اپنے شوہر کو ڈھونڈتی ہوئی اسلامی لشکر میں آئی تھی اور کچھ دور اسلامی لشکر کے پیچھے آنے کے بعد نہ جانے کہاںچلی گئی تھی) جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آنے لگے تو اس کے شوہر کو اس واقعہ کا علم ہوا تو اس نے قسم کھائی کہ جب تک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کسی ساتھی کو قتل نہیں کروں گا تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ اسی نیت سے وہ اسلامی لشکر کے پیچھے چل پڑا۔ رات میں سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پہاڑ کی گھاٹی ( نشیب کا میدان) میں قیام فرمایا۔ یعنی پڑائو ڈال دیا اور فرمایا : ’’آج رات ہماری نگہبانی ( پہریداری) کون کرے گا؟‘‘ا یک مہاجر صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری صحابی عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں پہاڑ کے درّے پر تعینات فرمادیا۔ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہم نے طے کیا کہ ایک آدھی رات پہرہ دے گا اور دوسرا آرام کرے گا۔ پھر دوسرا پہرہ دے گا اور پہلا آرام کرے گا۔ انصاری صحابی حضرت عباد بن بشر نے فرمایا: ’’ پہلے میں جاگتا ہوں اور آپ رضی اللہ عنہ سو جائیں۔ ‘‘ مہاجر صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سو گئے اور انصاری صحابی نماز پڑھنے لگے۔ اس عورت کے شوہر نے جب انھیں دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ اسلامی لشکر کے پہرے دار ہیں۔ اس نے تیر چلایا جو انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کو لگا۔ انھوں نے وہ تیر نکال کر زمین پر ڈال دیا اور نماز پڑھتے رہے۔ اس شخص نے دوسرا تیر چلایا جو انھیں لگا تو انھوں نے اسے بھی نکال کر زمین پر ڈال دیا اور نماز جاری رکھی۔ جب اس نے تیسرا تیر مارا تو انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے رکوع اور سجدہ کر کے نماز مکمل کی اور اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فوراً اٹھے اس شخص نے جب ایک سے زیادہ آدمی دیکھے تو سمجھ گیا کہ یہ لوگ چوکنا ہیں اور وہ بھاگ گیا۔ ادھر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کے جسم سے خون نکلتا اور بہتا دیکھا تو فرمایا: ’’ سبحان اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ نے غضب کیا۔ جب پہلا تیر لگا تب آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے کیوں نہیں جگایا؟ ‘‘ حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں اللہ کے کلام (قرآن پاک) کی ایک سورہ تلاوت کر رہا تھا اور مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ اس سورہ کو ادھوری چھوڑ دوں ۔ مگر جب متواتر تیر لگنے لگے تو میں نے محسوس کیا کہ کہیں اس سورہ کو مکمل کرنے سے پہلے میری جان نہ نکل جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مقام کی نگرانی کا حکم دیا ہے کہیں وہ غیر محفوظ نہ ہو جائے۔ اسی لئے مجھے آپ رضی اللہ عنہ کو جگانا پڑا۔‘‘

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ

   حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوئہ ذات الرقاع میں گیا۔ واپسی میں میرا اونٹ بہت ضعیف اور کمزور ہونے کی وجہ اسلامی لشکر سے پیچھے رہ جاتا تھا ۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا اونٹ نہیں چل رہاہے۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے بٹھائو اور کسی درخت سے ایک لکڑی توڑ کر مجھے لاکر دو ۔‘‘ میں نے لکڑی لاکر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اس پر سوار ہوجائو۔‘‘ میں سوار ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لکڑی ہلکے سے دو تین مرتبہ اس اونٹ کو ماری۔ پھر تو وہ اونٹ اتنا تیز چلنے لگا کہ بار بار اسلامی لشکر سے آگے نکل جاتا تھا۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے بھی آگے نکل جاتا تھا اور بار بار مجھے اسے روکنا پڑتا تھا تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلوں۔ صحیح بخاری میں یہ واقعہ امام بخاری نے دس سے زیادہ جگہوں پر ذکر فرمایا ہے۔ لیکن یہ بات ذکر نہیں فرمائی کہ یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں پیش آیا ہے۔ امام عبد الملک بن ہشام نے سیرت النبی ابن ہشام میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں پیش آیا ہے۔

سید الانبیاء ﷺ نے اونٹ خریدا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ ساتھ میرا اونٹ چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ! یہ اونٹ ہمارے ہاتھ فروخت کرتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ اونٹ ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نذر کرتا ہوں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایسے نہیں بلکہ میرے ہاتھوں فروخت کرو۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیمت تو بتائیں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک درہم میں خرید لوں گا۔‘‘ میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بہت تھوڑی قیمت ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اچھا دو درہم لے لو۔ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’یہ بھی کم ہے۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیمت بڑھاتے بڑھاتے ایک اوقیہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں ایک اوقیہ پر راضی ہوں اور یہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گیا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں یہ اونٹ میں نے لے لیا۔‘‘ ( یہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور اپنے پیچھے اپنے بیٹے کی ذمہ سات یا نو بہنیں چھوڑ گئے تھے۔ خرچ زیادہ تھا اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اکیلے کمانے والے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حالات جانتے تھے اور مدد کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ خود دار ہیں۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مدد فرما رہے تھے کہ ان کی خود داری کو ٹھیس نہ لگے۔

سید الانبیاء ﷺ نے اونٹ ہبہ کر دیا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا سودا کرنے کے بعد مجھ سے فرمایا: ’’ اے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ! تم نے نکاح کر لیا ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’ باکرہ ہے یا تبیہ ہے؟‘‘ میںنے عرض کیا: ’’ تبیہ ہے۔‘‘ ( باکرہ کے معنی کنواری ہے۔ اور تبیہ کے معنی طلا ق شدہ یا بیوہ ہوتے ہیں) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ باکرہ سے کیوں نہیں کیا؟ ‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے ہیں اور انھوں نے میری کئی بہنیں چھوڑ ی ہیں۔ میںنے یہ سوچا کہ ایسی عورت سے نکاح کروں جو میری بہنوں کو سنبھال سکے اور ان کی دیکھ ریکھ کر سکے۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے اچھا کیا۔ انشاء اللہ برکت ہوگی۔‘‘ شام کوہم مدینہ منورہ پہنچے اور رات میں سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ میں بھی اپنے گھر آگیا۔ صبح وہ اونٹ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اونٹ دروازے پر باندھ کر مسجد کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے باہر تشریف لائے تو اونٹ دیکھ کر فرمایا: ’’یہ اونٹ کس کا ہے؟ ‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ’’ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ لائے ہیں۔‘‘ مجھے بلوایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے میرے بھائی کے بیٹے! اپنے اونٹ کو لے جائو یہ تمہارا ہی ہے اور پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا : ’’ جابر ( رضی اللہ عنہ ) کو لے جا کر ایک اوقیہ دے دو۔‘‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مجھ کو ایک اوقیہ سے کچھ زیادہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ وہ مال بڑھتا ہی رہا۔ یہاں تک کہ حرہ کی جنگ ہوئی۔‘‘

غزوہ بدر موعد یا دوسری غزوہ بدر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع سے واپس آنے کے بعد جمادی الآخر اور رجب المرجب مدینہ منورہ میں گزارے اور ماہ ِ شعبان میںوعدہ کے مطابق دوسری غزوہ بدر کے لئے روانہ ہو ئے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ احد میں ابو سفیان نے وعدہ کیا تھا کہ اگلے سال میدان بدر میں ایک اور جنگ ہمارے درمیان ہو گی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ ہمارا پختہ وعدہ رہا کہ اگلے سال میدانِ بدر میں مقابلہ ہوگا۔ ابو سفیان نے کہنے کو تو کہہ دیا تھا لیکن اندر سے اس کا دل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے مرعوب تھا اور وہ چاہتا تھا کہ بدر میں دوسری جنگ نہ ہو۔ لیکن چیلنج اس نے کیا تھا۔ اسلئے شرمندگی اور ندامت سے بچنے کے لئے اس نے جھوٹے پروپیگنڈہ کا سہارا لیا۔ اس نے نعیم بن مسعود نام کے ایک شخص کو کافی مال و دولت دیا۔ وہ اپنے کام سے مدینہ منورہ جا رہا تھا۔ اس سے کہا کہ وہ مدینہ منورہ میں جا کر یہ جھوٹی خبر زور و شور سے پھیلائے کہ مکہ مکرمہ والوں نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے بہت بڑا لشکر جرّار جمع کیا ہے۔ تا کہ مسلمان ڈر جائیں اور جنگ کے لئے بدر کے میدان میں نہ آئیں اور الزام مسلمانوں پر آ جائے۔ لیکن اس پروپیگنڈے کا اثر الٹا ہوا اور مسلمان اور زیادہ زور و شور سے دوسری جنگ بدر کی تیاری کرنے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان میں غزوہ بدر موعد یعنی دوسری غزوہ بدر کے لئے مدینہ منورہ سے پندرہ سو (1500)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر لے کر روانہ ہو ئے۔ اور مدینہ منورہ میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبیّ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ بدر میں پہنچے اور پڑائو ڈال دیا۔ ان دنوں بدر کے میدان میں بہت بڑا بازار لگتا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قریش کے لشکر کے انتظار میں تھے اور وہاں لگے ہوئے بازار میں تجارت بھی کر رہے تھے۔ ادھر مکہ مکرمہ سے لشکر لے کر ابو سفیان میدان بدر کی طرف روانہ ہوا۔ لیکن مقامِ ظہران یا عسفان میں آکر اس کی ہمت جواب دے گئی۔ حالانکہ قریش کا لشکر دو ہزار 2000تھا۔ اس کے باوجود ابو سفیان نے کہا : ’’یہ سال خشک ہے اورموسم خشکی کا ہے۔ ہمیں ایسے موسم میں جنگ کرنا چاہیئے۔ جس میں ہم اپنے جانورورں کو چرا سکیں اور دودھ پی سکیں۔ اس لئے واپس چلو اور وہیں سے واپس ہو گئے۔ مکہ مکرمہ والوں نے اس لشکر کا نام’’ جیش سویق‘‘ رکھا تھا۔ کیوں کہ انھوں نے اس سفر میں بہت ستو کھائے اور پیتے تھے۔ ( سَتّو کو عربی میں سویق کہتے ہیں) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ یا دس دن قریش کے لشکر کا انتظارکیا اس کے بعد مدینہ منورہ واپسی کا حکم دے دیا۔ اسی دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وہاں لگے بازار میں تجارت کر کے کافی منافع کما لیا تھا اور یہ سفر بہت ہی منافع بخش ثابت ہوا۔

حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ کا انتقال

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۴ ؁ہجری کی شروعات میں یکم ( ایک) محرم الحرام کو ڈیڑھ سو 150مہاجرین اور انصار کا لشکر روانہ فرمایا تھا اور حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد کو اس لشکر کا سپہ سالار بنایا تھا یہ سب آپ کو یاد ہو گا ۔ کچھ روایات میں ایسا ہے کہ اس سریہ میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو زخم لگا تھا اور کچھ روایات میں ہے کہ غزوہ احد میں آپ رضی اللہ عنہ شدید زخمی ہوئے تھے اور زخم ابھی پوری طرح سے اچھے نہیں ہو پائے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ اس سریہ پر چلے گئے ۔ جس سے زخم پھر سے کھل گئے۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اسی دوران ان کی بیوی اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک خواب دیکھا ۔ جب انھوں نے اپنے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انھوں نے فرمایا: ’’ جہاں تک مجھے اس خواب کی تعبیر سمجھ میں آتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ میرا انتقال ہو جائے گا اور تمہارا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگا۔‘‘ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا کچھ ہفتوں بعد انتقال ہو گیا۔ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ہیں۔ ان دونوں کو سیدہ ثوبیہ رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حبشہ ہجرت کی تھی۔ پھر مدینہ منورہ ہجرت کی۔ حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو جمادی الاول 4ہجری کا مہینہ ختم ہو نے میں تین روز باقی تھے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان ۴ ؁ہجری میں غزوہ بدر موعد یا دوسری جنگ بدر کے لئے میدانِ بدر تک گئے تھے۔ قریش تو نہیں آئے تھے لیکن وہاں ایک بہت بڑا بازار لگا ہوا تھا جس میں تجارت کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خوب منافع کمایا تھا۔ اسی ماہِ شعبان 4 ؁ہجری میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پید اہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے لگ بھگ ایک سال کے چھوٹے ہیں یا ایک سال سے کچھ کم چھوٹے ہیں۔

سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر موعد یا دوسری جنگ بدر سے واپس آنے کے بعد ماہِ شعبان کا بقیہ حصہ اور ماہِ رمضان المبارک اور ماہِ شوال بھی مدینہ منورہ میں گزارا۔ اسی دوران ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ ام المومنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا وہی ہیں جنہیں ’’ اُم المساکین ‘‘ کا لقب دیا گیاتھا۔ یعنی مسکینوں کی والدہ ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہا مسکینوں یا مساکین پر بہت زیادہ مہربان تھیں اور انھیں ہمیشہ صدقات اور خیرات سے نوازتی رہتی تھیں اورماہِ رمضان المبارک میں تو یہ صدقات اور خیرات بہت زیادہ بڑھ جاتی تھیں۔

سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ شوال ۴ ؁ہجری میں سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کو یاد ہو ں گی۔ اُن کا ذکر ِہجرت اس سے پہلے آچکا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کرنے آرہی تھیں کہ ان کے بھائیوں اور رشتہ داروں نے آکر انھیں روک لیا اور حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا اکیلے مدینہ منورہ جائو۔ پھر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بھائی اور رشتہ دار آگئے انھوں نے بچے کو چھین لیا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے انھیں بہت سمجھایا لیکن وہ نہ مانے آخر آپ رضی اللہ عنہ اکیلے ہی مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا اسی جگہ روز آکر بیٹھ جاتیں اور مدینہ منورہ کے راستے کو دیکھ کر روتی رہتی تھیں۔ اس طرح ایک سال گزر گیا۔ آخر کار اُن کے رشتہ داروں کو ان پر رحم آیا اور ان کا بچہ انھیں لا کر دیا اور مدینہ منورہ دونوں کو بھیج دیا۔ یہ واقعہ تفصیل سے ہم اس سے پہلے پیش کر چکے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے بارے میں اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ ایک روز حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر آئے اورمجھے بتایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب کسی مسلمان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے اور وہ گھبراتا نہیں بلکہ صبر کرتا ہے اور نا اُمید نہیں ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ مجھے اس مصیبت میں صبر کی توفیق دے اور اس کا اس سے بہتر اجر دے تو اﷲاُس سے بہترعطا فرماتاہے ۔‘‘اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ پھر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو انھوں نے جو دعا مجھے بتائی تھی وہ دعامیں نے مانگی۔ (عدت کے دوران) میں اکثر سوچتی تھی کہ اُن کی وفات پر جو میں نے صبر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی اس سے بہتر جزا کے لئے جو دعا مانگی ہے تو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر آخر مجھے کیا مل سکتا ہے؟ پھر جب ( عدت ختم ہونے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو پہلے تو میں نے منع کر دیا۔ پھر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا تو مان گئی۔ نکاح ہو جانے کے کچھ دنوں بعد ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے معاف فرمادیں۔ میں پہلے یہ سوچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح پر راضی نہیں تھی کہ میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی دوسرے مرد کی بیوی کیسے بنوں ؟ کیوں کہ میری غیرت مجھے روکتی تھی۔ اس کے علاوہ مجھے اپنی زیادہ عمر کی وجہ سے حیا آتی تھی اور بچوں کا بھی خیال تھا کہ میرے نکاح کے بعد ان کا کیا ہوگا؟ لیکن پھر میں نے سوچا کہ کہیں میں اپنی اس سوچ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کی مستحق نہ ہو جائوں۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی اجازت دے دی۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ غیرت و حمیت کے اظہار پر اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے گا اور نہ تمہاری عمر کا مجھے خیال تھا اور نہ میں نے اس کاذکر کیا تھاکیوں کہ خود میری عمر بھی کچھ کم نہیں تھی۔‘‘ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ میں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات پرصبر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ سے بہتر اُمید رکھی تھی تو وہ اس صورت میں پوری ہوئی کہ مجھے حضرت ابوسلمہ رضی اللہ سے بہتر شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں عطا فرمادیا۔‘‘

غزوہ دُومتہ الجندل

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ذی القعدہ اور ذی الحجہ یعنی 4 ؁ہجری کے ختم ہونے تک مدینۂ منورہ میں تشریف فرما رہے اور ماہ ِربیع الاول 5 ؁ہجری میں غزوہ دومتہ الجندل کے لئے روانہ ہو ئے۔ دومتہ الجندل مدینہ منورہ سے پندرہ یاسولہ راتوں کی مسافت پر ہے۔ ( یہ بات ذہن میں رکھیں کہ پہلے زمانے میں کلو میٹر یا میل سے فاصلے ناپے نہیں جاتے تھے۔ بلکہ ایک گھوڑا یا اونٹ ایک رات میں جتنا سفر طے کرتا تھا۔ اسے ایک رات کی مسافت کہا جاتا تھا) اورملک شام کی راجدھانی ( دارالخلافہ) دمشق سے پانچ راتوں کی مسافت پر ہے۔ دومی بن اسماعیل نام کا ایک شخص وہاں رہتا تھا۔ اسی کے نام پر دومتہ الجندل شہر کا نام رکھا گیا۔ یہ شہر ملک شام کے تجارتی راستے پر واقع ہے۔ اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ دومتہ الجندل میں ایک بہت بڑی جماعت ہے جوآنے جانے والے قافلوں کو لوٹ لیتی ہے اور ان کا ارادہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کاہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور 25ربیع الاول 5ہجری کو ایک ہزار 1000صحابہ کرام کا لشکر لے کر دومتہ الجندل کی طرف روانہ ہوئے اور بن عذرہ میں سے ایک شخص جس کا نام ’’مذکور‘‘ تھااسے راستہ بتانے کے لئے مقرر فرمایا۔ دومتہ الجندل کے قریب میدان میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کے ساتھ پڑائو ڈالا۔ اسلامی لشکر کو دیکھ کر لٹیرے فرار ہو گئے اور دومتہ الجندل شہر کے لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف میں چھوٹے چھوٹے لشکر روانہ کئے ۔ دومتہ الجندل شہر میں ایک شخص گرفتار ہوا۔ اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس گئے۔

غزوہ بنو مریسیع یا غزوہ بنی مصطلق

   اس غزوہ کی تاریخ میں علمائے کرام میں اختلاف ہے اور کچھ سیرت لکھنے والوں نے اسے غزوہ خندق یا احزاب سے پہلے بیان فرمایا ہے اور کچھ نے اس کے بعد بیان فرمایا ہے۔ کچھ علمائے کرام اور سیرت نگاروں کے مطابق یہ غزوہ ماہِ شعبان 5 ؁ہجری میں ہوا اور کچھ علمائے کرام اور سیرت نگاروں کے مطابق یہ غزوہ ماہِ شعبان 6؁ہجری میں ہوا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ بنو مصطلق ( یہ قبیلہ بنو خزاعہ کی ایک شاخ ہے) کا سردار حارث بن ابی ضرار اپنے قبیلے اور دوسرے چند چند عرب قبائل کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑنے کی دعوت دی اور ایک بڑے لشکر کی تیاری کرنے لگا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کو اس اطلاع کی تحقیق کے لئے بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور حارث بن ضرار سے ملاقات کر کے اس سے گفتگو کی اور مکمل معلومات حاصل کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تمام معلومات پیش کردیں۔

سید الانبیاء ﷺ اسلامی لشکر کے ساتھ مریسیع پہنچے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام معلومات ملنے کے بعد مدینہ منورہ میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا اور غزوہ کے لئے لشکر کی تیاری کا حکم دیا۔ ایک بڑا لشکر تیار ہو گیا۔جس میں تیس (30) گھوڑے تھے۔ اس لشکر میں منافقین بہت بڑی تعداد میں تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک روایت کے مطابق حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایااور ایک روایت کے مطابق حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو اور ایک اور روایت کے مطابق حضرت نمیلہ بن عبداللہ لیشی کو نائب مقرر فرمایا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر روانہ ہوئے اور ازواج مطہرات میں سے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا ساتھ تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے لشکر کے ساتھ سفر کر تے ہوئے چشمۂ مریسیع یا بیر ( کنواں) مریسیع کے پاس پہنچے اور پڑائو ڈال دیا۔ یہ کنواں یا چشمہ بنو مطصطلق والے استعمال کرتے تھے۔

مقابلہ اور مسلمانوں کی فتح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑائو ڈالنے کے بعد لشکر کی ترتیب شروع کر دی۔ ادھر دوسرے قبائل نے حارث بن ضرار کا ساتھ چھوڑ دیاتھا۔ پھر بھی وہ اپنے قبیلے کا لشکر لے کر مقابلے پر آگیا۔ دونوں لشکروں کا سامنا ساحل سمندر کے کنارے ساحل پر مقامِ قدید کے کنارہ پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کی صف بندی کی اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیا اور انصار کا جھنڈا حضر ت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیا۔ جنگ شروع ہوئی اور کچھ دیر تیرا ندازی ہوتی رہی۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کو حکم دیا کہ یکبارگی سب ایک ساتھ حملہ کر دیں۔ سب نے ایک ساتھ حملہ کیا اور مشرکین کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور وہ مشرکین کو گرفتار کرنے لگے اور مال غنیمت جمع کرنے لگے۔ مشرکین میں سے دس افراد قتل ہوئے اور مسلمانوں میں سے صرف ایک مسلمان شہید ہوئے۔ اس جنگ میں بہت بڑی تعداد میں اونٹ ، گائے اور بکریاں وغیرہ مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوئے۔ ا س کے علاوہ قیدی بھی بہت زیادہ تھے۔ ان میں عورتیں بھی تھیں۔

مال غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مال غنیمت اور قیدیوں کو اسلامی لشکر میں تقسیم فرما دیا۔ مال غنیمت میں دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریا ں تھیں اور بہت سا گھر کا سامان تھا۔ قیدی دو سو گھر والے تھے۔ ان میں قیدیوں میں بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی سیدہ جو یریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ یہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئی۔ انھوں نے ان دونوں سے مکاتبت ( یعنی معاوضہ دے کر آزادی حاصل کرنا) کی بات کی تو ان دونوں نے نواوقیہ سونے پر ان سے مکاتبت کر لی ۔ اس کے بعد سیدہ جویرہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔

سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنا مجھے ناگوار محسوس ہوا۔ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہا بہت خوبصورت اور ملاحت والی تھیں۔ انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی ہوں اور جو مصیبت مجھ پر آئی ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقف ہیں۔ میں جن کے حصے میں آئی تھی ان سے میں نے مکاتبت کر لی ہے اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لئے آئی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکاتبت کے مال میں میری مدد فرمائیں۔‘‘ ( در اصل قید کے دوران سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا تھا) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے جویریہ ! ( رضی اللہ عنہا ) اس سے بہتر بات کی تمہیں ضرورت ہے۔ ‘‘سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’ وہ کیا بات ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ وہ یہ ہے کہ تمہاری مکاتبت میں ادا کر دیتا ہوں ( اور اسلام قبول کر کے ) تم مجھ سے نکاح کر لو۔ ‘‘سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے قبول ہے۔‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے نکاح کر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب یہ معلوم ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی قبیلہ بنو مصطلق سے رشتہ داری ہو گئی ہے تو اس رشتہ کی وجہ سے انھوں نے تمام قیدیوں کو چھوڑ دیا اور اسی روز سو سے زیادہ قیدی آزاد کر دیئے گئے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ اُم المومنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عورت اپنے قبیلے کے لئے با برکت ثابت نہیں ہوئی۔‘‘

حارث بن ابی ضرار کا قبول اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں قیدیوں کا فدیہ مقرر فرمایا تھا۔ حضرت عبداللہ بن زیاد سے روایت ہے کہ غزوہ بنی مصطلق میں اُم المومنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو قیدیوں میں ملیں۔ ان کے والد حارث بن ابنی ضرار جو بنو مصطلق کے سردار تھے وہ فدیہ لے کر آرہے تھے۔جب وادی مصطلق میں پہنچے تو اونٹوں پر نظر ڈالی تو دو اونٹ بہت اچھے لگے جو ہر لحاظ سے عمدہ تھے۔ پھر انھوں نے ان دونوں اونٹوں کو’’ وادی عقیق‘‘ میں باندھ دیا اور باقی اونٹ لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ میری بیٹی کو میرے حوالے کر دیجئے اور فدیہ میںیہ اونٹ لے لیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ اونٹ کب لائو گے جو تم کو زیادہ پسند تھے اور تم انھیں وادی عقیق میں باندھ آئے ہو؟ ‘‘ حارث بن ابی ضرار کچھ دیر حیرت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے رہے اور پھر بول اٹھے : ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ راز میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔‘‘ اور اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد حضرت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہ ، بہت ہی مخلص اور با صلاحیت مسلمان ثابت ہوئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں